دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ التّحْریم

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

پہلی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حلال چیز کو اپنے اوپرحرام کر دینے پر احتساب ہوا ہے ۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’’ التحریم‘‘ ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور آیت ۹ میں منافقوں سے جہاد کرنے کا جو حکم دیاگیا ہے وہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سورہ ۹ ۰؁ھ میں نازل ہوئی کیونکہ منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم غزوئہ تبوک کے بعد دیاگیا تھا جیسا کہ سورۂ توبہ آیت ۷۳ سے واضح ہے ۔

 

مرکزی مضمون

 

اپنی بیویوں کی محبت کو اس قدر غالب نہ آنے دیں کہ ان کی خاطر کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیں نیز ان کی اصلاح کی طرف سے غافل نہ ہوں اور ان کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں تاکہ انہیں آحرت کے بُرے انجام سے بچایا جاسکے ۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۵ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لغزش پر جو آپ سے اپنی ازواج کے ساتھ دلداری میں ہوئی تھی احتساب کرتے ہوئے ازواج مطہرات کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض گھریلو معاملات میں ناراضگی پر گرفت کی گئی ہے اور انہیں اصلاح کی طرف متوجہ کیاگیا ہے ۔

 

آیت ۶ تا ۸ میں اہل ایمان کو اپنی بیویوں کی اصلاح کی طرف سے بے فکر نہ ہونے اور اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ انہیں آخرت کے عذاب سے بچانے کی پوری کوشش کی جائے ۔

 

آیت ۹  میں کفار اور منافقین سے جہاد کا حکم دیاگیا ہے ۔ یہ حکم یہاں اس مناسبت سے ہے کہ وہ ہمیشہ ایک نہ ایک فتنہ برپا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ ازواج مطہرات کے خلاف بھی فتنہ سامانی کرتے نیز اس بات کے درپے تھے کہ اہل ایمان کی عورتیں بھی ان کی گمراہ کن باتوں سے متاثر ہوں ۔

 

آیت ۱۰ میں ان دو عورتوں کے واقعات سے عبرت دلائی گئی ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے ان سے بے وفائی کی۔

 

آیت ۱۱ اور ۱۲ میں دو نیک خواتین کی مثالیں پیش کی گئی ہیں جن کی سیرت کی بلندی کے آگے آسمان بھی سرنگوں ہے ۔

ترجمہ

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اے نبی ! تم اپنی بیویوں کی رضا مندی کی خاطر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے ؟ اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔ ۱*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے  (ایسی)قسموں کا کھول دینا تم پر فرض کیا ہے ۔ ۲* اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ علم والا حکمت والا ہے ۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب نبی نے اپنی بیوی سے راز میں ایک بات کہی پھر جب اس بیوی نے اسے ظاہر کر دیا اور اللہ نے نبی کو اس سے باخبر کر دیا تو نبی نے (اس بیوی کو)کسی حد تک خبردار کیا اور کسی حد تک درگذرکیا۔ جب نبی نے بیوی کو یہ بات بتلائی تو اس نے پوچھا آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ نبی نے کہا مجھے اس نے خبردی جو سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ۔ ۳*

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم دونوں اللہ کے حضور توبہ کرو تو (تمہارے لیے بہتر ہے )تمہارے دل اس کی طرف مائل ہو چکے ہیں اور اگر تم دونوں مل کر اس کو ناراض کرو تو (یاد رکھو) اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اس کے بعد جبرئیل اور صالح مومنین اور فرشتے اس کے مددگار ہیں۔ ۴*

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دیدے تو عجب نہیں کہ اس کا رب تمہارے بدلہ میں تم سے بہتر بیویاں اس کو عطا فرمائے۔ ۵* مسلمہ، مومنہ، اطاعت گذار ، توبہ کرنے والی، عباد ت گذار ، سیاحت کرنے والی، ۶* شوہر آشنا ۷* اور کنواری۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ ۸* جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے ۔۹* جس پر سخت مزاج اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اس کی وہ تعمیل کرتے ہیں ۔ ۱۰*

