دعوۃ القرآن

سورة یُوسُف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

یہ سورۃ اللہ کے پیغمبر یوسف علیہ السلام کی سرگزشت پر مشتمل ہے اور اس مناسبت سے اس کا نام سورہ یوسف ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورہ ہود کے بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

یوسف علیہ السلام کی بے داغ سیرت کو نمایاں کرتے ہوئے ان کی دعوت کو پید کیا گیا ہے اور مخالفین حق پریہ واضح کیا گیا ہے کہ ان کی مخالفانہ کاروائیوں اور سازشوں کا توڑ اللہ تعالیٰ کی خاموش تدبیریں کس طرح کرتی ہیں۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۲ تمہیدی آیات ہیں۔ آیت ۳ تا ۱۰۱ میں سرگزشت یوسف بیان ہوئی ہے۔ آیت ۱۰۲ تا ۱۱۱ خاتمہ کلام ہے جس میں اس واقعہ کے پیش نظر تذکیر کے پہلو پیش کیے گئے ہیں۔

پچھلی سورہ سے مناسبت

سورہ یوسف کو سورہ ہود سے کافی مناسبت ہے۔ ایک تو اس پہلو سے کہ سورہ ہود میں متعدد انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں اور اس سورہ میں تفصیل کے ساتھ یوسف علیہ السلام کی۔ دوسرے اس پہلو سے کہ سورہ ہود کی آخری آیتوں میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں ان سے یہ ہود کی آخری آیتوں میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں ان سے یہ سورہ پوری طرح ہم آہنگ ہے مثلاً وہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب کر کے فرمایا گیا تھا کہ یہ انبیائی سرگزشتیں تمہارے دل کو مضبوطی عطاء کرنے والی اور مبنی پر حقیقت ہیں اور مؤمنین کے لیے موعظت اور یاد دہانی ہیں۔ یہ باتیں سورہ یوسف میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ وہاں مخالفین سے کہا گیا تھا کہ آخری فیصلہ کا تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ اس کے بعد سورہ یوسف نے گویا اس بات کی نشاندہی کری کہ حالات کیا رخ اختیار کرنے جا رہے ہیں اور کٹھن مرحلوں سے گزرنے کے بعد کس طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو زمین میں اقتدار اور غلبہ حاصل ہونے والا ہے اور آپ کی برادری کے ان لوگوں کو جو برادران یوسف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں کس طرح شرمندگی اٹھانا پڑ ے گی۔ سورہ ہود کی آخری آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ پر توکل کی ہدایت دے گئی تھی۔ اس سورہ نے یوسف علیہ السلام کے توکل کی بہترین مثال سامنے رکھ دی ساتھ ہی توکل کے نتائج بھی پیش کر دیے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جو شخص صحیح راہ عمل اختیار کر کے نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا کام بناتا ہے اور کامیابی اس کے قدم چوم لیتی ہے۔

 

خاندان اور جائے سکونت

 ابراہیم علیہ السلام نے ا پنے ایک بیٹے اسحاق کو فلسطین (کنعان) میں آباد کیا تھا۔ اسحاق علیہ السلام پیغمبر تھے۔ ان کے بیٹے یعقوب کو بھی جن کا دوسرا نام اسرائیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ان کے جیسا کہ بائبل کا بیان ہے بارہ بیٹے تھے جن سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا۔ یوسف اور بن یمین چھوٹے تھے اور ایک بیوی سے تھے اور دوسرے بیٹے دوسری بیویوں سے۔ یہ خاندان فلسطین کے علاقہ حبرون میں رہتا تھا اور ان کا زمانہ تقریباً اٹھارہ سو سال قبل مسیح کا ہے۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ الف۔ لام۔ را ۱* یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی ۲*۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے اس کو عربی قرآن کی شکل میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھو ۳*۔

 

۳۔ ۔ ۔ ہم تمہیں بہترین سرگزشت سناتے ہیں ۴* اس قرآن کے ذریعہ جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے تم اس سے بالکل بے خبر تھے ۵*۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ جب ایسا ہوا کہ یوسف۶* نے اپنے باپ سے کہا "ابا جان ! میں نے (خواب میں) دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند ہیں اور کیا دیکھتا ہو مہ یہ میرے آگے جھک گئے ہیں"۷*۔

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا "اے میرے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے ۸*۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں جن لے گا ۹* اور تمہیں سکھائے گا باتوں کی اصل حقیقت معلوم کرنا ۱۰* اور وہ اپنی نعمت تم پر اور آل یعقوب پر اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تمہارے دادا ابراہیم اور اسحاق پر کر چکا ہے ۱۱* بے شک تمہارا رب علم والا حکمت والا ہے ۱۲*۔

 

۷۔ ۔ ۔ در حقیقت یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں پوچھنے والوں کے لیے بڑ ی نشانیاں ہی۔ ۱۳*

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ جب ایسا ہوا کہ وہ (یعنی برادران یوسف) کہنے لگے یوسف اور اس کا بھائی ۱۴* ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک جتھا ہیں ۱۵*۔ یقیناً ہمارے ابّا کھلی غلطی پر ہیں۔

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کو قتل کرو یا اس کو کسی جگہ پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ تمہاری ہی طرف وہ جائے۔ اس کے بعد تم بیک بن جاؤ گے ۱۶*۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو کسی اندھے کنویں میں ڈال دو۔ کوئی گزرنے والا قافلہ اسے نکال لے گا۔

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا۔ ۔ ابا جان ! آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑ ے خیر خواہ ہیں۔

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے کہ کھائے پئے اور کھیلے کودے ۱۷* ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں ۱۸*۔

 

۱۳۔ ۔ ۔ اس نے کہا تمہارا اس کو اپنے ہمراہ لے جانا میرے لیے باعث رنج ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں بھیڑ یا اسے کھا نہ جائے اور تم اس سے غافل ہو ۱۹*۔

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہمارے پورے جتھے کے موجود ہوتے ہوئے بھیڑ یے نے اسے کھا لیا تو ہم بالکل ناکارہ ہوں گے۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب وہ یوسف کو لے گئے ۲۰* اور طے کر لیا کہ ان کو اندھے کنویں میں ڈال دیں گے تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ (ایک وقت آئے گا جب) تم انہیں ان کا یہ معاملہ جتا دو گے اور انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہو گا ۲۱*۔

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ رات گئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے ۲۲*۔

 

۱۷۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ابا جان ! ہم دور میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ بھیڑ یے نے اس کو کھا لیا۔ ۲۳* اور آپ ہماری بات باور کرنے والے نہیں ہیں اگرچہ ہم سچ بول رہے ہوں ۲۴*۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون لگا لائے تھے۔ اس نے (باپ نے) کہا نہیں بلکہ تمہارے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے۔ ۲۵* اب میرے لئے صبر جمیل ہے ۲۶* اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۲۷*۔

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (ادھر) ایک قافلہ آیا تو اس نے اپنا سقہ بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا بڑ ی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑ کا ہے ۲۸*۔ اور اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا۔ ۲۹* وہ جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے واقف تھا۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے اس کو حقیر قیمت پر کہ گنتی کے چند درہم تھے بیچ دی ۳۰* اور اس معاملہ میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۳۱*۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا اسے قدر و منزلت سے رکھو ۳۲* عجب نہیں یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں ۳۳*۔ اس طرح ہم نے یوسف کے قدم اس سر زمین میں جما دئے ۳۴* اور (اس ابتلا سے اس لئے گزارا) تا کہ اسے باتوں کی حقیقت معلوم کرنا سکھائیں ۳۵*۔ اللہ اپنا حکم نافذ کر کے رہتا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ۳۶*

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ اور جب وہ اپنی پختگی کو پہنچ گیا ۳۷* تو ہم نے اسے حکم (قوت فیصلہ) اور علم عطاء کیا۔ حسن عمل کا رویہ اختیار کرتے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ عطاء فرماتے ہیں ۳۸*۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ اور جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس کو اپنی طرف مائل کرنے لگی ۳۹*۔ اس نے دروازے بند کر دیے اور بولی آ جاؤ۔ اس نے کہا معاذاللہ! وہ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھا مقام عطاء کیا ہے۔ غلط کار لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے ۴۰*۔

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ عورت نے تو اس کا قصد کر ہی لیا تھا اور وہ بھی اس کا قصد کرتا اگر اس نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لی ہوتی ۴۱* ایسا اس لیے ہو تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیا ئی کو دور رکھیں ۴۲* بلا شبہہ وہ ہمارے خاص بندوں میں سے تھا ۴۳*۔

