دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ المُلک

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

سورہ کے آغاز ہی میں اللہ کی بادشاہی ( مُلک) کا ذکر ہوا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’ المُلک‘ ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ شروع دور میں جبکہ مخالفت کا آغاز ہوا تھا نازل ہوئی ہوگی۔

 

مرکزی مضمون

 

خدا اور آخرت سے غافل انسانوں کو چونکا دینا ہے ۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۵ میں موت و حیات کا مقصد بیان کرتے ہوئے آسمان و زمین کی تخلیق اور اس کے نظام پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جس سے کائنات کے خالق کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس بات کی بھی تائید ہوتی ہے کہ انسان کی یہ زندگی ایک امتحانی زندگی ہے ۔

 

آیت ۶ تا ۱۱ میں قرآن کی پیش کر دہ حقیقتوں کا انکار کرنے والوں کا اخروی انجام بیان کیا گیا ہے ۔

 

آیت ۱۲ تا ۱۴ میں ان لوگوں کا حسن انجام بیان کیا گیا ہے جو اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور واضح کیا گیا ہے کہ اللہ انسان کی ہر کھلی اور اچھی بات کو جانتا ہے اور اس سے کوئی بات اور کوئی عمل خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو چھپا نہیں رہ سکتا۔

 

آیت ۱۵ سے اخیر سورہ تک انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے اسے غفلت سے چونکانے کا سامان کیا گیا ہے ۔ اگر انسان آنکھیں کھول کر اس کائنات کا مشاہدہ کرے گا تو قرآن کے پیش کر دہ حقائق کی صداقت اس پر روشن ہوگی اور وہ اپنے مقصدِ زندگی سے آشنا ہو جائے گا۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑا بابرکت ہے ۔ ۱* وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے ۲* اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے ۔ ۳* وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔۴*

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے سات آسمان تہ بہ تہ بنائے ۔ ۵* تم رحمن کی تخلیق میں کوئی خلل نہ پاؤ گے ۔ ۶*

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر نگاہ دوڑاؤ کہیں تمہیں نقص نظر آتا ہے ؟ پھر بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر ناکام واپس آئے گی۔ ۷*

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے آسمان کو چراغوں سے سجایا ہے اور ان کو شیاطین پر مار کا ذریعہ بنایا ہے ۔ ۸* اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے ۔ ۹*

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ۔ ۱۰* ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔ ۱۱*

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ شدتِ غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ۱۲* ہر بار جب کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا ۱۳ * نہیں آیا تھا؟

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جواب دیں گے ہاں خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ۔ تم لوگ بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے توہم دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے ۔ ۱۴*

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے تو لعنت ہے دوزخیوں پر۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے ۔ ۱۵*

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنی بات کو چھپاؤ یا ظاہر کرو وہ تو دلوں کے راز بھی جانتا ہے ۔ ۱۶*

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ ۱۷* وہ بڑا باریک بیں ۱۸* اور خبر رکھنے والا ہے ۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع بنایا۔ ۱۹* چلو اس کے کندھوں پر ۲۰* اور کھاؤ اللہ کے رزق میں سے ۔۲۱* اسی کے حضور اٹھ کھڑے ہونا ہے ۔ ۲۲*

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے ۔ ۲۳* بے خوف ہو گئے ہو کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک ہلنے لگے ۔۲۴*

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بے خوف ہو گئے ہو کہ تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے ؟ ۲۵* پھر تمہیں معلوم ہو جائے کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے ۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں تو دیکھ لو کیسا رہا میرا عذاب ۲۶*

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو پَر پھیلائے اور ان کو سمیٹتے ہوئے نہیں دیکھا؟ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو ان کو تھام لیتا ہو۔ ۲۷* وہی ہر چیز کا نگراں ہے ۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلہ میں تمہاری مدد کر سکے گا؟ ۲۸* یہ کافر دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ وہ کون ہے جو تمہیں رزق دے اگر وہ اپنا رزق روک لے ؟ ۲۹* در حقیقت یہ لوگ سرکشی اور  حق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیزاری پر اڑ گئے ہیں ۔ ۳۰*

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہو راہ پانے والا ہے یا وہ جو ایک سیدھی راہ پر سیدھا چل رہا ہے ؟ ۳۱*

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ،آنکھیں اور دل بنائے  مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کو ہی شکر ادا کرتے ہو۔ ۳۲*