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اے کافرو! آج عذر پیش نہ کرو۔ تمہیں ایسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسا تم عمل کرتے رہے ۔ ۱۱*

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! اللہ کے حضور توبہ کرو خالص توبہ ۱۲* عجب نہیں کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔۱۳* جس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ وہ دعا کررہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے ۔ ۱۴* اور ہمیں بخش دے ۔ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ ۱۵* ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے پہنچنے کی۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح اور لوط کی بیویوں کی۔ دونوں ہمارے صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کی تو وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی کام نہ آ سکے ۔ اور دونوں عورتوں سے کہہ دیاگیا کہ تم بھی آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔۱۶*

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایمان والوں کے لیے اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جب کہ اس نے دعا کی اے میرے رب ! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور فرعون اور اس کے عمل سے مجھے نجات دے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے ۔ ۱۷*

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مریم بنت عمران کی مثال پیش کرتا ہے جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ۔ پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی۔ اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گذار لوگوں میں سے تھی۔ ۱۸*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں سے کسی نے کسی چیز کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اس لیے آپ نے ان کی دلجوئی کی خاطر اس چیز کو قسم کھاکر اپنے اوپر حرام کر لیا۔ یہ بات اگرچہ آپ کی اپنی ذات تک محدود تھی اور اسے راز میں رکھنے کی ہدایت بھی آپ نے اس زوجہ محترمہ کو کی تھی لیکن انبیاء کی لغزشوں پر اللہ تعالیٰ برملا انہیں متنبہ فرماتا ہے تاکہ بر وقت ان کی اصلاح ہو اور ان کی سیرت پر کوئی حرف نہ آئے اور لوگوں کے لیے صحیح رہنمائی کا سامان ہو۔

 

یہ محض ایک لغزش تھی اور اپنے اوپر حرام کرنا اس معنی میں نہیں تھا کہ اللہ نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے بلکہ اس معنی میں تھا کہ میں نے اسے اپنے لیے ممنوع کر دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاں اس لغزش پر متنبہ فرمادیا ہیں اس لغزش کی معافی کا بھی اعلان کر دیا جیسا کہ آیت کے آخری فقرہ سے واضح ہے ۔ ا ب جس چیز کو اللہ معاف کرچکا ہو اس پر کسی کو انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیاچیز اپنے اوپر حرام کر دی تھی اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں اس کی صراحت فرمائی تو ہم اس کو کرید نے کی کوشش کیو ں کریں ؟ قرآن کے اجمالی بیان پر جو اصل مقصد کو پورا کرتا ہے ہمیں اکتفاء کرنا چاہیے ۔ لیکن روایوں نے قیاس سے کام لے کر کچھ واقعات بیان کئے ہیں اور مفسرین نے ان کو نقل کیا ہے ۔ ان میں مشہور دو واقعات ہیں ۔ ایک واقعہ حضرت ماریہ قبطیہ کے بارے میں ہے ۔ جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم تولد ہوئے تھے اور پھر بچپن ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ماریہ قبطیہ کے تعلق سے ایک ایسی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہے جو آپ کے اخلاق سے بالکل فروتر ہے اور اس قدر لغو ہے کہ ہم اس کو نقل کرنا بھی آپ کی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں امام نووی نے بھی صاف تصریح کی ہے کہ ماریہ کے باریمیں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے اور علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں :

 

’’ یہ بحث اصول روایت کی بنا پر تھی درایت کا لحاظ کیا جائے تو مطلق کدو کاوش کی حاجت نہیں جو رکیک واقعہ ان روایتوں میں بیان کیاگیا ہے اور خصوصاً طبری وغیرہ میں جو جزائیات مذکور ہیں وہ ایک معمولی آدمی کی طرف منسوب نہیں کئے جاسکتے ، نہ کہ اس ذات پاک کی طرف جو تقدس و نزاہت کا پیکر تھا۔‘‘(سیرت النبی اردو، ج ۱ ص ۱۵۰)

 