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ اور دونو دروازہ کی طرف دوڑ ے اور عورت نے یوسف کا کرتا پیچھ ے پھاڑ دیا اور دونوں نے دروازے پر عورت  کے شوہر کو موجود پایا۔ کہتے لگی کیا سزا ہے اس شخص کی جو آپ کی بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے سوائے ا سکے کہ اس کو قید کیا جائے یا کوئی درد ناک سزا دے جائے ۴۴*۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف جے کہا اسی نے مجھے رجھانے کی کوشش ۴۵* کیا اور عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کی اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے۔ ۴۶*

 

۲۸ ،۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو کہا یہ تم عورتوں کی چاہے اور تمہاری چالیں بڑ ی خطرناک ہوتی ہیں ۴۷*۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسف ! اس سے درگذر کر اور اے عورت ! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ در اصل تو ہی خطاوار ہے ۴۸*۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ اور شہر کی بعض عورتیں کہتے لگیں۔ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو رجھانے میں لگی ہوئی ہے۔ اس کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے۔ ہمارے خیال میں تو وہ صریح غلط راہ پر پڑ گئی ہے ۴۹*

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ اس (عورت) نے جب ان کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو انہیں بلا بھیجا۵۰* اور ان کے لیے تکیہ والی مجلس آراستہ کی اور ہر ایک کو ایک ایک چھری پیش کر دی ۵۱* اور یوسف سے کہا ان کے سامنے نکلا آؤ۔ جب ان عورتوں نے اسے دیکھا تو اس کی عظمت سے متاثر ہوئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور پکار اٹھیں حاشا لِلہ ! پاکی ہے اللہ کے لیے) یہ انسان نہیں۔ یہ تو بزرگ فرشتہ ہے۔ ۵۲*

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ وہ بولی یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی ۵۳* میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر یہ بچ رہا۔ ۵۴* اور اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور ذلیل ہو گا ۵۵*۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ یوسف نے دعا کی اے میرے رب ! قید مجھے پسند ہے بہ نسبت اس کے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں ۵۶* اور اگر تو نے ان کی حامل سے مجھے نہ نچا یا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا ۵۷*۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور ان کی چالوں سے اسے بچایا۔ ۵۸* بلا شبہہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ پھر باوجود اس کے وہ نشانیاں دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ہوئی کہ اسے کچھ عرصہ کے لیے قید کر دیں ۵۹*۔

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے ۶۰* ایک نے کہا میں کیا دیکھتا ہو کہ شراب نچوڑ رہا ہوں ۶۱* دوسرے نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ ا پنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں ۶۲* ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ بڑ ے نیک آدمی ہیں ۶۳*۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ اس نے کہا جو کھانا تمہیں ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا ۶۴*۔

 

یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے ۶۵*۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو رد جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں ۶۶*۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے باپ دادا ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کے دین کو اختیار کیا۔ ۶۷* ہمارا یہ کام نہیں کہ اللہ کے ساتھ کیس چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر ۶۸* لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۶۹*

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے جیل کے ساتھیو ! بہت سے الگ الگ رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟ ۷۰*۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ اس کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کرتے ہو وہ محض چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ۷۱* اللہ نے ان کے لیے کوئی حجت نازل نہیں کی۔ حاکمانہ اختیار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ۷۲* اسے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۷۳*۔ یہی صحیح دین ہے ۷۴* لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۷۵*۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ اے جیل کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کے سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ اس بات کا فیصلہ ہو چکا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے ۷۶*۔

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ اس  نے جس کے بارے میں اس نے سمجھا تھا کہ رہا ہو جانے والا ہے اس سے کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا ۷۷* مگر شیطان نے اس کو پانے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور وہ کئی سال جیل میں پڑا رہا۔ ۷۸*۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ اور بادشاہ نے کہا میں کیا دیکھتا ہو ں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیں ہیں اور دوسری سات خشک۔ اے اہل دربار ! میرے خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خواب کی تعبیر بتانا جانتے ہو۔

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا یہ پریشان خواب ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے ۷۹*۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ اور۴ ان دونوں میں سے جو رہا ہو گیا تھا اسے ایک عرصہ کے بعد بات یاد آ گئی ۸۰* اور وہ بول اٹھا میں آپ لوگوں کو اس کی تعبیر بتا دیتا ہوں۔ مجھے (یوسف کے پاس) بھیج دیجئے۔

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف ! اے صداقت شعار ! ۸۱* ہمیں اس کی تعبیر بتائیے کہ سات موتی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں سبز ہیں اور دوسری سات خشک۔ تکہ میں لوگو ں کے پاس واپس جاؤں اور وہ اس کی تعبیر) جان لیں ۸۲*۔

 

۴۷۔ ۔ ۔ اس نے کہا سات سال تم لگا تار تم کاست کرو گے۔ اس دوران جو فصلیں تم کاٹو انہیں ان کی بالوں ہی میں رہتے دو سوائے اس تھوڑ ی مقدار کے جو تمہارے کھانے کے کام آئے ۸۳*۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم نے جمع کر رکھا ہو گا بجز اس قلیل مقدار کے جو تم محفوظ کر رکھو ۸۴*۔

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگو پر باران رحمت بھیجی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے ۸۵*۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ اور بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لاؤ۔ ۸۶* جب قاصد اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے آقا کے ۸۷* پاس واپس جاؤ اور اس سے دریافت کرو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ۸۸*۔ میرا رب ان چال سے خوب واقف ہے۔

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ اس نے پوچھا تمہارا کیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟۸۹* انہوں نے کہا حاشا لِلہ ! (اللہ کے لئے پاکی ہے) ہم نے اس میں برائی کی کوئی بات نہیں پائی۔ عزیز کی بیوی بول اٹھی۔ اب حق بالکل ظاہر ہو گیا۔ میں نے ہی اس کر رجھانے کی کوشش کی تھا اور بلا شبہ وہ سچا ہے ۹۰*۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس لیے کہ اسے معلوم ہو جائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی۔ اور یہ کہ اللہ خیانت کرتے والوں کی چالوں کو راہ پر نہیں لگا تا ۹۱*

 

۵۳ اور میں اپنے نفس کو بری نہیں قرار دیتا۔ نفس تو برائی پر بڑا اکسانے والا ہے۔ مگر جس پر میرا ب رحم فرمائے بلا شبہ میرا رب بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۹۲*۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ نہ کہا اس کے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں ۹۳*۔ پھر جب اس نے گفتگو کی تو بادشاہ نے کہا آج کے دن آپ ہمارے ہاں معزز و معظم ہیں ۹۴*۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا ملک کے خزانوں پر مجھے مختار بنا دیجئے۔ میں حفاظت کرنے والا ہوں اور علم بھی رکھتا ہو ۹۵*۔

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح ہم نے ملک میں یوسف کو اقتدار بخشا ۹۶*۔ وہ جہاں چاہے رہ سکتا تھا۔ ۹۷* ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اور نیک لوگو کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے ۹۸*۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ اور آخرت کا اجر کہیں بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور پرہیز گاری اختیار کی ۹۹*۔

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایسا ہو کہ یوسف کے بھائی (مصر) آئے اور اس پاس حاضر ہوئے ۱۰۰*۔ اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اسے پہچان نہ سکے ۱۰۱*۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب اسے ان کا سامان تیار کروایا تو کہا اب کے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لانا۔ دیکھتے نہیں کہ میں پیمانہ پورا بھر کر دیتا ہوں اور بہتر مہمان نواز ہوں ۱۰۲*۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔اگر تم اسے میرے پاس نہیں لاؤ گے و میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے اور نہ تم میرے پاس آنا۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہم اس کے لیے اس کے والد کو آمادہ کرتے کی کوشش کریں گے اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ اس نے اپنے خدمت گاروں کو حکم دیا کہ ان کا دیا ہو مال ان کے سامان میں رکھ دو۔ (اس نے یہ اس لیے کیا) تا کہ جب یہ لوگ اپنے گھر لوٹیں تو اس کو پہچان لیں اور تاکہ وہ واپس آئیں ۱۰۳*۔

 

