دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الطُّور

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

نام

 

آغاز ہی میں الطور (کوہِ طور) کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’ الطور‘ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورۂ مکہ کے وسطی دور میں نازل ہوئی ہوگی۔

 

مرکزی مضمون

 

رسول قیامت کے آنے اور عمل کا بدلہ دئے جانے کی جو خبر دے رہا ہے وہ لازماً پیش آنے والی حقیقت ہے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت۱ تا ۱۶ میں روز جزا کو جھٹلانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ کا عذاب ان پر واقع ہو کر رہے گا۔ اس کا یقین پیدا کرنے کے لیے شہادتیں بھی پیش کی گئی ہیں اور عذاب کی تصویر بھی۔

 

آیت ۱۷ تا ۲۸ میں جھٹلانے والوں کے بالمقابل اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والوں اور احساس ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کو جس انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اس کی تصویر پیش کی گئی ہے۔

 

آیت ۲۹ تا ۴۷ میں معترضین کے سامنے ایسے سوالیہ نشان رکھ دئے گئے ہیں جن سے ان کے شبہات کا خود بخود ازالہ ہو جاتا ہے۔

 

آیت ۴۸ اور ۴۹ سورہ کے خاتمہ کی آیتیں ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

حدیث

 

حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں بیمار ہوں۔ (لہٰذا طواف کیسے کروں) آپ نے فرمایا سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔ چنانچہ میں نے طواف کیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک طرف نماز پڑھ رہے تھے جس میں سورۂ طور کی قرأت فرما رہے تھے۔ (بخاری کتاب التفسیر)۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  قسم ہے ۱*طور کی ۲*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   اور ایک ایسی کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   جھلّی کے کھلے اوراق میں۔۳*

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   اور آباد گھر کی۔ ۴*

 

۵۔۔۔۔۔۔۔ اور بلند چھت کی۔ ۵*

 

۶۔۔۔۔۔۔۔ اور لبریز سمندر کی۔ ۶*

 

۷۔۔۔۔۔۔۔ کہ تمہارے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ ۷*

 

۸۔۔۔۔۔۔۔ کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں۔۸*

 

۹۔۔۔۔۔۔۔ جس دن آسمان تھر تھرانے لگے گا۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔اور پہاڑ چلنے لگیں گے۔۹*

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ جو بحث میں پڑے کھیل رہے ہیں۔۱۰*

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکے دے دے کر لے جایا جائے گا۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ جہنم جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے؟۔۱۱*

 

۱۶*۔۔۔۔۔۔۔داخل ہو جاؤ اس میں۔ اب صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے یکساں ہے ۱۲* تمہیں وہی بدلہ میں دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے۔۱۳*

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ بلا شبہ متقی ۱۴* باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔۱۵*

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ لطف اٹھا رہے ہوں گے ان نعمتوں کا جو ان کے رب نے انہیں بخشی ہوں گی اور ان کے رب نے انہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھا ہوگا۔۱۶*

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اعمال کے بدلہ میں جو تم کرتے رہے۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ وہ قطار در قطار تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔۱۷* اور حسین چشم حوروں سے ہم ان کا بیاہ کر دیں گے۔۱۸*۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے۔ ۱۹* اور ان کے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے۔ ۲۰* ہر شخص اپنی کمائی کے بدلہ رہن(گروی) ہے۔ ۲۱*

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ جس قسم کے میووں اور گوشت کی خواہش کریں گے ہم ان کو برابر دیتے رہیں گے۔۲۲*

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ وہ آگے بڑھ کر ایک دوسرے سے ایسی شراب کے جام لے رہے ہوں گے جس میں نہ بے  ہودگی ہو گی اور نہ گناہ کی کوئی بات۔ ۲۳*

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ ایسے خوبصورت لڑکے ان کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں گے جو گویا چھپائے ہوئے موتی ہیں۔ ۲۴*

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر دریافت حال کریں گے۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ کہیں گے اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں میں (اللہ سے) ڈرتے رہتے تھے۔ ۲۵*

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں جھلسا دینے والے عذاب سے بچا لیا۔ ۲۶*

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے ہم اس کو پکارتے تھے۔ ۲۷* واقعی وہ بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ ۲۸*

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ تو(اے پیغمبر!)  تم فہمائش کرو اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ دیوانے۔۲۹*

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے جس کے لیے ہم گردشِ ایام کا انتظار کر رہے ہیں۔ ۳۰*

