دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الفَلَق

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

 پہلی آیت میں  لفظ فَلَق آیا ہے جس کے معنیٰ صبح کے ہیں۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام اَلْفَلَق ہے سورہ فلق اور سورہ ناس دونوں  استعاذہ کی سورتیں  ہیں  اس لیے ان کا مشترکہ نام مُعَوِّذَتَینِ (پناہ والی سورتیں ) بھی ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی ہو گی جب کہ شیطانی قوتیں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو شر پہنچانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں  اور آپ کے مخالفین حسد کی آگ میں  جل رہے تھے۔

 

مرکزی مضمون

 

بندوں  کو اس بات کی تعلیم دینا ہے کہ وہ ہر قسم کے شر کے مقابلہ میں  اللہ ہی کی پناہ ڈھونڈیں  کہ وہی اکیلا پناہ دہندہ ہے۔ اس سلسلہ میں  ایسے دعائیہ کلمات سکھاۓ گۓ ہیں  جو استعاذہ کے لیے موزوں  ترین ہیں۔

 

 

نظم کلام

 

 آیت ۱ میں  اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ بندہ پناہ کے لیے اسی ہستی کی طرف رجوع کرے جس کی ربوبیت کے کرشمے وہ رات دن دیکھ رہا ہے۔

 

فضیلت

 

اس سورہ میں نیز اس کی بعد والی سورہ میں  پناہ مانگنے کے لحاظ سے جو جامع کلمات اور جو مؤثر دعا ارشاد ہوئی ہ اس کی اہمیت و فضیلت حدیث میں  اس طرح بیان ہوئی ہے۔ عُقبہ بن عامر کہتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا ، اَنزِلَتْ عَلَیَّ آیَاتٌ  لَمْ یُرَ مَثْلَھُنَّ قَطُّ : اَلْمُعَوِّ ذَتَیْنِ ’’مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں  جو بالکل بے مثال ہیں  یعنی مُعَوِّ ذَتَیْن ‘‘۔ (مسلم کتاب صلاۃ المسافرین)۔

 

برکتیں

 

حدیث میں  آتا ہے :

 

عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنھا قَاَلَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلیٰ اللہِ علیہ و سلم اذا آویٰ اِلٰی فِرَاشِہٖ نَفَثَ فِیْ کَفَّیْہِ بَقُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ لْمُعَوِّذَ تیْنِ جَمیْعاً ثُمَّ یَمْسَحُ بِھِمَا وَجْہَہٗ وَمَا بَلَغَتْ یَدَاہُ مِنْ جَسَدِہٖ۔ (بخاری کتاب الطب)۔

 

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بستر پر جاتے تو اپنے دونوں  ہاتھوں  میں  قُل ھُو اللہُ اَحَدْ اور مُعَوِّ ذَتَین پڑھ کر پھونکتے پھر ان کو اپنے چہرے اور جسم پر جہاں  تک کہ ہاتھ پہنچ جاتا پھیر لیتے ‘‘۔

 

تعویذ گنڈوں  سے بچتے ہوۓ ان سورتوں  کی برکتوں  سے فیض اور شفاء حاصل کرنے کا یہ صحیح اور مسنون طریقہ ہے مگر یاد رہے کہ سورہ کا اصل مقصد توحید پر جمے رہنا ، اس کے تقاضوں  کو پورا کرنا اور اس بات کا خاص طور سے خیال رکھنا ہے کہ عقائد میں  شرک کا کوئی شائبہ نہ پایا جاۓ۔ جو لوگ اس مقصد عظیم کو نظر انداز کر کے کلام الٰہی کی صرف ظاہری برکتوں  کو حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں  ان کی مثال اس پیاسے شخص کی سی ہے جو دریا کے کنارے بیٹھ کر اپنے ہاتھ اور اپنا منہ دھو لیتا ہے مگر پانی پینے کی زحمت گوارا نہیں  کرتا۔ ظاہر ہے اس کے اس عمل سے ہاتھ اور منہ تو دھل جائیں  گے لیکن اس کی پیاس ہر گز بجھ نہ سکے گی۔

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو،۱*  میں  پناہ مانگتا ہوں  ۲*  صبح کے رب کی ۳*  