۶۳۔ ۔ ۔ جب وہ اپنے اپ کے پاس لوٹے تو کہا ابا جان ! آئندہ ہم کو غلہ دینے سے روک دیا گیا ہے لہٰذا ہمارے ساتھ مارے بھائی کو بھیج دیجئے کہ ہم غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا کیا میں اس کے معاملہ میں اسی طرح تم پر اعتماد کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں ۱۰۴*۔ اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی ان کو لوٹا دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے۔ یہ ہمارا مال ہمیں لوٹا دیا گیا ہے۔ اب ہم اپنے گھر والوں کے لیے رسد لے آئیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے نیز ایک اونٹ غلہ مزید حاصل کر لیں گے ۱۰۵*۔ اتنا غلہ تو آسانی سے مل جائے گا۔

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا میں اس کو ہر گز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ عہد نہ کرو کہ تم ضرور اسے میرے پاس واپس لاؤ گے الّا یہ کہ تم کسی گرفت میں آ جاؤ ۱۰۶*۔ جب انہوں نے اس کا اپنا پکا قول دے دیا تو اس نے کہا ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے۔

 

۶۷۔ ۔ ۔ اور اس نے کہا بیٹو ! ایک ہی دروازہ سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا ۱۰۷*۔ میں اللہ کے مقابل میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔ فیصلہ اللہ ہی کا نافذ ہوتا ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۱۰۸*۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب وہ داخل جس طرح ان کے باپ نے انہیں ہدایت کی تھی تو یہ (تدبیر) اللہ (کی تقدیر) کے مقابل میں ان کے کچھ کام نہ آ سکی۔ ہاں یعقوب نے اپنے دل میں ایک ضرورت محسوس کی تھی۔ جسے اس نے پورا کر دیا۔ بلا شبہ وہ ہماری دی ہوئی تعلیم کی بنا پر صاحبِ علم ۱۰۹* تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۱۱۰*۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں اس پر غم نہ کرو ۱۱۱*۔

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب اس نے (یوسف نے) ان کا سامان تیار کرایا تو اپنے بھائی کے سامان میں پیالہ رکھ دیا۔ ۱۱۲* پھر ایک پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو تم چور ہو ۱۱۳*۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے ان کی طرف پلٹ کر پوچھا تمہاری کون سی چیز کھو گئی ہے ۱۱۴*۔

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہمیں شاہی پیمانہ نہیں مل رہا ہے۔ اور جو شخص اس کو لادے اس کے لئے ایک اونٹ غلہ ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ۱۱۵*۔

 

۷۳۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ۱۱۶*۔ اللہ کی قسم تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں نہ ہمارا یہ شیوہ ہے کہ چوری کریں۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ۱۱۷* اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو (بتلاؤ) ا سکی سزا ہے ؟

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے جواب دیا اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں چیز نکلے وہ اس کا بل قرار پائے ۱۱۸*۔ ہم ایسے ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں ۱۱۹*۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس نے (یعنی یوسف نے) اپنے بھائی کو بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی بوری سے اس (پیالہ) کو بر آمد کر لیا ۱۲۰*۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی ۱۲۱* وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اسے رکھ نہیں سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے ۱۲۲*۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں اس کے درجے بلند کر دیتے ہیں ۱۲۳*۔ اور ہر علم والے کے اوپر ایک ایسی ہستی موجود ہے جو زبردست علم والی ہے ۱۲۴*۔

 

۷۷۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کر چکا ہے ۱۲۵*۔ یوسف نے بات اپنے دل میں رکھ لی اور اس کو ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ (یعنی اس نے دل ہی دل میں) کہا تم بہت برے لوگ ہو ۱۲۶* اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس کی حقیقت خوب جانتا ہے۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ کہنے لگے اے عزیز !۱۲۷* اس کے والد بہت بوڑھے ہو گئے ہیں ۱۲۸* لہٰذا اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں آپ بڑ ے نیک ہیں۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم اس کو چھوڑ کر جس کے پاس ہماری چیز نکلی ہے کسی اور کو پکڑ لیں ۱۲۹*۔ اگر ہم ایسا کریں تو ظالم ہوں گے۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ اس سے مایوس ہو گئے تو الگ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ ان میں جو بڑا تھا اس نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد تم سے اللہ کے نام پر عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے معاملہ میں بھی تم سے تقصیر ہو چکی ہے۔ میں تو اب اس ملک سے جانے والا نہیں جب گی کہ میرے والد مجھے حکم نہ دیں یا اللہ میرے حق میں کوئی فیصلہ نہ فرمائے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے ۱۳۰*۔

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ تم لوگ اپنے والد کے پاس جاؤ اور کہو ! ابا جان آپ کے بیٹے نے چوری کی ۱۳۱* اور ہم نے وہی بات بیان کی جو ہمارے علم میں آئی۔ غیب کے نگہبان تو ہم تھے نہیں۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ آپ اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم ٹھہرے تھے اور اس قافلہ والوں سے دریافت کر لیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ۱۳۲*۔ ہم (اپنے بیان میں ّ بالکل سچے ہیں۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ اس نے کہا نہیں بلکہ تمہارے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے ۱۳۳* تو مجھے اب بخوبی صبر سے کام لینا ہو گا۔ عجب نہیں کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ ۱۳۴*۔ بلا شبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور صاحب حکمت ہے ۱۳۵*۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ اور اس نے ان کی طرف سے رخ پھیر لیا اور پکار اٹھا ہائے یوسف! گم سے اس کی آنکھیں سفید پڑ گئیں اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگا ۱۳۶*۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہنے لگا واللہ آپ ہمیشہ یوسف ہی کی یاد میں رہیں گے یہاں تک کہ اپنے کو گھلا دیں گے یا ہلاک ہو جائیں گے۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد (شکوہ) اللہ ہی سے کرتا ہوں ۱۳۷* اور میں الہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۱۳۸*۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ بیٹو ! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اس کی رحمت سے تو کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ اس کے پاس پہنچے تو کہا اے عزیز ! ۱۳۹* ہم اور ہمارے گھر کے لوگ بڑ ی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ اور ہم تھوڑ ی سی پونجی لے کر آئے ہیں تو آپ ہمیں غلہ پورا دیجیے اور صدقہ بھی عنایت فرمایے۔ اللہ صدقہ کرنے والوں کی جزا دیتا ہے۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جبکہ تم جہالت میں مبتلا تھے ؟

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا کیا واقعی آپ یوسف ہیں ؟ اس نے کہا ہاں میں یوسف ہوں ۱۴۰* اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی تقوا اختیار کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے تو اللہ ایسے نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ۱۴۱*

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہ بخدا اللہ نے آپ کو ہم پر برتری دی اور واقعی ہم قصور وار تھے ۱۴۲*۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں ۱۴۳* اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

 

۹۳۔ ۔ ۔ میرا یہ کرتہ لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو۔ ان کی بینائی لوٹ آئے گی ۱۴۴* اور اپنے تمام گھر والوں کو لے کر میرے پاس آ جاؤ ۱۴۵*۔

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب قافلہ روانہ ہو تو ان کے والد کہنے لگے۔ اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ میں سٹھیا گیا ہوں تو میں کہوں گا مجھے یوسف کی مہک آ رہی ہے۔ ۱۴۶*۔

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں نے کہا واللہ آپ اپنے پرانے خیال خام ہی میں مبتلا ہیں ۱۴۷*۔

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب خوش خبری دینے والا آیا تو اس نے کرتا اس کے چہرہ پر ڈال دیا او اس کی بینائی لوٹ آئی ۱۴۸*۔ اس نے کہا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ۱۴۹*

 

۹۷۔ ۔ ۔ وہ کہنے لگے ابا جان ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجئے۔ واقعی ہم خطا کار تھے ۱۵۰*۔

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی دعا کروں گا ۱۵۱*۔ بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو جاؤ انشاء اللہ امن و چین کے ساتھ ۱۵۲*۔

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے والدین کو تخت پر اونچا بٹھا یا اور اس کے آگے جھک گئے ۱۵۳*۔ اس نے کہا ابا جان ! یہ ہے تعبیر میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے سچ کر دکھا یا۔ یہ اسی کا احسان ہے کہ مجھے قید خانہ سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے (میرے پاس) لایا بعد اس کے کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فتنہ اندازی کر چکا تھا۔ بلاشبہ میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کے یے لطیف تدبیریں کرتا ہے وہ صاحب علم بھی ہے اور صاحب حکم بھی ٕ۱۵۴*۔

