دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الصَّافات

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

نام

 

سورہ کا آغاز وَالصَّافَّاتٍ (قسم ہے صف بستہ فرشتوں کی) سے ہوا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام الصَّافَّات ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

آیات کی ترکیب اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے درمیانی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

اس سورہ میں اللہ کے واحد معبود ہونے پر ایک اور انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کی تائید میں ملاء اعلیٰ کی شہادت پیش کی گۓ ہے۔ اور اس حقیقت کو ماننے کے نتیجہ میں مرتب ہونے والی جزا اور نہ ماننے کے نتیجہ میں ملنے والی سزاؤں کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ مستقبل کے احوال کی ایک جھلک آج ہی دیکھی جا سکتی ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۱۰ میں اللہ واحد معبود ہونے پر فرشتوں کی شہادت پیش کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ شیطانوں کی پہنچ ملاء اعلیٰ تک نہیں ہے انہیں اس سے دور رکھا گیا ہے۔

 

آیت ۱۱ تا ۷۴ میں دوسری زندگی کے احوال پیش کیے گۓ ہیں۔ ایک طرف غیر اللہ کے پرستاروں کا بہترین انجام۔

 

آیت ۷۵ تا ۱۴۷ میں متعدد انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ ہے جنہوں نے دعوت توحید کو پیش کرتے ہوۓ طرح طرح کے مصائب برداشت کیے اور اللہ کی راہ میں زبردست قربانیاں پیش کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا بہترین صلہ عطا فرمایا۔

 

آیت ۱۴۹ تا ۱۷۰ میں مشرکین کے باطل عقائد خاص طور سے فرشتوں کے بارے میں غلط تصورات کی تردید کرتے ہوۓ فرشتوں کا اپنا بیان پیش کیا گیا ہے۔

 

آیت ۱۷۱ تا ۱۸۲ سورہ کی اختتامی آیات ہیں جن میں رسول کے لیے نصرت الٰہی اور اللہ کے لشکر یعنی رسول کے پیروؤں کے لیے غلبہ کی خوش خبری دی گئی ہے۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔ صف بہ صف کھڑے ہونے والے (فرشتوں) کی قسم ۱*۔

 

۲۔۔۔۔۔۔ اور ڈانٹنے دھتکارنے والوں کی ۲*۔

 

۳۔۔۔۔۔۔ اور ذکر (الٰہی) کی تلاوت  کرنے والوں کی ۳*

 

۴۔۔۔۔۔۔ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ۴*

 

۵۔۔۔۔۔۔ وہ جو آسمانوں اور زمین  اور ان کے درمیان کی موجودات کا رب ہے۔ اور تمام مشرقوں کا رب ۵*

 

۶۔۔۔۔۔۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستارو ں کی زینت سے آراستہ کیا ہے۔ ۶*

 

۷۔۔۔۔۔۔ اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کر دیا ہے ، ۷*

 

۸۔۔۔۔۔۔ وہ ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے ان پر مار پڑتی۔ ۸*

 

۹۔۔۔۔۔۔ وہ دھتکارے جاتے ہیں ۹* اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے ۱۰*۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی کچھ اچک لے تو ایک چمکتا شعلہ اس کا پیچھا کر تا ہے ۱۱*۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔ ان سے پوچھو کیا ان کو پیدا کرنا مشکل ہے یا جن کو ہم پیدا کر چکے ہیں ان کو پیدا کرنا مشکل تھا ؟ ۱۲*۔ ہم نے ان کو لیسدار مٹی سے پیدا کیا ہے ۱۳*

 

۱۲۔۔۔۔۔۔ تم تعجب کرتے ہو اور یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ۱۴*

 

۱۳۔۔۔۔۔۔ اور جب ان کو نصیحت کی جاتی تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔ اور کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے ۱۵*

 

۱۶۔۔۔۔۔۔ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں اٹھا کھڑا کیا جاۓ گا ؟

 

۱۷۔۔۔۔۔۔ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا کو بھی ؟

 

۱۸۔۔۔۔۔۔ کہو ہاں اور تم ذلیل بھی ہو گے ۱۶*

 

۱۹۔۔۔۔۔۔ وہ تو ایک ہیں ڈانٹ ہو گی اور دفعۃً وہ (قیامت کا منظر) دیکھنے لگیں گے ۱۷*

 

۲۰۔۔۔۔۔۔ کہیں گے ہم پر افسوس ! یہ بدلہ کا دن ہے ۱۸*

 

۲۱۔۔۔۔۔۔ یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے تھے ۱۹*

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ جمع کرو ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ پرستش کیا کرتے تھے۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔ اللہ کو چھوڑ کر (جن کی یہ پرستش کیا کرتے تھے)۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ ۲۰*

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ اور انہیں (ذرا) ٹھہراؤ۔ ان سے کچھ پوچھنا ہے ۲۱*

 

۲۵۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے اب تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ ۲۲*۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔ بلکہ یہ تو آج بڑے فرمانبردار بنے ہوۓ ہیں ۲۳*۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔ اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم رد و کد کریں گے ۲۴*

 

۲۸۔۔۔۔۔۔ کہیں گے۔ تم  ہی ہمارے پاس دہنی طرف سے آتے تھے ۲۵*

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ وہ جواب دیں گے نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے  والے نہ تھے۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔ اور ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا۔ تم خود ہی سرکش لوگ تھے ۲۶*

 

۳۱۔۔۔۔۔۔ بالآخر ہم پر ہمارے رب کا فرمان پورا ہو کر رہا ۲۷*۔ ہم کو (عذاب کا) مزا چکھنا ہی ہو گا۔

 

۳۲۔۔۔۔۔۔ تو ہم نے تم کو بہکایا۔ ہم خود بہکے ہوۓ تھے ۲۸*

 

۳۳۔۔۔۔۔۔ اس طرح اس دن وہ سب عذاب میں شریک ہوں گے ۲۹*

 

۳۴۔۔۔۔۔۔ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کریں گے ۳۰*

 

۳۵۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔ اور کہتے ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ۳۱*

 

۳۷۔۔۔۔۔۔ حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھی ۳۲*۔

 

۳۸۔۔۔۔۔۔ اب تم کو درد ناک عذاب کا مزا چکھنا ہے۔

 

۳۹۔۔۔۔۔۔ اور تم کو اسی کا بدلہ دیا جاۓ گا جو تم کرتے رہے ہو ۳۳*۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔ مگر اللہ کے مخصوص بندے اس سے محفوظ ہوں گے ۳۴*

 

۴۱۔۔۔۔۔۔ ان کے لیے مقرر رزق ہو گا۳۵*۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔ میوے ہوں گے ۳۶* اور انہیں عزت سے سرفراز کیا جاۓ گا ۳۷*

 

۴۳۔۔۔۔۔۔ نعمت بھری جنتوں میں۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۳۸*

 

۴۵۔۔۔۔۔۔ بہتی ہوئی شراب کے جام ان کے درمیان گردش میں ہوں گے۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔ صاف شفاف۔ پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔ نہ اس میں کوئی ضرر ہو گا اور نہ اس سے ان کی عقل جاتی رہے گی ۳۹*۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔ اور ان کے پاس نیچی نگاہیں رکھنے والی اور حسین آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۴۰*

 

۴۹۔۔۔۔۔۔ گویا وہ انڈے ہیں چھپاۓ ہوۓ ۴۱*

 

۵۰۔۔۔۔۔۔ پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حال دریافت کریں گے۔

 

۵۱۔۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک شخص کہے گا میرا ایک ساتھی تھا۔

 

۵۲۔۔۔۔۔۔ جو کہا کرتا تھا کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو ؟ ۴۲*

 

۵۳۔۔۔۔۔۔ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں (اٹھا کر) بدلہ دیا جاۓ گا؟

 

۵۴۔۔۔۔۔۔ ارشاد ہو گا کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟ //۴۳*

 

۵۵۔۔۔۔۔۔ وہ جھانک لے گا تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے بیچ میں ہے //۴۴*

 

۵۶۔۔۔۔۔۔ وہ کہے گا اللہ کی قسم تو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا۔

 

۵۷۔۔۔۔۔۔ اگر مریے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑ  کر لاۓ گۓ ہیں //۴۵*

 

۵۸۔۔۔۔۔۔ کیا یہ بات نہیں ہے کہ اب ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟ ۴۶*

 

۵۹۔۔۔۔۔۔ بس پہلی موت تھی جو آ چکی ۴۷* اور نہ ہمیں کوئی عذاب  دیا جاۓ گا ۴۸*۔

 

۶۰۔۔۔۔۔۔ یقیناً یہی بری کامیابی ہے ۴۹*

 

۶۱۔۔۔۔۔۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے ۵۰*۔

 

۶۲۔۔۔۔۔۔ یہ ضیافت بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ ۵۱*

 

۶۳۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس کو ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔ ۵۲*

 

۶۴۔۔۔۔۔۔ وہ ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے ۵۳*

 

۶۵۔۔۔۔۔۔ اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر ۵۴*۔

 

۶۶۔۔۔۔۔۔ وہ اس کو کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے ۵۵*

 

۶۷۔۔۔۔۔۔ پھر اس پر ان کی پینے کے لیے گرم پانی دیا جاۓ گا ۵۶*

 

۶۸۔۔۔۔۔۔ پھر ان کی واپسی آتش جہنم کی طرف ہو گی ۵۷*

 

۶۹۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔

 

۷۰۔۔۔۔۔۔ اور یہ ان ہی کے نقش قدم پر دوڑ رہے ہیں ۵۸*

 

۷۱۔۔۔۔۔۔ ان سے پہلے گزرے ہوۓ لوگوں میں بھی اکثر لوگ گمراہ ہوۓ تھے ۵۹*

 

۷۲۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے ان میں خبر دار کرنے والے رسول بھیجے تھے۔

 

۷۳۔۔۔۔۔۔ تو دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہیں خبردار کر دیا گیا تھا۔

 

۷۴۔۔۔۔۔۔ اس انجام سے اللہ کے مخصوص بندے ہی محفوظ رہے ۶۰*

 

۷۵۔۔۔۔۔۔ اور نوح۶۱* نے ہمیں پکارا تھا تو کیا ہی خوب ہیں ہم پکار کا جواب دینے والے ۶۲*

 

۷۶۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس کو اور اس کے متعلقین کو سخت تکلیف سے نجات دی ۶۳*

 

۷۷۔۔۔۔۔۔ اور اسی کی نسل کو باقی رکھا۶۴*۔

 

۷۸۔۔۔۔۔۔ اور بعد والوں میں اس کے لیے ذکر جمیل باقی رکھا ۶۵*

 

۷۹۔۔۔۔۔۔ سلام ہے نوح پر دنیا والوں میں۔ ۶۶*

 

۸۰۔۔۔۔۔۔ ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں۔ ۶۷*

 

۸۱۔۔۔۔۔۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

 

۸۲۔۔۔۔۔۔ پھر دوسروں کو ہم نے غرق کر دیا۔ ۶۸ *

 

۸۳۔۔۔۔۔۔ اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم تھا ۶۹*

 

۸۴۔۔۔۔۔۔ جب کہ وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا ۷۰*

 

۸۵۔۔۔۔۔۔ جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟۷۱*

 

۸۶۔۔۔۔۔۔ کیا اللہ کو چھوڑ کر من گھڑت معبود چاہتے ہو؟ ۷۲*

 

۸۷۔۔۔۔۔۔ اور رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ ۷۳*

 

۸۸۔۔۔۔۔۔ پھر اس نے ایک نظر تاروں پر ڈالی ۷۴*

 

۸۹۔۔۔۔۔۔ اور کہا میری طبیعت ناساز ہے ۷۵*

 

۹۰۔۔۔۔۔۔ تو وہ لوگ اس کو چھوڑ کر چلے گۓ۔

 

۹۱۔۔۔۔۔۔ پھر وہ چپکے سے ان کے معبودوں کے پاس گیا اور کہا تم لوگ کھاتے نہیں ! ۷۶*

 

۹۲۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے بولتے بھی نہیں ! ۷۷*

 

