دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ التّکویر

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

اس سورہ کی پہلی آیت میں خبردار کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔  لپیٹنے کے لئے لفظ کُوِّرَتْ استعمال ہوا ہے۔  اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام التکویر ہے یعنی وہ سورہ جس میں لپیٹنے کا ذکر ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ سورہ مکی ہے اور مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو روزِ جزا سے خبردار کرنا ہے  اور یہ واضح کرنا ہے کہ پیغمبر اور قرآن اس کی جو خبر دے رہے ہیں وہ ہر قسم کے شبہہ سے بالاتر ہے۔  سابق سورہ میں قیامت کی ہولناکی کا ذکر تھا اس سورہ میں اس کی ہولناکی کی تصویر کھینچی گئی ہے کہ آدمی قیامت کو اپنے سامنے دیکھنے لگتا ہے گویا یہ سورہ قیامت کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔  چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : جو شخص روز قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہو وہ سورہ تکویر ، سورہ انفطار اور سورہ انشقاق کو پڑھ لے۔  ( تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۴۷۴بحوالہ احمد و ترمذی ) 

 

نظم کلام

 

آیت ؀ ۱  تا ؀ ۶  میں قیامت کے پہلے حادثہ ( نفخ اول )  کی تصویر کھینچی گئی ہے اور آیت ؀ ۷  تا ؀ ۱۴  میں دوسرے حادثہ (نفخ ثانی ) کی۔

 

آیت  ؀ ۱۵  تا ؀ ۲۵  قرآن اور پیغمبر قرآن کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ جو دعوت پیش کر رہے ہیں اور خبر دے رہے ہیں وہ حق و صداقت پر مبنی ہے۔

 

آیت ؀ ۲۶  تا ؀ ۲۹  میں منکرین کو تنبیہ ہے کہ قرآن کی راہ کو چھوڑنا حق و صداقت کی راہ کو چھوڑنا ہے اس لئے وہ سوچیں کہ اس سے انکار کر کے کس گڑھے میں گرنا چاہتے ہیں ؟

ترجمہ

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  جب سورج لپیٹ دیا جائے گا ۱*۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے ۲*۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔    اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے ۳*۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں بے کار  چھوڑ دی جائیں گی ۴*۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب  وحشی جانور اکٹھے کئے جائیں گے  ۵*۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور سمندر بھڑکا دئے جائیں گے ۶*۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب لوگوں کو مختلف گروہوں میں * بانٹ دیا جائیگا ۷*۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی ۸*۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب اعمال نامے کھول دئے جائیں گے ۹*۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی ۱۰*۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب جہّنم بھڑکائی جائے گی۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور جب جنت قریب لائی جائے گی ۱۱*۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر حاضر ہوا ہے ۱۲*۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔   پس نہیں ۱۳* ، میں قسم کھاتا ہوں ۱۴* غروب ہونے والے ۱۵*۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  چلنے والے ۱۶* ، اور چھپ جانے والے ۱۷* ستاروں کی ۱۸*۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور رات کی جب کہ وہ رخصت ہو۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور صبح کی جب کہ وہ سانس لے ۱۹*۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  کہ یقیناً یہ ایک معزز پیغامبر کا لایا ہوا * کلام ہے ۲۰*۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔   جو قوت والا ہے ۲۱* اور مالک عرش کے  ہاں بلند مرتبہ ۲۲* ہے۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  وہاں اس کا حکم مانا ۲۳* جاتا ہے اور وہ امانت دار ۲۴* ہے۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے ۲۵*۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اس نے اس فرشتہ کو کھلے افق پر دیکھا ہے  ۲۶*۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔    اور وہ غیب کی باتیں بتانے کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے ۲۷*۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے ۲۸*۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو ؟

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  یہ تو دنیا والوں کے لئے ایک  یاد دہانی ہے۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے ۲۹*۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  اور تم نہیں چاہ سکتے جب تک کہ اللہ ربُّ العالمین نہ چاہے ۳۰*۔

