دعوۃ القرآن

سورة مؤمن / غَافر

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

آیت ۲ میں ایک مردِ مومن کا قصہ بیان ہوا ہے جس نے فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام کی کھل کر حمایت کی تھی۔ اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام " المومن" ہے۔

 


زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورۂ زر کے متصلاً بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

اس سورہ میں ان لوگوں پر گرفت کی گئی ہے جنہوں نے توحید کے خلاف بحثیں کھڑی کر دی تھیں اور جو رسول کی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے تھے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۲ تمہیدی آیات ہیں جن میں اس کتاب کے نازل کرنے والے کی معرفت بخشی گئی ہے۔

 

آیت ۴ تا ۶ میں اللہ کی آیتوں میں بحثیں کھڑی کرنے والوں کو برے انجام سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

 

آیت ۷ تا ۹ میں اہل ایمان کو یہ روح پرور خوشخبری سنائی گئی ہے کہ ان کی مغفرت کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں۔

 

آیت ۱۰ ۲۲ میں کافروں اور مشرکوں کو تنبیہ اور نصیحت ہے۔ آیت ۲۲ تا ۴۶ میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے مقابلہ میں فرعون نے جو کٹ حجتی کی تھی اس کو بیان کیا گیا ہے اور اسی ضمن میں اس مردِ مومن کی دعوتِ ایمانی کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ جو اس نے فرعون کے بھرے دربار میں پوری جرأت کے ساتھ پیش کی تھی اور پھر آلِ فرعون کا انجام بھی بیان کیا گیا ہے۔

 

آیت ۴۷ تا ۵۵ میں ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جو آنکھیں بند کر کے بڑے بننے والوں کے پیچھے چلتے ہیں ساتھ ہی اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ ان لوگوں کی مخالفتوں کا کوئی اثر قبول نہ کریں بلکہ اپنے موقف پر جمے رہیں۔

 

آیت ۵۶ تا ۵۸  میں اللہ کے دین کے معاملہ میں بحث و جدال کرنے والوں کے سامنے بطریق احسن توحید کی حجت پیش کی گئی ہے اور ساتھ ہی کفر و شرک کے برے انجام سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔ حا۔ میم ۱*

 

۲۔۔۔۔۔۔ اس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور علم والا ہے۔ ۲*

 

۳۔۔۔۔۔۔ گناہ بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑے فضل والا ہے ۳*۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔ اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ بحثیں کھڑی کرتے ہیں جو کافر ہیں۔۴* بڑے بڑے شہروں میں ان کی آمد و رفت تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔ ۵*

 

۵۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے نوح ۶*کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے اور ان کے بعد دوسری قومیں بھی۔ ہر قوم نے اپنے رسول کو اپنی گرفت میں لینا چاہا۔ ۷* باطل کا سہارا لے کر وہ بحثیں کرتے رہے تاکہ اس کے ذریعہ حق کو شکست دیں۔ مگر میں نے ان کو پکڑ لیا۔ تو دیکھو کیسا رہا میرا عذاب !

 

۶۔۔۔۔۔۔ اسی طرح تمہارے رب کا فرمان ان لوگوں پر لاگو ہو گیا ہے جنہوں نے کفر کیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ ۸*

 

۷۔۔۔۔۔۔(وہ فرشتے ) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں *۹ اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں !۰* اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ۱۱* اور جو ایمان لائے ہیں ان کے لیے وہ مغفرت کی دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو ان لوگوں کو معاف کر دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انہیں عذاب جہنم سے بچا۔ ۱۲*

 

۸۔۔۔۔۔۔اے ہمارے رب! ان کو ہمیشگی کی جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے والدین ، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے صالح ہوں۔ ۱۳* بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔ ۱۴*

 

۹۔۔۔۔۔۔ اور انہیں برے نتائج سے بچا۔اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا ان پر تو نے یقیناً رحم فرمایا۔ ۱۵* یہی بڑی کامیابی ہے۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو پکار کر کہا جائے گا تم اپنے سے جس قدر بیزار ہو اس سے کہیں زیادہ بیزار تم سے اللہ تھا جب کہ تم کو ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔۱۶*

 

۱۱۔۔۔۔۔۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندگی دی۔ ۱۷* اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟

 

۱۲۔۔۔۔۔۔ تم اس انجام کو اس لیے پہنچے کہ جب اللہ وحدہٗ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور جب اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے تھے۔ ۱۸* اب حکم(فیصلہ) اللہ بلند و برتر ہی کا ہے۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔ وہی ہے ۱۹* جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے۔ مگر یاد دہانی وہی حاصل کرتا ہے جو(اللہ کی طرف)۔ رجوع کرنے والا ہو۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔ تو اللہ ہی کو پکارو دین(بندگی) کو اس کے لیے خالص کر کے۔ ۲۰* خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ۲۱*

 

۱۵۔۔۔۔۔۔ وہ بلند درجوں والا ۲۲* ،مالکِ عرش ہے۔ ۲۳* اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح(وحی) نازل کرتا ہے ۲۴* تاکہ وہ پیشی کے دن سے خبردار کرے۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔ و دن کہ لوگ نکل پڑیں گے۔۲۵* ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہیں ہو گی۔ آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی۔ ۲۶*

 

۱۷۔۔۔۔۔۔ آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جاۓ گا۔ آج کوئی ظلم نہ ہو گا۔ بیشک اللہ حساب چکانے میں تیز ہے۔ ۲۷*

 

۱۸۔۔۔۔۔۔ اور ڈراؤ ان کو اس دن سے جو قریب آ لگا ہے۔۲۸* جب کلیجے منہ کو آ لگیں گے اور وہ غم سے گھٹ رہے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ سفارشی جس کی بات مانی جائے۔ ۲۹*

 

۱۹۔۔۔۔۔۔ وہ نگاہوں کی خیانت بھی جانتا ہے۔۳۰* اور وہ باتیں بھی جو سینوں نے چھپا رکھی ہیں۔۳۱* کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں۔ ۳۲* بلا شبہ اللہ ہی سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ ۳۳*

 

۲۱۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ قوت میں بھی ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور زمین پر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے بھی ۳۴*۔ مگر اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور کوئی نہ تھا جو ان کو اللہ(کی پکڑ) سے بچاتا۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تھے مگر انہوں نے انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سخت سزا دینے والا ہے ۳۵*

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح حجت کے ساتھ بھیجا ۳۶*

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ فرعون، ہامان *۳۷ اور قارون۳۸* کی طرف تو انہوں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ ہمارے پاس سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا قتل کرو ان لوگوں کے بیٹوں کا جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو۔ ۳۹* مگر ان کافروں کی چال اکارت گئی۔ ۴۰*

 

۲۶۔۔۔۔۔۔ اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو پکارے۔۴۱* مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے۔ ۴۲* یا زمین میں فساد نہ برپا کرے۔ ۴۳*

 

۲۷۔۔۔۔۔۔ موسیٰ نے کہا میں نے ہر متکبر(کے شر) سے جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی۔ ۴۴*

 

۲۸۔۔۔۔۔۔ اور ایک مرد مومن جو آلِ فرعون میں سے تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے  ہوئے تھا۔۴۵* بول اٹھا کیا تم ایک شخص کو اس بنا پر قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہوا تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور اگر وہ سچا ہوا تو جس عذاب سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہے وہ کسی نہ کسی حد تک ضرور تم کو پہنچ کر رہے گا۔۴۶* اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا اور جھوٹا ہو۔ ۴۷*

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں حکومت حاصل ہے اور تم اس سرزمین میں غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر ا گیا تو کون ہے جو ہماری مدد کرے گا؟ ۴۸* فرعون نے کہا میں تم کو وہی بات بتاتا ہوں جو میری رائے میں درست ہے اور تمہاری رہنمائی اسی راہ کی طرف کرتا ہوں جو بالکل صحیح ہے۔ ۴۹*

 

۲۰۔۔۔۔۔۔ اور اس شخص نے جو ایمان لایا تھا کہا *۵۰ اے میری قوم کے لوگو! مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر کہیں وہ دن نہ آ جائے جو(گزری ہوئی قوموں) پر آیا تھا۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔ ایسا انجام جو قومِ نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد والی قوموں کا ہوا ۵۱* اور اللہ اپنے بندوں پر کوئی ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ اے میری قوم کے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں پکا ر کے دن ۵۲* کا ڈر ہے۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تم کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا۔۵۳* اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہو سکتا۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے یوسف واضح نشانیوں کے ساتھ آئے تھے لیکن تم ان کی لائی ہوئی تعلیمات کے بارے میں شک ہی میں رہے یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم کہنے لگے اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہیں بھیجے گا۔ ۵۴* اس طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا اور شک میں پڑنے والے ہوتے ہیں۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو۔۵۵* یہ بات اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔۵۶* اسی طرح اللہ ہر متکبر و جبار کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ ۵۷*

 

۲۶۔۔۔۔۔۔ فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا تا کہ میں ان راہوں پر پہنچ جاؤں۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔ جو آسمانوں کی راہیں ہیں۔ اور موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں ۵۸* میں تو سمجھتا ہوں یہ بالکل جھوٹا ہے۔ اس طرح فرعون کی نگاہ میں اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا اور اسے راہِ راست سے روک دیا گیا۔*۵۹ اور فرعون کی چال تباہی میں پڑ گئی۔ ۶۰*

 

