دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الاٴعرَاف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن اور رحیم کے نام سے

 

نام

 

آیت نمبر ۴۶ میں اعراف (بلندیوں) کا ذکر ہوا ہے جو خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام الاعراف ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورۂ انعام کے بعد نازل ہوئی ہو گی۔ سورۂ انعام میں رسالت کے سلسلہ کے بعض شبہات کا ازالہ کیا گیا تھا اس سورہ میں رسالت کے مسئلہ پر تاریخی شہادتیں پیش کی گئی ہیں۔

 

مرکزی مضمون

 

رسالت پر ایمان لانے کی دعوت ہے اور انداز کا پہلو غالب ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت نمبر ۱ تا ۱۰ کی حیثیت تمہید کی ہے جس میں نزولِ قرآن کا مقصد واضح کیا گیا ہے کہ غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو چونکانا اور بیدار کرنا ہے۔

 

آیت نمبر ۱۱ تا ۲۵ میں آدم اور ابلیس کا قصہ بیان کیا گیا ہے جس سے شیطان کی فریب کاری واضح ہوتی ہے اور اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ آدمی شیطان کے چکموں میں نہ آئے ورنہ ہمیشہ کے لیے جنت سے محروم ہو جائے گا۔

 

آیت نمبر ۲۶ تا ۳۴ میں ان گمراہیوں سے آگاہ کیا گیا ہے جن کی طرف شیطان انسان کو دھوکہ دے کر لے جانا چاہتا ہے۔

 

آیت نمبر ۳۵ تا ۵۳ میں اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی میں انسان کو اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ وہ ہدایت کے لیے رسولوں کو بھیجے گا اور کامیاب وہی ہوں گے جو ان کی پیروی کرینگے بتلایا گیا ہے کہ اسی مقصد کے لیے پیغمبروں کا ظہور ہوتا رہا ہے اس لیے ان کی پیروی کرنے والوں اور اس سے انکار کرنے والوں کا انجام آخرت میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہو گا۔ اس انجام کی ایک جھلک ان آیات میں دکھائی گئی ہے تاکہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا انجام بخیر ہو وہ اتباعِ رسول کی راہ اختیار کرے۔

 

آیت نمبر ۵۴ تا ۵۸ میں مختصراً توحید کے دلائل بیان کئے گئے ہیں تاکہ دعوتِ توحید کو جو انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ دعوت رہتی ہے قبول کرنے کے لیے دل آمادہ ہو جائیں۔

 

آیت نمبر ۵۹ تا ۹۳ میں چند مشہور پیغمبروں کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں جنہوں نے دعوتِ توحید پیش کی تھی اور ان کی قوموں نے انکار کی روش اختیار کی تو وہ کس طرح دنیا ہی میں عذاب الٰہی سے دوچار ہوئیں۔

 

آیت نمبر ۹۴ تا ۹۳ میں چند مشہور پیغمبروں کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں جنہوں نے دعوتِ توحید پیش کی تھی اور ان کی قوموں نے انکار کی روش اختیار کی تو وہ کس طرح دنیا ہی میں عذاب الٰہی سے دوچار ہوئیں۔

 

آیت نمبر ۹۴ تا ۱۰۲ میں انسانی آبادیوں کو جھنجھوڑا گیا ؟ کہ وہ ان واقعات سے سبق لیں۔

 

آیت نمبر ۱۰۳ تا ۱۳۷ میں حضرت موسیٰ اور فرعون کی شہادت ہے کہ اللہ کا غضب مفسدین ہی پر بھڑکا ہے اور اللہ کے رسول کی پیروی اختیار کرنے والوں پر اس کی رحمت ہی نازل ہوتی رہی ہے۔

 

آیت ۱۳۸ تا ۱۷۱ میں بنی اسرائیل کی سرکشی کی کچھ مثالیں پیش کی گئی ہیں جس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اللہ کی رحمت صرف ان ہی لوگوں کا حصہ ہے جو رسول کی مخلصانہ پیروی کریں۔ پیروی کا محض دعویٰ کرنے سے کوئی شخص یا گروہ اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں بنتا۔ بنی اسرائیل اس کی زندہ مثال ہیں اور آج بھی یہ لوگ اللہ کے دامنِ رحمت میں جگہ پا سکتے ہیں بشرطیکہ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لا کر ان کی اتباع کریں جن کے بارے میں پہلے سے پیشین گوئیاں آسمانی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اگر یہ اس نبی پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں تو انکی پچھلی سرکشانہ روش کو دیکھتے ہوئے یہ بات ان سے بعید نہیں اس لیے لوگوں کو ان کے رویہ سے متاثر نہیں ہونا چاہئے بلکہ س نبی پر ایمان لانے کا مسئلہ دلائل و شواہد کی روشنی میں طے کرنا چاہئے۔

 

آیت نمبر ۱۷۲ تا ۱۹۸ میں مشرکین پر یہ واضح کرتے ہوئے کہ شرک عہد فطرت کی خلاف ورزی ہے، توحید کو دلنشین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ قیامت سے متعلق ان کے اس سوال کا وہ کب آئے گی جواب دیا گیا ہے اور ان کے دیگر شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے شرک کی نامعقولیت اور اس کا یکسر باطل ہونا واضح کیا گیا ہے۔

 

آیت نمبر ۱۹۹ تا نمبر ۱۰۶ خاتمہ کلام ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اور آپ کے واسطہ سے آپؐ کے پیروؤں کو صبر و استقامت اور ذکرِ الٰہی کی ہدایت کی گئی ہے۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن اور رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الف ، لام ، میم ، صاد۱*

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کتا ب ہے جو تم پر نازل کی گئی ہے ۲* تو (دیکھو) اس کی وجہ سے تمہارے دل میں کوئی تنگی پیدا نہ ہو ۳*یہ اس لئے نازل کی گئی ہے کہ تم اس کے ذریعہ لوگوں کو ہوشیار کرو ۴* اور ایمان لانے والوں کے لئے یاد دہانی ہو ۵*

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل ہو ا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کو چھوڑ کر دوسرے سر پرستوں کی پیروی نہ کرو ۶* تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کتنی ہی آبادیاں ہیں جن کو ہم ہلاک کر چکے ہیں چنانچہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آیا یا دوپہر میں جبکہ وہ آرام کر رہے تھے ۷*

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ہمارا عذاب آیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے ۸*

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو (یاد رکھو) ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے اور یقیناً پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے ۹*

 

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ہم پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے سامنے بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وزن اس روز حق ہو گا تو جن کی میزانیں بھاری ہوں گی وہی کامیاب ہونگے ۱۰*

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جن کی میزانیں ہلکی ہوں گی تو یہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا کیونکہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ناانصافی کرتے رہے۔ ۱۱*

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے تمہیں زمین میں با اختیار بنا یا ۱۲* اور تمہارے لئے گزر بسر کا سامان فراہم کیا مگر تم کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تمہاری صورت ۱۳* بنائی ، پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا ۱۴* مگر ابلیس ۱۵* کہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا کہ کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا ؟ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں ، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے ۱۶*

 

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا ، یہاں سے اتر جا۔ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں گھمنڈ کرے۔ نکل جا کہ تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے ۱۷*

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بولا مجھے اس دن تک کی مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) اٹھائے جائیں گے۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا تجھے مہلت دی گئی ۱۸*

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہا چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر دیا ہے ۱۹*اس لئے میں تیری سیدھی راہ پر ان کی گھات میں بیٹھا رہوں گا ۲۰*

 

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ان کے آگے سے بھی ان پر حملہ کروں گا اور پیچھے سے بھی ، دائیں سے بھی کروں گا اور بائیں سے بھی ۲۱*اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیگا۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہو ا ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۲۲*

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اے آدم !تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو ۲۳* اور جہاں چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ۲۴*ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا ۲۵* تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں ان پر کھول دے ۲۶*اس نے کہا تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ تم کہیں فرشتے نہ بن جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۲۷*

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح وہ ان کو اپنے فریب میں لے آیا ۲۸* پھر جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کی شرمگاہیں ان پر کھل گئیں ۲۹* اور وہ اپنے کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے ۳۰* اور ان کے رب نے انہیں پکار ا"کیا میں نے تمہیں اس درخت سے روکا نہ تھا او ریہ کہا نہ تھا ک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟"

 

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے عرض کیا اے ہمارے رب !ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا او ر اگر تو نے ہمیں نہیں بخشا اور رحم نہیں فرمایا تو ہم تباہ ہو جائیں گے ۳۱*

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمایا اتر جاؤ ۳۲* تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۳۳* اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھکانا اور گذربسر کا سامان ہے ۳۴*

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور فرمایا : اسی میں تم جیو گے ، اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تم نکالے جاؤ گے ۳۵*

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے اولادِ آدم !ہم نے تم پر لباس اتار ا ہے ۳۶* کہ تمہاری ستر پوشی بھی کرے اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ۳۷*اور تقویٰ کا لباس تو بہترین لباس ہے ۳۸* یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ یاددہانی حاصل کریں ۳۹*

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے اولاد آدم !ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں بہکا دے ۴۰*جس طرح اس نے تمہارے والدین کو (بہکا کر) جنت سے نکلوایا تھا اور ان کے لباس اتروا دئے تھے تاکہ ان کے ستر انہیں دکھا دے ۴۱*وہ اور اس کا گروہ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۴۲* ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنا یا ہے جو ایمان نہیں لاتے

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ لوگ جب بے حیائی کا کوئی کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اسی طریقہ پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے کہو اللہ کبھی بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ کی نسبت ایسی بات کہتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ۴۳*

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو ، میرے رب نے عدل کا حکم دیا ہے ۴۴*اور یہ کہ اپنا رخ (اس کی طرف) سیدھا رکھو ہر عبادت گاہ میں ۴۵*اور اسی کو پکارو دین (اطاعت) کو اس کے لئے خالص کر کے ۴۶*جس طرح اس نے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی اسی طرح تم لوٹو گے۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور دوسرے گروہ پر گمراہی مسلط ہو گئی۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ راہِ راست پر ہیں۔

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے اولادِ آدم !ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنے کو لباس سے آراستہ کرو ۴۷*اور کھاؤ اور پیو ۴۸*اور اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو کس نے حرام کیا ہے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو ۴۹*؟کہو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں اور قیامت کے دن تو خالصۃً انہی کے لئے ہوں گی ۵۰*اس طرح ہم اپنے احکام کھول کھول کر بیان کر تے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننے والے ہیں ۵۱*

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو میرے رب نے جن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے وہ تو یہ ہیں بے حیائی کی باتیں خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی ۵۲*اور گناہ ۵۳*اور ناحق کی زیادتی ۵۴*اور یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کے لئے اس نے کوئی سند نہیں اتاری ۵۵*نیز یہ کہ اللہ کے نام سے ایسی بات کہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ۵۶*

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر ہے پھر جب ان کا وقت آگیا تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ ایک گھڑی آگے ۵۷*

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے اولاد آدم !اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آئیں جو تمہیں میری آیتیں سنا  رہے ہوں تو جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اور اپنی اصلاح کر لے گا تو ایسے لوگوں کے لئے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۵۸*

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں تکبر کریں گے وہ دوزخ والے ہیں ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہو گا جو اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ایسے لوگ نوشتۂ الٰہی کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے ۵۹*یہاں تک کہ ہمارے فرستادے ان (کی روحوں) کو قبض کرنے کے لئے پہنچ جائیں گے ا س وقت وہ ان سے پوچھیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ وہ ہم سے کھوئے گئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ واقعی وہ کافر تھے ۶۰*

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکم ہو گا ، تم بھی ان امتوں کے ساتھ جو جنوں اور انسانوں کی تم سے پہلے گزر چکی ہیں آتشِ جہنم میں داخل ہو جاؤ جب بھی کوئی امت اس میں داخل ہو گی اپنی ساتھی امت پر لعنت کرے گی ۶۱*یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو پچھلی امت پہلی امت کے بارے میں کہے گی کہ اے ہمارے رب ! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا لہذا انہیں آگ کا دوہر ا عذاب دے ارشاد ہو گا ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہے ۶۲*لیکن تم جانتے نہیں ہو۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پہلی امت پچھلی امت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں ہوئی لہذا تم بھی اپنی کمائی کے بدلہ میں عذاب کا مزا چکھو ۶۳*

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے ہرگز نہیں کھولے جائیں گے ۶۴*اور نہ وہ جنت میں داخل ہو سکیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے ۶۵*ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے لئے جہنم ہی کا بچھونا ہو گا اور اوپر سے اوڑھنا بھی اسی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح کا بدلہ دیتے ہیں۔

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور ہم کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ۶۶*وہ جنت والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے دلوں میں جو کدورت ہو گی وہ ہم نکال لیں گے ۶۷*ان کے تلے نہریں رواں ہوں گی اور وہ کہیں گے شکر اللہ کا جس نے ہمیں اس کی ہدایت بخشی ۶۸*اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ بخشتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے ہمارے رب کے رسول حق لیکر آئے تھے اور ان سے پکار کر کہا جائیگا کہ یہ ہے جنت جس کے تم اپنے اعمال کے بدلہ میں وارث بنائے گئے ہو۔

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جنت والے دوزخ والوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا اس کو ہم نے سچا پایا پھر کیا تم نے بھی اس وعدہ کو سچا پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ، ہاں۔ اس وقت ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر۔ ۶۹*

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو اللہ کے راستہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے ۷۰*اور آخرت کے منکر تھے

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور دونوں کے درمیان ایک اوٹ ہو گی ۷۱*اور اعراف (باندیوں) پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی علامت سے پہچان لیں گے ۷۲*وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے سلامتی ہو تم پر ۷۳*وہ ابھی اس میں داخل نہیں ہوئے مگر اس کی امید رکھتے ہوں گے ۷۴*

 

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھیر دی جائیں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کر۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اعراف والے کچھ اشخاص کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ نہ تو تمہارے جتھے تمہارے کام آئے اور نہ وہ چیزیں جن پر تمہیں گھمنڈ تھا ۷۵*

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کیا یہ (اہل ایمان) وہی لوگ نہیں ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ انہیں اللہ کبھی اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا ؟ (لیکن آج ان سے کہا گیا کہ) داخل ہو جاؤ جنت میں تمہارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کسی طرح کا کوئی غم ۷۶*

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کچھ دے دو۔ وہ لوگ جواب دیں گے یہ چیزیں اللہ نے کافروں پر حرام کر دی ہیں ۷۷*

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنایا تھا ۷۸*اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا تو آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے ۷۹*جس طرح انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس میں ہم نے علم کی بنیاد پر کھول کھول کر باتیں بیا ن کر دی ہیں ۸۰*اور جو ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ا سکی حقیقت وقوع میں آ جائے جس دن اس کی حقیقت وقوع میں آئے گی تو وہ لوگ جو اسے پہلے بھلا بیٹھے تھے بول اٹھیں گے کہ بلاشبہ ہمارے رب کے رسول حق لیکر آئے تھے ۸۱*پھر کیا اب کوئی سفارشی ہیں جو ہماری سفارش کریں یا (ہے کوئی صورت کہ دنیا میں ہمیں) واپس بھیج دیا جائے تاکہ جو کام ہم کرتے رہے ہیں اس سے مختلف کام کریں انہوں نے اپنے کو تباہی میں ڈالا اور جو باتیں وہ گھڑا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہو گئیں۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۸۲*پھر وہ عرش پر متمکن ہوا ۸۳*وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے او راس نے سورج اور چاند اور ستارے پیدا کئے جو اس کے حکم سے مسخر ہیں ۸۴*یاد رکھو پیدا کرنا بھی اس کے لئے خاص ہے اور حکم دینا بھی ۸۵*بڑا بابرکت ہے اللہ ۸۶*سارے جہانوں کا رب۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے  ۸۷*وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۸۸*

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو ۸۹*اور اسی کو پکارو خوف اور امید کے ساتھ ۹۰*یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جو اپنی رحمت ۹۱*کے آگے آگے ہواؤں کو خوشخبری لئے ہوئے بھیجتا ہے۔ پھر جب وہ بوجھل بادل اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس کو کسی مردہ زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں اور وہاں پانی برسا کر ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں اس طرح ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو ۹۲*

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اچھی زمین سے اس کے رب کے حکم سے (خوب) پیداوار نکلتی ہے اور خراب زمین سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۹۳*اس طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو شکر کرنے والے ہیں۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے ۹۴* نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ۹۵*اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو !۹۶*اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ۹۷*مجھے اندیشہ ہے کہ ایک ہولنا ک دن ۹۸*کا عذاب تم پر مسلط نہ ہو جائے۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی قوم کے سرداروں نے کہا : ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ تم صریح گمراہی میں پڑ گئے ہو ۹۹*

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا : اے میری قوم !میں گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ ربّ العالمین کا رسول ہوں۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے و ہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۱۰۰*

 

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہو ا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی یاددہانی تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعہ پہنچی ۱۰۱* تاکہ تمہیں خبردار کرے ۱۰۲*اور تم ڈرو اور تم پر رحم کیا جائے۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا تو ہم نے ا س کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں (سوار) تھے بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائی تھیں ان کو غرق کر دیا ۱۰۳ *بے شک وہ اندھے لوگ تھے ۱۰۴*

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تفسیر

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حروفِ مقطعات کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ نمبر ۱ اور سورۂ آل عمران نوٹ نمبر ۱ میں گزر چکی ہے۔

 

یہ حروف سورہ کے بعض مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مخصوص اہمیت کے حامل ہیں۔ اس سورہ کے مضامین پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ الف کا اشارہ اللہ کی طرف یعنی توحید کے مضامین کی طرف اور لام کا اشارہ لا الہ الا ہو (آیت ۱۵۸) یعنی شرک کی نفی کے مضامین کی طرف ہے۔ اسی طرح میم کا اشارہ مرسلین (آیت ۶) یعنی سلسلۂ رسالت کے مضامین کی طرف ہے۔ رہا صاد تو اس کا اشارہ ان قصص کی طرف ہے جو اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں چنانچہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت سے انکار کے نتیجہ میں بستیوں کی ہلاکت کے واقعات سنانے کے بعد فرمایا : تِلک القُریٰ نقُصُّ عَلیْکَ مِن انبائھا ،"یہ بستیاں ہیں جن کے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں"(آیت ۱۰۱) اس آیت میں لفظ نقص کا آخری حرف صاد ہے اسی طرح آیت ۱۷۶ میں فاقصص القصص (یہ سرگزشتیں لوگوں کو سناؤ) کا آخری حرف صاد ہے۔

 

 

گویا یہ حروف سورہ کا اجمالی تعارف پیش کرتے ہیں کہ اس میں چار اہم مضامین بیان ہوئے ہیں توحید کی دعوت، شرک کی تردید، رسالت پر ایمان لانے کی دعوت اور انکار کی روش اختیار کرنے والی بستیوں کی تباہی کے واقعات۔ (اور اللہ ہی اپنے کلام کے اسرار کو بخوبی جانتا ہے)

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے۔

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ ہی نے نازل فرمائی ہے۔ لیکن مخالفین اس کو کتابِ الٰہی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ اس کو تمہاری تصنیف قرار دیتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے تمہیں پریشان اور دل تنگ نہیں ہونا چاہئے۔ تم مطمئن رہو کہ حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے نزولِ قرآن کا اولین مقصد یعنی غفلت میں پڑی ہوئی انسانیت کو بیدار کرنا وہ یوم جزا سے باخبر ہو اور انکار کرنے والوں کو عذاب الٰہی سے متنبہ کرنا۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنت میں آدم اور ان کی بیوی کو ایسی خلعت پہنائی گئی تھی کہ ان کو برہنگی کا کبھی احساس ہی نہیں ہوا لیکن شیطان کے بہکاوے میں آنے کے بعد خلعت ان سے اتر گئی اور انہیں اپنی برہنگی کا احساس ہوا۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ شیطان کس طرح خیر خواہ بن کر آتا ہے اور کس طرح سبز باغ دکھاتا ہے۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدمؑ اور حوا سے جو گناہ سرزد ہوا وہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ وہ شیطان کے فریب کا شکار ہو گئے بخلاف اس کے شیطان نے جو گناہ کیا تھا وہ تکبر کی بنا پر کیا تھا۔

 

واضح رہے کہ قرآن کے اس بیان کے مطابق شیطان کے فریب کا شکار آدم اور حوا دونوں ہو گئے تھے اس لیے یہ جو مشہور ہے کہ شیطان نے حوا کو ورغلایا اور حوا نے آدم کو درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی صحیح نہیں ہے۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جنت کا لباس ان سے اتر گیا اس لیے انہیں برہنگی کا احساس ہوا۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے واضح ہوا کہ حیا انسان کا فطری وصف ہے اور ستَر پوشی عین تقاضائے فطرت۔

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۵۴

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ ۵۵ میں گزر چکی۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انسان اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ شیطان کا دشمن انسان ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ رہا انسان کا دشمن شیطان ہونا تو جو واقعہ تاریخ انسانی کے آغاز میں پیش آیا اس کے پیش نظر انسان کی حیثیت شیطان کے دشمن ہی کی متعیّن ہو جاتی ہے اسی لیے انسان اس پر لعنت بھیجتا ہے۔ اس کے ساتھ دوستی کا تعلق جب کہ اس نے انسان کو گمراہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے وہی لوگ قائم کرتے ہیں جو دوست اور دشمن میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی نوع انسان کے لیے ٹھکانا زمین ہی کو بنایا گیا ہے اور انسانی زندگی کی تمام ضروریات کرۂ ارض ہی پر مہیا کر دی گئی ہیں۔ خلا میں یا کسی سیارہ پر انسان کا جانا ایک عارضی اور استثنائی بات ہے۔ انسانی آبادی کو قیامت تک کے لیے زمین ہی پر آباد ہونا ہے۔

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن انسان کو جو دو باہ زندہ کیا جائے گا تو اسے زمین ہی کے اندر سے نکالا جائے گا اور یہی زمین میدان حشر بنے گی۔

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لباس جن چیزوں سے تیار کیا جاتا ہے وہ اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں وہ صلاحیت جو اس کو تیار کرنے میں انسان لگاتا ہے وہ بھی اللہ ہی کی دی ہوئی ہے اور چونکہ لباس انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا گراں قدر عطیہ اور فیضان رحمت ہے اس لیے اسے نازل کرنے سے تعبیر فرمایا ہے۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں لباس کے دو اہم مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان اپنے سَتر کو ڈھانکے اور دوسرے یہ کہ اس کے لیے باعثِ زینت ہو۔ اس سے اس مذہبی تصور کی بھی تردید ہوتی ہے جو برہنگی کو مذہبی تقدس کا درجہ دیتا ہے اور ہپی ازم جیسے افکار کی بھی جو انسان سے انسانیت کا لباس اتروا کر اسے حیوانیت کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔

 

لباس کو اللہ تعالیٰ زینت کا ذریعہ بنایا ہے لہذا اچھا اور زیبائش والا لباس بشرطیکہ حدِ اعتدال میں ہو ایک پسندیدہ چیز ہے۔ اس سے اس تشدد کی منفی ہوتی جو زہد میں غلو کرنے والوں کے ہاں پایا جاتا ہے۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موقع کی مناسبت سے جسمانی لباس سے روحانی لباس کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ جس طرح ظاہری لباس انسان کے لیے باعث زینت ہے اس طرح بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر تقویٰ یعنی پرہیزگاری کا لباس انسان کے باطن کو سنوارنے والا اور اس کو حقیقی جمال عطا کرنے والا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہئے کہ تقویٰ کے لباس سے اپنے کو آراستہ کرے۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لباس فطرتِ انسانی کی مانگ ہے اور اس کو پورا کرنے کا سامان جس وافر پیمانہ پر اور جس عمدگی کے ساتھ کیا گیا ہے اس پر انسان غور کرے تو اسے صاف نظر آئے گا کہ اس کے خالق نے اسے حیوان نہیں بنایا ہے بلکہ انسان بنایا ہے اور اسے سنوار کر اور شائستہ بنا کر انسان کی بلند سطح پر رکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے لباس میں بھی اپنی نشانی رکھی ہے تاکہ انسان اپنے خالق کو پہچانے اور اپنے صحیح مقام سے آشنا ہو۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیطان کے آدم کو بہکانے کا جو قصہ اوپر بیان ہوا وہ ایک سچا واقعہ اور تاریخ انسانی کے وہ اوراق ہیں جو پردۂ غیب میں چھپے ہوئے تھے ان کو قرآن اس کو روشنی میں لایا تاکہ انسان اپنے ازلی دشمن شیطان کو پہچانے اور اس کی فتنہ انگیزی کی طرف سے ہوشیار رہے۔