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔    سورج ہو لپیٹ دئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمانی چراغ جس کی روشنی کروڑہا میل تک پھیلی ہوئی ہے اور جس سے پورا عالم جگمگا رہا ہے قیامت کا دھماکہ ہوتے ہی گل ہو جائے گا اور جب سورج ہی تاریک ہو جائے گا تو یہ دنیا جس عظیم حادثہ سے دوچار ہو گی اس کے تصور ہی سے انسان کانپ اُٹھتا ہے۔ 

 

سورج اس کائنات کی سب سے بڑی طاقت ہے اور جدید سائنسی اکتشافات کے  مطابق زمین کی سطح سورج سے طاقت کی جو مقدار حاصل کرتی ہے  چار ملین ہارس پاور فی مربع میل ہے۔  گویا سورج  زمین کے لئے پاور ہاوس کی حیثیت رکھتا ہے۔  قرآن یہ خبر دیتا ہے کہ ایک روز آئے گا جب کہ سورج یہ عظیم طاقت کھو چکا ہو گا اور وہ قیامت کا دن ہو گا۔  یہ خبر خود اللہ دے رہا ہے  جو سورج سمیت  پوری کائنات کا خالق و مالک ہے تو یقین کرنے کے لئے یہ بات بالکل کافی ہے۔  تاہم جہاں تک سائنس کا تعلق ہے وہ بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے کہ سورج کو بالا آخر  تاریک ہونا ہے

 

 

“and eventually, the sun will become a black dwarf, a very dense, no luminous object of degenerate matter. “  (The New Encyclopedia Britannica Vol. 17 P 808)

 

ایک  زمانہ میں انسان سورج کو دیوتا سمجھ کر اس کی پوجا کرتا رہا ہے اور آج بھی جدید سائنسی اکتشافات کے باوجود سورج کے پرستاروں کی کمی نہیں ہے لیکن قرآن کا یہ بیان کہ سورج خدا نہیں بلکہ خدا کی پیدا کردہ کائنات کا ایک جز اور اس کا محکوم ہے اور اسی وقت تک روشنی دیتا رہے گا جب تک ال کا وہ حکم نہیں آ جاتا جو کائنات کی بساط کو الٹ کر رکھ دے گا۔  جس دن وہ حکم آ جائے گا سورج اپنی تمام توانائی کھو دے گا اور اس کی روشنی بالکل ختم ہو جائے گی۔ 

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔    آفتاب عالمتاب اور جگمگاتے ہوئے تاروں کو دیکھ کر انسان یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ دنیا سدا بہار ہے اور اس کی رونق کبھی ختم ہونے والی نہیں لیکن قرآن دو ٹوک انداز میں انسان کو آگاہ کرتا ہے کہ یہ فریب خیال ہے۔ حقیقت میں ایک ایسا وقت آنے والا ہے اور وہ بہت قریب ہے جب کہ سارے چراغ بجھا دئے جائیں گے اور  یہ دنیا تاریکی کی نذر ہو جائے گی تاکہ توڑ پھوڑ کے اس عمل سے ایک نیا وجود میں لایا جا سکے جس میں نتائج عمل کا ظہور ہو۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔    معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا جھٹکا لگتے ہی زمین اپنی کشش کھو دے گی۔  اس سے جو ہولناک کیفیت پیدا ہو گی اس کا ہلکا سا تصّور ہی انسان کو چونکا دینے کے لئے کافی ہے اسی لئے پہاڑوں کے اڑائے جانے کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر ہوا ہے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔    قرآن جس دور اور ماحول میں نازل ہوا اس میں ، دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں جو جننے کے قریب ہوتی تھیں سب سے زیادہ قیمتی چیز خیال کی جاتی تھی اور اہل عرب کی نظر میں یہ محبوب مال تھا۔  اس محبوب مال کا ذکر بطور مثال کے کیا گیا ہے۔  مقصود اس سے یہ واضح کرنا ہے کہ قیامت کا دھماکہ ہوتے ہے انسان اپنے عزیز ترین مال کو بھول جائے گا۔ دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں جو آج اس کے مالک کے نزدیک قیمتی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں اس طرح بے قیمت ہو کر آوارہ پھرنے لگیں گی کہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو گا کیونکہ قیامت کا آغاز ہوتے ہی انسان کو کسی بھی چیز کا ہوش نہیں رہے گا۔