دوسرا واقعہ شہد کو اپنے اوپر حرام کرنے کا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ زینبؓ بنت جحش کے پاس کچھ دیر ٹھہرا کرتے اور ان کے پاس شہد پیا کرتے تھے حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں نے اور حفصہؓ نے اتفاق کیا کہ وہاں سے آپ جس بیوی کے پاس تشریف لائیں وہ یہ کہے کہ آپ کہ منہ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے ( مغافیر جنگلی پھول ہوتے ہیں جن کی بو اچھی نہیں ہوتی) چنانچہ آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے تو انہوں نے یہی بات کہی۔ اس پر آپ نے آئندہ شہد کھانے سے انکار کیا۔ یہ روایت اگرچہ بخاری اور مسلم میں موجود ہے مگر گوناگوں وجوہ سے قابل اعتبار نہیں ہے :

 

اولاً شہد سے متعلق روایات میں بڑا ضطراب ہے ۔ کسی روایت میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے شہد حضرت زینبؓ بنت جحش کے ہاں پیا تھا تو کسی میں بیان ہوا ہے کہ حضرت حفصہ کے ہاں نوش فرمایا تھا۔ صحیح بخاری کی روایتوں میں بھی یہ تضاد موجود ہے ( ملاحظہ ہو بخاری کتاب الطلاق) اور صحیح مسلم کی روایتوں میں بھی( ملاحظہ ہو مسلم کتاب الطلاق) جب راوی کو اس بارے میں وثوق نہیں ہے تو اس کی روایت پرکس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔

 

ثانیاً بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے صرف حضرت حفصہؓ سے کہا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ مغافیر کی بو آتی ہے لیکن دوسری روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے یہ بات دوسری ازواج سے بھی کہی تھی اور انہوں نے ویسا ہی کیا۔

 

ثالثاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذوق نہایت اعلیٰ اور نفیس تھا۔ آپ ایسا شہد کیوں کھاتے جس میں متنفر کرنے والی بو ہو؟ پھر یہ بو بھی ایسی دیرپا تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باری باری تمام ازواج کے گھر تشریف لے گئے اور آخر وقت تک بو قائم رہی؟ یہ افسانہ نہیں تو کیا حقیقت ہے ؟

 

رابعاً شہد ایک حلال چیز ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کی خصوصیت قرآن میں یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے شفاء ہے ( سورۂ نحل آیت ۶۹) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پینے کی ترغیب لوگوں کو دیتے رہتے تھے ۔ ایسی چیز آپ اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ؟

 

خامساً بخاری ہی کی ایک حدیث میں جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے اور جس میں حضرت عمرؓ نے تظاہرا( ناراضگی کے اظہار کے لیے ایکا) کرنے والیوں کے نام عائشہؓ اور حفصہؓ بتلائے ہیں مگر اس میں شہد کے واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ تمام ازواج مطہرات کی طرف سے نفقہ( خرچ) میں اضافہ کے مطالبہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنجش اور پھر ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے علیحدگی کا واقعہ بیان ہوا ہے اور اس کے ساتھ تخے یر( ازواج مطہرات کو آپ کی رفاقت میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دینے ) کے واقعہ کو بھی جوڑ دیاگیا ہے حالانکہ تخے یر کا یہ واقعہ   ۰۵؁ھ کا ہے جس کے بارے میں سورۂ احزاب کی آیت ۲۸ نازل ہوئی تھی اور سورۂ احزاب کا نزول   ۰۵؁ھ میں ہوا تھا۔ جب کہ سورۂ تحریم   ۰۹ ؁ھ میں نازل ہوئی ہے ۔

 