 

قرآن شیطان (ابلیس) کا تعارف اس طور پر کراتا ہے کہ وہ شعور اور ارادہ رکھنے والی شخصیت ہے جس کا تعلق نوعِ جن سے ہے۔ وہ اللہ کی ایسی ہی بے بس مخلوق ہے جیسی دیگر تمام بے بس مخلوقات اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور سرکش ہو گیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کر دیا اسے اس بات کا حسد ہی کی وجہ سے وہ انسان کا ازلی دشمن بن گیا۔ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ اس دنیا کے لیے یہ تھا کہ انسان کا خیر و شر کے معاملہ میں امتحان ہو اس لیے اس نے شیطان کے مہلت طلب کرنے پر اسے موقع دیا کہ وہ دنیا میں اپنی فتنہ سامانیاں کرتا رہے اور انسانوں میں سے جو لوگ اس کے بہکانے میں آنا چاہتے ہیں آ جائیں البتہ اس کو یہ طاقت نہیں بخشی گئی ہے کہ وہ زبردستی کسی کو گمراہ کرے۔ اس کو شر پھیلانے کا جو موقع دیا گیا ہے وہ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے ورنہ وہ اللہ کے قابو سے ہرگز باہ ر نہیں ہے اور قیامت کے دن اسے اللہ اس کے تمام لشکر اور اس کے تمام پیروؤں سمیت آتش جہنم میں جھونک دینے والا ہے۔

 

اس حقیقت کے پیش نظر یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ شیطان کا کوئی شخصی وجود نہیں بلکہ یہ تمثیل ہے جو شر سے بچنے کے لیے پیش کی گئی ہے اور نہ شیطان کو خدا کا مد مقابل سمجھنا صحیح ہے جیسا کہ آتش پرست سمجھتے ہیں اور جس کے لیے انہوں نے"اہرمن"کا نام تجویز کیا ہے اسی طرح شیطان کو شر کا دیوتا سمجھنا بھی صحیح نہیں جیسا کہ مشرکانہ مذاہب میں سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب تصورات خلاف حقیقت اور باطل ہیں۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آدم اور حوا ایک جوڑے کی حیثیت سے جنت میں رہتے تھے جہاں نہ رفع حاجت کا کوئی سوال تھا اور نہ تولد و تناسل کا اس لیے جنت کے لباس کے ذریعہ ان کے ستر اس طرح چھپا کر رکھے گئے تھے کہ خود ان پر ظاہر نہ ہو سکے تھے۔ لیکن شیطان جب ان کو فریب دینے میں کامیاب ہو گیا اور ان سے گناہ سرزد ہو گیا تو ان کے ستر ان پر کھل گئے اور انہیں جنت سے نکلنا پڑا۔ یہ جنت سے نکلنا چونکہ شیطان کی فریب کاری کا نتیجہ تھا اس لیے اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ شیطان نے دونوں کو جنت سے نکلوایا۔

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیطان ایسا دشمن ہے جس کو انسان دیکھ نہیں پاتا مگر اس کا مشاہدہ میں نہ آنا اس کے وجود کی نفی نہیں کرتا جب کہ کائنات کا خالق اس کے وجود کی ہمیں خبر دے رہا ہے اور انسانی تاریخ میں خیر و شر کے جو معرکہ گرم ہوتے رہتے ہیں اور دنیا میں شر و فساد کی جو گرم بازاری ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ایک غیر مرئی شر پسند طاقت انسانوں کو بہکانے اور انہیں شرو فساد پر ابھارنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

 

آج کتنی چیزیں ہیں جن کو خوردبین اور دور بین کی مدد سے دیکھا جانے لگا ہے لیکن ان آلات کے ایجاد ہونے سے پہلے انسان ان چیزوں کے وجود سے آشنا نہ تھا اس لیے کسی ایسی چیز کی نفی کرنا جو انسان کے تجربہ میں نہ آئی ہو کوئی معقول بات نہیں ہے جبکہ اس کے وجود کی اطلاع ہمیں با وثوق ذریعہ سے مل رہی ہو۔

 

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیطان اور اس کے گروہ کو جو نوعِ جن سے تعلق رکھتا ہے انسان دیکھ نہیں سکتا الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی استثنائی صورت پیدا کی ہو جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے اس نے ید اکی تھی۔ لہذا شیطان یا جنوں کو دیکھنے کی کوشش کرنا فضول ہے نیز عام طور سے جو عجیب و غریب باتیں جنوں کو دیکھنے کے سلسلہ میں بیان کی جاتی ہیں وہ بھی لائق اعتبار نہیں۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل عرب خانۂ کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کرتے تھے، مرد دن میں اور عورتیں رات میں برہنہ طواف کرتیں البتہ قریش اس سے مستثنیٰ تھے۔ اس رسم کو مذہبی تقدس کا درجہ حاصل ہو گیا تھا اس لیے کہ وہ اپنے مذہب کو جو ان کے باپ دادا سے چلا ا رہا تھا اور جس میں اور گمراہیوں کے علاوہ برہنہ طواف کرنے کی بدعت بھی شامل ہو گئی تھی خدا کی طرف سے سمجھتے تھے اور اس بدعت کے پیچھے یہ تصور کار فرما تھا کہ کپڑے دنیوی زینت ہیں اور طواف جیسی عبادت کو اس دنیوی آلائش سے پاک رکھنا چاہئے۔ اس طرح مذہب کا لبادہ اوڑھ کر وہ ایک شرمناک فعل کے مرتکب ہو رہے تھے کیونکہ فطرتِ سلیمہ برہنگی کو شرمناک فعل قرار دیتی ہے۔ رہا یہ دعویٰ کہ خدا نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ خدا نے بے حیائی کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا ہو گا۔ اس لیے یہ دعویٰ علم پر نہیں بلکہ جہالت پر مبنی ہے۔

 

برہنگی کو مذہبی تقدس کا درجہ دینے والے آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سادھو سنیاسی لوگ ایک لنگوٹی پر اکتفاء کرتے ہیں اور ان میں سے بعض لوگ تو مادر زاد برہنہ رہ کر اپنی مذہبیت کا مظاہرہ کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ انسان جب شرک اور کفر کی راہ پر چل پڑتا ہے تو اس کی عقل ماری جاتی ہے۔

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں"قِسط"(عدل) کا لفظ وسیع معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ راستی، اعتدال، موزونیت اور انصاف اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ایسی شرمناک اور بیہودہ باتوں کا حکم نہیں دیتا کہ اس کی عبادت کے لیے آدمی برہنہ ہو جائے بلکہ اس کے احکام عدل پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کے ذریعہ فطرت انسانی کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جاتا ہے۔ وہ ایسا کوئی حکم نہیں دیتا جو انسانی فطرت پر اور اس کی اخلاقی حیثیت پر ظلم ڈھانے والا ہو۔ اس کے احکام میں افراط و تفریط نہیں ہوتی بلکہ کمال درجہ کا اعتدال ہوتا ہے اور وہ انسانی زندگی کے لیے غایت درجہ موزوں ہوتے ہیں۔ اس نے ہر معاملہ میں راستی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے پھر انسان اندھا بن کر ان طور طریقوں کو کیوں اختیار کرتا ہے جو مذہب کے نام سے پی کئے جاتے ہیں لیکن جن کے اخلاقی برائی ہونے کا پہلو اتنا واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی عقل و ہوش رکھنے والا آدمی اس کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عبادت میں تمہارا رخ اللہ ہی کی طرف ہونا چاہئے خواہ تم مسجدِ حرام میں ہو یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ غیر اللہ کی عبادت کا کوئی خیال تک دل میں نہیں آنا چاہئے۔

 

اللہ کی طرف اپنا رخ سیدھا رکھنے کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان اللہ کی براہ راست عبادت کرے اور کسی کو واسطہ اور وسیلہ قرار دے کر اس کی عبادت نہ کرے۔

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بینہ نوٹ ۹۔

 

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خواہ مسجد حرام ہو یا کوئی اور مسجد اس میں حاضری لباس اتار کر نہیں بلکہ لباس پہنچ کر ہونی چاہئے۔ کیونکہ خدا کے دربار میں حاضری کے لیے شائستگی ضروری ہے۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مقصود مذہب کے اس زاہدانہ ، راہبانہ اور جوگیانہ تصور کی تردید کرنا ہے جو لباس اور کھانے پینے کے معاملہ میں انسان کو متشدد بنا دیتا ہے گویا کہ یہ دنیا کی آلائشیں ہیں جن کو ترک کرنا ہی بہتر ہے۔ پھر یہ تصور انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے نفس کو مارے بخلاف اس کے اسلام ان چیزوں کو اللہ کی نعمت قرار دیتا ہے جو انسان کے فائدہ ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں البتہ جیسا کہ آیت میں آگے ارشاد ہوا ہے اسراف سے بچنا چاہئے۔

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوال مذہب کے جو گیا نہ تصور اور زہد پرستانہ ذہنیت پر ضرب کاری ہے۔

 

مطلب یہ ہے کہ لباس جیسی چیز جو انسان کو جمال عطا کرنے والی ہے اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں جو انسان کے لیے رزق کا سامان ہیں اس لیے پیدا کر دی گئی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائے پھر کسی کو کیا حق ہے کہ وہ ان چیزوں کو اس کے بندوں پر حرام قرار دے یا خدا اور مذہب کے نام پر ان کے استعمال کے سلسلہ میں اپنی طرف سے پابندیاں عائد کرے یہ آیت اس قسم کی تمام پابندیوں کو کالعدم قرار دیتی ہے۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی گو دنیا میں یہ نعمتیں بندگانِ خدا کے لیے عام ہیں لیکن خدا کے وفادار بندوں (اہل ایمان) کو ان سے استفادہ کا حق بدرجۂ اولیٰ پہنچتا ہے۔ اور قیامت کے دن تو یہ نعمتیں ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ کافر ان سے بالکل محروم رہیں گے۔

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان احکام سے جو اتنی وضاحت کے ساتھ قرآن میں بیان کئے گئے ہیں عملاً رہنمائی وہی لوگ حاصل کر سکیں گے جو جہالت میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ جنہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنا سفرِ زندگی علم کی روشنی میں طے کریں گے۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ انعام میں گزر چکی۔

 

یہاں مذہب پرستوں کے اس رویہ پر گرفت کی گئی ہے کہ جو اچھی اور پاک چیزیں اللہ نے حلال ٹھہرائی تھیں ان کو تم نے حرام ٹھہرا لیا۔ لیکن جو بری اور شرمناک باتیں اللہ نے حرام ٹھہرائی تھیں ان کو تم نے حلال ٹھہرا لیا۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہر قسم کی معصیت کے کام۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ظلم و زیادتی کے کام جو سراسر خلافِ حق ہیں اور جن کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۱۳۵۔

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خدا کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جس کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ واقعۃً خدا نے کہی ہے یا اس کا حکم دیا ہے۔ دین میں بدعتیں رائج کرنا، مذہب ایجاد کرنا اور من مانے طریقہ پر شریعت سازی کرنا سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں امت سے مراد رسول کی امت ہے جیسا کہ سورۂ یونس آیت نمبر ۴۷ میں ارشاد ہوا ہے۔

 

ولکل امۃرسول فاذا جاء رسولھم قضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ ہر امت کے لئے ایک رسول ہے پھر جب رسول ان کے پاس آ جاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ ہر گز نا انصافی نہیں کی جاتی۔

 

مطلب یہ ہے کہ جب کوئی رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے تو اس قوم کے لئے اللہ ایک مدت مقرر کر دیتا ہے کہ وہ اس مدت کے دوران رسول کی دعوت کو قبول کرے اور سرکشی سے باز آ جائے لیکن اگر وہ قوم اس مدت کے دوران رسول کی دعوت کو قبول نہیں کرتی بلکہ کفر کا رویہ اختیار کرتی ہے تو پھر جوں ہی مقررہ مدت پوری ہو جاتی ہے اس دنیا ہی میں اس کو پکڑ لیا جاتا ہے اور یہ پکڑ اس طرح ٹھیک وقت پر ہوتی ہے کہ ایک لمحہ ادھر ادھر ہو نہیں پاتا۔

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس سبق کی یاددہانی ہے جو نوع انسانی کو آغاز میں دیا گیا تھا۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جتنے دن اور جیسی زندگی ان کے تقدیر میں لکھی ہے پوری کریں گے۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوال و جواب موت کے فرشتوں اور روح کے درمیان ہوتا ہے اور مشرک کی روح اعتراف کر لیتی ہے کہ جن کو وہ خدا سمجھ کر پکارتا رہا ہے وہ سب جھوٹے خدا تھے۔ اور سچے خدا کا انکار کر کے اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

 

معلوم ہوا کہ آنکھ بند ہوتے ہی غیبیہ حقیقتیں آشکارا ہونے لگتی ہیں۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا میں گمراہ قومیں مذہب ، کلچر، ف تہذیب اور دیگر معاملات میں اپنی پیشتر و گمراہ قوموں کی تقلید کرتی رہی ہیں اور ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک گمراہ قوم اپنی معاصر قوموں کی امامت کر رہی ہے۔ تقلید کرنے والے اپنے پیشروؤں کے ساتھ اظہار عقیدت کر تے اور اپنے گمراہ پیشواؤں کو خراج تحسین پیش کرتے رہے ہیں لیکن قیامت کے دن جب جہنم میں سب اکٹھے ہو جائیں گے تو وہ اپنے پیشروؤں اور پیشواؤں پر لعنت کے ڈونگرے برسائیں گے کہ انہوں نے غلط مثالیں قائم کی تھیں جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوئے۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہم نے اگر تمہارے لئے بری مثال قائم کی تو تم دوسروں کے لئے کون سی اچھی مثال قائم کی کہ تمہاری جرم کم ہو۔ اگر تم ہماری تقلید کر کے گمراہ ہوئے تو تمہاری تقلید کر کے دوسری قومیں گمراہ ہوئیں لہٰذا تمہارا جرم اپنی جگہ ہے اور اس کے نتائج کے تم خود ہی ذمہ دار ہو۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کے لئے بلندی نہیں بلکہ پستی مقدر ہے۔ ان کے لئے ترقی کی ساری راہیں مسدود ہوں گی۔ وہ نہ آسمانی دنیا میں داخل ہو سکیں گے اور نہ ان کو مقامِ قبولیت حاصل ہو سکے گا۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس طرح سوئی کے ناکہ سے اونٹ کا گزرنا محال ہے اسی طرح ان کافروں اور متکبروں کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ انجیل میں بھی اس سے ملتی جلتی بات بیان ہوئی ہے۔

 

"اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔ (متی ۱۹: ۲۳، ۲۴)

 

اس بیان میں جنت کو"خدا کی بادشاہی"سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ ۴۸۲ میں گزر چکی۔

 

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اہلِ ایمان کے درمیان آپس میں جو رنجش رہی ہو گی وہ دور کر دی جائے گی اور تلخیوں کے جو داغ ہوں گے وہ مٹا دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دل پاک صاف کر کے ان کو جنت میں داخل کرے گا اس لئے وہ اپنے کو وہاں مخلص دوستوں کے درمیان پائیں گے۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہلِ ایمان جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے عمل پر نازاں نہیں ہوں گے کہ ہم نے کارنامہ ہی ایسا دکھایا تھا کہ جنت کے ہم حقدار ہوئے بلکہ وہ اسے اللہ کا فضل اور احسان سمجھیں گے اور س کا شکر ادا کریں گے کہ اس کی رہنمائی اور توفیق سے وہ اس قابل ہوئے کہ کامیابی کی منزل کو پہنچ سکیں۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنت والوں کی دوزخ والوں سے گفتگو جب کہ دونوں کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہو گا یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمِ آخرت میں سماعت و بصارت کی قوتیں دنیا کے مقابلہ میں بدرجہا بڑھ کر ہوں گی اور ذرائع ابلاغ بھی محدود نہیں ہونگے۔ یہ بات موجودہ سائنسی دور کے انسان کو تو ذرا بھی حیرت میں ڈالنے والی نہیں ہے کیوں کہ وہ ٹیلیفون اور ٹیلیویژن کے ذریعہ ہزاروں میل کی دوری تک اپنی آواز اور اپنی تصویر منتقل کر سکتا ہے اور خلا میں پرواز کرنے والے انسان سے گفتگو کر سکتا ہے۔

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ آل عمران نوٹ ۱۲۵۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک اوٹ ہو گی جو حد فاصل کا کام دے گی۔ ایک طرف جنت کا عالم ہو گا تو دوسری طرف دوزخ کا عالم

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس اوٹ کی بلندیوں سے جسے اعراف کہا گیا ہے کچھ لوگوں کو جنت اور دوزخ کا مشاہد ہ کرایا جائے گا اور وہ ان لوگوں کو جن سے دنیا میں ان کو واسطہ رہا ہے۔ دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ فلاں شخص ہے اور یہ فلاں جنت اور جہنم میں جم غفیر کے باوجود مخصوص لوگوں کو پہچاننا اس لئے ممکن ہو گا کہ ہر جنتی اور ہر جہنمی کے لئے ایک مخصوص علامت ہو گی جواس کی شخصیت کو ظاہر کر رہی ہو گی۔

 

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اعراف والے جب ان جنتیوں کو دیکھیں گے جن کو وہ دنیا میں جانتے پہچانتے تھے تو ان کو سلامتی کا پیغام دیں گے۔ یہ گویا ان کی کامیابی پر اصحابِ اعراف کی طرف سے مبارکباد ہو گی۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اصحاب اعراف ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن اس کے امید وار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کلے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان کو اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ کا مشاہدہ کرانے کے بعد جنت میں داخل فرمائے گا۔

 

یہ اعراف والے کون لوگ ہوں گے اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی لیکن سیاق کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان میں سے یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا عمل اس درجہ کا نہیں ہو گا کہ جنت میں سبقت کر کے جائیں اس لئے ان کو جنتیوں اور دوزخیوں کا مشاہدہ کرانے کے بعد جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دوزخیوں میں سے وہ ان لوگوں کو پہچان لیں گے جنہیں وہ دنیا میں جانتے پہچانتے تھے جنہیں دولت اور اقتدار وغیرہ پر گھمنڈ تھا اور ان کا یہ گھمنڈ دعوت حق قبول کرنے میں مانع ہوا۔ ایسے لوگوں کو ان کی مخصوص علامتوں سے پہچان لینے کے بعد وہ انہیں یاد دلائیں گے کہ یہی چیزیں جن پر تمہیں ناز تھا آج تمہارے کیا کام آئیں۔

 

معلوم ہوا کہ فرعون، ہامان، ابولہب، ابوجہل، اور اس قماش کے دوسرے لیڈر اپنی مخصوص علامتوں کی وجہ سے جہنم میں پہچانے جائیں گے اور اصحابِ اعراف جب ان کو یاد دلائیں گے کہ ان کا سرمایۂ افتخار ان کے کچھ کام نہ آیا تو اس سے ان کی ذلت ورسوائی میں اضافہ ہی ہو گا۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا میں تم اہلِ ایمان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور اس بات کا دعویٰ کر تے تھے کہ اللہ کی نظر میں بھی ان کی کوئی وقعت نہیں اور نہ اس کی رحمت میں یہ جگہ پانے والے ہیں لیکن آج آنکھیں کھول کر دیکھ لو کہ ان ہی لوگوں کو اللہ نے سرفراز فرمایا ہے۔ اور اس اعزاز سے نواز ا ہے کہ"جنت میں داخل ہو جاؤ نہ تمہارے لئے رنج کا موقع ہے اور نہ غم کا۔

 

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جنت میں کھانے پینے کی جو چیزیں مہیا ہوں گی ان سے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو محروم کر دیا ہو گا اس لئے کوئی چیز ان کو نہیں دی جا سکے گی۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضاحت ہے کہ کافروں کی حرکتیں دنیا میں یہ اور یہ رہی ہیں پھر وہ آخرت میں انعامات کے کس طرح مستحق ہو سکتے ہیں۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولتا نہیں ہے۔ یہاں جو فرمایا کہ ہم انہیں بھلا دیں گے تو اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کا ان کو نظر انداز کرنا اور ان کی طرف سے نظر رحمت پھیر لینا ہے۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کتاب میں ہدایت کی تمام باتیں وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ کوئی بات ایسی نہیں کہ جس پر ہدایت پانے کا انحصار ہو اور وہ مبہم ، گنجلک اور الجھے ہوئے انداز میں پیش کی گئی ہو۔ پھر اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قیاسی اور خیالی باتیں بیان نہیں کی گئی ہیں بلکہ اس میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے قطعی علم کی بنیاد بیان کیا گیا ہے اس لئے کہ اس کا نازل کر نے والے اللہ تعالیٰ ہے جس کا علم ٹھوس اور قطعی ہے۔

 

قرآن کی یہ خصوصیت اسے دنیا کی تمام کتابوں سے ممتاز کر دیتی ہے جو کائنات کی حقیقت اور انسان کے مقصدِ وجود کے بارے میں قیاس آرائیوں ، نظر بحثوں اور فلسفیانہ تخیلات پر مبنی ہوتی ہیں۔

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن جن باتوں کی خبر دے رہا ہے ان کو کیا یہ لوگ واقعات کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں ؟اگر ایسا ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جس دن یہ باتیں واقعات کی صورت میں ظاہر ہوں گی اور حقیقت بالکل بے نقاب ہو کر سامنے آئے گی تو یہی لوگ جو آج ان غیبی حقیقتوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اس وقت ان کی حقانیت کو تسلیم کرنے لگیں گے مگر وہ وقت عمل کا نہیں بلکہ نتیجہ اور انجام کا ہو گا اسلئے اس وقت ان کا اعتراف ان کے حق میں کچھ بھی مفید نہ ہو گا۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد خدائی دن ہیں کیوں کہ ہمارے چوبیس گھنٹے والے دن کا وجود آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے نہیں تھا نیز قرآن کریم میں دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کا ہوتا ہے۔ (الحج۔ ۴۷)

 

ایک اور مقام پر ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بھی بیان کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ایسے موقع پر دن کا لفظ دور Periodکے معنی میں استعمال ہوا ہے اس لئے چھ دن سے مراد چھ دور ہیں جن کی مقدار اللہ ہی کو معلوم ہے۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کی کیفیت ہمارے علم و ادراک سے باہر ہے اس لئے جیسا کہ  سلفِ صالحین کا طریقہ رہا ہے اس پر بحث کرنے یا اس کی کوئی تاویل و توجیہ کرنے سے اجتناب کرنا عقیدہ کی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ امام مالک سے جب اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اللہ کا عرش پر مستوی (متمکن) ہونا معلوم ہے۔ اس کی کیفیت عقل کی گرفت میں آنے والی بات نہیں ہے اس پر ایمان واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے (روح المعانی ج ۸ ص ۱۳۴)۔

 

رہا یہ سوال کہ پھر اس کے ذکر سے قرآن کا مدعا کیا ہے تو اس کا مدعا سیاقِ کلامContextسے بالکل واضح ہے اور زمین کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے بے تعلق نہیں ہوا بلکہ ساری مخلوق اس کی سلطنت قرار پائی اور وہ تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہو کر نظامِ کائنات کو چلانے لگا۔ اس کی حکومت تمام کائنات پر قائم ہے اور وہی اس پر کنٹرول کر رہا ہے اس کائنات کے انتظام میں کسی کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ ایک خدا ہی کے احکام و آسمان سے لے کر زمین تک ہر جگہ اور ہر گوشہ میں نافذ ہوتے ہیں۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ کے عرش پر متمکن ہونے ذکر ہوا ہے لیکن اس کے متصلاً بعد تدبیر وغیرہ کا بھی ذکر ہے مثلاً سورۂ یونس آیت نمبر ۳ میں فرمایا :

 

ثم استویٰ علی العرش یدبر الامر۔ پھر وہ عرش پر متمکن ہوا اور تدبیر امر کر رہا ہے۔

 