 

واضح رہے کہ اونٹنی کا یہ ذکر اس وقت کی عربوں کی معیشت کے پیش نظر گویا ان کے قیمتی سرمایہ پر انگلی رکھ کر اس کے بے وقعت ہو جانے کو ظاہر کرنے کے مُترادف تھا ، جس نے کلام میں زبردست تاثیر پیدا کر دی اس مثال سے اصلاً یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ قیامت کا بگل بجتے ہی مال و دولت کے یہ ڈھیر جس کے حصول کو انسان اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہے اور اس بنا پر حقیقی مقصدِ زندگی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا سب بیکار اور فنا ہو جائیں گے خواہ وہ محبوب اونٹنی کی شکل میں ہوں یا قیمتی کاروں ، بڑے بڑے کارخانوں اور شاندار عمارتوں کی شکل میں۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔    یعنی قیامت کا ظہور ہوتے ہی ایسی خوفناک صورت پیدا ہو گی کہ انسان تو انسان  وحشی جانوروں پر بھی سراسیمگی کی حالت طاری ہو گی اور جنگلوں سے بھاگ کر دوسرے جانوروں اور انسانوں کے ساتھ اکٹھا ہونے لگیں گے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔    بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ سمندر میں آگ لگ جائے گی ، لیکن قیامت کا حادثہ بذات خود عجیب تر ہے۔  اس کا پہلا جھٹکا ہی تمام عجیب باتوں کو ختم کر کے رکھ دے گا۔  کیونکہ قیامت کا مطلب ہی یہ ہے کہ کائنات کی ساخت میں زبردست تبدیلی ہو گی اور عظیم انقلاب رونما ہو گا ویسے بھی پانی آکسیجن اور ہائیڈوجن گیسوں سے مرکب ہے ، اور اللہ کا ایک اشارہ اس کی اس کیمیاوی ترکیب کو جدا کرنے کے لئے کافی ہے جس کے نتیجہ میں یہ گیسیں بھڑکنے اور بھڑکانے کا کام کر سکتی ہیں۔

 

قرآن کے بیان کے مطابق حشر کے لئے زمین کو چٹیل میدان کی شکل کی جائے گی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندروں کو پاٹ دیا گیا ہو گا اور اس سے پہلے اس کے پانی کو بھڑکا کر ختم کر دیا گیا ہو گا۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔    یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلہ کا ذکر شروع ہوتا ہے جب کہ تمام انسانوں کو جسم سمیت دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

 

 

گروہوں میں تقسیم کرنے سے مراد عقائد و اعمال کی بنیاد پر لوگوں کی گروہ بندی اور درجہ بندی ہے دنیا میں وہ مومن و کافر ، مسلم و مجرم ، نیک  و بد اور ظالم و مظلوم سب مخلوط رہتے ہیں۔ لیکن قیامت کا جھٹکا لگتے ہی انسانی سوسائٹی کا موجودہ ڈھانچہ چکنا چور ہو جائے گا اور میدان حشر میں ایمان و اخلاق کی بنیاد پر لوگوں کے الگ الگ گروہ بنائے جائیں گے  (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ،  سورہ واقعہ آیت ۷ تا ۴۴ )۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔    زندہ درگور کرنے کا طریقہ عربوں کے بعض قبائل میں رائج تھا۔  اس کا ایک سبب تو فقر کا اندیشہ ہوتا اور معاشی خستہ حالی کے پیش نظر وہ پسند نہیں کرتے تھے کہ کھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو ، اس لئے تحدید نسل اور فیملی پلاننگ (Family Planning )  کا جو جاہلانہ اور ظالمانہ طریقہ انہوں نے اختیار کر رکھا تھا وہ بچوں کے پیدا ہوتے ہی ان کو دفن کر دینے کا تھا۔  اس کا دوسرا سبب یہ تھا کہ وہ لڑکیوں کی پیدائش کو اپنے لئے عار سمجھتے تھے۔  اور جھوٹی غیرت انہیں اس قبیح اور سنگدلانہ حرکت پر آمادہ کرتی تھی۔  قرآن نے ان کی اس حرکت پر سخت گرفت کی اور بتلایا کہ قیامت کے دن عدالت خُداوندی میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