اس سے اندازہ ہوا ہوگا کہ سورۂ تحریم کی آیات کی تفسیر ی روایات میں بہت زیادہ الجھاؤ ہے اس لیے ان روایات کو محض ان کی اسناد کی بنا پر قبول نہیں کیا جاسکتا اور قرآن کے مجمل بیان پر اکتفاء کرنے ہی میں سلامتی ہے اور خاص طور سے اس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے اور نہ ازواجِ مطہرات کے بارے میں یہ تاثر دیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آپ کے خلاف کوئی سازش کی تھی۔ جو واقعہ بھی پیش آیا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ واقعہ کیا تھا لغزش کی نوعیت کا تھا مگر اس لغزش پر ازواجِ مطہرات کو آگے جو سخت تنبیہ کی گئی ہے وہ اس لیے کی گئی ہے کہ ان کا معاملہ ایک نبی سے اور ان کا مقام امہات المومنین ؓ کا تھا۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ایسی قسموں کو جو اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرامکر دینے کی غرض سے کھائی گئی ہوں کھول دینا شریعت میں بالکل جائز ہے لہٰذا ان کو ختم کر دینا چاہیے ۔ رہا قسم توڑنے کا کفارہ تو اس کا حکم سورۂ مائدہ آیت ۸۹ میں بیان ہوا ہے ۔

 

واضح رہے کہ سورۂ مائدہ پہلے نازل ہو چکی تھی اور سورۂ تحریم بعد میں نازل ہوئی ہے ۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ سے سے راز میں ایک بات کہی تھی لیکن انہوں نے یہ بات آپ کی دوسری زوجہ محترمہ پر ظاہر کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے باخبر کیا۔ آپ نے راز ظاہر کرنے والی بیوی کو اس بات سے آگاہ کیا کہ تم نے یہ راز دارانہ بات ظاہر کر دی۔ مگر آپ نے اپنی خوش اخلاقی کی بنا پر اس کا سرسری طور سے ذکر کیا اور اس پر سخت گرفت نہیں کی بلکہ درگذر سے کاملیا۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی۔ آپ نے فرمایا مجھے خدا ئے علیم و خبیر نے اس سے با خبر کیا۔

 

یہ راز کی بات کیا تھی اس کی صراحت نہ قرآن نے کی اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی صراحت فرمائی۔ اور صراحت کا سوال پیدا بھی نہیں ہوتا کیونکہ آپ کی ایک زوجہ محترمہ کے دوسری زوجہ محترمہ پر راز ظاہر کر دینے ہی پر تنبیہ نازل ہوئی ہے تو ہمارا اس راز کی بات کی کھوج لگانے کی کوشش کرنا اور اس بارے میں قیاس آرائیاں کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے ؟ مگر روایات میں یہ قیاس آرائیاں موجود ہیں اور تفسیریں بھی اس سے خالی نہیں ہیں ہمان روایتوں سے تعرض کرنا غیر ضروری سمجھتے ہیں ۔ ان کا کوئی وزن مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر تسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ سلسلہ کلام سے یہ بات واضح ہے کہ یہ متعدد واقعات نہیں تھے ۔ بلکہ ایک واقعہ ہی تھا اور وہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر دینا اور وہ بات تھی جو آپ نے راز دارانہ طریقہ پر اپنی ایک زوجہ محترمہ سے کہی تھی لیکن جیسا کہ اوپر ہم وضاحت کر آئے ہیں کہ یہ کیا چیز تھی ہمیں نہیں معلوم۔

 

آیت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی کیونکہ راز کو ظاہر کرنے کی جو خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی تھی اس کا ذکر قرآن میں سورۂ تحریم سے پہلے کہیں بھی نہیں ہوا ہے اور یہ بات بہ کثرت دلائل سے ثابت ہے کہ آپ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  تم دونوں سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو محترم بیویاں ہیں جن میں سے ایک نے دوسری پر راز کی بات ظاہر کر دی تھی ۔ یہ دونوں کون تھیں اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی کیونکہ ہمارے لیے اس کو جاننا ضروری نہیں ۔ روایتوں میں ایک راوی نے دو نام پیش کئے ہیں دوسرے راوی نے اس سے مختلف دوسرے نام پیش کئے ہیں ۔ چنانچہ بخاری کی روایت میں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کا نام لیا گیا ہے (کتاب الطلاق) تو مسلم کی روایت میں حضرت عائشہؓ، حضرت سودہ ؓاور حضرت صفیہؓ کے نام لیے گئے ہیں ( کتاب الطلاق)روایتوں کے اس تضاد کے پیش نظر ازواجِ مطہرات میں سے کسی کا نام لے کر ان پر یہ الزام لگانا صحیح نہیں ۔