یعنی زمامِ اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہی تمام کاموں کا انتظام کر رہا ہے۔ اس طرح سیاقِ کلام سے عرش پر متمکن ہونے کا ابتدائی مفہوم بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس خدمت میں لگے ہوئے ہیں جو ان کے سپر د کی گئی ہے۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا اسی کی صفت ہے اور اس کی مخلوق پر اسی کے احکام نافذ ہوتے ہیں۔ اس کی سلطنت میں کسی اور کا حکم نہیں چلتا۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ بڑی خوبیوں والا ہے اور اس کے تمام کام باعث خیر و برکت ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ نہ سمجھو کہ اس کائنات کو پیدا کر کے اس نے شر کو وجود میں لایا ہے۔ نہیں بلکہ اس نے بہت بڑے خیر کو وجود میں لایا ہے بالفاظ دیگر کائنات کی تخلیق کے پیچھے جو مقصد کارفرما ہے وہ نہایت عظیم اور سرتا  سر خیر ہے۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب اللہ ہی تمہارا رب ہے تو وہی تمہارا حاجت روا بھی ہے لہٰذا اسی کو پکارو اور اسی کے آگے عجز و نیاز کے نذرانے پیش کر و۔

 

اللہ کو پکارنے کا جو طریقہ شانِ بندگی کو پوری طرح ظاہر کرتا ہے وہ ہے اس کے حضور گڑگڑانا اس لئے وہ جو کچھ اپنے رب سے مانگے گڑ گڑا کر مانگے۔ دوسری ضروری بات اللہ کو خلوص کے ساتھ پکارنا ہے یعنی اس کی دعائیں ریا اور نمائش سے پاک ہوں۔ چپکے چپکے اللہ کو پکارنے کی صورت میں انسان ریا کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے اس لئے آہستہ آہستہ پکارنا اور چپکے چپکے دعائیں مانگنا بہتر ہے۔

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے ساتھ اور معبودوں کو پکارنے لگتے ہیں یا خدا کا انکار کر کے سرے سے اس کو پکارتے ہی نہیں ہیں۔ پہلی چیز شرک ہے تو دوسری چیز الحاد اور دونوں ہی صورتیں حدِ بندگی سے تجاوز کرنے کی ہیں۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمین سے مراد اہلِ زمین یعنی انسانی معاشرہ ہے۔ اور اس کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کر و۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرہ کو درست حالت میں پیدا کیا ہے چنانچہ وہ فطرۃً توحید ہی سے آشنا ہے اور خیر ہی کو پسند کرتا ہے۔ نیز اس کدو درست حالت پر قائم رکھنے کے لئے وہ رسولوں کے ذریعہ توحید کی تعلیمات اور نظامِ عدل نازل فرماتا رہا ہے اس کے بعد انسانی سوسائٹی میں شرک اور شر پھیلانا اس کے بناؤ کو بگاڑ میں تبدیل کرنا ہے مشرکین اور کفار اسی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کو امید و بیم کے ساتھ پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے دل میں اسی کا خوف و اندیشہ رکھے اور اسی سے امیدیں وابستہ کرے اور جب اللہ کو پکارے یا دعا مانگے تو ان ملے جلے جذبات کے ساتھ مانگے۔

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رحمت سے مراد بارانِ رحمت ہے۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ مشاہدہ تو تم رات دن کرتے رہتے ہو کہ جو زمین مردہ پڑی ہوئی تھی بارش کے ہوتے ہی اس میں زندگی کے آثار پیدا ہو گئے اور وہ خزانے اگلنے لگی جس خدا کی قدرت کا یہ کرشمہ تم دیکھتے رہتے ہو اس کے لئے مردہ انسانوں کو زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔ پھر قیامت کی جو خبر قرآن دے رہا ہے اس کو کیوں نہیں تسلیم کرتے ؟

 

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بارش کی مثال سے زندگی بعد موت پر استدلال کرنے کے بعد اس کا ایک دوسرا سبق آموز پہلو سامنے لایا جا رہا ہے۔ بارانِ رحمت کا فیض عام ہے لیکن وہی زمین سر سبز و شاداب ہوتی ہے جو زرخیز ہو۔ نکمی زمین اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتی۔ اسی طرح وحی کی صورت میں خدا کی جو رحمت نازل ہوتی ہے اس سے وہی لوگ فیضیاب ہوتے ہیں جن میں قبولِ حق کی استعداد ہوتی ہے لیکن جو لوگ قبولِ حق کی استعداد کھو چکے ہوتے ہیں وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اسی حقیقت کو نبیﷺ نے حدیث میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔

 

"اللہ تعالیٰ نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کہ جب وہ زمین پر برسی تو اس نے پانی کو اپنے اندر جذب کر لیا ، اور اس پر بکثرت گھاس پھوس اُگ آئی ، اور اس کا جو حصہ افتادہ تھا اس نے پانی کو روکے رکھا اس طرح اللہ نے اس کے ذریعہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا ، چنانچہ انہوں نے خود بھی پانی پیا ، اور دوسروں کو بھی پلایا۔ لیکن زمین کا جو خطہ چٹیل میدان تھا، اس پر جب بارش ہوئی تو نہ تو وہ پانی کو روک سکا نہ اس پر گھاس اُگ سکی ، تو یہ پہلی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اللہ کے دین کا فہم حاصل کیا اور اللہ نے اس علم و ہدایت سے جس کے ساتھ میں مبعوث کیا گیا ہوں انہیں فائدہ پہنچایا۔ چنانچہ انہوں نے خود بھی (دین کا) علم حاصل کیا۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دی اور یہ (دوسری) مثال ان لوگوں کی ہے ، جنہوں نے اس علم کی طرف کوئی توجہ نہیں کی ، اور جس ہدایت کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں اسے قبول نہیں کیا۔ (مسلم کتاب الفضائل)

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں انبیائی تاریخ کے ان حصوں کو پیش کیا جا رہا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ انسانوں کی ہدایت کے لئے رسول بھیجتا رہا ہے۔ ان رسولوں نے اللہ کی حجت اپنی اپنی قوموں پر قائم کی تھی اور جب انہوں نے ان کی رسالت کو ماننے سے انکار کیا اور اس پیغام کو قبول کرنے کے لئے وہ آمادہ نہیں ہوئیں جسے رسولؐ پیش کر رہے تھے تو اللہ کا قانون تعزیر حرکت میں آیا اور اس نے ان منکرین کو ایسی سزا دی کہ وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں البتہ تاریخ کے اوراق پر نشانِ عبرت باقی رہ گئے۔

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت آدمؑ نے اپنی اولاد کو اس ہدایت پر چھوڑا تھا جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی لیکن جب ان کی نسل بڑھی اور اس نے ایک قوم یعنی انسانی سوسائٹی کی شکل اختیار کر لی تو رفتہ رفتہ وہ اس راہ ہدایت سے ہٹتی چلی گئی جس پر آدمؑ نے انہیں چھوڑا تھا۔ نتیجہ یہ کہ ان میں زبردست گمراہی پیدا ہو گئی۔ ان کو اس گمراہی سے نکالنے اور ان پر ہدایت کی راہ کھول دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ گویا حضرت نوحؑ حضرت آدمؑ کے بعد پہلے رسول ہیں جو پہلی انسانی آبادی کی طرف بھیجے گئے۔

 

نوح علیہ السلام کا زمانہ چار پانچ ہزار سال قبل میسح کا رہا ہو گا (اور صحیح علم اللہ ہی کو ہے) ۔ قوم نوح کا مسکن دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان یعنی عراق کے شمالی علاقہ میں شہر موصل کے گرد و نواح میں تھا۔

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قوم کا لفظ یہاں انسانی برادری کے سادہ معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔

 

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوحؑ کی قوم میں بت پرستی رائج ہو گئی تھی جس کی پشت پر یہ تصور تھا کہ اللہ کے سوا اور حاجت روا بھی ہیں اور ان کو خوش کرنے کے لئے ان کی پرستش ضروری ہے۔ نوح علیہ السلام نے ان کو اس گمراہی سے نکالنے کی کوشش کی اور ان کے سامنے دعوت توحید پیش کی۔

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہولناک دن (یوم عظیم) سے مراد نزولِ عذاب کا دن ہے۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوح علیہ السلام کی دعوت حق کی مخالفت میں ن کی قوم کے سردار پیش پیش رہے۔ ان کی نظر میں نوح کاتبوں کی خدائی پر یقین نہ رکھنا بد عقیدگی تھی جس کو وہ گمراہی قرار دیتے تھے۔

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پیغمبر کو اللہ کی طرف سے ایک خاص ذریعہ علم حاصل ہوتا ہے جو عام انسانوں کو حاصل نہیں ہوتا اس لئے غیب کی جو حقیقتیں اس پر منکشف ہوتی ہیں ان کی خبر وہ لوگوں کو دیتا ہے اور چونکہ اس خبر کی تصدیق دلائل سے ہوتی ہے۔ نیز اس کی پشت پر پیغمبر کی پاکیزہ سیرت اور اس کی صداقت شعار ہی ہوتی ہے اس لئے وہ غیب کی جو خبریں سناتا ہے اس میں شبہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور ان کے ذریعہ انسان پر اللہ کی حجت قائم ہو جاتی ہے۔

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت نوحؑ کی رسالت کے سلسلہ میں ان کی قوم اس شبہ کا اظہار کر رہی تھی کہ ان ہی جیسے ایک فرد کو اللہ نے کس طرح اپنا رسول بنایا ہو گا۔ اسی شبہ کا اظہار محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کے بارے میں آپ کے مخالفین بھی کیا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ اعتراض نیا نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانا ہے جو حضرت نوح کے وقت سے چلا ا رہا ہے۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس میں ان کے اعتراض کا جواب مضمر ہے کہ رسول کو بھیجنے سے مقصود کسی عجوبہ اور"چمتکار"کا اظہار نہیں ہے بلکہ عظمت میں پڑے ہوئے انسانوں کو غلط عقائد و اعمال کے برے نتائج سے خبردار کرنا ہے اور اس کام کو انجام دینے کے لئے انسان کو رسول بنا کر بھیجنا ہی قرینِ مصلحت اور تقاضائے حکمت ہے۔

 

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ ایک فیصلہ کن عذاب تھا جس سے نوح علیہ السلام کی صداقت بھی ثابت ہوئی اور ان کی دعوت کی حقانیت بھی کیونکہ یہ عذاب نوح علیہ السلام کی پیشگی انتباہ کے بعد آیا اور اس عذاب سے جو طوفان کی شکل میں آنے والا تھا۔ بچنے کے لئے انہوں نے پہلے ہی سے ایک بہت بڑی کشتی تیار کر لی تھی نیز اس عذاب کی زد میں ہی لوگ آئے جنہوں نے نوح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا۔ ان پر ایمان لانے والا کوئی شخص بھی اس کی زد میں نہیں آیا۔ اگر یہ زمین پر رونما ہونے والے عام حادثات میں سے کوئی حادثہ ہوتا تو نہ حضرت نوح کو اس کی پیشگی خبر ہو سکتی تھی اور نہ س کی زد میں صرف کافر آ سکتے تھے کیونکہ عام حادثات کی زد میں مؤمن اور کافر سبھی آتے ہیں لیکن کسی رسول کے اپنی قوم پر حجت تمام کرنے کے بعد جو عذاب آتا ہے اس کی نوعیت بالکل مختلف ہوتی ہے اس لئے اس کو عام حادثات پر محمول کرنا واقعیت پسندی نہیں ہے۔

 

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وہ دل کے اندھے تھے۔

 

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عاد کا زمانہ اور اس کے مسکن وغیرہ کی تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ فجر نوٹ ۸ تا ۱۱۔

 

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہود قومِ عاد ہی کے ایک فرد تھے۔

 

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہی دعوت تھی جو سب سے پہلے نوح علیہ السلام نے پیش کی تھی۔

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بت پرستی عاد کا قومی مذہب تھا اس لئے جب ہود علیہ السلام نے ان کو اس گمراہی سے نکالنے کی کوشش کی اور ان کے سامنے دعوتِ توحید پیش کی تو انہوں نے اس کو حماقت قرار دیا۔

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  واضح ہوا کہ قوم کی اصل خیر خواہی یہی ہے کہ خدا کے پیغام کو بے کم و کاست اس کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کو قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اللہ تعالیٰ نے ان کو جو قوت و اقتدار عطا کیا تھا اس کا تقاضا تھا کہ وہ اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہتے مگر وہ اپنی قوت پر ناز کرنے لگے اور دعویٰ کرنے لگے کہ ہے کوئی ہم سے زیادہ طاقتور؟

 

 (وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً۔ حم السجدہ)  مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ فجر نوٹ ۱۱۔

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قبولِ حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اندھی تقلید ہے۔ پیغمبر کی دعوت دلائل پر مبنی ہوتی ہے اور اس کی راہ عقل و بصیرت کی راہ ہوتی ہے مگر جو لوگ باپ دادا کے طور طریقوں کو اپنا قومی اثاثہ اور اصل کلچر سمجھتے ہیں وہ لکیر کے فقیر بن جاتے ہیں اور جب وہ دلیل کی روشنی میں کوئی بات سننے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے تو ان پر ہدایت کی راہ نہیں کھلتی

 

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ نام ہی ہیں جن کے پیچھے کوئی مسمیّٰ نہیں ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ فرضی معبود ہیں جن کا عالمِ واقعہ میں کوئی وجود نہیں۔ مشرکین اللہ کو چھوڑ کر جن کو معبود بناتے ہیں وہ ان کے محض فرضی خدا ہوتے ہیں مگر یہ ذہنوں پر اس طرح مسلط ہو جاتے ہیں کہ آدمی حقیقت پسندی کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے پھر کوئی دلیل بھی اس کو متاثر نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مشرکین بھی باوجود اس کے کہ علم کی راہیں کثرت سے کھل گئی ہیں فرضی خداؤں سے نجات حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

 

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی دلیل سے اگر تم ماننا نہیں چاہتے اور انجام ہی دیکھنا چاہتے ہو تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انجام کا انتظار کرتا ہوں۔

 

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کو ایسا تباہ کر دیا کہ نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ قوم ہود کے اس انجام نے ہود کی صداقت اور ان کی دعوت کی حقانیت ثابت کر دی۔

 

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ثمود کے زمانہ اور اس کے مسکن کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ فجر نوٹ ۱۲ اور ۱۳۔

 

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی صالح کو پیغمبر بنا کر قومِ ثمود کی طرف بھیجا جو اس قوم کے ہی فرد تھے۔

 

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قومِ ثمود بھی ایک بت پرست قوم تھی اس لئے حضرت صالح نے متعدد خداؤں اور معبودوں کے تصور کو باطل قرار دیتے ہوئے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی۔

 

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی حضرت صالح کی سیرت اور ان کی دعوت اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے پیغمبر مقرر کئے گئے ہیں۔

 

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اونٹنی کا ظہور ایک نشانی کے طور پر ہوا تھا اس لئے وہ ضرور ایک غیر معمولی قسم کی اونٹنی رہی ہو گی اور ہر دوسرا دن جو اس کے پانی پینے کی باری کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک خاص قسم کی اونٹنی تھی جو بڑی مقدار میں پانی پی لیتی تھی۔ اونٹنی کا یہ معجزہ اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کے مطالبہ پر پیش کیا تھا اس لئے وہ ان کے لئے زبردست آزمائش بن گیا تھا۔ اونٹنی کے معجزہ کے بارے میں اس سے زیادہ تفصیل نہ قرآن نے بیان کی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں بیان ہوئی ہے اس لئے کمزور روایتوں کا سہارا لئے بغیر ہمیں قرآن کے بیان پر اکتفا کرنا چاہئے۔

 

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ثمود کو فنِ تعمیر میں بڑی مہارت تھی۔ میدانوں میں وہ شاندار محل تعمیر کرتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے تھے۔ تعمیر کا یہ کام ایک حد تک تو رہائش کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تھا اس لئے ان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا کہ اس کے عطا کردہ وسائل اور اس کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کی بناء پر وہ اس قابل ہوئے کہ اپنے لئے محفوظ مکانات تعمیر کر سکیں لیکن ان کے اندر بجائے شکر کے تکبر کا جذبہ پیدا ہو گیا اور تعمیر حیات کے بجائے تعمیر محل کا شوق ابھرا پھر وہ شاندار عمارتیں اور یادگاریں تعمیر کرنے کو اپنا اصل کارنامہ سمجھنے لگے۔ ان کے یہ کارنامے آج بھی کھنڈ رات کی شکل میں موجود ہیں اور دعوت دے رہے ہیں کہ

 

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو۔

 

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ کے عطا کردہ اقتدار کا غلط استعمال اور اس کی بخشی ہوئی تعمیری صلاحیتوں کا بیجا اور نمائشی مصرف انسانی سوسائٹی میں بگاڑ کا موجب ہے ور اس سے ایک فاسد تمدن پیدا ہوتا ہے۔

 

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ شمس نوٹ ۱۵۔

 

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد شدت کی کڑک ہے جس نے لرزہ اور کپکپی طاری کر دی۔ قرآن میں دوسرے مقام پر اس عذاب کے لئے صاعقہ (کڑک) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

 

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لرزا دینے والی آفت نے انہیں اوندھے منہ گرا دیا اور پھر اسی حال میں وہ ہلاک ہو گئے۔

 

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی صالح علیہ السلام عذاب آنے سے پہلے اس بستی سے نکل گئے۔

 

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کس قدر درد بھرے کلمات ہیں جو قوم سے رخصت ہوتے وقت صالح علیہ السلام کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔

 

اس سے بڑھ کر ایک قوم کی خیر خواہی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کو راہِ حق دکھائی جائے اور غلط راہ عمل کے انجام سے اسے باخبر کر دیا جائے۔ مگر قوموں کے نزدیک خیر خواہی اور وفاداری کا معیار قومی دھارے میں شمولیت ہوتی ہے خواہ یہ قومی دھارا جہنم ہی میں جا کر کیوں نہ گرتا ہو۔

 

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوط کا زمانہ حضرت ابراہیم کا زمانہ ہے۔ وہ حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے اور عراق سے آپ کے ساتھ ہجرت کر کے نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سدوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ سدوم کا علاقہ بحر میت (Dead Sea) کے کنارے تھا۔ جو دریائے اردن کی جانب واقع ہے۔ بائبل میں حضرت لوط اور سدوم اور عمورہ کی بستیوں کا ذکر ہے۔ (پیدائش باب ۱۴ اور ۱۹)

 

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لوط سدوم کی قوم میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ لیکن چونکہ انہوں نے وہیں بود و باش اختیار کر لی تھی۔ اور وہاں کی زبان کو بھی اپنا لیا تھا اس لئے اس قوم کو لوط کی طرف منسوب کیا گیا کہ وہ گویا ان کی اپنی قوم تھی۔

 

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قوم لوط ایک گھناؤنے مرض میں مبتلا تھی اور وہ تھا مردوں کا، مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا  (Homo Sexuality) اس بد اخلاقی نے ایک وبا کی شکل اختیار کر لی تھی اور یہ پہلی قوم ہے جس نے بے حیائی کی یہ بدترین مثال دنیا میں قائم کی۔

 

معلوم ہوتا ہے یہ قوم بت پرست نہیں تھی بلکہ خدا سے بے خوف ہو کر خباثت میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اس لئے حضرت لوط نے سب سے پہلے اس برائی کے خلاف آواز اٹھائی تاہم اصولی طور سے ان کی دعوت بھی وہی تھی۔ جو دیگر انبیاء علیہ السلام کی رہی ہے۔ چنانچہ سورۂ شعرا میں صراحت ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ سے ڈرنے اور رسول کی اطاعت کرنے کی دعوت دی تھی۔"فَاتَّقُو اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنَ"اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔"(الشعراء) ۱۲۳۔

 

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اخلاق، فطرت اور دین سب کے حدود کو پھاند کر تم اپنی خواہشات کے غلام بن گئے ہو۔

 

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ مذاق تھا جو یہ لوگ حضرت لوط اور ان کے ساتھیوں کا اڑا رہے تھے۔ وہ گندگی میں ایسے لت پت ہو گئے تھے کہ کسی شخص کو بھی پاکیزہ دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پھر وہ حضرت لوط کی دعوت کو جو سر تا سر پاکیزگی نفس اور پاکیزگی کردار کی دعوت تھی، کس طرح برداشت کر سکتے تھے۔

 

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لوط کی بیوی نے کافروں کا ساتھ دیا تھا۔ اس لئے وہ بھی عذاب کی زد میں آ گئی۔ حضرت لوط جب اپنے متعلقین کے ساتھ اس بستی سے نکلے تو وہ ان کے ساتھ نہیں نکلی بلکہ اس بستی ہی میں رہ گئی اس لئے جب عذاب آیا تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر سے رشتہ حتیٰ کہ زوجیت کا تعلق بھی اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتا۔ اس کے عذاب سے بچانے والی چیز پیغمبر کی پیروی ہے نہ کہ اس سے رشتہ داری کا تعلق۔

 

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قوم لوط پر جو عذاب آیا اس کی تفصیل سورۂ ہود (آیت ۸۲) اور دیگر سورتوں میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں اسے ایک خاص قسم کی بارش سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مدین قبیلہ کا بھی نام ہے اور علاقہ کا بھی۔ یہ قبیلہ حضرت ابراہیم کے بیٹے مدین کی نسل سے تھا۔ جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوا تھا۔ بائبل میں ہے"اور ابراہیم نے پھر ایک اور بیوی کی جس کا نام قطورہ تھا اور اس سے جمران،یوکشان، مدنا،  مدیان ، یشباک اور شوہ پیدا ہوئے۔"(پیدائش ۱۔ ۲۵)

 

علاقہ کا نام اس قبیلہ کے نام سے مشہور ہوا۔

 

مدین کا مسکن بحر احمر کے کنارے عرب کے شمال مغرب میں تھا۔ اس کا زمانہ تقریباً ۱۶۰۰ ق م یعنی حضرت موسیٰ کی بعثت سے قبل کا ہے۔

 

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پیغمبر اپنی سیرت کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر ہوتا ہے اور جب وہ اللہ کے پیغام کو جو اس پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس کا وجود اللہ کی حجت بن کر ان کے سامنے آ جاتا ہے اور اسے پہچاننے میں ان لوگوں کو کوئی دقت نہیں ہوتی جو اپنی فطرت سلیمہ پر قائم ہوتے ہیں۔

 

۱۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیغمبر اپنی سیرت کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر ہوتا ہے اور وہ جب اللہ کے پیغام کو جو اس پر وحی کے ذریعے نازل ہوتا ہے، لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو  اس کا وجود اللہ کی حجّت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔اور اسے پہچاننے میں اُن لوگوں کو کوئی دقّت نہیں ہوتی   جو اپنی فطرتِ سلیمہ پہ قائم ہوتے ہیں۔

 

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مدین ایک تجارت پیشہ قوم تھی جس میں بد دیانتی عام تھی۔ وہ پر فریب طریقہ سے پیمانے گھٹاتے اور خریداروں کو اشیاء کم مقدار میں دیتے۔

 

ناپ تول میں کمی ایک زبردست گناہ ہے جس کی سنگینی کا اندازہ سورۂ مطففین کی ابتدائی آیات کے مطالعہ سے ہو گا۔

 

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کی تشریح نوٹ ۸۹ میں گزر چکی۔

 

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر تم ایمان لاؤ تو تمہیں صاف دکھائی دے گا کہ معاملات زندگی میں جس رویہ کو اختیار کرنے کی تمہیں ہدایت کی جا رہی ہے وہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

 

۱۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوتا ہے مدین کے لوگ جرائم پیشہ تھے۔ وہ راستوں پر مسافروں کی تاک میں بیٹھتے اور جب کوئی راہ گیر یا قافلہ گزرتا تو اسے ڈرا دھمکا کر لوٹ لیتے۔

 

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی مدین کا خاندان ابتداء میں ایک مختصر خاندان تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی افرادی قوت اس طرح بڑھا دی کہ اس نے ایک بڑے قبیلہ اور ایک قوم کی حیثیت اختیار کر لی لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ اس نعمت خداوندی پر شکر گزار ہوتے انہوں نے ناشکری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔

 

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  دولت ہو یا جاہ و اقتدار انسان میں بڑائی اور گھمنڈ کی نفسیات پیدا کرتے ہیں پھر وہ حق کو بے وقعت اور اس پر لبیک کہنے والوں کو حقیر خیال کرنے لگتا ہے۔ ماضی میں جس طرح کسی قوم کے سرداروں کی یہ نفسیات رہی ہیں اس طرح کی نفسیات موجودہ زمانہ کے لیڈروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی یہ جبر کس لئے؟ کیا محض اس لئے کہ وہ تمہارا قوم کے مذہب کو باطل سمجھتا ہو اور اس کے ساتھ وابستہ رہنا نہ چاہتا ہو تو کیا اسے اس دھرم میں رہنے کے لئے مجبور کا جائے گا؟ اگر ایسا کیا جائے تو ضمیر کی آزادی کہاں باقی رہے گی جو انسان کا فطری حق ہے اور اعتقاد کے معاملہ میں جبر عقل کی ترازو میں کیا وزن رکھتا ہے؟