۹۳۔۔۔۔۔۔ پھر ان پر ٹوٹ پڑا اور سیدھے ہاتھ سے ان پر ضربیں لگائیں ۷۸*۔

 

۹۴۔۔۔۔۔۔ لوگ اس کے پاس دوڑتے ہوۓ آۓ ۷۹*

 

۹۵۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا کیا تم لوگ اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو ۸۰*

 

۹۶۔۔۔۔۔۔ حالانکہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تم کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم بناتے ہو ۸۱*

 

۹۷۔۔۔۔۔۔ انہوں نے (آپس میں) کہا اس کے لیے ایک آتش کدہ بناؤ اور اس کو دہکتی آگ میں جھونک دو ۸۲*

 

۹۸۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی مگر ہم نے ان ہی کو نیچا دکھایا ۸۳*۔

 

۹۹۔۔۔۔۔۔ اور اس نے  کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہ میری رہنمائی کرے گا ٫۸۴*

 

۱۰۰۔۔۔۔۔۔ اے مرے رب ! مجھے صالح اولاد عطاء فرما ۸۵*

 

۱۰۱۔۔۔۔۔۔ تو ہم نے اس کو ایک برد بار لڑکے کی بشارت دی ۸۶*

 

۱۰۲۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ لڑکا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا ۸۷* تو اس نے کہا اے میرے بیٹھے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں ۸۸* تو تمہاری کیا راۓ ہے ۸۹* اس نے کہا ابا جان! کر گزریے جس کا حکم آپ کو دیا جا رہا ہے۔ آپ انشاء اللہ  مجھے صابر  پائیں گے ۹۰*

 

۱۰۳۔۔۔۔۔۔ پھر جب دونوں نے اپنے کو (اپنے رب کے) حوالہ کر دیا ۹۱* اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل گرا دیا ۹۲*

 

۱۰۴۔۔۔۔۔۔ تو ہم نے اس کو آواز دی اے ابراہیم! ۹۳*

 

۱۰۵۔۔۔۔۔۔ تم نے خواب سچ کر دکھایا ۹۴*۔ ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں ۹۵*۔

 

۱۰۶۔۔۔۔۔۔ بے شک یہ ایک کھلی آزمائش تھی ۹۶*

 

۱۰۷۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے اس (لڑکے) کی جان بچا لی ایک عظیم قربانی کے عوض ۹۷*

 

۱۰۸۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے بعد والوں میں اس کا ذکر جمیل باقی رکھا۔

 

۱۰۹۔۔۔۔۔۔ سلام ہے ابراہیم پر۔

 

۱۱۰۔۔۔۔۔۔ اسی طرح ہم نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں۔

 

۱۱۱۔۔۔۔۔۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

 

۱۱۲۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے اس کو اسحاق کی خوش خبری دی۔ ایک نبی ہو گا صالحین میں سے ۹۸*

 

۱۱۳۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر بر کتیں نازل کیں ۹۹*۔ اور ان دونوں کی نسل میں سے نیکو کار بھی ہیں اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی ۱۰۰*

 

۱۱۴۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر فضل کیا۔

 

۱۱۵۔۔۔۔۔۔ ان کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی ۱۰۱*

 

۱۱۶۔۔۔۔۔۔ اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے ۱۰۲*

 

۱۱۷۔۔۔۔۔۔ ان کو روشن کتاب عطا کی ۱۰۳*

 

۱۱۸۔۔۔۔۔۔ اور انہیں سیدھے راستہ کی ہدایت بخشی ۱۰۴*

 

۱۱۹۔۔۔۔۔۔ اور بعد والوں میں ان کا ذکر جمیل باقی رکھا ۱۰۵ *

 

۱۲۰۔۔۔۔۔۔ سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر ۱۰۶*

 

۱۲۱۔۔۔۔۔۔ اسی طرح ہم نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں۔

 

۱۲۲۔۔۔۔۔۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

 

۱۲۳۔۔۔۔۔۔ اور یقیناً الیاس ۱۰۷* بھی پیغمبروں میں سے تھا۔

 

۱۲۴۔۔۔۔۔۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو؟ ۱۰۸ّ*

 

۱۲۵۔۔۔۔۔۔ کیا تم بعل۱۰۹* کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑ دیتے ہو!

 

۱۲۶۔۔۔۔۔۔ اللہ کو جو تمہارا رب بھی ہے اور  تمہارے اگلے باپ دادا کا بھی ۱۱۰*

 

۱۲۷۔۔۔۔۔۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلایا تو یقیناً انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جاۓ گا ۱۱۱*

 

۱۲۸۔۔۔۔۔۔ البتہ اللہ کے خاص بندے اس سے محفوظ ہوں گے ۱۱۲*

 

۱۲۹۔۔۔۔۔۔ اور بعد والوں میں ہم نے اس ۱۱۳*کا ذکر جمیل باقی رکھا۔

 

۱۳۰۔۔۔۔۔۔ سلام ہے اِلیاسین پر ۱۱۴*

 

۱۳۱۔۔۔۔۔۔ ہم نیک عمل لوگوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

 

۱۳۲۔۔۔۔۔۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

 

۱۳۳۔۔۔۔۔۔ اور لوط۱۱۵*بھی رسولوں میں سے تھا۔

 

۱۳۴۔۔۔۔۔۔ جب ہم نے اس کو اور اس کے تمام متعلقین کو نجات دی ۱۱۶*

 

۱۳۵۔۔۔۔۔۔ سواۓ ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی ۱۱۷*

 

۱۳۶۔۔۔۔۔۔ پھر باقی سب کو ہم نے ہلاک کر ڈالا ۱۱۸*

 

۱۳۷۔۔۔۔۔۔ اور تم ان کی (اجڑی ہوئی) بستیوں پر سے گزرتے ہو صبح کو بھی۔

 

۱۳۸۔۔۔۔۔۔ اور رات بھی ۱۱۹*۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے !

 

۱۳۹۔۔۔۔۔۔ اور بے شک یونس ۱۲۰* بھی رسولوں میں سے تھا۔

 

۱۴۰۔۔۔۔۔۔ جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی میں جا پہنچا ۱۲۱*

 

۱۴۱۔۔۔۔۔۔ پھر (کشتی والوں نے) قرعہ ڈالا تو وہ اس میں مغلوب ہو گیا ۱۲۲ *

 

۱۴۲۔۔۔۔۔۔ پھر مچھلی نے اسے نگل لیا ۱۲۳* اس حال میں کہ وہ (اپنے ہی کو) ملامت کر رہا تھا۱۲۴*

 

۱۴۳۔۔۔۔۔۔ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا ۱۲۵ *

 

۱۴۴۔۔۔۔۔۔ تو لوگوں کے اٹھاۓ جانے کے دن تک وہ اس کے پیٹ میں رہتا ۱۲۶*

 

۱۴۵۔۔۔۔۔۔ پھر ہم نے اس کو ایک چَٹیل زمین پر ڈال دیا اس حال میں کہ وہ نڈھال تھا ۱۲۷*۔

 

۱۴۶۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے اس پر ایک بیل دار درخت لگایا ۱۲۸*

 

۱۴۷۔۔۔۔۔۔ اور اس کو بھیجا ایک لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کی طرف ۱۲۹*

 

۱۴۸۔۔۔۔۔۔ وہ ایمان لاۓ لہٰذا ہم نے ایک وقت ک انہیں سامان زندگی دیا ۱۳۰*

 

۱۴۹۔۔۔۔۔۔ ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ! ۱۳۱*

 

۱۵۰۔۔۔۔۔۔ کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور یہ اس کے شاہد ہیں ؟ ۱۳۲*

 

۱۵۱۔۔۔۔۔۔ سنو ، یہ لوگ محض من گھڑت طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔

 

۱۵۲۔۔۔۔۔۔ کہ اللہ کے اولاد ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

 

۱۵۳۔۔۔۔۔۔ کیا اس نے بیٹوں کے بجاۓ بیٹیاں پسند کر لیں ؟

 

۱۵۴۔۔۔۔۔۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو!

 

۱۵۵ ۔۔۔۔۔۔کیا تم سوچتے  سمجھتے نہیں ! ۱۳۳ *

 

۱۵۶۔۔۔۔۔۔ یا پھر  تمہارے پاس واضح حجت ہے۔

 

۱۵۷۔۔۔۔۔۔ تو پیش کرو اپنی کتاب اگر تم سچے ہو ۱۳۴ *

 

۱۵۸۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان بھی نسب کا رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ اور جنوں کو معلوم ہے کہ وہ گرفتار کر کے پیش کیے جانے والے ہیں  ۱۳۵*

 

۱۵۹۔۔۔۔۔۔  اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں ۱۳۶ *۔

 

۱۶۰۔۔۔۔۔۔ بجز اللہ کے خاص بندوں کے  ۱۳۷ *

 

۱۶۱۔۔۔۔۔۔ پس تم اور وہ جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ ۱۳۸*

 

۱۶۲۔۔۔۔۔۔ اس سے کسی کو برگشتہ نہیں کر سکتے۔

 

۱۶۳۔۔۔۔۔۔ مگر انہیں کو جو جہنم میں جانے والے ہیں ۱۳۹ *

 

۱۶۴۔۔۔۔۔۔ اور ہم میں سے ہر ایک کا مقام مقرر ہے ۱۴۰*

 

۱۶۵۔۔۔۔۔۔ اور ہم صف بستہ رہنے والے ہیں۔ ۱۴۱*

 

۱۶۶۔۔۔۔۔۔ اور ہم تسبیح کرنے والے ہیں ۱۴۲*

 

۱۶۷۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ کہا کرتے تھے ۱۴۳*

 

۱۶۸۔۔۔۔۔۔ اگر ہمارے پاس اگلے لوگوں کی تعلیم ہوتی ۱۴۴*

 

۱۶۹۔۔۔۔۔۔ تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے ۱۴۵*

 

۱۷۰۔۔۔۔۔۔ مگر انہوں نے اس کا انکار کر دیا تو وہ عنقریب جان لیں گے ۱۴۶ *

 

۱۷۱۔۔۔۔۔۔ اور ہمارا فرمان ہمارے بھیجے ہوۓ بندوں کے لیے پہلے ہی صادر ہو چکا ہے ۱۴۷*

 

۱۷۲۔۔۔۔۔۔ کہ یقیناً ان کی مدد کی جاۓ گی ۱۴۸*

 

۱۷۳۔۔۔۔۔۔ اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا ۱۴۹*

 

۱۷۴۔۔۔۔۔۔ تو ان کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لو ایک وقت تک کے لیے ۱۵۰*

 

۱۷۵۔۔۔۔۔۔ اور دیکھتے رہو۱۵۱*۔ وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے ۱۵۲*

 

۱۷۶۔۔۔۔۔۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟

 

۱۷۷۔۔۔۔۔۔ جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو بہت بری ہو گی ان لوگوں کی صبح جن کو اس سے خبر دار کیا جا چکا ہے ۱۵۳*

 

۱۷۸۔۔۔۔۔۔ تو ان کی طرف سے توجہ ہٹا لو ایک وقت تک کے لیے۔

 

۱۷۹۔۔۔۔۔۔ اور دیکھتے رہو وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔

 

۱۸۰۔۔۔۔۔۔ پاک ہے تمہارا رب، رب العزۃ ۱۵۴* ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں ۱۵۵*

 

۱۸۱۔۔۔۔۔۔ اور سلام ہے پیغمبروں پر ۱۵۶*

 

۱۸۲۔۔۔۔۔۔ اور حمد ہے اللہ رب العالمین کے لیے ۱۵۷*۔

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔ صف باندھ کر کھڑے ہونے والوں سے مراد فرشتے ہیں جیسا کہ اسی سورہ کی آیت ۱۶۵ سے واضح ہے جس میں فرشتوں کا یہ بیان نقل ہوا ہے :

 

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّاقُّوْنَ " اور ہم ( اللہ کے حضور) صف باندھے کھڑے رہتے ہیں "۔

 

