دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ المُزمّل

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

سورہ کے آغاز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو المُزّمِّل (چادر میں لپٹنے والے ) فرماکر خطاب کیا گیا ہے ۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’المُزّمِّل‘ ہے ۔

 

 

زمانۂ نزول

 

مکہ کے دور اول میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ آپ کی مخالفت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا البتہ آخری آیت ایک عرصہ بد جبکہ پنجوقتہ نماز کا حکم آ چکا تھا نازل ہوئی۔

 

مرکزی مضمون

 

مقام رسالت کی گراں بار ذمہ داریوں کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام لیل( رات کو اٹھ کر نماز میں مشغول ہوجانے ) کی ہدایت اور رسول کا انکار کرنے والوں کو تنبیہ۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۹ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامِ لیل کی ہدایت دی گئی ہے اور تربیتِ نفس کے پہلو سے اس کی جو افادیت ہے اس کو بھی واضح کیاگیا ہے ۔

 

آیت ۱۰ تا ۱۴ میں آپ کو مخالفین کی باتوں پر صبر کی تلقین کرتے ہوئے ان کے انجام کو بیان کیاگیا ہے ۔

 

آیت ۱۵ تا ۱۹ میں کفار مکہ کو خبردار کیاگیا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا تو دیکھ لو فرعون نے جب رسول کی نافرمانی کی تو اس کا کیا انجام ہوا اور تم کفر کے آخرت کے عذاب سے کس طرح بچ سکو گے ۔

 

آیت ۲۰ میں قیام لیل کے اس حکم میں جو ابتدائی آیات میں دیاگیا تھا حالات کے پیش نظر تخفیف کر دی گئی اور فرض نمازوں کے اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی ہدایت کی گئی۔

ترجمہ

اللہ رحمن ورحیم کے نام سے

 

(۱) اے چادر میں لپٹنے والے ! ۱*

 

(۲) رات کو( نماز میں ) قیام کرو بجز تھوڑے حصہ کے ۔ ۲*

 

(۳) آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم کر دو۔ ۳*

 

(۴) یا اس سے کچھ زیادہ کر لو۔ ۴* اور قرآن کو ترتیل ۵* کے ساتھ( یعنی صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر) پڑھو۔

 

(۵) ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں ۔ ۶*

 

(۶) واقعی رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لیے نہاتے موثر اور قول کو زیادہ درست رکھنے والا ہے ۔ ۷*

 

(۷) دن میں تمہارے لیے طویل مصروفیتیں ہیں ۔ ۸*

 

(۸) اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔ ۹* اور سب سے بے تعلق ہو کر اسی کے ہو رہو۔۱۰*

 

(۹) وہ مشرق و مغرب کے رب ہے ۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بنا لو۔۱۱*

 

(۱۰) یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ان کو خوبصورتی کے ساتھ چھوڑ دو۔ ۱۲*

 

(۱۱) اور ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑدو اور انہیں تھوڑی مہلت دے دو۔

 

(۱۲) ہمارے پاس ان کے لیے بیڑیاں اور جہنم کی آگ ہے ۔

 

(۱۳) اور حلق میں پھسنے والا کھانا اور دردناک عذاب ۔

 

(۱۴) اس دن زمین اور پہاڑ لز اٹھیں گے ۔ ۱۳* اور پہاڑ بکھری ہوئی ریت بن جائیں گے ۔

 

(۱۵) ہم نے تم لوگوں کی طرف ایک رسول تم پر گواہ بناکر بھیجا ہے ۔ ۱۴* جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔

 

(۱۶) تو فرعون نے رسول کی نافرمانی کی بالآخر ہم نے اس کو سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔

 

(۱۷) اگر تم نے کفر کیا تو اس دن( کی سختی) سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ ۱۵*

 

(۱۸) آسمان اس( دن کی سختی) سے پھٹ پڑے گا۔ اس کا وعدہ(کہ قیامت برپا ہوگی) پورا ہو کر رہے گا۔