 

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت شعیب پہلے مشرکانہ مذہب پر تھے اور بعد میں اس سے نجات پاکر اسلام میں آئے بلکہ یہ بات انہوں نے اپنے ان ساتھیوں کے پیش نظر فرمائی جو مشرکانہ مذہب کو ترک کر کے حلقہ بہ گوش اسلام ہوئے تھے کیونکہ جہاں تک ایک نبی کا تعلق ہے وہ قبل نبوت بھی دین فطرت پر ہوتا ہے۔ اور شرک سے اس کا دامن کبھی آلودہ نہیں ہوتا۔

 

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ہمارا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ دین توحید کو ہم کسی بھی قیمت پر چھوڑیں گے نہیں لیکن بھروسہ اپنے نفس پر نہیں بلکہ اللہ ہی پر کرتے ہیں۔ کیونکہ کفرو ایمان کی کشمکش میں ایمان پر استقامت اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے۔

 

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہاری دنیا تباہ ہو جائے گی۔

 

دنیا پرست ہمیشہ انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور سچائی اور پاکیزگی کی زندگی گزارنے کو مادی ترقی میں رکاوٹ اور دنیوی خسارہ کا باعث خیال کرتے رہے ہیں۔

 

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  دوسری جگہ سیا سے"صیحۃ"(ہولناک آواز، دھماکہ) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے بجلی شدی چنگھاڑ کے ساتھ ان پر گر گئی تھی اور اس نے ان کو ایسا لرزا دیا کہ وہ اوندھے منہ زمین پر گر گئے اور ایسے گرے کہ پھر اٹھ نہ سکے۔

 

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انہوں نے کہا تھا کہ شعیب کی اتباع کرنے والے تباہ ہو جائیں گے لیکن تباہ وہ خود ہوئے۔

 

یہ عذاب جو قوم شعیب پر آیا اس کی لپیٹ میں صرف وہ لوگ آئے جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا اور اللہ کے پیغام کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

 

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت شعیب کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کے وقت سے پیشگی مطلع کر دیا تھا اس لئے وہ اپنے مومن ساتھیوں کو لے کر عذاب آنے سے پہلے ہی اس بستی سے نکل گئے تھے اور نکلتے وقت انہوں نے نہایت حسرت بھرے کلمات اپنی قوم سے کہے تھے۔

 

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کی تشریح سورہ انعام نوٹ ۷۲ میں گزر چکی۔

 

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۷۴۔

 

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  معاشی خوشحالی کا انحصار پیداوار کی کثرت پر ہے اور پیداوار کی کثرت کے لئے بارش اور آب و ہوا کا سازگار ہونا ضروری ہے۔ یہ سازگاری انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ اللہ ہی کے ارادہ پر موقوف ہے۔ اگر کسی علاقہ یا کسی ملک کے لوگ اجتماعی طور پر ایمان لا کر اللہ سے وفاداری کا تعلق پیدا کریں اور اس سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے آسمان و زمین کو سازگار بنائے گا۔ اور پیداوار کی کثرت کے نتیجہ میں ان کو معاشی خوشحالی میسر آئے گی اور یہ خوشحالی چونکہ خیر و برکت کے خزانوں کو لئے ہوئے ہو گی اس لئے اس خوشحالی سے بالکل مختلف ہو گی جو کافروں کو وقتی طور سے میسر آ جاتی ہے اور جس کا مقصد ان کو ڈھیل دینا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنا پیمانہ بھر لیں۔

 

واضح ہو کہ دنیا کی حقیقی خوشحالی کا راز مادہ پرستی میں نہیں بلکہ خدا پرستی میں مضمر ہے۔

 

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مطلب یہ ہے کہ اللہ کا عذاب کسی قوم پر ایسے وقت آ سکتا ہے جبکہ بظاہر عذاب کے آثار دکھائی نہ دیتے ہوں اور لوگ اپنی دنیا بنانے میں ایسے منہمک ہوں کہ کسی آفت کا نزول ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو لیکن خدا کا مخفی ہاتھ اس قوم کے خلاف کام کر رہا ہو اور وہ اس کی تباہی کے اسباب اس طرح کر دے کہ اسے محسوس بھی نہ ہو کہ اس کی تباہی کے دن قریب آ گئے ہیں۔ اسی کو اللہ کی مخفی تدبیر کہا گیا ہے۔

 

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بعد میں آنے والی قومیں اپنی پیش رو قوموں کے زوال سے کافی سبق لے سکتی ہیں جو قوم بھی تباہ ہوئی ہے اس نے اپنے پیچھے تباہی کے اسباب چھوڑے ہیں جن کا تعلق اعتقادی اور اخلاقی بگاڑ سے ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں آنے والی قومیں واقعات کو اپنی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ ان کی غلط توجیہیں کرنے لگتی ہیں۔

 

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  دلوں پر مہر لگانے کا مطلب سورۂ بقرہ نوٹ ۱۵ میں واضح کیا جا چکا ہے۔

 

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  آدمی جب پہلی مرتبہ تعصب یا گھمنڈ کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی نفسیات ایسی بن جاتی ہیں کہ پھر اس کو قبول کرنا اس کے لئے آسان نہیں رہتا۔

 

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  عہد سے مراد عہد فطرت بھی ہے اور وہ عہد بھی جو انسان مصیبت میں اپنے رب کو پکار کر کرتا ہے۔

 

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فاسق یعنی اپنی فطرت سے انحراف کرنے والا اخلاقی حدود کو پھاندنے والا اور اپنے رب کا نافرمان۔

 

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ نازعات نوٹ ۱۳۔

 

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں اس واقعہ کو بیان کرنے کا اہم ترین مقصد مفسدوں کے انجام سے عبرت دلانا ہے۔

 

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  موسیٰ علیہ السلام کے اس مطالبہ کو سمجھنے کے لئے ان حالات کو سامنے رکھنا ضروری ہے جن میں یہ مطالبہ پیش کیا گیا تھا۔ نیر خدا کے اس منصوبہ کو بھی و اس نے بنی اسرائیلؑ کو ارضِ مقدس (فلسطین) میں آباد کرنے کے سلسلہ میں بنایا تھا۔

 

بنی اسرائیلؑ کا اصل وطن کنعان (فلسطین) تھا۔ حضرت یوسفؑ جو حضرت یعقوبؑ (اسرائیلؑ) کے بیٹے تھے مصر میں جب منتقل ہو گیا جنہیں انہیں عزت کا مقام حاصل ہوا اور وہ با اثر رہے۔ ان کی نسل وہاں خوب بڑھی یہاں تک کہ چند صدیوں میں وہ ایک بڑی قوم بن گئے لیکن مصر کے مشرکانہ ماحول اور دنیا پرستانہ تمدن میں رہتے رہتے ان کے اندر اخلاقی و عملی کمزوریاں پیدا ہو گئیں اور فرعون نے جو وہاں کا ظالم حکمراں تھا انہیں غلام بنا لیا اور ان پر سخت مظالم ڈھانا شروع کئے۔ ان سے سخت محنت مزدوری کا کام لیا جاتا اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جاتیں ان کی آبادی گھٹانے کے لئے اس نے یہ ظالمانہ منصوبہ بنایا کہ ان کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جائے ان سخت آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود وہ اللہ کے دین پر جو انہیں ان کے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوبؑ سے ورثہ میں ملا تھا قائم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت وش میں آئی اور اس نے ان کو فرعون کے پنجہ سے چھڑانے کے لئے حضرت موسیٰؑ کو جو بنی اسرائیلؑ ہی میں سے تھے رسول بنا کر بھیجا۔

 

بنی اسرائیلؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ تھا کہ انہیں فرعونیوں کے اقتدار سے آزاد کر دیا جائے یعنی وہ مصر سے ہجرت کر جائیں اور اس کے بعد کچھ عرصہ تک صحرائے رکاوٹ پیدا نہ کرے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک صحرائے سینا میں خیمہ زن رکھ کر ان کی اس طرح تربیت کی جائے کہ ان کی غلامانہ ذہنیت کا خاتمہ ہو اور ان کے اندر وہ اوصاف پیدا ہو جائیں جو انہیں شریعت الٰہی کا صحیح طور سے حامل بنا سکیں۔ اس تربیتی کیمپ سے ان کو گزارنے اور کوہ طور کے دامن میں شریعت عطا کرنے کے بعد انہیں سرزمین فلسطین میں بسایا جائے جو ان کا آبائی وطن ہے تاکہ اس کی مرکز دعوت ہونے کی حیثیت جو ابراہیمؑ نے اسے دی تھی بحال ہو جائے اور دنیا والوں پر دین توحید کی حقانیت واضح ہوتی رہے۔

 

تورات میں ہے کہ جس وقت موسیٰؑ کو نبوت عطا ہوئی اس وقت انہیں بتا دیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر کنعان (فلسطین) لے جانا ہے۔

 

"اور خداوند نے کہا میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں خوب دیکھی اور ان کی فریاد جو بے کار لینے والوں کے سبب سے ہے سنی اور میں ان کے دکھوں کو جانتا ہوں اور میں اترا ہوں کہ ان کو مصریوں کے ہاتھ سے چھڑاؤں اور اس ملک سے نکال کر ان کو ایک اچھے اور وسیع ملک میں جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں اور حیتوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے ملک میں پہنچاؤں دیکھ بنی اسرائیلؑ کی فریاد مجھ تک پہنچی ہے اور میں نے وہ ظلم بھی جو مصری ان پر کرتے ہیں دیکھا ہے۔ سو اب آ میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تو میری قوم بنی اسرائیلؑ کو مصر سے نکال لائے۔"

 

 (خروج۳: ۷ تا ۱۰)

 

اور یہ بھی ہدایت کر دی گئی تھی کہ وہ بنی اسرائیلؑ کے بزرگوں پر واضح کریں کہ خدا انہیں فلسطین لے جانا چاہتا ہے:"جا کر اسرائیلی بزرگوں کو ایک جگہ جمع کر اور ان کو کہہ کہ میں تم کو مصر کے دکھ میں سے نکال کر کنعانیوں ، حیتوں ، اموریوں ، فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے ملک میں لے چلوں گا۔"(خروج ۳: ۱۶: ۱۷)

 

لیکن فرعون پر یہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیلؑ کی آخری منزل کہاں ہے کیونکہ ایسا کرنا خلاف مصلحت تھا۔ یہ بات کہ فلسطین ان کی آخری منزل ہے ظاہر کرنے کے معنیٰ یہ تھے کہ قبل از وقت فلسطینیوں کو جنگ کی دعوت دی جائے۔ اس لئے موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے صرف ابتدائی مراحل کا ذکر کیا مثلاً یہ کہ وہ بنی اسرائیلؑ کو بیابان میں لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان جانوروں کی قربانی کریں جن کی وہ مصر میں رہ کر نہیں کر سکتے یا یہ کہ وہ اللہ کی عبادت کے لئے اور عید منانے کے لئے لے جانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ تورات میں ہے:

 

"اس کے بعد موسیٰؑ اور ہارون نے جا کر فرعون سے کہا کہ خداوند اسرائیلؑ کا اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے لئے عید کریں۔ فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی بات مان کر بنی اسرائیلؑ کو جانے بھی نہیں دوں گا تب انہوں نے کہا کہ عبرانیوں کا خدا ہم سے ملا ہے۔ سو ہم کو اجازت دے کہ ہم تین دن کی منزل بیابان میں جا کر خداوند اپنے خدا کے لئے قربانی کریں"(خروج ۵: ۱تا ۳)

 

"پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ فرعون کے پاس جا اور اس سے کہہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں۔"(خروج ۸:۱)

 

اس سے یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا یہ مطالبہ کوئی"قومی مطالبہ"نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا مطالبہ تھا جس کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم منصوبہ تھا اور اس سے اہم دینی مصالح وابستہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو پوری قوت کے ساتھ اور آغاز ہی میں فرعون کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات اور تورات کے بیان سے واضح ہے۔ اس مطالبہ کے ساتھ توحید کی دعوت کو بھی پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ فرعون پر اللہ کی حجت قائم ہو چنانچہ سورۂ نازعات میں ہے:

 

اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی فَقُلْ ھَلْ لَکَ اِلٰی اَنْ تَزَکّٰی وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبِکَ فَتَخْشیٰ (النازعات ۱۸  تا ۱۹)

 

"فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ سرکش ہو گیا ہے اور اس سے کہو کیا تو چاہتا ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تجھے تیرے رب کی راہ دکھاؤں کہ تو اس سے ڈرنے لگے۔"

 

اور موسیٰؑ اور ہارونؑ نے جو دعوت فرعون کے سامنے پیش کی تھی وہ سورۂ طٰہٰ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ یہ وہی دعوت ہے جس کو دوسرے انبیاء علیہ السلام پیش کرتے رہے ہیں لیکن چونکہ موسیٰ علیہ السلام کو ایک کافر قوم ہی سے نہیں بلکہ ایک مسلم قوم سے بھی واسطہ تھا اس لئے ان کو ایک خاص مہم پر روانہ کر دیا گیا تھا اور یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہ السلام کو صرف دعوت تبلیغ کے کام کے لئے بھیجتا ہے بلکہ دوسری اہم خدمات بھی وہ مختلف انبیاء علیہ السلام کے سپرد کرتا رہا ہے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعمیر، حضرت داؤدؑ کے ہاتھوں خلافت کا قیام، حضرت سلیمان کے ذریعے عظیم الشان اسلامی سلطنت کا قیام اور جنوں اور پرندوں پر ان کی حکومت جیسے عظیم کارنامے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے مطالبہ کی ایک توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ آغاز میں فرعون کے سامنے صرف دعوت کو پیش کیا گیا تھا اور بنی اسرائیلؑ کی رہائی کا مطالبہ بعد کے مرحلہ میں جبکہ فرعون کے ایمان لانے کی طرف سے مایوسی ہو گئی تھی۔ پیش کر دیا گیا۔ اگر فرعون ایمان لے آتا تو نہ رہائی کا مطالبہ پیش کیا جاتا اور نہ بنی اسرائیلؑ کو مصر چھوڑنے کی ضرورت پیش آتی۔ لیکن یہ سراسر تکلیف ہے اور قرآن کے بیان سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے۔ قرآن کا بیان یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو معجزہ دکھانے سے پہلے ہی بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ پیش کیا تھا جیسا کہ زیر تفسیر آیت کے متصلاً بعد کی آیات سے واضح ہے۔

 

اس سے اس خیال کی بھی تردید ہوتی ہے جو موجودہ دور میں دعوتی کام کرنے والوں کے ذہن میں عام طور سے ابھرتا ہے کہ یک ایسے ملک میں جہاں غیر مسلم اکثریت میں اور مسلمان اقلیت میں ہیں صرف دعوتی کام کی طرف توجہ دی جانی چاہئے اور مسلمانوں کے مسائل سے داعیان حق کو تعرض نہیں کرنا چاہئے ورنہ ان کا امیج (تصویر) قوم پرستانہ (موجودہ اصطلاح میں فرقہ پرستانہ) بن جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایک نبی سے بڑھ کر داعی حق اور کون ہو سکتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں کام بیک وقت انجام دیئے۔

 

اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ فرعون کی نظر میں ان کا امیج داعی کا بنتا ہے یا بنی اسرائیلؑ کے قائد کا۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی ملک میں جہاں کفر کا غلبہ ہو مسلمانوں کے ان مسائل سے جو ان کی جان و مال اور ان کے دین و شریعت کے تحفظ کے لحاظ سے اہمیت رکھتے ہوں صرف نظر کرنا اور یہ سمجھنا کہ ہماری ذمہ داری صرف دعوت پیش کرنے کی ہے یا یہ کہ ان مسائل سے دلچسپی لینے کی صورت میں ہمارا"اصولی موقف"باقی نہیں رہے گا ایک ایسی بات ہے جس کی تائید نہ قرآن و سنت سے ہوتی ہے اور نہ انبیاء علیہ السلام کے اسوہ سے۔"اصولی موقف"کا یہ تصور نظریاتی غلو پر مبنی اور دین کے بعض اہم عملی تقاضوں کی طرف سے بے اعتنائی کا باعث ہے۔

 

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد معجزہ ہے۔

 

۱۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی موسیٰؑ کی لاٹھی واقعی سانپ بن گئی تھی۔

 

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ دوسرا معجزہ تھا جو موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ ان معجزوں کو دیکھ کر اس بات کا یقین پیدا ہوتا تھا کہ موسیٰؑ کو اس کائنات کے فرمانروا نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔

 

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ ان کی آپس کی گفتگو ہے۔ جب وہ حقیقت کا اعتراف نہ کر سکے تو ایک سیاسی الزام موسیٰ علیہ السلام پر رکھ دیا اور یہ نہ سوچا کہ وہ متضاد باتیں کر رہے ہیں کیونکہ جس شخص کو وہ جادوگر کہہ رہے تھے اس سے یہ خطرہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ ملک سے اس کے باشندوں کو بے دخل کر دے گا؟ کیا جادو کے بل پر اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا کسی جادو گرنے کرتب دکھا کر کسی ملک کو فتح کیا ہے؟

 

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس سے جادو گروں کے اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ انعام کے لالچ میں کرتب دکھانے آئے تھے۔ حق و باطل سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

 

۱۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  معلوم ہوا کہ جادو کی حقیقت فریبِ نظر اور شعبدہ بازی سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں واقعی سانپ نہیں بن گئی تھیں بلکہ لوگوں کو ایسا دکھائی دیا کہ وہ سانپ بن گئی ہیں۔

 

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی موسیٰؑ کے سانپ نے جادوگروں کے طلسم کو آن کی آن میں ختم کر دیا یہ قصہ تورات میں بھی مختصراً بیان ہوا ہے۔

 

"اور موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے اور انہوں نے خداوند کے حکم کے مطابق کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی فرعون اور اس کے خادموں کے سامنے ڈال دی اور وہ سانپ بن گئی۔ تب فرعون نے بھی داناؤں اور جادوگروں کو بلوایا اور مصر کے جادو گروں نے بھی اپنے جادو سے ایسا ہی کیا۔ کیونکہ انہوں نے بھی اپنی اپنی لاٹھی سامنے ڈالی اور وہ سانپ بن گئیں لیکن ہارون کی لاٹھی ان کی لاٹھیوں کو نگل گئی اور فرعون کا ل سخت ہو گیا اور جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اس نے ان کی نہ سنی۔"

 

 (خروج ۷: ۱ تا ۱۳)

 

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کو جادو قرار دیا تھا لیکن اس مقابلہ نے جادو اور معجزہ کے فرق کو واضح کر دیا۔ جادو کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ وہ محض نظر کا فریب ہوتا ہے وہ نظر کا فریب یا شعبدہ نہیں ہوتا، جادو دکھانے والے پست اخلاق اور بے اعتماد لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ دکھانے والی شخصیتیں پاک سیرت اور بلند کردار ہوتی ہیں اور جب ان کے ہاتھوں معجزہ ظہور میں آتا ہے تو یقین ہونے لگتا ہے کہ یہ فرمان روائے کائنات کا نشان ہے جو ظاہر ہوا ہے اور جب معجزہ کا مقابلہ جادو سے ہوتا ہے تو وہ جادو پر غالب آ جاتا ہے۔

 

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  فرعون نے دعوے کے ساتھ کہا تھا کہ موسیٰ کا معجزہ معجزہ نہیں بلکہ جادو ہے اور چیلنج کیا تھا کہ وہ جادوگروں کے مقابلہ میں بازی جیت کر دکھائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو چیلنج کو قبول کیا تھا۔ فرعون کو یقین تھا کہ وہ جادوگروں کے ذریعہ لاٹھی کو سانپ بنا کر دکھانے میں کامیاب ہو جائے گا اور پھر موسیٰ کے معجزہ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی اس لئے اس نے پروگرام یہ بنایا کہ عوام کے زبردست ہجوم میں اس کا مظاہرہ کیا جائے لیکن جب موسیٰ نے بازی جیت لی اور جادوگروں کو شکست ہو گئی تو فرعون کا منصوبہ خاک میں مل گیا اور اسے بھرے مجمع میں بری طرح ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب جادوگروں کا طلسم ٹوٹ گیا تو انہیں یقین ہو گیا کہ موسیٰ کی لاٹھی کا سانپ بن جانا جادو نہیں بلکہ ایک خدائی نشان ہے اس لئے وہ بے تحاشا خدا کے حضور سجدے میں گر پڑے وہ اگرچہ کہ جادو گر تھے لیکن ان کے اندر حق پسندی کا جذبہ کسی نہ کسی قدر موجود تھا اس لئے ان کو قبولِ حق کی توفیق نصیب ہوئی۔

 

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمان انسان کے اندر غیر معمولی جرأت پیدا کرتا ہے پھر وہ اپنے رب سے وفاداری کا اعلان کرنے میں کسی فرعون کو خاطر میں نہیں لاتا۔

 

۱۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جس کو موسیٰ اور ہارون اپنا رب کہتے ہیں اسی کو ہم نے اپنا رب مان لیا ہے۔ اس صراحت سے مقصود فرعون کے سامنے حق کا بے لاگ اظہار کرنا تھا۔

 

۱۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ فرعون کی ظالمانہ حکومت میں تبدیلی مذہب کی آزادی نہیں تھی۔

 

۱۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جب مجمع عام میں فرعون کی سبکی ہوئی تو اس نے اپنی خفّت پر پردہ ڈالنے کے لئے حضرت موسیٰؑ اور جادو گروں پر سازش کا الزام لگایا اور الزام بھی سیاسی نوعیت کا تاکہ ان کو باغی قرار دے کر لوگوں کو ان سے دور رکھا جا سکے۔ سیاسی لوگ اہل حق کے خلاف ایسے ہی ہتھ کنڈے استعمال کیا کرتے ہیں۔

 

۱۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غالباً فرعون کی حکومت میں بغاوت کی یہی سزا تھی۔

 

۱۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس قدر ایمان افروز جواب ہے جو جادوگروں نے دیا اور کیسی للہیت ہے جو ایمان لاتے ہی جادوگروں کے اندر پیدا ہو گئی۔

 

۱۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جادوگر فرعون سے انعام ملنے کے لالچ میں مقابلہ کے لئے آئے تھے جس سے ان کی پستی اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے لیکن ایمان نے آن کی آن میں ان کے ذہن اور ان کی سیرتوں میں زبردست انقلاب لایا۔ اب وہ عزیمت کے اونچے مقام پر پہنچ گے تھے اور ان کے اندر ایسی ایمانی قوت پیدا ہو گئی کہ فرعون کے اقتدار سے بھی ٹکر لینے کے لئے آمادہ ہو گئے۔

 

گویا وہ کہہ رہے ہوں۔

 

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

 

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

 

۱۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ایک پیغمبر سے بڑھ کر دنیا میں اصلاح کا کام کون کر سکتا ہے مگر کافروں کی نظر میں ان کا یہ کام فساد کا کام ہوتا ہے حالانکہ وہ خود بہت بڑے مفسد ہوتے ہیں۔

 

۱۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ فرعون خود بھی معبود بن بیٹھا تھا اور اس نے دوسرے معبود بھی بنا رکھے تھے۔ قدیم زمانہ میں عام طور سے بادشاہ رعایا سے اپنی پرستش کراتے تھے اور جہاں تک فرعون کا تعلق ہے وہ سورج دیوتا کا اوتار ہونے کا مدعی تھا۔ نیز مصری قوم ستارہ پرست اور بت پرست قوم تھی۔

 

"مصر میں بھی سامیۂ اولیٰ کے زمانہ میں اسی قسم کی ستارہ پرستی جاری تھی، سب سے بڑا دیوتا آفتاب تھا جسکو وہ اپنی زبان میں رع کہتے تھے، ان کے دارالحکومت کا نام مدینۃ الشمس تھا جس کو مصری"ان"کہتے تھے۔ یہیں آفتاب دیوتا کا مندر تھا۔ بادشاہ آفتاب دیوتا کا بیٹا سمجھا جاتا تھا اس لئے اس کا لقب رعیس ہوتا تھا یعنی ابن الشمس یہی سبب ہے کہ سلاطین مصر کو دعوائے خدائی تھا۔"

 

 (ارض القرآن۔ علامہ سید سلیمان ندوی ج ۲ ص ۱۶۰)