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اس کے شر سے ۴*  

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب کہ وہ چھا جاۓ ۵*  

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اور گرہوں  میں  پھونکنے والوں  کے شر سے ۶*  

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے ۷*  

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ سے یہ دعا کیا کرو اور اس کی پناہ ان کلمات کے ذریعہ مانگا کرو۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے اور آپ کے واسطہ سے ہر اس شخص سے جو قرآن پر ایمان لایا ہو۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ پناہ کے معنی حفاظت ، بچاؤ اور امان کے ہیں۔ اور پناہ مانگنے سے مراد اپنی حفاظت کے لیے پناہ دینے ولی ہستی سے دعا کرنا، اس کی طرف رجوع کرنا ، اس کا سایہ عاطفت ڈھونڈنا اور اس کے سہارے کو مضبوطی کے ساتھ تھام لینا ہے۔ پس یہاں  اَعُوْذُ (میں  پناہ مانگتا ہوں ) کا مطلب یہ ہے کہ میں  خدا کو واحد پناہ دہندہ مان کر اپنے کو اس کی حفاظت میں  دے دیتا ہوں  وہی ہر قسم کے شر سے بچانے والا ہے اور میں  اسی سے بندی کا تعلق استوار کرتا ہوں۔

 

واضح رہے کہ کسی کو حقیقی معنی میں  پناہ دہندہ سمجھنا اس کو خدا قرار دینا ہے اس لیے اللہ کے سوا کسی کی پناہ مانگنا جیسا کہ مشرکین دیوی دیوتاؤں  کی پناہ مانگتے ہیں  کھلا شرک ہے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو رات کی تاریکی کا پردہ چاک کر کے صبح نمودار کرتا  ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے فَالِقُ الْاِصْبَاحِ (رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح نمودار کرنے والا۔ الانعام : ۹۶)۔ یہاں  اللہ کی صفت ربوبیت کے ساتھ اس کے اس کرشمہ قدرت کا ذکر اس معنیٰ میں  ہے کہ گویا پناہ لینے والا اپنے اس یقین اور اطمینان کا اظہار کر رہا ہے کہ جو ہستی تاریکی کو پھاڑ کر صبح کو ظہور میں  لاتی ہے وہ مایوس کن حالات میں  امید کی کرن بھی پیدا کرے گی اور فتنوں  کے ہجوم کو چھانٹ کر امن و عافیت کی راہ بھی کھولے گی۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت پر غور کرنے سے درج ذیل باتیں  واضح ہوتی ہیں :

 

(۱) سب چیزیں  اللہ ہی کی پیدا کردہ ہیں۔ خالق تنہا وہی ہے اور مالک بھی وہی اس لیے کوئی چیز بھی خالق کائنات سے زیادہ طاقتور نہیں  ہو سکتی۔ لہٰذا مخلوق کے شر سے بچنے کے لیے خالق کی پناہ ڈھونڈنا ہی صحیح طرز عمل ہے۔ برخلاف اس کے مخلوق کے شر سے بچنے کے لیے مخلوق ہی کی دہائی دینا خواہ اس مقصد کے لیے آدمی کسی دیوی دیوتا کو پکارے یا کسی ’’غوث‘‘ اور ’’ولی‘‘ کو سرا سر حماقت اور یکسر باطل ہے۔

 

(۲) ’’ جو کچھ اس نے پیدا کیا اس کے شر سے ‘‘کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ اس کی پیدا کردہ ہر چیز میں  لازم شر کا پہلو ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کی پیدا کردہ چیزوں  میں سے جو چیزیں  بھی اپنے اندر شر کا کوئی پہلو رکھتی ہیں  ان سب کے شر سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔

 

(۳) کوئی چیز بھی اپنی ذات میں  مؤثر نہیں  ہے اور نہ کوئی شر خود بخود کسی کو لاحق ہوتا ہے بلکہ ہر چیز اللہ کے حکم ہی سے اثر اندر ہوتی ہے اور شر بھی کسی کو لاحق ہوتا ہے اس کے اذن ہی سے ہوتا ہے اس لیے شر سے بچنے کے لیے اسی سے دعا کرنا چاہیے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

 