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔(ان سے)کہو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔۳۱*

 

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان کی عقلیں ان کو ایسی ہی باتیں سکھاتی ہیں یا ہیں ہی یہ سرکش لوگ؟ ۳۲*

 

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (قرآن )کو اس نے خود ہی گھڑ لیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ ۳۳*

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ سچے ہیں تو اس جیسا کلام لائیں۔ ۳۴*

 

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر پیدا ہو گئے ہیں یا یہ خود ہی (اپنے) خالق ہیں؟ ۳۵*

 

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔

 

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ کیا تمہارے رب کے خزانے ان کے پاس ہیں یا ان پر ان کا تسلط ہے؟ ۳۶*

 

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ (آسمان کی باتیں) سن لیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو سننے والا واضح حجت پیش کرے۔ ۳۷*

 

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کے لیے بیٹیاں ہیں اور تم لوگوں کے لیے بیٹے! ۳۸*

 

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہو۔ ۳۹* کہ وہ اس تاوان کے بوجھ تلے دبے جار ہے ہیں؟

 

۴۱۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ لکھ رہے ہوں؟۴۰*

 

۴۲۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کفر کرنے والے ہی اس چال میں گرفتار ہوں گے۔۴۱*

 

۴۳۔۔۔۔۔۔۔ کیا اللہ کے سوا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے؟ پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں گے تو کہیں گے تہ بہ تہ بادل ہے۔ ۴۲*

 

۴۵۔۔۔۔۔۔۔ تو ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس میں ان کے ہوش اڑ جائیں گے۔ ۴۳*

 

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ جس دن نہ ان کی کوئی چال ان کے کام آئے گی اور نہ ان کو کوئی مدد مل سکے گی۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔۔اور ظالموں کے لیے اس سے پہلے بھی عذاب ہے ۴۴* مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔۔(اے پیغمبر!) تم صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ ۴۵* تم ہماری نگاہ میں ہو۔ ۴۶* اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو جب تم اٹھتے ہو۔ ۴۷*

 

۴۹۔۔۔۔۔۔۔ اور رات میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ ۴۸* ار اس وقت بھی جب ستارے غروب ہوتے ہیں۔ ۴۹*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں قسم شہادت کے معنی میں ہے۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ تکویر نوٹ ۱۴۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد کوہِ طور ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز کیا گیا اور شریعت عطا ہوئی۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد تورات ہے جس کے نسخے چمڑے کی باریک جھلی پر لکھے جاتے تھے پھر ان کے اوراق کو کھول کر پڑھا جاتا تھا۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد خانہ کعبہ ہے جو طواف کرنے والوں اور عمرہ اور حج کرنے والوں سے معمور رہتا ہے۔ بیتِ معمور جیسا کہ حدیث میں آتا ہے آسمان پر ہے لیکن اس کا اطلاق مکہ کے خانۂ کعبہ پر بھی ہوتا ہے اور چونکہ یہاں اسے ایک تاریخی شہادت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اس لیے اس سے مراد مشاہدہ میں آنے والا بیتِ معمور ہے جس کی چھت نہایت بلند ہے۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد آسمان ہے جس کی چھت نہایت بلند ہے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی پانی سے بھرے ہوئے سمندر کی۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ بات جس کی شہادت میں مذکورہ بالا چیزیں پیش کی گئی ہیں۔ پیغمبر قرآن یوم جزا سے جو باخبر کر رہا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جسے شاعرانہ تخیل یا دیوانگی پر محمول کیا جائے بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انبیائی تعلیم کا لازمی جز رہی ہے اور تاریخ اس پر شاہد ہے چنانچہ کوہِ طور کی چوٹیوں سے یہی صدا بلند ہوئی تھی اور توریت کے کھلے اوراق میں یہ تعلیم موجود ہے۔ اسی طرح خانہ کعبہ جو قدیم ترین عبادت گاہ ہے اور عبادت کرنے والوں سے ہمیشہ معمور رہا ہے اسکی اساس توحید اور روز جزا کے عقیدہ ہی پر رکھی گئی تھی۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعٰیل علیہما السلام کی تعلیم کے یہ نہایت روشن پہلو تھے لہٰذا یہ آباد گھر روزِ جزا کے عقیدہ کو تسلسل کے ساتھ لوگوں تک منتقل کر رہا ہے۔

 