 

انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کے درج ذیل اقتباسات سے بھی واضح ہو گا کہ مصر میں رَع یعنی سورج دیوتا کی پرستش کی جاتی تھی اور فراعنہ اپنے کو اس حیثیت سے پیش کرتے تھے کہ وہ رَع دیوتا کی اولاد ہیں :

 

Ra, the sun-god, was specially worshipped at Heliopolis-Every king of Egypt afterwards had a Ra- name Ra was thus more constantly (Ency. of Religion & Ethics Vol. V p. 248)

 

"Thenceforward the pharaohs regularly designated themselves as sons of Ra." (do Vol. VI, P.278)

 

اس کے علاوہ مصری گائے کو بھی پوجتے تھے۔

 

رہا فرعون کا دعویٰ

 

اَنَارَبَّکُمُ الْاَعْلٰی"میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں"(النازعات)

 

تو یہ محض موسیٰ علیہ السلام کو زچ (لاجواب) کرنے کے لئے تھا کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں۔ یہ وہی منطق تھی جو نمرود نے ابراہیم علیہ السلام کی دعوت توحید کے جواب میں چھانٹی تھی۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:

 

رَبِّی اَلَّذِیْ یُحیْ وَیُمِیْتُ"میرا رب وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔"

 

تو اس نے فوراً کہا:

 

اَنَا اُحْیٖ اُمِیْتُ"میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں"(البقرہ ۲۵۸)

 

ظاہر ہے یہ جواب ابراہیم علیہ السلام کو لاجواب کرنے کے لئے تھا ورنہ وہ یہ بے تکی بات کیسے کہہ سکتا تھا جبکہ وہ خود اپنی موت و حیات پر قادر نہ تھا۔

 

فرعون نے مصر میں دیوی دیوتاؤں کی پرستش ممنوع نہیں ٹھہرائی کیونکہ یہ پرستش اس کے دعوے خداوندی میں مانع نہیں تھی لیکن موسیٰؑ کے خدا کو تسلیم کرنے کی صورت میں فرعون سمیت تمام معبودوں کی نفی ہوتی تھی اور ایک اللہ کا اقتدار اعلیٰ تسلیم کرنا پڑتا تھا جس کے بعد اس کے احکام کو بھی ماننا پڑتا خاص طور سے اس کے اس حکم کو کہ موسیٰ کے ساتھ بنی اسرائیلؑ کو جانے دو اس لئے نہ وہ خود موسیٰ کے خدا کو ماننے کے لئے تیار ہوا اور نہ اپنی رعایا کو اس کی اجازت دی۔ اس کے نزدیک وقت کا سب سے بڑا خدا ملک کا بادشاہ تھا جو پرستش کا بھی مستحق تھا اور اطاعت کا بھی۔ اس کا یہ اعلان کہ مَاعَلِمْتُ لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ"میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا اور کوئی خدا ہے۔"(القصص۔ ۳۸) اسی مفہوم میں تھا۔ اس لئے یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ فرعون دہریہ تھا یا یہ کہ اس نے اس مفہوم میں خدائی کا دعویٰ کی تھا کہ وہ آسمان و زمین کا خالق ہے یا ان پر اس کی حکومت قائم ہے بلکہ وہ اس بات کا مدعی تھا کہ مصر پر اس کا اقتدار قائم ہے اس لئے وہ پرستش کا بھی مستحق ہے اور اطاعت کا بھی: وَنَادیٰ فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یَاقومِ أَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْھَارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ اَفَلَاتُبْصِرُوْنَ (الزخرف)

 

اور فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا: میری قوم کے لوگو! کیا مصر پر اقتدار میرا نہیں ہے اور کیا یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟" (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ نازعات نوٹ ۱۳  اور  ۱۸)

 

۱۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  نبی اسرائیلؑ کی تعداد گھٹانے کے لئے فرعون یہ حربہ پہلے بھی استعمال کر چکا تھا مگر اس میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ اب اس نے دو باہ اسے استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ بائبل میں ہے:

 

"اور فرعون نے اپنی قوم کے سب لوگوں کو تاکیداً کہا کہ ان میں جو بیٹا پیدا ہو تم اسے دریا میں ڈال دینا اور جو بیٹی پیدا ہو اسے جیتی چھوڑنا۔"(خروج ۱:۲۲)

 

۱۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کسی ظالمانہ حکومت میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ وہ اللہ سے رشتہ مضبوط کر کے اس کی مدد کے طلب بنیں جس کی بہترین شکل نماز ہے اور حالات کا کوئی اثر قبول کئے بغیر حق پر جمے رہیں۔

 

۱۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حکومت و اقتدار بخشنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے۔ اگر اس نے ایک ظالم حکمراں کو اقتدار بخشا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس سے خوش ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ دنیوی زندگی کے ساتھ جو آزمائشی مصلحتیں وابستہ ہیں ان کے پیش نظر ابتلا کے مواقع فراہم کر دیے جائیں اور پھر اللہ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور ان مظلوموں کو جنہوں نے آزمائش کی بھٹی سے گزر کر اپنے کو اللہ کا وفادار اور نیک بندہ ثابت کر دکھایا۔ ابدی نعمتوں سے نوازا جائے۔

 

۱۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد فلسطین کی سرزمین ہے۔

 

۱۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل ایمان کو جو اقتدار بخشا جاتا ہے اس میں بھی ان کی آزمائش ہوتی ہے کہ وہ اس اقتدار کو پاکر اللہ کے شکر گزار بندے بنتے ہیں یا ناشکرے اور اس اقتدار کو اللہ کے احکام و قوانین کے جاری کرنے اور عدل و انصاف کے قیام کے لئے استعمال کرتے ہیں یا سرکشی اور ظلم کے لئے۔

 

۱۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی وہ اپنی بد عقیدگی کی وجہ سے ان آفتوں کو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے تھے حالانکہ اس کی اصل حقیقت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے بطور تنبیہ یہ آفتیں نازل کر رہا تھا۔

 

۱۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  طوفان کی تفصیل بائبل میں اس طرح بیان ہوئی ہے:

 

"اور موسیٰ نے اپنی لاٹھی آسمان کی طرف اٹھائی اور خداوند نے رعد اور اولے بھیجے اور آگ زمین تک آنے لگی اور خداوند نے ملک مصر پر اولے برسائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اولے ایسے بھاری تھے کہ جب سے مصری قوم آباد ہوئی ایسے اولے ملک میں کبھی نہیں پڑے تھے اور اولوں نے سارے ملک مصر میں کبھی نہیں پڑے تھے اور اولوں نے سارے ملک مصر میں ان کو جو میدان میں تھے کیا انسان کیا حیوان سب کو مارا اور کھیتوں کی ساری سبزی کو بھی اولے مار گئے اور میدان کے سب درختوں کو توڑ ڈالا مگر جشن کے علاقہ میں جہاں بنی اسرائیلؑ رہتے تھے اولے نہیں گرے۔"(خروج ۹: ۲۳ تا ۲۶)

 

۱۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ٹڈی دَل کے بارے میں بائبل میں ہے:

 

"پس موسیٰ نے ملک مصر پر اپنی لاٹھی بڑھائی اور خداوند نے اس سارے دن اور ساری رات پروا آندھی چلائی اور صبح ہوتے پروا آندھی ٹڈیاں لے آئی اور ٹڈیاں سارے ملک مصر پر چھا گئیں اور وہیں مصر کی حدود میں بسیرا کیا اور ان کا دل ایسا بھاری تھا کہ نہ تو اس سے پہلے ایسی ٹڈیاں کبھی آئیں نہ ان کے بعد پھر آئیں گی کیونکہ انہوں نے تمام روئے زمین کو ڈھانک لیا ایسا کہ ملک میں اندھیرا ہو گیا اور انہوں نے اس ملک کی ایک ایک سبزی کو اور ملک مصر میں نہ تو کسی درخت کی نہ کھیت کی کسی سبزی کی ہریالی باقی رہی۔"(خروج ۱۰: ۱۳ تا ۱۶)

 

۱۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جوؤں کی آفت کے بارے میں بائبل میں مذکور ہے:"تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی بڑھا کر زمین کی گرد کو مار تاکہ وہ تمام ملک مصر میں جوئیں بن جائے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ بڑھایا اور زمین کی گرد کو مارا اور انسان اور حیوان پر جوئیں ہو گئیں اور تمام ملک مصر میں زمین کی ساری گرد جوئیں بن گئی"(خروج ۸: ۱۶، ۱۷)

 

۱۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مینڈکوں کا عذاب جس شکل میں آیا اس کی تفصیل بائبل میں اس طرح بیان ہوئی ہے"پھر خداوند نے موسیٰؑ سے کہا کہ فرعون کے پاس جا اور اس سے کہہ کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں اور اگر تو ان کو جانے نہ دے گا تو دیکھ میں تیرے ملک کو مینڈکوں سے ماروں گا۔ اور دریا بیشمار مینڈکوں سے بھر جائے گا اور وہ آ کر تیرے گھر میں اور تیری آرام گاہ میں اور تیرے پلنگ پر اور تیرے ملازموں کے گھروں میں اور تیری رعیت پر اور تیرے تنوروں اور آٹا گوندھنے کے لگنوں میں گھستے پھریں گے۔ اور تجھ پر اور تیری رعیت اور تیرے نوکروں پر چڑھ جائیں گے اور خداوند نے موسیٰؑ کو فرمایا کہ ہارون سے کہہ اپنی لاٹھی لے کر اپنا ہاتھ دریاؤں اور نہروں اور جھیلوں پر چڑھا اور مینڈکوں کو ملک مصر پر چڑھا لا چنانچہ جتنا پانی مصر میں تھا اس پر ہارون نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مینڈک چڑھ آئے اور ملک مصر کو ڈھانک لیا۔"(خروج ۸: ۱تا ۶)

 

۱۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  خون کے عذاب کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ:

 

"اور موسیٰؑ اور ہارون نے خداوند کے حکم کے مطابق کیا۔ س نے اپنی لاٹھی اٹھا کر اسے فرعون اور اس کے خادموں کے سامنے دریا کے پانی پر مارا اور دریا کا پانی سب خون ہو گیا۔ اور دریا کی مچھلیاں مر گئیں اور دریا سے تعفن اٹھنے لگا اور مصری دریا کا پانی پی نہ سکے اور تمام ملک مصر میں خون ہی خون ہو گیا۔"(خروج ۷: ۲۰، ۲۱)

 

۱۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی یہ نشانیاں ایک ساتھ نہیں بلکہ وقفہ وقفہ سے دکھا دی گئی تھیں تاکہ انہیں بار بار تنبیہ ہو اور ایک نہیں تو دوسرے موقع پر انہیں اپنی غلط روی کا احساس ہو جائے۔

 

۱۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جرم کرتے کرتے ان کی ذہنیت مجرمانہ بن گئی تھی اس لئے ان تنبیہات کا کوئی اثر انہوں نے قبول نہیں کیا۔

 

۱۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  فرعون اور اس کی قوم موسیٰؑ کے رب یعنی خالقِ کائنات سے بالکل آشنا نہیں تھی ورنہ وہ موسیٰ سے یہ درخواست نہ کرتی کہ ہمارے لئے اس سے دعا کرو۔

 

۱۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غرق ہونے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ یونس آیت ۹۰ تا ۹۳ میں نیز دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔

 

۱۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو دینی برکتوں سے مالامال ہے چنانچہ یہاں کتنے ہی جلیل القدر انبیاء علیہ السلام کا ظہور ہوا حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹ حضرت اسحاق کو یہیں بسایا تھا جن کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت رکھی اور اسے دنیا کی ممتاز ترین قوم کی حیثیت سے اٹھایا یہیں حضرت سلیمان کے ہاتھوں بیت المقدس کی تعمیر ہوئی جس نے یہاں کی فضاء کو روحانی بنا دیا۔

 

۱۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اقتدار بخشنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوا۔ بائبل میں اس وعدہ کا ذکر متعدد جگہ ہوا ہے مثلاً"اور میں نے ان کے ساتھ اپنا عہد بھی باندھا ہے کہ ملک کنعان جو ان کی مسافرت کا ملک تھا اور جس میں وہ پردیسی تھے ان کو دوں گا۔

 

اور جس ملک کو ابرہام اور اسحاق اور یعقوب کو دینے کی قسم میں نے کھائی تھی اس میں تم کو پہنچا کر اسے تمہاری میراث کر دوں گا۔ خداوند میں ہوں۔"(خروج ۶: ۴، ۸) ۔

 

حضرت موسیٰؑ کی زندگی کے آخری ایام میں بنی اسرائیلؑ نے موآب کے علاقہ کو فتح کر لیا تھا جو فلسطین کی سرحد سے لگا ہوا ہے اور آپ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی قیادت میں ملک کنعان (فلسطین) کو فتح کر لیا۔"پس جیسا خداوند نے موسیٰ سے کہا تھا اس کے مطابق یشوع (یوشع) نے سارے ملک کو لے لیا اور یشوع نے اسرائیلیوں کو ان کے قبیلوں کی تقسیم کے موافق میراث کے طور پر دے دیا اور ملک کو جنگ سے فراغت ملی۔"(یشوع ۱۱:۲۳)

 

۱۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل میں اگرچہ کہ کمزوریاں تھیں لیکن فرعون کے ظلم و ستم کے باوجود وہ اپنے دین پر قائم رہے اور موسیٰؑ کی قیادت میں انہوں نے مصر سے ہجرت کی۔

 

۱۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کی ساری تمدنی ترقی خاک میں مل کر رہ گئی اور وہ شاندار عمارتیں جو انہوں نے بنی اسرائیل سے سخت خدمت لے کر بنائی تھیں تباہی کی نذر ہو گئیں۔ یہ تباہی غالباً پروا ہوا کے چلنے سے ہوئی تھی جس نے ایک طرف مصر میں تباہی مچائی اور دوسری طرف فرعون اور اس کے لشکر کے سمندر میں غرق کرنے کا سامان کیا۔

 

۲۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طریقہ پر سمندر پار کرا دیا تھا۔

 

۲۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جب وہ قلزم کو پار کر کے صحرائے سینا میں آئے تو انہوں نے کوہِ طور (حورب) کا رخ کیا اس سفر کے دوران ان کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اپنے بتوں کی پرستش میں مگن تھے۔

 

۲۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اوپر گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل نے صبر سے کام لیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو فرعون سے نجات بخشی اور سرفراز کیا۔ یہاں بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے فرعون سے نجات پانے کے بعد اللہ کی کیسی ناشکری کی کہ موسیٰ سے ایک معبود کا مطالبہ کر بیٹھے۔ یہ دونوں باتیں اس لحاظ سے صحیح ہیں کہ بنی اسرائیل میں مختلف کردار کے لوگ موجود تھے بلند کردار بھی اور پست کردار بھی اور چونکہ بحیثیت مجموعی وہ فرعون کے مقابلے میں ڈٹے رہے اور انہوں نے موسیٰ کو اپنا قائد تسلیم کر لیا تھا اس لئے وہ عزت و سرفرازی کے مستحق ہوئے۔ لیکن ان میں جو لوگ مصر کے مشرکانہ ماحول میں رہ کر عقیدہ و عمل کی کمزوری میں مبتلا ہو گئے تھے وہ ایسی حرکتیں کرتے رہے جو سراسر جاہلانہ اور بنی اسرائیل کے قومی وجود پر بدنما داغ تھیں۔ ایسی ہی ایک جاہلانہ حرکت کا ذکر یہاں ہوا ہے اور ان کی دوسری جاہلانہ حرکتوں کا ذکر قرآن میں دوسرے مقامات میں ہوا ہے۔

 

۲۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی ان کا تراشا ہوا بت جس کو وہ خدا بنا بیٹھے ہیں مٹی میں مل کر پامال ہو جانے والا ہے جبکہ تمہارا خدا ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والی ہستی ہے۔

 

۲۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو امامت کے منصب پر بٹھایا ہے تاکہ تم اقوام عالم کی ہدایت کا ذریعہ بنو لیکن تم ہو کہ گمراہ قوموں کی تقلید کرنا چاہتے ہو۔ تمہیں نہ اپنے مقام کا پاس ہے اور نہ تم اپنے محسن کے قدر شناس ہو۔

 

۲۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تاکہ وہ بڑی ہو کر فرعونیوں کی خدمت کر سکیں۔

 

۲۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت موسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ نے کوہِ طور پر تیس شب و روز کے لئے طلب کیا تھا تاکہ انہیں ہم کلامی کا شرف بخشا جائے جیسا کہ اس کے بعد کی آیت سے واضح ہے۔ بعد میں اس اعتکاف کی مدت میں اللہ تعالیٰ نے مزید دس دن کا اضافہ کیا یہ گویا اللہ تعالیٰ کا فضل تھا جو موسیٰؑ پر ہوا کیونکہ ان کے رب کا ان سے براہ راست کلام کرنا ان کو رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال کرنے کے مترادف تھا اس لئے مدت میں اضافہ حضرت موسیٰؑ کے لئے مزید سعادت کی بات تھی۔ اس واقعہ کا ذکر تورات میں بھی ہے:

 

"اور موسیٰؑ گھٹا کے بیچ میں ہو کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہ پہاڑ پر چالیس دن اور چالیس رات رہا۔"(خروج ۲۴: ۱۸)

 

۲۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت موسیٰ نے ہارون کو جو نبی تھے اپنی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کی قیادت کے لئے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔

 

۲۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ تاکید انہوں نے حضرت ہارون کو کی تھی لیکن دراصل اس کے مخاطب بنی اسرائیل تھے کیونکہ حضرت ہارون تو نبی تھے ان سے بگاڑ کا کیا اندیشہ ہو سکتا تھا البتہ بنی اسرائیل سے یہ اندیشہ تھا کہ وہ کہیں بگاڑ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔

 

۲۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ نساء نوٹ ۲۷۴،۔

 

۲۱۰ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لذت کلام نے حضرت موسیٰؑ کے اندر شوق دید بھی پید اکر دیا اور وفورِ شوق میں وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر بیٹھے۔

 

تورات میں ہے:

 

"تب وہ بول اٹھے کہ میں تیری منت کرتا ہوں مجھے اپنا جلال دکھا دے"

 

 (خروج ۳۳:۱۸)

 

۲۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ٍ کیونکہ آنکھیں خدا کو دیکھنے کی تاب کہاں لا سکتی ہیں۔

 

تورات میں ہے:

 

"اور یہ بھی کہا تو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا کیونکہ انسان مجھے دیکھ کر زندہ نہیں رہے گا۔"(خروج ۳۳:۲۰)

 

۲۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس سے ظاہر ہوا کہ پہاڑ جیسی سخت چیز بھی خدا کو دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی پھر گوشت پوست کا انسان اس کو کہا دیکھ سکتا ہے۔

 

اس حقیقت کے پیش نظر نہ صوفیوں کی ریاضتیں خدا کا مشاہدہ کرا سکتی ہیں اور نہ جوگیوں کے یوگا آسن۔ صحیح بات یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں خدا کو دیکھنے کی کوشش کرنے کی بجائے اس کی آیات (نشانیوں) کو دیکھنے پر اکتفا کرے اور ان آیات کے ذریعہ خدا کی جو معرفت اسے حاصل ہو اس پر ایمان لائے۔

 

۲۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  موسیٰ علیہ السلام کو جوں ہی احساس ہوا کہ انہوں نے مشاہدہ حق کی جو درخواست خدا سے کی تھی وہ مناسب نہیں تھی اس کے حضور تائب ہو گئے۔

 

۲۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کوئی ایمان لائے یا نہ لائے میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ یہ اپنے ایمان کی تجدید تھی جو حضرت موسیٰؑ نے اس موقع پر کی۔

 

۲۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد تورات ہے۔

 

۲۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بائبل میں ہے کہ یہ تختیاں دو تھیں اور پتھر کی تھیں اور ان کے دونوں طرف عبرت کندہ تھی۔ مگر قرآن نے"الواح"کا لفظ استعمال کیا ہے جو عربی باقاعدہ کی رو سے جمع یعنی دو سے زائد کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے تختیاں کم از کم تین رہی ہوں گی۔

 

۲۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ ان تختیوں پر صرف احکام عشرہ (Ten Commandments) ہی کندہ نہ تھے بلکہ موعظت کے علاوہ دین و شریعت کی تمام بنیادی باتیں کندہ تھیں۔

 

۲۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی صرف الفاظ کو لیکر نہ بیٹھ جائیں اور ایسا نہ کریں کہ جن الفاظ کے متعدد معنیٰ ہوتے ہوں ان کے ان معنی کو لیں جو نہ سیاق و سبق سے مطابقت رکھتے ہوں اور نہ کلام الٰہی کو وہ معنی پہنائے جو اس کے منشا کے خلاف تھے اس طرح وہ ایک حکیمانہ کلام کو تک بندی کی سطح پر لے آئے نتیجہ یہ کہ جہاں سے انہیں ہدایت ملنا چاہئے تھی وہاں سے انہوں نے گمراہی اخذ کی۔ اس کی واضح مثالیں تورات کے موجودہ ترجموں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ قرآن کے پیروؤں کے لئے بھی اس میں انتباہ ہے کہ قرآن کے کسی لفظ کے وہ معنی اور کسی آیت کا وہ مفہوم لینا چاہئے جو سب سے بہتر اور پورے قرآن سے تو بہت ہم آہنگ ہو۔ اس اصول کو اگر پوری طرح ملحوظ رکھا جائے تو بہت سے تفسیری اختلافات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

 

۲۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  فاسقوں کے گھر سے مراد جیسا کہ بعد کی آیت سے واضح ہوتا ہے فاسقوں کا ٹھکانہ اور ان کا انجام ہے۔

 

۲۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بنی اسرائیل مصر کے مشرکانہ ماحول میں رہتے ہوئے اعتقادی اور اخلاقی لحاظ سے کافی کمزور ہو چکے تھے اس لئے وہ کسی بھی فتنہ کا آسانی سے شکار ہو سکتے تھے۔ حضرت موسیٰؑ چونکہ ان پر پوری طرح گرفت (Hold) رکھتے تھے اس لئے ان کی موجودگی میں کوئی فتنہ سر اُٹھا نہ سکا لیکن جوں ہی وہ طور پر چلے گئے سامری نے سونے کے زیورات سے بچھڑے کا ڈھانچہ بنا کر ان کے لئے فتنہ کھڑا کر دیا۔ سامری ایک منافق شخص تھا جس کا قصہ سورۂ طٰہٰ میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس نے بچھڑے کو ڈھالنے میں اپنی اس فنی مہارت کا ثبوت دیا تھا کہ ہوا کے گزرنے سے اس میں گائے یا بیل کی سی آواز پیدا ہو جاتی تھی۔

 

۲۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اتنی موٹی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آئی کہ بچھڑے میں خدائی کی کوئی صفت بھی موجود نہیں ہے پھر ایسی چیز کو معبود بنانے کا کیا مطلب جس میں خدائی کی ایک صفت بھی موجود نہ ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ آدمی جب عقیدت کے معاملہ میں غلط فیصلہ کر بیٹھتا ہے تو وہ اندھا ہو جاتا ہے۔ پھر اسے اینٹ، پتھر، گائے، بیل، آگ، ناگ کسی چیز کی بھی پوجا کرنے میں باک نہیں ہوتا جبکہ آدمی کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ ان میں خدائی کی کوئی صفت پائی نہیں جاتی۔

 

۲۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ بات حضرت موسیٰؑ نے قوم سے خطاب کر کے کہی اور"بری جانشینی کی"کا مطلب یہ ہے کہ جس حال پر میں نے تمہیں چھوڑا تھا اس پر تم قائم نہ رہے بلکہ میری غیر موجودگی میں بگاڑ اور گمراہی کی راہ پر چل پڑے۔

 

۲۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت موسیٰؑ تیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے لیکن جب اس میعاد میں دس دن کا اضافہ ہوا تو سامری کو موقع ملا کہ وہ لوگوں کو حضرت موسیٰؑ سے بدگمان کریں اور لوگ بجائے اس کے کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرتے کہ ہو سکتا ہے اس نے میعاد میں اضافہ کر دیا ہو سامری کے بہکاوے میں آ گئے۔

 

۲۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت موسیٰؑ کا یہ جوش غضب جس کا اظہار تختیوں کو ایک طرف ڈال دینے اور حضرت ہارون کو اپنی طرف گھسیٹنے کی شکل میں ہوا غیرت ایمانی اور حمیت حق کا تقاضا تھا اور یہ خیال صحیح نہیں کہ حضرت موسیٰؑ نے تختیاں پھینک دی تھیں اور وہ ٹوٹ گئی تھیں جیسا کہ بائبل کا بیان ہے بلکہ انہوں نے شدتِ غضب میں ڈال دی تھیں اور جیسا کہ آگے چل کر آیت ۱۵۴ میں بیان ہوا ہے ان تختیوں کو انہوں نے بعد میں اٹھا لیا تھا۔

