دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الجنّ

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

اس سورہ میں جِنّوں کا بیان نقل ہوا ہے اس مناسبت سے اس کا نام ’ سورۃ ُالجن‘ ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور سورۂ احقاف سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے دورِ اول میں نازل ہوئی ہوگی۔

 

مرکزی مضمون

 

یہ واضح کرنا ہے کہ قرآن اپنے کلام الٰہی ہونے کی آپ ہی شہادت ہے چنانچہ جنوں کی ایک جماعت نے اس کلام کو سنا تو ان کا ضمیر پکار اٹھا کہ یہ کلام الٰہی ہے اور وہ فوراً اس پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے شرک کو باطل قرار دیتے ہوئے توحید کو حق قرار دیا جس کی دعوت قرآن پیش کررہا ہے ۔ اسی طرح جزا و سزا اور رسالت پر بھی اپنے یقین کا اظہار کیا۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۱۵ میں جنوں کے ایک گروہ کا بیان نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے اور اس کی دعوت کے برحق ہونے کی شہادت دی ہے ۔

 

آیت ۱۶ تا ۱۹ میں کلام کا رخ مشرکینِ مکہ کی طرف پھرگیا ہے اور انہیں فہمائش کی گئی ہے ۔

 

آیت ۲۰ تا ۲۸ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی منصبِ رسالت کے تعلق سے ضروری باتوں کی وضاحت کی گئی ہے اور رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو جہنم کے عذاب سے خبردار بھی کیاگیا ہے ۔

 

خصوصیت

 

یہ سورہ ایسی مربوط ہے اور اس میں اس بلاکی روانی ہے کہ آحر تک آدمی اس کو مسلسل پڑھتے ہی چلا جاتا ہے ۔ اس کی روانی کے آگے دریا کی روانی بھی ہیچ ہے جو پہاڑوں سے ٹکراتا ہوا آگے بڑھتا ہے ۔ قرآن کی روانی باطل کے پرخچے اڑاتے ہوئے حق کو غالب کرتی ہے پھر اس سورہ کا آہنگ ایسا ہے کہ ایک طرف وہ کانوں میں رس گھولتا ہے تو دوسری طرف دلوں میں سوز پیدا کرتا ہے ۔ مزید یہ کہ اس میں غیب کے وہ اسرار پیش کئے گئے ہیں جن کو سننے کی طرف طبیعت مائل ہوجاتی ہے اور جس سے یقین پیدا ہوجاتا ہے ۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

(۱) ( اے نبی!) کہو میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں ۱* کی ایک جماعت نے ( قرآن کو) سنا تو کہا: ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے ۔ ۲*

 

(۲) جو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے ۔ ۳* ہم اس پر ایمان لے آئے ۔ ۴* اور ہم ہرگز اپنے رب کا کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ ۵*

 

(۳) اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ اولاد۔ ۶*

 

(۴) اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں ۔ ۷*

 

(۵) اور یہ کہ ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن اللہ کے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے ۔ ۸*

 

(۶) اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں کے کچھ لوگوں کی پناہ مانگتے رہے ہیں ۔ اس طرح انہوں نے ان کی سرکشی میں اضافہ کیا۔ ۹*

 

(۷) اور یہ کہ انہو ں نے بھی اس طرح گمان کیا جس طرح تم نے کیا کہ اللہ کسی کو رسول بناکر نہیں بھیجے گا۔ ۱۰*

 

(۸) اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ سخت پرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے ۔ ۱۱*

 

(۹) اور یہ کہ ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھ جایا کرتے تھے مگر اب جو سننے کی کوشش کرتا ہے وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پاتا ہے ۔ ۱۲*

 

(۱۰) اور یہ کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ زمین والوں پر کوئی مصیبت نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انہیں ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے ۔ ۱۳*

 

(۱۱) اور یہ کہ ہم میں صالح لوگ بھی ہیں اور غیر صالح بھی ۔ہماری راہیں الگ الگ ہیں ۔ ۱۴*

 