(۴) شر سے مراد محسوس ہونے والی آفتیں  اور بلائیں  بھی ہیں  اور معنوی مضرتیں  اور گمراہیاں  بھی پہلی چیز کی مثال بیماریاں  اور ایذائیں  ہیں  اور دوسری چیز کی مثال گناہ اور کفر و شرک ہے۔ سیاق کلام کے لحاظ سے شر کا یہ دوسرا پہلو خاص طور سے مراد ہے اور اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مُعَوِّذَتَین کو قرآن کے بالکل اخیر میں  رکھا گیا ہے۔ یہ گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کے  ذریعہ جس ہدایت سے نوازا گیا ہے اس کی حفاظت کے سلسلہ میں  چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تاکہ شر پسند قوتیں  اثر انداز نہ ہونے پائیں ، اور بھٹکانے میں  کامیاب نہ ہوں۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلی آیت میں  مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنے کا ذکر عمومیت کے ساتھ ہوا ہے۔ اب بعض خاص چیزوں  کے شر سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

 

رات آتی ہے تو تاریکی چھا جاتی ہے اور اس تاریکی میں  شر پسند عناصر اور شیطانی قوتوں  کو  ابھرنے کا موقع ملتا ہے۔ ظاہری اور جسمانی آفتوں  کے اعتبار سے بیماریاں  رات میں  بڑھتی ہیں  ور موذی جانور رات میں  نکلتے ہیں۔ غرض یہ کہ رات کو ڈر اور خوف کا ماحول رہتا ہے۔ رہی باطنی ور اخلاقی آفتیں  تو رات میں  جرائم کثرت سے ہوتے ہیں ، اکثر سازشیں  رات ہی میں  کی جاتی ہیں  اور شیطان اپنے لشکر کے ساتھ رات کی تاریکی ہی میں  حملہ آور ہوتا ہے اس لیے رات کی ظاہری تاریکی باطنی تاریکی کا موجب ہو سکتی ہے لہٰذا اس شر کی طرف سے چوکنا رہنے اور اس سے خدا کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔

 

واضح رہے کہ رات کی طرف شر کو منسوب کرنے کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ رات میں  خیر کا نزول نہیں  ہوتا یا خیر کے کام انجام نہیں  پاتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ رات کا وقت شیطانی قوتوں  کے لیے شر پھیلانے کے تعلق سے بڑا ساز گار ہوتا ہے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ عُقَد (گرہوں ) سے مراد وہ گِرہیں  ہیں  جو شیاطین انسان کے شعور اور اس کے حواس پر لگا کر اسے غافل اور مد ہوش بنا دیتے ہیں  چنانچہ صحیحین کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

 

یَعْقِدُ الشَّیْطَانُ عَلٰی قٰافِیَۃِ رَأسِ اَحَدِ کُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ اِذَ ا نَامَ۔ بِکُلِّ عُقْدَ ۃٍ یَضْرِبُ عَلَیْکَ لَیْلاً طویلاً۔ فَاِذَا اسْتَیْقَظَ فَذَکَرَ اللہَ  اِنُحَلِّتْ عُقْدَۃٌ  وَاِذَ ا تَوضَّأ اِنْحَلَّتْ عَنْہُ عَقْدَتَانِ۔ فَاِذَا صَلَّی اِنْحَلَّتِ العُقَدُ۔ فَاَسْبَحَ نَشِیْطاً طَیِّبَ النَّفْسِ وَ لّا اَصْبَحَ خَبِیْثَ النَّفْسِ کَسْلِانَ (مسلم کتاب صلاۃ المسافرین)۔

 

جب تم میں  کوئی شخص سوتا ہے تو اس کے سر کے پچھلے حصہ پر شیطان تین گرہیں  لگاتا ہے اور ہر گرہ کے ساتھ یہ بات بھی چسپاں کر دیتا ہے کہ ابھی رات لمبی ہے پھر جب وہ شخص جاگ اٹھتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو دوری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور صبح کو وہ ہشاش بشاش اور پاکیزگی نفس کی حالت میں  ہوتا ہے۔ بصورت دیگر وہ صبح کو سست اور خباثتِ نفس کی حالت میں  ہوتا ہے۔ ‘‘  یہ شیطان کے انسان کو غفلت میں  ڈالنے کی ایک مثال ہے جو حدیث میں  پیش کی گئی ہے۔ اس سے شیطان کے القاء، اس کی حرکتوں  اور اس کے حملوں  کا نہ آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