 

۲۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت ہارون کے اس بیان سے واضح ہے کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو بچھڑے سے روکنے کی پوری کوشش کی لیکن لوگوں نے ان کی بات نہیں مانی اور اس لئے ان کے قتل کے درپے ہو گئے۔ قوم کے یہ تیور دیکھ کر حضرت ہارون نے مناسب یہ سمجھا کہ حضرت موسیٰؑ کی واپسی کا انتظار کیا جائے۔ وہ بنی اسرائیل پر زور رکھتے ہیں اس لئے جو کار روائی مناسب سمجھیں گے کریں گے۔ چنانچہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کے خلاف حضرت موسیٰؑ نے خدا کے حکم سے جو کار روائی کی اس کا ذکر سورۂ بقرہ آیت نمبر ۵۴ میں ہوا ہے (تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۷۳)

 

بائبل میں یہ شرمناک الزام حضرت ہارون پر لگایا گیا ہے کہ انہوں نے بچھڑا بنایا تھا۔ انِّاللہ و اَنَّا الیہ راجعون۔ یہود انبیاء علیہ السلام پر بھی الزام لگانے سے نہیں چوکتے لیکن قرآن نے حضرت ہارون کا بیان نقل کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا دامن بے داغ ہے اور یہ الزام بالکل جھوٹا ہے۔

 

۲۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی غصہ میں اگر کوئی قصور مجھ سے سرزد ہوا ہو یا میرے بھائی ہارون سے نیابت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوتاہیاں سرزد ہوئی ہوں تو انہیں معاف فرما۔

 

۲۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  گوسالہ پرستی ہو یا بت پرستی سب شرک ہے اور شرک سراسر جھوٹ ہے جو اللہ پر باندھا جاتا ہے کیونکہ شرک کرنے والا درحقیقت اس بات کا مدعی ہوتا ہے کہ خدا کی خدائی میں اور ہستیاں بھی شریک ہیں یا یہ کہ بتوں کی پرستش خدا نے حرام نہیں ٹھہرائی ہے۔ ان میں سے جو صورت بھی ہو خدا پر جھوٹ باندھنے کے سوا کچھ نہیں۔ اور شرک کرنے والوں کے لئے اللہ کا غضب اور دنیوی زندگی میں ذلت مقدر ہے۔

 

بنی اسرائیل کے جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا تھا ان کو جو رسوا کن سزا دی گئی اس کا ذکر سورۂ بقرہ نوٹ ۷۳ میں گزر چکا۔

 

۲۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت موسیٰؑ نے ستر آدمیوں کا انتخاب اس لئے کیا تھا تاکہ بچھڑے کی پوجا کر کے قوم جس جرم کی مرتکب ہوئی ہے اس کے سلسلہ میں یہ منتخب افراد کوہ طور پر حاضر ہو کر خدا سے اس کی معافی مانگیں۔

 

۲۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جب یہ ستر اشخاص کوہ طور پر حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے زلزلہ کی صورت پیدا کر دی تاکہ ان پر ہیبت طاری ہو جائے اور وہ خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ سے معافی کے خواستگار ہوں۔

 

۲۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت موسیٰؑ کی یہ دعا جس کا ایک ایک لفظ سوزو گداز اور انابت و خشوع سے پر تھا بادلوں کو چیرتی ہوئی آسمان پر پہنچ گئی۔

 

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

 

پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے۔

 

۲۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی عذاب خاص ہے اور رحمت عالم جہاں تک عذاب کا تعلق ہے اس کی گرفت میں وہی لوگ آتے ہیں جن کو گرفت میں لینے کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے اور یہ فیصلہ اس کی صفتِ عدل اور صفتِ حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے لیکن اس کی رحمت سے کوئی بھی محروم نہیں۔ بشر ہو یا شجر ہو چیز اس کے سایہ رحمت ہی میں پل رہی ہے کائنات پر نظر ڈالئے تو ہر طرف اس کی رحمت کے چشمے ابلتے دکھائی دیں گے۔

 

۲۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یعنی جہاں تک اللہ کی اس رحمت کا تعلق ہے جو جزائے عمل کے طور پر دی جانے والی ہے تو وہ ان ہی لوگوں کا حصہ ہو گی جن کے یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔

 

تقویٰ اختیار کرنے کا مطلب اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ اس میں شرک سے بچنا لازما شامل ہے۔

 

۲۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ اور اس کے بعد والی آیت بطور جملہ معترضہ کے ہے یعنی بنی اسرائیل کی جو سرگزشت بیان کی جا رہی ہے وہ جب اللہ تعالیٰ کے وعدہ رحمت کے ذکر تک پہنچ گئی تو یہ واضح کرنے کا موقع پیدا ہو گیا کہ آج اس کی رحمت کے مستحق کون لوگ ہیں۔ اسی مناسبت سے یہاں نبی امی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت پر ایمان لانے اور آپ کی اتباع کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

 

۲۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لفظ"امی"کی تشریح سورۂ آل عمران نوٹ ۲۹ میں گزر چکی۔ یہاں اس کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے امتیازی وصف کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے کیونکہ پڑھا لکھا نہ ہونا اگرچہ کہ کوئی خوبی کی بات نہیں ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حق میں یہ بات اس لئے خوبی کی بن گئی کہ اس سے آپ کی معجزانہ شان کا ظہور ہوا۔ پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود آپ نے جو تعلیم دی اس کو دیکھ کر میدانِ علم کے بڑے بڑے  سورما دنگ ہیں اور علماء، مفکرین، اور ابل دانش سب آپ سے کسب فیض کر رہے ہیں۔ گویا آپ کا امی ہونا آپ کی نبوت کی دلیل بن گیا اور دلیل بھی ایسی جس کا جواب دینے سے دنیا عاجز ہے۔

 

آپ کا امی ہونا اہل کتاب کے لئے اس پہلو سے بھی دلیل نبوت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں نسلِ ابراہیمی کی ایک شاخ بنی اسرائیل کو کتابِ الٰہی سے نوازا تھا اور انکے اندر انبیاء مبعوث فرمائے تھے وہاں اس کی دوسری شاخ بنی اسرائیل کونہ کتاب دی اور نہ ان کے اندر انبیاء مبعوث فرمائے بلکہ یہ وعدہ فرمایا کہ اس شاخ ابراہیمی میں جو کتاب سے نا آشنا ہے اور جس کی ہدایت کا ذریعہ صرف وہ طریقہ ہے جو ابراہیم اور اسمٰعیل نے ان کے لئے چھوڑا ہے ایک ایسے نبی کو ان کے اندر برپا کروں گا جو امی ہونے کے باوجود کتاب الٰہی کا حامل ہو گا چنانچہ تورات میں ہے:

 

"میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جس کو وہ میرا نام لے کر کہہ گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔"

 

 (استثناء ۱۸: ۱۸، ۱۹)

 

یہ بات انبیائے بنی اسرائیل میں سے کسی پر بھی صادق نہیں آتی کیونکہ یہاں بنی اسرائیل کے بھائیوں میں بنی مبعوث کرنے کی بات کہی گئی ہے نہ کہ بنی اسرائیل میں۔ لہٰذا اگر تورات کی اس پیشین گوئی کے مصداق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نہیں ہیں تو اور کون ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام صاحبِ شریعت تھے اور حضرتﷺ بھی صاحب شریعت کے تابع تھے اس لئے تورات کی مذکورہ پیشین گوئی میں موسیٰ کی مانند بنی برپا کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اس کے مصداق نبیﷺ ہی ٹھہرتے ہیں۔

 

۲۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو رات کی پیشن گوئی کا حوالہ اوپر کے نوٹ میں گزر چکا۔ رہی انجیل تو اس میں متعدد مقامات پر نبیﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں موجود ہیں مثلاً :

 

"یسوع نے ان سے کہا کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے روکا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا پیس ڈالے گا۔"(متی ۲۱: ۴۲  تا ۴۴)

 

اس پیشین گوئی کا ایک ایک لفظ حضرت محمدؐ پر راست آتا ہے کیونکہ آپ کونے کے سرے کا پتھر یعنی آخری نبی ہیں۔ خدا کی بادشاہی یعنی امامت بنی اسرائیل سے چھین لی گئی اور امتِ مسلمہ کے حوالے کر دی گئی۔ آخری نبی سے جو ٹکرایا، وہ پاش پاش ہو گیا اور جس پر آخری نبی نے حملہ کیا اسے پیس کر رکھ دیا۔

 

یوحنا کی انجیل میں ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت یحییٰؑ (یوحنا) سے پوچھا"کیا تو مسیح ہے"تو اس نے کہا"نہیں"۔ انہوں نے پوچھا"کیا تو ایلیاہ ہے"اس نے کہا"نہیں"۔ انہوں نے پوچھا:"کیا تو وہ نبی ہے"اس نے جواب دیا کہ"نہیں"(یوحنا ، ۱: ۲۱)

 

اس سے صاف ظاہر ہے کہ اہلِ ایمان کے ہاں نبیؐ کی شخصیت آپ کی آمد سے قبل"وہ نبی"کی حیثیت سے معروف تھی۔ اور جب حضرت مسیح کے بعد سوائے حضرت محمدؐ کے کسی نبی کا ظہور نہیں ہوا تو"وہ نبی"کا مصداق آپؐ نہیں تو اور کون؟

 

ایک اور جگہ عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے:

 

"اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیوں کہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں"۔ ۔ (یوحنا ۱۴: ۳۰)

 

دوسرے مقام پر ہے:

 

"لیکن جب وہ مدد گار آئے گا۔ ۔ ۔ تو وہ میری گواہی دے گا"(یوحنا ۱۵: ۲۶)

 

اور یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی ذاتِ گرامی ہے جس نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں ٹھیک ٹھیک گواہی دی یعنی ان کی رسالت کی تصدیق کی، ان کی شخصیت کو صحیح طور سے نمایاں کیا، اور ان کی اصل دعوت کو اجاگر کیا۔ ۔ ایک اور جگہ ہے:

 

"لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا، لیکن جو کچھ سنے گا، وہی کہے گا اوت تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا"

 

 (یوحنا ۱۶: ۱۳)

 

اور ایک جگہ تو صراحت کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا یعنی اس کی شریعت قیامت تک کے لئے ہو گی:

 

"وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔"(یوحنا ۱۴: ۱۶)

 

۲۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہودیوں پر ان کی سرکشی کی وجہ سے جو چیزیں حرام کر دی گئی تھیں، ان کی حرمت اس نبی کے مبعوث ہونے پر ختم کر دی گئی ہیں۔ اس نبی کے ساتھ کیوں کہ ابدی شریعت نازل کی گئی ہے اس لئے صرف وہی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جو فطری ہیں، یعنی صرف نا پاک (خبیث) چیزیں حرام۔

 

۲۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بوجھ (اصر) سے مراد بنی اسرائیل کے علماء و فقہاء کی وہ فقہی مو شگافیاں ہیں جس نے شریعت کو مشکل اور بوجھل بنا دیا تھا اور جس کا اندازہ موجودہ تورات کے مطالعے سے ہو تا ہے۔ اور طوق (اغلال) سے مراد بدعات و توہمات ہیں جس نے انہیں جکڑ رکھا تھا۔

 

۲۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قرآن ہے۔

 

۲۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بنی اسرائیل ہوں یا بنی اسمٰعیل، عرب ہوں یا عجم، نسل، رنگ، وطن قوم اور مذہب کی کسی قید کے بغیر انسانوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر نبیؐ ہندوستان کے لوگوں کے لئے بھی اسی طرح پیغمبر ہیں جس طرح عربوں کے لئے ہیں۔

 

۲۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلام کا رخ پھر بنی اسرائیل کی طرف مڑ رہا ہے۔

۲۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ بنی اسرائیل کے جن جرائم اور جن حماقتوں کا اوپر ذکر ہوا وہ یقیناً ان کے قومی جرائم ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے اندر حق پرستوں کا کوئی گروہ موجود نہیں تھا۔ بلکہ ان کے اندر حق پرستوں کا ایک گروہ جو اگر چہ کہ تعداد کے لحاظ سے قلیل تھا ضرور موجود رہا ہے۔ یہ گروہِ حق و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی اور ان کے درمیان قضائے شرعی کے فرائض انجام دیتا رہا ہے۔

 

۲۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کی تنظیم کی تھی اور ان کے بارہ قبیلوں پر جیسا کہ سورۂ مائدہ آیت نمبر ۱۲ میں بیان ہوا ہے بارہ سردار مقرر کئے تھے۔

 

تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ مائدہ نوٹ ۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بائبل میں بھی اس کی تفصیل گنتی باب نمبر ۱ میں بیان ہوئی ہے۔ ل

 

۲۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ بقرہ نوٹ ۸۱ میں گزر چکی۔

 

۲۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح بھی سور ہ بقرہ نوٹ ۷۶ میں گزر چکی۔

 

۲۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ نمبر ۷۹۔

 

۲۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۷۸۔

 

۲۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بجائے اس کے کہ شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتے ہوئے ان کی زبان پر کلمۂ استغفار ہوتا انہوں نے متکبرانہ انداز میں مضحکہ خیز باتیں کہنا شروع کیں۔

 

۲۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ جس بستی کا ذکر ہو رہا ہے اس سے مراد مفسرین کے ایک گروہ کے نزدیک آیلہ شہر ہے جو خلیج عقبہ کے کنارے واقع ہے اور جس کا جدید نام عقبہ ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کا ایک گروہ آبا د تھا اور جس واقعہ کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ حضرتِ موسیٰ کے بعد کا ہے۔

 

۲۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سبت یعنی سنیچر کا دن بنی اسرائیل کے لئے مقدس ٹھہرایا گیا تھا اور اس دن انہیں کام کرنے سے منع کیا گیا تھا جس میں شکار کرنا بھی شامل تھا گویا یہ دن عبادت کے لئے مخصوص تھا۔ سبت کی حرمت کے سلسلہ میں انہیں نہایت سخت احکام دیئے گئے تھے۔ تورات میں ہے۔

 

"اور خداوند نے موسیٰ سے کہا تو بھی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دینا کہ تم میرے سبتوں کو ضرور ماننا پس تم اس لئے کہ وہ تمہارے لئے مقدس ہے۔ جو کوئی اس کی بے حرمتی کرے وہ ضرور مار ڈالا جائے۔ جو اس میں کچھ کام کرے وہ اپنی قوم میں سے کاٹ ڈالا جائے۔ (خروج ۳۱، ۱۲ تا۱۴)

 

۲۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب کسی گروہ کا میلان کسی گناہ کی طرف ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے گناہ میں مبتلا ہونے کے مواقع پیدا کر دیتا ہے تاکہ اس کے دل کا کھوٹ ظاہر ہو جائے۔ اور اس کی مجرمانہ ذہنیت کھل کر سامنے آ جائے۔ یہ اس حکمت کا تقاضا ہے جس کے تحت انسان کو امتحان سے گزار ا جا رہا ہے۔

 

سبت کی بے حرمتی کا رجحان جب بنی اسرائیل کے اس گروہ میں بڑھ گیا جو سمند ر کے کنارے آباد تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت آزمائش میں ڈالا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ سنیچر ہی کے دن مچھلیاں سطحِ آب پر آنے لگیں۔ اور دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ جن لوگوں کی ساری دلچسپیاں"معاش"سے وابستہ تھیں وہ سبت کے احکام کی پروانہ کرتے ہوئے مچھلیوں کا شکار کرنے لگے۔ اس طرح سبت کی بے حرمتی اجتماعی طور پر ہونے لگی۔

 

۲۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگرچہ کہ شہر کی آبادی سرکشی پر اتر آئی تھی لیکن ان میں ایک گروہ ایسا ضرور رہا جس کے اندر خدا کا خوف تھا اور جو سبت سے متعلق شرعی احکام کی خلاف ورزی سے باز رہا۔ صالحین کے اس گروہ میں ایسے لوگ بھی تھے جو سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نصیحت کرنا بے سود سمجھتے تھے اس لئے کہ ان کی ڈھٹائی کی وجہ سے وہ ان کی طرف سے بالکل مایوس ہو چکے تھے۔ لیکن ان صالحین میں ایک تعداد ایسی بھی تھی جس کو اپنے فرض کی ادائیگی کا کما حقہ احساس تھا یہ لوگ اخیر وقت تک برائی سے باز رہنے کی تلقین کرتے رہے۔

 

۲۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ عذاب کا شکار وہی لوگ ہوئے جو نافرمان تھے۔ ا ور جو لوگ برائی سے روک رہے تھے وہ عذاب کی زد میں نہیں آئے رہا یہ سوال کہ صالحین کے گروہ میں سے جو لوگ غلط کار لوگوں کی اصلاح کی طرف سے مایوس تھے اور نہیں نصیحت کرنا بے سود سمجھتے تھے وہ آیا بچا لئے گئے یا عذاب کی لپیٹ میں آ گئے۔ تو اس سلسلہ میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ہم درج ذیل دلائل کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عذاب سے محفوظ رہنے والوں میں شامل تھے۔

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے یہ جو کہا تھا کہ ایسے لوگوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ جنہیں اللہ یا تو ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خدا سے ڈرنے والے لوگ تھے۔ پھر خدا سے ڈرنے والوں کا انجام سرکشوں جیسا کس طرح ہو سکتا ہے ؟

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے جو بات کہی اس کا یہ مطلب کہاں نکلتا ہے کہ انہوں نے برائی کے خلاف سرے سے آواز اٹھائی ہی نہیں تھی یا وہ نہیں چاہتے تھے کہ برائی کرنے والوں کو کوئی روکے بلکہ ان کی بات کا اصل نشانہ وہ لوگ تھے جو برائی کا ارتکاب کر رہے تھے۔ انہوں نے جس مایوسی کا اظہار کیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والوں کو اس سے روکنے کی کوشش ایک حد تک کی جا چکی تھی لیکن جب وہ اس سے باز نہیں آئے تو مزید نصیحت کرنے میں انہوں نے کوئی افادیت محسوس نہیں کی۔ لیکن جو لوگ زیادہ فرض شناس تھے انہوں نے اخیر وقت تک نصیحت کا کام جاری رکھا۔ اس سے ادائیگی فرض میں دونوں کے درجات کا فرق تو نمایاں ہوتا ہے لیکن یہ بات کہاں نکلتی ہے کہ جو لوگ مایوسی کا اظہار کر تے تھے وہ اپنی ذمہ داریوں کی طرف سے بالکل بے پروا تھے اور انہوں نے برائی کے خلاف اظہار نفرت نہیں کیا تھا؟

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کی طرف سے جو اظہار مایوسی ہوا ہے وہ خود بتاتا ہے کہ انہیں برائی سے شدید نفرت تھی اور جن کو برائی سے شدید نفرت ہو ان کا شمار ان لوگوں میں کس طرح ہو سکتا ہے جو برائی کو انگیز کرنے والوں ہوں۔ انہوں نے نصیحت کرنے والوں سے جو کچھ کہا وہ ان کی طرف سے برائی کے خلاف اظہار نفرت ہی تھا اس لئے ان کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ وہ برائیوں کے تماشائی بنے ہوئے تھے صحیح نہیں۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کا بیان ہے کہ عذاب میں وہی لوگ گرفتار ہوئے جو ظالم اور فاسق تھے۔ اور مایوسی کا اظہار کرنے والے نہ ظالم تھے اور نہ فاسق بلکہ صالح لوگ تھے جیسا کہ ان کلمات سے ظاہر ہوتا ہے جو ان کی زبان سے نکلے نیز اس بات سے بھی کہ اگر وہ ظالم اور فاسق ہوتے تو نصیحت کرنے والے سب سے پہلے ان کو نصیحت کرتے لیکن نصیحت کرنے والوں نے ان کو کوئی نصیحت نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ ہم ان غلط کار لوگوں کو اس لئے نصیحت کر رہے ہیں تاکہ اپنی ذمہ داری سے عند اللہ بری ہوں اور تاکہ یہ غلط کلار لوگو اپنیہ مجرمانہ حرکتوں سے باز آ جائیں۔ لہٰذا جب مایوسی کا اظہار کرنے والے نہ ظالم تھے اور نہ فاسق تو وہ اس عذاب کے کس طرح مستحق ہوئے جو ظالموں اور فاسقوں کے لئے مخصوص تھا۔

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابن جریر طبری نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابن عباس اس آیت کی صحیح توجیہ میں اشکال محسوس کر رہتے تھے اور اصلاح کی طرف سے مایوس ہونے والوں کے عذاب کی لپیٹ میں آنے کا خیال انہیں اس قدر پریشان کر رہا تھا کہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اس موقع پر عکرمہ نے جو ان کے شاگرد تھے یہ دلیل پیش کی کہ یہ لوگ برائی سے روکنے والے گروہ ہی میں شامل تھے کیوں کہ انکے اس کہنے سے کہ"تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کر نے والا ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے ، صاف ظاہر ہے کہ وہ برائی سے نفرت کرتے تھے اور منع کرنے والوں ہی میں شامل تھے۔ یہ دلیل سن کر حضرت ابن عباس اس قدر خوش ہوئے کہ عکرمہ کو ہدیہ لباس کا ایک جوڑا عنایت فرمایا۔

 

۲۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلا عذاب ممکن ہے وبا کی قسم کا رہا ہو اور جب اس سے انہوں نے عبرت حاصل نہ کی تو ان کے چہرے مسخ ہو گئے ہوں اور ان کو بندر بنا دیا گیا ہو۔

 

رہا یہ سوال کہ انسان بند ر کس طرح بن سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو خدا مٹی سے انسان بنا سکتا ہے وہ انسان کو بند کیوں نہیں بنا سکتا؟اگر عام طور سے ایسا نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا واقعہ کبھی ظہور میں آ ہی نہیں سکتا۔ اصل چیز اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قدرت ہے۔ اس نے تاریخ انسانی کے اوراق پر عبرتناک سزا کا ایک نقش یہ بھی ثبت کر دیا تاکہ آنے والی نسلیں اسے یاد رکھیں۔

 

واضح رہے کہ اس واقعہ سے نظریۂ آواگون کی تائید کا کوئی پہلو نہیں نکلتا کیوں کہ آوا گو ان میں انسان کا جسم ہی نہیں نفس (روح) بھی تبدیل ہو جاتا ہے جب کہ اس واقعہ میں جن لوگوں کو بندر بنایا گیا تھا ان کا نفس (روح) تبدیل نہیں ہوا تھا اور اس پر دلیل قرآن کا یہ بیان ہے کہ انہیں ذلیل و خوار بنایا گیا تھا۔ ظاہر ہے ذلت کا احساس تو اسی وقت ان کو ہو سکتا تھا جب کہ ان کے اندر نفس انسانی موجود رہا ہو ورنہ اگر ان کا نفس بھی بندر کا نفس بن گیا ہوتا تو ان کو یہ احساس کیوں کر ہو سکتا تھا کہ ہم پہلے انسان تھے اور اب ہماری صورتیں مسخ کر کے ہمیں بندر بنا دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے لذت و الم اور عزت و ذلت کا احساس انسانی نفس ہی کو ہوتا ہے نہ کہ بندر کے نفس کو۔ دوسری بات یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ بھی اسی طرح قبروں سے اٹھائے جائیں گے جس طرح دوسرے تمام انسان۔ اور ان کو بھی خدا کے حضور حاضر ہونا ہو گا اور پنے کئے کا بدلہ پانا ہو گا جب کہ نظریۂ آواگوان انسان کے دو باہ اٹھائے جانے ، خدا کے حضور حاضر کئے جانے اور عمل کا بدلہ جنت یا جہنم کی شکل میں پائے جانے کی نفی کرتا ہے۔

 

۲۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ جب ان کا اجتماعی وجود ایک عہد شکن اور سرکش قوم کی حیثیت اختیار کرے گا تو پھر ان کی ساری شان و شوکت خاک میں مل جائے گی اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کے خلاف اٹھاتا رہے گا جو ان کی خوب سرکوبی کریں گے چنانچہ گزشتہ دو ہزار سال کی تاریخ شاہد ہے کہ یہود پر کسی نہ کسی کے ہاتھوں ذلت کی مار پڑتی رہی ہے۔ رہی موجودہ سلطنت اسرائیل تو وہ بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ نزول قرآن کے وقت بھی مدینہ کے اطراف میں قبائلی ریاستیں قائم تھیں لیکن ان کا جو حشر ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔

