دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الإخلاص

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

اس سورہ کا ایک نام تو پہلی آیت قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ  ہی کو قرار دیا گیا ہے اور دوسرا نام اس کے مضمون کی مناسبت سے الاخلاص ہے کیونکہ یہ خالص توحید کے بیان پر مشتمل ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضمون نیز اسلوب کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دعوت کے ابتدائی دور میں  نازل ہوئی ہو گی کیونکہ اس دور میں  مختصر فقروں  میں  دین کی بنیادی باتوں  کو پیش کیا گیا ہے اور ان کی توضیح و تفصیل بعد کی سورتوں  میں  کی گئی ہے۔

 

ابتدائی دور میں  نازل ہونے کا ایک قرینہ حضرت بلال کا یہ واقعہ ہے کہ جب انہیں  امیہ بن خلف سخت دھوپ میں  لٹا کران کے سینہ پر بڑا پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ اسی حال میں  تجھے مرنا ہو گا الا یہ کہ تو محمدؐ کا انکار کر کے لات و عزیّ کو پوجنے لگے تو اس کے جواب میں  وہ احد احد کہتے (البدایہ و النہا یہ ج ۳ ص ۸۵ ) معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک سورہ اخلاص نازل ہو چکی تھی اور احد کا لفظ اسی سورہ کا تھا جو زبان زد ہو گیا تھا۔

 

مرکزی مضمون

 

 توحید ہے اور خاص طور سے اس کا یہ پہلو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا صحیح تصور پیش کرنا تاکہ مشرکانہ تصورات کی جڑ کٹ جاۓ۔

 

نظم کلام

 

 آیت ۱ اور ۲ میں  مثبت پہلو سے اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہوئی ہیں  اور آیت ۳ اور ۴ میں  منفی پہلو سے تاکہ قوموں  اور ملتوں  میں  جن راہوں  سے شرک داخل ہوا ہے وہ مسدود ہوں۔

 

اہمیت و عظمت

 

سورہ اخلاص در حقیقت قرآن کی آخری سورہ ہے کیونکہ اس کے بعد کی دو سورتیں  اسی تصور توحید سے ابھری ہیں  اور اس تصور توحید نیز پورے قرآن کی حفاظت کا سامان ہیں۔ قرآن کا آغاز توحید سے ہوا تھا اور اختتام بھی توحید ہی پر ہوا ہے۔ اس سے توحید کی اہمیت نیز اس سورہ کی عظمت بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔ علامہ فراہی فرماتے ہیں  : ’’ اگرچہ یہ سورہ اپنے ظاہری انداز کے لحاظ سے تمام سورتوں  میں  ایسی چھوٹی ہے جیسی تمام بدن میں  آنکھ کی پتلی مگر سارا عالم ہدایت اسی سے روشن نظر آتا ہے ‘‘۔ (مجموعہ تفاسیر فراہی ص ۵۲۵ )

 

سورہ اخلاص کی فضیلت احادیث صحیح سے ثابت ہے بخاری میں  ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

 

وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنَّھَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرآنِ ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں  میری جان ہے یہ سورہ (قل ھو اللہُ احد ) قرآن کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے ‘‘۔ (بخاری کتاب فضائل القرآن) اس کی یہ فضیلت معانی قرآن کے اعتبار سے ہے کیونکہ قرآن میں  توحید کا مضمون اس کثرت سے بیان ہوا ہے کہ گویا اس کا ایک تہائی حصہ اسی پر  مشتمل ہے اور چونکہ سورہ اخلاص میں  اس اہم اور پیلے ہوۓ مضمون کو چار مختصر فقروں  میں  اس طرح سمیٹ دیا گیا ہے جیسے دریا کو کوزہ میں  بند کر دیا گیا ہو اس لیے اسے ایک تہائی کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ رہی اس کی تلاوت کی برکتیں  تو اس سے وہی لوگ فیض یاب ہو سکتے ہیں  جو توحید خالص پر ایمان رکھتے ہوں  اور اپنے عقیدہ میں  شرک کا کوئی شائبہ نہ آنے دیں۔

ترجمہ

اللہ  رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو ۱*  ، وہ ۲*  اللہ یکتا ہے ۳*۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ وہ بالا تر ہستی ہے جو سب کا مرجع و ملجا ۴*  ہے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ اس کی کوئی اولاد ۵*  ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ۶*۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے ۷*  