 

زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے یہ سوال کہ وہ کس جرم میں ماری گئی ، اس کے بے گناہ مارے جانے اور مارنے والے کی جرم کی سنگینی پر دلالت کرتی ہے۔ 

 

واضح رہے کہ قرآن کا یہ بیان اصلاح کے معاملہ میں اس قدر موثّر ثابت ہوا کہ اس ظالمانہ رواج کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔    دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے خواہ وہ اچھا ہو  یا برا اور خواہ اس کا تعلق عقائد سے ہو یا اعمال سے افکار و نظریات سے ہو یا تحریک و جدوجہد سے ، قول ہو یا فعل ، تقریر ہو یا تحریر حتی کہ حرکات و سکنات اور چال ڈھال کا بھی ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔  یہ ریکارڈ دنیا میں خفیہ طریقہ پر اللہ کے فرشتے تیار کر رہے ہو تے ہیں جو ہر فرد کے ساتھ الگ الگ لگے ہوتے ہیں اس ریکارڈ کو قرآن کی زبان میں "صحیفہ " یا " کتاب " اور اردو میں " نامئہ اعمال "  کہا جاتا ہے۔  انسان  کے مرنے پر یہ ریکارڈ تہہ کر کے محفوظ کر دیا جاتا ہے اور قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر اس کو کھول کر ہر شخص کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ وہ اپنا ریکارڈ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔ 

 

آدمی کا زندگی بھر کا ریکارڈ ایک ورق ( Sheet ) کی شکل میں پیش کیا جانا نزول قرآن کے دور  میں عام انسان کے لئے حیرت انگیز بات تھی لیکن سائنسی ترقی کے موجودہ دور میں جب کہ کتابوں کی مائیکرو فلمیں ( Micro Films ) تیار کی جانے لگی ہیں کچھ بھی حیرت کی بات نہیں رہی۔ 

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔    مراد آسمان سے اوپر کی دنیا کا بے نقاب کیا جانا ہے۔  آج تو ہماری نگاہیں نیلگوں آسمان تک جا کر رک جاتی ہیں لیکن قیامت کے دن ہم اس دنیا کا بھی مشاہدہ کر سکیں گے جو آسمان سے اوپر ہے اور ان غیبی حقائق کو بھی دیکھ سکیں گے جو آج ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔  لیکن ان کی خبر قرآن دے رہا ہے۔  اس روز انسان کو خدا کی خدائی اور کائنات کی وسعت کا صحیح اندازہ ہو سکے گا آج انسان دنیا کے جس خول میں بند ہے اسی خول کو پوری کائنات  سمجھ بیٹھا ہے اور اس سے آگے جن حقائق کی اسے خبر دی جا رہی ہے اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا جس طرح مرغی کا بچہ جب تک انڈے کے خول کے اندر بند رہتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ یہی کچھ دنیا ہے۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔    قیامت کے دن زمان و مکان کے پیمانے بالکل بدل چکے ہوں گے۔  اس روز انسان جان لے گا کہ جنت میدانِ حشر سے بہت قریب ہے اور جو لوگ اس کے اہل قرار پائیں گے ان کو اس تک پہنچنے کے لئے نہ انتظار کرنا پڑے گا اور نہ طویل مسافت کی مشقت برداشت کرنا ہو گی بلکہ وہ خود آگے بڑھ کر ان کا خیر مقدم کرے گی۔  اس کی تفصیلی نوعیت قیامت کے دن ہی واضح ہوسکے گی۔  آج ہم محدود علم کی بنا پر اسے سمجھ نہیں سکتے۔ 