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ اے میرے رب ! تو نے مجھے حکومت عطا فرمائی اور باتوں کی تعبیر کرنا دکھا یا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرے والے ! تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے۔ مجھے اس حالت میں وفات دے کہ مسلم ہو ں اور مجھے نیک لوگو ں کے زمرے میں شامل کر ۱۵۵*۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے جب انہوں نے آپس میں ایک بات طے کر کے سازش کی تھی۔ ۱۵۶*۔

 

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ تم کتنا ہی چاہو وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۱۵۷*

 

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ حالانکہ تم اس پر ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کر رہے ہو ۱۵۸*۔ یہ تو ایک یا د دہانی ہے تمام دنیا والوں کے لیے ۱۵۹*۔

 

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے ہیں مگر کوئی توجہ نہیں کرتے۔ ۱۶۰*۔

 

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرا لیتے ہیں ۱۶۱*۔

 

۱۰۷۔ ۔ ۔ کیا یہ لوگ اس بات سے مطمئن ہیں کہ اللہ کے عذاب کی آفت ان پر چھا نہ جائے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑ ی ان پر اچانک آ نہ جائے گی ؟

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ (اے پیغمبر !) کہا یہ ہے میری راہ ۱۶۲*۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ ۱۶۳* میں بھی اور وہ لوگ بھی جو میری پیروی کر رہے ہیں۔ ۱۶۴*۔ اور اللہ کے لئے پاکی ہے اور میں شرک کر نے والوں میں سے نہیں ہوں۔

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ہم نے ان پر وحی کی تھی ۱۶۵*۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیساکچھ ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ۱۶۶*۔ اور آخرت کا گھر ۱۶۷* ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہ لو گے ؟

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ (ان گزری ہوئی قوموں کو بھی ڈھیل دے گئی تھی) یہاں تک کہ جب رسول (اپنی قوموں سے) مایوس ہو گئے اور لوگوں نے خیال کیا کہ ان کو جھوٹی خبریں سنائی گئی تھیں تو ہماری مدد ان (رسولوں ّ کے پاس آ پہنچی۱۶۸* اور وہ لوگ بچا لیے گیے جن کو ہم نے بچانا چاہا۔ اور مجرموں سے تو ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔

 

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً ان کی سرگزشتوں میں دانشمندوں کے لیے بڑ ی عبرت ہے ۱۶۹*۔ یہ گھڑا ہو کلام نہیں ہے بلکہ تصدیق ہے اس (کتاب) کی جو پہلے آ چکی ہے ۱۷۰*۔ اور تفصیل ہے ہر چیز کی ۱۷۱* اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے ۱۷۲*۔

تفسیر

۱۔ ۔ ۔ ۔ ان حروف کی تشریح سورہ یونس نمبر ق میں گزر چکی۔ اس سورہ میں الف کا اشارہ اللہ (توحید کے مضامین) کی طرف ، لام کا اشارہ لَاتَعْبُد وْ ا اِلَّا اِیَّاہُ (اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ آیت نمبر ۴۰) کی طرف بالفاظ دیگر شرک کی تردید کی طرف اور "را " کا اشارہ رب (اللہ کی ربوبیت) کی طرف ہے جس کا ذکر متعدد آیات میں ہوا ہے۔ نیز ان رویائے صادقہ (سچے خواب) کی طرف بھی جس کا ذکر اس سورہ میں خصوصیت کے ساتھ ہوا ہے اور جو رب کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ قرآن "کتاب مبین " (روشن کتاب) ہے کیونکہ اس کی تعلیم نہایت واضح ہے۔ اس کی دعوت ، اس کے پیش کردہ عقائد و احکام ، اس کی رہنمائی اور اس کا مقصد و مدعا غرض تمام باتیں صاف صاف بیان ہوئی ہیں۔ ایک طرف قرآن کی یہ خصوصیت ہے جس کی بنا پر اس کی باتیں دل و دماغ میں اترتی فلی جاتی ہیں اور دوسری طرف مختلف مذاہب کی وہ "مقدس" کتابیں ہیں جو الجھی ہوئی باتوں سے پر ہیں اور جن کا مطالعہ کارے دارد ہے۔

 

۳۔ ۔ ۔ خطاب براہ راست عرب قوم سے ہے۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت براہ راست عرب قوم کی طرف ہوئی تھی اس لیے قرآن کا نزول بھی ان کی اپنی زبان میں ہو ا جو عربی تھی۔ غیر عرب قوموں کی طرف آپ کی بعثت بالواسطہ ہے۔ اسی طرح قرآن بھی تمام عجمی قوموں اور غیر عربی دان لوگوں کے لیے بالواسطہ حجت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر و کسریٰ کو جو دعوتی خطوط لکھے تھے وہ عربی میں تھے اور ان میں قرآن کی آیتیں بھی درج فرمائی تھیں حالانکہ ان بادشاہوں کی زبان عربی نہیں تھی اسی لیے ان کو ترجمان کی مدد حاصل کرنا پڑ ی تھی۔ اس سے واضح ہوا کہ قرآن کا پیغام یا اس کا ترجمہ صحت کے ساتھ با وثوق ذریعہ سے کسی فرد یا قوم تک پہنچ جائے تو اس پر اللہ کی حجت قائم ہو جاتی ہے۔

 

اور یہ جو فرمایا کہ "تا کہ تم سمجھو " تو اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کو سمجھنا اور اس کا فہم حاصل کرنا ضروری ہے نیز یہ کہ اس کو سمجھ کر پڑھنے کی دعوت مسلمانوں کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔ خواہ کوئی شخص کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور خواہ وہ عالم ہو یا عامی۔ اور یہ خیال بالکل غلط ہے کہ قرآن کو صرف علماء سمجھ سکتے ہیں یا یہ کہ وہ صرف مسلمانوں کے پڑھنے کے لیے ہے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کی سر گزشت کا بہترین سرگزشت ہونا گوناگوں وجوہ سے ہے :

 

اولاً اس سر گزشت میں بیان ہوا ہے کہ یوسف کی زندگی میں ان کے ہوش سنبھالنے سے لے کر بڑ ی عمر کو پہنچنے تک کس طرح موڑ آئے اور ہر موڑ پر اللہ نے ان کی کس طرح رہنمائی کی اور انہوں نے کس طرح بلندی کردار کا ثبوت دیا۔

 

ثانیاً عنفوان شباب میں ا ن کی پاک دامنی کا ایسا امتحان ہوتا ہے جس کی مثال تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ اس امتحان میں وہ اس طرح پورے اترتے ہیں کہ ان کے حریفوں کو ان کے فرشتہ ہونے کا شبہ ہونے لگتا ہے۔

 

ثالثاً ان کی سرگزشت میں عبرت و موعظت کے چند نہیں بلکہ بہ کثرت پہلو ہیں۔

 

رابعاً یہ سرگزشت سیرت یوسف کا ایسا مرقع پیش کرتے ہے جو بڑا ہی عجیب اور بڑا ہی دلکش ہے اور پھر صداقت سے ذرہ برابر متجاوز نہیں۔

 

خامساً یہ ایک جامع سرگزشت ہے جس کے لیے ایک سورہ کا نزول ہو ا جو ایک سو سے زیادہ آیتوں پر مشتمل ہے اور اسی سرگزشت کے لیے مختص ہے۔

 

سادساً اس سرگزشت میں مختلف کردار سامنے آتے ہیں مگر یوسف کا کردار اپنی قیمت اس طرح منوا لیتا ہے کہ جس کو نا قدروں نے حقیر پتھر خیال کر کے پھینک دیا تھا وہ در حقیقت بڑا قیمتی ہیرا تھا اور بالآخر وہ تاج بن کر چمکا۔

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف علیہ السلام کا قصہ اگر چہ بائبل میں بیان ہوا ہے (پیدائش باب ۳۷ تا ۵۰) لیکن اول تو یہ قصہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے علم میں نہیں تھا کیوں کہ آپ امی تھے اس لیے نہ تورات کو آپ پڑھ سکتے تھے اور نہ کسی اور کتاب کو۔ مزید یہ کہ قرآن میں یہ سرگزشت جس طرح بیان ہوئی ہے وہ بائبل کے بیان سے بہت مختلف ہے اگر آپ نے اہل کتاب سے سن کر یہ واقعہ بیان کیا ہوتا تو یہ فرق اور امتیاز نہ ہوتا اور وہ پہلو بھی سامنے نہ آتے جو بائبل میں سرے سے بیان ہی نہیں ہوئے ہیں۔