 

(۱۹) یہ ایک یاددہانی ہے ۱۶* تو جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کی راہ اختیار کر لے ۔ ۱۷*

 

(۲۰) ( اے نبی!) تمہارا رب جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب یا نصف شب یا ایک تہائی شب( نماز میں ) کھڑے ہوتے ہو۔ ۱۸* اور تمہارے ساتھیوں میں سے ایک گروہ بھی۔ ۱۹* اللہ ہی رات اور دن کے اوقات مقرر کرتا ہے ۔ ۲۰* اسے معلوم ہے کہ تم اس کا ٹھیک ٹھیک شمار نہیں کر سکتے ۔ ۲۱* لہٰذا اس نے تم پر عنایت کی تو جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ ۲۲* اسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہوں گے اور ایسے بھی جو اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کریں گے اور ایسے بھی جو اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کریں گے اور ایسے بھی جو اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے تو جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ ۲۳* اور نماز قائم کرو ۲۴* زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دو۔ ۲۵* جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے تم اللہ کے یہاں موجود پاؤ گے ۔ ۲۶* وہ بہتر اور اجر میں بڑھ کر ہوگی۔ اللہ سے استغفار کرو۔ ۲۷* وہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  اس سورہ کے نزول کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم چادر میں لپٹے ہوئے تھے ۔ اس لیے آپ کو المُزمّل کہہ کر خطاب کیاگیا جو بڑا پیار بھرا خطاب ہے اور جس میں آپ کی قلبی تسکین کا سامان بھی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ آپؐ کے رب نے آپ کو خلعت نبوت سینوازا ہے لہٰذا اس کے شکر کے طور پر آپ قیامِ لیل کا اہتمام کریں اور قرآن کی یہ شانِ بلاغت ہے کہ وہ ظاہر سے باطن کی طرف متوجہ کرتا ہے جس کی مثال سورۂ اعراف کی آیت ۲۶  ہے جس میں لباس کا جب ذکر ہوا تو لِبَاسُ التَّقْویٰ ذٰلِکَ خَیرٌ فرما کر تقویٰ کے لباس کی طرف متوجہ کیاگیا تاکہ انسان ظاہری لباس کے ساتھ باطنی لباس سے بھی اپنے کو آراستہ کرے ۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی پوری رات بجز تھوڑے حصہ کے عبادت ( نماز) میں گذارو۔ تھوڑے حصہ سے مراد رات کا ایک تہائی حصہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ رات کے ایک تہائی حصہ میں آرام کرو اور دو تہائی حصے عبادت میں گزارو چنانچہ آیت ۲۰ میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو تہائی رات عبادت میں گزارا کرتے تھے ۔

 

اس طویل قیام لیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رات کی ان نمازوں کے لیے رکعتوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے ۔ جو شخص جتنی رکعتیں پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے البتہ یہ مطالبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی سے بھی نہیں کیا کہ وہ پوری رات عبادت یں گذارے اور آرام اس کے کسی حصہ میں بھی نہ کرے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل جیسا کہ آخری آیت سے واضح ہے اس زمانہ میں دو تہائی شب یا اس سے کم وقت عبادت میں مشغول رہنے کا رہا لہٰذا جن بزرگان دین کی مثالیں قیام لیل کے تعلق سے پیش کی جاتی ہیں کہ وہ پوری رات عبادت میں گذارتے تھے وہ ان کی شدت تھی جس کا حکم نہ شریعت نے دیا ہے اور نہ وہ لوگوں کے لیے کوئی مثالی چیز ہو سکتی ہے ۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی نصف شب قیام کر دیا اس سے کم یعنی ایک تہائی رات۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یا نصف سے زیادہ یعنی دو تہائی رات قیام کرو۔

 