 

بہر صورت جس زوجہ محترمہ نے راز ظاہر کر دیا تھا وہ تو قصور وار تھیں ہی لیکن انہوں نے جس زوجہ محترمہ پر یہ راز ظاہر کر دیا تھا وہ بھی قصور وار تھیں ۔ ان کا قصور غالباً یہ تھا کہ انہوں نے راز کی بات سن کر یہ محسوس کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بات چھپائی تھی اور اس بنا پر آپ سے ناراض ہو گئیں ۔

 

اس لیے دونوں خواتین کو توبہ کی ہدایت کی گئی جس میں یہ اشارہ بھی مضمر تھا کہ اگر چہ ان کا ظاہری رویہ یہ ہے مگر ان کو اپنے قصوروں پر ندامت کا احساس ہے اور ان کے دل توبہ کی طرف مائل ہیں ۔ ساتھ ہی انہیں متنبہ کیاگیا کہ اگر تم دونوں نے مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی برقرار رکھی تو یاد رکھو ناراضگی کا یہ معاملہ کسی شخص سے نہیں بلکہ اس شخصیت سے ہے جو نبوت کے منصب پر سر فراز ہے اور جس کا مولیٰ اور رفیق اللہ تعالیٰ ہے اور جس کے مددگار جبرئیل، صالح مومنین اور فرشتے ہیں ۔ ایسی بلند و بالا شخصیت سے تم ناراض ہو کر کیا حاصل کرنے والی ہو اور اس ناراضگی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک مجلس ہرگز سونی پڑنے والی نہیں ۔

 

صالح مومنین کا مددگار ہونا معروف معنی میں ہے اسی طرح فرشتوں کا مددگار ہونا بھی معروف معنی ہی میں ہے ۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ بات بھی تنبیہ کے طورپر تھی جو عمومیت کے ساتھ تمام ازواج مطہرات سے گہی گئی تاکہ سب آئندہ محتاط رہیں ۔ فرمایا اگر نبی نے تم ازواج مطہرات کو طلاق دی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تم سے بہتر ازواج عطا فرمائے گا اور وہ ان ان صفات کی حامل ہوں گی۔ یہ اس بات کی ترغیب تھی کہ ازواجِ مطہرات اپنے اندر یہ اوصاف بدرجہ کمال پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  سیاحت کے معنی اس سفر کے ہیں جو عبادت کی غرض سے کیا جائے ( دیکھئے لسان العرب ج ۲ ص ۴۹۴) مثلاً ہجرت حج، جہاد وغیرہ کا سفر۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ توبہ نوٹ ۲۰۵۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  شوہر آشنا عورتیں جن کی طلاق ہو گئی ہو یا جن کے شوہروں کا انتقال ہوگیا ہو غیر معمولی خوبیوں کی حامل ہو سکتی ہیں اور اس بنا پر وہ قدر کی مستحق ہیں ۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جہنم کی آگ سے اپنے کو بھی بچانے کا سامان کرو اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچانے کی کوشش کرو۔ ایک مسلمان کی اپنے گھر والوں کے تعلق سے ذمہ داری بہت بڑی ہے ۔ وہ اپنے بیوی بچوں کو ان باتوں سے خبردار کرے جو جہنم میں لے جانے والی ہیں ۔ انہیں دین کی صحیح معلومات بہم پہنچائے ۔ اللہ کے احکام سے انہیں واقف کرائے ، فرائض بالخصوص نماز کی پابندی کی تاکید کرے برائیوں سے سے بچنے کی ہدایت کرے اور گھر کا ماحول ایسا بنائے کہ بال بچے صحیح اسلامی زندگی گذارسکیں ۔ آج کل ٹی وی اور ویڈیو نے گھروں کا ماحول خراب کر کے رکھ دیا ہے ۔ ان چیزوں پر کنٹرول کی بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ کوئی بری چیز گھر میں دیکھی نہ جاسکے ۔

 