۲۸۔۔۔۔۔۔ اور اس شخص نے جو ایمان لایا تھا کہا اے میری قوم کے لوگو !۶۱* میری بات مانو میں تمہیں ہدایت کی راہ بتا رہا ہوں۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ اے میری قوم کے لوگو یہ دنیا کی زندگی تو بس تھوڑے فائدے کا سامان ہے اور آخرت ہی مستقل گھر ہے۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔ جو برائی کرے گا وہ اسی کے بقدر بدلہ پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں وہ بے حساب رزق پائیں گے۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔ اے میری قوم کے لوگو! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو۔ ۶۲*

 

۴۲۔۔۔۔۔۔ تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے شریک ٹھہراؤں جن کو میں نہیں جانتا(کہ وہ اللہ کے شریک ہیں) ۶۳* اور میں تمہیں اس ہستی کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو سب پر غالب اور مغفرت فرمانے والی ہے ۶۴*

 

۴۲۔۔۔۔۔۔یہ اٹل حقیقت ہے کہ جن(معبودوں۔۔۔۔۔۔ کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو وہ نہ دنیا میں اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں پکارا جائے اور نہ آخرت میں۔ ۶۵* ہم سب کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہے اور جو حد سے گزرنے والے ہیں ۶۶* وہ جہنم میں جانے والے ہیں۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔ تو عنقریب تم یاد کرو گے ان باتوں کو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔ *۶۷ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ ۶۸* وہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔ تو اللہ نے اس کو ان کی بری چالوں سے بچا لیا ۶۹* اور فرعون والوں کو برے عذاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ۷۰*

 

۴۶۔۔۔۔۔۔ وہ آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گئی حکم ہو گا کہ فرعون والوں کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔۷۱*

 

۴۷۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے تو جو لوگ کمزور تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے ہم تمہارے تابع تھے تو کیا تم جہنم کے عذاب کا ایک حصہ ہم سے دور کرو گے ؟

 

۴۸۔۔۔۔۔۔ جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے ہم سب ہی اس میں ہیں اور اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے۔۷۲*

 

۴۹۔۔۔۔۔۔ اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کی نگرانی کرنے والوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں ایک دن کی تخفیف کر دے۔

 

۵۰۔۔۔۔۔۔ وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول واضح دلیلیں لیکر نہیں آتے رہے ؟ وہ جواب دیں گے۔ ضرور آتے رہے۔ وہ کہیں گے تو اب تم ہی دعا کرو۔۷۳* اور کافروں کی دعا بالکل اکارت جائے گی۔ ۷۴*

 

۵۱۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں ۷۵* اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ *۷۶

 

۵۲۔۔۔۔۔۔ جس دن ظالموں کے لیے ان کی معذرت بے سود ہو گی، ۷۷* ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا ٹھکانا ہو گا۔

 

۵۲۔۔۔۔۔۔ ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔ ۷۸*

 

۵۴۔۔۔۔۔۔ جو رہنمائی اور یاد دہانی تھی دانشمندوں کے لیے۔

 

۵۵۔۔۔۔۔۔ تو صبر کرو۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور اپنے قصوروں کے لیے استغفار کرو *۷۹(معافی چاہو) اور صبح و شام تسبیح کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ۔

 

۵۶۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اللہ کی آیتوں میں کسی سند کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو بحثیں کھڑی کرتے ہیں ان کے دلوں میں کِبرْ بھرا ہوا ہے مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں۔۸۰* تو تم اللہ کی پناہ مانگو۔ ۸۱* یقیناً وہ سب کچھ دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔

 

۵۷۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ۸۲*

 

۵۸۔۔۔۔۔۔ اندھا اور بینا یکساں نہیں ہو سکتے۔ ۸۳* اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا بد عمل لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں۔ مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو۔

 

۵۹۔۔۔۔۔۔ قیامت کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

 

۶۰۔۔۔۔۔۔ تمہارا رب فرماتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت *۸۴ سے سرکشی کرتے ہیں وہ ضرور ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

 

۶۱۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو۔ اور دن کو روشن بنایا۔*۸۵ اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

 

۶۲۔۔۔۔۔۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ ۸۶* ہر چیز کا خالق۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پھر تم کدھر بہکائے جاتے ہو۔ ۸۷*

 

۶۲۔۔۔۔۔۔اسی طرح وہ لوگ بھی بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ ۸۸*

 

۶۴۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے قرار ۸۹* اور آسمانوں کو چھت بنایا۔۹۰* اور تمہاری صورت گری کی تو اچھی صورتیں بنائیں ۹۱* اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔۹۲* وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ تو بڑا بابرکت ہے اللہ رب العالمین۔

 

۶۵۔۔۔۔۔۔ وہی زندہ ہے۔۹۳* اس کے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا اسی کو پکارو بندگی کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ حمد اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔

 

۶۶۔۔۔۔۔۔ کہو مجھے اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلائل آ چکے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے کو رب العالمین کے حوالہ کر دوں۔ ۹۴*

 

۶۷۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، ۹۵* پھر نطفہ سے ۹۶*، پھر جمے ہوئے خون سے ۹۷*، پھر وہ تمہیں بچہ کی شکل میں باہر لاتا ہے ۹۸*، پھر وہ تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ تم اپنے شباب کو پہنچو، پھر تمہیں عمر دیتا ہے کہ تم بڑھاپے کو پہنچو ۹۹* اور تم میں سے بعض کو اس سے پہلے ہی وفات دی جاتی ہے ۱۰۰* اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ تم وقتِ مقرر کو پہنچ جاؤ۔۱۰۱* اور اس لیے کہ تم سمجھو۔۱۰۲*

 

۶۸۔۔۔۔۔۔ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس حکم دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔

 

۶۹۔۔۔۔۔۔ تم نے ان لوگوں کو دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ ۱۰۳* انہیں کہاں پھیرا جا رہا ہے ؟ ۱۰۴*

 

۷۰۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور ان چیزوں کو بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں۔ ۱۰۵* عنقریب وہ جان لیں گے۔ ۱۰۶*

 

۷۱۔۔۔۔۔۔ جب ۱۰۷* طوق اُن کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں بھی۔(جن سے) ان کو گھسیٹا جائے گا۔

 

۷۲۔۔۔۔۔۔ کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دئے جائیں گے۔

 

۷۳۔۔۔۔۔۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم شریک ٹھہراتے تھے۔

 

۷۴۔۔۔۔۔۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ وہ کہیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو بھی نہیں پکارتے تھے۔ ۱۰۸* اس طرح اللہ کافروں پر راہ گم کر دے گا۔ ۱۰۹*

 

۷۵۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے اور اکڑتے رہے۔ ۱۱۰*

 

۷۶۔۔۔۔۔۔ داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا!

 

۷۷۔۔۔۔۔۔ تو(اے نبی) صبر کرو۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ۱۱۱* یا تو ہم تمہیں اس(عذاب) کا کچھ حصہ جس کا وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں دکھا دیں یا تمہیں وفات دیں ان کی واپسی تو ہماری ہی طرف ہے۔ ۱۱۲*

 

۷۸۔۔۔۔۔۔(اے نبی) ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے تھے جن میں سے بعض کے حالات ہم تمہیں سناچکے ہیں اور بعض کے حالات نہیں سنائے۔ ۱۱۳* کسی رسول کے بھی بس کی یہ بات نہ تھی کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی(معجزہ) لے آتا۔ ۱۱۴* جب اللہ کا حکم *۱۱۵ آ جائے گا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس وقت باطل پرست تباہی میں پڑیں گے۔

 

۷۹۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کئے کہ تم بعض کو سواری کے کام میں لاؤ اور بعض تمہاری غذا کے کام آتے ہیں۔

 

۸۰۔۔۔۔۔۔ ان میں تمہارے لیے دوسرے فائدے بھی ہیں ۱۱۶* اور(پیدا اس لیے کئے گئے ہیں) تاکہ تم ان کے ذریعہ اس غرض کو پورا کرو جو تمہارے دل میں ہو۔ ۱۱۷* تمہیں ان پر اور کشتیوں پر اٹھایا جاتا ہے۔ ۱۱۸*

 

۸۱۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے۔ تو تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے۔ ۱۱۹*

 

۸۲۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ ۱۲۰* وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے اور قوت میں اور زمین پر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے بڑھ کر تھے مگر ان کی یہ کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔

 

۸۳۔۔۔۔۔۔ جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا ۱۲۱* اور اس عذاب نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

 

۸۴۔۔۔۔۔۔ جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو بول اٹھے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور ان کا انکار کرتے ہیں جن کو ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے۔ ۱۲۲*

 

۸۵۔۔۔۔۔۔ مگر ان کا ایمان لانا ان کے لیے کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتا تھا جب کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا۔ ۱۲۳* یہی اللہ کی سنت(قاعدہ) ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہی ہے۔ اور اس وقت کا فر تباہ ہو کر رہے۔

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔ "ح" اور "م" الگ الگ حروف ہیں۔ ایسے حروف کو حروفِ مقطعات کہتے ہیں جن کی تشریح سورۂ بقرہ ۱ اور سورۂ یونس نوٹ ۱ میں گزر چکی۔

 

"ح" اور "م" کا اشارہ اللہ کے حکیم(حکمت والا) ہونے کی طرف ہے جس کا حوالہ فرشتوں نے اپنی دعاؤں میں دیا ہے اور جس کا ذکر اس سورہ کی آیت ۷ میں ہوا ہے۔ لفظ حکیم کا پہلا حروف "ح" ہے اور آخری حروف "م" گویا یہ حروف اللہ کی معرفت کا نشان ہیں اور اس کی صفتِ حکمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

 