ان احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامِ لیل کا جو حکم آغاز میں دیاگیاتھا اس میں یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ آپ کم از کم ایک تہائی رات اور زیادہ سے زیادہ دو تہائی رات نماز میں گزاریں ۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  ترتیل کے معنی مفرداتِ راغب میں اس طرح بیان ہوئے ہیں ۔

 

والترتیل ارسال الکلمۃ من القم لبھولۃ و استقامۃ ’’ ترتیل یہ ہے کہ زبان سے کلمات بسہولت اور درست طریقہ ادا کئے جائیں ۔ ‘‘ ( ص ۱۸)

 

اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ الفاظ صاف صاف ادا کے جائیں ، قرأت آیتوں پر وقف کرتے ہوئے اس طرح کی جائے کہ اس کا حسن نمایاں ہو اور اس کے اثرات پڑھنے والے کے قلب و ذہن پر مرتب ہوں ۔

 

ترتیل نہ تو یہ ہے کہ قرآن کو گا گا کر پڑھا جائے اور فنی مہارت کا مظاہرہ کیا جائے اور نہ یہ ہے کہ اس کو پڑھنے کی رفتار ایسی سست ہو کہ اس کلام میں دریا کی سی جو روانی ہے وہ ظاہر نہ ہو سکے ۔

 

بعض حفاظ تراویح میں قرآن کو اس تیزی کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ سننے والوں کے کچھ پلے نہیں پڑتا اور کلام الٰہی کا وقار متاثر ہوجاتا ہے ۔ ان کی یہ قرأت ترتیل کے صریح خلاف ہوتی ہے اور وہ صرف بوجھ اتارنے کا کام کرتے ہیں ۔

 

قرآن کی قرأت تو اس اندازسے ہونی چاہیے کہ اس سے خشیت اور رقت پیدا ہو مگرموجودہ زمانہ کے قاری حضرات عام طور سے اپنی خوش الحانی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو تکلف سے خالی نہیں ہوتا ہے ۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  قولاً ثقیلاً۔(بھاری بات ) سے مراد جہاد کا حکم ہے جو یقینا ایک ذمہ داری ہے ۔ آیت کامطلب یہ ہے کہ قبل اس کے کہ جہاد کی عظیم ذمہ داریاں آپ پر آپریں آپ رات کی عبادت گذاری میں زیادہ مشغول رہیں کہ جہاد کی مصروفیات رات کے طویل قیام میں مانع ہوں گی۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  ناشئۃ اللیل( رات کا اٹھنا) کا مطلب رات کو نیند سے بیدار ہوجانا اور آرام کو چھوڑ کر نماز کے لیے کھڑے ہوجانا ہے ۔ اس وقت آرام کو قربان کرنا نفس پر گراں ہوتا ہے لیکن جب ایک مومن عبادتِ الٰہی کے لیے اٹھنے کی ہمت کرتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا نفس زیر ہوجاتا ہے اور نفس پر قابو پالینے کے بعد دین کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا آسانہوجاتا ہے ۔ اس کا دوسرا اہم ترین فائدہ یہ بیان کیاگیا ہے کہ یہ قول کو زیادہ درست رکھنے والا ہے ۔ رات کا وقت چونکہ سکون کاہوتا ہے اس لیے یہ فہم قرآن اور غور و فکر کے لیے نہایت موزوں وقت ہوتا ہے ۔ اس وقت جو کلمات زبان سے نکلیں گے خواہ وہ قرآن کی آیات ہوں یا دعا اور اذکار وہ دل کی گہرائیوں سے نکلیں گے اس لیے ان کی ادائیگی پختگی کے ساتھ ہوگی۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیتیں مکہ میں بھی بہت زیادہ تھیں ۔ دعوت و تبلیغ کی مصروفیات کے علاوہ اپنے ساتھیوں کو قرآن کی سورتیں حفظ کرانے اور ان کی تربیت کرنے میں بھی آپ کو مشغول رہنا پڑتا تھا۔ اس لیے رات کا وقت ہی طویل قیام کے لیے موزوں ہو سکتا تھا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  رب کے نام کا ذکر کرنے میں دل کے ساتھ زبان کا ذکر بھی شامل ہے ۔ زبان سے جب اللہ کا بہ کثرت ذکر کیا جاتا ہے تو اس کی یاد دل میں رچ بس جاتی ہے اس لیے ذکر لسانی کی بھی دین میں بڑی اہمیت ہے ۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کا یہ مطلب نہیں کہ مخلوق سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھو بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدا سے تعلق کی جو نوعیت ہے اور اس کا جو دائرہ ہے وہ اسی کے لیے خاص ہونا چاہیے مثلاً اسی کو حاجت روا سمجھ کر اپنی حاجتیں اس کے سامنے پیش کرو۔ اسی کو ماویٰ و ملجا سمجھ کر اس کی طرف رجوع کرے ، فریاد رسی کے لیے اسی کو پکارو، اسی کو معبود مان کر اسی کی عبادت کرو، اسی کی نام کی تسبیح کرو، اور اسی سے امیدیں وابستہ کرو ۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اپنے تمام معاملات اس کے سپرد کر دو اور یقین رکھو کہ کار سازِ حقیقی وہی ہے ۔ دوسرا کوئی نہیں جو تمہارے کام بنا سکے۔