اور قسم شہادت (گواہی) کے مفہوم میں ہے اور یہ عربی میں بلاغت کا ایک اسلوب ہے۔ ایسے موقع پر قسم کے وہ معنی نہیں ہوتے جو ہم اپنی زبان میں سمجھتے ہیں یعنی کسی کی عظمت کے پیش نظر اس کی قسم کھانا ایسی قسم صرف اللہ ہی کی کھائی جاتی ہے۔

 

آیت میں مَلَاءِ اعلیٰ (آسمانی دربار) کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے۔ فرشتوں کا اللہ کے حجور صف باندھ کر عجز و نیاز کے ساتھ کھڑے ہو جانا اس بات کی شہادت ہے کہ اللہ ہی ان کے نزدیک لائق عبادت ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔ یعنی فرشتے شیاطین کو ڈانٹتے اور دھتکارتے ہیں وہ ان سرکشوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے بلکہ ان کو لعنت ملامت کرتے ہیں۔

 

۳۔۔۔۔۔۔ مراد فرشتے ہیں جو ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں۔ ذکر کے ساتھ تلاوت کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فرشتوں کے لیے بھی ذکر کے کچھ کلمات مخصوص کر دیے گۓ ہیں۔ جس طرح ہمارے لیے سبحان اللہ، الحمد للہ، وغیرہ کلمات مخصوص کر دیے گۓ ہیں۔ ذکر کے لیے یہ مخصوص کلمات جو اللہ ہی کے سکھاۓ ہوۓ ہیں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔

 

فرشتے اللہ کے سکھاۓ ہوۓ کلمات کے ساتھ ذکر کا اہتمام کرتے ہیں اس لیے اس کو تلاوت ذکر سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ تلاوت ذکر عبادت ہے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ بات جس پر فرشتوں کی عبادت کو بطور شہادت پیش کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ اور وہی ہے جو عالم بالا میں فرشتوں کا بھی معبود ہے۔

 

۵۔۔۔۔۔۔ آسمان و زمین کے درمیان کی موجودات بے حد و حساب ہیں۔ ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ صرف اس کہکشاں میں جس میں ہماری زمین واقع ہے کروڑ ہا تارے پاۓ جاتے ہیں :

 

“Our Galaxy is a vast system of 100 billion stars. “

(The Cambridge Ency. of Astronomy. London P. 313)

 

اتنی وسیع کائنات کا خالق و مالک کون ہے اور اس پر کس کی حکومت قائم ہے ؟ اس سوال کا علمی سطح پر جواب اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ ایک خدا ہی پوری کائنات کا خالق و مالک ہے اور اسی کی حکومت اس پر قائم ہے۔

 

آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشرق ایک نہیں بلکہ کئی ایک ہیں۔ اور یہ بات موجودہ علم افلاک Astronomy کی روشنی میں سمجھنا انسان کے لیے آسان ہو گیا ہے۔ جس طرح زمین پر سورج کے طلوع اور غروب سے مشرق اور مغرب بن گۓ ہیں اسی طرح دیگر سیاروں پر بھی مشرق و مغرب کا وجود ہے۔ قرآن نے مشرقوں کا رب کہ کر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ یہ کائنات نہایت وسیع ہے اس کو ایک مشرق تک محدود نہ سمجھو اور اس وسیع کائنات کا ایک ہی مالک ہے اور وہ ہے اللہ۔

 

۶۔۔۔۔۔۔ یعنی آسمان کو تاروں سے اس طرح آراستہ کی۸ا ہے کہ اس کا جمالیاتی منظر نگاہوں کے لیے وجہ کشش بن گیا ہے اور دیکھنے والوں کو دعوت فکر دیتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی حسن صنعت کا یہ نمونہ پیش کر دیا ہے ؟

 

۷۔۔۔۔۔۔ یعنی سرکش شیطان جب آسمان کی طرف پرواز کرتے ہیں تاکہ وہ عالم بالا کی خبریں لائیں تو ان کی رسائی آسمان تک نہیں ہو پاتی۔ اس کو شیطانوں کے گھس آنے سے بالکل محفوظ کر دیا گیا ہے۔

 

۸۔۔۔۔۔۔ مَلَاءِ اعلیٰ ، سے مراد عالم بالا کا دربار یعنی فرشتوں کی بزم ہے۔ اس بزم کی کوئی بات شیطان سن نہیں سکتے۔ اس لیے یہ خیال غلط ہے کہ شیاطین آسمان کی خبریں کاہنوں تک پہنچاتے ہیں اور اسی غلط تصور کی بنا پر کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کاہن ہونے کا شبہ ظاہر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ عالم بالا کی جو خبریں سنا رہے ہیں وہ شیطان کی لائی ہوئی خبریں ہیں جن میں جھوٹ کی آمیزش ہے۔ اس خیال کی تردید میں یہاں فرمایا گیا ہے کہ شیطان ملاء اعلیٰ کی باتیں سن ہی نہیں سکتے۔ انہیں اس سے دور رکھا گیا ہے۔ اور ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ اگر وہ اس حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی پرواز کے لیے مقرر کی گئی ہے تو ان پر ہر طرف سے مار پڑتی ہے۔

 

۹۔۔۔۔۔۔ یعنی فرشتے ان کو دھتکارتے ہیں۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت میں تو ان شیاطین کے ہمیشہ کا عذاب ہے۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔ "شہاب" کے معنی شعلہ کے ہیں اور مراد ستاروں سے نکلنے والے شعلے ہیں۔ کوئی شیطان آسمان کی خبریں لانے کے لیے ستاروں والا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے یعنی اس کی مار اس پر پڑتی ہے اور وہ آگے بڑھ نہیں پاتا۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حجر نوٹ۔۱۶

 

۱۲۔۔۔۔۔۔ یعنی انسانوں ، فرشتوں ، جنوں کو جو ہم پیدا کر چکے ہیں تو ان کو عشم سے وجود میں لانا سخت مشکل کام تھا یا انسان کی دوسری تخلیق سخت مشکل کام ہے ؟ اگر پہلی چیز اللہ کے لیے آسان تھی تو دوسری چیز اور بھی آسان ہونا چاہیے۔ ان لوگوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟

 

مَنْ عربی میں ذوی العقول کے لیے آتا ہے اس لیے ہم نے اس کی رعایت سے اَمَّنْ خَلَقْنَا کا ترجمہ "یا جن  کو ہم پیدا کر چکے ہیں ان کو " کیا ہے۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔ انسان کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے اور جس مٹی سے انسان کا ڈھانچہ بنایا گیا ہے اس کو مختلف حالتوں کا ذکر کیا ہے۔ یہاں اس کی اس حالت کا ذکر کیا ہے جب کہ پانی سے مل کر لیسدار یعنی چپکنے والی بن گئی تھی۔ اسی سے انسان کا قالب ڈھالا گیا۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اے پیغمبر اللہ کی قدرت کی ان کرشمہ سازیوں کو دیکھ کر تمہیں حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اپنی تخلیق کے کیسے اعلیٰ نمونے پیش کر دیے ہیں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کی قدرت کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دوسری مرتبہ پیدا کرنا ممکن نہیں۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔ یعنی جب ان کے سامنے کوئی ایسی حجت آ جاتی ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نبوت پر دلالت کرنے والی ہوتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور جب اس کی یہ تاثیر دیکھتے ہیں کہ وہ دلوں کو مسخر کیے جا رہی ہے تو اس کی توجیہ وہ یہ کرتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو اپنا اثر دکھا رہا ہے۔  اس طرح ان پر نہ نصیحت کار گر ہوتی ہے اور نہ حجت۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی تم اس حال میں اٹھاۓ جاؤ گے کہ تمہارا غرور ختم ہو چکا ہو گا۔ اور تم اپنے کو بالکل بے بس پاؤ گے۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن اللہ کی اپنے بندوں کے لیے ایک ڈانٹ ہو گی کہ اٹھو اور حساب کے لیے میرے حضور حاضر ہو جاؤ۔ اس ڈانٹ کے نتیجے میں سارے مرے ہوۓ انسان فوراً اٹھ کھڑے ہوں گے۔ گویا ایک ڈانٹ تمام انسانوں کو جو سوۓ پڑے تھے جگا دے گی اور میدان حشر میں لا کھڑا کرے گی جہاں سب کے سامنے قیامت کا منظر ہو گا۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔ وہ قیامت کا منظر دیکھ کر اپنے حال پر افسوس کرنے لگیں گے کہ یہ کیا ہوا۔ ہم تو جزا و سزا کو جھٹلاتے رہے اور آج جزا و سزا کا دن برپا ہو گیا۔ اب ہماری شامت آ گئی ہے۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اس وقت ان کو احساس دلایا جاۓ گا کہ تم تو فیصلہ کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب دیکھ لو وہ دن برپا ہو گیا ہے۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔ یہ حکم فرشتوں کو ہو گا کہ ظالم لیڈروں اور پیشواؤں کو جمع کرو اور ان کے ساتھیوں اور پیروؤں کو بھی ، نیز ان بتوں کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے رہے ہیں۔ پھر سب کو جہنم کی طرف لے جاؤ۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔ یعنی جب وہ جہنم کے قریب پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماۓ گا کہ ان کو ذرا روکو تاکہ ان سے پوچھا جاۓ۔ جو بات پوچھی جاۓ گی وہ آگے بیان ہوئی ہے۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں تو تم ایک دوسرے کے مدد گار بنے رہے ایک مذہبی گروہ کی حیثیت سے یک جہتی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اب تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ ایک دوسرے سے بالکل بے تعلق ہو گۓ ہو اور اتنی بڑی مصیبت میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ اس سوال کا وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہو گی۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں تو وہ اللہ کے نافرمان بنے رہے لیکن آج انہوں نے اپنے کو اللہ کے حوالہ Surrender  کر دیا ہے۔ اب جو حکم انہیں دیا جاتا ہے اس کی وہ تعمیل کرتے ہیں۔ کہاں گیا اب ان کی آزادی کا غرہ؟

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ یعنی ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے۔ لیڈر عوام کو اور عوام لیڈروں کو ، مذہبی پیشوا اپنے پیروؤں کو اور پیرو اپنے پیشواؤں کو اور شیاطین اپنے چیلوں کو اس چیلے اپنے استادوں کو۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔ سہنی طرف سے کے معنی عربی محاورہ کے مطابق  "خیر کی راہ سے "کے ہیں۔ مطلب یہ ہے  کہ ہم تمہارے خیر خواہ بن کر آتے تھے مگر حقیقۃً تم نے ہماری بد خواہی کی۔ تم نے ہمیں سبز باغ دکھاۓ اور ہم تمہاری باتوں میں آ کر اس انجام کو پہنچ گۓ۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔ وہ گمراہ کرنے والے کو جواب دیں گے کہ تم کب ایمان لانا چاہتے تھے اگر ایمان لانا ہوتا تو تم لے آتے ہمارا کوئی زور تم پر نہیں تھا کہ تم کو ایمان لانے سے روک دیتے۔ تم خود اپنی سرکدی کے ذمہ دار ہو۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کا یہ فرمان کہ شیطان کے پیروؤں کو جہنم کی سزا بھگتنا ہو گی۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔ وہ اعتراف کریں گے کہ ہم بہکے ہوۓ تھے اور جب ہم بہکے ہوۓ تھے تو تم کو بھی بہکانے ہی کا کام کرسکتے تھے مگر تم کیوں ہمارے  بہکانے میں آ گۓ ؟

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی لیڈر اور عوام اور پیشوا اور ان کے پرو سب اپنی اپنی گمراہی کے ذمہ دار تھے اس لیے عذاب میں بھی سب شریک ہوں گے۔

 

عوام بھی نے قصور نہیں ہیں وہ کیوں آنکھیں بند کر کے گمراہ لیڈروں اور مذہبی پیشواؤں کے پیچھے چلتے رہے تو جس گڑھے میں وہ گریں گے اس گڑھے میں ان کو بھی گرنا ہو گا۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے کفار مکہ کی طرف کہ ہم ان مجرمین کو بھی جہنم کی سزا دیں گے۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔ اللہ کے رسول کو وہ دیوانہ شاعر کہتے تھے۔

 