(۱۲) اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ زمین میں ہم اللہ کے قابو سے باہر نہیں جاسکتے اور نہ( آسمان میں ) بھاگ کر اس کے قابو سے نکل سکتے ہیں ۔ ۱۵*

 

(۱۳) اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی بات سنی تو اس پر ایمان لے آئے ۔اور جب بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا اورنہ کسی قسم کی زیادتی کا۔۱۶*

 

(۱۴) اور یہ کہ ہم میں مسلم بھی ہیں اور ظالم بھی تو جنہوں نے اسلام کو اختیار کیا انہو ں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈ لی۔ ۱۷*

 

(۱۵) اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔ ۱۸*

 

(۱۶) اور ۱۹*( مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ) اگر یہ لوگ سیدھی راہ چلتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے ۔ ۲۰*

 

(۱۷) تاکہ ہم اس میں ان کو آزمائیں ۔۲۱* اور جو اپنے رب کے ذکر سے رخ پھیرے گا۔ ۲۲* اس کو وہ سخت مشقت والے عذاب میں داخل کرے گا۔

 

(۱۸) اور یہ کہ مسجد یں اللہ کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔۲۳*

 

(۱۹) اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو یہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ ۲۴*

 

(۲۰) کہو میں اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتا۔

 

(۲۱) کہو میں تمہارے لیے نہ کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ ہدایت کا۔ ۲۵*

 

(۲۲) کہو مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچاسکے گا اور نہ میں اس کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکو نگا۔ ۲۶*

 

(۲۳) میر کام تو صرف یہ ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں ۔ ۲۷* اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ۲۸*

 

(۲۴) یہاں تک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے ۔ ۲۹*

 

(۲۵) کہو میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کو ایک عرصہ کے لیے مؤخر کرے گا۔ ۳۰*

 

(۲۶) غیب کا جاننے والا وہی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

 

(۲۷) سوائے اس کے جسے اس نے رسول کی حیثیت سے پسند فرما لیا ہو۔ ۳۱* تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے ۔ ۳۲*

 

(۲۸) تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئے ۔ ۲۳* اور وہ ا ن کے تمام احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہر چیز کو اس نے گن رکھا ہے ۔ ۲۴*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  جنوں کے بارے میں متعدد مقامات پر وضاحتی نوٹ پیش کئے جاچکے ہیں ۔ دیکھئے سورۂ انعام نوٹ ۱۹۰  اور ۲۳۷، سورہ حجر نوٹ ۲۵، سورۂ احقاف نوٹ ۴۸ ، ۴۹۔

 

جن ایک پوشیدہ مخلوق ہیں اس لیے ان کا تعلق غیب سے ہے اور غیب کے بارے میں ہمارے جاننے کا ذریعہ صرف وحی الٰہی ہے اس لیے کتاب و سنت کے بیان پر ہمیں اکتفاء کرنا چاہیے ۔ جن لوگوں نے قیاس آرائی کر کے ان کے باریمیں طرح طرح کی باتیں کی ہیں انہوں نے اوہام و خرافات کا دروازہ کھولا ہے تعجب ہے کہ بعض علماء نے بھی جنوں کے بارے میں سنی سنائی باتوں اور بے سروپا روایتوں اور رقصوں کو بلا تردید نقل کیا ہے جن پر اعتماد کر کے لوگوں نے غلط اور غیر شرعی طور طریقے اختیار کرلئے ہیں اس سلسلہ کی چند باتیں ہم یہاں مختصراً بیان کرتے ہیں :

 