 

انسان کسی کام کا ارادہ کرے اور کیسا ہی شاندار منصوبہ بنائے اس کی تکمیل اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچانا اللہ ہی کا کام ہے ورنہ باوجود کوششوں کے کام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ اس کا تجربہ روز مرہ کی زندگی میں انسان کو ہوتا رہتا ہے ۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مخالفین کی اذیت دہ باتوں پر صبر کر و اور ان سے الجھے بغیر اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کئے بغیر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی شدید زلزلہ سے ہلا دئے جائیں گے ۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  شاہد( گواہ) بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین کی گواہی دے ۔ یہ بات سورۂ بقرہ آیت ۱۴۳ میں بھی ارشاد ہوئی ہے اور سورۂ حج کی آخری آیت میں بھی اور سیاق و سباق( Context)  کے لحاظ سے اس کے یہ معنی بالکل واضح ہیں لیکن جن لوگوں نے دین میں شرک و بدعات کی آمیزش کی ہے وہ اس کے معنی حاضر و ناظر کرتے ہیں تاکہ ان کے اس باطل عقیدہ کی تائید ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرجگہ حاضر و ناظر ہیں اور ہر شخص کو دیکھ رہے ہیں اور اس کے احوال سے واقف ہیں جبکہ یہ عقیدہ اللہ کے سوا کسی کے بارے میں رکھا نہیں جا سکتا۔

 

اگر لغت میں شاہد کے معنی گواہ اور حاضر کے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیاق و سباق کو نظر انداز کر کے اس کے معنی حاضر و ناظر کے لئے جائیں جبکہ حاضروناظر کے الفاظ خاص معنی میں بولے جاتے ہیں ۔ سورۂ انبیاء میں ابراہیم ؑ کا ارشاد نقل ہوا ہے ۔

 

قَالَ بَلْ رَّبُّکُمْ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ اَلَّذِیْ فَطَرَہُنَّ وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکُمْ مِنَ الشّٰہِدِینَ ’’ابراہیم نے کہا نہیں بلکہ واقعی تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور ززین کا رب ہے ۔ اسی نے ان کو پیدا کیا ہے اور اس پر میں تمہارے سامنے گواہ ہوں ۔‘‘ (انبیاء: ۵۶)

 

ظاہر ہے من الشاہدین کے معنی گواہی دینے والے کے ہی ہو سکتے ہیں نہ کہ حاضر و ناظر ہونے کے ۔

 

سورۂ حج میں فرمایا:

 

لِیکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیدًا عَلَی کُمْ وَتَکُوْنُوْا شَہَدآءَ عَلَی النَّاسِ’’ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔‘‘ ( حج:۷۸)