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کا سلسلہ نسب بڑا ہی اشرف ہے۔ ان کے والد یعقوب نبی تھے ، ان کے دادا اسحاق بھی نبی تھے اور ان کے پردادا ابراہیم بھی نب (صلوات اللہ علیہم اجمعین)۔ یوسف۔ (علیہ السلام) اس خانوادہ نبوت کے نہ صرف چشم و چراغ تھے بلکہ آگے جا کر منصب نبوت سے بھی سرفراز ہوے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی شان میں فرمایا :

 

الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔ (البخاری کتاب التفسیر ( "وہ خود شریف تھے اور شریف باپ کے بیٹے تھے ان کے دادا بھی شریف تھے اور پر دادا بھی شریف۔ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔ "

 

۷۔ ۔ ۔ متن میں ساجدین (سجدہ ریز) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سجدہ کے لفظی معنی جھکنے کے ہیں۔ اس کا اطلاق پیشانی زمیں پر ٹیک دینے پر بھی ہوتا ہے اور محض جھکنے پر بھی۔ عربی میں کھجور کے جھکے ہوئے درخت کو "نخلۃ ساجدۃ""سجدہ ریز درخت " کہتے ہیں لسان العرب ج ۳۔ ۔ ۔ ص ۲۰۶)۔ آیت میں ستاروں اور سورج اور چاند کا سجدہ ریز ہونا ظاہر ہے زمین پر پیشانی ٹیک دینے کے مفہوم میں نہیں ہو سکتا بلکہ اپنے اصل لغوی معنی ہی میں ہو سکتا ہے یعنی ان کا جھکتے بلکہ اپنے اصل لغوی معنی ہی میں ہوکتا ہے یعنی ان کا جھکتے ہوئے نیچے اتر آنا۔ (اور حقیقت حال کا علم اللہ ہی کو ہے)۔

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کے والد یعقوب (علیہما السلام) نبی تھے۔ وہ خواب کا مطلب سمجھ گئے کہ گیارہ ستاروں سے مراد یوسف کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج اور چاند سے مراد یوسف کے والدین ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھ گئے کہ اس خواب کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یوسف کا مستقبل نہایت شاندار ہے۔ وہ اقتدار ہو گا۔

 

چونکہ یوسف کے دس بھائی سوتیلے تھے اور ان سے حسد رکھتے تھے اس لیے یعقوب علیہ السلام نے اس اندیشہ کے پیش نظر کہ ان کے اندر بھڑ ک نہ اٹھے اور وہ یوسف کے خلاف کوئی سازش نہ کر ڈالیں خواب کو بیان کرنے سے منع کر دیا۔

 

بعض مفسرین نے محض اس بنا پر کہ یوسف نے خواب میں اپنے بھائیوں کو ستاروں کی شکل میں دیکھا تھا یہ رائے قائم کی ہے یہ سب بعد میں انبیاء ہو گئے۔ لیکن یہ محض سادہ لوحی ہے کیونکہ ایک نبی کی سیرت نبوت سے قبل بھی بڑ ی پاکیزہ ہوتی ہے اور وہ اخلاق کے بلند معیار پر ہوتا ہے جبکہ یوسف کے ان سوتیلے بھائیوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کس قماش کے لوگ تھے اور کیسے کیسے جرائم کے مرتکب ہوئے۔ رہا ان کا ستاروں کی شکل میں دکھائی دینا تو اس سے ان کا نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ یوسف نے اپنی والدہ کو چاند کی شکل میں دیکھا تھا تو کیا وہ بھی نبیہ ہو گئیں ؟ علامہ ابن تیمیہؒ نے اس خیال کی سختی سے ساتھ تردید کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :

 

"جس بات پر قرآن لغت اور مرادی معنی دلالت کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی انبیاء نہیں تھے۔ نہ قرآن میں کہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بنایا تھا اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ منقول ہے اور نہ ہی کیس صحابی کا کوئی قول اس کی تائید میں موجود ہے۔ رہا "اسباط " سے استدلال تو اس سے مراد یعقوب کی صلبی اولاد نہیں بلکہ ان کی نسل ہے۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ "اسباط" کا لقب موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ نبوت کا سلسلہ چلا ورنہ ان سے پہلے سوائے یوسف کے ان میں کسی نبی کا ذکر نہیں ملتا۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے برادران یوسف کے جن بڑ ے بڑ ے گناہوں کا ذکر کیا ہے اس قسم کے گناہ کا ذکر کسی بھی نبی کے تعلق سے نہیں کیا کہ وہ قبل نبوت اس کا مرتکب ہوا تھا۔ "(روح المعانی ال آلوسی ج ۴ ص ۱۸۴)۔

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی منصب نبوت سے سرفراز کرے گا۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ مرن میں "تاویل الاحادیث " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کے معنی باتوں کی تہ میں جانے اور ان کی اصل حقیقت معلوم کرنے کے ہیں۔ مراد معاملہ فہمی، بصیرت اور صحیح نتائج اخذ کرنا ہے جس میں خواب کی تعبیر کا علم خصوصیت کے ساتھ شامل ہے۔

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ مراد سیادت و قیادت کی نعمت اور دنیوی و اخروی سعادتیں ہیں۔ آل یعقوب سے مراد یعقوب کی نسل ہے جو آگے چل کر بنی اسرائیل کہلائی اور جس کا اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے درمیان ایک ممتاز قوم بنا کر اٹھایا اور لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ وہ علم والا ہے اس لیے اسے مستقبل کا پورا علم ہے اور وہ حکیم ہے اس لیے اس کے فیصلے نہایت حکیمانہ ہوتے ہیں۔

 

۱۳۔ ۔ ۔ اس سے واضح ہوا کہ سورہ یوسف مشرکین مکہ کے سوال کے جواب میں نازل ہوئی۔ سوال ممکن ہے یہود کے اشارہ پر کیا گیا ہو تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا امتحان لیا جائے کہ آپ پر یوسف کا واقعہ کس طرح بیان فرماتے ہیں جبکہ آپ نے تورات نہیں پڑھی ہے۔

 

ان کے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یوسف کی سرگزشت نہایت سبق آموز طریقہ پر بیان فرما دی اور سوال کرنے والوں کو دعوت فکر دی کہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے درمیان جو معاملہ پیش آیا اس میں اللہ کی قدرت و حکمت کی عجیب نشانیاں ہیں کہ کس طرح اس کی تدبیر غالب آ جاتی ہے اور اس کا منصوبہ پورا ہو کر رہتا ہے ؏

 

مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے

 

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

 

یوسف کو ان کی راست بازی کی بنا پر اللہ کی تائید و نصرت حاصل تھی اس لئے نہ برادران یوسف ان کا کچھ بگاڑ سکے اور نہ مصر کی وہ خواتین جنہوں نے یوسف کے خلاف سازش کی اور انہیں جیل بھجوایا۔ آج نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ قریش جو معاملہ کر رہے ہیں وہ اس معاملہ سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو برادران یوسف نے یوسف کے ساتھ کیا تھا۔ اس طرح وہ اپنے کو ایک ایسے انجام کی طرف دھکیل رہے ہیں جس میں ان کے لئے ندامت اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ مراد بن یمین ہے جو یوسف کا سگا بھا ئی تھا۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف اور بن یمین سے چھوٹے تھے اس لئے قدرتی بات ہے کہ یعقوب علیہ السلام کو زادہ پیارے ہوں اور یوسف تو اپنی راست بازی، دانشمندی اور اعلیٰ صلاحیتوں کی بنا پر یعقوب کی آنکھ کا تارا تھا مگر انہوں نے اپنے دوسرے بیٹوں کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی تھی ورنہ اس موقع پر وہ اپنے باپ کی ضرور شکایت کرتے۔

 

بائبل میں ہے :

 

"اور ان کے بھائیوں نے دیکھا کہ ان کا باپ ان کے سب بھائیوں سے زیادہ اسی کو پیار کرتا ہے سو وہ اس سے بغض رکھنے لگے اور ٹھیک طور سے بات بھی نہیں کرتے تھے ، " (پیدائش ۳۷ : ۴)۔

 

"حالانکہ ہم ایک جتھا ہیں " سے ان کی مراد یہ تھی کہ خاندان کی حفاظت کے پہلو سے اصل اہمیت جتے کی ہے نہ کہ کسی ایک فرد کی کیوں کہ اس زمانہ میں کنعان میں لوگ آزاد قبائلی زندگی بسر کرتے تھے اور کوئی منظم حکومت نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ہم دس بھائی جو ایک جتھا ہیں اپنے باپ کے لیے زیادہ مستحق ہم ہیں نہ کہ یوسف اور بن یمین۔ مگر یعقوب کی نظر میں اصل وقعت اخلاق و کردار کی تھی اس لیے انہیں یوسف سے زیادہ محبت تھی۔