 

نَفَّاثَا تْ کا لفظ نَفْث سے ہے جس کے معنیٰ پھونکنے کے ہیں۔ حدیث میں  القاۓ شیطانی کو اس کے نَفْث سے تعبیر کیا گیا ہے :

 

اَعُذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطانِ مِنْ نَفْخِہِ وَفَفْثِہٖ و ھَمْزِہٖ۔ ’’میں  اللہ کی پناہ مانگتا ہوں  شیطان کے نفخ ، اس کے نَفْث اور اس کے ہمزہ سے ‘‘۔

 

اس حدیث کے راوی ابن مرہ نے ان تینوں  الفاظ کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ شیطان کے نَفْث سے مراد شعر، اس کے نَفْخ سے مراد کِبر اور اس کے ھَمْز سے مراد جنون ہے۔ (ابو داؤد کتاب الصلٰۃ ج ۷۵۰ )

 

اس میں  نفث کو شعر سے جو تعبیر کیا گیا ہے وہ در اصل القاۓ شیطانی ہی کی ایک شکل ہے اس کی دوسری شکل سحر اور جادو بھی ہے۔

 

نَفَّثات کا لفظ جمع مؤنّث کا صیغہ ہے اور مبالغہ کے وزن پر ہے۔ یہ نفوس کی صفت ہے اس لیے عربی قواعد کے مطابق مؤنّث ہے۔ یعنی وہ نفوس جو پھونکنے کے عادی ہیں۔ مراد شیطانی نفوس ہیں  جو اپنے القاء کے ذریعہ انسان کے شعور اور اس کے حواس کو متاثر کر دیتے ہیں۔ اوپر حدیث میں  شیطان کے گرہ باندھنے کا جو ذکر ہوا ہے اس میں  بھی یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ ہر گرہ کے ساتھ یہ بات بھی چسپاں  کر دیتا  ہے کہ ابھی رات لمبی ہے یہ در حقیقت شیطان کا  اس گرہ میں  نفث (پھونکنا ) ہی ہے۔

 

ان احادیث کی روشنی میں  آیت کا مطلب یہ ہے شیاطین اپنے القاء کے ذریعہ انسان کے شعور، اس کے حواس اور اس کی نفسیات کو متاثر کر کے اسے غفلت، بے خودی ، مدہوشی اور نفسیاتی امراض کا شکار بناتے ہیں  اور پر بری اور گمراہ کن باتیں  الہام کرتے ہیں۔ ان کے اس شر سے خدا کی پناہ مانگی گئی۔ یہ القاۓ شیطانی شاعری کی شکل میں  بھی ہو سکتا ہے اور ساحر کی شکل میں  بھی۔ زُخرف القول کی شکل میں  بھی ہو سکتا ہے گانے کی شکل میں  بھی اس لیے کوئی وجہ نہیں  کہ اس کو کسی ایک شکل میں  محدود سمجھا جاۓ۔ سِفلی عمل کرنے والوں  کے ہاں  تو گنڈوں  میں  پھونک مارنے کا طریقہ پہلے ہی سے چلا آ رہا ہے۔ ساحر اور ٹونے ٹوٹکے کرنے والے شیاطین کی مدد سے یہ عمل خبیث انجام دیتے ہیں  اور لوگوں  کے لیے گمراہی کا سامان کرتے ہیں  اور آج کل ہپناٹزم (Hypnotism)  کے ذریعہ بھی انسان کے حواس اور اس کی نفسیات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب شیطانی اعمال کی مختلف شکلیں  ہیں۔ اس قسم کی تمام اذیتوں سے بچنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ اللہ کی پناہ لی جاۓ اور اس بت پر یقین رکھا جاۓ کہ اس کے اذن کے بغیر کوئی چیا ضرر نہیں  پہنچا سکتی۔

 