 

اگر یہاں معنی ’’ رسول تم پر گواہ ہو‘‘ کے بجائے ’’ رسول تم پر حاضر و ناظر ہو‘‘ کئے جائیں تو ’’ تم لوگوں پر گواہ ہو‘‘ کے بجائے ’’ تم لوگوں پر حاضر و ناظر ہو‘‘ کرنا پڑیں گے ۔ اس طرح تمام اہل ایمان کو حاضر و ناظر ماننا پڑے گا، کتنے غلط معنی ہیں جو قرآن کی آیت کے لئے جارہے ہیں ۔ یہود اپنی کتاب کے کلمات کو اسی طرح الٹے سیدھے معنی پہناتے تھے جن کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

 

یحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ’’ وہ کلمات کو ان کی اصل جگہ سے پھیردیتے ہیں ۔‘‘(مائدہ: ۱۳)

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ احزاب نوٹ ۹۹۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  صاحبِ کشاف کہتے ہیں ’’ یہ شدت کی مثال ہے ۔ سخت مصیبت کے دن کے لیے کہا جاتا ہے یوم ے شِیبُ نواصی الاطفال یعنی یہ ایسا دن ہے جو بچوں کی پشانیوں کے بال سفید کر دے گا۔‘‘( تفسیر کشاف ج ۵ ص ۱۷۸)

 

گویا دن کا بچوں کو بوڑھا بنادینا عربی کا محاورہ ہے اس معنی میں کہ وہ دن سخت مصیبت کا ہوگا۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قرآن یاد دہانی اور نصیحت ہے ۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  واضح ہوا کہ قرآن کی نصیحت قبول کر کے ہی آدمی اللہ تک پہنچ سکتا ہے ۔ اس تک پہنچنے کی واحد راہ وہی ہے جو قرآن بتارہا ہے ۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ آخری آیت بھی مکی ہی ہے لیکن اوپر کی آیتوں کے نازل ہوجانے کے ایک عرصہ بعد نازل ہوئی اور اس میں قیامِ لیل کے حکم میں تخفیف کر دی گئی۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام لیل کا جو حکم آغازِ سورہ میں دیاگیا تھا اس کے مطابق آپ عمل کررہے تھے ۔ اس فقرہ میں آپ کی اس تعمیل کا ذکر ہوا ہے کہ آپ کبھی قریب دو تہائی شب عبادت میں گذاردیتے ہیں اور کبھی نصف شب اور کبھی ایک تہائی شب۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  قیام لیل کا تاکیدی حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا لیکن آپؐ کے ساتھیوں میں سے ایک گروہ اپنے شوقِ عبادت کی بنا پر رات کی اس نماز میں شریک ہوجایا کرتا تھا اور غالباً یہ نماز مسجدِ حرام میں ادا کی جاتی تھی۔ اس نماز میں صحابہ کرام کے ایک گروہ کے شامل ہونے سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ نماز ان پر واجب نہیں تھی بلکہ ان کے حق میں نفل تھی۔ اگر ان پر واجب ہوتی تو تمام صحابہ اس میں شریک ہوتے ۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رات کا کبھی چھوٹا اور کبھی بڑا ہونا اور اسی طرح دن کے اوقات کا گھٹنا اور بڑھنا سب اللہ کے بنائے ہوئے نظام الاوقات کے مطابق ہوتا ہے ۔ کسی کے اختیار میں نہیں کہ رات کو چھوٹا بنائے اور دن کو بڑا یا دن کو چھوٹا بنائے اور رات کو بڑا۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  اس زمانہ میں گھڑیاں نہیں تھیں اس لیے یہ معلوم کرنا مشکل تھا کہ ٹھیک نصف شب کب ہوتی ہے اور شب کا آخری ایک تہائی حصہ ٹھیک کس وقت شروع ہورہا ہے ۔ گھڑی اور الارم کی غیر موجودگی میں وقت کا صحیح اندازہ لگانا اور نیند سے ٹھیک وقت پر بیدار ہونا مشکل تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے پیروان رسول کو اس مشقت میں نہیں ڈالا اور آسان حکم دیا جو آگے بیان ہوا ہے ۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  قرآن پڑھنا نماز کا اہم ترین جزء ہے اس لیے ہاں جیسا کہ سیاقِ کلام(Context) سے واضح ہے قرأتِ قرآن سے مراد نماز ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ رات کی یہ نماز (تہجد) آسانی کے ساتھ جتنی پڑھ سکتے ہو پڑھو ۔ نصف شب یا اس سے کم و بیش قیام کرنا واجب نہیں ۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ قیامِ لیل ( رات کی نفل نمازوں ) کے لیے رکعتوں کی تعداد کی کوئی قید نہیں نہ رمضان میں نہ دوسرے مہینوں میں البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو آپؐ کے آخری دور میں رہا وہ یہ تھا کہ آپ ؐ آٹھ رکعتیں حسن و خوبی کے ساتھ ادا فرماتے جن میں طویل قرأت ہوتی اور رکوع اور سجدے بھی طویل ہوتے ۔