۱: جب کوئی شخص مرگی یا دماغی عارضہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خاص طور سے جب کوئی عورت ہسٹریا کے مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ ڈاکٹر سے اس کا علاج کرایا جائے اسے آسیب مدہ قرار دیا جاتا ہے یعنی جن اس پر سوار ہوا ہے اور وہی اس شخص یا اس عورت کی زبان سے بول رہا ہے ۔ گویا اس مرد یا عورت کا وجود بالکل معطل ہو کر رہ گیا ہے ۔ پھر اس جن کو اتارنے کے لیے جاہل باواؤں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور درگاہوں پر لے جایا جاتا ہے ۔ اس طرح شرک اور بدعات کے ڈوس(Dose)  اسے دیئے جاتے ہیں نیز اس کی خوب پٹائی کی جاتی ہے اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ اس مارپیٹ سے آسیب زدہ شخص کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ اس جن کو تکلیف ہوتی ہے جو اس پر مسلط ہوا ہے اس صورت میں وہ اس شخص کا جسم چھوڑ کر بھاگ جانے کے لیے مجبور ہوجاتا ہے لیکن بسا اوقات یہ سارے جتن بیکار ہوجاتے ہیں اور مریض اچھا نہیں ہوتا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ محض وہم پرستی ہے ورنہ آسیب زدگی نہ قرآن وسنت سے ثابت ہے اور نہ یہ کوئی معقول بات ہے ۔ ایک شخص طبی وجوہ کی بنا پر مریض ہے یا آسیب زدہہے اس کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ اگر آسیب زدہ سمجھ کر اس کی پٹائی کی گئی اور حقیقۃً  وہ مریض ہو تو کیا اس کی تکلیف میں اضافہ نہیں ہوگا اور اس مار پیٹ کے لیے شرعاً وجہ جواز کیا ہے ؟ کیا یہ مریض پر سراسر ظلم نہیں ہے ؟ یہ بات صریحاً غلط ہے کہ مار پیٹ سے آسیب زدہ شخص کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ اس جن کو پہنچتی ہے جو اس پر مسلط ہوا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو آسیب زدہ شخص کے جسم کو کاٹنے سے خون نہیں نکلنا چاہیے ۔ مگر کیا ایسا ہونا ممکن ہے ؟ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات اس کی نا معقولیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

 

۲۔ جِنّوں کو اپنے قبضہ میں لینے کا خیا ل بھی پایا جاتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ یہ خصوصیت تو حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جن ان کے قبضہ میں دے ئے تھے جن سے وہ تعمیرات وغیرہ کا کام لیتے ۔یہ اللہ کا معجزہ تھا جس کا ظہور ایک نبی کے ہاتھ پر ہوا۔

 

۳۔ ایک فاسد خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بعض جن بعض انسانی عورتوں سے شادی کر لیتے ہیں اور یہ کہ ان سے اولاد بھی ہوجاتی ہے ۔ یہ بڑی احمقانہ بات ہے کیونکہ اس صورت میں تو ایک عورت جس کو ناجائز حمل ٹھہرگیا ہو یہ دعویٰ کرسکتی ہے کہ ایک جن نے زبردستی میرے ساتھ مجامعت کی تھی تو کیا اس کے اس بیان کو صحیح تسلیم کر لیا جائے گا یا اس پر شرعی حد نافذ کی جائے گی؟

 

۴۔ جنوں کے بارے میں ایک تصور یہ بھی ہے کہ وہ مال چرالے جاتے ہیں ۔ اگر واقعی وہ اس قسم کا تصرف کرسکتے تو انسانی سوسائٹی میں بڑا خلل واقع ہوتا۔ کسی بھی چوری کی صورت میں یہ پتہ چلانا مشکل ہوتا کہ یہ مال جن نے چرایا ہے یا انسان نے ایک پہرہ دار جس نے خود مال چرایا ہویہ کہہ کر اپنے کو بری کرنے کی کوشش کرسکتا ہے کہ میں نے نہیں بلکہ جن نے مال چرایا ہے ۔ کیا اس کے اس بیان کو قبول کر لیا جائے گا اگر نہیں تو کیوں ؟

 

اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے جو اس نے شیطان سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا:

 

وَشَارِکْہُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ  ’’ مال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا۔‘‘( بنی اسرائیل: ۶۴)

 

یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ مال اور اولاد میں جن شریک ہوتے ہیں اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن مال چرالے جاتے ہیں اور عورتوں سے جنسی تعلق بھی پیدا کر لیتے ہیں جس کے نتیجہ میں اولاد بھی پیدا ہوجاتی ہے مگر یہ دونوں ہی باتیں بالکل لغو ہیں اور آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ۔ مال اور اولاد میں شیطان کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کو آدمی غیر اللہ کی دین قرار دے کر شرک کا مرتکب ہوجائے درآنحالیکہ یہ چیزیں اللہ ی کی بخشی ہوئی ہوتی ہیں ۔