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے اور آپ کے  واسطے سے ہر اس شخص سے جو قرآن پر ایمان رکھتا ہو۔ کہنے سے مراد اظہار و اعلان ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ آیت میں  ھُوَا (وہ)  عربی قواعد کی رو سے ضمیر شان ہے جو  کسی بت کی اہمیت کو واضح کرنے اور اس پر توجہ کو مرکوز کرانے کے لیے جملہ کے آغاز میں  آتی ہے اور اس سے کلام میں  بڑی فصاحت پیدا ہو جاتی ہے مثلاً کہتے ہیں  ھوالزمان غدار (وہ زمانہ ہے جو بے وفائی کرتا ہے )۔ آیت قُلْ ھُو اللہُ اَحَدٌ  (کہو وہ اللہ یکتا ہے ) میں  ھُوَ (وہ) کی ضمیر بیان کی اہمیت کو واضح کر رہی ہے کہ اسے کان لگا کر سنو اور اس پر اپنی توجہ مرکوز کرو۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ اللہ یکتا ہے ‘‘۔ یعنی وہ اپنی ذات اور صفات میں  بالکل منفرد ہے۔ واحد (ایک) کے مقابلے میں  اَحَد (یکتا) کا لفظ اور بات کی صراحت کرتا ہے کہ اس کی وحدت میں  کثرت کا کوئی پہلو نہیں  ہے اور اس کی وحدانیت ایسی کامل ہے کہ نہ اس کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور نہ تقسیم اس کا وجود مستقل بالذات ہے اور مخلوقات سے بالکل الگ ہے۔ خداؤں  کی کوئی جنس نہیں  بلکہ وہ ایک ہی خدا ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

 

انسان کی فطرت خدا کے اس تصور سے آشنا ہے ، اس کے وجدان کی پکار بھی یہی ہے اور اس کی عقل بھی اسی کی شہادت دیتی ہے نیز کائنات کا ذرہ ذرہ اور اس کا پورا نظام اسی پر دلالت کرتا ہے ؃

 

وَفِی کُلِّ شَیْءٍ لَہٗ آیَۃٌ

 

تَدُ لُّ عَلٰ اَنَّہ وَاحِدٌ

 

’’ ہر چیز میں  س کی ایک نشانی ہے۔ جو اس کی وحدت پر دلالت کرتی ہے ‘‘ اس کا اَحَد(یکتا) ہونا کائنات کی سب سے بڑی ، سب سے زیادہ ابھری ہوئی اور سب سے زیادہ بنیادی حقیقت ہے اس حقیقت کو نظر انداز کر کے جن لوگوں  نے خدا کے بارے میں  سوچا ان کو ایسی زبردست ٹھوکر لگی کہ پھر وہ سنبھل نہ سکے۔ اس سلسلہ کی بنیادی غلطی خدا کو مخلوق پر قیاس کرنا ہے جب کہ یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ خالق اور مخلوق میں  کسی پہلو سے بھی مشابہت ممکن نہیں  ہے اور نہ ہماری محدود عقل اس قابل ہو سکتی ہے کہ اس کی ذات میں  غور و خوض کرنے لگے اس لیے اس کے یکتا و یگانہ ہونے کے سیدھے سادے تصور کو چھوڑ کر جتنے فلسفے بھی اہل مذاہب نے خدا کے وجود کے بارے میں  ایجاد کیے ہیں  وہ سب نے حقیقت اور یکسر باطل قرار پاتے ہیں۔ / ظاہر ہے جب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی تو کتنی ہی بلند عمارت کیوں  نہ تعمیر کی  جاۓ وہ ٹیڑھی ہی ہو گی۔

 

رہے مادہ پرست لوگ جو خدا کے وجود ہی کو تسلیم نہیں  کرتے تو ن کا یہ انار فطرت انسانی  کے خلاف اعلان جنگ ہے اورت جو شخص اپنی فطرت ہی سے جنگ کرنے پر آمادہ ہو اس کو کوئی بات بھی دلیل سے منوائی نہیں جا سکتی۔ انسان اپنی آنکھیں  پھوڑ دینے کے بعد کسی بھی چیز کے وجود سے انکار کر سکتا ہے۔ ایسے شخص کو کوئی چیز بھی نہیں  دکھائی جا سکتی۔

 