 

۲۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بنی اسرائیل کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی۔ انہیں جو استحکام حضرت سلیمان کے زمانہ تک فلسطین میں حاصل تھا وہ باقی نہیں رہا اور یروشلم کے زوال نے ان کو ایسا پراگندہ کر دیا کہ ان کی کوئی مرکزیت باقی نہیں رہی اور وہ زمین کے مختلف حصوں میں پناہ لینے کے لئے مجبور ہو گئے خیبر، مدینہ اور یمن وغیرہ میں ان کی آبادیاں ان کے قومی انتشار ہی کا نتیجہ تھیں۔

 

۲۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے یہود کے اخلاقی بگاڑ کی طرف کہ دنیا کے حقیر فائدوں کی خاطر انہیں اخلاقی اور شرعی حدود کو توڑنے میں کوئی باک نہیں رہا حلال و حرام کی تمیز اٹھ گئی اور متاع دنیا کے وہ ایسے رسیا بن گئے کہ مال بٹورنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتے۔ اگر کبھی نہیں یہ خیال آ جاتا ہے کہ وہ اس طرح گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں یا جب ان بری حرکتوں پر کوئی انہیں متوجہ کرتا ہے تو وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ ہماری بخشش ضرور ہو گی کیوں ہم برگزیدہ امت ہیں یا یہ کہ خدا کے فلاں اور فلاں بندوں کے ہم عقیدت مند ہیں اس لئے ان کے طفیل ہماری نجات ہو جائے گی۔

 

اس کے بعد پھر انہیں حرام سے ملوث ہونے کا موقع مل جاتا ہے تو پھر وہ اس میں منہ ڈال دیتے ہیں اس طرح ان کی کاروباری اور معاشی زندگی اور در حقیقت پوری زندگی دین سے بے تعلق ہو کر رہ گئی ہے۔

 

افسوس کہ آج مسلمانوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہو کر رہ گیا ہے اور فلاں کے طفیل"اور فلاں کے"صدقہ"میں بخشے جانے کے تصور نے انہیں گناہوں پر ڈھیٹ کر دیا ہے۔

 

۲۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کی خوش اعتقادی اور من گھڑت باتیں ہیں۔ کتاب الٰہی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور دین میں کوئی اعتقاد یا کوئی بات اپنی طرف سے شامل کرنا اللہ پر جھوٹ بولنا ہے اور یہ اس عہد کی خلاف ورزی ہے جو تورات میں ان سے لیا گیا تھا۔

 

تو خداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیوں کہ جو اس کا نام بے فائدہ لیتا ہے خداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا۔ (خروج ۲۰:۷)

 

"جس بات کا میں حکم کرتا ہوں تم احتیاط کر کے اس پر عمل کرنا اور تو اس میں نہ کچھ بڑھا نا اور نہ اس میں سے کچھ گھٹانا (استثناء ۱۲:۱۳)

 

۲۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب انہوں نے کتابِ الٰہی کے احکام ہدایات کو اچھی طرح پڑھ لیا ہے تو پھر وہ اس پر عمل کیوں نہیں کرتے کیا کتابِ الٰہی محض تلاوت اور حفظ کے لئے ہے ؟یہ یہود کا حال تھا اور آج مسلمانوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے وہ قرآن کی تلاوت اور حفظ ہی کو کارِ ثواب سمجھتے ہیں اور عمل سے کوسوں دور رہتے ہیں۔

 

۲۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو دنیا کے پیچھے نہیں پڑتے بلکہ آخرت کو اپنا نصب العین بناتے ہیں اور دنیا سے فائدہ اٹھانے میں شرعی حدود کا خیال رکھتے ہیں اور پرہیزگاری کی زندگی گزارتے ہیں۔

 

۲۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ کتابِ الٰہی سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ہے نہ کہ محض رٹنے کے لئے۔

 

۲۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اہلِ کتاب کے اس گروہ کی طرف جو عام بگاڑ کا اثر قبول کئے بغیر کتاب الٰہی کی مخلصانہ پیروی کر رہا تھا اور لوگوں کی اصلاح کے لئے کوشاں تھا۔ بعد میں جب ان لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت آ گئی تو انہوں نے اس پر لبیک کہا۔

 

۲۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورہ بقرہ نوٹ ۸۸ میں گزر چکی۔ بائبل میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔

 

"اور موسیٰ لوگوں کو خیمہ گاہ سے باہر لایا کہ خدا سے ملائے اور وہ پہاڑ سے نیچے آ کھڑے ہوئے اور کوہ سینا اوپر سے نیچے تک دھوئیں سے بھر گیا کیوں کہ خداوند شعلہ میں ہو کر اس پر اترا جو تنور کے دھوئیں کی طرح اوپر اٹھ رہا تھا۔ اور پہاڑ زور سے ہل رہا تھا۔ (خروج ۱۹: ۱۸)

 

مگر قرآن کا واضح بیان ہے کہ پہاڑ کو ان کے اوپر اٹھا دیا گیا تھا اگر زلزلہ کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی ان کے سروں پر معلق کر دی گئی ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیوں عالم اسباب پر اللہ ہی کی حکمرانی ہے اور جب اس کی حکمت متقاضی ہوتی ہے وہ غیر معمولی واقعات ظہور میں لاتا ہے جس سے اس بات کا یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کائنات کا نظام خود بخود نہیں چل رہا ہے بلکہ اس پر ایک زبردست طاقت حکمراں ہے اور وہ جب چاہے اس کے نظام میں تغیر و تبدل پیدا کر سکتا ہے۔ بنی اسرائیل چونکہ عقل و ہم کے لحاظ سے ایک نا پختہ قوم تھی اس لئے ان کے سامنے محسوس نشانیوں کا ظہور بار بار ہوتا رہا۔

 

۲۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ واقعہ آدم کی پیدائش کے بعد اور دنیا میں نسل کا سلسلہ جاری ہونے سے پہلے پیش آیا تھا اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کی جانوں کو بیک وقت حاضر کر کے ان کو شعور بخشا تھا اور ان سے وہ وعدہ لیا تھا جس کا ذکر ان آیات میں ہوا ہے۔ یہ انسانی جانوں کا اجتماع تھا جس کا تعلق عالم غیب سے ہے اس لئے نہ ہم اس کی کیفیت سمجھ سکتے ہیں اور نہ اس کی تفصیلات کو جاننے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہے۔ لہٰذا سلامتی کی راہ یہ ہے کہ قرآن کے اجمالی بیان پر اکتفا کیا جائے۔

 

رہے منکرین کے شکوک و شبہات تو اس واقعہ میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو ناممکن یا خلاف عقل ہو بلکہ جدید سائنسی انکشاف کے پیش نظر یقین پیدا ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا ہو گا۔ علم حیاتیات  (Biology) نے انسان کی تولید کے سلسلہ میں اس اہم حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ انسان کے جسم سے ایک وقت میں جو مادۂ تولید خارج ہوتا ہے اس میں کروڑ ہا جرثومۂ حیات (Spermatozoa) ہوتے ہیں۔ یعنی چند قطروں کے اندر اتنی بڑی تعداد ہوتی ہے پھر ہر جرثومہ (خلیہ) میں ۲۴  جوڑی کروموزومس اپنے اندر موروثی خصوصیات لئے ہوئے ہوتے ہیں یعنی باپ کی خصوصیات بچہ کی طرف ان ہی کے ذریعہ منتقل ہو جاتی ہیں۔ اب اگر یہ ممکن ہے کہ ایک قطرۂ آب میں ایک انسانی دنیا چھپی ہوئی ہو تو یہ کیوں ناممکن ہے کہ پوری نسلِ انسانی کو وجود میں لانے والے جراثیم حیات آدم کی پشت میں ودیعت کر دئے گئے ہوں اور ان میں شعور کی خصوصیت بھی بنیادی طور پر موجود ہو ؟اور اس میں خلاف عقل بات کیا ہے کہ ان جراثیم حیات (نفوس) کو ان کے خالق نے آدم کی پشت سے نکال کر ان کے دبے ہوئے شعور کو اس وقت ابھارا ہو اور ان سے عہد لینے کے بعد ان کو پھر آدم کی پشت میں لوٹا دیا ہو تاکہ اس ذخیرہ سے نسلِ انسانی کا سلسلہ اپنی بنیادی خصوصیات کے ساتھ جاری رہے ؟

 

واضح رہے کہ متن میں آدم کی پیٹھ اور آدم کی ذریت کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے ہیں بلکہ من بنی آدم من ظھورھم ذریتھم استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اس لئے کہ پشت در پشت جو نسلیں پیدا ہونے والی تھیں ان کی تصویر سامنے آ جائے نیز چونکہ یہاں لفظ اخذ عہد لینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو آدم کی تمام اولاد سے لیا گیا تھا اس لئے من بنی آدم (بنی آدم سے) کے الفاظ موزوں ہوئے۔ آیت میں چند الفاظ محذوف ہیں اگر ان کو کھول دیا جائے تو ترکیب یوں ہو گی۔ من بنی آدم میثاقا واخرج من ظھورھم ذریتھم۔

 

آدم کو ان کی اولاد میں سے جن ممتاز شخصیتوں کے نام بتائے گئے تھے وہ بھی نوع انسانی کے اس اجتماع کے موقع ہی کی بات ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ نوٹ ۴۴ میں گزر چکا واللہ علم باسرار کلامہ۔

 

۲۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کی ربوبیت کا عہد تھا جو انسانی جانوں سے ان کو جسمانی وجود بخشنے سے پہلے ہی لیا گیا تھا تاکہ ان کے شعور (Conscience) میں یہ بات اچھی طرح پیوست ہو جائے کہ وہ خود بخود پیدا نہیں ہوئے ہیں اور نہ اپنی ذات میں آزاد و مختار ہیں بلکہ ان کا ایک خالق ، پروردگار مالک اور حاکم ہے اور وہ ہے اللہ۔ اس حقیقت کے اعتراف کا مطلب لازما یہ تھا کہ انہوں نے اپنی یہ حیثیت تسلیم کر لی تھی کہ وہ اللہ کے بندے ، اسی کے پرستا ر اور اسی کے تابع فرمان ہیں۔

 

اب اس عہد کا انکار انسان یہ کہہ کر نہیں کر سکتا کہ یہ دہد کب لیا گیا تھا اور کہاں لیا گیا تھا مجھے کچھ یاد نہیں واقعہ یہ ہے کہ چونکہ اس کی دنیا میں آزمائش مطلوب ہے اس لئے جہاں تک اس عہد کے خارجی پہلوؤں کا تعلق ہے یعنی محل وقوع ، وقت وغیرہ تو اس کی یاد شعور سے محو کر دی گئی ہے اگر وہ باقی رکھی جاتی تو امتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا لیکن اس کے داخلی پہلو کو انسان کی فطرت کے اندر پیوست کر دیا گیا چنانچہ ہر شخص اپنے خالق کو فطرۃً پہچانتا ہے ، اس کا وجدان اس کے الٰہ واحد ہونے کی شہادت دیتا ہے اور اس کا ضمیر اس کی نافرمانی (برائی) پر اسے ٹوکتا اور ملامت کرتا ہے غرضیکہ یہ عہد فطرت ہے جو لوح دل پر کندہ ہے اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ انسان اس عہد سے بالکل بے خبر ہے۔ کیا کوئی شخص یہ بتا سکتا ہے کہ جب وہ بالکل طفل تھا تو اسے بولنا کس نے سکھایا؟ظاہر ہے یہ بات کسی کو بھی یاد نہیں لیکن وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ اس کے ماں باپ ، عزیز و اقارب یا اس کی پرورش کرنے والوں میں کوئی ضرور ایسا رہا ہے جس نے اس کو ابتدائی طور پر اشیاء کے نام سکھائے۔ الفاظ کو ایک ایک کر کے ادا کرنا سکھایا اور اس کے بعد وہ بولنے کے قابل ہو سکا۔ اس کے حافظہ سے یہ سب تفصیلات محو ہو چکی ہیں مگر اس کا بولنا بجائے کود اس بات کی دلیل ہے کہ بچپن میں کسی نہ کسی نے اس کو بولنا ضرور سکھایا ہے۔ پھر کیا اپنے خالق و مالک کے بارے میں فطرتِ انسانی کی آواز خواہ وہ کتنی ہی دبی ہوئی کیوں نہ ہو س بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کو س کے رب کی معرفت کا پہلا سبق اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی پڑھایا جا چکا ہے۔

 

اسی حقیقت کو نبیﷺ نے حدیث میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔

 

ما من مولود الا یلد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ وینصرانہ ویشرکانہ

 

ہر بچہ فطرت پر (یعنی توحید پر پید ا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی یا مشرک بنا دیتے ہی۔ (مسلم کتاب القدر)

 

اور اسی سبق کی یاد دہانی انبیاء علیھم السلام کرتے رہے اس لیے ان کی تعلیمات کو تذکیر یعنی یاددہانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

۲۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ بنی نوع انسان کا ہر فرد توحید کے معاملہ میں ذمہ دار ہے اور قیامت کے دن اسے خدا کے حضور اپنے رویہ کے بارے میں جواب دہی کرنا ہو گی خواہ انبیاء علیہم السلام کی تفصیلی دعوت اس تک پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو عہد فطرت بجائے خود حجت ہے اور توحید کے بنیادی عقیدہ کی حد تک کسی شخص کو بھی قیامت کے دن یہ عذر کرنے کا موقع باقی نہیں رہا کہ وہ اس سے بالکل بے خبر تھا اس لئے اس نے کفر یا الحاد کی راہ اختیار کی تھی یا وہ شرک میں اس لئے مبتلا رہا کہ اسے باپ دادا سے مشرکانہ مذہب یا مشرکانہ کلچر ورثہ میں ملا تھا ورنہ اس نے خود شرک کو قبول کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔

 

۲۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ عہد فطرت توحید کی نشانی ہے جو انسان کے نفس میں موجود ہے اور قرآن نے دوسری نشانیوں کی طرح سے بھی کھول کر بیان کر دیا ہے۔

 

۲۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد کوئی متعین شخص نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص ہے جس پر یہ آیت چسپاں ہو۔ خاص طور سے اشارہ ہے بنی اسرائیل کے علماء کی طرف ہے جس کی سر گزشت اوپر گزر چکی۔

 

آیات عطا کی تھیں یعنی کتابِ الٰہی اور اس کا علم بخشا تھا لیکن یہ علماء بھی شیطان کے ہتھے چڑھ گئے

 

۲۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی آیات پر ایمان لانے والوں کو رفعت ہی بخشتی ہیں بشرطیکہ وہ ان کی پیروی کریں۔ قرآن کے بارے میں نبیﷺ کا ارشاد ہے۔

 

ان اللہ یرفع بھذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین

 

اللہ اس کتاب کے ذریعہ کتنی ہی قوموں کو رفعت عطا کرے گا اور کتنوں کو پستی میں گرائے گا (مسلم کتاب فضائل القرآن)

 

۲۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ اخلاق و عمل کی پستی کی طرف مائل ہوا۔

 

اور اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جو پستی کی طرف جانا چاہتا ہو اسے وہ زبردستی بلندی کی طرف لے جائے

 

۲۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتّا سب سے زیادہ حریص جانور ہے۔ وہ زمین پر سونگھتے ہوئے چلتا ہے کہ کوئی ہڈی کا ٹکڑ ا مل جائے تو لذت دہن کا کام دے۔ وہ ہمیشہ ہانپتا اور زبان لٹکائے رہتا ہے خواہ کوئی اس کو جھڑ کے یا اسے اپنے حال پر چھوڑ دے۔ اسی طرح دنیا کے مفادات کی خاطر اللہ کی آیات کی پابند ی سے نکل بھاگنے والے لوگ دنیا کے کتے ہیں۔

 

ان کی حرص دنیا کبھی ختم نہیں ہوتی وہ ہمیشہ ہانپتے اور زبان لٹکائے ہی رہتے ہیں ان کی دنیا پرستی پر تم ان کو تنبیہ اور ملامت کرو یا نہ کرو وہ کسی نصیحت کا کوئی اثر قبول کرنے والے نہیں ہیں۔

 

۲۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قوموں کی وہ سرگزشتیں ہیں جو اس سورہ میں بیان ہوئیں ان سرگزشتوں کو دعوت و اصلاح کے مقصد کے پیش نظر سنانے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان سچے قرآنی قصوں کو سننے سنانے کا اہتمام بہت کم کیا جاتا ہے البتہ وعظ گو علماء بے سر و پا روایتوں کا سہار ا لے کر عجیب و غریب قصے بیان کر تے رہتے ہیں اور لوگ سر دھنتے رہتے ہیں کوئی ان علماء سے پوچھے کہ کرنے کا کام کیا ہے اور وہ کر کیا رہے ہیں۔

 

۲۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ سرگزشتوں  پر غور و فکر کرتے ہیں وہ ان سے سبق بھی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قوموں کی سرگزشتوں سے آگاہ کرنا مفید ہو گا۔

 

قرآن کے قصے قصہ گوئی کے لئے نہیں ہیں بلکہ غور و فکر اور سبق آموزی کے لئے ہیں اور یہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہو گا جب کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھا جائے۔ بے سمجھے بوجھے پڑھنے سے یہ فائدہ کس طرح حاصل ہو گا۔

 

۲۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بہت سے جنوں اور انسانوں کو اللہ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بخشی ہی نہیں تھی اور انہیں ہدایت اور گمراہی کی راہوں میں سے اپنی پسند کے مطابق کوئی راہ اختیار کرنے کی آزادی حاصل نہیں تھی اور ان کو جبراً گمراہی کی راہ پر چلا کر جہنم میں پہنا دیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ضائع کر دی اور گمراہی کو پسند کر کے اسی راہ پر چل پڑے تو انجام کار ابدی عذاب بھگتنے کے لئے جہنم میں پہنچ گئے۔ اس طرح ان کا مقصد تخلیق جہنم قرار پا یا۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی استاذ اپنے شاگرد سے جو محنت سے جی چرانے کی وجہ سے ناکام ہوا کہہ دے کہ میں نے تجھے اسی لئے پڑھایا ہے کہ تو ناکام ہو جائے۔ ظاہر ہے استاذ کے کہنے کا یہ منشا ہرگز نہیں کہ اس نے شاگرد کو ناکام بنانے کے لئے پڑھایا تھا بلکہ یہ اس کی طرف سے محض غصہ کا اظہار ہے کہ میں نے تجھے پڑھایا کہ تو کامیاب ہو جائے لیکن تو نے محنت نہیں کی اور ناکام رہا اس لئے میرے پڑھانے کا کوئی فائدہ تجھے نہیں پہنچ سکا اس آیت میں بھی جو بات کہی گئی ہے وہ نتیجہ کے لحاظ سے کہی گئی ہے نہ کہ گمراہی کی طرف زبردستی دھکیلنے کے معنی ہیں۔

 

۲۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دل (قلب) سے مراد عقل ہے۔ عربی میں عقل کو قلب سے تعبیر کیا جاتا ہے چنانچہ عربی کے سب سے بڑے لغت لسان میں ہے۔ وقد یعبر بالقلب عن العقل"کبھی عقل کو قلب سے تعبیر کیا جاتا ہے (لسان العرب ج ۱ص ۲۸۷)

 

۲۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں تک جسمانی آنکھ، کان اور دل کا تعلق ہے وہ انسان اور جانور دونوں میں ہوتے ہیں لیکن جو قوت بصارت، قوتِ سماعت اور قوتِ فہم انسان کو عطا ہوئی ہے وہ جانوروں کو عطا نہیں ہوئی۔

 

دونوں کے درمیان یہ بہت بڑا امتیازی فرق ہے اور اسی بنا پر انسان جانوروں پر فوقیت رکھتا ہے لیکن جو لوگ ان قوتوں کا استعمال نہیں کرتے وہ اپنے کو جانوروں کی سطح پر لے آتے ہیں بلکہ اس سے بھی پست سطح پر کیوں کہ جانوروں میں تو یہ اعلیٰ قوتیں ودیعت ہی نہیں ہوئی ہیں لیکن انسان نے ان قوتوں کو پا کر بھی ان کا صحیح استعمال نہیں کیا اور اپنے کو پستی کی طرف دھکیل دیا جب کہ جانور جہاں تھا وہیں رہا۔

 

۲۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انہیں کچھ خبر نہیں کہ انہیں دنیا میں کس نے بھیجا ہے ، کیوں بھیجا ہے اور جانا کہاں ہے ، عقل کے بڑے بڑے سورماؤں کی اپنے وجود اور مقصدِ حیات کے بارے میں یہ مجرمانہ غفلت کس قدر حیرت انگیز ہے۔

 

۲۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے لئے ایسے نام ہیں جو اپنے معنیٰ و مفہوم کے لحاظ سے بہتر اور اشرف ہیں جو اس کے اک اور منزہ ہونے نیز اس کی عظمت اور اس کے کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ قرآن میں لفظ اللہ اسم ذات کے طور پر استعمال ہوا ہے اور الرحمن ، الرحیم ، الخالق، الملک، الرزاق ، العزیز ، العلیم وغیرہ اسمائے صفت کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔ ان تمام ناموں میں معنیٰ کا حسن بدرجۂ اتم موجود ہے۔

 

۲۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالفاظ دیگر اسے ایسے ناموں سے نہ پکارو جس سے اس کی ذات یا صفات میں نقص کا کوئی پہلو نکلتا ہو یا جو خلاف ادب ہو ، عربی میں تو اللہ کو پکارنے کے لئے قرآنی نام کافی ہیں رہا دوسری زبانوں کا مسئلہ تو اللہ کے لئے ناموں کے انتخاب میں اس اصولی ہدایت کو اچھی طرح ملحوظ رکھنا ہو گا جو اس آیت میں دی گئی ہے اس معاملہ میں محتاط رہنا بہت ضروری ہے ورنہ شرک کی راہوں کے کھل جانے کا اندیشہ ہے۔

 

۲۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرنے کی مختلف صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

 

ایک صورت یہ ہے کہ اللہ کے لئے ایسے نام یا صفات تجویز کرنا جن میں نقص اور عیب کا پہلو ہو۔ جو نام خدا کو مخلوق پر قیاس کر کے رکھے جاتے ہیں ان کا شمار اسی میں ہے مثلاً خدا کو باپ (Father) کہہ کر پکارنا۔

 

دوسری صورت یہ ہے کہ خدا کی صفات کو الگ الگ ذاتیں مان کر ہر صفت کو ایک دیوی یا دیوتا تصور کرنا اور اس مناسبت سے ان کے نام تجویز کرنا مشرکین ہند نے یہیں ٹھوکر کھائی ہے چنانچہ انہوں نے خدا کی ہر صفت کو ایک دیوی دیوتا فرض کر لیا ہے مثلاً خدا کی صفت علم کو انہوں نے علم کی دیوی ٹھہرا کر اس کا نام سرسوتی Sarsvati, the goddess of knowledge رکھا ہے۔

 

''and the one in whom such knowledge is sustained is Sarsvati (Rig-Veda Samhita Vol.I P.170)

 

اس طرح انہوں نے اللہ کی صفت ربوبیت کے لئے ایک دیو گڑھ کر اس کا نام وشنو رکھا ہے۔ اور اللہ کی صفت ذو انتقام (سز اد ینے والا) کے لئے ایک دیوتا فرض کر کے اس کا نام شیو رکھا ہے۔ نیز اللہ کے رزاق ہونے کی صفت کو مختلف دیوتاؤں میں تقسیم کر کے دولت کی ایک دیوی فرض کر لی ہے اور اس کا نام لکشمی رکھا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ خدا کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی ایسی فلسفیانہ توجیہ کرنا کہ متعدد خداؤں کے لئے گنجائش نکل آئے مثلاً ایک میں تین کا عقیدہ یا مشرک فلاسفروں کی یہ توجیہ کہ ہندو گو متعدد دیوتاؤں کی پرستش کر تے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک ہی خدا کی پرستش کرتے ہیں۔

 

The Hindu , it is true, his head before many a form of the Deity on that account. however , he is not to be dubbed polytheist , what the Hindu adores is the one God in the many gods.