۳۲۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کا پیغمبر حق لے کر آیا تھا اور اس کی ت علیم دوسرے پیغمبروں کی تعلیم سے جو پہلے آ چکے تھے مختلف نہیں تھی کہ انکے لیے انکار کی کوئی وجہ ہوتی۔ بلکہ اس نے ان رسولوں کی سچائی کا بھی اعلان کیا تھا اور اس کی تعلیم بھی ان کی تعلیم سے بالکل ہم آہنگ تھی نیز وہ ان پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آیا تھا جو ان رسولوں نے اس کے بارے میں دی تھیں۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔ یعنی تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جاۓ گی بلکہ تمہارے اعمال کا ٹھیک ٹھیک بدلہ تمہیں دیا جاۓ گا۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔ مخصوص بندوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت و بندگی کے لیے چن لیا۔ ان پر شیطان کا کوئی داؤ چل نہ سکا اور وہ اللہ کی توفیق سے اسی کے ہو کر رہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن عذاب سے محفوظ ہو گے۔ اور نہ صرف عذاب سے محفوظ  ہوں گے بلکہ جیسا کہ آگے بیان ہوا ہے بیش بہا انعامات سے نوازے جائیں گے۔

 

واضح رہے کہ ان انعامات کا وعدہ نام نہاد مسلمانوں سے نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو اپنے ایمان و عمل سے واقعی اللہ کے بندے قرار پائیں گے۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔ یعنی انہیں اپنے رزق کی کوئی فکر نہیں کرنا ہو گی بلکہ انہیں اطمینان ہو گا کہ ان کے لیے رزق مقرر ہے جو ہمیشہ انہیں ملتا رہے گا۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔ میوؤں کا ذکر یہاں مثال کے طور پر ہوا ہے ورنہ دوسرے مقامات پر کھانے کی دوسری نفیس چیزوں کا بھی ذکر ہوا ہے۔ جنت میں جسم کو قائم رکھنے اور زندہ رہنے کے لیے غذا کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ انہیں ایسے جسم مل چکے ہوں گے جن میں کوئی نقص پیدا ہونے والا نہیں۔ وہاں کھانا پینا لذت اور سرور حاصل کرنے کے لیے ہو گا۔ اسی لیے میوؤں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ ہوا ہے۔

 

 ۳۷۔۔۔۔۔۔ یعنی انہیں صرف کھانے پینے کی اشیاء ہی نہیں ملیں گی بلکہ عزت و سرفرازی بھی حاصل ہو گی

 

۳۸۔۔۔۔۔۔ جنت میں بیٹھنے کے لیے شاہانہ تخت ہوں گے اور اہل جنت ایک دوسرے  کے سامنے اس طرح بیٹھیں گے کہ گویا انس و محبت کی مجلسیں ہیں۔

 

۳۹۔۔۔۔۔۔ یعنی جنت کی شراب دنیوی شراب سے بالکل مختلف ہو گی۔ نہ اس سے درد سر یا کسی اور قسم کا جسمانی ضرر لا حق ہو گا اور نہ عقل میں فتور آۓ گا۔ وہ ہر قسم کی خرابی سے پاک ، صاف ستھری اور نہایت لذیذ شراب ہو گی۔ جنت کے اس مشروب کو شراب سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ اس سے ایک خاص قسم کا سرور اور لذت حاصل ہو گی جس کے سامنے دنیا کی شراب ہیچ ہے۔ گویا دونوں میں ناموں کا اشتراک تو ہے لیکن اپنی نوعیت اور کیفیت پیدا کرنے کے اعتبار سے دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی رفاقت میں ایسی بیویاں ہو ں گی جو غایت حیاء سے اپنی نگاہیں نیچی کیے ہوۓ ہوں گی۔ " عِین" کے معنی بڑی آنکھوں والی کے ہیں جو حسن کی علامت ہے۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔ ان کی سفید رنگت اور ان کے محفوظ و مستور ہونے کو ان انڈوں سے تشبیہ دی گئی ہے جن کو پرندے اپنے پروں کے نیچے چھپاۓ ہوۓ ہوں۔ عرب کے جاہلی شاعر امرء القیس نے بھی پردہ نشین دوشیزاؤں کے لیے وَ بیضۃِ خِدْرٍ کا کنایہ استعمال کیا ہے ؏

 

   وَبیضۃِ خِدْرٍ لا یُرامُ خِبَاءُھا

 

۴۲۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا تم بھی قیامت اور دوسری زندگی پر یقین رکھتے ہو؟

 

۴۳۔۔۔۔۔۔ اس کی بات ابھی پوری نہیں ہونے پاۓ گی کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماۓ گا کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو۔ اگر دیکھنا چاہتے ہو تو تم سب کو اس کا موقع حاصل ہے۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔ وہ شخص جوں ہی جھانک کر دیکھے گا تو اس کا ساتھی اس جہنم کے درمیان میں دکھائی دے گا۔

 

معلوم ہوا کہ اہل جنت اگر جہنمیوں کو دیکھنا چاہیں گے توبہ آسانی دیکھ سکیں گے۔ اس کے لیے دوربین وغیرہ اسباب فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔ وہ جنتی شخص اللہ کا شکر ادا کرے گا کہ یہ اسی کا فضل ہوا کہ میں اپنے ساتھی کے بہکانے میں نہیں آیا۔ آئندہ پیش آنے والے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرما دیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے ساتھی کے معاملہ میں ہوشیار رہے اگر وہ آخرت کا منکر ہے تو اس کے بہکانے میں نہ آۓ۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔ پھر وہ جنتی شخص اہل مجلس سے مخاطب ہو کر کہتے گا کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ جنت میں ہمیں ابدی زندگی عطاء ہوئی ہے اور موت سے کبھی سابقہ پیش آنے والا نہیں۔ اس طرح سقال کے انداز میں وہ اپنے یقین کا اظہار کرے گا۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں جو موت ہمیں آئی وہ آخری تھی۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔ جنت اللہ تعالیٰ کا ابدی انعام ہو گا اس لیے عذاب اور تکلیف کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔

 

۴۹۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسی کامیابی کہ اس سے بڑھ کر کسی کامیابی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

 

۵۰۔۔۔۔۔۔ اس جنتی شخص کا بیان اوپر ختم ہوا۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ترغیب ہے کہ وہ اسی کامیابی کے حصول کے لیے کوشش کریں جو انہیں جنت کی طرف لے جانے والے ہوں۔

 

۵۱۔۔۔۔۔۔ زقوم ایک نہایت کڑوے کسیلے درخت کا نام ہے جو عرب میں تہامہ کے علاقہ میں پایا جاتا تھا۔ جہنم میں جو نہایت تلخ اور زہریلا پھر کھانے کو ملے گا اس کا کچھ اندازہ زقوم کے درخت سے ہو سکتا ہے۔

 

۵۲۔۔۔۔۔۔ یعنی زقوم کا درخت ظالموں کے لیے وجہ آسمائش ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اس درد ناک سزا کے تصور ہی سے کانپ اٹھیں لیکن وہ مذاق اڑائیں گے کہ خوب ہے آگ میں درخت اگتا ہے !

 

۵۳۔۔۔۔۔۔ اللہ کی قدرت سے یہ ہر گز بعید نہیں کہ وہ جہنم میں درخت پیدا کر دے اور اس کے بارے میں جو وضاحت ان آیتوں میں کی گئی ہے اس سے یقین اور پختہ ہو جاتا ہے۔ جو درخت جہنم کی تہ سے نکلتا ہو وہ کس غضب کا ہو گا اور کھانے والوں پر کیا آفت لاۓ گا !

 

۵۴۔۔۔۔۔۔ شیطان کو اگر چہ انسانوں نے نہیں دیکھا مگر اس کا بھیانک تصور ذہنوں میں موجود ہے۔ اسی لحاظ سے زقوم کے خوشوں کو شیطانوں کے سروں سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی نہایت کریہہ منظر اور نفرت انگیز ہوں گے۔

 

۵۵۔۔۔۔۔۔ دوزخ والے جب بھوک سے بے تاب ہوں گے تو انہیں اپنا پیٹ زقوم کے کڑوے کسیلے پھلوں سے بھرنا ہو گا۔ یہ در حقیقت ان کے برے اعمال کے پھل ہوں گے جو انہیں کھانے کے لیے ملیں گے۔

 

۵۶۔۔۔۔۔۔ زقوم کا پھل کھانے کے بعد پینے لیے ان کو گرم پانی ملے گا۔

 

۵۷۔۔۔۔۔۔ جہنم نہایت وسیع ہو گی اور اس کے مختلف حصے مختلف سزاؤں کے لیے مخصوص ہوں گے۔ مجرموں کو جہنم ہی کے ایک حصہ میں کھانے کے لیے زقوم اور پینے کے لیے گرم پانی ملے گا اس کے بعد جہنم کے اس طبقہ میں جہاں شدت سے آگ بھڑک رہی ہو گی اور جس کا نام جحیم ہے انہیں واپس لوٹنا ہو گا۔

 

۵۸۔۔۔۔۔۔ یہ بات مشرکین مکہ کے بارے میں کہی جا رہی ہے یعنی باوجود اس کے کہ ان کے باپ دادا گمراہ تھے ان کی تقلید کا جنون ان پر ایسا سوار ہے کہ ان کے نقش قدم پر تیزی کے ساتھ چلے جا رہے ہیں۔ آبائی مذہب کی تقلید کا جنون ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بصیرت سے تمام نہیں لیتا۔

 

۵۹۔۔۔۔۔۔ لوگوں کی گمراہی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جو مذہب اور کلچر قدیم سے چلا آ رہا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور اسی سے وابستہ رہنا چاہیے۔ اسی بنیاد پر مذہبی فرقے وجود میں آ گۓ ہیں حالانکہ ماضی میں بھی انسانوں کی بڑی تعداد گمراہ رہی ہے۔ نہ ان کے پاس حق کی حجت تھی اور نہ ان کے پاس ہے حق کی روشنی تو دلیل اور حجت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے نہ کہ اندھی تقلید کے ذریعہ

 

۶۰۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے نوٹ ۳۴۔

 

۶۱۔۔۔۔۔۔ نوح علیہ والسلام کی سرگزشت کا وہ حصہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں اس اذیت سے نجات دی جا ان کی قوم انہیں حق کی مخالفت میں پہنچا رہی تھی اس عذاب سے بھی کس طرح بچا لیا جو ان کی قوم پر بالآخر آیا نیز ان کو کس طرح اللہ  تعالیٰ نے انعامات سے نوازا۔

 

حضرت نوح کے سلسلہ کی تفصیلات کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۹۵۔

 

۶۲۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس دعا کی طرف جو نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں ایک طویل عرصہ گزارنے اور ان پر حجت تمام کرنے کے بعد کی تھی جس کا ذکر سورہ قمر آیت ۱۰ میں ہوا ہے۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور جس طرح قبول فرمائی وہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ اس کے مخلص بندے جب اس کو پکارتے ہیں تو وہ نہ صرف ان کی پکار کو سنتا ہے بلکہ بہترین طریقہ پر اس کا جواب  دیتا ہے۔ اس میں راہ حق کے مصیبت زدگان کے لیے تسلی کا پورا سامان موجود ہے۔

 

۶۳۔۔۔۔۔۔ " اس کے اہل" (متعلقین) سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت نوح پر ایمان لاۓ تھے اور "کرب عظیم" سے مراد وہ سخت تکلیفیں ہیں جو کافر قوم کی طرف سے انہیں پہنچ رہی تھیں نیز وہ طوفان بھی جو اس قوم پر آیا۔

 

۶۴۔۔۔۔۔۔ طوفان نے ساری انسانیت کا خاتمہ کر دیا تھا اور صرف وہی لوگ بچا لیے گۓ تھے جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے اور ایمان لا چکے تھے۔ ان میں بیشتر ان کے گھر کے افراد ہی تھے اور بعد میں حضرت نوح ہی کی اولاد سے جو بچا لیے گۓ تھے نسل انسانی کا سلسلہ چلا اور قومیں وجود میں آئیں۔ بائیبل کی رو سے حضرت نوح کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث سے نسل انسانی کا سلسلہ چلا۔ سام سے عرب ، روم وغیرہ سیمٹک Semitic قومیں وجود میں آئیں ، حام سے حبشی، مصری وغیرہ اور یافث سے ترک مغل اور یاجوج ماجوج وغیرہ۔  واللہ اعلم۔