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے ۔ ۳۳*

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ ۳۴*

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے ۔ ۳۵* میں تو بس کھلا خبردار کرنے والا ہوں ۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ اس کو ۳۶* قریب دیکھ لیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے ۔ اور ان سے کہا جائے گا یہی ہے وہ چیز جو تم طلب کر رہے تھے ۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟ ۳۷*

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو وہ رحمن ہے جس پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے ۔ ۳۸* تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارا پانی نیچے اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے بہتا ہوا پانی لے آئے ؟ ۳۹*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ فرقان نوٹ  ۱۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جس کے ہاتھ میں کائنات کی باگ دوڑ ہے اور جس کی فرمانروائی عظیم الشان  ہے ۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  انسان کی موت و حیات کا سلسلہ یونہی نہیں چل رہا ہے بلکہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں پیدا فرمائی ہیں اور ان کی تخلیق میں عظیم مصلحت کار فرما ہے اور وہ یہ کہ انسان کو دنیا میں امتحانی زندگی سے گزارا جائے ۔ اسے نیک کردار یا بدکار بننے کا موقع دیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کون اپنے کو نیک کردار ثابت کرتا ہے ۔ جو لوگ نیک اوصاف بنیں گے وہ انسانیت کا جوہر ہوں گے اللہ ان کا قدر داں ہوگا اور وہ ان کو ایسے انعامات سے نوازے گا کہ وہ نہال ہو جائیں گے ۔ وہ سدا بہار جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل کئے جائیں گے ۔ اور جو عمل کے اعتبار سے جتنا بہتر ہوگا اتنا ہی اونچا مقام وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پائے گا۔ یہ بہت بڑا مثبت مقصد ہے جس کے لیے دنیا کی زندگی امتحانی بنائی گئی ہے ۔

 

آیت میں موت کا ذکر حیات سے پہلے کیا گیا ہے جو موقع کی مناسبت سے ہے ۔ موت بہت زیادہ تلخ ہوتی ہے جب کہ زندگی تلخ بھی ہوتی ہے اور شیریں بھی ۔ موت کی تلخی ہی کا تصور ہے جو غفلت سے چونکا نے کا کام کرتا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے :

 

’’اَکْثِرُوْاذِکْرَہَاذِمِ اللَّذَّاتِ یعْنیِ الْمَوْتَ‘‘۔’’ لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو یاد کرو۔ ‘‘ یعنی موت کو ۔(ترمذی ابواب الزہد)

 

پھر موت میں اس پہلو سے بھی امتحان ہے کہ انسان حرام موت مرتا ہے یا حلال۔ مصائب سے بے زار آ کر خودکشی کرتا ہے یا طبعی موت مرتا ہے ، اپنے کو حرام مقاصد کے لیے قربان کرتا ہے یا اللہ کی راہ میں شہید ہوتا ہے ۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  وہ غالب ہے اس لیے اس کی گرفت سے ڈرو اور وہ مغفرت فرمانے والا ہے اس لیے اس کی مغفرت کی طرف دوڑو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی گرفت سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارو اور اپنے قصوروں کے لیے اس سے معانی کے خواستگار ہو تو وہ ضرور تمہیں معاف کرے گا۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ آسمان جو زمین کے اوپر ہر طرف پھیلا ہوا ہے پہلا آسمان ہے ۔ ہم اس خول کے اندر بند ہیں ۔ اگرچہ اس خول میں بڑی بڑی  کہکشائیں ہیں اور ایسے ستارے بھی ہیں جو ہزاروں نوری سال کی دوری پر ہیں اس وسعت کے باوجود یہ کائنات اس خول تک محدود نہیں ہے بلکہ اس طرح سات آسمانوں والی یہ کائنات نہایت وسیع ہے ۔ یہ سات آسمانوں کے تصور سے اس کائنات کی وسعت کا ایک ہکا سا تصور قائم ہوتا ہے ورنہ اس کی وسعت کا صحیح اندازہ کرنے سے ہم قاصر ہیں ۔

 