جہاں  تک انبیائی ہدایت کا تعلق ہے بلا استثناء تمام پیغمبروں  نے توحید ہی کی تعلیم دی تھی چنانچہ بائیبل میں  باوجود تحریفات کے توحید کا تصور بنیادی طور سے موجود ہے مثلاً تورات میں  ہے :

 

’’ سن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے ‘‘۔ (استثنا ۶ : ۴)

 

’’ جو کوئی واحد خداوند کو چھوڑ کر کسی اور معبود کے آگے قربانی چڑھاۓ وہ بالکل نابود کر دیا جاۓ ‘‘۔ (خروج ۲۲ : ۲۰ )

 

اور زبور میں  ہے :

 

تو ہی واحد خدا ہے ‘‘۔  (زبور ۸۶: ۱۰ )

 

لیکن انبیاء علیہم السلام کی اس بنیادی تعلیم سے قوموں  اور ملتوں  نے انحراف کیا اور گمراہی میں  پڑ گئیں  اس انحراف کی ایک مثال تو عیسائی مذہب کا عقیدہ تثلیث (Trinity) ہے جو باپ بیٹا اور روح القدس ین خداؤں  کے مجموعہ کا نام ہے اور اس کی دوسری مثال ہمارے ملک کے بت پر ستوں  کا تری مورتی( ञिमूर्ति  Trimurty ) کا عقیدہ ہے جو تین دیوتاؤں  برہما، وشنو اور شیو کے مجموعہ کا نام ہے۔ ان کا مذہبی نشان ’’ اوم    Omتین خداؤں  کی نمائندگی کرتا ہے۔

 

"In later times. Om is the mystic name for the Hindu triad, and represents the union of the three gods.  Viz. a (Vishnu), u (Siva) m (Brahma) – (A Sanskrit – English Dictionary by Sir Monier, Oxford p.235)

 

اور ویدوں  کا تعارف کراتے ہوۓ پروفیسر سی کنہن راجا اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں  کہ ہندوستان میں  ہم توحید کے  تصور سے ہمیشہ نا آشنا رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں  :

 

‘’ The difficulty is that in India we never had a Monotheism till very recent times. If one reads the Mahabharata, it will be found that every divinity is in his turn a Supreme Godhead.  This is exactly what is found in the Vedas too …… and there never came a stage when there was only one God.’’

 

(The Quintessence of the Rigveda P. 11)

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ متن میں  لفظ اَلصَّمَد استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں  بڑی وسعت ہے اس لیے کسی ایک لفظ میں  اس کا ترجمہ کرنا مشکل ہے۔

 

صمد کے لغوی معنیٰ ہیں  وہ جس کا قصد کیا جاۓ اور یہ اس سردار کے لیے بولا جاتا ہے جس سے بالا تر کوئی دوسرا شخص نہ ہو اور جس کی طرف لوگ اپنی ضرورتوں  اور معاملات میں  رجوع کرتے ہوں  اسی طرح صمد اس چٹان کو بھی کہا جاتا ہے جس کی دشمن کے حملہ کے وقت پناہ لی جاۓ نیز اس ٹھوس چیز کو بھی کہتے ہیں  جس میں  جوف نہ ہو۔ ان لغوی معنیٰ کے پیش نظر آیت میں  اللہ تعالیٰ کے لیے اَلصَّمَد کی جو صفت بیان ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بالا تر ہے ، اس کی سیادت کامل ہے ، وہی مقصود و مرجع ہے ، وہی ملجا و مأویٰ ہے۔ وہ بے نیاز ہے اسے کسی چیز کی حاجت نہیں  جب کہ سب اس کے محتاج ہیں  اور وہ سب کی حاجتوں  کو پورا کرنے والا ہے۔ وہ پناہ کی چٹان ہے جیسا کہ زبور میں  کہا گیا ہے : ’’ خداوند میری چٹان اور میرا قلعہ اورع میرا چھڑانے والا ہے ‘‘ زبور ۱۸: ۲) ’’ اے خداوند تو ہی میری پناہ ہے ’‘۔ (زبور ۷۱: ۱ )

 

اس کی صَمَدیت کے مفہوم میں  یہ بات بھی شامل ہے کہ نہ تو کوئی چیز اس کے اندر داخل ہوتی ہے۔

 