اس سورہ کے بعد کی چھ متصل سورتوں کا آغاز بھی ان ہی حروف(حم) سے ہوا ہے اور ان سب سورتوں میں اس کی صفتِ حکمت یا اس کے حکیمانہ فیصلوں کا ذکر ہوا ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔ جب یہ کتاب اس ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو سب کچھ جاننے والی ہے اور جس کے علم کی کوئی انتہا نہیں تو اس کتاب میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا حق اور مطابقِ واقعہ ہونا لازمی اور یقینی بات ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔ ان صفات کے ذکر سے مقصود اس بات کی ترغیب دینا ہے کہ بندے اپنے گناہوں کی اس سے معافی مانگیں کہ وہ توبہ قبول کرتا ہے ، گناہ کے کاموں سے باز رہیں کہ وہ بڑی سخت سزا دیتا ہے اور اس کے فضل کے امیدوار بنیں کہ وہ بڑے فضل والا ہے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔ یعنی جن لوگوں نے قرآن کے معاملہ میں معقول رویہ اختیار کرنے کے بجائے غیر سنجیدہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے اور انکار ہی کی ٹھان لی ہے وہ اس کی آیتوں پر الٹے سیدھے اعتراضات کرتے ہیں اور بحثیں کھڑی کرتے ہیں۔

 

آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو قرآن کو سمجھنے کی کوشش تو نہیں کرتے البتہ اس کو اپنے اعتراضات کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔

 

۵۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کافروں کو جو مادی وسائل حاصل ہوئے ہیں اور وہ اپنی دنیا کو شاندار بنانے کے لیے جو سرگرمی دکھا رہے ہیں اس سے یہ غلط فہمی لاحق نہیں ہونی چاہیے کہ یہ لوگ اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہیں اور وہ ان کے کفر اور معصیت کی سزا انہیں نہیں دے گا۔

 

۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۹۵۔

 

۷۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی نصرت ہمیشہ اپنے رسول کے ساتھ رہتی ہے اس لیے اس کے دشمن اس کو اپنی گرفت میں نہیں لے سکے اور اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اسی طرح اس رسول کے معاملہ میں بھی اس کے دشمن اپنے منہ کی کھائیں گے۔

 

۸۔۔۔۔۔۔ یعنی اپنے کفر کی وجہ سے بالآخر جہنم میں پہنچنے والے ہیں۔

 

۹۔۔۔۔۔۔ اس کی کیفیت ہمیں نہیں معلوم اور چونکہ یہ بات غیب سے تعلق رکھتی ہے اس لیے کسی بحث میں پڑے بغیر اس پر ایمان لانا چاہیے۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔ یعنی مقرب فرشتے اللہ کی تسبیح و حمد میں سرگرم رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تسبیح(اللہ کی پاکی بیان کرنا) اور اس کی حمد و ثنا کس شان کی عبادت ہے۔ اس کا جتنا زیادہ اہتمام کیا جائے اتنا ہی زیادہ اللہ میں دل لگے گا بشرطیکہ یہ صرف زبان کا ورد نہ ہو بلکہ قلب و ذہن بھی اس سے ہم آہنگ ہوں۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔ اگرچہ فرشتوں پر کتنی ہی حقیقتیں عیاں ہیں مثلاً عرش الٰہی وغیرہ تاہم اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں کتنی ہی باتیں ان کے لیے بھی اسرار ہوں گی اس لیے ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ پر ایمان رکھیں اور یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔ کتنے بڑے شرف اور سعادت کی بات ہے اہل ایمان کے لیے کہ فرشتے عرشِ الٰہی کے پاس ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ہیں !

 

واضح رہے کہ فرشتے مغفرت کی یہ دعا نام نہاد مسلمانوں کے لیے نہیں کرتے جو فسق و فجور میں غرق رہتے ہیں بلکہ جیساکہ آیت میں صراحت سے بیان ہوا ہے ان لوگوں کے لیے کرتے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اللہ کے راستے پر چلے یعنی جنہوں نے اپنی اصلاح کی اور راہِ ہدایت پر چلتے رہے۔

 

یہ بھی واضح رہے کہ یہاں فرشتوں کی دعا کا ذکر ہوا ہے نہ کہ شفاعت کا اور یہ دعا بھی گروہ مؤمنین کے لیے ہے نہ کہ مخصوص افراد کے لیے۔ شفاعت کا معاملہ تو قیامت کے دن پیش آئے گا اور وہ افراد سے متعلق ہو گا اور اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی شفاعت کے لیے زبان نہیں کھول سکے گا۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ رعد نوٹ ۵۵۔

 

"صالح ہوں " کی صراحت اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ فرشتوں کی یہ دعا مومنین صالحین کے لیے ہے جس سے ان کے خلوص و محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔ اللہ کی ان صفات کا ذکر اس بات کے اظہار کے لیے ہے کہ فیصلہ تیرے ہی اختیار میں ہے اور تیرا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہو سکتا۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔ یعنی تو ان پر رحم فرما کہ قیامت کے دن ان کو برے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ اس دن کے شدائد سے محفوظ رہیں۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔ کافر جہنم میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ سے سخت بیزاری محسوس کریں گے کہ یہ ہم کیا کر بیٹھے کہ ہمیں سنگین سزا بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اس وقت انہیں یاد دلایا جائے گا کہ تمہیں دنیا میں ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تھی مگر تم انکار کرتے تھے۔ اس وقت اللہ کی تم سے بیزاری اس سے زیادہ تھی جتنی آج تمہاری اپنے آپ سے ہے اور جب تم نے ایسا جرم کیا جو اللہ کی بیزاری اور اس کی برہمی کا باعث ہے تو اب اپنے کئے کی سزا بھگتو۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔ دو مرتبہ کی موت سے مراد ایک تو وہ جسم ہے جو رحمِ مادر میں تخلیق کے ابتدائی مرحلہ میں ہوتا ہے اور ابھی اس میں جان نہیں پڑی ہوتی۔ یہ جسم چونکہ مردہ ہوتا ہے اس لیے اس کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے مرتبہ کی موت وہ ہے جب اس کی روح قبض ہوتی ہے۔ اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ اور دو مرتبہ کی زندگی سے مراد ایک تو دنیا کی زندگی ہے اور دوسری قیامت کے دن کی جبکہ مردہ انسان قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸  اس آیت کی تفسیر کرتی ہے اس میں ارشاد ہوا ہے : وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِکُمْ ثُمَّ اِلَیہِ ترْجَعُوْنَ۔ "تم مردہ تھے تو اس نے تم کو زندگی بخشی پھر وہ تمہیں موت دیگا پھر تم کو زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔"

 

واضح رہے کہ یہاں صرف جسمانی موت اور جسمانی زندگی کا ذکر ہو رہا ہے۔ رہی عالم برزخ(قبر) کی زندگی تو اس کا تعلق محض روح سے ہے کیونکہ جسم تو فنا ہو جاتا ہے اس لیے اس کی نوعیت اس زندگی کی سی نہیں ہے جو روح کے جسم سے الحاق کی صورت میں ہوتی ہے بلکہ وہ ایک خاص قسم کی روحانی زندگی ہے جس میں روح پر یا تو عذاب ہوتا ہے یا وہ راحت و آسائش میں رہتی ہے۔ لہٰذا اس آیت میں ان لوگوں کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے جو قبر کے عذاب سے انکار کرتے ہیں۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں توحید سے دلچسپی نہیں تھی البتہ شرک سے بڑی دلچسپی تھی۔ بد عقیدہ لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ان کے سامنے خالص توحید پیش کیجئے تو وہ اس کا انکار کریں گے یا سنی ان سنی کر دیں گے لیکن اگر کوئی گمراہ شخص ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کا ذکر کرے تو وہ عقیدت کا اظہار کریں گے۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔ اوپر شرک کا انجام بیان ہوا ہے۔ اب توحید کو قبول کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ ہی کے بند بن کر اسی کو حاجت روائی کے لیے پکارو اور اسی کی عبادت کرو۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔ یعنی توحید خالص کو اختیار کرنے میں کافروں اور غیر مسلموں کی ناراضگی مانع نہیں ہونا چاہیے۔ معاملہ اصلاً اللہ سے ہے اس لیے اس کے غضب سے بچنا چاہیے۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کی شان اور مرتبہ بہت بلند ہے لہٰذا اس کو مخلوق پر قیاس کرنا اور اس کا ہمسر ٹھہرانا سراسر باطل اور اس کی شان میں صریح گستاخی ہے۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ اعراف نوٹ ۸۲۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ روح(وحی) کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ نحل نوٹ ۲۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔ یعنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔ دنیا میں جن کو اللہ تعالیٰ نے امانۃ ً اقتدار سپرد کیا تھا ان میں سے اکثر لوگ اپنے کو اقتدار کا مالک سمجھتے رہے اور اپنی بادشاہی اور حاکمیت کے دعویدار بنے رہے۔ لیکن قیامت کے دن جب سوالیہ نشان بن کر یہ صدا بلند ہو گی کہ آج بادشاہی کس کی ہے تو بادشاہت اور حاکمیت کے ان سب دعویداروں کو سانپ سونگھ جائے گا کیونکہ اس روز کسی کے پاس کوئی اقتدار نہ ہو گا۔ سب بے بس بندے کی حیثیت سے اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔ اس وقت صدا بلند ہو گی کہ آج بادشاہی اکیلے اللہ کی ہے جو ایسا زبردست ہے کہ سب اس کے آگے مغلوب ہیں۔

 