عام طور سے مفسرین اس آیت کے ذیل میں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو کی روایت نقل کرتے ہیں  جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ میں  ایک یہودی نے یا ایک منافق نے جو یہود کا حلیف تھا اور جس کا نام لبید بن عاصم تھا آپ کی کنگھی کے بالوں  میں  جادو کر کے اس کو ایک کنویں  کے اندر پتھر کے نیچے دبا دیا تھا۔ اس جادو کے اثر سے آپ بیمار ہوۓ اور یہ کیفیت ہوئی کہ کسی کام کے متعلق خیال کرتے کہ کر لیا ہے لیکن نہیں  کیا ہوتا۔۔۔۔ بعض روایتوں  کے مطابق چھ ماہ تک آپ پر اس کا اثر رہا۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آپؐ  کو وحی کے ذریعہ مطلع کیا گیا اور مُعَوِّذتین پڑھنے کی ہدایت ہوئی جس سے آپ شفا یاب ہو گۓ۔

 

یہ روایت بخاری، مسلم اور دوسری کتب حدیث میں  نقل ہوئی ہے لیکن بوجوہ قابل قبول نہیں  :

 

اولاً : یہ روایت قرآن سے متصادم ہے کیونکہ قرآن نے کفار کے اس الزام کی نفی کی ہے کہ نبی ایک سحر زدہ آدمی ہے : یَقُولُ الظّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلّا رَجُلاً مَسْحُراً  ؕ (ظالم کہتے ہیں  کہ تم لوگ ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہے ہو)۔ ( بنی اسرائیل : ۴۷) گویا قرآن جس بات کی تردید کر رہا ہے یہ روایت ا کی تصدیق کر رہی ہے۔ اس کا جواب اس روایت پر یقین کرنے والے علماء یہ دیتے ہیں  جب نبی پر جادو کا اثر ہو سکتا ہے جس طرح حضرت موسیٰ کو جادو گروں  کی رسیوں  اور لاٹھیوں  کے بارے میں  خیال ہوا تھا کہ وہ سانپ کی طرح دوڑ رہی ہیں  ( سورہ طہٰ: ۶۶)۔ رہا کفار کا الزام کہ نبی ایک سحر زدہ آدمی ہے تو وہ اس مفہوم میں  تھا کہ کسی جادو گر نے آپ کو پاگل بنا دیا ہے  جس کی قرآن نے تردید کی۔ نیز وہ کہتے ہیں  کہ ’’ جادو کا اثر صف ذات محمدؐ پر ہوا تھا نبوت محمدؐ  اس س بالکل غیر متاثر رہی ‘‘۔ لیکن یہ جواب محض سخن سازی ہے کیونکہ روایت میں  جادو کا یہ اثر بیان کیا گیا ہے کہ آپ کسی کام کے متعلق یہ خیال کرتے کہ کر لیا ہے لیکن نہیں  کیا ہوتا۔ یعنی جدو کا اثر معاذ اللہ آپ کے ذہن پر ہوا تھا اور وہ بھی کئی ماہ تک باقی رہا نیز آپ کو اس کی خبر س وقت ہوئی جب کہ وحی الٰہی نے آپ کو مطلع کیا جب کہ حضرت موسیٰ نے جادو گروں  کی رسیوں  اور لاٹھیوں  کو سانپ کی شکل میں  محض وقتی طور پر دیکھا تھا اور ان کو یہ معلوم تھا کہ یہ رسیاں  اور لاٹھیاں  حقیقت میں  سانپ نہیں  ہیں  بلکہ سانپ کی شکل میں  دکھائی دے رہی ہیں  اس لیے اس کے دیکھنے سے ان کو دھوکا نہیں  ہوا پھر یہ کوئی بیماری نہیں  تھی جس میں  حضرت موسیٰ مبتلا ہوۓ ہوں  اس لیے روایت میں  بیان کردہ سحر کے واقعہ کو حضرت موسیٰ کے واقعہ پر قیاس کرنا قیاس مع  الفارق ہے۔

 

ثانیاً : سحر کے اس واقعہ کو تسلیم کرنے سے عصمت انبیاء پر حرف آتا ہے کیونکہ روایت میں  سحر کا اثر  محض جسمانی حال پر نہیں  بلکہ ذہنی کیفیت پر بھی بتایا گیا ہے ظاہر ہے یہ بات منصب نبوت میں  قادح ہے اس لیے یہ دلیل بے معنی ہے کہ اگر آپ زخمی ہو سکتے تھے اور بیمار ہو سکتے تھے تو آپ پر جادو کا اثر بھی ہو سکتا تھا۔