 

۶۵۔۔۔۔۔۔ نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں جو صلہ ملا وہ ایک تو وہ ہے جس کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں ہوا یعنی ان ہی کی اولاد سے نسل انسانی کا سلسلہ چلا اور دوسرا صلہ یہ کہ بعد کے لوگوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا گیا۔ خاص طور سے قرآن پر ایمان لانے والے نہ صرف اچھے کلمات کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں بلکہ قرآن میں متعدد مقامات پر جس شان سے ان کا ذکر ہوا ہے وہ بار بار ان کی زبان پر آتا رہتا ہے اور وہ ان سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

 

۶۶۔۔۔۔۔۔ یہ تیسرا صلہ ہے جو ان کو دنیا میں ملا کہ وہ سلامتی سے نوازے گۓ۔ ان کے دشمن ان کا کچھ بگاڑ نہ سکے۔ دنیا کی بڑی بڑی ملتیں یہود، نصاریٰ، اور مسلمان ان کا احترام کرتے ہیں اور اہل ایمان کے دل سے ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں اور ان پر وہ سلام بھیجتے ہیں سلامٌ علیٰ نوح۔

 

۶۷۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ نیک عمل ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ انکے عمل کے اعتبار سے دنیا میں بھی اچھا صلہ دیتا ہے۔

 

۶۸۔۔۔۔۔۔ یعنی جنہوں نے کفر کیا تھا ان سب کو غرق کر دیا۔

 

تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۱۰۳۔

 

۶۹۔۔۔۔۔۔ یعنی ابراہیم نوح ہی کے دین و ملت سے تعلق رکھتے تھے جو دین نوح کا تھا وہی ابراہیم کا تھا اور اسی گروہ کے فرد تھے جو نوح کا پیرو کار تھا۔

 

۷۰۔۔۔۔۔۔ یعنی ابراہیم نے اپنے کو اللہ کے سامنے اس طرح پیش کر دیا کہ ان کا دل شرک اور گناہ کی آلائشوں سے پاک تھا۔ فطرت نے جو صحت مند دل ان کو عطا کیا تھا اس کی صحت کو انہوں نے برقرار رکھا اور ہوش سنجھالتے ہی انہوں نے اپنے رب کی بندگی اختیار کی۔

 

۷۱۔۔۔۔۔۔ یہ اس وقت کی بات ہے جن ابراہیم علیہ السلام نبوت سے سر فراز کیے گۓ تھے۔ ان کے باپ آذر بت پرست تھے اور ان کی قوم بھی بت پرست تھی اور بت پرستی بدترین شرک، کھلی گمراہی اور سنگین جرم ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز اس طرح کیا کہ بت پرستی پر ضرب کاری لگائی۔ انہوں نے ان کو دعوت فکر دی کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو کیا وہ واقعی پوجنے کے قابل اور پرستش کے مستحق ہیں ؟

 

۷۲۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی ایک حقیقی معبود ہے۔ اس کے سوا جس کو بھی  معبود بنا لیا جاۓ وہ خلاف واقعہ اور من گھڑت معبود ہی ہو گا۔

 

۷۳۔۔۔۔۔۔ متعدد خداؤں کا عقیدہ آدمی اس گمان کی بنا پر اختیار  کر لیتا ہے کہ رب کائنات نہ تو براہ راست دعاؤں کو سنتا اور فریاد رسی کرتا ہے اور نہ کائنات کا سارا انتظام وہ اکیلا کر رہا ہے اور نہ ہی وہ تنہا پرستش کا مستحق ہے بلکہ خدائی کو اس نے بانٹ رکھا ہے اور اس بنا پر دوسرے بھی پرستش کے مستحق ہیں۔ یہ رب العالمین کے ساتھ سراسر بد گمانی ہے اور جو شرک اور بت پرستی اختیار کرتا ہے وہ لازماً رب العالمین کی نا قدری کرتا ہے اور اس سے بد گمان ہوتا ہے۔ یہی احساس دلانے کے لیے ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستوں سے سوال کیا کہ بتاؤ آخر تمہارا رب العالمین کے بارے میں کیا گمان ہے ؟

 

۷۴۔۔۔۔۔۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ لوگ غالباً کسی کی لیے میں شرکت کی غرض سے شہر کے باہر جا رہے تھے۔ رات ہو گئی اور تارے نمودار ہو گۓ تھے۔ انہوں نے ابراہیم(علیہ السلام) کو بھی ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ ان ستارہ پرستوں کو جنہوں نے ستاروں کو خدا مان کر ان کے بت بنا لیے ہیں سبق دینے کا اچھا موقع ہے۔ انہوں نے اول تو ستاروں ایک فکر انگیز نگاہ ڈالی کہ یہ ہیں ان کے خدا جن کی نمائندگی ان کے تراشے ہوۓ بت کرتے ہیں ! ان میں خدائی کی کون سی صفت ہے ؟ تعجب ہے ان لوگوں کی عقل پر ! اس کے بعد انہوں نے ساتھ چلنے کے سلسلے میں عذر پیش کر دیا جس کا ذکر آگے ہوا ہے۔

 

۷۵۔۔۔۔۔۔ یہ عذر حضرت ابراہیم نے اس لیے بھی پیش کر دیا تھا کہ واقعی ان کی طبیعت ناساز تھی اور رات کے وقت باہ جانے میں ان کو تکلیف ہو سکتی تھی اور اس لیے بھی کہ وہ لوگوں کی غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر بتوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتے تھے۔ یہ کاروائی خاموشی کے ساتھ اکیلے ہی میں کی جا سکتی تھیں اس لیے انہوں نے اپنا اصل عندیہ ظاہر کیے بغیر ناسازی طبع کا عذر پیش کرنے پر اکتفاء کیا۔ مگر مفسرین کی ایک تعداد نے اس عذر کو غیر واقعی سمجھکر اس کی عجیب و غریب تاویلیں کی ہیں۔ وہ تائید میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں جس میں بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم نے تین موقعوں پر غلط بیانی سے کام لیا تھا جن میں سے ایک یہ موقع ہے جب  انہوں نے کہا اِنّی سَقیم (مری طبیعت ناساز ہے ) (بخاری کتاب الانبیاء)۔

 

اس حدیث پر ہم تفصیلی گفتگو سورہ انبیاء کے تشریحی نوٹ ۸۰ میں کر چکے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث کو بوجوہ صحیح حدیث تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور کوئی وجہ نہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی ناسازی طبع کے عذر کو جھوٹ پر محمول کیا جاۓ۔ ایسی بات تو اسی صورت میں کہی جا سکتی ہے جب کہ یہ ثابت ہو جاۓ کہ ان کی طبیعت اس وقت ناساز نہیں تھی۔ اور جب یہ ثابت نہیں ہے تو ان کے اس بیان کو جو قرآن میں نقل ہوا ہے مطابق واقعہ ہی سمجھنا ہو گا۔

 

۷۶۔۔۔۔۔۔ لوگوں کے شہر سے باہر چلے جانے کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو مندر میں داخل ہو کر بتوں کے خلاف کاروائی کرنے کا موقع ملا۔ وہ جب مندر میں داخل ہوۓ تو بتوں کے سامنے کھانا رکھا ہوا دیکھا۔ انہوں نے بتوں سے مخاطب ہو کر کہا تم لوگ کھاتے کیوں نہیں ؟ یہ در اصل طنز تھا ان کے پرستاروں پر جو اپنے معبودوں کے سامنے کھانا پیش کرنے کی حماقت کرتے ہیں۔

 

۷۷۔۔۔۔۔۔ یہ دوسرا طنز تھا ان کے پرستاروں پر کہ جو بول نہیں سکتے ان کو یہ لوگ خدا بنا بیٹھے ہیں !

 

۷۸۔۔۔۔۔۔ سیدھا ہاتھ زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے پوری طاقت سے بتوں پر ضربیں لگائیں اور ان کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ قصہ تفصیل سے سورہ انبیاء میں گزر چکا۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انبیاء نوٹ ۷۶

 

۷۹۔۔۔۔۔۔ یعنی جب لوگ میلے سے لوٹے تو دیکھا بتوں کی یہ درگت بنی ہوئی ہے اور چونکہ ابراہیم علیہ السلام پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ میں تمہارے بتوں کے خلاف کاروائی کروں گا جیسا کہ سورہ انبیاء آیت ۵۷ میں بیان ہوا ہے اس لیے لوگ دوڑتے ہوۓ ان کے پاس یہ معلوم کرنے کے لیے پہنچ گۓ کہ کیا واقعی انہوں نے ہی یہ حرکت کی ہے۔

 

۸۰۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم نے ان کو جو جواب دیا وہ سورہ انبیاء  میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان آیتوں میں ان کے جواب کا ایک حصہ پیش کیا گیا ہے۔

 

حضرت ابراہیم نے بتوں کی بے حقیقی کو واضح کرنے کے لیے یہ سوال قائم کیا کہ اپنے ہی ہاتھوں کی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجنے کا کیا مطلب ؟ ان بتوں میں سے کوئی بھجی خالق نہیں ہے کیونکہ ان کو خود تم نے تراشا ہے پھر وہ خدا اور لائق پرستش کس طرح قرار پاۓ ؟

 

۸۱۔۔۔۔۔۔ یعنی خالق تو اللہ ہی ہے تمہارا بھی اور اس مٹی ، پتھر، لکڑی کا بھی جس سے تم بت بناتے ہو۔ اس لیے اللہ کا معبود حقیقی ہونا بالکل واضح حقیقت ہے اور اپنے ہی تراشیدہ بتوں کو معبود بنانا واضح حماقت  ہے۔

 

۸۲۔۔۔۔۔۔ ان کے پاس حضرت ابراہیم کے ان سوالوں کا جو دلیل اور حجت کی حیثیت رکھتے تھے کوئی جواب نہ تھا اور مذہبی تعصب کی بنا ء پر قبول حق  کے لیے بھی آمادہ نہیں تھے اس لیے انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو نذر آتش کرنے کا فیصلہ کیا۔

 

آتش کدہ بنا نے کی مصلحت یہ رہی ہو گی کہ دیواروں کے اندر آگ تیز بھڑکا۴ی جا سکتی ہے اس کے اندر سے انہیں بھاگنے کا موقع بھی نہیں مل سکے گا اور ان کے خاندان والوں کی نگاہوں سے چھپا کر انہیں لانا اور اس آگ میں جھونکنا آسان ہو گا۔

 

۸۳۔۔۔۔۔۔ انہوں نے حضرت ابراہیم کو نذر آتش کرنے کی سازش کی تھی مگر جیسا کہ سورہ انبیاء آیت ۶۹ میں بیان ہوا اللہ تعالیٰ نے آگ کو ابراہیم کے لیے ٹھنڈا کر دیا اور وہ صحیح و سلامت رہے۔ اس طرح ان کے دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑی اور پست ہو کر رہ گۓ۔

 

۸۴۔۔۔۔۔۔ چونکہ قوم پر اللہ کی حجت پوری طرح قائم ہو چکی تھی اور قوم ان کی جان کے در پے ہو گئی تھی اس لیے حضرت ابراہیم نے ہجرت کا فیصلہ کیا اس ہجرت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورہ عنکبوت نوٹ ۴۸۔

 

۸۵۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم عراق سے ہجرت کر کے شام (فلسطین) پہنچ گۓ تھے۔ وہاں انہوں نے صالح اولاد کے لیے دعا کی تاکہ وہ ان کی قوت بازو بنے اور دین کی روشنی ان کے ذریعے پھیلے۔

 

 صالح اولاد اللہ کی بڑی نعمت ہے اور دعا جب اولاد کے لیے کی جاۓ تو صالح اولاد ہی کے لیے کرنا چاہیے۔

 