سائنس کی رسائی پہلے آسمان تک بھی نہیں ہو سکی ہے ۔ جس خول میں ہم بند ہیں اسی کے اندر وہ اپنی جولانیاں دکھا رہی ہے ۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  رحمن کی تخلیق، فرمانے میں یہ بات مضمر ہے کہ آسمانوں کی یہ تخلیق اللہ کی رحمت کا ظہور ہے ۔ اور اس تخلیق کا کمال یہ ہے کہ اس میں ذرا بھی کوئی چیز غیر مناسب نہیں ہے ۔ آسمانی دنیا کا مشاہدہ کرو۔ نہایت وسیع اور خوبصورت چھت ہے جو اپنے قمقموں کے ساتھ جمالیاتی منظر پیش کرتی ہے ۔ اس میں بے شمار اجرام فلکی ہیں لیکن ہر چیز اپنی جگہ موزوں ہے ۔ نقص کی کسی جگہ کی بھی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔

 

یہ مضمون سورۂ ق آیت ۶۔ میں بھی گزر چکا۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  آسمان کا مشاہدہ کرنے کی بار بار دعوت دی گئی ہے اور چیلنج کے ساتھ کہا گیا ہے کہ تمہاری نگاہیں تھک جائیں گی لیکن تم اس فلکیاتی دنیا میں کسی نقص کی نشاندہی نہ کر سکو گے ۔ ماہرین فلکیات بڑی بڑی  دور بینوں کے ذریعہ اجرام فلکی کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں لیکن وہ کہیں کسی نقص کی نشاندہی نہیں کر سکے ۔

 

پھر اس کاریگری کا کمال یہ ہے کہ اس کی تخلیق کو نہایت طویل زمانہ گزرنے کے باوجود اس میں کوئی فرسودگی اور خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ کیا یہ ایک خالق کے کمالِ قدرت کی واضح نشانی نہیں ہے ؟

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  ستارے ایک طرف آسمان کا پُر جمال منظر پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف ان سے آگ کے شعلے ( شہاب) نکلتے ہیں جو آسمان کی طرف پرواز کرنے والے شیاطین کا پیچھا کرتے ہیں اور ان کی مار ان پر پڑتی ہے ۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھے سورۂ حجر نوٹ ۱۶۔ 

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان شیاطین کے لیے آخرت میں بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ وہ اس جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ شیاطین کے اس انجام سے خبردار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کے فریب میں آ کر ان کے پیچھے چل کر اسی انجام کو نہ پہنچ جائیں ۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  اپنے رب سے کفر کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آدمی خدا کے وجود کا انکار کرے بلکہ اس کا مطلب خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ نہ ماننا ہے ۔ دنیا کی بہت بڑی اکثریت خدا کے وجود کی قائل ہے لیکن قرآن اس کی جو صفات بیان کرتا ہے مثلاً اس کا قادرِ مطلق ہونا، معبود ہونا، مدبر ہونا، فرمانروائے کائنات ہونا، ہادی ہونا، عادل ہونا، جزا و سزا دینے والا ہونا وغیرہ ان کا انکار کرتی ہے ۔ اس لیے ان کا خدا کو ماننا کوئی معنی نہیں رکھتا وہ اس کی صفات کا انکار کر کے کافر بنتے ہیں ۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ جہنم کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی تصویر ہے ۔ اس کا جوش مارنا اور دھاڑنا کس غضب کا ہوگا۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  دنیا میں انسان ایک بم کے دھماکے کی آواز برداشت نہیں کر پاتا پھر اس کا کیا حال ہوگا اگر وہ جہنم میں جھونک دیا گیا جس میں ایسے شدید دھماکے ہوں گے کہ وہ پھٹ پڑنے کو ہوگی۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ کا رسول جو تمہیں اس دن سے خبردار کرتا۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  کافروں کو جہنم میں پہنچ کر احساس ہوگا کہ ہم نے دنیا میں رسول کی نصیحت سننے کے لیے اپنے کان بند کر لئے تھے اور اپنی عقل کو بھی معطل کر رکھا تھا۔ اگر ان صلاحیتوں کو ہم نے صحیح استعمال کیا ہوتا تو آج اس انجام کو نہ پہنچتے ۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر کافروں کا انجام بیان ہوا تھا۔ اس آیت میں اللہ سے ڈرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے کہ ان کے لیے بہترین انعام ہے ۔

 

اپنے رب سے ڈرنا جبکہ وہ دکھائی نہیں دیتا ایک مومن کی بہت بڑی خصوصیت ہے ۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ ق نوٹ ۳۹۔

 