بچوں کی ایسی تعلیم جس سے ان میں دینی شعور پیدا ہو اور ان کی ایسی تربیت کہ ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی پیدا ہو؟ نیک روی اختیار کریں اور شریف اور مہذب بن کر رہیں ہر مسلمان کی اپنے گھر کے تعلق سے ذمہ داری ہے مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کو اپنے بچوں کے دنیوی مستقبل کو ’’ روشن‘‘ کرنے کی جتنی فکر ہے اتنی ان کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی نہیں ۔ انہیں قیامت کے دن احساس ہوگا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے تعلق سے کیسی غفلت برتی اور کس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  جہنم کا ایندھن ایک تو وہ انسان ہوں گے جو کفر کی موت مرے ۔ دوسرے وہ پتھر ہوں گے جو پوجے جاتے رہے یعنی مشرکین اپنے بتوں سمیت جہنم میں جلتے رہیں گے تاکہ انہیں احساس ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن کی وہ پرستش کرتے رہے وہی ان کو جہنم میں لے کر پہنچے اور ان کے لیے جہنم کی آگ کو بھڑکارہے ہیں ۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ انبیاء نوٹ ۱۴۴۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  فرشتوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایسے اطاعت گذار ہوتے ہیں کہ اس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ۔ دوزخ پر جو فرشتے مامور ہوں گے وہ نہایت سخت مزاج اور سخت گیر ہوں گے اس لیے وہ دوزخ والوں کے ساتھ کوئی نرمی برتنے والے نہیں اور ان کو عذاب دینے کا جیسا کچھ حکم ہوگا اس کی وہ تعمیل کریں گے ۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جہنم جانے والے کافر اپنے کفر و شرک کے بارے میں عذرات پیش کرنے لگیں گے لیکن ان سے کہا جائے گا کہ اب عذر پیش کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جارہا ہے بلکہ تم اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہو۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  ’’ توبۃ نصوحا‘‘  خالص توبہ کا مطلب ہے ایسی توبہ جو سچے دل سے گناہ پر ندامت کے ساتھ اور آئندہ اس کا ارتکاب نہ کرنے کے ارادہ سے کی گئی ہو۔ یہ حکم تمام اہل ایمان کو دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی پچھلی غلطیوں کو جو انہوں نے اپنے بال بچوں کے تعلق سے کی ہوں محسوس کریں اور اپنی اصلاح کریں ۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  سچی توبہ کی جزا یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹادے گا اور جنت عطا فرمائے گا۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  اس نور کی تشریح سورۂ حدید نوٹ ۲۲ میں گزر چکی۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم اس مناسبت سے یہاں دیاگیا ہے کہ یہی لوگ تھے جو مسلم معاشرہ میں فتنے برپا کرنے کی کوشش کرتے ۔ منافقوں کے سلسلہ میں یہ سخت حکم اس وقت نازل ہوا جبکہ ان کی منافقت اور اسلام دشمنی بالکل کھل کر سامنے آ گئی تھی۔ ایسے کھلے منافقوں کو جو سوسائٹی میں فتنہ اور فساد برپا کرتے رہتے تھے قتل تک کی سزا دینے اور جہاں ان کی کوئی جمیعت ہو ان سے جنگ کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ اسلامی معاشرہ کو ان مفسد عناصر سے پاک کیا جاسکے ۔ منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم غزوۂ تبوک کے بعد  ۰۹   ھ میں نازل ہوا تھا دیکھئے سورۂ توبہ آیت ۷۳ نوٹ ۱۴۲۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  حضرت نوح اور حضرت لوط بنی تھے ۔ ان کی بیویوں نے ان کے ساتھ خیانت ( بے وفائی) کی۔ یہ خیانت دین کے معاملہ میں تھی یعنی انہوں نے ان پیغمبروں کے دین کو دل سے قبول نہیں کیا اور کافروں کی حامی بنی رہیں ۔ نتیجہ یہ کہ وہ عذاب کی مستحق ہو گئیں اور یہ پیغمبر ان کو عذاب سے نہ بچاسکے ۔

 