۸۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اسمٰعیل کی جو ابراہیم(علیہ السلام) کے پہلے بیٹے تھے۔ حلیم(بردبار) ہونے کا وصف ان میں بدرجہ اتم موجود تھا جس کا ثبوت ان کی بے مثال قربانی ہے۔

 

۸۷۔۔۔۔۔۔ یعنی ابراہیم کے لیے سہارا بن گیا کہ ان کے ساتھ چل پھر سکے اور ان کے کام میں ہاتھ بٹا سکے۔

 

۸۸ ۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے لیے تمہیں قربان کر رہا ہوں۔ یہ خواب ایک نبی کا تھا جس میں اللہ کی طرف سے غیبی اشارات ہوتے ہیں اور جو شیطانی وساوس کی آمیزش سے پاک ہوتا ہے اس لیے حضرت ابراہیم نے اس کو اللہ کی طرف سے اشارہ سمجھا۔

 

واضح رہے کہ کسی شخص کے لیے خواب کی بنیاد پر کوئی ایسا اقدام کرنا روا نہیں ہے جس کی شریعت اجازت نہ دیتی ہو لیکن انبیاء علیہم السلام کو چونکہ عصمت حاصل ہوتی ہے اس لیے ان کے خواب بھی سچے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر بالفرض کوئی نبی خواب کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بر وقت اس کی اصلاح فرماتا ہے۔

 

۸۹۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے سے راۓ اس لیے پوچھی کہ ذبح اسی کو کرنا تھا نیز اس لیے بھی کہ اس کے صبر و تحمل کا اندازہ ہو جاۓ۔

 

۹۰۔۔۔۔۔۔ یہ تھا بیٹے کا جواب جس کا ایک ایک لفظ ایمان و یقین، خلوص اللہیت ، صبر و تحمل، عزم و حوصلہ اور فدویت و قربانی کے جذبات سے پر تھا۔ اس عزم صمیم کے باوجود انشاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا تو) کہنا توکل کی اعلیٰ مثال ہے۔

 

بیٹے کے اس جواب سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت وہ نہ صرف سن تمیز کو پہنچ گیا تھا بلکہ اس میں سوجھ بوجھ بھی پیدا ہو گئی تھی۔

 

۹۱۔۔۔۔۔۔ اَسْلمَا یعنی دونوں نے اپنے کو اپنے رب کے حوالہ کر دیا اور بلا چون و چرا حکم الٰہی کی تعمیل کے لیے آمادہ ہو گۓ۔ واضح ہوا کہ اسلام کی حقیقت کسی تحفظ کے بغیر اپنے کو اللہ کے حوالہ کر دینا ہے یہاں تک کہ اگر جان قربان کر دینے کا حکم ہو تو اس کی تعمیل سے بھی بندہ دریغ نہ کرے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل (علیہما السلام) ایک ایسے حکم کی تعمیل کر کے جس میں ان کا زبر دست امتحان تھا اسلام کی بلند ترین چوٹی پر پہنچ گۓ تھے۔

 

۹۲۔۔۔۔۔۔ یعنی اسمٰعیل کو ذبح کر نے کے لیے پیشانی کی بل لٹا دیا۔ ممکن ہے اس کی مصلحت یہ رہی ہو کہ ذبح کرتے وقت چہرہ سامنے نہ رہے۔

 

۹۳۔۔۔۔۔۔ یعنی ابھی چھری چلانے کی نوبت بھی نہیں آئی تھی کہ اللہ نے ابراہیم کو پکارا اور ذبح کرنے سے روک دیا۔

 

۹۴۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم نے خواب میں بیٹے کو ذبح کرتے دیکھا تھا اور اس اشارہ الٰہی کی تعمیل میں انہوں نے کو۴ی کسر اٹھا نہ رکھی بلکہ ذبح کرنے کا پورا پورا اہتمام کیا اس طرح انہوں نے اپنے خواب کو سچ کر دیکھا یا تھا۔ اب جب کہ کلے پر چھری چلائی جانے والی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا کیونکہ مقصود اسمٰعیل کو خون بہانا نہیں تھا بلکہ یہ دیکھنا تھا کہ اس کڑی آزمائش میں باپ بیٹے پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ اور جب وہ پورے اترے تو اللہ نے ذبح کرنے سے پہلے ہی قربانی قبول کر لی لہٰذا چھری چلانے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ یہ اللہ کی رحمت تھی اور اس کی طرف سے  ادر دانی بھی۔

 

۹۵۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ نیکی کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ آزمائشوں سے بہ سلامت گزارتا ہے اور عزت و اکرام سے نوازتا ہے۔

 

۹۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ ابراہیم کی آزمائش اس بات میں کہ وہ اپنے پیارے اور اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے کے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔ اور اسمٰعیل کی  آسمائش اس بات میں کہ وہ قربان ہونے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔

 

۹۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے اس کی جان کے فدیہ میں ایک مینڈھا پیش کر دیا کہ اس کو ذبح کر کے اس قربانی کی عظیم یاد گار قائم کی جاۓ چنانچہ حج کے مناسک میں سے ایک ہم منسک قربانی ہے جو اونٹ ، گاۓ ، بیل، بکری مینڈھے اور دنبہ میں سے کسی جانور کی کی جاتی ہے نیز عید الاضحیٰ کے موقع پر دنیا بھی میں مسلمان قربانی کرتے ہیں۔  حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی جان کے فدیہ میں اللہ کے حکم سے ایک مینڈھا (کبش) ذبح کیا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے عظیم قربانی کے طور پر قبول فرمایا اور یہ قربانی اس لحاظ سے بھی عظیم قرار پائی کہ اس سنت ابراہیمی کو عظیم یاد گار کے طور پر جاری کر دیا گیا۔ بائیبل کی کتاب پیدائش باب ۲۲ میں مینڈھے کی قربانی کا ذکر ہے۔

 

قربانی کا یہ واقعہ مکہ میں مروہ پہاڑی پر پیش آیا تھا جو خانہ کعبہ کے پاس واقع ہے اور جس کی سعی کی جاتی ہے دلائل مختصراً درج ذیل ہیں :

 

۱ ) یہ ایک بے مثال قربانی تھی جس کے لیے موزوں ترین مقام یا تو بیت المقدس ہو سکتا تھا یا مکہ جہاں تک بیت المقدس کا تعلق ہے اس کی تعمیر حضرت ابراہیم کے بہت بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے زمانہ میں ہوئی البتہ مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل (علیہما السلام) کے ہاتھوں ہوئی اس لیے یہ مقدس سر زمین ہی اس قربانی کے لیے موزوں ترین جگہ تھی۔

 

۲ ) قربانی کا اصل محل بیت اللہ ہے (ثُمَّ مَحِلّھَا اِلَالْبَیْتِ الْعَتِیقِ ۔ سورہ حج : ۳۲ ) اس لیے اس کے جوار میں قربانی ٹھیک اس کے محل میں قربانی ہے۔

 

۳ ) بائبل میں ہے کہ حضرت ابراہیم کو "موریاہ" کے ملک میں جا کر ایک پہاڑی پر قربانی کرنے کا حکم ہوا تھا (دیکھیے پیدائش باب ۲۲) یہ "موریاہ" کا ملک کون سا ہے اس کی نشاندہی بائیبل والے نہیں کر سکے ہیں چنانچہ بائیبل کا شارح لکھتا ہے

 

“The land of Moriah cannot be identified.”

 

(The Interpreter's own volume Commentary of the Bible P. 18)

 

 "موریاہ" در اصل مروہ کی تحریف ہے اور مروہ پہاڑی مکہ میں بیت اللہ کے پاس واقع ہے جو شعائر اللہ  میں سے ہے۔ اس پہاڑی پر حضرت اسمٰعیل کی قربانی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے مروہ کے بارے میں فرمایا۔

 

ھٰذَ الْمَنْھَرُ وَکُکَّ فِحَجُ مَکَّۃَ وَ طُرُقُھَا مَنْحَر (مؤطا کتاب الحج) " یہ قربان گاہ ہے اور مکہ کے تمام چھوٹے اور بڑے راستے قربانی کی جگہیں ہیں "۔

 

حدیث میں منٰی کو جو منحر (قربانی کی جگہ) قرار دیا گیا ہے و شرعی مصالح کے پیش نظر ہے۔ اول تو منٰی مکہ سے متصل واقع ہے۔ دوسرے حج کے موقعہ پر بڑی تعداد میں جانور ذبح کرنے کے لیے جگہ کا کشادہ ہونا ضروری تھا اس لیے منیٰ میں قربانی کرنا شروع ہوا۔

 

۹۸۔۔۔۔۔۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم کو اسحاق کی خوش خبری پہلے بیٹے کی پیدائش اور اس کی قربانی کے واقعہ کے بعد دے دی گئی تھی اس لیے جس لڑکے کی قربانی دی گئی تھی وہ حضرت اسمٰعیل ہی ہیں لیکن بائیبل میں حضرت اسحاق کو ذبیح قرار دیا گیا ہے جو یہود کی تحریف ہے حضرت اسمٰعیل کے ذبیح ہونے کی تائید میں وہ دلائل بھی ہیں جو ہم نے اوپر نوٹ ۹۷ میں پیش کیے اور مزید یہ کہ :

 

۱ ) بائیبل میں ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کا اکلوتا بیٹا تھا (پیدائش باب۲۲ ) اور کتاب پیدائش باب ۱۶ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہیں تھی اور حضرت ہاجرہ سے اسمٰعیل پیدا ہوۓ تھے :۔

 

" اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹا ہوا اور ابرام نے اپنے اس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوا اسمٰعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔ " (پیدائش ۱۵:۱۶، ۱۶)

 

اور یہ بات بائیبل ہی سے ثابت ہے کہ حضرت اسمٰعیل حضرت اسحق سے ۱۴ سال بڑے تھے (پیدائش باب ۱۷ ) اس لیے اکلوتے بیٹے اسمٰعیل ہی ہو سکتے ہیں۔ مگر یہود نے محض تعصب میں اسمٰعیل کی جگہ اسحاق کا نام درج کر دیا۔ یہ ان کی صریح تحریف ہے۔

 

۲ ) بائیبل میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اسحاق کی ولادت کی خوش خبری دی تو فرمایا :

 

"تب خدا نے فرمایا کہ بے شک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہو گا تو اس کا نام اضحاق رکھنا اور میں اس کے اور پر اس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھونگا "۔ (پیدائش ۱۹:۱۷)۔

 

یعنی اسحاق کی پیدائش کی خوش خبری کے ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی دی گئی تھی کہ اس کے اولاد ہو گی۔ پھر اسحاق کے اولاد ہونے سے پہلے ان کو ذبح کرنے کا حکم کس طرح دیا جا سکتا تھا ؟ قرآن میں بھی بیان ہوا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کی بیوی کو اسحاق کی ولادت کی بشارت دی گئی تو ان سے یعقوب کے پیدا ہونے کی بھی بشارت دی گئی تھی۔

 

فَبَشَّرْ نَا ھَا بِاِسْحَاقَ وَ مِنْ وَّ رَاءِ اِسْحَاقَ یَعْقُوْبَ (ہود : ۷۱ ) " ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی "۔

 

۳ ) اگر اسحاق ذبیح ہوتے تو بنی اسرائیل میں یہ قربانی ایک شعار کی حیثیت سے باقی رکھی جاتی لیکن ان میں اس قربانی کا شعار کی حیثیت سے باقی نہ رہنا اور عید فسیحکی قربانی جس کا تعلق مصر سے ان کے خروج سے ہے رائج ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ذبیح اسحاق نہیں بلکہ اسمٰعیل تھے کیونکہ حج میں اس قربانی کو شعار کے طور پر باقی رکھا گیا ہے نیز عید الضحیٰ میں بھی۔

 

۴ ) حضرت اسمٰعیل کے دو وصف قرآن میں ایسے بیان ہوۓ ہیں جا نا کے ذبیح ہونے سے بڑی مناسبت رکھتے ہیں۔ ایک ان کا حلیم (برد بار) ہونا (آیت ۱۰۱) اور دوسرا ان کا صادق الوعد (وعدہ کا سچا) ہونا (سورہ مریم آیت ۵۴ ) جب کہ حضرت اسحاق کی صفت علیم(علم والا) بیان ہوئی ہے۔ (سورہ حجر۔ ۵۳)۔