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ اگر اس سازش کا محرک ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کے والد کی محبت ان کے لیے خاص ہو کر رہ جائے مگر ان کا ضمیر اندر سے کہہ رہا تھا کہ اس صورت میں وہ گناہ کے مرتکب ہوں گے لیکن شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھا دی کہ اپنی راہ کے کانٹے کو دور کرنے کے لیے اگر گناہ کا ارتکاب "ناگزیر" ہے تو کر لینے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد جب باپ کی محبت اور توجہ ان کے لیے خاص ہو کر رہ جائے گی تو وہ بھی یکسوئی کے ساتھ نیکی کی طرف مائل ہو سکیں گے اور انکے لیے نیک بن کر رہنا آسان ہو گا۔

 

اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شیطان انسان کو کس خوبصورتی کے ساتھ گناہ پر آمادہ کرتا ہے اور کس طرح غلط راہ پر ڈال دیتا ہے۔

 

۱۷۔ ۔ ۔ کھیل کود سے مرد دوڑ اور تیر اندازی جیسے کھیل ہیں جو اس وقت کی بدو یا نہ زندگی میں تحفظ کے نقطہ نظر سے ضروری تھے۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا کہ یوسف کو کنویں میں ڈال دیا جائے اور چال یہ چلی کہ یوسف کو تفریح کے بہانے جنگل میں لے جانے کی اجازت اپنے باپ سے حاصل کر لیں اور انہیں اطمینان دلائیں کہ ہو پوری طرح یوسف کی حفاظت کریں گے۔

 

اس سے ظاہر ہوا کہ جب انسان جھوٹ کو جائز کر لیتا ہے تو اسے نہ ملمع کاری کی باتیں کرنے میں تامل ہوتا ہے اور نہ خطرناک منصوبے بنانے میں۔

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام کے لیے یہ بات اس لیے باعث رنج تھی کہ انہیں یوسف کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ ان کے سوتیلے بھائی ان کو پریشان نہ کریں نیز وہ یہ خطرہ بھی محسوس کر رہے تھے کہ ان کی بے پرواہی کے نتیجہ میں یوسف کسی حادثہ کا شکار نہ ہو جائیں۔ معلوم ہوتا ہے اس زمانہ میں کنعان کے جنگلوں میں بھیڑ یے زیادہ تھے اور ان کے حملوں سے بچنا مشکل تھا اس لیے یعقوب علیہ السلام نے ایک موجود خطرے کا ذکر کیا۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنے باپ سے اصرار کر کے وہ یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہم نے وحی بھیج کر یوسف کو اطمینان دلایا کہ یہ تمہارے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے تمہارا کچھ نہیں بگڑ ے گا بلکہ ایک وقت آئے گا جب یہ اپنے کیے پر نادم ہوں گے۔ تم زندہ سلامت رہ کر انہیں جتاؤ گے کہ انہوں نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور اس وقت تم جتاؤ گے جب کہ ان کے خیال میں بھی یہ بات نہیں ہو گی کہ جو شخص انہیں یہ قصہ یاد دلا رہا ہے وہ ان کا بھائی یوسف ہے۔ آگے چل کر یہ واقعہ جس طرح پیش آیا اس کا ذکر آیت ۸۹ اور ۹۰ میں ہوا ہے۔

 

واضح رہے کہ یہ وحی یوسف کے نبی بنائے جانے سے پہلے ان کی طرف بھیجی گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر جیسا کہ بائبل کا بیان ہے صرف ۱۷ سال تھی۔

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کو کنویں میں چھوڑ کر وہ رات کو گھر واپس آ گئے اس سے معلوم ہوا کہ وہ قریب ہی کے علاقہ میں گئے تھے ورنہ رات تک گھر نہیں پہنچ سکتے تھے۔

 

وہ ٹسو ے بہارے ہوئے اپنے والد کے پاس پہنچے تھے تاکہ یوسف سے ہمدردی کا اظہار ہو اور ان کے والد ان کی باتوں پر یقین کریں۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام کی زبان سے ایک امکانی خطرہ کے پیش نظر جو الفاظ نکل گئے تھے برادران یوسف نے ان کو لے کر یوسف کے ہلاک ہونے کا قصہ گھڑ لیا۔

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے قصہ تو گھڑ لیا لیکن انہیں خود یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کے والد ان کی باتوں کو باور کریں گے۔

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ان کے جھوٹ کا پول تو اس بات سے ہی کھل رہا تھا کہ کرتا پھٹا ہوا نہ تھا۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ بھیڑ یا حملہ کرے اور کرتا نہ پھٹے۔ اس کھلے جھوٹ کو یعقوب علیہ السلام کس طرح صحیح واقعہ تسلیم کر سکتے تھے۔ انہیں نے برجستہ کہا کہ یہ من گھڑ ت قصہ ہے۔ اس سے یہ اصولی بات واضح ہوتی ہے کہ جب کسی خبر کی تصدیق قرائن یا علامتوں سے نہ ہوتی ہو اور خبر دینے والے غیر ثقہ ہوں تو ایسی خبر قابل رد ہو گی۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ صبر جمیل کا مطلب ہے مصیبت کو خوبی کے ساتھ برداشت کرنا اور تکلیف پہنچنے پر عالی ظرفی کا ثبوت دینا۔ جزع فزع تو اصلاً صبر ہی کے منافی ہے۔

 

قرآن یعقوب علیہ السلام کے کردار کو اس طرح پیش کرتا ہے جو ایک نبی کے شایان شان ہے لیکن بائبل کا انداز اس سے بالکل مختلف ہے چنانچہ بائبل میں ہے کہ یوسف کے بارے میں یہ خبر سن کر یعقوب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور بہت دنوں تک ماتم کرتا رہا۔ (پیدائش ۳۷ : ۳۴)

 

اور ایسے کتنے مقامات ہیں جہاں بائیبل کے مؤلفین نے اپنے بنیوں کے کردار کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ یہ اظہار توکل ہے۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ بائبل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسمٰعیلیوں کا قافلہ تھا جو سامان تجارت لے کر مصر جا رہا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کنواں جس میں یوسف کو ڈال دیا گیا تھا اس شاہراہ پر واقع تھا جو کنعان سے مصر کو جاتی تھی یوسف کے اس کے بھائی جنگل میں نہیں لے گئے تھے بلکہ شاہراہ پر آ کر ایک ایسے کنویں میں جس پر پتھروں کی منڈیر بنی ہوئی نہیں تھی (جُب ایسے ہی کنویں کو کہتے ہیں) ڈال دیا تھا۔

 

قافلہ جب اس کے قریب رکا تو اس نے اپنے ایک آدمی کو پانی لانے کے کنویں پر بھیج دیا۔ اس نے جب ڈول ڈالا تو یوسف نے اس ڈول کا سہارا لیا اور جب وہ اوپر آ گئے تو سقہ کو یہ دیکھ کر بڑ ی خوشی ہوئی کہ یہ ایک لڑ کا ہے جو کنویں میں پھنس گیا تھا اور جس کے لیے ڈول نجات کا ذریعہ بنا مزید خوشی اس بات کی کہ ایک غلام ان کے ہاتھ لگا جس کی قیمت انہیں وصول ہو گی۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس زمانے میں جب کسی کو کوئی گم شدہ لڑ کا راستہ میں پڑا ہوا مل جاتا، تو وہ اسے غلام بنا لیتا اور پھر چاہتا تو کسی کے ہاتھ فروخت کر دیتا قافلہ والوں نے بھی یوسف کے ساتھ یہی معاملہ کیا انہیں مال تجارت سمجھ کر اس وقت چھپا لیا تا کہ لڑ کے کا کوئی دعویدار نکل نہ آئے اس کے بعد انہیں مصر لے جا کر فروخت کر دیا جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ بیچنے والے یہی قافلہ والے تھے اور مصر لے جا کر انہیں بیچ دیا تھا انہیں کچھ اندازہ نہ تھا کہ کیسی قیمتی شخصیت ان کے ہاتھ لگی ہے اس لیے انہوں نے چاندی کے چند سکوں کے عوض یوسف کو بیچ دیا۔

 

بائیبل کا بیان الجھا ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یوسف کو کنویں سے نکالا تو تھا۔ قافلہ والوں نے لیکن وہاں یوسف کے بھا ئی موجود تھے اور انہوں نے بیس درہم قیمت وصول کی تھی۔ لیکن یہ بات نہ قرآن کے بیان کے مطابق ہے اور نہ ہی قرین قیاس۔

