دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ النّصر

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

پہلی آیت میں  نَصْرِ (نُصرت الہٰی) کے آنے کا ذکر ہوا ہے جس کی مناسبت سے اس سورہ کا نام اَلنَّصْر ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہونے والی یہ آخری سورہ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۵۶۱ بحوالہ نسائی ) سورہ کے مضمون سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے نیز جیسا کہ ابن عباس ک بیان ہے اس سورہ میں  یہ اشارہ موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے ابن عباس سے کہا کہ تم : اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہِ وَ الْفَتْحُ کے بارے میں  کیا کہتے ہو۔ انہوں  نے کہا کہ اس میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر دی گئی ہے کہ جب اللہ کی نصرت اور فتح آ گئی تو آپ کا وقت آن پورا ہوا لہٰذا آپؐ اللہ کی حمد و تسبیح اور استغفار کریں۔ حضرت عمر نے فرمایا میں  بھی یہی سمجھتا ہوں۔ (بخاری کتابُ  التفسیر) معلوم ہوا کہ یہ سورہ اس وقت نازل ہوئی جبکہ آپؐ کی وفات کا وقت بالکل قریب آ گیا تھا۔

 

مرکزی مضمون

 

 نصرت الٰہی اور غلبہ دین کے ظہور پر بارگاہ خداوندی میں  نذرانہ شکر پیش کرنا یعنی حمد و تسبیح اور استغفار کرنا۔

 

نظم کلام

 

 آیت ۱ میں  اللہ کی نصرت اور اس کی طرف سے ظاہر ہونے والی فتح۔۔  فتح مکہ۔۔ کا ذکر ہے۔

 

آیت ۲ میں  لوگوں  کے اجتماعی شکل میں  حلقہ بہ گوش اسلام ہونے کا ذکر ہے۔

 

آیت ۳ میں  اس فضل کے حاصل ہونے پر خدا کی مزید حمد و تسبیح ور استغفار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۱*  

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ اللہ کے دین میں  فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں  ۲ *  

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تسبیح کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ ۳*  اور اس سے مغفرت مانگو۴*۔ یقیناً وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ۵*  

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ نَصْر (مدد) سے مراد وہ نُصرت ہے جس کا ظہور غلبہ حق کی شکل میں  ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں  سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ لازماً ان کے مخالفین کے مقابلہ میں  ان کی مدد فرماۓ گا :

 

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَا لَّذِینَ آمَنُوْا فِی الحَیٰوۃ ا لدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُو مُ ا لْاَشْھَادُ۔ (المؤ من۔ ۵۱)

 

’’ یقیناً ہم اپنے رسولوں  کی اور ایمان لانے والوں  کی اس دُنیا میں  بھی مدد کرتے ہیں  اور اس دن بھی کریں  گے جب کہ گواہ کھڑے ہوں  گے ‘‘۔

 

اس مدد کا پورا پورا ظہور اس وقت ہوتا ہے جبکہ حق و باطل کی کشمکش آخری مرحلہ میں  داخل ہو جاتی ہے۔ اور یہی وہ مدد ہے جس کا انتظار رسول کے ساتھیوں  کو ہوتا ہے۔

 

مَتٰی نَصْرُ اللہِ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِیْبٌ۔ (البقرہ۔ ۲۱۴)

 

’’ کب آۓ گی اللہ کی مدد؟ یقین جانو ! اللہ کی مدد قریب ہے ‘‘۔

 

اور اسی مدد کو سورہ فتح میں  نَصْراً عَزِیْزاً (زبردست نصرت) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے جو ایک فیصلہ کن فتح تھی اور جس کے بعد مشرکین کا زور ٹوٹ گیا اور عرب میں  اسلام کو مکمل غلبہ حاصل ہوا۔

 