قیامت کے دن تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ اللہ ہی فرمانروائے حقیقی ہے لیکن دنیا میں بھی اس کو بصیرت کی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے اس لیے اسلام کا مطالبہ ہے کہ ایک اللہ کو فرمانروائے حقیقی تسلیم کرو۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اربوں اور کھربوں انسانوں کا حساب چکانے میں اللہ کو دیر لگے گی۔ اللہ کو انسانی حاکم پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ وہ اگر ہر روز ہزاروں جانوں کو پیدا کرتا ہے اور ہزاروں جانوں کو موت دیتا ہے اور اربوں انسانوں کو بیک وقت رزق دیتا ہے تو اربوں اور کھربوں انسانوں کا بیک وقت حساب چکانا اس کے لیے کیا مشکل ہے۔ وہ بیک وقت لا تعداد انسانوں کی طرف فرداً فرداً متوجہ ہو سکتا ہے اور ان کا الگ الگ حساب لے سکتا ہے۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کی گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ وہ بہت جلد قائم ہونے والی ہے۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ یہ اس فاسد عقیدہ کی تردید ہے کہ فلاں اور فلاں ہماری شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت لازماً مانی جائے گی۔ شفاعت کے اس غلط عقیدہ ہی کی بنا پر لوگ آخرت سے بے پرواہ ہو گئے ہیں۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔ نگاہوں کی خیانت یہ ہے کہ آدمی چوری چھپے ان چیزوں پر نگاہ ڈالے جن کا دیکھنا منع ہے۔ مثلاً کسی اجنبی عورت کو دیکھنے کے لیے تاک جھانک کرنا، خفیہ طریقہ پر کسی کے ستر پر نگاہ ڈالنا یا فحش مناظر اور تصویریں دیکھنا وغیرہ۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرنے والا ہو تو وہ اپنی نگاہوں کو بچائے گا کہ وہ کسی ایسی چیز پر نہ پڑیں جس کا دیکھنا حرام ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اللہ سے کوئی چیز بھی چھپی نہیں رہ سکتی یہاں تک کہ آنکھوں کا چوری چھپے دیکھ لینا بھی۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔ یعنی دلوں کا حال ، نیت، ارادے قصد، وغیرہ۔

 

۳۲۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن جو فیصلہ کا دن ہو گا اللہ کے سوا کوئی نہ ہو گا جو انسانوں کے اعمال اور ان کے درمیان نزاعات کا فیصلہ چکائے۔

 

عیسائی حضرت مسیح کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن انسانوں کے درمیان ان کے اعمال کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے۔(دیکھئے متی ۲۴:۲۱ تا ۴۶) یہ عقیدہ باطل ہے اور قرآن کی یہ ایک آیت ہی اس کی تردید کے لیے کافی ہے۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔ یہ ذلیل ہے اس بات کی کہ جب اللہ کے سوا کوئی نہیں جو سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہو تو فیصلہ کرنے کا اہل بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔ یعنی تمدنی ترقی کے آثار۔ اشارہ ہے قومِ ثمود، مدین وغیرہ کی طرف جن کی تمدنی ترقی کے آثار آج بھی کھنڈرات کی شکل میں موجود ہیں۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔ جب یہ حقیقت مشاہدہ میں آ چکی کہ اللہ اس دنیا میں مجرم قوموں کو ان کے جرم کی سزا دیتا ہے تو آخرت کے بارے میں اس خوش فہمی میں رہنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ وہاں بس بخشش ہی بخشش ہو گی اور آدمی کیسا ہی سنگین جرم کر چکا ہو اس کی سزا اس کو ملنے والی نہیں۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مومنون نوٹ ۴۴۔

 

۳۷۔۔۔۔۔۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورہ قصص نوٹ ۱۱۔

 

۳۸۔۔۔۔۔۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ قصص نوٹ ۱۴۲۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹانے کے لیے بچوں کی پیدائش پر لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم فرعون پہلے بھی جاری کر چکا تھا اور حضرت موسیٰ کی ولادت ایسے ہی حالات میں ہوئی تھی لیکن اب جب کہ حضرت موسیٰ کی دعوت سے فرعون کو خطرہ محسوس ہوا تو اس نے بنی اسرائیل کے نو مولود لڑکوں کو قتل کرنے کا دوبارہ حکم دیا تاکہ یہ اقلیت دب کر رہ جائے اور ان کی تعداد بھی گھٹ جائے۔ یہ تھا فرعون کا سخت متعصبانہ اور ظالمانہ اقدام۔(مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۱۸۱)

 

۴۰۔۔۔۔۔۔ فرعون کی یہ چال کامیاب نہ ہو سکی۔ بنی اسرائیل کو اذیت ضرور پہنچی لیکن اہل ایمان ہونے اور رسول کی اتباع کرنے کی بنا پر اللہ کی تائید ان کو حاصل ہوئی اور تباہی سے فرعونیوں ہی کو دو چار ہونا پڑا۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔ فرعون نے یہ بات اپنے درباریوں سے کہی۔ اس نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ساتھ ہی ان پر یہ طنز بھی کیا کہ وہ اپنے کو بچانے کے لیے اپنے رب کو پکارے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ اور ان کے رب کا مذاق اڑایا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے بڑے گھمنڈ اور تکبر میں مبتلا تھا۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔ دین بدلنے سے مراد عقیدہ و مذہب کی تبدیلی ہے۔ فرعون کی قوم ستارہ پرست تھی۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر ستاروں کو دیوی دیوتا بنا رکھا تھا اور وہ فرعون کی بھی پرستش کرتے تھے جو سورج دیوتا کا اوتار ہونے کا دعویدار تھا۔ حضرت موسیٰ کی دعوت توحید، آخرت اور رسالت پر ایمان لانے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے اور اس کی اطاعت میں اپنے کو دینے کی دعوت تھی۔ یہ اللہ کا دین تھا جس کو وہ پیش کر رہے تھے مگر فرعون اس کو کب گوارا کر سکتا تھا کہ اس کی قوم حضرت موسیٰ کے پیش کردہ دین__اسلام__ کو قبول کر لے اس لیے اس نے اپنی قوم کو حضرت موسیٰ کے خلاف اکسایا۔

 

جمہور مفسرین نے بھی دین کو بدلنے سے مذہب کو بدلنا ہی مراد لیا ہے نہ کہ " سیاسی نظام" کو بدلنا اور صاحبِ کشاف نے تو قرآن ہی سے یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ: وہ فرعون کی اور اس کے بتوں کی پرستش کرتے تھے اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے وَیَذَرَکَ وَآلِہَتَکَ(وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں۔(اعراف:۱۲۷) (کشاف ج۲ ص ۴۲۲)

 

اس لیے صاحبِ تفہیم القرآن کی یہ توجیہ کی:

 

" یہاں دین سے مراد نظامِ حکومت ہے۔ "(تفہیم القرآن ج ۴  ص ۴۰۵) سراسر تکلف ہے۔(مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۱۸۰)

 

۴۳۔۔۔۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت سراسر اصلاح کی دعوت تھی مگر فرعون نے ان پر یہ جھوٹا الزام لگایا کہ وہ ملک میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت اس کی قوم کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا باعث ہو گی۔ اگر ایک گروہ حضرت موسیٰ کے دین کو قبول کر لیتا ہے اور دوسرا گروہ اپنے مذہب پر قائم رہتا ہے تو دونوں میں فرقہ وارانہ جذبات پیدا ہوں گے جس کا نتیجہ بدامنی اور خون خرابے کی شکل میں نکلے گا۔

 

آج کے دور میں بھی خدا بیزار حکومتوں کے سوچنے کا انداز یہی ہے۔ وہ کسی ابھرتی ہوئی اسلامی دعوت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ وہ اس میں فرقہ واریت کی بو محسوس کرتی ہیں اور اسے امن عامہ کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں۔ حالانکہ یہ خطرہ اگر صحیح بھی ہو تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو دعوتِ اسلامی کے مقابلہ میں شر پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور اگر ان حکومتوں کی اس منطق کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو دنیا میں کبھی اصلاح کا کوئی کام انجام نہیں پاسکتا۔ پھر کیا لوگوں کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ جہنم میں جا گریں اور ان کو اس سے بچانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے ؟

 

۴۴۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ نے ان مفسدین کے شر سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ طلب کی اور اپنے کو اس کے حوالہ کر دیا۔ یہ ہے توکل کی اعلیٰ مثال۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔ فرعون کے خاندان میں ایک فرد ایسا نکلا جو حضرت موسیٰ کی دعوت سے متاثر ہو کر ان پر ایمان لے آیا۔ وہ بھی اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا لیکن جب حضرت موسیٰ کے قتل کی باتیں ہونے لگیں تو اس کی غیرتِ ایمانی جوش میں آئی اور اس نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ کی حمایت کی اور نہ صرف حمایت کی بلکہ کھل کر دعوتِ حق بھی پیش کر دی اور اپنی بات کو پیش کرنے کا ایسا انداز اختیار کیا کہ فرعون اور اس کے درباریوں پر اس کی معقولیت ظاہر ہو جائے۔

 

واضح رہے کہ اسلام ایمان کو چھپانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا پہلا رکن ہی کلمۂ شہادت ادا کرنا ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ قبولِ اسلام کا اعلان و اظہار ہو اور وہ مسلم سوسائٹی کا فرد قرار پائے۔ البتہ اگر جان کا خطرہ لاحق ہو تو اسلام میں اس بات کی رخصت ہے کہ آدمی وقتی طور پر اپنے ایمان کو چھپائے۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔ مردِ مومن کے کہنے کا منشاء فرعون کو اقدام قتل سے روکنا تھا۔ اس سلسلے میں اس نے ایک ایسی بات کہی جو آسانی سے ان لوگوں کی سمجھ میں آ سکتی تھی اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ کا اپنے دعوائے رسالت میں جھوٹا ہونا ثابت نہیں ہے جو تم انہیں سزا دو۔ اور محض شک کی بنا پر اتنا بڑا اقدام کرنا صحیح نہیں۔ اگر بالفرض وہ جھوٹے ہیں تو ان کے جھوٹ کا وبال لازماً ان پر پڑے گا لیکن اگر وہ سچے ہیں تو سوچو پھر تمہارے ان کو قتل کرنے کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ تم اللہ کے غضب کو دعوت دو گے اور جس عذاب کی وعید حضرت موسیٰ تمہیں سنا رہے ہیں اس کا ایک حصہ تمہیں اس دنیا ہی میں ملے گا۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔ یہ اشارہ حضرت موسیٰ کو جھٹلانے والوں کی طرف کہ جو لوگ فطری اور اخلاقی حدود کو توڑنے میں بے باک ہوتے ہیں اور ایک رسول کے ذریعے اللہ کی نشانیوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی شبہات میں پڑتے ہیں وہ اللہ کی توفیق اور اس کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔ یعنی حکومت اور اقتدار کے گھمنڈ میں نہ رہو۔ اللہ کا عذاب تم پر نازل ہو سکتا ہے جس کے آگے تم بالکل بے بس ہو کر رہ جاؤ گے۔