 

۵۔ یہ بات بھی عوام میں مشہور ہے کہ جن غیب جانتے ہیں لیکن یہ عقیدہ بالکل باطل ہے اللہ کے سوا عالم الغیب کوئی نہیں اور قرآن نے اس بات کی سخت تردید کی ہے کہ جِن غیب کی باتیں جانتے ہیں ۔چنانچہ قرآن نے اس کی تردید میں حضرت سلیمان کی موت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ ان کی موت کی خبر جنوں کو اس وقت ہوئی جب کہ ان کا عصاکیڑے کے کھاجانے سے گرگیا اور حضرت سلیمان بھی گر پڑے ۔ قرآن اس واقعہ کو نقل کر کے کہتا ہے کہ :

 

فَلَمَّا خَرَّتَبَے نَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْکَانُوْا عْلَیمُوْنَ الْغَیبَ مَا لَبِثُوْ فِی الْعَذَابِ الْمُہِین۔’’جب سلیمان گر پڑا تو جنوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کی مصیبت میں پڑے نہ رہتے ۔‘‘(سبا:۱۴)

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  بخاری میں حضرت عبداللہ ابن عباس سے جنوں کے قرآن سننے کا واقعہ جس طرح منقول ہے اس کا خلاصیہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار عکاظ ( جو مکہ اور طائف کے درمیان تھا ) تشریف لے جارہے تھے کہ نخلہ کے مقام پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز فجر ادا کی۔ اس وقت جنوں کے ایک گروہ کا گذر ادھر سے ہوا تو اس نے قرأت سن لی۔ یہ گروہ آسمان میں سخت حفاظتی انتظامات اورشہابوں کے تعاقب کو دیکھ کر اس بات کی تلاش میں نکلا تھا کہ زمین پر کوئی اہم واقعہ رونما ہوا ہے جس کی پیش بندی کے لیے حفاظتی انتظامات کر دے ئے گئے ہیں ۔ انہو ں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن سنتے ہی فوراً کہا کہ یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے ہمیں آسمان میں سن گن لینے سے روک دیاگیا ہے ۔ وہ قرآن سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اس کی دعوت ایمانی کو انہوں نے فوراً قبول کر لیا اور اپنی قوم میں جاکر انہوں نے وہ باتیں کہیں جو ان آیتوں میں بیان ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی خبر دی۔ ( بخاری کتاب التفسیر) ترمذی کی روایت میں یہ صراحت بھی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنو ں کے سامنے قرآن کی تلاوت نہیں کی تھی اور نہ ان کو دیکھا تھا( یعنی جنوں نے آپ کی قرأت اتفاقاً سن لی تھی اور آپ کو اس کی اطلاع وحی کے ذریعہ ہوئی) دیکھئے ترمذی تفسیر سورۃ الجن)

 