 

مفسرین نے حضرت اسحاق کی ذبیح ہونے کی تائید میں جو روایتیں نقل کی ہیں وہ معلوم ہوتا ہے اہل کتاب کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوۓ بیان کی گ۴ی ہیں مگر جیسا کہ بہ دلائل اوپر واضح کیا گیا اس کی تائید قرآن سے نہیں ہوتی۔

 

۹۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اسمٰعیل اور اسحاق دونوں پر برکتیں نازل کیں چنانچہ ان دونوں شاخوں سے دو ایسی نسلوں کا سلسلہ چلا جو تاریخ میں ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ حضرت اسمٰعیل سے بنی اسمٰعیل (عرب) کا سلسلہ اور حضرت اسحاق سے بنی اسرائیل کا سلسلہ۔

 

۱۰۰۔۔۔۔۔۔ یعنی بنی اسمٰعیل ہوں یا بنی اسرائیل دونوں میں سے اچھے اور برے لوگ موجود ہیں۔ ایسے بھی جنہوں نے نیکی کو اختیار کر رکھا ہے اور ایسے بھی جو شرک، کفر اور سرکشی کر کے اپنے آپ پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں نسلیں اس لحاظ سے ممتاز ضرور ہیں کہ ان کا سلسلہ دو عظیم شخصیتوں سے چلتا ہے لیکن اللہ کی میزان میں جو چیز وزن رکھتی ہے وہ ہر ایک کا اپنا نیک عمل ہے نہ کہ نسبی شرف۔

 

۱۰۱۔۔۔۔۔۔ یعنی ان تکلیفوں سے جو فرعون انہیں پہنچا رہا تھا۔

 

۱۰۲۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل مصر میں اگر چہ اقلیت میں تھے اور فرعون نے ان کو موسیٰ اور حضرت ہارون کی رہنما۴ی کو قبول کر لیا تھا اس لیے اللہ کی نصرت ان کے ساتھ تھی اور بالآخر غلبہ ان ہی کو حاصل ہوا۔ فرعون اپنے لشکر سمیت ڈوب مرا اور بنی اسرائیل کو نجات حاصل ہو۴ی۔ اس طرح یہ مظلوم اقلیت پیغمبروں کا ساتھ دینے کی بنا پر فرعون کے مقابلہ میں بھاری ثابت ہوئی۔

 

۱۰۳۔۔۔۔۔۔ مراد تورات ہے جو ایک روشن کتاب تھی۔

 

۱۰۴۔۔۔۔۔۔ سیدھا راست اللہ کا دین یعنی اسلام ہے جو کی اولین خصوصیت توحید ہے۔

 

۱۰۵۔۔۔۔۔۔ یعنی موسیٰ اور ہارون کا۔ چنانچہ اہل ایمان ان  سے عقیدت رکھتے ہیں اور ان کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے فرعون پر ہر کوئی لعنت ہی بھیجتا ہے۔

 

۱۰۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی طرف سے موسٰی اور ہارون کے لیے سلامتی ہے۔ اس میں اہل ایمان کے لیے ترغیب ہے کہ وہ ان پر سلام بھیجیں۔ سلامٌ علیٰ موسیٰ و ہارون۔

 

۱۰۷۔۔۔۔۔۔ حضرت الیاس کا نام بائیبل میں ایلیاہ (Elijah)  ہے اور وہ بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے۔ بائیبل کی کتاب ۱: سلاطین باب ۱۸ میں ان کا قصہ بیان ہوا ہے۔

 

۱۰۸۔۔۔۔۔۔ وہ کس قوم کی طرف بھیجے گۓ تھے اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی۔ البتہ بائیبل کے بیان کے مطابق وہ بنی اسرائیل ہی کے ایک گروہ کی طرف بھیجے گۓ تھے جو بت پرستی میں مبتلا ہو گیا تھا۔

 

۱۰۹۔۔۔۔۔۔ "بعل" کے معنی مالک اور سردار کے ہیں لیکن حضرت الیاس کی قوم نے جس بت کو معبود بنا لیا تھا اس کا نام بعل بمعنی رب (Lord)  تھا۔

 

۱۱۰ ۔۔۔۔۔۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے  اپنی قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور یہ واضح حجت پیش کی کہ اللہ جو تم سب کا رب ہے اور بہترین خالق ہے اس کو چھوڑ کر اپنے ہی تراشے ہوۓ بت کو معبود بنا نے کے کیا معنی ؟

 

۱۱۱۔۔۔۔۔۔ یعنی نبی کو جھٹلانے اور بت پر ستی پر قائم رہنے کا لازمی انجام عذاب آخرت ہے۔ قیامت کے دن ایسے لوگ گرفتار کر کے اللہ کے حضور سزا کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

 

۱۱۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جنہوں نے اللہ ہی کو واحد معبود مان کر اس کی عبادت اور اطاعت کی وہ اس سزا سے محفوظ ہوں گے۔

 

۱۱۳۔۔۔۔۔۔ یعنی الیاس کا۔

 

۱۱۴۔۔۔۔۔۔ الیاسین اور الیاس ایک ہی نام کے دو تلفظ ہیں جیسے طور سینا اور طور سینین۔

 

۱۱۵۔۔۔۔۔۔ لوط علیہ السلام کا قصہ متعدد سورتوں میں گزر چکا۔ یہاں قرآن نے اس واقعہ کی طرف اجمالی اشارہ کر کے مشرکین مکہ کو عبرت دلائی ہے۔

 

۱۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی لوط کے متعلقین کو جو ایمان لاۓ تھے عذاب سے بچا لیا۔

 

۱۱۷۔۔۔۔۔۔ یہ حضرت لوط کی بیوی تھی جو ایمان نہیں لائی تھی اس لیے پیچھے رہ گئی اور عذاب کی لپیٹ میں آ گئی۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۳۲

 

۱۱۸۔۔۔۔۔۔ مراد حضرت لوط اور ان پر ایمان لانے والے متعلقین کو چھوڑ کر باقی سب لوگ ہیں یعنی ان سب کو جو کافر تھے تباہ کر دیا۔

 

۱۱۹۔۔۔۔۔۔ قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں بحر مردار کے کنارہ تھیں جن کی طرف سے شام اور فلسطین کو جاتے ہوۓ اہل مکہ کا گزر ہوتا تھا اس زمانہ میں تپتی دھوپ میں صحرا کا سفر کرنا مشکل تھا اس لیے لوگ مناسبت سے صبح اور رات کے وقت ان بستیوں پر سے گزرنے کا ذکر ہوا ہے۔ صبح کا ذکر اس لیے مقدم ہوا کہ ان اجڑی ہوئی بستیوں کا مشاہدہ صبح کے اجالا میں اچھی طرح کیا جا سکتا تھا۔

 

مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ حجر نوٹ ۷۵۔

 

۱۲۰۔۔۔۔۔۔ یونس علیہ السلام کے واقعہ کی تفصیلات کے لیے دیکھیے سورہ یونس نوٹ ۱۴۷ اور سورہ انبیاء نوٹ ۱۱۷ ، ۱۱۸

 

۱۲۱۔۔۔۔۔۔ حضرت یونس کو نینویٰ (عراق) کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ ان کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے انہوں نے جب دعوت پیش کی تو ان کی قوم نے انکار کیا۔

 

حضرت یونس کو جب ان کی طرف سے مایوسی ہوئی تو وہ برہم ہو کر وہاں سے نکل گۓ اور غالباً فلسطین کا قصد کیا اور سمندر کی راہ سے یافا پہنچنے کا ارادہ کیا ساحل پر انہیں ایک بھری ہوئی کشتی ملی اور وہ اس میں سوار ہو گۓ۔

 

۱۲۲۔۔۔۔۔۔ کشتی بیچ سمندر کے ڈانوا ڈول ہونے لگی۔ ممکن ہے کیس طوفان کا سامنا بھی کرنا پڑا ہو۔ کشتی والوں نے بوجھ کو کم کرنا ضروری خیال کیا اور اس کے لیے قرعہ اندازی کی کہ جس کا نام نکل آۓ اس کو سمندر کے حوالہ کر دیا جاۓ۔ اتفاق سے حضرت یونس کا نام نکل آیا اور انہیں سمندر کے حوالے کر دیا گیا۔

 

۱۲۳۔۔۔۔۔۔ اللہ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ یہ وھیل یا شارک جیسی کوئی مچھلی رہی ہو گی۔

 

۱۲۴۔۔۔۔۔۔ یُلم کے معنی ملامت کرنے والے کے ہیں جس طرح مطیع کے معنی اطاعت کرنے والے اور منیب کے معنی رجوع کرنے والے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ مچھلی نے جب حضرت یونس کو نگل لیا تو وہ اپنے قصور پر نادم تھے اور اپنے نفس کو ملامت کر رہے تھے۔

 

۱۲۵۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ سورہ انبیاء آیت ۸۷ میں گزر چکا حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کی اور یہ تسبیح تھی : لا اِلٰہ الَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّا لِمِیْن (تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پاک ہے تو۔ میں ہی قصور وار ہوں ) اس تسبیح کی برکت سے ان کے لیے نجات کی راہ کھل گئی۔

 

اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آدمی کسی سخت مصیبت میں پھنس گیا ہو تو اس بابرکت تسبیح کا ورد اس کی دعا کی قبولیت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

 

واضح رہے کہ حضرت یونس کے مُسَبِّحِیْن (تسبیح کرنے والوں ) میں سے ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کی تھی بلکہ یہ کہ وہ اللہ کے ان بندوں میں سے تھے جو اسی عبادت کرنے والے اور اس کی پاکی بیان کرنے والے ہیں۔ وصف کے ساتھ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کے کلمات ادا کیے تھے۔

 

۱۲۶۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ اللہ کی تسبیح کی برکت تھی کہ مچھلی نے انہیں اگل دیا ورنہ قیامت تک کے لیے مچھلی کے پیٹ ہی ان کا مدفن بن جاتا۔ آیت کے الفاظ اس مفہوم میں صریح نہیں ہیں کہ وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہتے بلکہ صرف اس معنی میں ہیں کہ وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ ہی اپنے کلام کے اسرار کو بخوبی جانتا ہے۔

 

۱۲۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے حکم سے مچھلی نے یونس (علیہ السلام) کو ساحل کے پاس اگل دیا۔ یہ ساحلی علاقہ ایک چٹیل میدان تھا اور وہ سخت کمزور اور نڈھال ہو گۓ تھے۔

 

۱۲۸۔۔۔۔۔۔ اللہ نے ان کی اس بے بسی کو دیکھتے ہوۓ ان کو سہارا دیا اور اس چٹیل میدان میں معجزانہ طریقہ پر ان کے پاس بیل دار درخت جس نے سایہ کا کام دیا۔ اس طرح بر وقت انہیں سکون اور راحت ملی۔

 

۱۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی جب ان کی طبیعت بحال ہوئی تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جاؤ اس بستی کی طرف جس کی آبادی ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ مراد نینویٰ شہر ے جس کی آبادی اتنی کثیر تھی۔ وہاں حضرت یونس کو اپنے دعوتی مشن کی تکمیل کے لیے دوبارہ بھیجا گیا۔

 

واضح ہوا کہ حضرت یونس سے جو قصور سرزد ہوا تھا وہ فرائض رسالت کے سلسلے میں تھا اور انہوں نے ارادۃً کوئی گناہ نہیں کیا تھا بلکہ ایک لغزش تھی جو ان سے سر زد ہوئی اور وہ بھی حمیت حق میں لیکن اللہ  کے نزدیک فرائض رسالت کی ادائیگی میں یہ کوتاہی کہ اللہ کے حکم کے بغیر اس بستی کو چھوڑ کر نکل جانا جسپر حجت قائم کرنے کے لیے اس نے انہیں ایک سخت آزمائش میں ڈال دیا۔ مگر جوں ہی انہیں اپنی لغزش کا احساس ہوا اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوۓ اللہ کی تسبیح میں وہ منہمک ہو گۓ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مصیبت سے نجات بخشی اور معجزانہ طور پر ان کی مدد کی۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ رسول اگر چہ معصوم ہوتا ہے یعنی وہ گناہ نہیں کرتا لیکن بشر ہونے کی بنا پر لغزش اس سےسر زد ہو سکتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ بر وقت اصلاح فرما دیتا ہے۔ صرف اللہ ہی کی ذات ہے جس سے کوئی خطا نہیں ہوتی۔ وہ پاک اور بے عیب ہے۔

