دعوۃ القرآن

سورة یسٓ

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

نام

 

سورہ کا آغاز "ی" (یا) اور "س" (سین) دو حرفوں سے ہوا ہے اس مناسبت سے اس کا نام سورہ یٰس ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے درمیانی دور کے اخیر میں نازل ہوئی ہو گی نیز یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سورہ فاطر کے بعد نازل ہوئی ہو گی کیونکہ اس میں خبردار کرنے والے (نذیر) کا ذکر مجملاً ہوا تھا اور اس میں زیادہ وضاحت کے ساتھ ہوا ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

آخرت کے انجام سے خبردار کرنا ہے اس طور سے کہ غفلت میں پڑے ہوۓ لوگ جاگ اٹھیں اور انہیں اپنے مستقبل اور اپنی نجات کی فکر دامن گیر ہو۔ رسول کی بعثت اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ خبردار کرنے کا یہ فریضہ انجام دے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۱۲ میں رسول کی صداقت پر قرآن کی شہادت پیش کرتے ہوۓ واضح کیا گیا ہے کہ اس کی بعثت کا مقصد غفلت میں پڑے ہوۓ لوگوں کو خبردار کرنا ہے۔

 

آیت ۱۳ تا ۳۲ میں عبرت کے ایک بستی کی مثال پیش کی گئی ہے جس نے خبر دار کرنے والے رسولوں کو جھٹلایا تھا نتیجہ یہ کہ اللہ نے عذاب بھیج کر اس کو تباہ کر دیا۔

 

آیت ۳۳ تا ۵۰ میں توحید کی نشانیوں کی طرف رہنمائی کرتے ہوۓ منکرین کے اعتراضات کی تردید کی گئی ہے۔

 

آیت ۵۱ تا ۶۵  میں قیامت کے احوال اس طور سے پیش کیے گۓ ہیں کہ پڑھنے والا محسوس کرنے لگتا ہے کہ قیامت برپا ہو گئی ہے اور وہ میدان حشر میں کھڑا ہے۔

 

آیت ۶۶ تا ۶۸ میں منکرین کو تنبیہ ہے۔

 

آیت ۶۹ تا ۸۳ میں رسالت ، توحید اور دوسری زندگی سے متعلق منکرین کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔

 

فضیلت کے بارے میں روایتیں

 

اس سورہ کی فضیلت میں ترمذی نے حضرت انس سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "یٰس قرآن کا دل ہے" ساتھ ہی انہوں نے صراحت کی ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور اس کا ایک راوی ہارون ابو محمد مجہول ہے۔ (دیکھیے ترمذی ابواب فضائل القرآن)۔

 

دوسری حدیث ابو داؤد کی ہے جس میں انہوں نے معقل بن یسار سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ :

 

اقراء و ا یٰس علیٰ موتا کم (ابو داؤد کتاب الجنائز) " مرنے والوں پر یٰس پڑھا کرو"۔

 

یہ روایت ابو عثمان نے اپنے والد کے واسظہ سے معقل بن یسار سے بیان کی ہے۔ لیکن امام ذہبی ابو عثمان کے بارے میں لکھتے ہیں " نہ اس کا باپ معروف ہے اور  نہ وہ"

 

 (دیکھیے میزان الاعتدال ، ج ۴ ص ۵۵۰)

 

اس مضمون کی روایتیں مسند احمد اور دیگر کتب حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے لیکن اسناد کے اعتبار سے یہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتیں اس لیے ان کو ارشاد رسول نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اور یہ بات بھی ثابت نہیں ہے کہ صحابہ اس سورہ کو کسی شخص کی جانکنی کے موقع پر پڑھا کرتے تھے۔  

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔ یا۔ سین ۱*

 

۲۔۔۔۔۔۔ قسم ہے حکمت سے بھرے قرآن کی۔

 

۳۔۔۔۔۔۔ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ۲*۔

 

۴۔۔۔۔۔۔ سیدھے راستہ پر ۳* 

 

۵۔۔۔۔۔۔ یہ نازل کیا ہوا ہے اس کا جو غالب اور رحیم ہے ۴* 

 

۶۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم ایک ایسی قوم کو خبردار کرو جس کے آباء و اجداد کو خبردار نہیں کیا گیا تھا اسلیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ۵* 

 

۷۔۔۔۔۔۔ ان میں سے اکثر لوگوں پر ہمارا قول صادق آ چکا ہے ۶*  اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔

 

۸۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں اس لیے ان کے سر اوپر کو اٹھ رہ گئے ہیں۔ ۷* 

 

۹۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان کے آگے بھی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار اور ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے۔ لہذا انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ ۸* 

 

۱۰۔۔۔۔۔۔ ان کے لیے یکساں ہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو۔ وہ ایمان لانے والے نہیں ۹* 

 

۱۱۔۔۔۔۔۔ تم اسی کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمن سے بے دیکھے ڈرے ۱۰*  ایسے شخص کو مغفرت اور با عزت اجر کی خوشخبری دو۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔ ہم یقیناً مردوں کو زندہ کریں گے ۱۱*  اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو آثار (نقوش)  انہوں نے پیچھے چھوڑے۔ ہم نے ہر چیز کو ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔ ۱۲* 

 

۱۳۔۔۔۔۔۔ ان کو مثال کے طور پر بستی والوں کا واقعہ سناؤ جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔ ۱۳* 

 

۱۴۔۔۔۔۔۔ جب ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا۔ پھر ہم نے تیسرا رسول بھیج کر (ان رسولوں کی) تائید کی۔ ان سب نے کہا ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ۱۴* 

 

۱۵۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے جواب دیا تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو اور رحمن نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے تم بالکل جھوٹ بولتے ہو ۱۵* 

 

۱۶۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ۱۶* 

 

۱۷۔۔۔۔۔۔ اور ہماری ذمے داری اس کے سوا کچھ نہیں کہ صاف ساف پیغام پہنچا دیں ۱۷*۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے کہا ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے۔ اور تم ہمارے ہاتھوں دردناک سزاپاؤگے۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔ انہوں نے (رسولوں نے) جواب دیا تمہاری نحوستتمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے ۱۹*  کیا یہ (سزا) اس بنا پر (دو گے) کہ تمہیں نصیحت کی گئی ۲۰*  واقعہ یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو ۲۱* 

 

۲۰۔۔۔۔۔۔ اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہا آیا ۲۲*  اس نے کہا میری قوم کے لوگو! رسولوں کی پیروی کرو ۲۳* 

 

۲۱۔۔۔۔۔۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور راہِ راست پر ہیں۔ ۲۴* 

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ اور میں کیوں نہ عبادت کروں اس کی جس نے مجھے پیدا کیا ہے ۲۵*  اور جس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے ۲۶* 

 

۲۳۔۔۔۔۔۔ کیا میں اس کو چھوڑ کر اور معبود بنا لوں ؟ اگر رحمن مجھے تکلیف پہنانا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑاسکتے ہیں ۲۷* 

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ اگر میں ایسا کروں تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔ میں تو تمہارے رب ۲۸*  پر ایمان لے آیا تو میری بات سنو ۲۹* 

 

۲۶۔۔۔۔۔۔ ارشاد ہوا جنت میں داخل وہاج۔ اس نے کہا کاش میری قوم جان لیتی۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔ کہ میرے رب نے میری مغفرت فرمائی اور مجھے با عزت لوگوں میں شامل کیا۔ ۳۰* 

 

۲۸۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ۳۱*  ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم لشکر اتارا کرتے ہیں۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ بس ایک ہولناک آواز تھی کہ سب بجھ کر رہ گئے ۳۲* 

 

۳۰۔۔۔۔۔۔ افسوس بندوں کے حال پر ! جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے ۳۳* 

 

۳۱۔۔۔۔۔۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں ۳۴*  کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور وہ لوگ ان کے پاس واپس آنے والے نہیں ۳۵* 

 

۳۲۔۔۔۔۔۔ اور یقیناً سب ہی ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے ۳۶* 

 

۳۳۔۔۔۔۔۔ اور ایک بڑی نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے۔ ہم نے اس کو زندہ کیا ۳۷*  اور اس سے غلہ نکالا جسے وہ کھاتے ہیں۔۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے ہیں۔ اس میں چشمے جاری کر دیئے۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں۔ یہ ان کے ہاتھ کا کام نہیں ہے۔ پھر کیا وہ شکر نہیں کریں گے ۳۸* 

 

۳۶۔۔۔۔۔۔ پاک ہے وہ جس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے ۳۹*۔ زمین کی نباتات میں بھی ۴۰*  ان کے اپنے اندر سے بھی ۴۱*  اور ان چیزوں کے اندر سے بھی جن کو وہ نہیں جانتے ۴۲* 

 

۳۷۔۔۔۔۔۔ ان کے لیے ایک نشانی رات ہے۔ ہم اس سے دن کھینچ لیتے ہیں تو وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ ۴۳* 

 

۳۸۔۔۔۔۔۔ اور سورج اپنی جائے قرار کی طرف چلا جا رہا ہے ۴۴*  یہ اس ہستی کی منصوبہ بندی ہے جو غالب اور علم والا ہے ۴۵* 

 

۳۹۔۔۔۔۔۔ اور چاند کہ ہم نے اس کی منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح رہ جاتا ہے ۴۶* 

 

۴۰۔۔۔۔۔۔ نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ سب ایک ایک دائرہ میں حرکت کر رہے ہیں ۴۷* 

 

۴۱۔۔۔۔۔۔ اور ان کے لیے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ ۴۸* 

 

۴۲۔۔۔۔۔۔ اور ان کے لیے اسی کی مانند اور (کشتیاں) پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں ۴۹* 

 

۴۳۔۔۔۔۔۔ اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پھر نہ ان کا کوئی فریاد رس ہو گا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے۔ ۵۰* 

 

۴۴۔۔۔۔۔۔ مگر یہ ہماری رحمت ہے اور ایک وقت تک کے لیے فائدہ اٹھانے کا سامان ہے۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس چیز سے جو تمہارے آگے اور پیچھے ہے ۵۱*  تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں)۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔ اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے پاس آتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں بخشا ہے اس میں سے (محتاجوں پر) خرچ کرو تو یہ کافر ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جن کو اگر اللہ چاہتا تو کھلا دیتا ۵۲*  تم لوگ صریح گمراہی میں پڑ گئے ہو۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔ اور کہتے ہیں یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہو گا۔ ۵۳*  اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ)۔

 

۴۹۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ بس ایک ہولناک آواز کے منتظر ہیں جو انہیں اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آ پکڑے  گی ۵۴* 

 

۵۰۔۔۔۔۔۔ پھر نہ تو وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ ہی سکیں گے ۵۵* 