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔    یہ ہے ان آیات کا مرکزی مضمون۔  مطلب یہ ہے کہ جب قیامت ان تمام ہولناکیوں کے ساتھ رونما ہو گی جو اوپر بیان ہوئے ہیں تو وہ دن عدالت خداوندی میں پیشی کا ہو گا۔  اس روز انسان اپنی زندگی بھر کا کچّا چٹھا لے کر حاضر ہو گا تاکہ اپنے پروردگار کے حضور جوابدہی کر سکے۔  وہ دن بڑا ہولناک ہو گا اور وہ گھڑی بڑی سخت ہو گی۔ 

 

؀       یہ گھڑی محشر کی ہے ، تو عرصہ محشر میں ہے

 پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے۔   

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔    یہ منکرین کے اس خیال کی تردید ہے کہ یہ قرآن جو قیامت کی خبر دے رہا ہے کسی دیوانہ کی بڑ یا القائے شیطانی ہے۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔    اس طرح کی جو قسمیں کھائی جاتی ہیں ان کا مطلب ان چیزوں کے تقدس اور عظمت کو بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان کو شہادت اور دلیل کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے  یہ عربی کا اسلوب کلام ہے جس میں زور کلام ہی ہے اور بلاغت بھی ، غیر عربی داں اس اسلوب کلام سے نا آشنا ہونے کی بنا پر ان قسموں کا جو قرآن میں  مختلف مقامات پر کھائی گئی ہیں صحیح محل اور ان کے اشارات و مضمرات سمجھنے سے قاصر ہیں۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔    متن میں لفظ " الخُنَّسْ " استعمال ہوا ہے ، جس سے مراد غروب ہونے والے ستارے ہیں۔  مطلب یہ ہے کہ ستاروں کے جگمگاہٹ سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے بلکہ ان کے غروب ہونے کے پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جس سے ظاہر  ہوتا ہے کہ وہ قانون خداوندی کے آگے بالکل بے بس ہیں۔  اس پہلو کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے ستاروں کے چلتے رہنے کی صفت سے پہلے ان کے غروب ہونے کی صفت کا ذکر کیا گیا ہے۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔    متن میں لفظ " الجوارِ "  استعمال ہوا ہے جس سے مراد چلتے رہنے والے ستارے ہیں۔  ستاروں کا چلنا اس معنیٰ میں بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کا عام مشاہدہ یہی ہے قطع نظر  اس سے کہ ان میں سے کون سے ستارے سیارے ہیں اور کون سے ثوابت اور اپنی اس حقیقت کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے جس کا انکشاف جدید سائنس نے کیا ہے کہ ستارے خلا میں متحرک ہیں۔

 

The stars themselves are moving through space – some at tremendous speeds – but so vast is our distance from them that their positions do not appear to the naked eye to alter, even in a century.  (The Marvels & Mysteries of Science – P. 82)

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔    متن میں لفظ " الکُنَّس " استعمال ہوا ہے جس سے مراد چھپنے والے اور غائب ہو جانے والے ستارے ہیں۔  دن میں ستارے غائب رہتے ہیں نیز  چلتے چلتے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔  اس مناسبت سے ان کی یہ صفت بیان ہوئی ہے۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔    یہاں ستاروں کی رفتار اور ان کے طلوع و غروب کو اس بات کی شہادت میں پیش کیا گیا  ہے کہ قرآن وحی الٰہی ہے نہ کہ القائے شیطانی۔  ان کا مقررہ وقت پر طلوع و غروب اور ان کی رفتار میں باقاعدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ قانون الٰہی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اور اس سے سرمو  انحراف نہیں کرسکتے  کروڑ ہا میل کی بسیط فضاء میں ستاروں کا ایک نامعلوم زمانہ سے معلق رہنا اور  ایک حیرت انگیز نظم کا پابند ہو کر رہنا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ یہ کائنات کا نظام ایک حکیمانہ نظام ہے۔  جس کے پیچھے ایک علیم و خبیر ہستی کا مُدبّرانہ منصوبہ کار فرما ہے۔  قرآن اس منصوبہ کی تشریح کرتا ہے اور خالق کائنات کی جن صفات کی طرف ستاروں کا یہ نظام اشارہ کرتا ہے ان کو وہ کھول کر پیش کرتا ہے۔  گویا قرآن کا عکس اس کائنات کے آئینہ میں دیکھا جا سکتا ہے اور اس کی صداقت کو آثار کائنات کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے۔ 