ان دو عورتوں کے مثال میں بہت بڑی عبرت ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے یہاں جزا و سزا کا معاملہ عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ اس سلسلہ میں رشتہ داریاں کچھ بھی کام نہ آئیں یہاں تک کہ ایک نبی کی بیوی بھی اگر کافرہ ہے تو وہ سزا سے نہیں بچ سکتی۔ حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویاں اگرچاہتیں تو ان پیغمبروں کی صحبت سے فائدہ اٹھاکر بہت اونچا مقام حاصل کرسکتیں تھیں مگر کفر اور بے وفائی نے ان کو جہنم میں پہنچادیا۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر دو کافر عورتوں کی مثال پیش کی گئی تھی ۔ یہاں دو ایسی خواتین کی مثال پیش کی جارہی ہے جنہوں نے ایمان لاکر نہایت اعلیٰ کردار کا ثبوت دیا جس کے صلہ میں ان کو نہایت بلند مقام حاصل ہوا۔ ان میں سے پہلی خاتون فرعون کی بیوی ہے جو فرعون کے ساتھ اس کے محل میں رہتی تھی جہاں ہر قسم کی عیش و عشرت کا سامان تھا لیکن وہ ایمان لائی تھی اس لیے کفر کا یہ ماحول اسے پسند نہیں تھا لہٰذا محل میں رہتے ہوئے بھی وہ گھٹن کی زندگی گذار رہی تھی اس کے دل سے جو دعا نکلی وہ اس کے ایمانی جذبات اور آخرت پر یقین کی ترجمانی کرتی ہے ۔ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! مجھے آخرت کا گھر مطلوب ہے تو میرے لیے اپنے پاس گھر بنا دے اور اس کافرانہ اور ظالمانہ ماحول سے مجھے نجات دے ۔ وہ فرعون کے پاس رہنے کے لیے مجبور تھی اور اس کی صحبت میں رہنے سے اسکی بہت سی غلط باتیں بھی اس کو برداشت کرنا پڑ رہی ہوں گی یہ اس کے لیے سخت آزمائش تھی اس لیے اس نے فرعون اور اس کے عمل سے نیز اس ظالم قوم سے جس کا سربراہ فرعون تھا نجات کے لیے دعا کی۔

 

اس مثال سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ایک مسلمان خواہ وہ مرد ہو یا عورت اگر کاگروں یا ظالموں کے ماحول میں گھر گیا ہو تو اس کا ایمان اس کو اس سے متنفر کر دے گا اور وہ اس کی آلائشوں سے بچنے کی کوشش کے ساتھ اللہ سے نجات کے لیے دعا کرے گا۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ دوسری مومن خاتون کی مثال ہے جو صداقت اور عصمت و عفت کا پیکر تھیں ۔ یہ تھیں عمران کی بیٹی حضرت مریم۔ ان کو ایک غیر معمولی آزمائش سے گذرنا پڑا۔ وہ کنواری تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کو بھیج کر ان کے اندر روح پھونک دی جس سے وہ حاملہ ہو گئیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہو گئے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا معجزہ تھا جو حضرت مریم کے ذریعہ ظہور میں آیا لیکن اس سلسلہ میں انہیں قوم کی طرف سے بہت کچھ سننا اور برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے اس نازک موقع پر بڑے تحمل سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکیزگی غیر معمولی طریقہ سے ظاہر کر دی۔

 

حضرت مریم نے ان کلمات کی بھی تصدیق کی جو اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کے ذریعہ ان پر القا کئے تھے ۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی ولادت کی خوشخبری دی تھی اور ان کے تولد کے موقع پر نیز اس کے فوراً بعد انہیں خصوصی ہدایات دی گئی تھیں جن کا ذکر سورہ مریم میں ہوا ہے ۔ وہ ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتی تھیں جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئیں اور انہوں نے ایک اطاعت شعار مومنہ کی حیثیت سے زندگی بسر کی تھی۔ ان کی عظمت کا نشان ان کا یہی مضبوط اور اعلیٰ کردار ہے او ر اس کردار ہی نے ان کو بلند ترین مقام پر فائز کیا۔

 

٭٭٭٭٭