 

۵۱۔۔۔۔۔۔ اور صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے ۵۶* 

 

۵۲۔۔۔۔۔۔ کہیں گے افسوس ہم پر ! کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے اٹھایا؟ ۵۷*۔۔۔ یہ وہی ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے  کہا تھا ۵۸* 

 

۵۳۔۔۔۔۔۔ بس ایک ہولناک آواز ہو گی اور دفعتہً وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کر دیئے جائیں گے ۵۹* 

 

۵۴۔۔۔۔۔۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا اور تمہیں وہی کچھ بدلہ میں ملے گا جو تم کرتے رہے ہو ۶۰* 

 

۵۵۔۔۔۔۔۔ آج جنت والے اپنے مشغلوں میں شاداں و فرحان ہوں گے۔ ۶۱* 

 

۵۶۔۔۔۔۔۔ وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ۶۲* 

 

۵۷۔۔۔۔۔۔ اس میں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو کچھ وہ طلب کریں گے وہ انہیں ملے گا ۶۳* 

 

۵۸۔۔۔۔۔۔ ان کو سلام کہلایا جائے گا ربِ رحیم کی طرف سے ۶۴* 

 

۵۹۔۔۔۔۔۔ اور اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ ۶۵* 

 

۶۰۔۔۔۔۔۔ اے اولاد، آدم ! کیا میں نے تمہیں ہدایت نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۶۶* 

 

۶۱۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرو۔ یہ سیدھا راستہ ہے ۶۷* 

 

۶۲۔۔۔۔۔۔ پھر بھی اس نے تم میں سے بڑی خلقت کو گمراہ کر لیا ۶۸*  تو کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟ ۶۹* 

 

۶۳۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا۔

 

۶۴۔۔۔۔۔۔ اب داخل ہو جاؤ اس میں اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے۔

 

۶۵۔۔۔۔۔۔ آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔ ۷۰* 

 

۶۶۔۔۔۔۔۔ اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں پھر وہ راستہ کی طرف بڑھیں۔ انہیں کہاں سے دکھائی دے گا۔ ۷۱* 

 

۶۷۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہم چاہیں تو انہیں ان کی جگہ ہی پر مسخ کر دیں پھر نہ وہ آگے بڑھ سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔ ۷۲* 

 

۶۸۔۔۔۔۔۔ اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کو ہم خلقت میں اوندھا کر دیتے ہیں۔ پھر کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟ ۷۳* 

 

۶۹۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس (نبی) کو شعر کہنا نہیں سکھا یا اور نہ یہ اس کے شایانِ شان ہے۔ یہ تو ایک یاددہانی اور واضح قرآن ہے۔ ۷۴* 

 

۷۰۔۔۔۔۔۔ تاکہ وہ ان لوگوں کو خبردار کر دے جو زندہ ہیں اور کافروں پر حجت قائم ہو جائے ۷۵* 

 

۷۱۔۔۔۔۔۔ کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کئے تو وہ ان کے مالک ہیں۔ ۷۶* 

 

۷۲۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے ان کو ان کے ماتحت کر دیا تو ان میں سے کوئی ان کی سواری کے کام آتا ہے اور کسی کا وہ گوشت کھاتے ہیں۔

 

۷۳۔۔۔۔۔۔ اور ان کے لیے ان میں دوسری منفعتیں ۷۷*  اور مشروبات ۷۸*  بھی ہیں پھر کیا وہ شکر نہیں کریں گے؟ ۷۹* 

 

۷۴۔۔۔۔۔۔ مگر انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔

 

۷۵۔۔۔۔۔۔ وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ ان کے لشکر کی حیثیت سے حاضر کر دیئے جائیں گے ۸۰* 

 

۷۶۔۔۔۔۔۔ تو ان کی باتیں تمہارے لے باعثِ رنج نہ ہوں ۸۱*  ہم ان کی ان باتوں کو بھی جانتے ہیں جو یہ چھپاتے ہیں اور ان کو بھی جو یہ ظاہر کرتے ہیں۔

 

۷۷۔۔۔۔۔۔ کیا انسان نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا۔ پھر وہ کھلا جھگڑالو بنکر اٹھ کھڑا ہوا! ۸۲* 

 

۷۸۔۔۔۔۔۔ وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے ۸۳*  اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے ۸۴*  کہتا ہے ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے جب کہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی۔

 

۷۹۔۔۔۔۔۔ کہو ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر مخلوق کو جانتا ہے ۸۵* 

 

۸۰۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے آگ جلاتے ہو ۸۶* 

 

۸۱۔۔۔۔۔۔ کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیااس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کرے ۸۷*  کیوں نہیں ؟ وہ بڑا پیدا کرنے والا علم والا ہے ۸۸* 

 

۸۲۔۔۔۔۔۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے۔ ۸۹*

 

۸۳۔۔۔۔۔۔ تو پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ۹۰* 

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔ بعض مفسرین نے یٰس کے معنی اے انسان بیان کیے ہیں اور بعض کے نزدیک اس سےمراد نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں لیکن یہ بات نہ لغت سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے۔

 

حروف مقطعات جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں سورتوں کے بعض اہم مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں (دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱ اور سورہ یونس نوٹ ۱) اس سورہ میں  "ی" کا اشارہ یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَاد (بندوں کے حال پر افسوس ! آیت ۳۰) کی طرف ہے اور "س" کا اشارہ سلٰمٌ قولا مِنْ رَّبِّ  رَّ حِیْم (جنت میں ان  کے لیے رب رحیم کی طرف سے قول ہو گا سلام۔ آیت ۵۸) کی طرف گویا اس سورہ میں ایک رف ان بدوں کے حال پر اظہار افسوس کیا گیا ہے جو رسول کی صداقت پر یقین نہیں کرتے بلکہ اس مذاق اڑاتے ہیں اور دوسری طرف ایمان لانے والوں کو خوش خبری دی گئی ہے کہ ان کا رب رحیم ان کو سلام کا تحفہ پیش کرے گا۔

 

۲۔۔۔۔۔۔ عرب میں  ایسے موقع پر قوم شہادت کے معنی میں آتی ہے۔ یعنی جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو ثبوت اور دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کے ثبوت میں حکمت بھرے قرآن کو پیش کیا گیا ہے۔

 

جو شخص بھی قرآن کا کھلے ذہن سے مطالعہ کرے گا وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہے گا کہ :

 

اولاً قرآن کی علمی سطح نہایت بلند ہے۔ وہ انسان کے علم میں زبردست اضافہ کرتا ہے اور اپر کائنات کے اسرار و رموز کو کھولتا ہے اور انسانی زندگی کے بارے میں حقائق کو بے نقاب کرتا ہے ثانیاً وہ انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے اور اسے رفعت عطا کرتا ہے۔

 

ثالثاً غور و فکر کی صلاحیتوں کو ابھارتا ہے اور اس کی عقل کو جلا بخشتا ہے۔

 

رابعاً اس کی تعلیمات نہایت اعلیٰ اور انسانی فطرت سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔

 

خامساً وہ عدل کی میزان قائم کرتا ہے اور دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کرنا سکھاتا ہے۔

 

سادساً وہ تاریخ کے گمشدہ اوراق کو پیش کرتا ہے جن میں انسانیت کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اور مستقبل کی دنیا میں کیا کچھ پیش آنے والا ہے اس سے آگاہ کرتا ہے۔

 

سابعاً وہ انسان کے ظاہر کو بھی پاکیزگی عطا کرتا ہے اور باطن کو بھی اس میں ایسی روح پھونک دیتا ہے کہ وہ زندگی کی اصل حقیقت سے لذت آشنا ہو جاتا ہے۔

 

ایسا حکیمانہ کلام جو انسان کی کایا پلٹ دیتا ہو اور اسے بام عروج پر پہنچاتا ہو وحی الٰہی ہو سکتا ہے اور جب یہ کلام وحی الٰہی ہے تو اس کا پیش کرنے والا لازماً اللہ کا رسول ہے مختصر یہ کہ قرآن کا معجزہ کی حد تک حکیمانہ کلام ہونا اس کے لانے والے کے جو ایک امی شخص ہے پیغمبر ہونے کا بین ثبوت ہے اور یہ ایسا ثبوت ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہنے والا ہے تاکہ ہر زمانہ کے لوگ آپ کی رسالت پر یقین کر سکیں۔

 

۳۔۔۔۔۔۔ سیدھے راستے سے مراد وہ راستہ ہے جو سیدھا اللہ تک پہنچتا ہے اور وہ ہے توحید کی راہ جس کا نام اسلام ہے۔

 

سورہ فاتحہ میں جس صراط مستقیم کی ہدایت کے بندوں کی زبان سے دعا نکلی ہے وہ یہ صراط مستقیم ہے جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اس قرآن کو اللہ نے نازل کیا جو غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔ ان دو صفتوں کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ یہ قرآن اس ہستی کا فرمان ہے جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے اس لیے اس کو رد کرنا یا اس سے بے توجہی برتنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بہت بڑی نافرمانی ہے جس پر اس کی طرف سے سخت گرفت ہو گی۔ اور اگر تم اس کے فرمان کو قبول کرو تو اس کی رحمت کے مستحق بن سکتے ہو۔

 

۵۔۔۔۔۔۔ مراد عرب یعنی بنی اسمٰعیل ہیں جن میں حضرت اسمٰعیل کے بعد کوئی رسول (خبر کرنے والا) نہیں آیا۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کا زمانہ تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح کا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ۶۱۰ عیسوی میں ہوئی۔ گویا ڈھائی ہزار سال بعد ان میں پیغمبر کی بعثت ہوئی۔ اتنے طویل عرصہ تک ان میں کوئی پیغمبر اس لیے نہیں مبعوث کیا گیا  کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعین نے مکہ میں اللہ کا گھر تعمیر کر کے اور نماز اور حج کا طریقہ رائج کر کے توحید کے گہرے نقوش چھوڑے تھے اور ایک مختصر اور غیر متمدن معاشرہ کے لیے جس حد تک شرعی احکام کی ضرورت تھی وہ بھی سنت ابراہیمی کی شکل میں موجود چلی آ رہی تھی۔ علاوہ ازیں ان کی تذکیر کا سامان بالواسطہ و پر حضرت شعیب علیہ السلام کے ذریعہ جو شمالی حجاز کے علاقہ میں مبعوث ہوتے تھے نیز بنی اسرائیل کے پیغمبر خاص طور سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے ذریعہ انجام پاتا ہرا یعنی ان کے پیرو قریب کے علاقوں میں آباد ہوۓ اور دین کی باتیں برابر ان تک پہنچتی رہیں اس لیے یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ اس طویل مدت میں وہ بالکل تاریکی میں رہے اور ہدایت کی روشنی کا ان کے لیے کوئی سامان نہیں کیا گیا تھا۔ یہاں  دراصل عربوں پر یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ایک مدت مدید کے بعد تمہارے اندر جو رسول مبعوث ہوا ہے اس کی تمہیں قدر کرنی چاہیے کہ اللہ نے تمہیں بہت بڑے فضل سے نوازا ، جس غفلت میں تم پڑ گۓ تھے اس سے تمہیں بیدار کرنے کا سامان کیا اور ہدایت کی جو روشنی دھیمی پڑ گئی تھی اس کو تیز کر دیا لیکن تم اس کی نا قدری کر رہے ہو۔ گویا تمہیں نہ رسول کی ضرورت ہے اور ہدایت کی۔