 

۴۹۔۔۔۔۔۔ فرعون نے اس مردِ مومن کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ میری یہ رائے کہ موسیٰ کو قتل کرنا ضروری ہے ایک سوچی سمجھی رائے ہے اور مجھ پر اعتماد کرو کہ میں تمہاری صحیح رہنمائی کر رہا ہوں۔یہ مداخلت فرعون نے اس لیے کی کہ اسے اندیشہ محسوس ہوا کہ اس شخص کی تقریر جو حضرت موسیٰ کا عقیدت مند ہو گیا ہے دربار والوں کو متاثر نہ کر دے۔

 

۵۰۔۔۔۔۔۔ فرعون کی مداخلت کے بعد اس مردِ مومن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا۔

 

۵۱۔۔۔۔۔۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قومِ نوح، عاد، ثمود نیز قومِ لوط اور قوم شعیب پر ان کے کفر کی وجہ سے جو عذاب آیا اس کو اس وقت کے لوگ مشہور تاریخی واقعات کی حیثیت سے جانتے تھے۔

 

۵۲۔۔۔۔۔۔ پکار کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے جب کہ ایک پکار پر سب لوگ قبروں سے نکل پڑیں گے۔ سورۂ ق میں ارشاد ہوا ہے :

 

وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِالْمُنادِی مِن مَّکَانٍ قَرِیْبٍ یوْمَ یَسْمَعُونَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ۔(ق:۴۱،۴۲) " اور سن لو جس دن پکارنے والا قریبی جگہ سے پکارے گا۔ جس دن لوگ ہولناک آواز سنیں گے حق کے ساتھ۔ وہ(قبروں سے) نکلنے کا دن ہو گا۔"

تَنَادِ باب تفاعل سے ہے اور یہ نداء سے اسی طرح مبالغہ کا صیغہ ہے جس طرح تعالیٰ۔ اس لیے یوم التناد کے معنی ہیں وہ دن جب تمام لوگوں کو پکارا جائے گا کہ اٹھو اور جوابدہی کے لیے اللہ کے حضور حاضر ہو جاؤ)

 

۵۳۔۔۔۔۔۔ قیامت کا ہولناک منظر دیکھ کر مجرمین اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوشش کریں گے مگر فرشتے ان کو پکڑ لیں گے اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا۔

 

۵۴۔۔۔۔۔۔ یعنی حضرت یوسف کی سیرت، تعلیم اور خواب کی تعبیر میں رسالت کی واضح نشانیاں موجود تھیں مگر تم لوگ(مراد فراعنہ اور ان کی قوم) ان کی رسالت کے بارے میں شک ہی میں پڑے رہے یہاں تک کہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تمہیں یہ احساس ہوا کہ ہم نے ان کی قدر نہیں کی اور جب ہم نے ایسی بزرگ شخصیت کی قدر نہیں کی تو اب اللہ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ مگر اللہ نے موسیٰ کو بھیج کر تمہیں سنبھلنے کا دوسرا موقع دیا ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ ان کی قدر کرو مگر تم ہو کہ اللہ کے رسول کو قتل کرنے کی سوچ رہے ہو؟

 

۵۵۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی ایسی دلیل جو وحی کے ذریعہ ان تک پہنچی ہو۔ مراد کسی نبی کی تعلیم یا کسی آسمانی کتاب کی حجت ہے۔ ایسی کوئی حجت ان لوگوں کے پاس موجود نہیں ہے جس کو یہ قرآن کی آیات کی تردید میں پیش کر سکیں وہ محض وہم و گمان کی بنا پر بحثیں کھڑی کر رہے ہیں۔

 

۵۶۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ جدال اور اس طرح کج بحثی کرنے والے اللہ کی نظر میں تو مبغوض ہیں ہی اہلِ ایمان بھی ان سے سخت نفرت کرتے ہیں۔

 

یہ ہے اہل ایمان کا قابل تعریف وصف لیکن موجودہ دور میں ایسے " مسلمانوں " کی کمی نہیں جو قرآن کی تعلیمات پر خود ہی معترض ہوتے ہیں اور الٹی سیدھی بحثیں کھڑی کر دیتے ہیں۔

 

۵۷۔۔۔۔۔۔ متکبر یعنی اللہ کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا سمجھنے والا اور جبار کا مطلب ہے زبردست، وہ جو بندگانِ خدا کو اپنی مرضی پر چلانے کے لیے جبر کرے۔ ایسے لوگ قبولِ حق کی فطری صلاحیت کو کھو چکے ہوتے ہیں اس لیے حق کتنا ہی روشن ہو کر ان کے سامنے آ جائے ان کے دل میں نہیں اترتا۔ یہ سب کچھ اس قاعدہ کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ نے گمراہی کے لیے مقرر کر کھا ہے اور اسی کو دل پر مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

۵۸۔۔۔۔۔۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کی باتوں کا مذاق اڑایا اور ان کے رب کی شان میں گستاخی کی جس سے اس کا تکبر پوری طرح ظاہر ہو گیا۔

 

یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ فرعون نے ہامان کو عمارت تعمیر کرنے کا واقعی حکم دیا تھا تاکہ وہ اس پر چڑھ کر موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھ لے۔ اس مقصد کے لیے پہاڑوں کی کیا کمی تھی جو عمارت تعمیر کرنے کا وہ حکم دیتا۔ فرعون کے تو ایک ایک لفظ سے طنز ہی کا اظہار ہوتا ہے۔

 

۵۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کا برا عمل غلط توجیہات کی وجہ سے اس کی نظر میں اچھا عمل بن گیا۔ انسانی فطرت برا عمل کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی لیکن جب آدمی کسی با ت کی غلط توجیہ کر کے برائی کے لیے وجہ جواز پیدا کر دیتا ہے تو پھر برا عمل اس کی نظر میں اچھا عمل بن جاتا ہے۔ اور وہ شیطان کے فریب میں آ جاتا ہے۔ پھر شیطان ایسی نظری رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے کہ اس کا راہِ راست پر آنا ممکن نہیں رہتا۔

 

۶۰۔۔۔۔۔۔ مراد فرعون کے وہ ہتھکنڈے ہیں جن کو وہ حضرت موسیٰ کے خلاف استعمال کرتا رہا لیکن اس کی کوئی تدبیر بھی کامیاب نہ ہو سکی بلکہ الٹ اس کی تباہی کا موجب بنی۔

 

۶۱۔۔۔۔۔۔ مردِ مومن نے فرعون کے دربار میں اظہارِ حق کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم کے پاس آ کر لوگوں کے سامنے دعوتِ حق پیش کی۔

 

۶۲۔۔۔۔۔۔ مرد مومن کی یہ دعوت کتنی سادہ اور دل میں اتر جانے والی تھی۔ اس نے اپنی درد بھری آواز میں قوم کے سامنے آخرت کو پیش کیا کہ ہر شخص کو سب سے پہلے اپنی نجاتِ اخروی کی فکر کرنی چاہیے۔

 

۶۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جب میرے علم میں ہے بات نہیں ہے کہ اللہ کا کوئی شریک ہے تو کیا محض تمہارے کہنے پر اسے بلا دلیل مان لوں ؟

 

مردِ مومن کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ قومِ فرعون شرک میں مبتلا تھی اور دیوی دیوتاؤں کی پرستار تھی۔

 

۶۴۔۔۔۔۔۔ یعنی میں اس خدا پر تمہیں ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہوں جو بڑی عظمت والا ہے اور سب کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر ایسا مہربان ہے کہ اگر وہ غلط طرز عمل سے باز آ جائیں تو وہ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور انہیں معاف کر دیتا ہے۔

 

۶۵۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو حاجت روائی اور فریاد رسی کے لیے پکارنا ایک بے معنی بات ہے کیونکہ یہ نہ تمہاری پکار سنتے ہیں اور نہ تمہاری حاجت پوری کر سکتے ہیں۔ اور نہ ہی آخرت میں تمہارے لیے سفارش کرسکیں گے۔

 

۶۶۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح نوٹ ۴۷ میں گزر چکی۔

 

۶۷۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن تم پچھتاؤ گے کہ ہم نے اس شخص کی بات کیوں نہیں مانی جو ہمیں اللہ پر ایمان لانے اور آخرت کے عذاب سے بچنے کی دعوت دے رہا تھا۔

 

جو لوگ بھی داعیان حق کی نصیحت پر دھیان نہیں دیتے وہ قیامت کے دن یاد کریں گے کہ فلاں شخص ہمیں نصیحت کر رہا تھا لیکن افسوس کہ ہم نے اس کی نصیحت قبول نہیں کی۔

 

۶۸۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر فرعون مجھے حق گوئی کی سزا دینا چاہتا ہے یا قوم مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہتی ہے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میں نے اللہ پر توکل کیا۔ وہ مجھے کامیابی کی منزل پر پہنچائے گا۔

 

۶۹۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ ظالم اس مردِ مومن کا کچھ بگاڑ نہ سکے۔ اس نے اپنے کو اللہ کے حوالہ کیا تھا اللہ نے ان کے شر سے اسے محفوظ رکھا۔