 

ستارے اور سیارے اپنے حیرت انگیز طبعی کوائف  کی بنا پر انسان کو دعوت فکر دیتے ہیں۔  لیکن انسان کے غور و فکر کا انداز یہ رہا ہے کہ ان کو وہ متصرف بالذات مان کر ان کی پوجا کرتا اور ان سے شگون لیتا رہا ہے جس کی بنا پر علم جوتش ( Astrology )  کو فروغ حاصل ہوا اور کہانت ( Soothsaying) کی گرم بازاری ہوئی اس طرح انسان کے بھٹکنے کا سامان ہوتا رہا۔  پھر انسان ان کی ساخت اور انکے فاصلے وغیرہ کے بارے میں معلومات کے ڈھیر لگاتا ہے جس کی بنا پر علم فلکیات ( Astronomy ) کو فروغ ہوا اور سائنس نے خوب  ترقی کی۔ یہ صورت انسان کے لئے مفید ہوئی تو بس اس کی معلومات میں اضافہ کی حد تک۔  اس سے انسان اپنی اور کائنات کی اصل غایت معلوم کرنے کے تعلق سے کوئی رہنمائی حاصل نہ کر سکا۔  قرآن غور و فکر کا انداز اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان ان کے مشاہدہ سے ان کے خالق کی معرفت ( پہچان ) حاصل کرے کیونکہ یہ ستارے اپنے خالق کی عظیم الشان صفات کا مظہر ہیں۔  جس طرح ایک حسین ترین تصویر کو دیکھ کر اس کے مصور ( Artist) کی فن تصویر میں مہارت کااندازہ ہوتا ہے اسی طرح ان درخشاں ستاروں کی صنّاعی اور ان کے حیرت انگیز نظام کو دیکھ کر خالق کائنات کی صفت قدرت ، صفت ربوبیت ، صفت علم ، صفت فرمانروائی ، صفت عدل ، صفت حکمت ، اور اس طرح کی دوسری صفات کی ابتدائی معرفت انسان کو حاصل ہو جاتی ہے۔  بالفاظ دیگر ستارے اپنے خالق کا جو تعارف اپنی خاموش زبان سے کراتے ہیں وہ قرآن کے بیان سے جو خالق کائنات کا مکمل اور تفصیلی تعارف پیش کرتا ہے کامل درجہ ہم آہنگ ہے اور یہ اس کی حقانیت کا بیّن ثبوت ہے۔  پھر کمال درجہ کے اس حکیمانہ کلام کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ انسانی تصنیف ہے  یا شیطانی وساوس کا نتیجہ ہے یا اس بنا پر کہ وہ قیامت کی آمد کی خبر دے رہا ہے اسے کہانت پر محمول کرنا حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کیسی مذموم کوشش اور کتنی بڑی نا انصافی ہے ؟ 

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔    رات کے رخصت ہونے اور صبح کے نمودار ہونے کا وقت بھی عجائبات قدرت میں سے ہے اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا رات کی تاریکی کو چیر کر صبح نے جنم لیا ہے اور جب نسیم سحر چلتی ہے تو یہ احساس کروٹیں لینے لگتا ہے کہ گویا صبح سانس لے رہی ہے۔  یہاں ان کیفیات کو شہادت میں پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس ہستی نے رات اور دن کے آمدورفت کا یہ عجیب و غریب نظام قائم کیا ہے وہ اس نظام کے بطن سے ایک عجیب تر نظام نو بھی پیدا کر سکتا ہے اور اس کی حکمت اس کی متقاضی ہے کہ ایسا کیا جائے اس لئے قرآن قیامت کی آمد اور ایک نئے نظام کی تشکیل جس میں جزائے عمل کا معاملہ پیش آئے گا۔۔۔ کہ جو خبر دے رہا ہے وہ خلاف عقل نہیں بلکہ موجودہ نظام کائنات کا ایک ابھرتا ہوا تقاضا ہے۔ 