 

۶۔۔۔۔۔۔ مراد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو اس نے ابلیس کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : لَاَمْلَائَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَ مِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ( ص۔ ۸۵) "میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا"۔

 

مطلب یہ ہے کہ ان  میں سےاکثر لوگوں نے شیطان کی پیروی کر کے اپنے کو جہنم کا مستحق بنا لیا ہے یہاں خاص طور سے مشرکین مکہ مراد ہیں جن پر اللہ کی حجت بدرجہ اتم قائم ہو گئی تھی اس کے باوجود ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاۓ اور بالآخر کفر کی حالت ہی میں مرے یا جنگ نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ مکہ میں قلیل تعداد ہی ایسی نکلی جو دی سویر ایمان لے آئی۔

 

۷۔۔۔۔۔۔ طوق سے مراد آباء و اجداد کی اندھی تقلید کے طوق ہیں۔ انہوں نے جب یہی طوق پسند کر لیے تو اللہ کے قانون ضلالت نے انہیں یہی طوق پہنا دیے۔ یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک آ لگے ہیں اس لیے ان کے سر اوپر ہی کو اٹھ کر رہ گۓ ہیں۔ یہ ان کے تکبر اور سر کشی کی تصویر ہے کہ اب ان کے سر اللہ کے آگے چھکنے والے نہیں۔ واضح ہوا کہ عقیدہ و مذہب کے معاملہ میں باپ دادا کی اندھی تقلید انسان کی تکبر پیدا کرتی اور اس کو اللہ کا سرکش بنا دیتی ہے۔ ہر انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حق کو تلاش کرے اور اللہ  کی دی ہوئی عقل کو صحیح طور سے استعمال کرے۔

 

۸۔۔۔۔۔۔ یہ ان گمراہوں کی اس حالت کی تصویر ہے کہ ان کے سامنے حق کی طرف رہنمائی کرنے والی جو نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ انہیں دکھائی نہیں دیتیں اور اس لیے دکھائی نہیں دیتیں کہ ان کے اور حق کے درمیان تعصب کی دیوار حائل ہو گئی ہے۔ اسی طرح گزری ہوئی قوموں کے عبرتناک انجام سےبھی انہیں کوئی سبق نہیں مل رہا ہے کیونکہ ان کے پیچھے بھی دیوار حائل ہو گئی ہے۔ تعصب کے یہ پردے ان کی آنکھوں پر اس طرح پڑ گۓ ہیں کہ ان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسے ہٹ دھرم لوگ پیغمبر کی تنبیہات کا کوئی اثر قبول کرنے والے نہیں۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسے لوگ ہی پیغمبر کی تنبیہات کا اثر قبول کریں گے جو نصیحت کی بات قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوں اور خداۓ رحمٰن کی عظمت سے خائف ہوں۔ خدا سے بے دیکھ ڈرنے کی تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انبیاء نوٹ ۶۸۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن تمام مرے ہوۓ انسانوں کو زندہ کر دیا جاۓ گا تاکہ وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کریں اور ان کی مناسبت سے اچھا یا برا بدلہ پائیں۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم نہ صرف ان اعمال کو ضبط تحریر میں لا رہے ہیں جو انہوں نے کیے بلکہ جو اثرات اور نقوش انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان کا بھی ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ اللہ نے ایسا ریکارڈ تیار کرنے کا انتظام کیا ہے کہ ہر شخص کا ہر ہر عمل اور اس کا چھوڑا ہوا ہر نقش محفوظ ہو جاۓ  تاکہ قیامت کے دن وہ دیکھ لے کہ اس نے دنیا میں اچھے کام کیے تھے یا برے، اپنے پیچھے اچھے نقوش چھڑے تھے یا برے اور اچھی فصل بوئی تھی یا کانٹے۔

 

اس زمانہ میں قرآن کا یہ بیان لوگوں کو عجیب معلوم ہو رہا تھا کہ انسان کے اعمال کا ایسا مفصل ریکارڈ کس طرح تیار کیا جا سکتا ہے لیکن موجودہ دور میں جب کہ انسان نے ٹیپ ریکارڈ کمپیوٹر اور بولتی فلمیں ایجاد کر لی ہیں اس پر یقین کرنا کچھ بھی مشکل نہیں رہا۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قادر اور ہر بات کو جاننے والا ہے۔

 

مَا قدَّ مُوا (جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا) سے مراد ان کے اعمال ہیں جن کا نتیجہ آخرت میں ان کے سامنے آنے والا ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انفطار نوٹ ۵۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔ ان آیات میں ایک تاریخی واقعہ پیش کیا گیا ہے تاکہ رسول کے منکرین اس سے سبق لیں۔ واقعہ کے صرف ان اجزاء کا ذکر کیا گیا ہے جو نصیحت پذیری کے لیے کافی ہو سکتے تھے۔ یہ بستی کون سی تھی جن رسولوں کو وہاں بھیجا گیا تھا اور یہ واقعہ کب پیش آیا؟ ان باتوں کی صراحت قرآن نے نہیں کی اور غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعہ نہایت قدیم زمانہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے پیش آیا ہو گا اور چونکہ اس کے تاریخی نقوش مٹ چکے تھے اس لیے بستی کے نام وغیرہ کی صراحت کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

 

اکثر مفسرین نے بستی سے مراد انطاکیہ (Antioch)  لیا ہے جو شام میں ترکی کی سرحد کے قریب ایک بڑا تجارتی شہر تھا اور رسولوں سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کے حواری لیے ہیں جنہوں نے انطاکیہ میں دین کی تبلیغ کی تھی لیکن علام ابن کثیر نے اس کو بوجوہ غلط قرار دیا ہے (دیکھیے تفسیر ابن کثیر ، ج ۳ ص ۵۶۹) ہم سمجھتے ہیں کہ یہ  آیتیں انطاکیہ اور وہاں کے مبلغین پر کسی طرح بھی منطبق نہیں ہوتیں :

 

اولاً انطاکیہ وہ بستی نہیں ہے جو عذاب الٰہی سے تباہ کر دی گئی ہو جب کہ قرآن آگے (آیت ۲۹) صراحت کرتا ہے کہ اس بستی پر اللہ نے بالآخر عذاب نازل کیا جس کے نتیجے میں وہ بالکل تباہ ہو کر رہ گئی۔ انطاکیہ میں تو جیسا کہ بائیبل کا بیان ہے عیسائی مبلغین کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھے (دیکھیے بائیبل کی کتاب "اعمال" باب ۱۱)۔

 

ثانیاً جن تین شخصیتوں کو بستی والوں کی طرف بھیجا گیا تھا ان کے بارے میں قرآن صاف کہتا ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوۓ رسول تھے (آیت ۱۴ ، ۱۶) جبکہ حضرت عیسیٰ کے حواری اصطلاحی معنی میں اللہ کے رسول نہیں تھے۔ وہ تو جیسا کہ قرآن کا بیان ہے حضرت عیسیٰ کے ساتھ اور مدد گار تھے (سورہ صف آیت ۱۴)۔

 

ثالثاً  بستی والوں کا یہ اعتراض کہ تم ہمارے ہی طرح بشیر ہو اور رحمٰن نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی (آیت ۱۵) اللہ ان رسولوں ہی کے بارے میں ہو سکتا تھا جو کہتے تھے کہ ہم پر وحی الٰہی نازل ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے حواری تو مبلغ کی حیثیت سے انطاکیہ گۓ تھے اور ایک مبلغ پر جب کہ وہ اللہ کا رسول ہونے کا دعویٰ نہ کرے کوئی شخص یہ اعتراض نہیں کرتا کہ تم تو ہماری طرح بشر ہو۔

 

صاحب " تدبر قرآن" نے اس سے مختلف اپنی اس راۓ کا اظہار کیا ہے کہ بستی سےمراد مصر ہے اور دو رسولوں سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں اور تیسرا شخص جس کے ذریعہ قوت پہنچائی گئی فرعون کے دربار کا وہ شخص تھا جو ایمان لے آیا۔ مگر یہ راۓ اس لیے صحیح نہیں کہ قرآن تینوں شخصیتوں کو رسول قرار دیتا ہے (آیت ۱۶) ور جو تاویل انہوں نے آیات کی کی ہے وہ تکلف سے خالی نہیں نیز اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مصر کی تباہی صیحۃ (ہولناک چیخ) کے ذریعہ ہوئی تھی اس لیے آیت ۲۹ میں جس عذاب کا ذکر ہوا ہے اس سے مراد وہ عذاب نہیں لیا جا سکتا جو فرعون کے ملک پر آیا تھا۔ مختصر یہ کہ قرآن کی تصریحات سے اس راۓ کی تردید ہوتی ہے۔ ہمارے نزدیک جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا قرآن کے اجمالی بیان پر اکتفا کرنا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ ہم محض قیاس سے کام لے کر ان باتوں کی تعیین کریں جن کی تعیین قرآن نے نہیں کی۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ تیسرا شخص بھی رسول تھا اور یہ تینوں رسول اللہ کے بھیجے ہوۓ تھے یعنی یہ اصطلاحی معنی میں  رسول تھے اس لیے ان کو حضرت عیسیٰ کا قاصد قرار دینا ہر گز صحیح نہیں۔ ایک بستی میں تین رسول بھیجنے کی مصلحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اتمام حجت کی ایک مثال یہ بھی قائم ہو جاۓ اور دنیا والوں پر واضح ہو جاۓ کہ جو قوم ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوتی ہے وہ ایک نہیں تین تین رسولوں کو بھی جھٹلانے میں تامل نہیں کرتی۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔ یہ ویسے ہی اعتراضات تھے جیسے مکہ کے مشرکین نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر کر رہے تھے۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر تم ان دلائل کی روشنی میں ہمیں رسول تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو جو ہم پیش کر رہے ہیں تو نہ مانو۔ ہم تو اللہ کو گواہ کر کے کہتے ہیں کہ اس نے ہم کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔ یعنی ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ واضح طور سے اللہ کا پیغام پہنچا دیں اس کے بعد اپنے  عمل کے تم ذمہ دار ہو۔ ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ تمہیں ایمان لانے کے لیے مجبور کریں۔