 

 (Out lines of Hinduism .T.M.P Mahadeva P 24)

 

اللہ کے اسماء یا صفات کے بارے میں اس قسم کی فلسفیانہ بحثوں میں الجھنا بیکار ہے۔ خدا کی معرفت حاصل کرنے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو قرآن نے بتلایا ہے یعنی کج بحثی سے احتراز کرتے ہوئے سیدھے سادے طریقہ پر اللہ صفات کو ماننا۔ یہ صفات قرآن نے وضاحت کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ ہدایت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ نہ الجھیں جنہوں نے انحراف کی راہ اختیار کی ہے۔ بالفاظ دیگر جن لوگوں نے فلسفیانہ بحثیں کھڑی کر دی ہیں ان سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ خدا کی صفات کے بارے میں فلسفیانہ بحثیں گمراہی کا دروازہ کھول دیتی ہیں۔

 

۲۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خدا کی مخلو ق میں سب ہی لوگ گمراہی پھیلانے والے نہیں بلکہ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو لوگوں کی صحیح رہنمائی کرتے ہیں اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔

 

۲۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ یہ سمجھ کر کہ ہمارے لئے خیریت ہی خیریت ہے چین کی بانسری بجا رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انہیں عذاب کی طرف دھکیل رہا ہے۔

 

۲۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ تکویر نوٹ ۲۵۔

 

۲۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی موت کا وقت۔

 

۲۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان واضح دلائل اور ان کی مکمل تنبیہات کے بعد اگر وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو اس سے زیادہ مدلل اور خبردار کرنے والی تعلیم اور کون سی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے۔

 

۲۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس طرح حاملہ حمل سے بوجھل ہو جاتی ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ کب اس کا وضع حمل ہو گا اسی طرح آسمان و زمین قیامت کے بوجھ سے بوجھل ہو رہے ہیں اور نہیں معلوم کہ کب ان کے بطن سے قیامت نمودار ہو۔

 

اس واضح ہو ا کہ قیامت خارج سے مسلط ہونے والی چیز نہیں بلکہ کائنات کے اندر ہی سے ابھرنے والی چیز ہے۔ اس کا لا وا اندر ہی اندر پک رہا ہے اور عنقریب وہ پھٹ کر زبردست حادثہ کی صورت اختیار کرنے والا ہے۔ زمین مظلوموں کے خون سے رنگین ہو گئی ہے اور آسمان ان کی آہوں سے بھر گیا ہے۔ حق و باطل کی کشمکش جو ہزار ہا سال سے چلی ا رہی ہے وہ انصاف کو آواز دے رہی ہے۔ یہ آواز ہر وہ شخص سن رہا ہے جو گوش حقیقت نیوش رکھتا ہے۔ اسے زمین سے بلند ہونے والی یہ صدا بھی سنائی دیتی ہے کہ فرمانروائے کائنات اپنا تختِ عدالت زمین پر بچھانے کو ہے اور آسمان سے نشر ہونے والا یہ پیغام بھی سنائی دیتا ہے کہ انصاف کی ترازو قائم ہونے کو ہے۔

 

۲۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قیامت کے آثار تو روزبروز ظاہر ہوتے ہی جا رہے ہیں لیکن اس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں۔ وہ تو اچانک آ دھمکے گی جب کہ انسان اس سے بالکل غافل ہو گا۔ حدیث میں اس کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے۔

 

ولتقو من الساعۃ وقد نشر الرجلان ثوبھما بینھما فلا یتبایعانہ ولا یطویانہ ولتقومن الساعۃ وقد انصرف الرجل بلبن لقحتہ فلایطعمہ ولتقومن الساعۃ وھو یلیط حوضہ فلا یسقی فیہ ، ولتقومن الساعۃ و قدر فع احدکم اکلتہ الیٰ فیہ فلا یطعمھا (بخاری کتاب الرقاق)

 

قیامت اس حال میں قائم ہو گی کہ دو آدمیوں کے درمیان خرید و فروخت کا معاملہ ہو رہا ہو گا جس کے لئے وہ کپڑا کھولے ہوئے ہوں گے اور یہ معاملہ ابھی پورا نہیں ہو سکا ہو گا اور نہ وہ کپڑے کو لپیٹ پائیں گے کہ قیامت کھڑی ہو جائے گی۔ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے لوٹ رہا ہو گا وہ ابھی پینے بھی نہ پائے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ ایک شخص اپنے حوض کی مرمت کر رہا ہو گا اور ابھی پانی بھر پی نہ سکا ہو گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور کسی شخص کا حال تو یہ ہو گا کہ وہ اپنا لقمہ منہ میں ڈال رہا ہو گا کہ لیکن کھانے بھی نہ پائے گا کہ قیامت کھڑی ہو قائم ہو گی۔

 

۲۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ قیامت کا ٹھیک وقت نبیﷺ کو بھی معلوم نہیں۔ حدیث میں آپ نے قیامت کے سلسلہ میں جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ اس کے آثار ہیں نہ کہ وقت کا تعین۔

 

۲۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس بات کو نہیں جانتے کہ قیامت کا وقت ان باتوں میں سے ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے اور اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس کا وقت کسی پر بھی ظاہر نہ کیا جائے۔ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ اس سوال کو دہراتے رہے ہیں کہ قیامت کب آئے گی۔

 

۲۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب نبی اپنی ذات کے لئے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا تو وہ دوسروں کو کیا نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے اور جب یہ بات نبی کے اختیار میں نہیں ہے تو اولیاء کے اختیار میں کس طرح ہو سکتی ہے۔ پس حاجت روائی کے لئے کسی نبی یا ولی کو پکارنا ایک مہمل بات کے سوا کچھ نہیں۔ اس کو پکارنے سے حاجت پوری ہونے سے تو رہی البتہ پکارنے والا شرک کا مرتکب ضرور ہو گا۔

 

۲۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ واقعہ ہے کہ نبیﷺ کو اپنی ذاتی حیثیت میں نقصانات پہنچتے رہے ہیں۔ ا گر آپ کو غیب کا علم ہوتا تو آپ پہلے ہی جان لیتے کہ فلاں چیز سے نقصان پہنچنے والا ہے اور اس بنا پر آپ اس سے بچنے کی تدبیر کرتے۔ مگر ایسا نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو غیب کا علم نہیں تھا البتہ جہاں تک فریضۂ رسالت کی ادائیگی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے آپ پر غیب کی وہ باتیں ضرور کھولی تھیں جو عام انسانوں پر نہیں کھولی جاتیں۔ قیامت کا وقت بتانا فریضۂ رسالت میں شامل نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا علم آپ کو نہیں بخشا۔

 

۲۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورہ نساء نوٹ ۳ میں گزر چکی۔

 

آدم سے حوا کی پیدائش کسی تاویل کی محتاج نہیں ہے۔ علم الحیات (Biology) کے انکشافات کے پیشِ نظر بعض جاندار ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو واحد خلیہ (Single celled) ہوتے ہیں۔ اور خود بخود دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں مثلاً ایمباAmoeba) ا س لئے اگر آغاز میں ایک متنفس سے اس کا جوڑ یعنی آدم سے حوا کو پیدا کر دیا گیا ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟

 

۲۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان کا جو پہلا جوڑ ا پیدا کیا گیا اس کا ذکر کرنے کے بعد اب انسان کے عام جوڑوں یعنی مرد عورت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

 

۲۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب اللہ ان کو بھلی چنگی اولاد دے دیتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ اس کے شکر گزار بن جائیں اس کو کسی دیوی یا کسی ولی یا کسی بزرگ کی عنایت قرار دے کر ان کو نذریں اور نیازیں پیش کرنے لگتے ہیں اور چڑھاوے چڑھانے کے لئے کو ئی مندر کا رخ کرتا ہے تو کوئی درگاہ کا۔ پھر بچہ کا نام بھی مشرکانہ رکھا جاتا ہے۔ مشرکین مکہ اگر عبد العزی (عزی دیوی کا بندہ) عبد الشمس (سورج دیوتا کا بندہ) رکھتے تھے تو مشرکین ہند رام داس (رام کا بندہ) گوکل داس (گوکل دیو کا بندہ) اور بدعتی مسلمان عبد الرسول (رسول کا بندہ) حسین بخش (حسین کا بخشا ہو ا) غلام غوث (غوث عبد ا لقادر جیلانی کا غلام وغیرہ رکھتے ہیں۔

 

۲۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ بت کیا تمہاری رہنمائی کر سکتے ہیں ؟اگر تم انہیں رہنمائی کے لئے پکارو تو تمہیں کوئی جواب نہیں ملے گا۔ انہیں اس مقصد کے لئے پکار نا یا نہ پکارنا یکساں ہے۔ پھر جب وہ تمہاری رہنمائی نہیں کر سکتے اور تمہیں یہ نہیں بتا سکتے کہ کامیابی کی راہ کون سی ہے اور ناکامی کی کو ن سی تو وہ خدا کیوں کر ہوئے۔ کیا خدا ایسا بھی ہوتا ہے جس میں رہنمائی کی سرے سے صلاحیت ہی نہ ہو اور جو مٹی کا مادھو ہو؟

 

۲۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بت پرست اپنے بتوں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ اصلاً ان کے مزعومہ خداؤں مثلاً جن، فرشتوں ، گزری ہوئی انسانی شخصیتوں وغیرہ کی علامتیں اور تصویریں ہیں اس لئے بتوں کی پرستش در اصل ان خداؤں کی پرستش ہے۔ قرآن نے ان دونوں بات پر گرفت کی ہے۔ اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ وہ تمہارے ہ طرح بندے ہیں تو اس سے اشارہ ان کے اصل معبود یعنی جنوں اور اشخاص وغیرہ کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن ہوں یا فرشتے ، اشخاص ہوں یا ارواح سب خدا کے بندے ہیں۔ خدائی کی صفت کسی میں بھی نہیں۔ رہے ان کی نمائندگی کرنے والے بت تو ان پر گرفت بعد والی آیت میں ہوئی ہے۔

 

۲۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر وہ خدا کے بندے نہیں بلکہ اپنی ذات میں خدا ہیں تو پھر تمہاری پکار کا جواب کیوں نہیں دیتے ، تمہارا مقصدِ زندگی تم پر کیوں نہیں واضح کرتے اور معاملات میں زندگی میں تمہاری رہنمائی کیوں نہیں کرتے۔

 

۲۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ شرک کے مظاہر یعنی بت ہیں جن کو مشرکین نے خدا بنا رکھا ہے۔ اس کی نامعقولیت کو واضح کرنے کے لیے یہاں کچھ سوالات قائم کئے گئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بت انسانی شکل میں تو بنائے گئے ہیں لیکن ان کے ہاتھ پاؤں ، آنکھیں ، کان سب دکھاوے کے ہیں۔ ان میں نہ چلنے پھر نے کی طاقت ہے اور نہ پکڑنے کی، نہ قوتِ بصارت ہے اور نہ قوت سماعت پھر یہ خدا کیسے ہوئے؟ مگر جو لوگ عقل کے اندھے ہوتے ہیں ان کو نہ اس بات میں کوئی تامل ہوتا ہے کہ اپنے خداؤں کو اپنے ہاتھ سے تراشیں اور نہ اس بات میں کہ جن کے اندر خدائی صفت تو درکنار انسانی صفت بھی نہ پائی جاتی ہو ان کو حاجت روا سمجھ کر ان کی پرستش کریں اور نہ ہی انہیں اس لغو حرکت میں ذرا بھی شرم محسوس ہوتی ہے کہ اپنے خداؤں کو اپنے ہاتھوں سمندر میں ڈبو دیں۔

 

رہی بت پرستوں کی یہ توجیہ کہ بت دراصل خدا پرستی کا ذریعہ ہیں تو یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے کیونکہ بت پرست اول تو ایک خدا پر نہیں بلکہ بہت سے خداؤں پر عقیدہ رکھتے ہیں مزید برآں عملاً وہ بتوں ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور انہیں خدا کا درجہ دیتے ہیں۔

 

آیت میں بت پرستوں کی حماقت کو جس طرح واضح کیا گیا ہے اس سے ملتا جلتا مضمون زبور میں بھی موجود ہے۔

 

"ان کے بت چاندی اور سونا ہیں یعنی آدمی کی دستکاری ان کے منھ ہیں پر وہ بولتے ہیں۔ آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں۔ پر وہ سنتے نہیں۔ ناک ہیں پر وہ سونگھتے نہیں۔ ان کے ہاتھ ہیں پر وہ چھوتے نہیں۔ پاؤں ہیں پر وہ چلتے نہیں اور ان کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔ ان کے بنانے والے ان ہی کی مانند ہو جائیں گے بلکہ وہ سب جوان پر بھروسا رکھے ہیں۔ اے اسرائیل خداوند پر توکل کر وہی ان کی کمک اور سپر ہے"۔ (زبور ۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۴تا ۹)

 

۲۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ مشرکین کو چیلنج ہے ان کی ان دھمکیوں کے جواب میں جو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیتے تھے کہ تم ہمارے بتوں کی جو مخالفت کرتے ہو تو اس کے نتیجہ میں تم پر ان کا غضب ضرور ٹوٹ پڑے گا۔ ان کو چیلنج کیا گیا ہے اگر تمہارے ان معبودوں میں کوئی دم خم ہے تو ان کو بلاؤ وہ میرے خلاف تمہاری مدد کریں اور پھر تم سب مل کر میرے خلاف جو کار روائی چاہو ہو کر گزرو۔ اس چیلنج کے بعد جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا بال بھی بیکا نہ کر سکے بلکہ مکہ میں آپ کے فاتحانہ داخلہ کے بعد آپ کے ہاتھوں بتوں کی جو درگت بنی اس نے یہ ثابت کر دیا کہ ان بتوں کی خدائی جھوٹی تھی اور اللہ ہی خدائے برحق ہے۔

 

۳۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ بت جب نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں تو رہنمائی کیا کریں گے اور جب رہنمائی کرنے کے قابل نہیں ہیں تو خدا کیونکر ہوئے؟

 

۳۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں یہ لطیف طنز پوشیدہ ہے کہ جو حال بتوں کا ہے وہی ان کے پرستاروں کا بھی۔ بت بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تک رہے ہیں لیکن فی الواقع وہ دیکھتے کچھ بھی نہیں۔ اسی طرح بت پرست بظاہر آنکھیں رکھتے ہیں اور داعیِ حق کو دیکھتے ہیں لیکن حقیقۃً وہ نہ حق کو دیکھ پاتے ہیں اور نہ اس کے داعی کو کیونکہ وہ اپنی آنکھوں کی روشنی کھو چکے ہیں۔

 

۳۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے اور ہدایت آپ کے واسطے سے تمام اہل ایمان کو۔ درگزر سے کام لو یعنی ناخدا شناس لوگوں کی اذیت وہ باتوں کو خاطر میں نہ لاؤ اور وسعتِ اخلاق کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درگزر سے کام لو۔ بھلی باتوں کی تلقین ضرور کرتے رہو لیکن اگر ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے جو جذبات سے مغلوب ہوں اور کچھ سننے سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوں تو ان سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کیونکہ جو سننا نہیں چاہتے ان کو سنانے کی کوئی ذمہ داری تم پر عائد نہیں ہوتی۔

 

۳۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر مخالفین کی باتیں تمہارے اندر اشتعال پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہوں تو اللہ کی پناہ مانگو۔ وہ تمہیں شر سے محفوظ رکھے گا۔

 

ان ہدایات پر عمل کر کے مخالفین کے دلوں کو جیتا جا سکتا ہے اور دعوت اسلامی کے لیے راہیں کھل سکتی ہیں مگر آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ غیر مسلموں کی اشتعال انگیزی کا اثر قبول کرنے اور انہیں ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ غفور و درگزر اور صبر و تحمل سے کام لینے کے لیے وہ آمادہ نہیں ہوتے نتیجہ یہ کہ ان سے الجھ کر رہ جاتے ہیں اور کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوتا۔

 

۳۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تقویٰ کی روش اختیار کرنے والوں کا ضمیر ہمیشہ بیدار رہتا ہے۔ اگر اتفاق سے کوئی شیطان خیال یا وسوسہ دل میں گزرتا ہے تو وہ اسے فوراً محسوس کر لیتے ہیں اور انہیں صاف دکھائی دینے لگتا ہے کہ تقویٰ کی راہ کون سی ہے اور گناہ کی راہ کون سی۔

 

۳۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بخلاف متقیوں کے شیطانوں کے بھائی بندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ شیاطین ان کی گمراہی میں اضافہ ہی کئے چلے جاتے ہیں۔ ان کو جب وسوسۂ شیطانی چھو لیتا ہے تو اس سے چوکنا ہونے کے بجائے اپنے کو اس ناروا حرکت پر مطمئن کر دیتے ہیں اور اس کے بعد عملی اقدام کر بیٹھتے ہیں۔ اس طرح شیطان کا جادو ان پر چل جاتا ہے کہ ان کی باگ ڈور شیطان ہی کے ہاتھ میں رہتی ہے۔

 

تزکیہ نفس اور تربیت اخلاق کے سلسلہ میں یہ نہایت اہم بات ہے جو ان آیات میں ارشاد ہوئی ہے۔

 

۳۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب نزول وحی میں وقفہ ہوتا ہے تو مشرکین نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر طنز کرتے کہ آپ نے کوئی آیت چھانٹ نہیں لی۔ مطلب یہ کہ آپ آیتیں تو گڑھتے ہی رہتے ہیں پھر آج کوئی آیت گھڑ کر کیوں نہیں لائی۔ یہ سخت اشتعال دلانے والی بات تھی مگر اس کا جواب نہایت سنجیدگی کے ساتھ دینے کی ہدایت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کی گئی اور وہ یہ کہ ان سے کہو میں صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے یعنی میرا کام آیتیں گڑھنا نہیں ہے بلکہ اپنے رب کی طرف سے نازل شدہ آیتوں کو پیش کرنا۔

 

۳۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن آیات کا بصیرت افروز ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ آیات ہیں نہ کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی من گھڑت آیات۔ قرآن ایک کھلی کتاب ہے اور جو شخص بھی اس کا مطالعہ صاف ذہن سے کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہے گا کہ اس میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ انسان کے ضمیر کو بیدار کرنے والی، دل کی آنکھوں کو کھولنے والی اور عقل کو روشنی بخشنے والی ہیں۔ پھر جو کلام سرتا سر بصیرت ہو اور وہ بھی غایت درجہ کی بصیرت وہ انسان کا کلام کیسے ہو سکتا ہے۔ خدا اور مذہب کی طرف منسوب کر کے جن لوگوں نے اپنا کلام پیش کیا ہے اس میں سوائے متضاد باتوں ، قیاس آرائیوں اور فلسفیانہ الجھنوں کے اور کیا ہے؟ ان کی باتیں نہ عقل و فکر کو جلا بخشنے والی ہیں اور نہ قلب و ذہن کے لیے سرمایہ اطمینان و سکون۔ پھر قرآن کو بھی اسی سطح پر رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟

 

۳۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن اہل ایمان کے حق میں ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی یعنی ان کی صحیح رہنمائی کر کے ان کو رحمت الٰہی سے ہمکنار کرتا ہے۔

 

۳۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوپر بیان ہوا کہ کس شان کا کلام ہے۔ کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ وہ قرآن کو جب وہ پڑھا جا رہا ہو بغور سنیں۔ کیا عجب کہ وہ بھی اس رحمت میں حصہ دار بن جائیں۔ جو لوگ قرآن پر اعتراض کرتے ہیں ان کے اعتراض کی وجہ بالعموم یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ تو قرآن کو غور سے پڑھتے ہیں اور نہ توجہ سے سنتے ہیں۔ اگر وہ غور سے پڑھیں یا توجہ سے سنیں تو ان کے تمام شکوک و شبہات رفع ہوں اور ان کو بھی نعمتِ ایمان نصیب ہو۔

 

آیت میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا اصل منشا وہی ہے جو اوپر بیان ہوا یعنی قرآن کی توجہ کے ساتھ سننے کی عام دعوت دینا لیکن ضمناً اس سے نماز کے بارے میں یہ حکم بھی مستنبط ہوتا ہے کہ جب امام قرآن سنا رہا ہو یعنی جہری قرأت کر رہا ہو تو مقتدیوں کو توجہ کے ساتھ قرآن سننا چاہئے اور خاموش رہنا چاہئے۔ رہا یہ سوال کہ جب امام سری قرأت کر رہا ہو تو مقتدیوں کو سورۂ فاتحہ پڑھنا چاہئے یا نہیں تو اس کے لیے احادیثِ صحیحہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے قرآن کو اپنے اپنے مسلک کی تائید میں کھینچنا بڑی غلط بات ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ قرآن سے فقہی مسائل میں جو واضح حکم یا رہنمائی ملتی ہو اس کو بلا تاویل قبول کیا جائے کہ وہ اصل ماخذ ہے اور تفصیلات کے لیے سنت ثابتہ کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ سنت قرآن کی شارح ہے۔ مگر جب تقلیدی ذہن پیدا ہو جاتا ہے تو لوگ اپنے اپنے اماموں اور اپنے مسلکوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کسی نہ کسی حدیث کا سہارا لے لیتے ہیں اور قرآن کو حدیث کا تابع بنا دیتے ہیں یا پھر قرآن اور حدیث دونوں کی ایسی تاویل کرتے ہیں کہ"رائے"اور"قیاس"کو قرآن و سنت پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کی اتباع کرنے والے کو اس بے راہ روی سے بچنا چاہئے۔

 

آیت میں اشارہ ہے کہ قرآن جب پڑھا جاتا ہے تو اللہ کی رحمت سایہ فگن ہوتی ہے۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس اشارہ کو اس طرح کھول دیا ہے:

 

"جو لوگ اللہ کے گھر (مسجد) میں مجتمع ہو کر کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو باہم پڑھتے پڑھاتے ہیں ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور ان پر رحمت چھا جاتی ہے اور فرشتے ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور اللہ ان کا ذکر اپنے مقربین میں کرتا ہے۔"

 

۳۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ذکر الٰہی کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ آدمی دل ہی دل میں اپنے رب کو یاد کرے اور دوسری یہ کہ زبان سے بھی اس کا ذکر کرے اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ عاجزی اور خوف کے ساتھ خدا کو یاد کرو اور جب زبان سے اس کا ذکر کرو تو پست آواز سے تاکہ آدمی آدابِ بندگی کو بھی ملحوظ رکھے اور ریا کاری کے فتنہ سے بھی بچے۔

 

واضح ہو کہ ذکر نہ تو زبان کی ورزش کا نام ہے کہ ہو حق کی صدائیں مخصوص انداز میں لگائی جائیں اور نہ مروجہ اصطلاح میں"ورد وظیفہ"ہے کہ زبان مخصوص کلمات کو دہراتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہو اور نہ عاجزی اور خوف کی کیفیت اس پر طاری ہو۔

 

رہے تسبیح کے دانے جو گھمائے جاتے ہیں تو واضح ہو کہ اسلام میں مالا جپنے کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ طریقہ غیر اقوام سے لیا گیا ہے اور جس اخفا کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنے کی ہدایت اس آیت میں دی گئی ہے اس سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے۔ تسبیح گھمانے سے ذکر الٰہی تو کم ہوتا ہے البتہ ذکر الٰہی کی نمائش زیادہ ہوتی ہے۔

 

صبح و شام کے اوقات احوال کے تغیر کے ہیں۔ گویا آدمی ان اوقات میں ایک حالت سے دوسری حالت میں داخل ہوتا ہے اس لیے خاص طور سے ان اوقات میں ذکر الٰہی کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی گئی۔

 

۳۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ آدمی اگر ذکر الٰہی کی عادت نہ ڈالے تو اس کے دل پر غفلت کے پردے پڑ جاتے ہیں۔ نماز سراسر ذکر الٰہی ہے لیکن نماز کے علاوہ بھی اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اور کاروبار میں مشغول ہوتے ہوئے ذکر الٰہی مطلوب ہے تاکہ آدمی اللہ سے کسی وقت بھی غافل نہ ہو۔

 

۳۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد مقرب فرشتے ہیں جن کو جاہل لوگ خدا بنا بیٹھے ہیں حالانکہ وہ خود اپنے کو اللہ کا بندہ سمجھتے ہیں اور اس کی عبادت میں سرگرم رہتے ہیں وہ اس کی پاکی بیان کرتے اور اسی کے آگے سر بسجود ہوتے ہیں۔ اگر تم اللہ کا تقرب چاہتے ہو تو تم کو بھی یہ ملکوتی صفت اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔

 

اس آیت پر سجدہ کرنا نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ آدمی اس بات کا اثر قبول کرے جو یہاں بیان ہوئی ہے اور فوری طور سے ثابت کر دے کہ وہ تکبر میں مبتلا نہیں ہے بلکہ اللہ کے آگے اپنا سر نیاز جھکا رہا ہے۔

 

65 سے نا مکمل

٭٭٭٭٭