جنوں کے اس بیان سے واضح ہے کہ وہ عربی جانتے ہیں اس لیے جب انہوں نے قرآن سنا تو اس کی معجزانہ بلاغت اور دلوں کو مسخر کرنے والی باتیں انہیں عجیب معلومہوئیں اور اس کی ان امتیازی خصوصیت کو دیکھ کر انہو ں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ کلام الٰہی ہے ۔ اور آیت کا منشا اصلاً اسی بات کو لوگوں پر واضح کرنا ہے کہ قرآن اپنے کلامِ الٰہی ہونے کا آپ ثبوت ہے ۔ حق کی طلب رکھنے والے انسان تو انسان جن بھی اس کو سن لیتے ہیں تو انہیں اپنے رب کے کلام کو پہچاننے میں کوئی وقت پیش نہیں آتی۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  قرآن کی سماعت نے جنوں پر ہدایت کی راہ کھول دی۔ وہ اس بات کے معترف ہوئے کہ یہ راہ جو قرآن دکھا رہا ہے سراسر ہدایت کی راہ ہے یعنی حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اور اللہ تک پہنچانے والی۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  جنوں کا یہ گروہ قرآن پر ایمان لے آیا۔ معلوم ہوا کہ قرآن کا نزول انس و جن ( دونوں کے لیے ہوا ہے یعنی دونوں سے ایمان لانے کا مطالبہ ہے چنانچہ سورۂ رحمن میں تو دونوں گروہوں سے براہ راست خطاب کیاگیا ہے ۔ اور جب جن قرآن پر ایمان لانے کے مکلف ہیں تو پیغمبرِقرآن پر ایمان لانا بھی ان کے لیے ضروری ہے ۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے اسباب کرتا رہا کہ جن خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں اور آپکی زبان سے قرآن سننے کا انہیں موقع ملے ۔ اس سورۂ کے علاوہ سورۂ احقاف کی آیت ۲۹ بھی اس پر دلالت کرتی ہے ۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  معلوم ہوا کہ جس طرح انسانوں میں شرک کا عقیدہ رکھنے والے پائے جاتے ہیں اسی طرح جنوں میں بھی پائے جاتے ہیں ۔جنوں کے اس گروہ نے جب قرآن کی دعوتِ توحید سنی تو شرک سے بیزاری کا اظہار کیا اس عزم کے ساتھ کہ وہ توحید پر قائم رہیں گے اور کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔

 

آیت سے یہ بات بھی واضح ہے کہ ہدایت کا آغاز توحید سے ہوتا ہے اور توحید شرک کی مکمل نفی ہے ۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ہمارے رب کی شان اس سے بہت اعلیٰ و ارفع ہے کہ اس کی بیوی اور اولاد ہو۔ اس کو مخلوق پر قیاس کرنا اس کی شان کو فروتر خیال کرنا ہے ۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  انسانوں کی طرح جنوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے اور اللہ کے بارے میں حق و عدل کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ہم اس مغالطہ میں رہے کہ انسان اور جن اللہ کے بارے میں جھوٹ بولنے کی جسارت نہیں کریں گے لیکن اب ہم پر واضح ہو ا کہ دونوں اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے رہے ہیں اور اس جھوٹ ہی پر شرک کی عمارت کھڑی کر دی گئی ہے ۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  روایتوں میں آتا ہے کہ عربوں کا کوئی قافلہ جب کسی وحشتناک جگہ پر قیام کرتا تو اس وادی کے سردار جن کی پناہ مانگتا تاکہ وہ جنوں کے شر سے انہیں محفوظ رکھے ۔ یہ سراسر جاہلانہ اور مشرکانہ عقیدہ تھا لیکن اس چیز نے جنوں کے احساس برتری میں اضافہ کیا اور وہ سرکش ہو گئے ۔

 

پناہ دہندہ صرف اللہ ہے اس لیے جنوں کی پناہ مانگنا سراسر لغو اور باطل ہے مگر آج بھی کتنے ہی جاہل جنوں کی دہائی دیتے ہیں ۔ عقیدہ کا یہ فساد بہت بڑا فساد ہے جو انسان کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے ۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  ان جنوں نے اپنی قوم سے کہا کہ جس طرح تم نے خیال کر رکھا تھا کہ کوئی رسول مبعوث ہونے والا نہیں اسی طرح مشرک انسانوں نے بھی یہی گمان کر رکھا تھا لیکن دونوں کا گمان غلط ثابت ہوا اور اللہ نے ہدایت کی راہ دکھانے کے لیے رسول بھیجا جس پر قرآن نازل ہوا ہے ۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  جنوں کی پرواز آسمان کی فضاء میں ہوتی ہے ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث ہوئی تو آسمان میں فرشتوں کے سخت پہرہ لگادئے گئے اور شہابوں سے اسے بھردیاگیا تاکہ رسول پر جو پیغام نازل ہوا اس میں نہ وہ مداخلت کرسکیں اورنہ کوئی بات اچک لے سکیں۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی آسمان کی فضاء میں ہم نے ایسے ٹھکانے بنائے تھے جہاں سے ہمآسمان والوں کی باتیں سن گن لینے کی کوشش کرتے مگر اب یہ ممکن نہیں رہا۔ اگر ہم کچھ سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں تو آگ کا شعلہ( شہاب) ہمارا پیچھا کرتا ہے ۔