۱۶۔  اس لیے اس سے نہ کوئی چھوٹے سے چھوٹی نیکی چھپی رہ سکتی ہے اور نہ چھوٹے سے چھوٹی بدی اور نہ اس سے نیتیں ، ارادے اور اچھے اور برے جذبات پوشیدہ رہ سکتے ہیں ۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ اپنے بندوں کا حال پوری طرح جانتا ہے ۔ دلیل یہ ہے کہ وہ ان کا خالق ہے اور یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ جو خالق ہے وہ اپنی مخلوق سے لا علم ہوگا۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی وہ جزئی سے جزئی بات کو جاننا ہے ۔ اس کا علم گہرا ہے کہ کوئی باریک سے باریک چیز بھی اس سے چھپی نہیں رہ سکتی وہ جزئیات اور کلیات سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  عنی زمین کو اس قابل بنایا کہ تم اس پر چلو پھرو، رہو بسو اور کھیتی باڑی کرو۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس کی بلندیوں پر چلو پھرو۔ زمین کی بلندیوں کو اس کے کندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور بلندیوں پر چلنے پھرنے کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ یہ بات اس کے تابع ہونے کے پہلو کو بخوبی واضح کرتی ہے ورنہ زمین کی پست راہوں میں چلنا تو واضح ہی ہے ۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رزق کا جو سامان اللہ نے تمہارے لیے زمین میں پھیلا دیا ہے اس میں سے کھاؤ۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  مگر یہ بات نہ بھولو کہ ایک دن اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور ان نعمتوں کے بارے میں جوابدہی کرنا ہے اور پھر اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پانا ہے ۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کا آسمان میں ہونا اس کے مرتبہ کی تعبیر ہے ۔ ایک عام آدمی خدا کے لیے آسمان ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ تعبیر اس لحاظ سے بھی صحیح ہے کہ اللہ کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے ۔ ورنہ دوسرے پہلو سے دیکھئے تو اللہ ہر جگہ ہے ۔ وہ لامحدود اور لا مکاں ہے ۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  اس آیت میں اور اس کے بعد کی چند آیتوں میں لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے اور ان کو غفلت سے چونکانے کا سامان کیا گیا ہے ۔ کیا یہ بات ممکن نہیں ہے کہ اللہ کسی وقت بھی زلزلہ سے مضطرب کر دے اور اس پر رہنے والے اس کے اندر دھنس جائیں ؟ یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ اس قسم کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے اور آج بھی کسی نہ کسی علاقہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے رہتے ہیں اور بستیاں الٹ جاتی ہیں ۔

 

یہ سطریں جبکہ لکھی جا رہی ہیں مہاراشٹر کے ضلع لاتور اور عثمان آباد میں زلزلے  (بھوکمپ) کی تباہی کا واقعہ بالکل تازہ ہے ۔ چند سکنڈ کے جھٹکے میں تیس ہزار لوگ موت کی نیند سو گئے اور کئی بستیاں تقریباً نابود ہو گئیں جن میں سے ایک کلیری گاؤں ہی میں پانچ ہزار افراد کے مکانات قبرستان بن گئے اور وہ ان کے ملبہ کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے ۔ یہ اور اس قسم کے واقعات جو آئے دن کسی نہ کسی علاقہ میں رونما ہوتے رہتے ہیں کیا انسان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی نہیں ہیں ! مگر انسان کی غفلت اتنی شدید ہے کہ وہ ایسے واقعات کی مختلف توجہیں کرتا ہے اور ان میں عبرت کا جو پہلو ہے اس سے آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔ ایسی صورت میں اس کو ہدایت کس طرح مل سکتی ہے ؟

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  قومِ لوط پر کنکروں کی بارش ہوئی تھی۔ عذاب اس شکل میں بھی نمودار ہو سکتا ہے اور سخت آندھی کی شکل میں بھی جس میں بالو ہو۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے قوم عاد ، ثمود، قومِ لوط اور قوم فرعون کی طرف۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  ہوا میں کسی سہارے کے بغیر پرندوں کا اپنے پروں کو پھیلا کر اڑنا اور اڑتے ہوئے ان کو سکیڑ لینا اور اس حالت میں ان کا زمین پر نہ گرنا کتنا عجیب ہے ؟ ایک دانا و بینا شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہے گا کہ یہ خدائے رحمن کی رحمت ہی کا ظہور ہے ۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کوئی شخص لاؤ لشکر والا بھی ہو تو وہ اللہ کے عذاب سے کہاں بچ سکتا ہے ۔ فرعون کو اس کا غرق ہونے سے اس کا عظیم لشکر نہ بچا سکا بلکہ وہ بھی اس کے ساتھ غرق ہو گیا۔