 

عام طور سے دعوتِ حق پیش کرنے میں اندیشے محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر داعی خطرات کی پرواہ نہیں کرتا اور اللہ پر توکل کر کے دعوتِ حق پیش کرتا ہے تو یہ اندیشے غلط ثابت ہوتے ہیں اور تکلیف اسی صورت میں پہنچتی ہے جب کہ اللہ نے لکھ دی ہو۔

 

۷۰۔۔۔۔۔۔ یعنی جب ظہورِ نتائج کا وقت آیا تو عذابِ الٰہی کی لپیٹ میں فرعون اور اس کے اشاروں پر چلنے والے لوگ ہی آ گئے۔ اہل ایمان اس سے بالکل محفوظ رہے۔

 

۷۱۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں فرعون والوں کے لیے دو عذابوں کا ذکر ہوا ہے۔ ایک وہ جو انہیں صبح و شام دیا جا رہا ہے اور دوسرا وہ جو قیامت کے دن دیا جائے گا۔ پہلا عذاب عالمِ برزخ میں ان کی روحوں کو دیا جا رہا ہے اور وہ آگ کا عذاب ہے۔ رہا دوسرا عذاب تو قیامت کے دن جب وہ زندہ کر دئے جائیں گے تو روح اور جسم دونوں کو عذاب کا مزا چکھنا ہو گا۔ یہ عذاب عالمِ برزخ کے عذاب سے کہیں زیادہ شدید ہو گا۔

 

صبح و شام سے مراد عالمِ برزخ کے صبح و شام ہیں اور محاورہ میں صبح و شام کے الفاظ روزانہ اور دائمی کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۂ مریم آیت ۶۲  میں بیان ہوا ہے کہ اہل جنت کو ان کا رزق صبح و شام ملے گا اور آلِ فرعون میں فرعون ، اس کا ظالم خاندان جو حکمراں تھا، اس کا طاغوتی لشکر اور اس کے پیچھے چلنے والے سب شامل ہیں۔

 

اس آیت سے اور قرآن کی دوسری متعدد آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عالمِ برزخ میں کافروں کی روحوں کو عذاب دیا جاتا ہے مثال کے طور پر سورۂ انفال میں ہے :

 

"اور اگر تم اس حالت کو دیکھ سکتے جب فرشتے کافروں کی روحوں کو قبض کرتے ہیں۔ وہ ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں چکھو جلنے کے عذاب کا مزہ۔"(انفال: ۵۰)

 

جب کہ مرنے والے کے جسم پر ہم عذاب کے کوئی آثار نہیں دیکھتے۔ اسی کو حدیث میں عذابِ قبر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مگر لفظی بحث میں پڑ کر لوگ عذابِ قبر کا انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن سے ثابت نہیں ہے حالانکہ قرآن سے عالم برزخ کا عذاب ثابت ہے اور حدیث میں اس کو قبر کے عذاب سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ قبر کو دیکھ کر انسان کا ذہن بہ آسانی عالم برزخ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور نفسیاتی اعتبار سے قبر عبرت پذیری کی جگہ ہے۔

 

عذاب قبر کا یہ مطلب نہیں کہ قبر میں جو جسم دفن کیا گیا ہے اس پر عذاب ہو رہا ہے کیوں کہ جسم تو سڑگل کر ختم ہو جاتا ہے ، پھر جو لوگ سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں ان کو مچھلیاں کھا لیتی ہیں اور ان کی قبر نہیں بنتی۔ فرعون کا لشکر بھی سمندر میں غرق ہوا تھا اور ان لوگوں کو قبر نہیں بنی لیکن قرآن کہتا ہے کہ صبح و شام ان پر عذاب ہو رہا ہے۔ اسی طرح جن مردوں کو جلایا جاتا ہے ان کی بھی قبریں نہیں بنتی تو کیا وہ عذابِ قبر سے آزاد ہو گئے ؟ ان سب باتوں کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں کہ عذاب روحوں پر ہوتا ہے نہ کہ مردہ جسم پر اور یہ عالم برزخ میں ہوتا ہے خواہ کسی کی قبر بنی ہو یا نہ بنی ہو۔

 

حدیث میں آتا ہے :

 

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبیُّ صلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ و سلم اِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَیْہِ مَقْعَدُہُ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ اِنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ فَالْجَنَّۃُ وَاِنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ النَّارِ فالنَّارُ۔ قَالَ ثُمَّ یُقَالُ ہٰذا مَقْعَدُکَ الَّذِیْ تُبْعَثُ اِلَیْہِ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ۔(مسلم کتاب التوبۃ، بخاری کتاب الزہد)

 

" حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: آدمی جب مر جاتا ہے تو اس کو صبح و شام اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت کی جھلک دکھائی جاتی ہے اور اگر جہنمی ہے تو جہنم کی جھلک پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن یہی تیرا ٹھکانا ہو گا۔" اور متعدد احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ دعا منقول ہوئی ہے : وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذابِ الْقَبْرِ اور میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں(بخاری کتاب الدعوات)۔

 

علامہ ابن کثیر مذکورہ آیتوں کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " ان کی روحیں صبح و شام آگ پر پیش کی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ پھر جب قیامت کا دن ہو گا تو ان کی روحیں ان کے جسم کے ساتھ آگ میں داخل ہوں گی۔ اسی لیے فرمایا یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ یعنی ایسا عذاب جو درد ناک ہونے کے لحاظ سے شدید تر اور سزا کے اعتبار سے بڑھ کر ہو۔ اور یہ آیت بہت بڑی بنیاد ہے اس استدلال کی جو اہلِ سنت قبر میں عذابِ برزخ کے بارے میں کرتے ہیں۔"(تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۸۱)

 

یہ سمجھنا بھی صحیح نہیں کہ آیت میں آگ کے سامنے آلِ فرعون کو پیش کرنے کا جو ذکر ہوا ہے تو اس کا لازمی مطلب عذاب نہیں ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہو تو پھر صبح و شام آگ پر پیش کرنے کا کیا مطلب ہو گا؟ اگر بالفرض آگ کے سامنے انہیں صرف پیش کیا جا رہا ہو اور آگ میں انہیں ڈالا نہ ہو گیا ہو تب بھی آگ کی تکلیف تو ان کو پہنچنے ہی والی اور یہ بھی عذاب ہی کی ایک صورت ہوئی حالانکہ عربی محاورہ کے اعتبار سے آگ کے سامنے پیش کرنے کا مطلب آگ کا جلانا ہی ہے چنانچہ صاحبِ کشاف نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے :

 

وعرضہم علیہا احراقہم بھا۔ یقال عرض الامام الاساریٰ علی السیف اذا قتلہم(تفسیر کشاف ج ص۴۲۰) " ان کو آگ پر پیش کرنے کا مطلب آگ سے ان کو جلانا ہے۔ کہا جاتا ہے امام نے قیدیوں کو تلوار پر پیش کیا جبکہ اس نے ان کو قتل کر دیا ہو۔"

 

رہا یہ سوال کہ حساب سے پہلے عذاب کیسا تو اس کا جواب سورۂ زمر نوٹ ۶۰ میں گزر چکا۔ اس موقع پر یہ نوٹ بھی پیش نظر رہے۔

 

۷۲۔۔۔۔۔۔ بڑے بننے والوں سے مراد وہ مذہبی پیشوا اور لیڈر ہیں جو خود گمراہ تھے اور عقائد و اعمال میں لوگوں کی غلط رہنمائی کرتے رہے۔ اور کمزور لوگوں سے مراد ان کے دباؤ میں آ کر اور ان کے زیر اثر ان کے پیچھے چلنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگ اپنے پیشواؤں اور لیڈروں سے جہنم میں جھگڑیں گے کہ تمہارے پیچھے چل کر ہم جہنم میں پہنچ گئے۔ اب تم ہمارے عذاب کا کم از کم ایک حصہ ہی دور کر دو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم خود جہنم میں سزا بھگت رہے ہیں تمہاری سزا کو ہم کیا دور کر سکتے ہیں اور اللہ ہمارے لیے دائمی سزا کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اس طرح وہ اپنی بے بسی کا اظہار کریں گے۔ قرآن ان کی اس بے بسی کو دنیا ہی میں لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ تاکہ ہر شخص اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور گمراہ پیشواؤں اور لیڈروں کی تقلید نہ کرے۔

 

۷۳۔۔۔۔۔۔ جہنم میں مسلسل کافروں کو عذاب بھگتنا ہو گا۔ کوئی وقفہ نہ ہو گا جس میں وہ اطمینان کا سان لے سکیں۔ اس لیے وہ جہنم کے نگراں فرشتوں سے کہیں گے کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ کم از کم ایک دن کے لیے ان کے عذاب میں کمی کر دے مگر فرشتوں کی طرف سے ان کو مایوس کن جواب ملے گا۔ وہ یہ کہہ کر سفارش کرنے سے معذرت کریں گے کہ رسولوں نے تمہارے سامنے حجت پیش کر دی تھی مگر تم کافر بنے رہے اور کافروں کے لیے کوئی سفارش نہیں کی جاسکتی لہٰذا اب تم ہی دعا کرو۔

 

۷۴۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ کافر جو دعا بھی کریں گے اس کی کوئی سنوائی نہیں ہو گی۔

 