 

۱۳۰۔۔۔۔۔۔ حضرت یونس جب واپس نینویٰ چلے گۓ تو ان کی دعوت کو پوری قوم نے قبول کر لیا اور جب وہ ایمان لے آئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا اور دنیا میں انہیں بر و مند ہونے کا موقع عطا کیا۔

 

پوری قوم کے رسول پر ایمان لانے کی یہ واحد مثال ہے جو انبیائی تاریخ میں ملتی ہے اور اس کو سورہ یونس کی آیت ۹۸ میں نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔

 

۱۳۱۔۔۔۔۔۔ مشرکین فرشتوں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ کے لیے بیٹے تجویز کیے جائیں یا بیٹیاں دونوں ہی سراسر نا معقول باتیں ہیں لیکن مشرکین عرب کا اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرنا بڑی ہی بھونڈی بات تھی کیونکہ وہ لڑکیوں کو اپنے لیے باعث عار خیال کرتے تھے۔ ان کے اسی بھونڈے پن کو ان پر واضح کرنے کے لیے ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ بتاؤ جب تم اپنے لیے بیٹیوں کو نہیں بلکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہو تو اللہ کے لیے بیٹیاں کیوں تجویز کرتے ہو؟ جس چیز کو تم گھٹیا سمجھتے ہو اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنے میں تمہیں کوئی تامل نہیں ہوتا؟ یہ ایک طنز ہے جس سے انکے عقیدہ کی نا معقولیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

 

۱۳۲۔۔۔۔۔۔ یعنی ان لوگوں کو آخر معلوم کیسے ہو گیا کہ فرشتے عورتیں ہیں۔ کیا یہ اس کے عینی شاہد ہیں ؟

 

۱۳۳۔۔۔۔۔۔ یعنی ایک ایسی بات جو سراسر نا معقول ہے اللہ کی طرف کس طرح منسوب کرتے ہو؟ خدا پر اعتقاد کے معاملہ میں انسان کی اکثر گمراہیاں اس وجہ سے ہیں کہ وہ اللہ کی دی ہوئی عقل سے کام نہیں لیتا اور ایسی باتوں کو آنکھیں بند کرنے قبول کر لیتا ہے جو صریحاً نام عقل ہوتی ہیں۔ قرآن اس پر سخت گرفت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا پر اعتقاد کے معاملہ میں انسان کو ہوش سے کام لینا چاہیے اور کوئی بات اللہ کی طرف منسوب سے پہلے اس کی بخشی ہوئی عقل کی روشنی میں اسے پرکھنا چاہیے۔ اہل مذاہب اگر معقولیت کا ثبوت دیتے تو وہ اعتقادی گمراہیوں میں نہ پڑتے۔

 

۱۳۴۔۔۔۔۔۔ یعنی گر تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے تو وہ پیش کرو۔ نقلی دلیل یہ کہآسمانی کتاب میں خدا کے بارے میں کوئی بات کہی گئی ہو۔ مشرکین مکہ کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی ور نہ کسی آسمانی کتاب میں فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا گیا ہے لہٰذا مشرکین کا یہ اعتقاد نہ عقلی دلیل پر مبنی ہے اور نہ نقلی دلیل پر بلکہ محض من گھڑت بات تھی جو اللہ کی طرف منسوب کر دی گئی تھی۔ مشرکین ہند کا دیویوں کا عقیدہ بھی اس طرف جھوٹ اور باطل ہے کیونکہ اس کی تائید میں نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی۔

 

۱۳۵۔۔۔۔۔۔ عربوں کی بعض قبائل جنوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ خدا سے نسبی رشتہ رکھتے ہیں اس کی تر دید کرتے ہوۓ یہاں فرمایا گیا ہے  کہ جن( یعنی شیاطین جن ) تو قیامت کے دن گرفتار کر کے خدا کے حضور سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں اور وہ خود اپنی اس حیثیت کو اچھی رف جانتے ہیں مگر یہ مشرکین ان شیاطین جن کو خدائی کا مام دے رہے ہیں۔

 

۱۳۶۔۔۔۔۔۔ یہ جملہ معترضہ ہے جو مشرکین کے فاسد عقیدہ کی تردید کرتا ہے۔

 

۱۳۷۔۔۔۔۔۔ اس کا تعلق اوپر کی اس آیت سے ہے جس میں جنوں کو گرفتار کر کے پیش کیے جانے کی بات ارشاد ہوئی ہے۔ اس استثناء کا مطلب یہ ہے کہ جنوں میں جو اللہ کے مخلص بندے ہوں گے وہ قیامت کے دن سزا کے لیے پیش نہیں کیے جائیں گے۔ جنوں میں جہاں اکثریت شیاطین کی ہے وہاں اللہ کے ایسے بندے بھی ہیں جو مؤمن اور صالح ہیں۔

 

۱۳۸۔۔۔۔۔۔ خطاب مشرکین سے ہے۔

 

۱۳۹۔۔۔۔۔۔ یعنی تم ان ہی لوگوں کو گمراہ کر سکتے ہو اور تمہارے یہ بت بھی ان ہی کی گمراہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جنہوں نے جہنم کی راہ اختیار کی ہے۔ اللہ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔

 

۱۴۰۔۔۔۔۔۔ یہ فرشتوں کا بیان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نقل فرمایا ہے سورہ کے آغاز میں جو بات فرشتوں کے بارے میں بیان ہوئی تھی وہی بات ان کی اپنی زبانی ان چند آیتوں میں بیان ہوئی ہے۔

 

فرشتے کہتے ہیں ہم میں سے ہر ایک کا مقام متعین ہے۔ یعنی جس کو جس خدمت پر مامور کیا گیا ہے اس کو وہی خدمت انجام دینا ہے۔ عبادت کے سلسلے میں بھی اور دوسرے احکام کی بجا آوری کے سلسلہ میں بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کے محکوم بندے ہیں اور ہم میں سے جس کی جو ڈیوٹی مقرر کر دی گئی ہے اس کو انجام دینے میں وہ مشغول ہے۔

 

فرشتوں کے اس بیان سے مشرکین کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں یا نہیں خدائی میں کوئی اختیار حاصل ہے۔

 

۱۴۱۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم اللہ کی عبادت میں صفیں باندھ کر کھڑے ہونے والے ہیں۔ عبادت میں صف بندی فرشتوں کی صفت ہے جو اللہ کو نہایت پسند ہے۔ اسی لیے اسلام نے نماز با جماعت میں جو پانچ وقت ادا کی جاتی ہے صف باندھ کر کھڑے ہونے کا حکم دیا ہے۔

 

۱۴۲۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں لگے ہوۓ ہیں۔ اللہ کی پاکی بیان کرنا نہایت اعلیٰ عبادت ہے جسمیں فرشتے مشغول رہتے ہیں۔ یہاں فرشتوں کا بیان ختم ہوا۔

 

۱۴۳۔۔۔۔۔۔ یعنی مشرکین مکہ کہا کرتے تھے۔

 

۱۴۴۔۔۔۔۔۔ یعنی جس طرح یہود و نصاریٰ کو آسمانی کتاب ملی۔ اس طرح اگر ہمیں کوئی آسمانی کتاب ملی ہوتی۔

 

۱۴۵۔۔۔۔۔۔ یعنی دعویٰ تو ان کا یہ تھا کہ اگر ہمیں کو۴ی آسمانیکتاب ملی ہوتی تو ہم اللہ کے خاص بندے بن گۓ ہوتے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس کتاب (قرآن) بھیجی تو وہ اس کے منکر ہو گۓ۔

 

۱۴۶۔۔۔۔۔۔ یعنی بہت جلد انہیں اپنا انجام معلوم ہو جاۓ گا۔

 

۱۴۷۔۔۔۔۔۔ یعنی رسولوں سے اللہ کہ یہ وعدہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

 

۱۴۸۔۔۔۔۔۔ رسول کو کتنی ہی آزمائشوں سے گزرنا پڑے اللہ کی نصرت اسی کے ساتھہوتی ہے چنانچہ رسول کی بات ہمیشہ بلند رہتی ہے اور اس کو عزت حاصل ہوتی ہے۔ اس کی حجت دل و دماغ کو مسخر کر لیتی ہے اور جب حق و باطل کا مقابلہ ہوتا ہے تو حق جو ہمیشہ رسول کے ساتھ ہوتا ہے غالب آ جاتا ہے۔

 

۱۴۹۔۔۔۔۔۔ رسول کا ساتھ دینے والے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لشکر سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ بالآخر یہی لشکر غالب رہنے والا ہے اور انبیائی تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے چنانچہ فرعون کے مقابلہ میں فتح بنی اسرائیل ہی کی ہوئی۔ دوسرے رسولوں کے معاملہ میں بھی یہی ہوا کہ ان کے مخالفین تباہ کر دیے گۓ اور اہل ایمان ہی بچا لیے گۓ اور بالآخر اقتدار ان ہی کو حاصل ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلمکے بارے میں بھی قرآن کی یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی  اہل ایمان ہی کا لشکر بالآخر کفار پر غالب آگیا اور سرزمین عرب پراسلام کی حکمرانی قائم ہو گئی۔

 

۱۵۰۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ جب انکار ہی پر چلے ہوۓ ہیں تو ان کو ایک وقت تک کے لیے ان کے حال پر چھوڑ دو۔

 

۱۵۱۔۔۔۔۔۔ یعنی انجام کا انتظار کرو۔

 

۱۵۲۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کو بہت جلد اپنے برے انجام سے دوچار ہونا ہو گا چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوا اور اہل ایمان کے ہاتھوں کافروں کو موت کے گھاٹ اترنا پڑا یہاں تک کہ ان کا بالکل قلع قمع ہو گیا۔

 

۱۵۳۔۔۔۔۔۔ جنگ بدر بھی صبح کے وقت ہوئی تھی جس میں اہل ایمان کی تلوار کافروں پر عذاب بن کر نازل ہوئی تھی اور فتح مکہ کا واقعہ بی صبح ہی کے وقت کا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوۓ اور کعبہ کو اپنے قبضہ میں لے کر مسجد حرام میں قیام پذیر ہو گۓ اور وہاں سے کافروں کو گرفتار کرنے اور ان کو قتل کرنے کے احکام جاری کیے۔ اس طرح اللہ کا عذاب اہل ایمان کی تلوار کی شکل میں مکہ کے کافروں پر نازل ہوا اور یہ صبح ان کے لیے  بہت بری صبح ثابت ہوئی۔ اس طرح قرآن کی بات حرف بحرف پوری ہوئی۔

 

۱۵۴۔۔۔۔۔۔ "رب العزۃ" کے معنی ہیں غلبہ والا ، صاحب اقتدار اور رفعت  والا۔

 

۱۵۵۔۔۔۔۔۔ یعنی ان تمام نقائص" عیوب اور کمزوریوں سے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

 

۱۵۶۔۔۔۔۔۔ یعنی تمام پیغمبروں کے لیے اللہ کے پاس امن و سالمتی ہے وہ ہر آفت سے محفوظ ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ اہل ایمان کی زبان پر ان کے لیے  سلام کے دعائیہ کلمات ہوں۔ سَلَامٌ عَلیَ الْمُرْسَلِیْنَ۔

 

۱۵۷۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ نے اپنے رسولوں کی جس طرح نصرت فرمائی ہے اور ان کے لیے آزمائشیں جس طرح ان کے درجات کی بلندی کا باعث ہوئیں اس پر یقیناً وہ تعریف اور شکر کا مستحق ہے۔

 

 حمد کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ فاتحہ نوٹ ۲۔

***