 

واضح رہے کہ یہ شہاب آسمان میں کافی بلندی پر تاروں سے نکلنے والے شعلے ہیں جو جنوں کی گھات میں لگے رہتے ہیں ۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ حجر نوٹ ۱۶۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی آسمان میں ان سخت حفاظتی انتظامات کو دیکھ کر یہ اندازہ ہورہا تھا کہ زمین پر کوئی انقلابی واقعہ ضرور رونما ہونے والا ہے ۔ ہو سکتا ہے اہلِ زمین پر کوئی عذاب نازل کیا جانے والا ہو یا پھر ان کے لیے ہدایت نازل کی جانے والی ہو جس کی یپشگی خبر جنوں کو نہ ہوجائے اس لیے یہ اہتمام کیاگیاہو۔ ان دو میں سے کون سی بات وقوع میں آنے والی ہے اس کا علم جنوں کو نہ ہو سکا۔البتہ جب انہوں نے قرآن سنا تو ان کا تردد رفع ہوا اور ان کو معلوم ہوا کہ آسمان میں یہ حفاظتی انتظامات زمین والوں کو ہدایت سے نوازنے کے لیے کئے گئے ہیں ۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  واضح ہوا کہ جن سب برے نہیں ہیں ۔ ان میں نیک لوگ بھی موجود ہیں ۔ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی عقیدہ و عمل کی راہیں مختلف ہیں ۔ چونکہ جن بھی ایک مکلف مخلوق ہیں اور انہیں بھی امتحان گاہ میں کھڑا کر دیاگیا ہے اس لیے انہیں بھی یہ اختیار دیاگیا ہے کہ وہ چاہیں تو ہدایت کی راہ اختیار کریں اور چاہیں تو گمراہی کی۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ہم یہ ضرور سمجھتے تھے کہ گو ہماری پرواز آسمانوں میں ہے لیکن اللہ کے قابو سے ہم ہرگز باہر نہیں ہیں ۔ وہ اگر ہمیں پکڑنا چا ہے تو نہ زمین میں ہمیں کہیں پناہ مل سکتی ہے اور نہ ہم آسان کی فضائے بسیط میں بھاگ کر کہیں پناہ لے سکتے ہیں ۔ جنوں کے اس بیان سے ان کی اللہ کے آگ ے بے بسی ظاہر ہوتی ہے اور ان کو خدائی میں جو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اس کی تردیدہوتی ہے ۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  جنوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے نہ صرف اپنے ایمان لانے کا ذکر کیا بلکہ ان کو ایمان لانے کی دعوت بھی دی اور ایمان لانے کا صلہ یہ بیان کیا کہ اس کو پورا پورا اجر ملے گا۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  جنوں کے اس بیان سے اسلام کا دینِ حق اور روشن ہوگیا اور واضح ہوگیا کہ مسلم صرف انسانوں ہی میں نہیں جنوں میں بھی موجود ہیں ۔ اسی طرح مشرک اورکافر بھی۔

 

ایمان لانے والے جنوں نے اپنی قوم کے سامنے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ اسلام کوپالینا ہدایت کو پالینا ہے ۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  بالفاظ دیگر جو دین حق(اسلام) سے برگشتہ ہیں وہ جہنم کی سزا بھگتنے والے ہیں ۔ اس طرح جزا و سزا پر انہوں نے اپنے ایمان و یقین کا اظہار کیا۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  جنوں کا بیان اوپر ختم ہوگیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا اپنا بیان شروع ہورہا ہے ۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  مراد مشرکین مکہ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اسلام کی شاہراہ پر چلتے تو انہیں وافر پانی کی نعمت سے بہرہ مند کیا جاتا۔ پانی پر ہر قسم کی پیداوار کا انحصار ہے اور عرب کے صحرائی علاقہ میں تو اس کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے ۔ قرآن نے اس مقام نیز دوسرے مقاما ت پر بھی واضح کیا ہے کہ جو قوم راہ ہدایت پر چلتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے وسائل رزق میں وسعت اور برکت عطا فرماتا ہے ۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۱۵۲۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی دنیا کی نعمتوں میں آزمائش کا پہلو ضرور ہوتا ہے کہ ان کے حاصل ہوجانے پر لوگ اللہ کے شکر گذار بنتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں ۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اپنے رب کے ذکر سے رخ پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ سے بے پرواہ ہوجائے ۔ اس کے ذکر سے کوئی دلچسپی نہ ہو اور اس کی نصیحت کو وہ خاطر میں نہ لائے ۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یہاں مسجدوں سے مراد وہ عبادت گاہیں ہیں جو اصلاً اللہ ہی کے عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں ۔ مسجدِ حرام اور مسجدِ اقصیٰ تو بدرجہ اولیٰ اس میں شامل ہیں نیز وہ تمام مسجدیں بھی جو بعد میں مسلمانوں نے بائیں ۔ علاوہ ازیں اہلِ کتاب کی عبادت گاہیں بھی کیونکہ وہ اصلاً اللہ ہی کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں ۔