 

سورۂ بقرہ سورۂ ال عمران اور سورۂ نساء جیسی طویل سورتیں آپؐ نماز میں پڑھتے ۔ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ :

 

’’ آپ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے آپ چار رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ ان کی حسن ادائیگی اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپ چار رکعت پڑھتے جن کی حسن ادائیگی اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپ تین رکعتیں ( وتر کی) پڑھتے ۔‘‘ ( بخاری کتاب صلوٰۃ التراویح)

 

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان  بھی ہے کہ : ’’ آپ ؐ رات کے اول حصہ میں سوجاتے اور آحر شب میں اٹھتے اور نماز پڑھتے۔‘‘(بخاری ابواب التہجد)

 

رات کی یہ نفل نمازیں دو دو رکعتوں کی صورت میں جتنی تعداد میں چاہیں ادا کی جا سکتی ہیں ۔

 

حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:

 

’’ رات کی نماز کس طرح ادا کی جائے ؟ فرمایا مثنیٰ مثنیٰ یعنی دو دو رکعتوں کی صورت میں ۔ پھر جب صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھو۔‘‘( بخاری ابو اب التہجد)

 

اگر کوئی شخص رات کو نقل نماز( تہجد) نہ پڑھ سکے تو قرآن کی جتنی آیتیں آسانی سے پڑھ سکتا ہو پڑھ لے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ’’ جس نے رات کے وقت سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لیں تو وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘(بخاری کتاب فضائل القرآن)

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اس آیت میں ان حالات کی طرف اشارہ کر دیاگیا ہے جو آئندہ پیش آنے والے تھے جن کی رعایت کرتے ہوئے قیام الیل  کے حکم میں تخفیف کر دی گئی۔ کچھ لوگ مریض ہوں گے تو کچھ تجارتی سفر کریں گے اور ایسے بھی جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے ۔ ان سب صورتوں میں طویل قیام الیل مشقت میں ڈالنے والا ہوگا۔ اس لیے یہ آسانی پیدا کر دی گئی کہ جس قدر قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھو اور جتنی نفل نمازیں آسانی سے پڑھی جا سکتی ہیں پڑھو۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی فرض نماز یں پابندی کے ساتھ ادا کرو۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ حدید نوٹ ۲۱۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جو نیکی بھی تم آخرت کو نصب العین بناکر کرو گے وہ تمہارا محفوظ سرمایہ ہوگا جو آخرت میں تمہیں ملے گا۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ اس بات کی ترغیب ہے کہ نیک عمل کرتے ہوئے اپنے گناہوں اور قصوروں کا احساس ہونا چاہیے اور اس کے لیے اللہ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے ۔ حدیث میں بھی کثرت سے استغفار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔

 

٭٭٭٭٭