فتح مکہ کا واقعہ رمضان ۸ ھ (جنوری ۵۳۰ ء) کا ہے جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے دس ہزار جانباز ساتھیوں  کو لے کر مدینہ سے روانہ ہو گۓ تھے۔ مکہ میں   آپؐ بغیر کسی قابل ذکر مزاحمت کے داخل ہوۓ۔ اور اعلان فرمایا کہ جو شخص بھی ہتھیار ڈال دے گا اس امن دیا جاۓ گا۔ جو لوگ اسلام دشمنی میں  پیش پیش رہے تھے ان کو بھی آپؐ نے عام طور سے معاف کر دیا۔ اس موقع پر کتنے ہی لوگ آپؐ کی خدمت میں  حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوۓ۔ خانہ کعبہ میں  جو ایک بُت شکن رسول۔۔۔۔ حضرت ابراہیم۔۔۔۔ کا تعمیر کردہ تھا قریش نے ۳۶۰ بت بٹھاۓ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس نجاست سے خانہ کعبہ کو پاک کیا۔ بتوں  کو لکڑی سے گراتے جاتے اور یہ آیت پڑھتے جاتے :

 

جَاءَ الحقُّ وَزَھَنَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَا طِلَ کَا نَ زَھُوْ قاً ( بنی اسرائیل۔ ۸۱ )

 

’’ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کے لیے تھا۔ ‘‘

 

ان بتوں  میں  سب سے بڑا بت ہبل تھا۔ بت پرست جنگ کے موقعہ پر اسی کی جے پکارتے تھے لیکن آج وہ خود ڈھیر ہو گیا تھا شکست سے دوچار ہونے والوں  کی وہ کیا مدد کرتا۔ اس کے بعد آپؐ نے اس فتح یابی پر نماز شکر ادا کی اور صداۓ تکبیر بلند کرتے ہوۓ یہ حقیقت افروز اعلان فرمایا :

 

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ صَدَ قَ وَّعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الاحزاب وَحْدَہٗ۔ (ابو داؤد کتابُ الدّیات)

 

’’ اللہ جس کے سوا کوئی اِلٰہَ نہیں  اس نے اپنا وعدہ سچا کیا، اپنے بندہ کی مدد ی اور تمام جتھوں  کو تنہا شکست دی ‘‘۔

 

واضح رہے کہ عربی میں  اِذَا عام طور سے مستقبل کے لیے آتا ہے لیکن کبھی کبھی ماضی کے لیے بھی آتا ہے اور یہاں  قرینہ نیز حضرت ابن عباس کا مذکورہ بیان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ماضی کے مفہوم میں  ہے اس لیے ہم نے آیت کا ترجمہ ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ‘‘۔ کیا ہے جب کہ عام طور پر اس کا ترجمہ ’’ جب اللہ کی مدد اور اس کی فتح آۓ‘‘ یا ’’ آۓ گی ‘‘ کیا جاتا ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ فتح مکہ کا اثر قریش تک محدود نہیں  رہا بلکہ عرب کے مختلف علاقوں  میں  جو قبائل آباد تھے ان پر اس کے زبردست اثرات پڑے۔ ان قبائل کے نمائندے وفود کی شکل میں  مدینہ آنا شروع ہوۓ اور ۹ ھ اور ۱۰ ھ میں  بہ کثرت وفود نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں  حاضر ہو کر قبول اسلام کا اعلان کیا اور اجتماعی شکل میں  لوگ اسلام میں  داخل ہونے لگے۔ جس دین کے لیے قریش اکیس (۲۱) سال تک رکاوٹیں  پیدا کرتے رہے وہ دو سال کے اندر عرب کے گوشہ گوشہ میں  پھیل گیا یہاں  تک کہ اس سر زمین پر کوئی مشرک باقی نہ رہا۔ گویا فتح مکہ اس زبردست انقلاب کی تمہید تھی۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی غلبہ دین اور لوگوں  کے قبول اسلام کا یہ روح پرور منظر جو آپ نے دیکھا نصرت الٰہی کا نتیجہ ہے اس لیے اس فضل کے حاصل ہو جانے پر اے نبی آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور چونکہ آپ کی بعثت کا مقصد پورا ہو گیا ہے اس لیے آپ کو خدا کی حمد و تسبیح میں  زیادہ مشغول ہو جانا چاہیے۔