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔    یہ وہ بات ہے جس پر اوپر کی آیات میں استشہاد کیا گیا ہے یعنی قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر۔  معزّز پیغامبر سے مراد جبریل ہیں جو خدا کے معزّز فرشتے ہیں۔  وہ خدا کا کلام لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوتے تھے اور ٹھیک ٹھیک ان ہی الفاظ میں آپ کو پہنچاتے تھے۔

 

چونکہ یہ کلام القائے ملکوتی ہوتا تھا نہ کہ القائے شیطانی اس لئے آیت میں کلام کو خدا کے فرستادہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔    یہ وحی لانے والے فرشتہ جبریل علیہ السلام کی صفت ہے۔  ان کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت عطا فرمائی ہے اس لئے شیاطین ان کے کام میں مخل نہیں ہو سکتے۔  ان کی پرواز آسمان سے پرے ہے اور وہ اللہ کا پیغام اس کے رسول تک بحفاظت پہنچانے پر پوری طرح قادر ہیں۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔    یہ حضرت جبریل کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے یعنی ان کی رسائی براہ راست فرمانروائے کائنات تک ہے اور وہ اس کے حضور مقّرب اور عالی مقام ہیں۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔    یعنی جبریل فرشتوں کے سردار ہیں۔  وہ اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں۔  لہذا جس کے ماتحت فرشتوں کی فوج ہو اور جس کے اشارہ پر وہ حرکت میں آتے ہوں اس کے کام میں شیطانی قوتوں کے دخل انداز ہونے کا کیا سوال پیدا ہو سکتا ہے ؟ 

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔    حضرت جبریل علیہ السلام کی صفت امانت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کلام الٰہی کو جوں کا توں نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچا رہے ہیں۔  ان کی طرف سے کسی کمی و بیشی کا ہرگز احتمال نہیں ہے۔

 

قرآن کے لانے والے فرشتہ کا یہاں جو تعارف کرایا گیا ہے اس سے یہ مقصود واضح کرنا ہے کہ یہ کلام لفظاً لفظاً ارشاد الٰہی Word of God ہے جس کو نہایت اہتمام کے ساتھ اور نہایت پاکیزہ ذریعہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اس میں کسی قسم کی آمیزش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔    ساتھی سے مراد نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور خطاب اہل مکہ سے ہے جن کے درمیان آپ نے ساری زندگی بسر کی اور ایک دانش مند انسان ہی کی حیثیت سے آپ متعارف رہے۔  ایسی شخصیت کو دیوانہ قرار دینا ایک بے تکی بات تھی لیکن منکرینِ قرآن آپ کی مخالفت میں ایسے اندھے ہو گئے تھے کہ اس قسم کی بے تکی باتیں کہتے ہوئے ان کو ذرا تامّل نہیں ہوتا تھا۔  آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو آپ کے دعوائے رسالت کو دیوانگی سے تعبیر  کرتے ہیں لیکن ان عقلمندوں کی سمجھ میں اتنی بات نہیں آتی کہ آپ کی پیش کردہ کتاب ایسی حکیمانہ باتوں سے پُر اور ایسی پاکیزہ تعلیمات پر مشتمل ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔  پھر کیا کوئی دیوانہ آج تک حکیمانہ باتیں پیش کر سکا ہے یا کسی مجنون نے لوگوں کے اخلاق سنوارے ہیں ؟  سچ ہے