 

عصمت انبیاء کا مسئلہ اجماعی ہے اور قرآن و سنت  اس پر ناطق ہیں  اس لیے ایسی روایت جو منصب نبوت میں  قادح ہو ہر گز قابل اعتناء نہیں  ہو سکتی خواہ وہ بخاری کی روایت ہو یا مسلم کی۔

 

ثالثاً : جہاں  تک سلسلہ روایت کا تعلق ہے اس میں  ایک راوی ہشام ہیں  جو اگر چہ کہ ثقہ ہیں  لیکن علامہ ان حجر نے تہذیب التہذیب میں  ان کے بارے میں  ایک بات یہ بھی نقل کی ہے کہ وہ عراق جانے کے بعد اپنے والد سے بہ کثرت روایت کرنے لگے تھے جس پر اہل عراق نے ناپسندیدگی کا اطہار کیا تھا نیز یہ کہ مالک نے ان کی ان حدیثوں  پر جو وہ اہل عراق سے بیان کرتے تھے نکارت کا اظہار کیا ہے۔ وہ تین مرتبہ کوفہ آۓ تھے پہلی مرتبہ وہ اس طرح روایت کرتے حَدَّ ثَنِیْ اَبِی قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃ  ’’میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں  نے حضرت عائشہ کو فرماتے ہوۓ سنا ‘‘ اور دوسری مرتبہ آۓ تو اس طرح روایت کرنے لگے : اخبرنی ابی عن عائشۃ ’’ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ حضرت عائشہ سے روایت ہے ‘‘۔ اور تیسری مرتبہ آۓ تو ان الفاظ میں  روایت کرنے لگے : ابی عن عائشۃ ’’میرے والد نے عائشہ سے روایت کی ہے ‘‘۔ (تہذیب التہذیب ج ۱۱ ص ۵۰) اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہشام اگرچہ کہ ثقہ راوی تھے لیکن روایت کرنے میں  کچھ بے احتیاطیاں  بھی ان سے ہونے لگی تھیں۔ ایسی صورت میں  ان کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر سحر والی روایت کو جو ایک بہت بڑے مسئلہ میں  ہے ان کی بے احتیاطی پر کیوں  نہ محمول کیا جاۓ ؟

 

رابعاً : سلسلہ روایت میں  ایک راوی سفیان بن عُیَینہ ہیں  جو یہ اقرار کرتے ہیں  کہ میں  نے اسے ابن جریج سے پہلی مرتبہ سنا۔ اس پر مولانا امین احسن صاحب کی یہ گرفت بالکل بجا ہے کہ

 

’’ گویا اس واقعہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وصال کے سو سال بعد شہرت پائی ، اس سے پہلے اس کا علم صرف بعض افراد تک محدود رہا۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ العیاذ باللہ اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم چھ ماہ تک مسحور رہے ہوتے تو یہ واقعہ اتنا غیر معمولی تھا کہ صدر اول ہی میں  اس کا چرچا ہو جاتا اور یہ روایت ایک متواتر روایت کی حیثیت سے ہم تک پہنچتی ‘‘۔ (تدبر قرآن ج ۸ ص ۶۶۶)

 

طوالت کلام سے بچتے ہوۓ ہم ان چند وجوہ کو بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں  البتہ یہاں  ان مفسرین کے بیانات کے چند اقتباسات نقل کریں  گے جنہوں  نے شدت کے ساتھ سحر والی روایت کو رد کر دیا ہے۔

 

مشہور مفسر علامہ ابو بکر جصاص اپنی تفسیر احکام القرآن میں  فرماتے ہیں :

 

