دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ العَصر

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

 پہلی آیت میں  عصر (زمانہ ) کی قسم کھائی گئی ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام اَلْعَصْر ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت کے  ابتدائی مرحلہ میں  نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ انسانی قافلہ تیزی کے ساتھ ابدی ہلاکت کی طرف گامزن ہے۔ اس ہلاکت سے وہی لوگ بچ سکتے ہیں  جو ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کریں  اور اس کے تقاضوں  کو پورا کریں۔

 

نظم کلام

 

 یہ سورہ تین مختصر آیتوں  پر مشتمل ہے مگر معنیٰ کے لحاظ سے اس قدر جامع ہے کہ نہ صرف انسانیت کے عروج و زوال کی پوری تاریخ اس میں  سمٹ کر آ گئی ہے بلکہ مینارہ ہدایت بن کر افراد ، قوموں  ، اور ملتوں  کو صحیح سمت سفر سے آگاہ کر رہی ہے تاکہ وہ منزل مقصود کو پہنچ جائیں  اور غلط راہ پر پڑ کر تباہی کے گڑھے میں  گرنے سے بچیں۔

 

زمانہ کی شہادت اس بات کی تائید میں  پیش کی گئی ہے کہ انسان تباہی س نہیں  بچ سکتا اگر وہ اپنے اندر ایمانی اوصاف نہ پیدا کر لے۔

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانہ کی قَسم ۱*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان گھاٹے میں  ہے ۲*

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ سواۓ ان لوگوں  کے جو ایمان لاۓ ۳* اور جنہوں  نے نیک اعمال کیے ۴* اور ایک دوسرے کو حق کی ہدایت ۵* اور صبر کی تلقین کی۔ ۶*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے ہم واضح کر چکے ہیں  کہ قرآن میں  مختلف چیزوں  کی جو قسمیں  کھائی گئی ہیں  وہ ان کے تقدس یا عظمت کی بنا پر نہیں  کھائی گئی ہیں  بلکہ بطور شہادت اور دلیل کے کھائی گئی ہیں۔ یہاں  زمانہ کی قسم بھی اسی مفہوم میں  ہے۔

 

متن میں  لفظ  ’’ عصر‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی زمانہ کے ہیں۔ یہ لفظ خاص طور سے زمانہ کی تیز روی اور برق رفتاری کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ بات جس پر زمانہ کی گواہی پیش کی گئی ہے یہ گواہی درج ذیل پہلوؤں  سے ہے :

 

        (۱)۔ انسان کے پاس سب سے زیادہ قیمتی چیز وقت ہی کا سرما یہ ہے جو گزرتے ہوۓ زمانہ کا ایک حصہ ہے۔ یہ وقت نہایت محدود ہے اور بڑی تیزی سے گزر جاتا ہے۔ جس طرح برف ہر لمحہ پگھلتی رہتی ہے اور اگر ایک تاجر اس کو جلد فروخت کر کے اس کی قیمت کھڑی نہ کر لے برف ختم ہو جاۓ گی اور اس کے پلہ کچھ بھی نہ پڑے گا اسی طرح انسان کو جو مہلت عمر ملی ہے اس سے اگر وہ فائدہ نہ اٹھاۓ اور اپنی عاقبت کا سامان نہ کرے تو وہ اس کا سرمایہ برابر گھٹ رہا ہے۔ گویا سیکنڈ کی سوئی جس تیزی کے ساتھ چلتی ہے اسی تیزی کے ساتھ وہ ہماری عمر کو گھٹا کر ہمارے نقصان میں   اضافہ ہی کرتی رہتی ہے الا یہ کہ ہم وقت کی قدر پہچانیں  اور اس کو ان کاموں  میں  گزاریں  جو مفید نتائج پیدا کرنے والے اور ہماری عاقبت کو سنوارنے والے ہوں۔

 

        (۲)۔ تاریخ کے وہ واقعات جو عذاب الہی کا مظہر تھے اس بات کا ثبوت ہیں  کہ جن قوموں  نے کفر و سرکشی ، مخالفت حق اور ظلم و فساد کی راہ اختیار کی وہ ہلاکت سے دو چار ہوئیں۔ گویا زمانہ اپنی تاریخ کے آئینہ میں  اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ ہلاکت و تباہی سے دو چار ہونے والے کون ہیں  اور اس سے بچنے والے کون۔

 

        (۳)۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے نہ کہ سیر و تفریح کی جگہ۔ اس امتحان گاہ میں  انسان کو مختلف موضوعات پر پرچے حل کرنے کے لیۓ دیۓ گۓ ہیں  اور اس کے لیۓ وقت بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ لہذا جو شخص  پر چہ حل کرنے کے بجاۓ تفریح میں  وقت گزار دیتا ہے وہ لازماً اپنا نقصان کرتا ہے اور وقت کو ضائع کرنے والے کے لیۓ ناکامی مقدر ہے۔

 

ان پہلوؤں  کے علاوہ عصر کی قسم میں  یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ دنیا کے خاتمہ کا وقت قریب آ لگا ہے گویا آخری نبی کی بعثت اور قیامت کے درمیان اتنا ہی فاصلہ رہ گیا جتنا کہ انسانی آبادی کی کل عمر کو ایک دن فرض کرنے کی صورت میں  عصر اور مغرب کے درمیان ہوتا ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث ہے کہ :

 

اِنمَّا بَقاعُ کُمْ فِیْمَنْ سَلَفَ قَبْلَکُمْ مِنَالْقُمَمِ کَمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔ (روح المعانی ج ۱۰ ص ۲۹۲ بحوالہ بخاری)۔