 

واضح رہے کہ یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ ان لوگوں کے تعلق سے ہے جو ایمان نہیں لاۓ۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں کہ رسول کی ذمہ داری اہل ایمان کے معاملہ میں بھی پیغام رسانی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل کے تعلق سے کیسی کیسی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونا پڑا ، حضرت داؤد کو خلافت کی ذمہ داریاں سونپی گئیں ، حضرت سلیمان نے ایک شاندار حکومت قائم کرنے کےساتھ عدالت کے فرائض بھی انجام دیے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تزکیہ و تربیت اور کتاب و حکمت کی تعلیم بھی دی اور عدالتی فیصلے بھی کیے نیز کفار کےساتھ جہاد جیسی ذمہ داریاں بھی کما حقہ ادا کیں۔ مختصر یہ کہ پورے دین کی آپ نے اپنے قول و عمل سے تشریح و توضیح فرمائی جس کی پیروی اہل ایمان کے لیے ضروری ہے۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں قحط یا کسی اور مصیبت میں مبتلا کر دیا تھا تاکہ وہ اللہ کی طرف رجوع  ہوں لیکن انہوں نے اپنے پیغمبروں کو نحوست قرار دیا۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔ یعنی نحوست کا وجود خارج میں نہیں بلکہ تمہارے اپنے نفس میں ہے۔ برے عمل کا نتیجہ برا ہی ہے اس لیے برا عمل کر کے نتائج کا ذمہ دار دوسروں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم نے کیا جرم کیا ہے جس کی اتنی سخت سزا تم ہم کو دینا چاہتے ہو۔ کیا تذکیر و نصیحت کا کام کرنا بھی جرم ہے ؟

 

۲۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اخلاق اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو تم نے پس پشت ڈال دیا ہے اور شر و فساد پر اتر آۓ ہو۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ یعنی اس پوری بستی میں ایک مرد مومن نکل آیا ورنہ پوری قوم نے پیغمبروں کی دعوت کو رد کر دیا تھا۔ یہ شخص اگر چہ شہر کے آخری کنارے پرتھا لیکن جب پیغمبروں کی دعوت اس تک پہنچ گئی تو وہ دوڑتے ہوۓ یعنی بڑی مستعدی کے ساتھ اس رزم گا میں پہنچ گیا جہاں رسولوں اور بستی والوں کے درمیان کشمکش برپا تھی۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔ اس نے بستی والوں کے درمیان پہنچ کر اعلان حق کیا اور اپنی قوم کو رسولوں کی پیروی کی دعوت دی ایمان نے اس کے اندر ایسی اسپرت پیدا کر دی کہ وہ آناً فاناً حق کا داعی اور مرد مجاہد بن گیا۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ یعنی رسول اپنی سیرت کے اعتبار سے بے لوث ہیں اور بالکل صحیح رہنمائی کرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ راہ حق پر ہیں اور اسی راہ کی طرف تمہیں بلا رہے ہیں۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔ یعنی عبادت خالق ہی کا حق ہے۔ پھر میں اپنے خالق ہی کی عبادت  کیوں نہ کروں۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔ ان الفاظ میں اس شخص نے آخرت پر اپنے یقین کا اظہار بھی کیا اور قوم کو بھی آگاہ کیا کہ تم سب کو بالآخر اسی کے پاس جانا ہے لہٰذا اپنی عاقبت کی فکر کرو۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔ اس موقع پر اس شخص کی زبان سے رحمٰن کا ذکر اس کی اللہ سے قلبی وابستگی کو بھی ظاہر کرتا ہے اور اس اعتراف کو بھی کہ وہ بڑا مہربان ہے۔ اس مہربان خدا کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بنانے کا کیا فائدہ جن کے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اگر خداۓ رحمٰن تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان کی سفارش کچھ کام آ سکتی ہے اور نہ وہ مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں۔ پھر یہ واسطے اور وسیلے کیا معنی رکھتے ہیں ؟

 

۲۸۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ پر جو تم سب کا حقیقی رب ہے۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی میں ایمان لا کر رسولوں کی پیروی کی جو نصیحت تمہیں کر رہا ہوں اسے قبول کرو۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔ انداز کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مرد مومن کی بے لاگ باتیں لوگوں کو سخت ناگوار ہوئیں اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اس نے جرأت ایمانی کا ثبوت دیا تھا اور وہ جانبازی کے جوہر دکھاتے ہوۓ اللہ  کی راہ میں شہید ہو گیا تھا اس لیے اس کو فوراً جنت کی بشارت سنا دی گئی۔

 

قرآن کی تصریحات کے مطابق اہل ایمان اپنے جسم کے ساتھ جنت میں قیامت کے دن ہی داخل ہوں گے البتہ اس سے پہلے عالم برزخ میں پاکیزہ روحوں کو اعزاز و اکرام سے نوازا جاتا ہے اور شہداء کو ایک خاص قسم کی زندگی ملتی ہے اور وہ رزق بھی پاتے ہیں ، (سورہ بقرہ آیت ۷ ، آل عمران آیت    ) اس مرد مومن نے بھی عالم برزخ میں  پہنچ کر اللہ کی اسی عنایت پر اپنی مسرت کا اظہار کیا کہ میرے رب نے میری مغفرت فرمائی اور مجھے ان لوگوں میں شامل کیا جنہیں اعزاز و اکرام سے نوازا گیا اور اس تمنا کا اظہار  کیا کہ کاش میری قوم کو یہ معلوم ہو جاتا اور وہ ایمان لے آتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مومن کی یہ تمنا قرآن کے پڑھنے والوں تک پہنچا دی۔ اب ان کا کام ہے کہ وہ اس کی روشنی میں اپنے طرز عمل کا جائزہ لیں۔

 

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد روحیں عالم برزخ میں جس کو حدیث میں قبر سے تعبیر کیا گیا ہے پہنچتی ہیں اور وہاں ان کے ساتھ ان کے عمل کے لحاظ سےمعاملہ کیا جاتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ قیامت سے پہلے جزا یا سزا کیسے ملتی ہے ؟ تو در اصل قیامت کے دن تو انسان کو جسم سمیت اٹھایا جاۓ گا اور اس کے اعمال کا حساب کر کے اس کو پورا پورا بدلہ دیا جاۓ گا لیکن قیامت سے پہلے  جزا یا سزا کا صرف ایک حصہ ملتا ہے اور وہ بھی روح کو۔ اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ دنیا میں بھی ایک حد تک جزا و سزا کا معاملہ پیش آتا رہتا ہے۔ جن کافر قوموں کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں عذاب نازل کر کے ہلاک کیا ان کو بھی تو قیامت سے پہلے ہی سزا کا ایک حصہ مل گیا۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اس مرد مومن کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد۔

 

۳۲۔۔۔۔۔۔ یعنی اس قوم کی تباہی کے لیے اللہ کو کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا پڑا کہ اتنی بڑی آبادی کو سزا دینے لیے کوئی لشکر اتارا گیا ہو اور نہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کسی قوم کو سزا دینے لیے کوئی لشکر اتارا تھا بلکہ اس کا ایک اشارہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہو جاتا ہے چنانچہ اس قوم کو بھی ہلاک کرنے کے لیے ایک ہولناک آواز کافی ہو گئی۔ ممکن ہے یہ بجلی کی چنگھاڑ رہی ہو یا زلزلہ اور لاوے کا دھماکہ یا اور کوئی غیر معمولی ہولناک آواز۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا صورت پیش آئی۔ بہر صورت اس ہولناک آواز نے پوری قوم کا اس طرح خاتمہ کر دیا کہ وہ راکھ کا ڈھیر ہو کر رہ گئی۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔ اور یہ ماضی ہی کی بات نہیں۔ آج بھی نہ کثرت لوگ ایسےہیں کہ رسالت اور وحی کی بات سنتے ہی غیر سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور اس کو مذاق بنا لیتے ہیں۔ مگر ایک وقت آۓ گا جب یہ لوگ اپنی حرکتوں پر کف افسوس ملتے رہیں گے۔

 

بندوں کے حال پر افسوس کا مطلب یہ ہے کہ بندوں نے اپنے کو ایسی حالت میں پہنچا دیا ہے کہ ان کے لی ندامت اور افسوس کے سوا کچھ نہیں

 

۳۴۔۔۔۔۔۔ "کیا انہوں نے دیکھا نہیں " عربی میں " کیا انہوں نے غور نہیں کیا " کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اردو میں بھی یہ محاورہ ہے۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔ یعنی جس قوم کو ایک مرتبہ ہلاک کر دیا گیا وہ دوبارہ دنیا میں لوٹ کر نہیں آتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

 

اس سے نظریہ آوا گون کی بھی تردید ہوتی ہے۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔ یعنی ان قوموں کا وجود اگر چہ دنیا میں نہیں رہا لیکن ان کی روحیں عالم برزخ میں ہیں اور قیامت کے دن ان کو جسم سمیت اٹھایا جاۓ گا اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر کر دیا جاۓ گا۔ یہ بات ان قوموں کی حد تک ہی نہیں ہے بلکہ ہر شخص کو قیامت کے دن اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔

 

۳۷۔۔۔۔۔۔ مردہ زمین کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین خشک پڑی تھی مگر پانی برسانے سےسر سبز ہو گئی اوور اس میں سےنباتات نکل آئیں۔ ہر شخص اس بات کا مشاہدہ کر لیتا ہے کہ مردہ زمین بارش کے ہوتے ہی غلہ اگلنے لگتی ہے۔ کیا یہ اس بات کی علامت نہیں ہے کہ اس کے پیچھے ایک زبردست قدرت رکھنے والی ہستی کا ہاتھ کار فرما ہے اور کیا اس سے یہ یقین پیدا نہیں ہوتا کہ وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔

 

۳۸۔۔۔۔۔۔ غلہ اور پھل وغیرہ انسان کے لیے غذائی اشیاء ہیں اور ان غذائی اشیاء میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو انسان نے پیدا کی ہو۔ انسان تو اللہ کے ہی پیدا کردہ بیج زمین میں بوتا ہے اور زمین اللہ کے حکم سے غلہ اگل دیتی ہے۔ اسی طرح انسان صرف شجر کاری کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ درخت اور باغ پیدا کر دیتا ہے جو پھلوں سے لدے ہوۓ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات کس قدر عجیب ہے کہ اللہ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود انسان اس کا شکر گزار نہیں بنتا !