’’ اور لوگوں  نے جادو کے عمل سے بھی زیادہ بڑی اور ہولناک بات جائز قرار دی ہے چنانچہ ان کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو کیا گیا تھا اور اس کا اثر بھی  آپ پر ہوا تھا حتیٰ  کہ آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے ایسا خیال ہوتا ہے کہ میں  کوئی بات کہہ رہا ہوں  اور کر رہا ہوں  جب کہ میں  نے نہ وہ بات کہی ہوتی ہے اور نہ کی ہوتی ہے۔ اور ایک یہودی عورت نے آپ پر کھجور کے چھلکے کے اندر کنگھی اور بالوں  میں  جادو کر دیا تھا یہاں  تک کہ آپ کو اطلاع دی کہ اس عورت نے کھجور کے چھلکے کے اندر جادو کر دیا ہے اور وہ کنویں  کے پتھر کے نیچے ہے تو آپ نے اس کو نکلوایا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر سے اس کا اثر زائل ہو گیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت کفار کے دعوے کو جھٹلاتے ہوۓ فرمایا ہے : وَقَا لَ الظَّالِمُوْ نَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلّا رَجُلاً مَسْحُوراً (اور ظالم کہتے ہیں  کہ تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہے )۔ اس طرح کی حدیثیں  در حقیقت ملحدوں  کی وضع کردہ ہیں ‘‘۔ (احکام القرآن ج۱ ص ۵۵ )

 

سید قطب اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں  فرماتے ہیں :

 

’’ لیکن یہ روایتیں  عمل و تبلیغ کے معاملہ میں  اصلاً عصمت نبوی کے خلاف ہیں  اور اس اعتقاد کے ساتھ کہ آپ کا ہر فعل اور ہر قول سنت و شریعت ہے درست نہیں  قرار پاتیں۔ نیز یہ روایات قرآن کے اس بیان سے بھی متصادم ہیں  جس میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سحر زدہ ہونے کی نفی کی گئی ہے اور مشرکین کے اس باطل دعوے کو جھوٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس بنا پر یہ روایتیں  بعید از قیاس ہیں۔ نیز خبر آحاد کو عقیدہ کے مسئلہ میں  قبول نہیں  کیا جا سکتا۔ اس کے لیے قرآن ہی مرجع ہے اور اصول اعتقاد کے معاملہ میں  احادیث کو قبول کرنے کے لیے تواتر شرط ہے جب کہ یہ روایتیں  متواتر نہیں  ہیں۔ مزید برآں  ان دونوں  سورتوں  کا نزول راجح قول کے مطابق مکہ میں  ہوا تھا‘‘۔ (فی ظلال القرآن ج ۶ ص ۴۰۰۸)

 

اور مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں۔

 

’’ اگر چہ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ اس جادو کا کوئی اثر آپ کے فرائض نبوت پر نہیں  پڑا لیکن ساتھ ہی نہایت سادہ لوحی سے یہ اعتراف بھی کر لیا گیا ہے کہ اس کا اثر حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ پڑا کہ آپ گھلتے جا رہے تھے ، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ کر لیا ہے لیکن نہیں  کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک اس شان نزول کو رد کرنے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ یہ اس مسلمہ عقیدے کے بالکل منافی ہے جو قرآن نے انبیاء علیہم السلام سے متعلق ہمیں  تعلیم کیا ہے۔ عصمت حضرات انبیاء (علیہم السلام ) کی ان خصوصیات میں سے ہے جو کسی وقت بھی  ان سے منفک نہیں  ہو سکتیں۔ اس عصمت کو اس امر سے کوئی نقصان نہیں  پہنچتا کہ نبی کے دندان مبارک شہید ہو گۓ یا وہ زخمی ہو گیا یا وہ قتل کر دیا گیا۔ ان میں  سے کوئی چیز بھی اس کی نبوت میں  قادح نہیں  ہے کہ اس کو آپ اس امر کی دلیل بنائیں  کہ جب نبی ان چیزوں  میں   مبتلا ہو سکتا ہے تو مسحور بھی ہو سکتا ہے یہاں  تک کہ اس کو کردہ اور ناکردہ ، دیدہ اور نا دیدہ میں  کوئی امتیاز ہی باقی نہیں  رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شیطانی تصرفات سے اپنے نبیوں  کو محفوظ رکھا ہے اور ان کی یہ محفوظیت دین کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ محفوظیت ہی نبی کے ہر قول و فعل کو سند بناتی ہے۔ پورا قرآن انبیاء کی عصمت پر گواہ ہے اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان کی عصمت پر ایمان رکھے ‘‘۔ (تدبر قرآن ج ۸ ص ۶۶۵۔ ۶۶۶)