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قافلہ والوں کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی کہاس غلام کی صحیح قیمت انہیں وصول ہو کیونکہ یہ غلام مفت ان کے ہاتھ لگا تھا۔

 

یوسف یعقوب کی آنکھوں کا تارا اور ان کا نور نظر تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یوسف جیسی شخصیت دنیا میں مشکل ہی سے پیدا ہوتی ہے ؎

 

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

 

بڑ ی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ قافلہ مصر جا رہا تھا اس لیے وہ اپنے ساتھ یوسف کو مصر لے گیے اور وہاں انہیں غلام کے طور پر فروخت کر دیا۔ مصر میں جس شخص نے یوسف کو خریدا وہ حکومت کے اعلیٰ منصب پر فائز تھا بائیبل میں اس کا نام فوطیفار آیا ہے اور اسے مصر کے بادشاہ کا ایک حاکم اور محافظ فوج کا افسر اعلیٰ کہا گیا ہے۔ قرآن نے جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا اس کے لیے عزیز کا لقب استعمال کیا ہے۔

 

وہ یوسف کو دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ کیس شریف گھرانے کا لڑ کا ہے جو گرفتار بلا ہو کر یہاں پہنچ گیا ہے۔ لڑ کا نہایت ہو نہار ، با اخلاق اور قابل اعتماد ہے اس لیے اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کے ساتھ غلاموں کا سلوک نہ کرتا بلکہ عزت کے ساتھ رکھنا۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ حاکم مردم شناس تھا اس لیے یوسف کی قدر اس نے پہچان لی اور غالباً وہ بے اولاد تھا اس لیے اس نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ممکن ہے ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ تھا کہ یوسف مصر کا فرمانروا بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ انہیں مصر کی متمدن زندگی کا تجربہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب کیے کہ مصر میں ان کے قدم جم گئے اور ایک حاکم کے گھر میں رہ کر انہیں اس تجربہ کا بہترین موقع ملا۔

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کو بتلاؤں سے گزارنے میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت یہ تھی کہ ان میں وہ ملکہ پیدا ہو جو باتوں کی تہہ تک پہنچنے اور ان کی اصل حقیقت معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ حالات کے تھپیڑے انسان کو گہرائی میں جانے کے لیے مجبور کرتے ہیں اور جب وہ گہرائی میں جاتا ہے تو اس کا دامن موتیوں سے بھر جاتا ہے۔

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اس کو یہاں بیان کرنے سے مقصود ایک طرف تو یہ واضح کرنا ہے کہ یوسف کے لیے ان حاسدوں کے علی الرغم دنیوی اور اخروی سعادتوں کی راہیں کھلتی چلی گئیں اور دوسری طرف یہ اشارہ کرنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہے وہ نافذ ہو کر رہے گا اور اسے نافذ ہونے سے نہ قریش روک سکتے ہیں اور نہ کوئی اور طاقت۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ پختگی (اَشدّ) کو پہنچنے سے مراد شباب کو پہنچنا ہے۔ یہ اٹھارہ بیس سال کی عمر کا زمانہ ہے جب اُشد یعنی اچھی طرح سوجھ بوجھ پیدا ہو جاتی ہے سورہ انعام آیت نمبر ۱۵۲ میں "اَشُدّ"  کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ "حکم" سے مراد قوت فیصلہ ہے اور علم سے مراد بصیرت کانور ہے۔ یہ چیزیں یوسف کو نبوت سے پہلے جوانی ی عمر کو پہنچنے پر حاصل ہوئی تھیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے حسن عمل کا فوری انعام تھا جو انہیں ملا۔

 

اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ جو لوگ حسن عمل کا رویہ اختیار کرتے ہیں یونی خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرتے ہیں اور اپنے اندر اچھے اوصاف کی پرورش کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کرنے کی قوت عطاء فرماتا ہے اور اس کام کے لیے جو بصیرت مطلوب ہے اس سے نوازتا ہے۔ حسن عمل کا یہ انعام انسان کو اس کے درجہ کے اعتبار سے دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بائبل میں ہے کہ یوسف خوبصورت اور حسین تھا (پیدائش ۳۹: ۶)۔

 

گویا للہ تعالیٰ نے انہیں صورت اور سیرت دونوں کا حسن عطا فرمایا تھا۔

 

یوسف کو عزیز مصر نے اپنے گھر میں رکھا تھا اور اپنے گھر کا مختار بنا کر اپنا سب کچھ اسے سونپ دیا تھا (پیدائش ۳۹ : ۲ تا ۴) عزیز کی بیوی یوسف پر فریفتہ ہو گئی اور ایک دن موقع پا کر انہیں اپنے دام محبت میں گرفتار کرنا چاہا۔

 

واضح رہے کہ حسن یوسف کے جو قصے عام طور سے مشہور ہیں وہ بڑ ے مبالغہ پر مبنی اور محض افسانہ ہیں۔ اگر یہ ایسا حسن ہوتا جو دنیا میں کسی کو کبھی عطا ہی نہیں ہوا تو قرآن اس کا ذکر کرتا مگر قرآن میں سرے سے حسن یوسف کا ذکر ہی نہیں ہے۔ اس نے یوسف کے حسن سیرت کو نمایاں کیا ہے جو کہ اس سرگزشت کا اصل مقصد ہے جبکہ افسانہ پسند طبیعتیں اس کو افسانوی رنگ میں دیکھنا چاہتی ہیں چنانچہ انہوں نے یوسف کی اس سرگزشت کو جسے قرآن نے نہایت جچے تلے انداز میں پیش کر دیا تھا "یوسف و زلیخا " کا قصہ بنا کر رکھ دیا ہے۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ عزیز کی بیوی نے ایک دن موقع پا کر کمرے کے دروازے بند کریے اور یوسف کو کھلے طور پر بے حیائی کی دعوت دی مگر یوسف شرافت کا پیکر تھے وہ کس طرح اپنے دامن کو آلودہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے برجستہ جواب دیا پناہ بخدا۔ میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں جب کہ میرے رب نے مجھے اچھا مقام عطا کیا ہے۔ اس سے یوسف کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل خاص سے نوازا ہے ان کو نبی زادہ ہونے کا شرف بخشا ، ان کی قدم قدم پر رہنمائی اور دستگیری کی۔ مصر میں ان کو اچھی منزلت بخشی علم اور بصیرت کی روشنی عطا کی اخلاق کے اونچے مرتبہ پر فائز کیا اور عفت و پاک دامنی اور شرم و حیاء کے لیے ایسی حساس طبیعت بخشی کہ حسن معنی کو کسی کی مشاطگی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

 

یوسف کے کہنے کا منشا یہ تھا کہ جس ہستی نے مجھے یہ مقام بلند بخشا ہے میں اس کی نا شکری کر کے اپنے کو اس کا نا اہل ثابت کر دوں ؟ اگر میں تمہاری باتوں میں آ کر بے حیائی کا مرتکب ہوا تو غلط کار اور ظالم ٹھہروں گا اور ظالموں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں ان کے لیے رسوائی ہے اور آخرت میں انہیں سخت سزا بھگتنا ہو گی۔

 

غور کیجیے یوسف کا جواب کتنا مختصر مگر کتنا مدلل تھا اور اس کے ایک ایک لفظ سے کس طرح خدا خوفی اور احساس آّخرت کا اظہار ہو رہا تھا۔

 