اور نہ کوئی چیز اس کے اندر سے خارج ہوتی ہے اس لیے اس کے اولاد ہونے کا سوال ہی نہیں  پیدا ہوتا اور وہ اس بات سے بھی پاک ہے کہ انسان اس میں  ضم ہو جاۓ جیسا کہ ہمارے ملک کے مشرکین کا عقیدہ ہے۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں  پھر انسان نے ٹھو کر کھائی کہ خدا کو اپنے اوپر قیاس کر کے اس کے لیے اولاد تجویز کر بیٹھا حالانکہ یہ بات عقلاً بھی غلط ہے اور نقلاً بھی۔ عقلاً اس لیے غلط ہے کہ کسی کو خدا کا بیٹا ماننے کی صورت میں  یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ خدا کا جزء ہے کیونکہ بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدائی قابل تجزیہ اور قابل تقسیم ہے نیز اس سے لازم آۓ گا کہ اس کی کوئی بیوی ہو اور کسی کی بیوی اس کی ہم جنس ہی ہو سکتی ہے لہٰذا ماننا پڑے گا کہ خدا کی بھی جنس ہے۔ ظاہر ہے اس سے زیادہ گھٹیا او لغو تصور خدا کے بارے میں  اور کیا ہو سکتا ہے مگر اس صریح خلاف عقل تصور کو اہل مذاہب نے محض جذبات سے مغلوب ہو کر اور غلو کا شکار ہو کر قبول کر لیا اور خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں  تجویز کیں۔  نقلاً یہ بات اس لیے غلط ہے کہ خد نے بندوں  کی ہدایت کے لیے جو کتابیں  بھی نازل فرمائیں  ان میں  توحید ہی کی تعلیم دی گئی تھی۔ ان کتابوں  کے جو اجزاء ہمارے سامنے موجود ہیں  ان میں  سارا زور توحید ہی پر دیا گیا ہے۔ رہا بائیبل کا وہ حصہ جس میں  حضرت مسیح کو خد کا بیٹا کہا گیا ہے تو اولاً یہ بات تورات زبور اور انجیل کی واضح اور بنیادی تعلیم کے خلاف ہے تورات بائیبل کے مجموعہ میں  سب سے پہلی اور سب سے قدیم کتاب ہے اس لی اس کی تعلیم کے خلاف اناجیل اربعہ کے بیان کی حیثیت تحریف ہی کی قرار پاتی ہے۔ ثانیاً  اناجیل اربعہ میں  جہاں  حضرت مسیح کے لیے ’’ بیٹا ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں  عمومیت کے ساتھ خدا کے نیک بندوں  کے لیے بھی خدا کے بیٹے کے الفاظ استعمال ہوۓ ہیں  مثلاً

 

’’ مبارک ہیں  وہ جو صلح کراتے ہیں  کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں  گے ‘‘۔ (متی ۵ : ۹)

 

بادی النظر میں  محسوس ہوتا ہے کہ یہ بات مجازی معنی میں  کہی گئی ہے نہ کہ حقیقی معنیٰ میں  لیکن اگر توحید کی اس تعلیم کو سامنے رکھا جاۓ جو تورات ، زبور اور انجیل کے اوراق میں  پھیلی ہوئی ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ عبد (بندہ ) کے لفظ کو ابن (بیٹا) سے بدل دیا گیا ہے۔ اسی طرح لفظ رب (پروردگار۔ مالک) کی جگہ اب (باپ) کا لفظ رکھ دیا گیا ہے۔ متی کی انجیل میں  ہے :

 

’’پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جاۓ ‘‘۔ (متی۶ :۹)۔

 

یہ کھلی ہوئی تحریف ہے جو یا تو ان کتابوں  کے مؤلفین نے کی ہے یا ان کے مترجمین نے کیونکہ انجیل ہی میں  واضح طور سے کہا گیا ہے :

 

’’ یسوع نے جواب دیا کہ اول یہ ہے اے اسرائیل سن۔ خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے ، اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ‘‘۔ (مرقس ۱۲: ۲۹، ۳۰ )

 

خدا کے لیے اولاد تجویز کرنے میں  نصاریٰ منفرد نہیں  ہیں  بلکہ دوری قومیں  بھی اس گمراہی میں  شریک ہیں۔ یہود حضرت عزیز کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں  اور مشرکین مکہ نے فرشتوں  کو خدا کی بیٹیاں  ٹھہرایا تھا۔ اس سے بھی دو قدم آگے ہندوستان کے بت پرست ہیں  جو نہ صرف بے شمار خداؤں  کے قائل ہیں  بلکہ ان کی اولاد کے بھی مثلاً