یہ تو ہیں روزِ جزا ء کی تائید میں تاریخ کے آثار۔ رہا اس کا خوف تو وہ اللہ کی عظمت کے تصور ہی سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی عظمت کا تصور آثارِ کائنات کے مشاہدہ سے قائم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آسمان کی وسیع چھت جس کی بلندی کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اللہ کے کمال کی قدرت پر دلالت کرتی ہے اور اس کے مشاہدہ سے دلوں میں اس کی عظمت قائم ہوتی ہے اسی طرح زمین پر پانی سے لبریز اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر ب العالمین کی زبردست ہیبت پیدا کرتے ہیں۔ گویا اس کائنات کا پورا ماحول انسان کے لیے یک تربیت گاہ ہے جہاں اللہ کی قدرت اور اس کی عظمت کا یقین پیدا ہوتا ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی ہے لیکن انسان ہے کہ اس تربیت گاہ میں رہ کر بھی کوئی تربیت حاصل نہیں کرتا اور خدا سے بے خوف ہو کر اور روزِ جزا سے بے پرواہ ہو کر زندگی گزارتا ہے۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کا واقع ہونا بالکل اٹل ہے اور کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو روزِ جزا کو آنے سے روک سکے۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہاڑ زمین سے اکھڑ کر ہوا میں بکھر جائیں گے۔

 

مکان کو جب ازسر نو تعمیر کرنا ہوتا ہے تو پرانے مکان کی عمارت ڈھا دی جاتی ہے اسی طرح اس دنیا کی توڑ پھوڑ اس لیے کی جائے گی تاکہ ایک نئی دنیا وجود میں لائی جاسکے۔ ایسی دنیا جس میں انسان اس فصل کو جو اس نے دنیا میں بوئی تھی کاٹ سکے اور اپنے اعمال کا پھل پاسکے۔ اسی کا نام آخرت ہے۔

 

جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ زمین وآسمان ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے وہ خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ سائنسداں اس کائنات کی لمبی عمر بتاتے ہیں لیکن اس بات سے وہ انکار نہیں کرسکتے کہ کسی وقت بھی یہ کائنات ناگہانی حادثہ سے دو چار ہوسکتی ہے۔ زمین پر بظاہر سکون کی کیفیت ہوتی ہے لیکن زمین کے اندر کی گیس حرکت میں آتی ہے اور زمین زلزلہ سے دو چار ہو جاتی ہے۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت کے بارے میں انہوں نے طرح طرح کی بحثیں کھڑی کر دی ہیں اور جنت و  دوزخ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب پیغمبر تمہارے سامنے جہنم کا نقشہ کھینچتا تھا تو تم اسے الفاظ کی جادو گری بتاتے تھے اب دیکھ لو جہنم ایک حقیقتِ واقعہ کے طور پر موجود ہے یا نہیں؟ کیا اب بھی تمہیں اس کے جادو ہونے یا کچھ سجھائی نہ دینے کا شبہ ہو رہا ہے؟

 

۱۲ یعنی اب خامشی کے ساتھ عذاب سہتے رہو یا چیخ پکار کرتے رہو تمہاری کوئی سنوائی ہونے والی نہیں۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو تم نے بویا تھا وہی آج کاٹ رہے ہو۔ یہ تمہارے اعمال کے نتائج ہی ہیں جن کو تمہیں بھگتنا ہے۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھٹلانے والوں کے مقابل متقین کا ذکر ہو رہا ہے جس سے یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ اور روز جزا پر ایمان لا کر اس دن کی جوابدہی سے ڈرتے رہے اور پرہیزگاری اختیار کی۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنت کے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھا جانا بجائے خود بہت بڑی نعمت ہے۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی نشستیں ایک دوسرے کے مقابل ہوں گی تاکہ وہ باہم مذاکرہ کرسکیں۔ اور یہ نشستیں نہایت آرام دہ ہوں گی۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورۂ دخان نوٹ ۵۵ میں گزر چکی۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اہل ایمان کے لیے مزید خوشخبری ہے کہ ان کی وہ اولاد جو ایمان لائی اور ان کے پیچھے چل کر اسلام کی پیرو بنی ان کو جنت میں ان کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور نہیں قلبی سکون حاصل ہو۔

 

اس الحاق (ملا دینے) کی صورت کیا ہوگی وہ جنت میں پہنچ کر ہی معلوم ہوگی۔ اس سلسلہ میں قیاس آرائی درست نہیں۔

 