 

کھجوروں اور انگوروں کا ذکر خاص طور سے اس لیے کیا گیا کہ جس سر زمین میں قرآن نازل ہوا اس کے قرب و جوار میں کھجور اور انگور کے باغ پاۓ جاتے تھے نیز یہ دو پھر لذیذ بھی ہیں اور غذائیت سے بھر پور بھی۔

 

۳۹۔۔۔۔۔۔ یعنی جوڑے ہونا مخلوق کی خصوصیت ہے کیونکہ جوڑے ایک دوسرےکے مماثل (مشابہ) بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل بھی کرتے ہیں۔۔ لیکن خالق کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ہر قسم کے نقص سے پاک ہے اس لیے اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔ وہ بالکل یکتا ہے۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔ نباتات میں جوڑوں کا وجود مختلف شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ بعض ثمر آور ہوتے ہیں تو بعض کوئی پھر نہیں لاتے، بعض پیداوار کا دو اجزاء سے مرکب ہونا عام مشاہدہ میں آنے والی بات ہے مثلاً چنا ، دالیں ، مختلف قسم کے بیج ، بادام، کاجو، پستہ وغیرہ۔ ان کے دونوں اجزاء بہ  آسانی الگ کیے جا سکتے ہیں۔ بعض وہ جن کے زر گل میں نر و مادہ کی خصوصیات  پائی جاتی ہیں .

 

“Most forest trees in fact, have separate flowers for each sex (Some for pollen, of hens for ovules) but have both types of flowers on every tree.

 

 (Hugh Johnson's Ency.  of Trees, Landon. P 15)

 

اور ان میں بار آوری (Fertilization) ہونے پھل پیدا ہوتے ہیں۔ کونپلیں بیج کو پھاڑ کر یعنی اس کو دو اجزاء میں منقسم کر کے نکل آتی ہیں۔ علم نباتات (Botany) کی رو سے یہ انقسام (Fragmentation) بہت سی نباتات میں تولید کا عمل ہے (دیکھیے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا عنوان (Reproductive systems, plant cells) اور موجودہ سائنس نے یہ اکتشاف بھی کیا ہے کہ پودوں (Plants)  میں خلیے (Cells)  ہوتے ہیں اور ہر خلیہ میں کروموزومس (Chromosomes) کے جوڑے Pairs  ہوتے ہیں۔ (سورہ رعد نوٹ ۱۳ بھی پیش نظر رہے)۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔ یعنی مرد و عورت۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے لیکن کتنی ہی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں انسان نہیں جانتا کہ ان کے جوڑا ہونے کی نوعیت کیا ہے جمادات کے بارے میں کون جانتا تھا کہ ان میں بھی جوڑے ہوتے ہیں لیکن موجودہ سائنس نے یہ اکتشاف کیا کہ ذرہ Atom  میں ایک مرکزہ (Nucleus) ہوتا ہے جو مثبت برق (Positive Charge) رکھتا ہے اور دوسرا الیکٹرون  (Electron)  جو منفی برق Negative Charge رکھتا ہے اور یہ اپنے مرکزہ کے گرد گردش کرتا ہے۔ پھر مرکزہ Nucleus بھی پروٹون Protonاور نیٹرون  Neutron سے مرکب ہوتا ہے۔ (دیکھیے

  Mc. Graw Hill Ency. Of Science and Technology _Newyork_Vol. I P. 844))

 

 اگرچہ قرآن کے پیش کردہ حقائق اپنی صداقت کے لیے علمی اکتشافات کے محتاج نہیں ہیں کیونکہ وہ ایک علیم و خبیر ہستی کے پیش کردہ حقائق ہیں جن میں غلطی کا قطعاً کوئی احتمال نہیں ہے لیکن موجودہ سائنسی انکشافات سے قرآن کی صداقت اور زیادہ روشن ہو جاتی ہے۔

 

۴۳۔۔۔۔۔۔ یعنی دن کی سفید چادر جب ہم کھینچ لیتے ہیں تو اندھیرا ہی رہ جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ سن کی روشنی نوع انسانی کے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت اور اسکی قدرت کا کرشمہ ہے اگر انسان اس پہلو سے اس نشانی پر غور کرے جو روزانہ ظہور میں آتی رہتی ہے تو اس کے اندر خداۓ واحد کا یقین اور اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا ہو جائیں۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔ یعنی سورج حرکت میں ہے اور اس کی یہ حرکت اس کے مستقر (جاۓ قرار) کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو راہ اس کے لیے مقرر کر دی گئی ہے اسی راہ پر وہ چلا جا رہا ہے اور اپنے آخری ٹھکانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کا آخری ٹھکانہ قیامت کی منزل ہے جہاں پہنچ کر اس کی حرکت رک جاۓ گی۔

 

بخاری میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس آیت کی یہ تشریح منقول ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو عرش الٰہی کے نیچے سفدہ کرنے کے لیے جاتا ہے۔ (بخاری کتاب التفسیر)۔ محل کلام دلیل ہے کہ یہاں اصل حقیقت کی طرف ذہنوں کو موڑنے کے لیے استعارہ (Metaphor) کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ سورج اپنی ضیا پاشیوں کے بعد جن نظروں سے غائب ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کے زیر اقتدار ہی رہتا ہے اور اس  کے اس قانون کی تابعداری کرتے ہوۓ جو اس کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اللہ ہی کے آگے جھکا ہوا ہے۔ جو لوگ بات کو اس کے محل پر رکھ کر سمجھنےکی کوشش نہیں کرتے وہ الفاظ کو پکڑ کر بحثیں کھڑی کر دیتے ہیں اور نا فہمی کی بنا پر حدیث ہی کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔

 

جہاں تک جدید سائنس کا تعلق ہے وہ سورج کو متحرک مانتی ہے۔ اس کی رو سے سورج کی محوری گردش تقریباً  ۲۷ دن میں پوری ہوتی ہے :

 

“The Sun is a slow rotator …… period of rotation 26.9 days.”

 

 (The New Ency. Britannica Vol. 17 P 801 & 799)

 

رہی سورج کی مداری گردش Orbital Rotation  تو اس سلسلہ میں اب تک کوئی تحقیقی بات سامنےنہیں آ سکی ہے البتہ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ وہ اپنے نظام کے ساتھ ۲۵۰ کلو میٹر فی سکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہا ہے:

 

“Earth's Sun moves with the system at a speed of about 250 Kilometers (160 Miles) per second.”

 

 (The New Ency. Britannica Vol. 17‏, 15th Edn. P. 833)

 

سائنس کی یہ تصریحات قرآن کے اس بیان سے اس حد تک تو مطابقت رکھتی ہیں کہ سورج متحرک ہے لیکن سائنس کی تصریحات میں قیاس کا بھی دخل ہے۔ اور اس بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سورج اپنے مدار پر گردش کرتا ہے تو پھر امین اور سورج کے فاصلہ میں بھی کمی بیشی ہوتی رہنی چاہیے البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ سورج اپنے نظام شمسی کو لیے ہوۓ حرکت کر رہا ہو اور یہ دوسری صورت ہی قرآن کا بیان حقیقت واقعہ کا اظہار ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے علم اور فہم کی رسائی اتنی دور تک نہیں ہو سکتی کہ اس کی نوعیت ہم پوری طرح واضح ہو جاۓ۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔ یعنی سورج کی یہ حرکت کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک زبردست علیم ہستی کا بنایا ہوا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ ایسا مضبوط ہے کہ سورج سر مو اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔ اگر سورج دیو ہوتا جیسا کہ مشرکین سمجھتے ہیں تو وہ ایک خاص حرکت خاص حرکت کا پابند ہو کر نہ رہتا اور اگر وہ اتفاقی حادثہ کے طور پر وجود میں آگیا ہوتا جیسا کہ ملحدین سمجھتے ہیں تو اس کی حرکت میں یہ باقاعدگی  اور اس کے نظام میں یہ استواری نہ ہوتی۔ پھر کیا سورج کا یہ باقاعدہ نظام جس کا ہر شخص مشاہدہ کرتا ہے اس بات کا یقین پیدا نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ کے تحت ہو راہ ہے اور یہ منصوبہ اسی ہستی کا بنایا ہوا ہے جو سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والی ہے۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔ چاند اپنا چکر ایک مہینہ میں پورا کر لیتا ہے۔ اس کی شکل روزانہ بدلتی رہتی ہے۔ ہلال سےبدر کامل بن جاتا ہے اور پھر گھٹتے گھٹتے ہلال ہی کی سی شکل میں رہ جاتا ہے گویا کھجور کی پرانی ٹہنی جو خشک ہو کر ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ چاند کی یہ شکلیں مداری حرکت Orbital Motion کے نتیجہ میں نمایا ہوتی ہیں اس لیے اس کی اس حرکت کو منزلوں والے سفر سے تعبیر کیا گیا ہے گویا چاند روزانہ ایک منزل گے کرتا ہوا اور اپنی بدلتی ہوئی شکل کو نمایاں کرتا ہوا اپنا چکر پورا کر لیتا ہے۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔ یعنی سورج اپنے دائرہ سے نکل کر چاند کے دائرہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اور نہ رات دن کے وقت نمودار ہو سکتی ہے۔ ہر ایک کے لیے جو دائرہ مخصوص کر دیا گیا ہے اس میں رہ کر اسے حرکت کرنا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ انبیاء نوٹ ۴۲)۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔ ان کی نسل سے مراد انسانی نسل ہے اور بھری ہوئی کشتی سے مراد کشتی نوح ہے جو اہل ایمان سے اور ان کے کام آنے والے جانوروں سے بھر دی گئی تھی اور جو اس طوفان میں جس نے پوری انسانی آبادی کو ہلاک کر دیا تھا صحیح سلامت چلتی رہی۔

 

فَاَنْجَیْنَاہُ وَمَنْ مَعَہٗ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ  (شعراء۔ ۱۱۹)۔ " بالآخر ہم نے اس کو (یعنی نوح کو) اور ان کو جو اس کےساتھ تھے بھری ہوئی کشتی میں نجات دی"۔

 

کشتی میں جو اہل ایمان سوار تھے وہ انسانی آبادی کا کل سرمایہ تھے۔ بعد میں ان ہی کی نسلوں سے زمین آباد ہوئی اس لے ان لوگوں کو جو کشتی میں سوار تھے نسل انسانی (ذُرِّیَّتَھُمْ) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انہیں نہ بچاتا تو زمین پر انسان کا وجود باقی نہ رہتا۔ یہ اہم تاریخی اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے  جس نے انسانیت کی کشتی کو پار لگایا اور یہ اسی کی رحمت ہے کہ نسل انسانی محفوظ رہی۔

 