                                           ؏     خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔      یعنی وحی لانے والے فرشتہ کو اپنی اصل شکل میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آسمان کے کھلے کنارہ پر دیکھا تھا اس لئے اس میں شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔  حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تو ان کے چھ سو پَر تھے اور ان کے عظیم وجود سے آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھر گئی تھی (مسلم کتاب الایمان ) اس سے ان کی زبردست طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔      یعنی جو وحی نبی صلی اللہ پر کی جا رہی ہے اس میں ملأ أعلٰی کے حقائق کا بھی انکشاف ہے اور قیامت کی آمد کی خبر بھی۔  ان باتوں سے لوگوں کو باخبر کرنے میں آپ کسی بخل اور تنگی سے کام نہیں لے رہے ہیں بلکہ اپنا فرض منصبی سمجھ کر اسے بے کم و کاست لوگوں تک پہنچانے میں سرگرم ہیں تاکہ لوگ ہوش میں آئیں اور اپنے رب کی ہدایت کو قبول کریں۔

 

گویا وحی الٰہی کا یہ پورا سلسلہ آسمان سے لے کر زمین تک  سِلْسِلَۃُ الذَّھَبِ (سونے کے زنجیر ) ہے جس کی کوئی کڑی بھی ناقص نہیں ہے کہ آدمی کے لئے شبہہ کرنے کی کوئی گنجائش ہو۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔      نزول قرآن کے زمانہ میں کہانت کا رواج تھا کاہن (Sooth sayers) غیب کی خبریں جاننے کے دعویدار ہوتے اور شیاطین جن کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ آسمان میں پرواز کر کے غیب کی خبریں لاتے ہیں۔  جھوٹی خبریں ان پر القاء کرتے اور وہ ان میں مزید جھوٹ ملا کر بیان کرتے۔ وہ چونکہ مستقبل کا حال بیان کرنے کے دعویدار ہوتے تھے اس لئے انہیں لوگوں سے نذرانے وصول کرنے اور اپنی دوکان چمکانے کا خوب موقع ملتا۔

 

 

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے وحی الٰہی اور قیامت کی آمد کی خبر سن کر منکرین قرآن نے آپ پر کہانت کا الزام لگا کر وحی الٰہی کے بارے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ القائے شیطانی ہے یہاں ان کے اسی الزام کی تردید کی گئی ہے اور ظاہر ہے شیطان کو اس کلام پاک سے کیا نسبت ہو سکتی ہے

 

        ؏  چہ نسبت خاک را  با عالم پاک

 

کیا کسی شیطانی کلام کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو خدا سے جوڑے ، اس میں بصیرت کی روشنی پیدا کرے اس کے اخلاق کو سنوارے ، اس کے خیالات میں پاکیزگی پیدا کرے اس کے کردار کو بلند کرے اور سماج میں بھلائیوں کو پروش کے لئے اسے آمادہ کرے۔  اگر شیطانی کلام کی یہ خصوصیات ہوسکتی ہیں تو ماننا پڑے گا سب سے بڑا نیک صفت اور مصلح شیطان ہی ہے جب کہ کوئی شخص بھی اس کا نام اس پر لعنت بھیجے بغیر نہیں لیتا۔  ورنہ یہ تسلیم کرنا پرے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر القائے شیطان کا الزام لگانے والے بجائے خود القائے شیطانی کا شکار ہیں اس لئے اتنی موٹی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ 

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔      یعنی قرآن یاد دہانی اور نصیحت تو ہے سارے انسانوں کے لئے لیکن اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو راہ راست اختیار کرنا چاہیں جو طالب حق نہ ہو وہ اس چشمۂ ہدایت سے فیضیاب نہیں ہو سکتا۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔      یعنی گو نصیحت حاصل کرنے اور ہدایت پانے کے لئے انسان کا چاہنا شرط اوّل ہے لیکن یہ کام توفیق الٰہی کے بغیر انجام نہیں پا سکتا اللہ کی مشیئت انسان کی مشیئت پر غالب ہے اس لئے انسان  اس گھمنڈ میں مبتلا نہ رہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔      

 

 ٭٭٭٭٭