رہی اہل ایمان کی نابالغ اولاد جس کا انتقال بالغ ہونے سے پہلے ہوا ہو تو حدیث میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ جنت میں ہوگی (ملاحظہ ہو۔ بخاری کتاب الجنائز باب ماقال فی اولاد المسلمین)

 

یہ آیت اہلِ ایمان کو اس بات کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ اگر وہ اپنی اولاد کو اپنے ساتھ جنت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کے اندر نور ایمان پیدا کر نے اور انہیں اسلام کا پیرو بنانے کی کوشش کریں۔ موجودہ دور کا مسلمان اپنی اولاد کے دنیوی مستقبل کو شاندار بنانے کے لیے تو سب کچھ کر گزرتا ہے لیکن ان کی آخرت بنانے کی کوئی فکر نہیں کرتا اور کچھ لوگ اگر اپنے بچوں کو دین سکھاتے ہیں تو محض رسمی حد تک۔ اور اس بات کی طرف سے بے اعتنائی برتتے ہیں کہ ان میں شعوری دینداری پیدا کی جائے اور ان کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ اللہ سے ڈرنے لگیں اور دین کو پوری طرح اپنا لیں۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اولاد سے ملانے کے لیے ان کے درجہ کو گھٹایا نہیں جائے گا بلکہ وہ اپنے اعمال کے مطابق جس درجہ کے مستحق ہوں گے ان کو اسی درجہ میں رکھا جائے گا۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ رہے کہ اولاد خواہ بے عمل ہی کیوں نہ ہو والدین اگر نیک ہیں تو وہ بھی ان کے طفیل جن میں داخل ہوگی۔نہیں بلکہ ہر شخص اپنے عمل کے لیے گروی ہے اور اپنے کئے کا ذ مہ دار ہے۔ چھٹکارا(نجات) اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ وہ نیک اعمال کے ساتھ حار ہو اور نیک اعمال کے لیے ایمان لازم ہے۔ اگر ایمان اور عمل صالح سے اس کی زندگی خالی رہی ہے تو قیامت کے دن وہ اپنے کو چھڑا نہ سکے گا اور جہنم کے عذاب سے نجات نہ پاسکے گا۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ نفیس غذائیں ہم انہیں دیتے ہی چلے جائیں گے۔ اور جس قسم کے میوے اور گوشت وہ پسند کریں گے ان کو دیا جائے گا۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ گوشت خوری جنت میں بھی ہوگی۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بے تکلف ہو کر ایک دوسرے سے شرابِ خالص کے جام لیں گے جس سے ان کے باہمی انس و محبت کا اندازہ ہوتا ہے جنت کی یہ شراب برے اثرات سے بالکل پاک ہوگی۔ اس کو پی کر آدمی نہ تو بکواس کرے گا اور نہ گناہ کا کوئی کام۔ دنیا کی شراب سے وہ بالکل مختلف ہوگی اور اس سے سرور کی وہ کیفیت پیدا ہوگی جس کا اندازہ اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جس طرح محفوظ موتی صاف اور آبدار ہوتے ہیں اسی طرح یہ لڑکے پاک صاف اور جمیل ہوں گے جو جنت والوں کے لیے انسیت کا باعث ہوں گے۔

 

جن کا یہ تفصیلی نقشہ جو قرآن نے پیش کیا ہے اس کے حقیقت ہونے کا یقین پیدا کرتا ہے اور یہ قرآن ہی کی خصوصیت ہے کہ اس نے اس وضاحت اور تفصیل کے ساتھ جنت کے احوال بیان کئے ہیں جبکہ جنت کا ایسا تفصیلی اور دل لگتا تعارف نہ بائیبل پیش کرتی ہے اور نہ دوسرے مذاہب کی وہ کتابیں جو مقدس سمجھی جاتی ہیں۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت کی جوابدہی سے غافل ہو کر اپنے گھر والوں کی دنیا بنانے میں نہیں لگ گئے تھے بلکہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی آخرت سنوارنے میں لگے ہوئے تھے اور محتاط زندگی گزارتے تھے کہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہنم کے عذاب سے جس کا جھلسا دینے والا عذاب بھی بہت بڑا عذاب ہے۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کو الٰہ واحد سمجھ کر پکارتے تھے، اسی کی عبادت کرتے تھے اور اسی سے دعائیں مانگتے تھے۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنت میں اہل ایمان اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں گے جن سے اس نے نوازا ہوگا اور ان کی احسان شناسی کی وجہ سے ان کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوں گے۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مشرکین کے الزام کی تردید ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔

 

تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ شعراء نوٹ ۱۸۰ اور سورۂ حجر نوٹ ۸۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور اس شخص نے رسالت کا جو دعویٰ کیا ہے اس کا کیا انجام ہوتا ہے

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن نے یہ بات پورے وثوق اور قطعیت کے ساتھ کہتی تھی کہ اگر تم اس انتظار میں ہو کہ رسول کا دنیا میں کیا انجام ہوتا ہے تو منتظر رہو۔ اس کی صداقت ثابت ہو کر رہے گی اور جھٹلانے والے بُرے انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ اس اعلان کو چند سال ہی گزرے تھے کہ قرآن کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی، رسول کو عزت اور غلبہ حاصل ہوا اور اس کے جھٹلانے والے ذلت کی موت مرے۔

 

۳۲ یعنی رسول کی شخصیت کو کاہن، مجنون اور شاعر کہہ کر جس طرح مجروح کرنے کی یہ لوگ کوشش کر رہے ہیں تو کیا واقعی ان کی عقلیں ان کو یہی باور کراتی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کیوں کہ عقلِ سلیم ایسے شخص پر دیوانے کا حکم نہیں لگاسکتی جس کی زبان سے حکیمانہ کلمات ادا ہو رہے ہوں اور نہ دل لگتے حقائق کو پیش کرنے والی شخصیت کو کاہن قرار دے سکتی ہے اور نہ ہی رسول کے مشن کو جس کے ساتھ حجتِ قاہرہ ہوتی ہے شاعری سے تعبیر کرسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منکرین کے یہ الزامات عقل کی غلط رہنمائی کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر کا شر ان کو یہ باتیں کہنے پر اکسا رہا ہے اور وہ اپنے غلط جذبات اور خواہشات سے مغلوب ہو کر نافرمانی اور سرکشی پر تل گئے ہیں۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کا کلام الٰہی ہونا ایک واضح حقیقت ہے لیکن چونکہ یہ ایمان لانا نہیں چاہتے اس لیے اس کو پیغمبر کا خود ساختہ کلام قرار دے رہے ہیں۔

 

آج بھی کتنے ہی لوگ قرآن کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف اس لیے قرار دیتے ہیں کہ اس کو کتاب الٰہی ماننے کی صورت میں انہیں ایمان لانا اور دین اسلام میں داخل ہونا پڑے گا۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ چیلنج تھا جو قرآن کے من گھڑت ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو دیا گیا اور اس چیلنج کو بعد میں بھی متعدد سورتوں میں دہرایا گیا لیکن اس چیلنج کا جواب نہ اس وقت کوئی دے سکا اور نہ بعد کے کسی دور میں۔ اور یہ حقیقت واقعہ ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی کوئی مثال اور کوئی نظیر نہ موجود ہے اور نہ پیش کی جا سکتی ہے۔ الفاظ کی نشست، آیتوں کا نظم، کلام کی روانی، اسلوب کا انوکھا پن، صوتی ہم آہنگی اور دلوں کو مسخر کرنے والا اور روح کو بیدار کرنے والا بیان اس کے معجزہ ہونے کی بین دلیل ہے۔ قرآن کی معجزانہ خصوصیات کے لیے دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۳۰۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بڑا چبھتا ہوا سوال ہے کہ انسان بغیر خالق کے پیدا ہو گیا ہے یا وہ خود اپنا خالق ہے؟ ظاہر ہے ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں۔ انسان کا مخلوق ہونا ایک واقعہFact ہے اور کوئی مخلوق بغیر خالق کے کس طرح وجود میں آسکتی ہے؟ وہی دوسری صورت کہ انسان خود اپنا خالق ہو تو یہ ناقابلِ تصور اور خلافِ واقعہ ہے۔ جب انسان کا وجود ہی نہیں تھا تو وہ اپنا خالق کیسے بنا اور اگر انسان اپنا خالق ہے تو وہ اپنی تخلیق میں تنوع کیوں نہیں پیدا کرتا۔ کیا ایک سانچہ میں اپنے کو ڈھال دینے کے بعد اس کی قوت تخلیق ختم ہو گئی؟

 