 

ان مفسرین کے مذکورہ بیانات سے سحر کے واقعہ اور روایت کی حقیقت منقح ہو جاتی ہے لیکن تعجب ہے کہ لوگوں  کو جتنی دلچسپی انہیں  اس بات سے نہیں  کہ اس کا عصمت انبیاء پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ روایت پرستی نہیں تو اور کیا ہے ؟

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ حَسَد کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو اپنی کسی نعمت یا فضیلت سے نوازا ہے تو دوسرا شخص اس پر جلنے لگے اور اس بات کا خواہشمند ہو کہ وہ اس سے چھن جاۓ۔ اور ’’حاسد جب حسد کرے ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ حاسدانہ کار روائی کرنے لگے ور جوش حسد میں  اقدام کر بیٹھے۔ ایسے موقع پر اس کے شر ، اس کی ایذاؤں  اور اس کی اذیتوں  سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے۔

 

حاسد کا لفظ اگرچہ کہ عام ہے لیکن یہ بھی ایک ابھری ہوئی حقیقت ہے کہ حسد کی ابتداء شیطان ہی سے ہوئی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کر کے خلافت ارضی کا تاج اس کے سر پر رکھا تھا۔ اسی فضیلت کی بنا پر شیطان انسان کا دشمن بن گیا اور چاہتا ہے کہ انسان بھٹک جاۓ۔

 

قرآن میں  یہود کے حسد کا بھی خاص طور سے ذکر ہوا ہے :

 

وَدَّ کَثیْرٌ  مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّ وْنَکُمْ مِنْ بَعْدِ اِیمَانِکُمْ کُفَّاراً احَسَداً مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ۔ (البقرہ۔ ۱۰۹ )

 

’’ بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں  کہ وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر تمہیں  کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ محض اپنے نفس کی حسد کی بنا پر‘‘

 

کفار مکہ کو بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بنا پر حسد تھا کہ مکہ اور طائف کے سرداروں  کو چھوڑ کر آپ کو کیوں  نبوت کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ کہتے تھے :

 

لَو لَا نُزِّلَ ھٰذَ الْقُرآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔ (الزخرف : ۳۱)

 

’’ یہ قرآن دونوں  شہروں  کے (رئیسوں  میں  سے ) کسی بڑے بڑے آدمی پر کیوں  نہیں  نازل کیا گیا ؟ ‘‘۔

 

یہ حسد ہی کی آگ تھی جس نے انہیں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دشمن بنا دیا تھا۔ اور وہ نہیں  چاہتے تھے کہ اہل ایمان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی خیر نازل ہو:

 

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ وَ لَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِنْ خَیْرٍ مِنْ رَّبِّکُمْ، (البقرہ۔ ۱۰۵)

 

’’ جن لوگوں  نے کفر کیا خواہ وہ اہل کتاب ہوں  یا مشرک نہیں  چاہتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی خیر نازل ہو ‘‘۔

 

الغرض آیت کا منشاء یہ ے کہ ایک مؤمن کو جب کبھی کسی حاسد سے سابقہ پیش آۓ تو وہ اس کے فتنوں  سے بچنے کے لیے خدا کی پناہ مانگے۔ اس طرح وہ اپنے غصہ کو بھی قابو میں  کھ سکے گا اور خدا کی مدد کا بھی مستحق ہو گا۔

 

قرآن کے اختتام پر حاسد کے شر سے پناہ مانگنے کی جو ہدایت دی گئی ہے اس سے ایک اہم بات کی طرف اشارہ نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اہل ایمان خوب سمجھ لیں  کہ اس کتاب ہدایت کو پا کر انہیں  بڑی نعمت اور بہت بڑا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس پر ان کے دشمنوں  کا انہیں  حاسدانہ نگاہوں  سے دیکھنا اور توحید سے جو ہدایت کی اصل بنیاد ہے انہیں  پھیرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہر گز بعید نہیں  لہٰذا انہیں  چاہیے کہ اپنے حاسدوں  کی ریشہ دوانیوں  کی طرف سے چوکنا رہیں  اور ان کے فتنوں  سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا سہارا لیں۔