 

’’جو امتیں  گزر چکیں  ان کے مقابلہ میں  تمہارا دنیا میں  رہنا اتنے ہی وقت کے لیے ہے جتنا وقت کہ نماز عصر اور غروب آفتاب کے درمیان ہوتا ہے ‘‘۔

 

خسران سے مراد زندگی بھر کا گھاٹا یعنی دائمی تباہی اور ہلاکت ہے جس سے فیصلہ کے دن انسان کو دوچار ہونا ہو گا۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت کی ابدی ہلاکت سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو ایمان لا کر صالحیت کی زندگی اختیار کریں  گے۔

 

ایمان لانے کا مطلب سورہ بقرہ نوٹ ۶ میں  بیان کیا جا چکا ہے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہو کہ آخرت کے خسارہ سے بچنے کے لیے صرف ایمان لانا کافی نہیں  بلکہ اس کے ساتھ عمل صالح بھی ضروری ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جہاں  ایمان حقیقۃً موجود ہو گا وہاں اس کی روشنی سے عملی زندگی بھی منور ہو گی اور انسان نیک کردار بنے گا۔ لیکن جہاں  ایمان محض جامد عقیدہ کی شکل میں  ہو گا جس نے شعور کو متاثر نہ کیا ہو تو عملی زندگی بھی سنور نہ سکے گی۔ اچھے بیج سے اچھا درخت ہی پیدا ہوتا ہے اور خراب بیچ  خراب درخت۔ اس لیے ہو نہیں  سکتا کہ ایمان تو دل میں  موجود ہو اور عملی زندگی فسق و فجور سے بھی ہوئی ہو۔ عملی زندگی کا فساد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمان صحت کی حالت میں  موجود نہیں  ہے۔

 

اعمال صالحہ کی حقیقت علامہ فراہی نے بڑی عمدگی سے بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں  :

 

’’ اللہ تعالیٰ نے اعمال حسنہ کو صالحات سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس لفظ کے استعمال سے اس عظیم حکمت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ انسان کی تمام ظاہری و باطنی دینی و دنیوی، شخصی و اجتماعی ، جسمانی وہ عقلی صلاح و ترقی کا ذریعہ اعمال حسنہ ہی ہیں۔ یعنی عمل صالح وہ عمل ہوا جو انسان کے لیے زندگی اور نشو و نما کا سبب بن سکے اور جس کے ذریعہ سے انسان ترقی کے ان اعلیٰ مدارج تک ترقی کر سکے جو اس کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ (مجموعہ تفاسیر فراہی ص ۳۵۲)

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ حق اور صبر اگرچہ اعمال صالحہ میں  شامل ہیں  لیکن چونکہ بنیادی نیکیوں  میں  سے ہیں  اس لیے ان کا ذکر خصوصیت کے ساتھ فرمایا ہے۔

 

حق اس بات کو کہتے ہیں  جو سچی ، مبنی بر عدل اور مطابق حقیقت ہو۔ یہ باطل کی ضد ہے اور اس کا اطلاق پورے دین حق پر بھی ہوتا ہے اور اس کی تعلیمات پر بھی نیز اس کلمہ حق پربھی جو عدل و انصاف کے تقاضے کے تحت ظالم حکمرانوں  یا باطل پرستوں  کے سامنے پیش کیا جاۓ۔ علاوہ ازیں  اس کا اطلاق ان حقوق پر بھی ہو تو ہے جن کا ادا کرنا اخلاقاً یا شرعاً انسان پر واجب ہے مثلاً خدا کا حق، ماں  باپ کا حق، رشتہ داروں  کا حق، پڑوسیوں  کا حق، غریبوں  کا حق وغیرہ۔

 

اہل ایمان کے ا س وصف کا جو ذکر فرمایا کہ وہ حق کی ایک دوسرے کو ہدایت کرتے ہیں  تو اس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو جاتی ہے کہ اہل ایمان حق پر نہ صرف خود جمے رہتے ہیں  بلکہ وہ دوسروں  کو بھی اس کی ہدایت و تلقین کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اہل ایمان ایسے بے حس نہیں  ہوتے کہ باطل ابھر رہا ہو یا معاشرہ میں  خلاف حق اور منکر باتیں  عام ہو رہی ہوں  اور وہ خاموش تماشائی بنے رہیں  بلکہ وہ اپنی معاشرتی اور اجتماعی ذمہ داری محسوس کرتے ہوۓ حق کی آواز بلند کرتے ہیں  اور ایک دوسرے کی اصلاح کے لیے کوشاں  رہتے ہیں۔

 

ضمناً اس سے یہ اصولی بات بھی ثابت ہوتی ہے  اظہار حق اہل ایمان کا حق ہے اور اس کی آزادی بہر حال انہیں  ہونی چاہیے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ حق کو قبول کرنے ، اس کی حمایت کرنے ، کلمہ حق کہنے اور راہ حق پر چلنے کے نتیجہ میں  طرح طرح کی مشکلات پیش آتی ہیں ، تکالیف اور مشقتوں  کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مخالفتوں  کے طوفان سے گزرنا پڑتا ہے۔ نقصانات بھی برداشت کرنا پڑتا ہے اور قربانیاں  بھی دینا پڑتی ہیں  اس لیے حق کے ساتھ صبر و استقامت، تحمل و بردباری اور عزم و حوصلہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ صبر کے مفہوم میں  یہ تمام باتیں  شامل ہیں  اور اسی مناسبت سے صبر کی تلقین کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