۴۹۔۔۔۔۔۔ پہلی کشتی حضرت نوح کی تھی جو انہوں نے اللہ کی ہدایت کے مطابق بنائی تھی اس کے بعد لوگوں نے اسی کشتی کی مانند دوسری کشتیاں بنائیں اور موجودہ زمانہ کے بڑے بڑے جہاز بھی اسی علم کی خوشہ چینی ہے جو انسان کی اولین کشتی کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بخشا تھا اس لیے یہ کشتیاں اور جہاز گو انسان کی کاریگری ہے لیکن در حقیقت یہ اللہ ہی کی پیدا کردہ سواریاں ہیں۔

 

۵۰۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ اس بات پر کیوں نہیں غور کرتے کہ اگر اللہ ان لوگوں کو جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں غرق کرنا چاہے تو نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ وہ اس مصیبت سے نجات پاسکتے ہیں۔

 

آیت میں لفظ "صریخ" استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں فریاد کو پہنچنے والا یہی معنی لفظ "غوث" کے بھی ہیں۔ یہ آیت اس حقیقت کا واضح طور سے اعلان کرتی ہے کہ اللہ کے سوا نہ کوئی غوث ہے اور نہ کوئی ناؤ کو پار لگانے والا۔ لہٰذا جس طرح مشرکین کا اپنے دیوی دیوتاؤں کو غوث (فریاد رس) سمجھنا باطل ہے اس طرح مسلمانوں کا اپنے پیروں اور ولیوں کو غوث سمجھنا بھی سراسر باطل اور مشرکانہ عقیدہ ہے۔

 

۵۱۔۔۔۔۔۔ " جو تمہارے آگے ہے" سے مراد دنیا کا عذاب ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے، سےمراد آخرت کا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس بات سے ڈرو کہ اللہ کا عذاب تمہیں آگے اور پیچھے سے گھیر نہ لے۔

 

۵۲۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں ان کافروں کا حال بیان ہوا ہے جن کی زر پرستی سنگ دلی کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ ان کو محتاجوں کی حالت پر رحم نہیں آتا تھا اور جب ان سے اہل ایمان کہتے کہ ان پر خرچ کرو تو اہ ان کی بات کا مذاق اڑاتے ہوۓ کہتے کہ ہم ان کو کیا کھلائیں جن کو اللہ ہی نے کھلانا پسند نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسکین اور محتاج ہیں۔

 

ان کے اس اعتراض کی نا معقولیت بالکل واضح ہے اس لیے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انسانی فطرت بھوکوں  کو کھلانے پر آمادہ کرتی ہے اور مصیبت زدگان کو دیکھ کر ہمدردی کے جذبات کا پیدا ہو جانا ایک فطری بات ہے نیز اس میں انسان کا امتحان بھی ہے کہ وہ دین اور فطرت کے اس تقاضے کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ مگر بے عقل لوگ اپنی ذمہ داری محسوس کرنے کے بجاۓ اللہ اور اس کے دین پر اعتراض کرنے لگتے ہیں۔

 

۵۳۔۔۔۔۔۔ مراد قیامت کا وعدہ ہے۔

 

۵۴۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ اپنے برے انجام ہی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ قیامت جس کی خبر انہیں دی جا رہی ہے وہ تو ایک ہولناک آواز کی شکل میں نمودار ہو گی اور ایسے وقت نمودار ہو گی اور ایسے وقت نمودار ہو گی کہ لوگ غفلت میں ہوں گے اور اسی بحث میں الجھے ہوۓ ہوں گے کہ قیامت آۓ گی بھی یا نہیں۔

 

معلوم ہوا کہ قیامت کی بحث دنیا میں چلتی ہی رہے گی اور انکار کرنے والے انکار کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ قیامت اپنی ہولناکیوں کے ساتھ ظہور میں آ کر ان بحثوں کا خاتمہ کر دے گی۔

 

۵۵۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت اس طرح اچانک آۓ گی کہ لوگوں کو مہلت نہ مل سکے گی۔ نہ کسی کو کچھ وصیت (ہدایت) کرنے کی مہلت اور نہ اپنے گھر جانے کی مہلت۔ جو جہاں ہو گا وہیں ڈھیر ہو کر رہ جاۓ گا۔

 

۵۶۔۔۔۔۔۔ یعنی جب قیامت کا دوسرا صور پھونکا جاۓ گا تو دفعۃً تمام مردے قبروں سے (زمین کے اندر سے) نکل پڑیں گے اور اپنی پیشی کے مقام کی طرف چل پڑیں گے۔ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو زندہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کو کچھ وقت نہیں لگے گا۔

 

۵۷۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ  جو آج دوسری زندگی کا انکار کر رہے ہیں جب قبروں سے اٹھاۓ جائیں گے تو انہیں تعجب اور افسوس ہو گا کہ یہ ہم کس دنیا میں پہنچ گۓ اور کس حال میں اٹھے ہیں۔

 

"مَرْقَد " کے معنی خواب گاہ کے ہیں۔ قیامت کا دوسرا صور پھونکے جانے سے پہلے برزخ کا جو آخری مرحلہ ہو گا اس میں ان کی روحوں پر سونے کی کیفیت طاری رہے گی اور دوسرا صور پھونکے جانے پر وہ جاگ اٹھیں گے اور جسم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے اس لیے انہیں حیرت ہو گی کہ ہمیں نیند سے کا نے بیدار کیا۔

 

اس سے برزخ کے عذاب (عذاب قبر) کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ نیند کی حالت میں وہ برزخ (قبر) کے آخری مرحلہ میں رہیں گے۔

 

۵۸۔۔۔۔۔۔ یہ جواب جیسا کہ اس کی اسپرٹ سے ظاہر ہے اہل ایمان دیں گے وہ ان منکرین کو یاد دلائیں گے کہ خداۓ رحمٰن نے دوبارہ زندہ کرنے کا جو وعدہ کیا تھا یہ اسی کی تکمیل ہے اور رسولوں نے قیامت کی جو خبر دی تھی وہ بالکل سچی تھی اور آج کا دن ان کی سچائی کا ثبوت ہے۔ قیامت کے دن اہلِ ایمان کا منکرین کو جواب دینا سورہ روم میں بیان ہوا ہے۔

 

وَقَالَ الَّذِیْنَ اُتُو ا الْعِلْمَ وَالْاِیْمَا نَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ اللہِ اِلیٰ یَوْمِ الْبَعْثِ فَھٰذا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ (سورہ روم:۵۶)

 

"اور جن لوگوں کو علم اور ایمان عطاء ہوا تھا وہ کہیں گے اللہ کے نوشتہ میں تم اٹھاۓ جانے کے دن تک رہے تو یہ اٹھاۓ  جانے کا دن ہے لیکن تم نہیں جانتے تھے۔ "

 

۵۹۔۔۔۔۔۔ اس ہولناک آواز کو دوسری جگہ ڈانٹ سے تعبیر کیا گیا ہے :

 

فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ  واحِدَۃُ (نازعات :۱۳)۔ " وہ تو بس ایک ڈانٹ ہو گی"۔

 

یعنی قیامت کا دوسرا بگل کیا ہو گا ایک ہولناک آواز کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سخت ڈانٹ ہو گی کہ اٹھو اور حاضر ہو جاؤ میرے حضور۔ اس ڈانٹ کے نتیجہ میں سب مردے پیشی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں  گے۔

 

۶۰۔۔۔۔۔۔ جب  سب مردہ انسان اٹھ کھڑے ہوں گے تو اعلان کر دیا جاۓ گا کہ یہ انصاف کا دن ہے اور ہر شخص کو اپنے کیے کا پھر پانا ہے۔

 

۶۱۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن ان لوگوں کو جو نیک عمل کرتے رہے ہیں بدلہ میں جنت ملے گی۔ وہاں ان کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپی کا سامان ہو گا۔

 

۶۲۔۔۔۔۔۔ یہ جنت کی شاہانہ اور عیش و نشاط کی سندگی کی ایک جھلک ہے۔ جنت میں تجرد کی نہیں بلکہ ازدواجی زندگی ہو گی جو سکون و راحت کی زندگی ہے۔ وہاں دھوپ کی تپش نہیں ہو گی بلکہ ٹھنڈک بخشنے والا سایہ دار ماحول ہو گا اور بیٹھنے کے لیے شاہانہ انداز کے نہایت آرام دہ تخت ہوں گے۔

 

۶۳۔۔۔۔۔۔ یعنی کھانے کے لیے اعلیٰ قسم کے میوے بھی ملیں گے اور جو کچھ وہ اپنے ذوق کے مطابق طلب کریں گے وہ بھی ان کو مل جاۓ گا۔

 

۶۴۔۔۔۔۔۔ رحمت والے رب کی طرف سے سلام ان کے اعزاز و اکرام کا باعث بھی ہو گا اور اطمینان کا بھی کہ یہ ضمانت ہے اس بات کی کہ وہ ہمیشہ سلامت رہیں گے۔

 

۶۵۔۔۔۔۔۔ دنیا میں تو مؤمن اور کافر نل ، خاندان مُلک اور قومیت وغیرہ کی بنا پر آپس میں خلط ملط ہو جاتے ہیں لیکن قیامت کے دن ان کے درمیان مکمل تفریق کر دی جاۓ گی۔ اس روز عقیدہ و عمل کی بنا پر انسانوں کی گروہ بندی ہو گی اس لیے کافروں سے کہا جاۓ گا کہ تمہارا اہل ایمان سے کوئی تعلق نہیں خواہ وہ تمہارے اپنے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ تمہیں ان سے بالکل الگ ہو کر اپنے آخری ٹھکانے پر (جہنم میں) پہنچنا ہے۔

 

۶۶۔۔۔۔۔۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور حضرت آدم کے ساتھ شیطان کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس میں ان کے لیے یہ سبق تھا کہ وہ شیطان کے اشاروں پر نہ چلیں ان کی فطرت بھی شر سے باز رہنے ہی کی تلقین کرتی تھی اور انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تاکید کی تھی شیطان کی پیروی نہ کریں وہ انسان کا کھلا دشمن ہے۔

 

"شیطان کی عبادت نہ کرو" میں عبادت سے مراد شیطان کی اطاعت ہے جس میں انسان اپنے نفس کی باگ ڈور اس کے حوالہ کر کے اس کے حکم پر چلنے لگتا ہے۔ بالفاظ دیگر انسان شیطان کی اطاعت کا قلاوہ اپنی گردن میں ڈالتا ہے اور اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت کی جگہ لے لیتی ہے۔ اس طرح انسان اللہ کا نہیں بلکہ شیطان کا غلام بن کر رہتا ہے اس لیے اس کی اطاعت کو اس کی عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حدیث میں زر پرست کو دینار و درہم کا بندہ کہا گیا ہے:

 

تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَا رِ وَ الدِّرْھِمْ۔ "دینار و درہم کا بندہ ہلاک ہو "۔

 

اور اس کی تشریح حدیث میں اس طرح کر دی گئی ہے کہ :

 

اِنْ اُعْطِیَ رَضِیَ وَاِنْ لَمْ یُعْطَ لَمْ یَرْضَ (بخاری کتاب الرقاق) " اگر اسے دیا گیا تو راضی اور نہ دیا گیا تو ناراض "۔

 

یعنی مال مل جانے پر اللہ سے خوش ہونا اور  نہ ملنے پر اس سے ناراض ہونا اللہ کی بندگی نہیں بلکہ درہم و دینار (مال) کی بندگی ہے۔ اس حدیث میں بھی درہم و دینار کا بندہ اس سے شدید قلبی تعلق کی بنا پر کہا گیا ہے۔ ایسا تعلق جو اللہ سے تعلق کی جگہ لے لے اور آدمی اسی کو ہو کر رہ جاۓ۔

 

پھر شیطان کی اطاعت کو اس کی عبادت سے اس بنا پر بھی تعبیر کیا گیا ہے کہ آدمی اسی کے حکم سے غیر اللہ کی عبادت (پرستش) کرتا ہے اس لیے یہ در حقیقت شیطان ہی کی عبادت ہے۔

 

علامہ آلوسی نے اس کی بڑی اچھی تشریح کی ہے۔ فرماتے ہیں :

 

"شیطان کی عبادت  سے مراد اس کی اطاعت ہے ان باتوں میں جن کی وہ ان کی طرف وسوسہ اندازی کرتا ہے اور ان کے لیے ان کو مزین کر کے پیش کرتا ہے۔ اس کو عبادت سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے تاکہ اس سے دوری اور تنفر بڑھے نیز اس لیے بھی کہ وہ اللہ کی عبادت کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔ اور اس سے مراد غیر اللہ کی عبادت بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی نسبت شیطان کی طرف اس لیے کر دی گئی ہے کہ وہ اس کا حکم دیتا ہے اور اس کو نظروں میں کھبا دیتا ہے لہٰذا یہ تعبیر اسی مناسبت سے ہے "۔

 

 (روح المعانی جزء ۱۳ ص ۴۰)

 

واضح رہے کہ اطاعت کو عبادت سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے عبادت اور اطاعت بالکل ہم معنی الفاظ ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ایسا سمجھنا عبادت الٰہی کی وقعت کر گھٹانا اور دین میں اس کا جو مقام ہے اس سے فرو تر مقام اس کے لیے تجویز کرنا ہے۔ عبادت اور اطاعت میں جو فرق ہے اس کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں :

 

۱) عبادت فطرت انسانی کا ایک خاص داعیہ ہے جو عقیدت و محبت کے جذبات اور خشوع اور خضوع کی کیفیات کا مظہر ہے جن کہ اطاعت کا تعلق ارادہ و عمل سے ہے۔

 

۲) عقیدہ و ایمان کا اولین مظہر عبادت یعنی پرستش ہے اور اس کے بعد اطاعت یعنی احکام کی بجا آوری۔

 

۳) عبادت میں دل کی مخصوص کیفیت مطلوب ہوتی ہے جب کہ اطاعت کے لیے نیت کا درست ہونا کافی ہوتا ہے۔

 

۴) عبادت کے مفہوم میں گو طاعت شامل ہے کیونکہ عبادت بھی حکم کی تعمیل میں ہی کی جاتی ہے اس کے باوجود عبادت کا ایک دائرہ ہے اور اطاعت کا ایک دائرہ۔ فقہاء نے بھی عبادت اور معاملات کے الگ الگ دائرے متعین کیے ہیں۔

 

۵) عبادت اللہ کے لیے خاص ہے اور اس میں خشوع اور خضوع، دل کا تقویٰ ، اپنے بندہ ہونے کا احساس ، انابت اور ذکر الٰہی جیسی چیزیں اصلاً مقصود ہوتی ہیں جب کہ اطاعت کے لیے جو احکام دۓ گۓ ہیں ان کے ذریعہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی ، معاشرہ کی اصلاح اور عدل اجتماعی کا قیام جیسی چیزیں مطلوب ہوتی ہیں۔

 

۶) عبادت اللہ کے سوا کسی کی نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ اطاعت روسل کی بھی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور مسلمان  اصحاب امر کی بھی۔ اس سے عبادت اور اطاعت کا فرق بالکل واضح ہے۔

 

۷) عبادت کے طور طریقوں میں عقل اور اجتہاد کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ جو طور طریقے وحی الٰہی نے متعین کیے ہیں ان کی جوں کی توں تعمیل کی جاتی ہے لیکن اطاعت کے سلسلہ میں جو احکام دیۓ گۓ ہیں ان کی علت اور مصالح کی طرف خود وحی الٰہی نے اشارے کر دیے ہیں اس لیے نۓ حالات میں ان کا انطباق (Application) اور نۓ مسائل کے پیش آ جانے پر ان مصالح کو ملحوظ رکھتے ہوۓ اجتہاد کیا جاتا ہے۔

 

۹) ایک مومن جہالت سے وقتی طور پر شیطان کے فریب کا شکار ہو کر معصیت کا مرتکب ہو سکتا ہے لیکن اس کے اس عمل کو شیطان کی عبادت سے تعبیر نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ شیطان کی مستقل اطاعت کو اس کی عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

۱۰) اللہ کی اطاعت کا تعلق اس بات سے ہے کہ اس نے کیا احکام دیۓ ہیں لیکن عبادت تو انسان کا وہ جذبہ دروں ہے جو اس کے رب کے لیے فطری طور پر امنڈ پڑتا ہے۔

 

۶۷۔۔۔۔۔۔ خداۓ واحد کی عبادت کو صراط مستقیم (سیدھی راہ) سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہی راہ اللہ تک پہنچتی ہے اور یہی کامیابی کی منزل ہے۔ اسی راہ کا نام اسلام ہے۔

 

۶۸۔۔۔۔۔۔ یعنی اس تاکید کے باوجود انسانوں کی کثیر تعداد شیطان کے پیچھے چل پڑی اور اس کے اشارہ پر غیر اللہ کو معبود بنا بیٹھی۔ اس طرح ان پر ہدایت کی راہ گم ہو گئی اور وہ گمراہی میں پڑ گۓ۔

 

۶۹۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے عقل اس لیے نہیں دی تھی کہ اس کو بے کار اور معطل کر کے رکھا جاۓ اور خدا اور مذہب کے معاملہ میں اس کو استعمال نہ کیا جاۓ بلکہ اس لیے دی تھی کہ وہ خدا اور مذہب کے بارے میں پیدا ہونے والے اہم ترین اور بنیادی سوالات کا صحیح جواب معلوم کرنے کے لیے اس کو استعمال کرے۔ اگر انسان اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرے اور اللہ کی بخشی ہوئی عقل سے کام لے تو اس کو ان سوالات کا یہی جواب ملے گا کہ اس کائنات کا صرف ایک خدا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل کر اپنے آبائی مذہب سے وابستہ رہتے ہیں خواہ انہیں ہزاروں خدا کیوں نہ تسلیم کرنا پڑیں اور خواہ انہیں اینٹ پتھر کی پوجا کیوں نہ کرنا پڑے۔ ان باتوں کی نا معقولیت بالکل واضح ہے لیکن جب انہوں نےاس معاملہ میں عقل کی روشنی میں چلنے سے انکار کیا تو ان کے مصنوعی خدا بھی ان کو حقیقی معلوم ہونے لگے۔

 

قرآن تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ خدا اور مذہب کے معاملہ میں حق کیا ہے اس کو معلوم کرنے کے لیے وہ اپنی عقل کی روشنی میں غور کریں اور انبیائی ہدایت سے مدد لیں۔

 

واضح رہے کہ الحاد (خدا کا انکار) بھی عقل کا تقاضا نہیں ہے بلکہ وہ بھی ویسی ہی نا معقول بات ہے جیسے متعدد خداؤں کو تسلیم کرنا۔

 

۷۰۔۔۔۔۔۔ قیامت کے دن کافروں کو مختلف مراحل سے گزرنا ہو گا۔ ایک مرحلہ وہ آۓ گا  کہ ان کی زبانیں ان کی منشاء کے مطابق بات نہ کر سکیں گی اور ان کے اعضاء ہاتھ پاؤں وغیرہ ناطق ہو کر گواہی دیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے ہیں۔

 

۷۱۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اگر مثال کے طور پر وہ ان کی آنکھیں ہی مٹا دے تو ان کا کیا حال ہو گا۔ کیا وہ اس قابل رہ سکیں گے  کہ راستہ کی طرف بڑھیں۔ جب آنکھیں ہی نہیں رہیں گی تو انہیں دکھائی کہاں سے دے گا؟ آنکھیں مٹا دینے کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی حادثہ سے اللہ تعالیٰ دو چار کر دے اور آنکھیں پھوٹ جائیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بینائی کو زائل کرنے والا عذاب آ پکڑ لے جس طرح حضرت لوط کے گھر پر حملہ کرنے والوں کی آنکھیں مٹا دی گئیں تھیں۔ اگر انسان اس بات پر غور کرے کہ اس کا خالق و مالک اگر چاہے تو اس کی صلاحیتیں اور قوتیں کسی وقت بھی سلب کر سکتا ہے تو اس کے ڈر سے کانپ اٹھے۔ اور جب اس کے ڈر سے ہو کانپ اٹھے گا تو پھر اپنے کو اس راہ پر ڈال دے گا جو تقویٰ کی راہ ہے۔

 

۷۲۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے عذاب کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کافروں کی صورتیں وہ عین اس وقت مسخ کر دے جب کہ یہ راہ چل رہے ہوں اور نہ صرف صورتیں مسخ کر دے بلکہ ان کو پوری طرح مسخ کر کے رکھ دے کہ پھر نہ وہ آگے قدم بڑھا سکیں گے اور  نہ گھر لوٹ سکیں گے بلکہ راستہ ہی میں جہاں تھے وہیں ڈھیر ہو کر رہ جائیں گے۔ اس کی صورت آسمانی عذاب کی بھی ہو سکتی ہے اور حادثات کی بھی جن میں لاشیں اس طرح نکلتی ہیں کہ ہاتھ پیر غائب ہوتے ہیں اور صورتیں بالکل مسخ۔ موجودہ زمانہ میں تو موٹر ، ٹرین اور ہوائی جہاز کے المناک حادثات نہ کثرت ہو رہے ہیں اور عبرت پذیری کا برابر سامان کر رہے ہیں مگر ہے کوئی جو ان حادثات کو دیکھ کر اللہ سے ڈرے !