 

مطلب یہ ہے کہ عبادت گاہیں اللہ کے لیے خاص ہیں اس لیے ان میں اسی کی عبادت کی جانی چاہیے ۔ ان میں بت پرستی اور شرک بہت بڑی مجرمانہ اور ظالمانہ حرکت ہے ۔

 

مسجدوں کی اس حرمت کے باوجود مسلمانوں میں ایسے بد عقیدہ لوگ بھی ہیں جو مسجدوں میں غیر اللہ کو حاجت روائی اور فریاد رسی کے لیے پکارتے ہیں ۔ ان کی زبانوں پر یا اللہ اور یارب کے بجائے یا ’’ غوث‘‘ اور یا ’’پیر دستگیر‘‘ ہوتا ہے ۔ غیر اللہ کی دہائی کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے عقیدۂ توحید میں کوئی خرابی نہیں آئی۔

 

مسجدوں میں ایک نت نئی بدعت یہ بھی رائج کی جارہی ہے کہ جس سمت کو مدینہ ہے اس کی طرف مسجد کی دیوار پر گنبد خضراء کی تصویر آویزاں کی جائے جس کی طرف رخ کر کے اور با ادب کھڑے ہوکر’’ یا رسول اللہ‘‘ کہا جائے اور آپ پر دورود بھیجا جائے ۔ گویا قبلہ ایک نہیں دو ہیں ۔ ایک نماز کے لیے قبلہ جس کا رخ حرم مکہ ہے اور دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنے اور آپ پر درود و سلام بھیجنے کے لیے جس کا رخ مدینہ کا گنبد خضراء ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت دے کہ وہ اپنی مسجدوں کو شرک و بدعات سے پاک رکھیں ۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  آیت میں عبداللہ( اللہ کا بندہ) سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ آپ جب مسجد حرام میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور صرف اللہ کو پکارتے تو مشرکین غصہ میں بھرے ہوئے آپ کے ارد گرد اس طرح جمع ہوجاتے گویا آپ پر ٹوٹ پڑیں گے ۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ ان سے کہہ دو کہ نقصان پہنچانا یا گمراہ کرنا اور نفع پہنچانا یا ہدایت دینا یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے ۔ میرے اختیار میں ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے ۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی میں خود اللہ سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو اس کی سزا سے مجھے کوئی بچا نہ سکے گا اور نہ میں کوئی جائے پناہ پاسکوں گا۔ اور جب رسول ہونے کے باوجود اللہ سے بے خوف نہیں ہوں تو تم کس طرح اللہ سے بے خوف ہو گئے ؟

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رسول کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے بلکہ اس کے سپرد جو کام ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بات بھی ہو اور اس کے جو پیغامات ہوں ان کو وہ لوگوں تک پہنچادے اس کے بعد لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو قبول کریں

 