 

اس سے یہ اہم حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اہل ایمان کا اصل نصب العین خدا کو پانا ہے اور اس کے لیے اسے اپنی آخری سانس تک سعی و عمل کرنا ہے۔ غلبہ دین کی جد و جہد کے مرحلہ میں  بھی اور اس کی تکمیل کے بعد بھی۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں  خدا سے یہ دعا کرنا چاہیے کہ اس خدمت کو انجام دینے میں  جو کوتاہیاں  ہوئی ہوں  اور ذمہ داریوں  کی ادائیگی میں  بھول چوک ہوئی ہو اسے وہ معاف فرماۓ۔

 

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ہدایت کے کر اہل ایمان کی رہنمائی اس بات کی طرف کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی خدمت کے انجام پانے یا کسی فتح و کامرانی کے حاصل ہو جانے پر دنیا دار لوگوں  کی طرح اترانے اور فخر کرنے کے بجاۓ اسے اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ سمجھیں  اور اس کی حمد و تسبیح کریں  کہ تعریف کا مستحق وہی ہے نیز اس احساس کے ساتھ کہ معلوم نہیں  اس خدمت کے انجام دے دینے میں  کیا کیا کوتاہیاں  ہوئی ہوں  گی اپنے رب سے نہایت عاجزی کے ساتھ معافی کے خواست گار ہوں۔ ایسے موقع پر اہل ایمان کا رویہ یہی ہونا چاہیے اور انہیں  ان طور طریقوں  سے احتراز کرنا چاہیے جو ان کے اندر احساس بندگی کے بجاۓ احساس بر تری پیدا کرنے والے ہوں۔

 

ایسی عظیم فتح اور ایسا زبردست غلبہ حاصل ہو جانے کے بعد قرآن نے جشن منانے کا حکم نہیں  دیا بلکہ بار گاہ خدا وندی میں  شکر و بندگی کا نذرانہ پیش کرنے کا حکم دیا جو اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ یہ اعلیٰ تعلیم وحی الہٰی ہے اور اس کو پیش کرنے والی شخصیت پیغمبر خدا ہی کی شخصیت ہو سکتی ہے۔

 

حدیث میں  آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دن میں  سو (۱۰۰) مرتبہ استغفار پڑھا کرتے تھے (مسلم کتابُ الذکر) نیز بخاری کی حدیث میں  ہے کہ اس سورہ کے نازل ہونے کے بعد آپ رکوع و سجود میں  بہ کثرت یہ پڑھا کرتے تھے۔

 

سَبْحَانَکَ اَللَّھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ اَ لَّلھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ (بخاری کتاب التفسیر)

 

’’ پاکی تیرے ہی لیے ہے اے اللہ ہمارے رب میں  تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں۔ خدایا میری مغفرت فرما۔ ‘‘

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تواّب (بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا) بیان  ہوئی ہے جو منفی اور مثبت دونوں  پہلوؤں  کو لیے ہوۓ ہے۔ منفی پہلو کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بندہ اس سے معافی مانگے اور توبہ کرے تو وہ اس کو معاف کر دیتا ہے اور اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور مثبت پہلو  کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ جب اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ بندہ کی طرف اپنی مہربانیوں  کے ساتھ متوجہ ہو جاتا ہے۔ یہاں  اس صفت کا ذکر اس مفہوم میں  ہے کہ تم امید رکھو کہ وہ نہ صرف تمہاری معافی کی درخواست (استغفار) قبول فرماۓ گا بلکہ تم پر اپنی نظر عنایت بھی فرماۓ گا اور اپنی مہربانیوں  کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ رہے گا۔