۷۵۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کافروں کے مقابلہ میں رسولوں اور اہل ایمان کی مدد کرتا رہا ہے جس کی واضح مثال حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون اور بنی اسرائیل کا فرعون کے شکنجہ سے سلامتی کے ساتھ نکل جانا اور بعافیت سمندر کو عبور کرنا ہے جب کہ فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہو گیا۔ اللہ کی نصرت رسولوں اور ان کے ساتھی اہل ایمان کے حق میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔ نوح ، ہود، صالح علیہم السلام اور دیگر کتنے ہی رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے بچا لیا گیا جو ان کی قوموں پر کفر کی پاداش میں آیا اور جس نے ان کو ہلاک کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد زمین میں اقتدار اہل ایمان ہی کو حاصل ہوا۔ اسی طرح اللہ کی نصرت تلوار کی شکل میں بھی ظاہر ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کر کے اس کی کافر قوم پر فتح حاصل کر لی، حضرت سلیمان کو کتنی ہی کافر قوموں پر غلبہ حاصل ہوا اور ان کو ایسی سلطنت عطا ہوئی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کے لیے نصرت الٰہی کی جو بشارت مضمر ہے وہ چند سال بعد غزوۂ بدر کے موقع پر بالکل ظاہر ہو گئی اور پھر فتح مکہ نے اس کا مزید ثبوت بہم پہنچایا یہاں تک کہ پورا عرب آپ کے زیر نگیں ا گیا۔

 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں بھی کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ وہ اللہ کی نصرت ہی تھی جس نے ان کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال کر صحیح سلامت آسمان پر اٹھایا اور دشمنوں کی سازشیں دھری کے دھری رہ گئیں۔ ان کے پیروؤں کے لیے اگرچہ آزمائش کا سلسلہ طویل رہا لیکن ان کی دعوت پھیلتی چلی گئی۔ ان کے دشمن یہود کا زور اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے ذریعہ توڑا اور بالآخر حضرت عیسیٰ کے پیروؤں ہی کو غلبہ و اقتدار حاصل ہوا۔

 

۷۶۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن جب کہ اللہ عدالت برپا کرے گا اور رسول اپنی کافر قوموں کے خلاف گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت اللہ کی نصرت بدرجۂ اتم رسولوں اور اہل ایمان کے حق میں ظاہر ہو گی، ان کا موقف ہی صحیح قرار پائے گا اور اس عدالت سے کامیاب ہو کر نکلیں گے۔

 

۷۷۔۔۔۔۔۔ ظالموں سے مراد کافر ہیں جو حق و عدل سے انحراف کر کے اپنے نفسوں پر ظلم کرتے رہے۔ ان کا کوئی عذر سنا نہیں جائے گا اس لیے کہ ان پر اللہ کی حجت قائم ہو چکی تھی۔

 

۷۸۔۔۔۔۔۔ یعنی تورات کا وارث بنایا۔

 

۷۹۔۔۔۔۔۔ رسول بھی اللہ کا بندہ ہوتا ہے اور ایک بندہ کے شایان شان یہی ہے کہ وہ اپنے کو کوتاہ کار سمجھے اور اپنے قصوروں کے لیے معافی کا خواستگار ہو خواہ اس کے قصور اس کے علم میں ہوں یا نہ ہوں۔ اس سے عبدیت کا احساس ابھرتا ہے۔ اور بندہ اللہ کی رحمت کا اور زیادہ مستحق ہو جاتا ہے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت ہوئی کہ آپ اپنے قصوروں کو اللہ سے معافی چاہیں اور آپ کے توسط سے یہی تعلیم اہل ایمان کو دی گئی۔

 

ایک نبی دانستہ کوئی گناہ نہیں کرتا۔ وہ تو لوگوں کے لیے اپنے عمل سے بہترین اسوہ قائم کرتا ہے اور امانت و صداقت اور تقویٰ اور سیرت کی پاکیزگی نبوت کی لازمی خصوصیت ہوتی ہیں جسے اصطلاحاً" عصمتِ انبیاء" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض مرتبہ فرائض نبوت کی ادائیگی میں معمولی فروگزاشتیں ان سے ہو جاتی ہیں جن پر وحی الٰہی گرفت کرتی ہے اور وہ فوراً متنبہ ہو جاتے ہیں۔ ایسی ہی چند فروگزاشتیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہوئی تھیں ان پر قرآن میں گرفت کی گئی۔ ان کے علاوہ اگر آپ سے کوئی قصور سرزد ہوئے تھے تو وہ آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان کا معاملہ ہے ہمیں نہ اس کا علم ہے اور نہ اس بحث میں پڑنے کا کوئی فائدہ۔

 

بعض مفسرین نے "اپنے قصوروں کے لیے استغفار کرو" کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ حکم دراصل آپ کے واسطہ سے آپ کی امت کو دیا گیا ہے۔ مگر یہ تاویل اس لیے صحیح نہیں کہ سورہ محمد میں صراحت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے اور اہل ایمان کے قصوروں کے لیے استغفار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے :

 

وَاسْتَغْفِرْلِذَنْبِکل وَلِلْمُؤمِنیِنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ(محمد:۱۹) " اور اپنے قصوروں کے لیے اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کرو"

 

۸۰۔۔۔۔۔۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ انسان کے سامنے جب اس کے رب کا کوئی فرمان آ جائے تو وہ سر تسلیم کرے لیکن جو لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں وہ کج بحثی کرنے لگتے ہیں مگر ان کو وہ بڑائی ہرگز حاصل ہونے والی نہیں جس کے خواب وہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کو بہت جلد ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

۸۱۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسے لوگوں کے شر سے تم اللہ کی پناہ مانگو۔

 

۸۲۔۔۔۔۔۔ یعنی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے مگر اکثر لوگ اتنی واضح بات بھی نہیں سمجھتے۔

 

موجودہ زمانہ میں تو سائنس نے کائنات کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات کئے ہیں۔ ان انکشافات کے پیشِ نظر کائنات کی وسعت کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ ہم اپنی کہکشاں میں بے شمار ستاروں کو دیکھتے ہیں اور ایسی کئی کہکشائیں کتنے ہی نوری سال کی دوری پر واقع ہیں۔ تو جس ہستی نے اتنی وسیع کائنات پیدا کی اور اس کو ایک نہایت مضبوط نظام میں جکڑ دیا اس کی قدرت سے کوئی بات بھی بعید نہیں۔ وہ مردہ انسانوں کو بھی اٹھا کھڑا کر سکتا ہے اور اس کائنات کی تشکیل نو بھی کرسکتا ہے۔

 

۸۳۔۔۔۔۔۔ اندھا وہ جو حقیقت کو دیکھ نہیں پاتا اور بینا وہ جو حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ دونوں کا حال کیسے یکساں ہو سکتا ہے ؟

 

۸۴۔۔۔۔۔۔ دعا کے معنی پکارنے کے ہیں اور درخواست کرنے کے بھی اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ پکارا بھی جائے اللہ ہی کو اور درخواست(دعا) بھی کی جائے اللہ ہی سے کیونکہ پکار کو سننے والا بھی وہی ہے اور دعاؤں کو قبول کرنے والا بھی وہی۔

 

یہ آیت مزید صراحت کرتی ہے کہ یہ پکارنا اور دعائیں کرنا عبادت ہے لہٰذا یہ باتیں اللہ کے ساتھ مخصوص ہونی چاہئیں۔ اور اگر کسی اور کو اس طرح پکارا گیا جس طرح اللہ کو پکارا جاتا ہے یا اس سے دعائیں مانگی گئیں تو یہ اس کی عبادت ہو گی اور اللہ کی عبادت سے صریح انحراف ہو گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے دعا کو عبادت سے تعبیر فرمایا ہے :

 

الدُّعَا ہُوَ الْعِبَادَۃُ " دعا عبادت ہی ہے "(ترمذی کتاب التفسیر)

 

اس لیے زبان پر یا اللہ، یا رب، یا رحمٰن، یا رحیم جیسے کلمات ہونے چاہئیں لیکن موجودہ دور کے مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو یا علی، یا غوث(عبدالقادر جیلانی) اور یا خواجہ کی رٹ لگاتے ہیں اور شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۲۴۷ ، ۲۴۸۔

 

۸۵۔۔۔۔۔۔ تاکہ دن کی روشنی میں معاشی دوڑ دھوپ کر سکو۔

 

۸۶۔۔۔۔۔۔ یعنی جس نے تمہاری پرورش کا یہ سامان کیا ہے وہی تمہارا مالک ہے۔

 

۸۷۔۔۔۔۔۔ یعنی جو خالق اور مالک ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے مگر تم شیطان کے بہکاوے میں آ کر اتنی واضح حقیقت سے بھی انحراف کرتے ہو۔

 

۸۸۔۔۔۔۔۔ مراد گزری ہوئی کافر قومیں ہیں۔

 

۸۹۔۔۔۔۔۔ یعنی زمین کو اس قابل بنایا کہ اس میں جنبش نہ ہو اور تم اس پر آسانی سے چل پھر سکو اور چین کے ساتھ رہو بسو۔

 

۹۰۔۔۔۔۔۔ آسمان کے سلسلہ میں دیکھئے سورۂ انشقاق نوٹ ۱۔

 

۹۱۔۔۔۔۔۔ یعنی دیگر جاندار مخلوق کے مقابلہ میں انسان کو بہترین صورت عطا کی۔

 

۹۲۔۔۔۔۔۔ جانوروں کو کیسی گھٹیا چیزیں کھانے کے لیے ملتی ہیں اور بعض جاندار تو گندگی ہی میں پلتے ہیں لیکن انسان کو کیسی صاف ستھری اور نفیس غذا ملتی ہے۔ یہ اللہ کا انسان پر کتنا بڑا احسان ہے۔

 

۹۳۔۔۔۔۔۔ یعنی وہی ایک ہے جو ہمیشہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ رہی اس کی مخلوق تو اس کو جو زندگی ملی ہے اسی کے عطا کرنے سے ملی ہے۔

 