 

۷۳۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ نحل نوٹ ۱۰۴۔

 

یہاں واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ جو خدا انسان کی صلاحیتیں  بڑھاپے میں بتدریج کم کر دیتا ہے وہ اگر چاہے تو کسی وقت بھی ان صلاحیتوں کو پوری طرح سلب کر سکتا ہے۔ اگر اس پہلو سے انسان اپنی صلاحیتوں پر غور کرے تو کبھی گھمنڈ میں مبتلا نہ ہو  اور خدا کے آگے جھک جاۓ۔

 

۷۴۔۔۔۔۔۔ یہ کافروں کے اس الزام کی تردید ہے کہ یہ شخص نبی نہیں بلکہ شاعر ہے اور قرآن اشعار کا مجموعہ ہے۔ فرمایا شعر کہنا ہم نے اپنے نبی کو نہیں سکھایا اور  نہ شاعری نبی کی شایان شان ہے۔ یہ کلام سر تا سر یاد دہانی اور واضح طور سے پڑھی جانے والی کتاب (قرآن) ہے۔

 

شاعری میں قافیہ بندی اور کلام کو موزوں بنانا ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا شاعر قافیہ ملانے اور کلام کو موزوں بنانے کے لیے خیالی اور دو راز کار باتیں کرنے لگتا ہے۔ کوئی مربوط بات پیش کرنے کے بجاۓ وہ منتشر باتیں اشعار کی صورت میں ڈھال دیتا ہے۔ گویا شاعری کی خصوصیت ہی خیال آرائی ہے اس لیے یہ منصب نبوت سے بہت فرو تر چیز ہے۔ نبی جو بات بھی کہتا ہے ٹھوس ، اٹل اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور جو قرآن آپ پر نازل ہوا اس کو شاعری سے کوئی مناسبت نہیں ہے ہر وہ شخص جو اس کا مطالعہ کرے یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اس میں خیال آرائی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اور نہ اس میں قافیہ بندی کے لیے تک بندی کی گئی ہے۔ بلکہ یہ کتاب انسان کے بھولے ہوۓ سبق کی یاد دہانی ، سرتا سر نصیحت اور ایسا واضح کلام ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے اور اس سے ہدایت و رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔

 

۷۵۔۔۔۔۔۔ یعنی جن کے دل مردہ نہیں ہوۓ ہیں بلکہ زندہ ہیں وہ پیغمبر کی اس تنبیہ کا اثر قبول کریں گے جو قرآن کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ رہے وہ لوگ جن کو دل بالکل مردہ ہو چکے ہیں تو وہ کوئی اثر قبول کرنے سے رہے البتہ ان پر اللہ کی حجت ضرور قائم ہو جاۓ گی اور وہ قیامت کے دن یہ عذر نہ کرسیں گے کہ ان کو اس انجام کی خبر نہیں تھی۔

 

۷۶۔۔۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چو پاۓ جو ان کی ملکیت میں آ جاتے ہیں اور جن سے وہ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں اللہ ہی کے ہاتھوں کی کاری گری ہے۔ کسی اور کے ہاتھوں کی نہیں۔

 

آیت کا مفہوم بالکل واضح ہے اور اس بحث میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اللہ کے ہاتھوں کی حقیقت کیا ہے۔ ہمارے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ اس کے جیسی کوئی چیز نہیں۔ اس لیے مخلوق کے ہاتھوں پر خالق کے ہاتھوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔

 

۷۷۔۔۔۔۔۔ چمڑا اون وغیرہ نیز بیلوں سے زمین جوتنے کا کام۔

 

۷۸۔۔۔۔۔۔ یعنی گاۓ، بکری اور اونٹ کے مختلف قسم کے دودھ۔

 

۷۹۔۔۔۔۔۔ یہ نعمتیں جب اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں تو اس پر اس کا شکر واجب ہے اور یہ شکر اسی صورت میں ادا ہو سکتا ہے جب کہ اس کو واحد الٰہ اور رب مان کر اس کی عبادت و اطاعت کی جاۓ۔

 

۸۰۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کے یہ معبود ان کی مدد کیا کریں گے الٹ یہ اپنے معبودوں کے لشکر کی حیثیت سے گرفتار کر کے اللہ کے حجور حاضر کر دیۓ جائیں گے۔ یہ دنیا میں اپنے معبودوں کی جے پکارتے رہے ، ان کے بت بنا کر اور ان کے لیے مندر تعمیر کر کے خداۓ واحد کے پر ستاروں سے الجھتے اور کشمکش کرتے رہے یہاں تک کہ ان معبودوں کی حمایت میں ان سے جنگیں بھی کیں اس طرح دنیا میں یہ معبودوں کی فوج بن کر رہے لہٰذا قیامت کے دن ان کو ان کے معبودوں کے لشکر کی حیثیت سے گرفتار کر کے اللہ کے رو برو حاضر کر دیا جاۓ گا۔

 

۸۱۔۔۔۔۔۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے تسلی کے کلمات ہیں کہ اتنی واضح اور معقول باتوں کو بھی سمجنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو تم ان کا کیوں غم کرو۔ وہ اپنے انجام کو پہنچ کر ہیں گے۔

 

۸۲۔۔۔۔۔۔ یعنی انسان بنا تو ہے ایک حقیر پانی کی بوند سے لیکن اپنی بڑائی کا گھمنڈ اس کے سر میں ایسا سما گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی بات بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور اس کا مخالف بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اپنی بے مائیگی پر غور کرتا تو اس کے اندر اپنے رب کی بندگی اور عجز و نیاز کا احساس ابھرتا مگر وہ اپنی حقیقت کو بھلا کر خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتا ہے جو خلاف حق ہیں اور ان کو زبان پر لانا اس کو زیب نہیں دیتا۔

 

۸۳۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کو مخلوق پر قیاس کر کے اس کی نسبت ایسی باتیں کہنے لگتا ہے جس سے اس کی ذات و صفات میں عیب اور نقص لازم آتا ہے حالانکہ وہ ہر قسم کے عیب و نقص ے بالکل پاک ہے۔

 

۸۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے بارے میں یہ خیال کرنا ہے کہ وہ انسان کو اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہ اس کو اللہ نے پانی کی ایک بوند سے جیتا جاگتا انسان بنا کر کھڑا کیا ہے جس ہستی کی یہ کار فرمائی ہو اس کی قدرت محدود کس طرح ہو سکتی ہے ؟

 

۸۵۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ اپنی ہر مخلوق کو تمام جزئی تفصیلات کے ساتھ  جانتا ہے۔ اس کو ہر ایک کے اجزاۓ ترکیبی کا بھی علم ہے اور دیگر تمام خصوصیات کا بھی۔ پھر اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ ؟

 

۸۶۔۔۔۔۔۔ قدیم زمانہ میں جب کہ ماجس اور لائٹر ایجاد نہیں ہوۓ تھے آگ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ بعض درختوں کی ٹہنیاں تھیں جن کو ایک دوسرے پر رگڑنے سے آگ پیدا ہو جاتی تھی۔ عرب میں اس زمانہ میں اس قسم کے دو درخت پاۓ جاتے تھے جن کے نام مَرْخ اور عَفار تھے ایک نر تھا اور دوسرا مادہ چنانچہ عربی کی مشہور لغت لسان العرب میں ان کے بارے میں یہ صراحت ہے کہ :

 

"یہ مَرْخ اور عَفار ہیں اور ان دونوں درختوں میں آگ ہوتی ہے۔ دوسرے درختوں میں نہیں۔ اور ان کی ٹہنیوں سے چقماق بناۓ جاتے ہیں اور ان سے آگ نکالی جاتی ہے۔ ازہری کہتے ہیں میں نے یہ درخت صحرا میں دیکھا ہے۔ "

 

 (لسان العرب ، ج ۴ ص ۵۸۹)

 

ہرے بھرے درخت سے آگ کی چنگاری پیدا کر دینا اللہ کی قدرت کا بہت بڑا کرشمہ ہے۔ اور یہ بھی اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ آگ میں جو لکڑی جلائی جاتی ہے وہ بھی ہرے بھرے درختو سے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ پانی بھی آکسیجن اور ہائیڈروجن سے مرکب ہوتا ہے اور آکسیجن آگ پکڑنے والی گیس ہے۔ سائنس کے ان اکتشافات نے اللہ کی قدرت کے کرشموں کے کئی اور نمونے  ہمارے سامنے پیش کر دیے ہیں۔

 

۸۷۔۔۔۔۔۔ یعنی جس گوشت پوست کے انسان اس زمین پر پیدا ہوۓ اسی گوشت پوست کے انسان دوبارہ پیدا کر دے۔

 

۸۸۔۔۔۔۔۔ یعنی انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو پیدا کر کے وہ تھک نہیں گیا ہے بلکہ وہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کی قدرت میں کبھی کوئی کمی ہونے والی نہیں اور وہ نہایت علم والا ہے اس سے کبھی بھول ہونے والی نہیں۔

 

۸۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کو کسی چیز کی تخلیق کے لیے کوئی محنت نہیں کرنا پڑتی بلکہ جب وہ اس کا ارادہ کر لیتا ہے تو جو چیز اس کے ارادہ میں ہوتی ہے اس کے لیے وہ ہو جا کہہ دیتا ہے اور اسی وقت وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے۔

 

اللہ کی تخلیقی قدرت کے بارے میں  یہ بالکل صحیح علم ہے جو قرآن کے ذریعہ انسان کو بخشا گیا ہے۔ اس کے بعد ان فلسفیانہ بحثوں کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی جن میں اہل مذاہب الجھ کر رہ گۓ ہیں۔

 

۹۰۔۔۔۔۔۔ یہ اس سورہ کی اختتامی آیت ہے جس میں چند لفظوں میں تین اہم باتیں بیان ہوئی ہیں اور اس طرح بیان ہوئی ہیں کہ دل میں اتر جاتی ہیں ایک یہ کہ اللہ کی ذات ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے۔ دوسری یہ کہ ہر چیز اسی کے زیر اقتدار ہے اور سب پر اسی کی حکومت چھائی ہوئی ہے۔ اس کائنات میں سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور تیسری بات یہ کہ بالآخر جب لوگوں کو پلٹ کر اسی کے حضور جانا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال کی جواب دہی کریں اور اپنے اعمال کے مطابق اچھا یا برا بدلہ پائیں۔ اس طرح توحید اور آخرت دونوں کے مضامین اس آیت میں سمٹ کر آ گۓ ہیں اور ان کے اندر سے رسالت کا تقاضا خود بخود ابھر رہا ہے۔ قرآن کے ایجاز اور معجزانہ کلام کی یہ ایک واضح مثال ہے۔

 

***