واضح ہوا کہ تمام خدائی صفات کے ساتھ ایک خالق کا وجود ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے اور ہر شخص کے ضمیر کی پکار بھی۔ اسی لیے قرآن کی یہ آیتیں دلوں میں نفوذ کرتی چلی گئیں۔ بخاری میں جبیر بن مُطِعم رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۂ طور کی قرأت فرما رہے تھے جب آپ ان آیتوں پر پہنچے تو دل کی یہ کیفیت ہوئی کہ گویا وہ اڑا جا رہا ہے۔(بخاری کتاب التفسیر)

 

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب یہ نہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں اور نہ ان پر ان کا حکم چلتا ہے کہ جس کو جتنا چاہیں دیں تو پھر ان کا غرور اور گھمنڈ کس بات پر ہے؟ جب وہ خدائی منصوبہ کے مطابق ہی اپنے حصہ کا رزق پا رہے ہیں تو ان میں اللہ کی ربوبیت کا احساس بیدار ہونا چاہیے۔

 

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہے کہ وہ آسمانی دنیا کی باتیں معلوم کرسکیں۔ اگر کوئی اس کا دعویدار ہے اور اس نے عالم بالا کی باتیں سن گن لی ہیں تو اس کی واضح حجت پیش کرے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے اور واقعہ یہ ہے کہ نہیں ہے تو پھر یہ خدا، فرشتے اور مذہب کے تعلق سے جو باتیں کرتے ہیں ان کا ماخذ کیا ہے؟

 

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ صافات نوٹ ۱۳۱

 

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ شعراء نوٹ ۹۸۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا ان پر وحی نازل ہوتی ہے جس کو وہ تحریر میں لا کر کتاب کی شکل دے رہے ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہے اور واقعہ یہ ہے کہ نہیں ہے تو پھر کس بنیاد پر وہ اس ہدایت سے بے نیاز ہو رہے ہیں جو قرآن کی صورت میں نازل ہو رہی ہے؟

 

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ فاطر نوٹ ۱۷۸ اور سورۂ طلاق نوٹ ۱۷۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی ہٹ دھرمی ایسی ہے کہ وہ کسی معجزہ پر بھی یقین کرنے والے نہیں۔ اگر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرتے ہوئے انہیں دکھایا جائے تو وہ اس کی تاویل یہ کریں گے کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے۔ یہ یقین اسی وقت کریں گے جب کہ عذاب ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔

 

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب تمہاری نصیحت سننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ قیامت کے دن انہیں پتہ چلے گا جب اس ہولناکی سے ان کے ہوش اڑ جائیں گے۔

 

کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دینے کا یہ حکم نصیحت کے تعلق سے ہے ورنہ جہاد کے مرحلہ میں ان کی سرکوبی ضروری ہے چنانچہ مدنی دور میں طاقت کا جواب طاقت سے دیا گیا۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب ہے۔ مراد وہ عذاب ہے جو رسول کو جھٹلانے والی قوم پر آتا ہے۔

 

چنانچہ مشرکینِ عرب پر اللہ کا عذاب مسلمانوں کی تلوار کے ذریعہ ٹوٹ پڑا اور وہ ذلت کی موت مر گئے۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سورہ کے خاتمہ کی آیتیں ہیں اور ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی بھی دی گئی ہے اور اللہ کی تسبیح و تمجید میں سرگرم رہنے کی ہدایت بھی۔

 

فیصلہ سے مراد اللہ کا وہ فیصلہ ہے جو کافروں کو سزا دینے کیلئے ظہور میں آئے گا۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اے پیغمبر! اللہ تعالیٰ تمہاری نگرانی فرما رہا ہے لہٰذا تم ان کی چالوں کی کوئی فکر نہ کرو۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب تم سوکر اٹھو تو اللہ کو یاد کرو اور اس کی پاکی اور اس کی حمد بیان کرو۔ اس میں اشارہ ہے تہجد کی نماز کی طرف۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی شامل ہیں اور رات کے اوقات میں تسبیح کے کلمات کہنا بھی کہ یہ عبادت ہے اور اس سے دل اللہ کی طرف لگا رہتا ہے۔

 

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد فجر کا وقت ہے جب کہ ستارے ڈوب رہے ہوتے ہیں آسمان کی بزم سونی پڑ جاتی ہے۔ یہ وقت انسان کے نفس اور اس کی روح کو بیدار کرنے والا ہوتا ہے اس لیے اس وقت تسبیح کا حکم دیا گیا ہے جس میں فجر کی نماز بھی شامل ہے۔

 

٭٭٭٭٭