 

‘’ The Maruts are the sons of Rudra. Another great god in the Rigveda ‘’ (The Quintessence of the Rigveda P. 45)

 

ان کے نزدیک مہد برہما وہ رحم ہے جس میں  بھگوان باپ کی حیثیت سے اپنا تخم ڈال دیتا ہے جس سے مخلوق جنم لیتی ہے چنانچہ گیتا میں  ہے :

 

Mahad – Brahma is the womb wherein I cast My Primal seedling  whence are born all creatures. Whatever beings are born from any  womb Mahad – Brahma is their Primal Mother and I Their Primal Father who inseminate her.’’

 

(The Bhagavad Gita 14.3– 4 Engl. Transl. by Dilip Kumar Roy P. 160 )

 

لیکن قرآن نے خدا کی معرفت ایسے صاف ستھرے حقیقت افروز اور دل لگتے انداز میں  پیش کی ہے کہ اس روشنی کے سامنے ساری تاریکیاں  کافور ہو گئی ہیں۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خدا ہی کیا ہوا جسے کسی نے جنم دیا ہو لیکن مشرکانہ مذاہب میں  خداؤں  کے جنم لینے کا تصور پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر رِگ وید میں  خداؤں  کی پیدائش کا ذکر موجود ہے :

 

‘’ There is a song about the birth of the gods (X-72).  The gods are spoken of generally as having been born from the heaven and the earth and in various other ways.’’

 

(Quintessence of the Rigveda P. 100)

 

اسی مشرکانہ تصور کی یہاں  نفی کی گئی ہے کہ جس طرح اللہ کی کوئی اولاد نہیں  اسی طرح اس کا کوئی باپ بھی نہیں   ہے۔ جنم لیے ہوۓ خدا تو فرضی خدا ہی ہو سکتے ہیں  حقیقی خدا تو سب کا خالق ہے وہ مخلوق کیوں  کر ہو سکتا ہے ؟ وہ تنہا اللہ ہی کی ذات ہے جس سے نہ کوئی چیز جنم لیتی ہے اور نہ کسی نے اسے جنم دیا ہے۔۔۔۔۔ کس قدر خدا کے شایان شان ہے قرآن کا یہ تصور توحید !

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نہ اللہ کی ذات میں  اس کی برابری اور اس کے جوڑ کا کوئی ہے اور نہ اس کی صفات میں۔ سب مخلوق ہیں  اور وہ تنہا خالق، سب محتاج ہیں  اور وہ اکیلا غنی و بے نیاز ، سب بندے اور غلام ہیں  اور وہ ایک معبود و آقا۔ اس کے مانند اور اس کے ہم رتبہ نہ کبھی کوئی ہوا ہے اور نہ ہو گا۔

 

اس واضح حقیقت کے باوجود مشرکین نے خدا کے ہمسر ٹھہراۓ۔ اس معاملہ میں  ہندوستان کے مشرکین سب سے آگے ہیں۔ انہوں  نے خالق اور مخلوق دونوں  کو ایک مخلوط وجود (ہمہ اوست ) قرار دیا۔ ان کی مذہبی کتاب اُپنیشد میں  شرک کو ایک فلسفہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے :

 

‘’All that exists, says the Upanishad, is He, He is that All and the Allis He.’’

 

(The Upanishads by M.P. Pandit P. 154)

 

‘’The Self or Soul of everyone is Brahman.’’

 

(Upanishads by Swami Sivananda P. 16 )

 

ان کی دوسری مذہبی کتابوں  میں  بھی خدا کا تصور بہت الجھا ہوا ہے :

 

" There is no Personal Supreme God in the religion of Vedas.’’

 

(The Quanitessence of the Rigveda P.7 )

 

‘’He is in all and all are in Him …… He descended as the Avatar.’’

 

(The Bhagavad Gita-A Revelation by D.K. Roy P.33)

 

‘’ Lord, I behold in Your all gods.’’

 

(The Bhagavad Gita – Ch XI: 15 )

 

جو لوگ ان مشرکانہ فلسفوں  میں  الجھ کر تاریکیوں  میں  بھٹک رہے ہیں  ان کی نجات اس کے بغیر ممکن نہیں  ہے کہ وہ تعصبات کو چھوڑ کر قرآن کی روشنی کو قبول کر لیں۔