بلاغ( بات پہنچانا) میں عمومیت ہے یعنی جو بات بھی اللہ کی طرف سے ہو پہنچادی جائے اور رسالات ( پیغامات ) خاص ہے جس سے مراد کلامِ الٰہی ہے ۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جو اللہ کے پیغامات کو قبول نہیں کریں گے اور اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان بن کر رہیں گے ان کے لیے ہمیشگی کی جہنم کی سزا ہے ۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مشرکینِ مکہ کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کے مددگار طاقتور ہیں اور ان کا جتھا بڑا ہے اور ان کے مقابل رسول کے مددگار کمزور لوگ ہیں اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بھی تھوڑی ہے ۔

 

لیکن جب اللہ کا عذاب آئے گا تو ان مشرکین کو پتہ چلے گا کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی اب سرے سے ان کا کوئی مددگار ہی نہیں اور نہ ان کے جتھے کا کوئی وجود ہے ۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رسول کو جھٹلانے کی صورت میں جس دنیوی عذاب کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ لازماً پورا ہو کر رہے گا۔ رہی یہ بات کہ وہ کب پورا ہوگا تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ عنقریب یہ وعدہ وقوع میں آنے والا ہے یا کچھ عرصہ بعد۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ یونس نوٹ ۷۵۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رسول کو فریضۂ رسالت کی ادائے گی کے لیے جس قدرغیب کی باتوں پر مطلع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس پر کھول دی جاتی ہیں ۔ اس سے زیادہ رسول کو بھی غیب کا علم نہیں ہوتا چنانچہ رسول کو یہ نہیں معلوم کہ اس کے مخالفین پر عذاب کب آئے گا اور نہ اسے یہ معلوم ہے کہ قیامت کب قائم ہوگی۔

 

رسول کو جس قدر علم غیب بخشا جاتا ہے اس کی حقیقت اس آیت سے بالکل واضح ہے پھر بھی مسلمانوں کے ایک طبقہ نے غلو میں مبتلا ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں علم غیب کی بحث چھیڑ رکھی ہے ۔ گویا آپ کو تمام جزئیات و کلیات کا علم تھا اور آپ ؐ حاضر و ناظر ہیں کہ ہر ایک کی پکارسنتے ہیں اور ہر ایک کے ظاہری و باطنی احوال سے واقف ہیں اور تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ علم غیب عطائی (وہبی) تھا یعنی اللہ کا بخشا ہوا تھا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو خدائی ہی بخشش دی تھی۔ کیسا مشرکانہ تصور ہے یہ لیکن ان کے عقیدہ توحید پر اس سے کوئی حرف نہیں آتا!

 

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رسول کے آگے اور پیچھے محافظ فرشتے مقرر کر دیتا ہے تاکہ غیب کی باتیں ( پیغامات) ٹھیک ٹھیک رسول تک پہنچ جائیں اور شیطان کو ان میں دخل اندازی کا موقع نہ ملے ۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اور رسول کی حفاظت کا یہ انتظام اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ رسول اللہ کے پیغامات بے کم و کاست لوگوں تک پہنچادے مطلب یہ ہے کہ رسول کو غیب کی جن باتو ں سے مطلع کیا جاتا ہے ان کی حفاظت کا غیر معمولی انتظام کیا جاتا ہے تاکہ پیغمبر کے سینہ میں وہ محفوظ رہے اور شیطان اس میں وسوسہ اندازی نہ کرسکے اور پیغمبر ان پیغامات کو مِن و عَن لوگوں تک پہنچائے اس اہتمام کے ساتھ اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ رسول نے اللہ کے پیغامات لوگوں تک بے کم و کاست پہنچادے ئے ۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ رسولوں کے احوال کو بخوبی جانتا ہے اور اس نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے اس لیے اس بات کا کوئی احتمال نہیں ہے کہ رسول اس کے پیغامات پہنچانے میں کوئی کوتاہی یا کسی قسم کی کمی بیشی کرے ۔ اگر ایسا ہوا تو ، وہ فوراً اس پر گرفت کرے گا۔ لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ رسول اللہ کی طرف سے جو کچھ کہے اسے وہ اس اطمینان اور یقین کے ساتھ قبو ل کریں کہ یہ اللہ کی فرمودہ باتیں ہیں جو اس کے رسول نے بے کم و کاست ہم تک پہنچادی ہیں ۔

 

٭٭٭٭٭