۹۴۔۔۔۔۔۔ اپنے کو اللہ کے حوالہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پورے شعور کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ مجھے اللہ کے تابع فرمان بن کر رہنا اور اس کی مکمل اطاعت کرنا ہے۔ جو شخص سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کرتا ہے وہ اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے کیوں کہ جب اللہ نے کسی اور کی عبادت کرنے سے منع کر دیا ہے تو وہ اتنی بڑی معصیت کا کام کیسے کر سکتا ہے۔ اللہ کی اطاعت اور غیر اللہ کی عبادت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔

 

۹۵۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حج نوٹ ۷۔

 

۹۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حج نوٹ ۸۔

 

۹۷۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حج نوٹ ۹۔

 

۹۸۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حج نوٹ۔۱۲

 

۹۹۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حج نوٹ ۱۴ ، ۶۱۔

 

۱۰۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کسی کو جوانی سے پہلے اور کسی کو بڑھاپے سے پہلے۔

 

۱۰۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جس کے لیے جو عمر مقدر ہے وہ اس کو پورا کر لے۔ بالفاظ دیگر آدمی مرتا اسی وقت ہے جب کہ وہ اس مدت کو پورا کر چکا ہو جو اللہ نے اس کے زندہ رہنے کے لیے مقرر کی تھی۔

 

۱۰۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں تخلیق کے ان مرحلوں سے اور اس کے بعد طفولیت، جوانی اور بڑھاپے سے اس لیے گزارا جاتا ہے کہ تم عقل و شعور سے کام لو اور اپنے خالق اور رب کو پہچانو۔

 

۱۰۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے کلام اور اس کے احکام کے بارے میں الٹی سیدھی بحثیں کرتے ہیں۔

 

۱۰۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان پر شیطان کا جادو چل گیا ہے۔ وہ انہیں حق سے پھیر کر ادھر اُدھر بھٹکا رہا ہے۔

 

۱۰۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان تعلیمات کو جن کو لے کر رسول آئے تھے۔

 

۱۰۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ وقت دور نہیں کہ جب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ جس چیز کو انہوں نے جھٹلایا تھا وہ حق تھا۔

 

۱۰۷۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد قیامت کا دن ہے۔

 

۱۰۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم جن کا نام جپتے تھے اور جن کو اپنی حاجتیں پوری کرنے کے لیے پکارتے تھے ان کا کوئی خدائی وجود نہیں تھا۔ پھر وہ حواس باختہ ہو کر اس بات کی نفی کریں گے کہ ہم سرے سے ان کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اس طرح وہ اپنے معبودوں سے بالکل بے تعلقی کا اظہار کریں گے۔

 

۱۰۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بدحواسی میں مبتلا کرے گا۔

 

۱۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اتنی سخت سزا تمہیں اس لیے دی جا رہی ہے کہ دنیا میں تم کو جو نعمتیں حاصل ہوئی تھیں ان پر اتراتے رہے جب کہ ان کے حاصل ہو جانے پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا۔ اسی طرح تم اپنے غرور اور گھمنڈ کی وجہ سے حق کی مخالفت کرتے رہے۔ حالانکہ اس کے آگے تمہاری گردنیں جھک جانا چاہیے تھیں۔

 

۱۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کا یہ وعدہ کہ رسول کو جھٹلانے والی قوم بالآخر عذاب سے دو چار ہو گی۔

 

۱۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ یونس نوٹ ۷۵۔

 

واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قوم میں سے ایک بڑی تعداد رفتہ رفتہ ایمان لے آئی اس لیے اس پر اس طرح کا کوئی عذاب نہیں آیا جیسا کہ گزشتہ قوموں پر آیا تھا بلکہ کافروں کا قلع قمع اہل ایمان کی تلوار کے ذریعہ کیا گیا۔

 

۱۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن میں جن انبیاء علیہم السلام کا ذکر ناموں کی صراحت کے ساتھ ہوا ہے وہ ہیں آدم، نوح، ہود، صالح، ادریس، ابراہیم، لوط، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، الیاس ،الیسع، ذوالکلفل، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم۔ ان انبیاء علیہم السلام میں خاصی تعداد رسولوں کی ہے۔ رسول نبی کی بہ نسبت خاص ہے۔ اسے کسی قوم کی طرف پیغام دے کر بھیجا جاتا ہے جب کہ نبی پر وحی تو نازل ہوتی ہے لیکن اس کے سپرد کچھ مخصوص کام ہوتے ہیں مثلاً حضرت آدم نبی تھے جن کا کام اپنی اولاد کی رہنمائی کی حد تک محدود تھا کیوں کہ اس وقت کوئی قوم وجود ہی میں نہیں آئی تھی کہ اس کی طرف رسول بھیجا جاتا۔ اس طرح حضرت خضر کا جن کے نام کی کوئی صراحت قرآن میں نہیں بلکہ حدیث میں ہوئی ہے کارِ نبوت عالمِ اسباب کے بعض اسرار پر سے پردہ اٹھانا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی اصطلاحی معنی میں رسول نہیں ہوتا۔

 

قرآن نے بیشتر ان ہی پیغمبروں کا ذکر کیا ہے جو اپنی ایک تاریخ رکھتے تھے اور حجت قائم کرنے کے لیے ان ہی کے حالات بیان کرنا مفید ہو سکتا تھا۔ لیکن قرآن صراحت کرتا ہے کہ ان کے علاوہ بھی پیغمبر بھیجے گئے جن کی بعثت مختلف زمانوں اور مختلف قوموں میں ہوئی۔ ان تمام پیغمبروں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ رہی ان کی تعداد تو نہ قرآن میں تعداد بیان ہوئی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ جن روایتوں میں انبیاء اور رسولوں کی تعداد بیان ہوئی ہے ان میں سے کوئی بھی صحت کے درجے پر پوری نہیں اترتی۔ اس سلسلہ کی مشہور روایت ابو ذر سے ہے جس کو ابن مرودیہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ہوئے ہیں جن میں سے تین سو تیرہ رسول تھے لیکن اس کا ایک راوی ابراہیم بن ہشام ہے جس کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل نے بہت کچھ کلام کیا ہے اور ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات(گھڑی ہوئی حدیثوں) میں شمار کیا ہے۔(ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص ۵۸۶)

 

۱۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں آیۃ(نشانی) سے مراد معجزہ ہے اور معجزہ دکھانا کسی رسول کے اختیار کی بات نہیں ہے بلکہ جب اللہ کی حکمت متقاضی ہوتی ہے وہ اپنے رسول کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کرتا ہے۔

 

۱۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ حکم سے مراد فیصلہ کن حکم ہے۔

 

۱۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً ان چوپایوں سے دودھ اور مکھن حاصل ہوتا ہے ، ان کو چمڑا اون اور ہڈیاں تمہاری مختلف ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔

 

۱۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کو بار برداری کے کام میں لاسکو اور یہ ایسی اہم ضرورت ہے جس کو تم خود اپنے نفس میں محسوس کرتے ہو۔ اور یہ واقعہ ہے کہ مشینی دور سے پہلے بار برداری کا کام چوپایوں ہی سے لیا جاتا تھا۔ زمین جوتنے اور آبپاشی کی خدمت بھی چوپایوں سے لی جاتی ہے۔

 

۱۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم کو چوپائے بھی اٹھائے اٹھائے پھرتے ہیں اور کشتیاں بھی۔

 

۱۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ چوپائے جن سے تمہارے طرح طرح کے فوائد وابستہ ہیں اور یہ کشتیاں جو تمہیں اٹھائے پھرتی ہیں کیا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ یہ سب تمہاری پرورش کا سامان ہے جو اللہ نے کیا ہے۔ اس کی ربوبیت کی ان صریح نشانیوں کو دیکھتے ہوئے تم اس کے رب حقیقی اور الٰہ واحد ہونے کا کس طرح انکار کرتے ہو؟

 

۱۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے ان تباہ شدہ قوموں کی طرف جن کی تاریخ اور جن کے آثار سے عبرت حاصل کی جاسکتی ہے۔

 

۱۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مذہب کا جو ناقص علم ان کے پاس تھا اور دنیوی علوم و فنون میں جو درک ان کو حاصل ہو گیا تھا اس پر وہ نازاں ہو گئے اور اس علمِ حقیقی کی قدر نہیں کی جس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے اور جس کی تعلیم وقت کا رسول دے رہا تھا۔

 

موجودہ دور تو سائنس اور ٹکنالوجی کا دور ہے اور آج کا انسان ان مادی علوم و فنون ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے جب کہ اس علم سے وہ حقائق روشن نہیں ہوتے جو علمِ نبوت سے روشن ہوتے ہیں۔ جس علم کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اس کی رسائی اس دنیا کے خول سے باہر نہیں ہے۔ اس سے نہ اب تک مقصدِ زندگی کا تعین ہو سکا ہے اور نہ یہ معلوم ہو سکا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ہے اور نہ ہی یہ اس کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اگر انسان میں یہ احساس جاگ اٹھے تو وہ اس علم کی طرف بڑھے جس سے یہ سب عُقدے حل ہو جاتے ہیں اور قرآن کا قدر داں بن جائے جو علوم و معارف کا خزانہ ہے۔

 

۱۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب اللہ کا عذاب آیا تو اپنے بتوں اور دیوی دیوتاؤں کو بھول گئے۔ اس وقت انہوں نے اللہ کے واحد معبود اور رب ہونے کا اقرار کیا اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کا انکار کیا۔

 

۱۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عذاب کو دیکھ لینے کے بعد مہلتِ عمل ختم ہو جاتی ہے اور امتحان کا وقت باقی نہیں رہتا اس لیے اس وقت ایمان لانا بے سود ہوتا ہے ایمان وہی معتبر ہے جو عذاب کو دیکھ لینے سے پہلے یا موت کے آنے سے پہلے لایا جائے۔

 

٭٭٭٭٭