 

مشرکین اپنے معبودوں کو اپنا محافظ خیال کرتے ہیں مگر جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو یہ سب غائب ہو جاتے ہیں ۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔  رازق اللہ ہی ہے ۔ وہ اگر رزق روک دے تو کوئی نہیں جو رزق دے سکے ۔ مثال کے طور پر بارش کو جو رزق کا ذریعہ ہے اگر اللہ روک دے تو کون ہے جو بارش برسائے ۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان سب باتوں میں جن کا یہ رات دن مشاہدہ کرتے ہیں توحید کی نشانیاں بالکل نمایاں ہیں لیکن یہ لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت قبول نہیں کریں گے بلکہ اپنی من مانی کریں گے ۔ انہیں حق سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ اس سے نفرت ہے کیونکہ حق کو قبول کرنے کی صورت میں وہ اپنی من مانی نہیں کر سکتے ۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ مثال ہے اس شخص کی جو گمراہی کی راہ چلتا ہے اور اس کی جو ہدایت کی راہ چلتا ہے اپنی فطرت کے خلاف چلنے والا شخص ہمیشہ الٹا چلتا ہے اور حیوان کی طرح زمین ہی پر سر جھکائے رہتا ہے لیکن اپنی فطرت ( جس میں توحید کا داعیہ مضمر ہے ) پر چلنے والا شخص ہمیشہ سیدھا چلتا ہے اور اس کی نگاہیں بلندی کی طرف اٹھتی ہیں ۔

 

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ نے سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں اس لیے عطا کی ہیں تاکہ تم ان کی قدر کرو اور ان کا صحیح استعمال کر کے اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ۔ مگر لوگوں میں یہ احساس کم ہی پایا جاتا ہے ۔ وہ اللہ کی اس بخشش کی قدر نہیں کرتے اور ان صلاحیتوں کو حق بات سننے ، حق کو دیکھنے اور حق بات سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کرتے ۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ ہی نے اربوں انسانوں کو زمین پر آباد کیا ہے اور اس لیے کیا ہے تاکہ ان کو امتحانی زندگی سے گزارا جائے اور پھر قیامت کے دن سب کو زندہ کر کے اپنے حضور جوابدہی کے لیے اکٹھا کیا جائے ۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟

 

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ لقمان نوٹ ۶۰ میں گزر چکی۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔   یعنی عذاب کو۔

 

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔  کفار ،نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کی ہلاکت کے خواہشمند تھے اور اس بات کے منتظر تھے کہ کب ان کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہنے کی ہدایت ہوئی کہ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو موت دے بھی دیتا ہے تو تم اپنے کفر کی سزا سے کس طرح بچ سکو گے ؟ ہمارے جلد یا بہ دیر مرنے سے تم اللہ کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتے جبکہ تم اپنے کفر پر جمے ہوئے ہو۔

 

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔  اس سورہ میں رحمن کا لفظ کئی بار آیا ہے جو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس کے آثارِ رحمت کو دیکھو جو ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں اور اس پر ایمان لا کر اس کی رحمت کے مستحق بن جاؤ۔اخیر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی یہ اعلان فرمایا گیا کہ ہم اس خدائے رحمن پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کر کے اپنے کو اس کے حوالہ کر دیا ہے ۔ لہٰذا اس کی طرف سے جو ہدایت ملتی ہے ہم اس کی پیروی کرتے ہیں ۔

 

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔  سورہ کے خاتمہ پر اللہ کی ربوبیت پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ شکر کا جذبہ ابھرے ۔ فرمایا پانی کے یہ جاری چشمے جو تمہارے لیے عظیم نعمت اور تمہاری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں اگر خشک ہو جائیں اور ان کا پانی زمین میں اتنا گہرا اتر جائے کہ تم اس کو حاصل نہ کر سکو تو کون ہے جو تمہارے لیے پانی کے چشمے جاری کرید گا؟ اگر اللہ کے سوا کسی کے بس میں یہ بات نہیں ہے واقعہ یہ ہے کہ نہیں ہے تو پھر اپنے حقیقی رب کو چھوڑ کر دوسروں کو جو بالکل بے اختیار ہیں کیوں اپنا رب اور معبود بناتے ہو؟

 

٭٭٭٭٭