واضح رہے کہ عام طور سے مفسرین نے اس آیت میں اِنّٰہٗ رَبّی "وہ میرا رب ہے " کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ یہ ات یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کے بارے میں کہی تھی لیکن زجاج (ماہر لغت) کہتے ہیں کہ اس میں "ہٗ " (وہ) کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے (فتح القدیر ج ۳ ص ۱۷) یعنی یہ بات یوسف علیہ السلام نے اللہ کے بارے میں فرمائی تھی کہ وہ میرا رب ہے ، اس نے مجھے اچھا مقام عطا کیا ہے ہمیں زجاج کی رائے سے اتفاق ہے کیونکہ اولاً اِنّٰہٗ میں "ہٗ" (وہ) کی ضمیر کو اپنے قریبی لفظ اللہ کی طرف لوٹا نے کے بجائے عزیز مصر کی طرف لوٹا نے کی کوئی وجہ نہیں جبکہ عزیز مصر کا کوئی ذکر آیت میں موجود نہیں ہے۔ ثانیاً آگے آیت۔ ۲۵ میں عزیز مصر کے لیے اس کی بیوی کے تعلق سے سَیّد ھَا (اس کا آقا بمعنی شوہر) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ وہاں بھی قرآن نے عزیز مصر کے لیے رب کا لفظ استعمال نہیں کیا حالانکہ لغوی معنی کے لحاظ سے رَبہا (اس کا مالک) کہا ہو۔ رابعاً اس فقرے کے تین اجزاء ہیں اور تینوں باہم مربوط ہیں۔ پہلا جز معاذ اللہ (پناہ ِ خدا) ہے جس میں خدا خوفی کا اظہار ہے۔ دوسرا جزء "وہ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھی قدر و منزلت بخشی ہے" میں اللہ کے شکر کا اظہار ہے اور "غلط کار لوگ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے " میں آخرت کی جزا و سزا پر یقین کا اظہار ہے۔ لیکن رب سے عزیز مصر مراد لینے کی صورت میں اس فقرہ کے اجزا غیر مربوط ہو جاتے ہیں۔ خامساً موقع خدا کے احسانات کے ذکر کا تھا نہ کہ عزیز مصر کے احسانات کے ذکر کا۔

 

ان وجوہ سے جمہور مفسرین کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عورت تو اقدام کر بیٹھی اور یوسف بھی اقدام کرتا اگر اس نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لی ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ عورت کی طرف سے پہل ہونے کے باوجود یوسف کو برائی کے ارادہ سے باز رکھنے والی چیز اللہ کی برہان تھی۔ برہان سے مراد اللہ کی وہ حجت ہے جو یوسف علیہ السلام کے اس بیان میں جس کا ذکر اوپر ہوا مضمر ہے یعنی یہ بات کہ انسان گناہ کر کے اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ برہان کو دیکھ لینے کا مطلب اس کو بصیرت کی آنکھ سے دیکھ لینا اور اس پر یقین کر لینا ہے۔ یوسف کو یہ بصیرت حاصل ہوئی تھی اس لیے وہ اس نازک موقع پر بھی اپنے دامن کو آلودہ ہونے سے بچانے میں کامیاب ہو گئی۔

 

آیت کے اس سیدھے سادھے مفہوم کو چھوڑ کر مفسرین کے ایک گروہ نے بے سر پا روایتوں پر اعتماد کر کے عجیب و غریب باتیں لکھی ہیں مثلاً یہ کہ یوسف نے یعقوب کی یا فرشتہ کی صورت دیکھی تھی جو سراسر تکلف ہے اور قرآن کی صاف بات کو مبہم بنا کر اس میں نکتے پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایسی روایتوں نے قرآن کے اصل مفہوم اور مدعا پر پردے ڈال دیے ہیں اس لیے سختی کے ساتھ ان کی تردید ضروری ہے۔ اسی طرح وَھَمَّ بِہٖ لَو لَا اَنْ رَّ اَی بُرْ ھَانَ رَبِّہٖ (وہ بھی قصد کر لیتا اگر اپنے رب کی برہان اس نے دیکھ نہ لی ہوتی) کو بعض مفسرین نے ایسی روایتوں کے سہارے جو دریا برد کرنے کے لائق ہیں یوسف کی طرف غلط ارادہ اور بعض ایسی باتوں کو منسوب کیا ہے جن کا ذکر بھی مناسب نہیں ہے مگر امام رازی نے پر زور انداز میں اس کی تردید کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ یوسف علیہ السلام نے عورت کا قصد کیا تھا اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے وَ ھَمَّ بَھَا لَو لَا اَ جْ رَأیَ بُرْھَا نَ رَبِّہٖ (وہ اس کا قصد کر لیتا اگر اس نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لی ہوتی) یہاں لَو لَا (اگر نہ) کا جواب مقدم ہے یعنی پہلے ہی بیان ہوا ہے۔ اس پر زجاج کا یہ اعتراض کہ لَو لَا کا جواب عربی نحو کی رو سے مقدم نہیں ہو سکتا صحیح نہیں ہے کیونکہ بعض مواقع پر کسی بات کی اہمیت کے پیش نظر لَو لَا کے جواب کو مقدم رکھتے ہیں۔ قرآن میں اس کی مثال موجود ہے :

 

اِنْ کَا دَ تْ لَتُبْدِیْ بہٖ لَو لَا اَنْ رَبَطْا علی قَلبیھا (القصص ۱۰) "قریب تھا کہ وہ (موسیٰ کی ماں) اس بات کو ظاہر کر دیتی اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کر دیتے۔ " اس آیت میں بھی لَو لَا کا جواب مقدم ہے یعنی پہلے ہی بیان ہوا ہے۔ رہ گئیں روایتیں تو اس کی کیا ضمانت کہ جن لوگوں نے ان مفسرین (یعنی صحابہ اور تابعین) سے یہ تفسیر نقل کی ہے وہ سچے تھے ؟

 

یوسف کا دامن عمل باطل سے پاک ہے اور وہ "حرام قصد" سے بالکل بری ہیں۔ محقق مفسرین اور متکلمین کا یہی قول ہے اور ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو التفسیر الکبیر ، ج ۱۸ ص ۱۱۵تا۱۳۰) حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے اس نازک موقع کا ذکر جس طریقہ سے کیا ہے اس میں یوسف کی کسی ادنیٰ لغزش کی طرف بھی اشارہ نہیں ہے۔ اگر ان سے ایسی کوئی بات سرزد ہوئی ہوتی تو ان کی توبہ کا بھی ذکر ہوا ہوتا لیکن جب ایسی کوئی بات قرآن میں بیان نہیں ہوئی تو آپ سے آپ ان تفسیری اقوال کی تردید ہو جاتی ہے جو قرآن کے بیان سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یوسف نے تو اپنی پاکیزگی کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی جس کا ذکر حدیث نبوی میں اس طرح ہوا ہے : "سات اشخاص ہیں جن پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنا سایہ عاطفت فرمائے گا۔ ان میں ایک شخص وہ ہوگا جس کو کسی جاہ و جمال والی عورت نے برائی کی دعوت دی مگر اس نے جواب دیا میں اللہ سے ڈرتا ہوں " (بخاری کتاب الاذان)

 

۴۳۔ ۔ ۔ یعنی وہ ہمارے مقبول بندوں میں سے تھا۔

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ یوسف دروازے کی طرف اس لیے دوڑ ے کہ ان کو دروازہ کھولنے نہ دے اور برائی کے لیے مجبور کرے چنانچہ اس نے یوسف کا پیرہن پیچھے سے اس زور سے گھسیٹا کہ پھٹ گیا۔ مگر یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔ اتفاق کی بات یہ کہ اس وقت عزیز دروازہ کے پاس ہی موجود تھا۔ اس کو دیکھ کر بیوی سٹ پٹائی اور اپنی غلط کاری پر پردہ ڈالنے کے لیے جھٹ یوسف کے سر الزام دھرا۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے نہایت شریفانہ انداز سے مختصر جواب دیا جو ان کی بے گناہی کو ظاہر کرنے کے یے کافی تھا اور یہ مثال تھی اس بات کی کہ ؏

 

پاک دامانی حریف چاک دامانی نہیں

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ دونوں کے بیانا ت مختلف تھے اور واقعہ کا کوئی گواہ نہ تھا اس لیے عورت کے رشتہ داروں میں ایک شخص نے جو معاملہ فہم تھا قرینہ کی گواہی (Circumstantial evidence) پیش کی کہ اگر یوسف کا کرتا آگے سے پھٹا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقدام یوسف کی طرف سے ہوا تھا اور عورت اپنے کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ عورت یوسف کے پیچھے پڑ ی تھی اور جب وہ اپنا دامن بچانے کے لیے بھاگنے لگا تو عورت نے پیچھے سے اس کا کرتا گھسیٹ لیا۔ اس بات کو جو قرینہ اور علامت کی بنیاد پر کہی گئی تھی قرآن نے گواہی (شہادت) سے تعبیر کیا جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ قضیوں کے معاملہ میں حالات کی گواہی یعنی قرائن اور علامتوں سے ظاہر ہونے والی باتوں کا بھی ایک مقام ہے۔

 

۴۷۔ ۔ ۔ کرتے کا پیچھے سے پھٹا ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ اقدام یوسف کی طرف سے نہیں ہوا تھا اس لیے عزیز مصر نے اپنی بیوی ہی کو قصور وار ٹھہرایا اور اس نے یوسف کے سرجو الزام تھوپ دیا تھا اس کو ایک نسوانی چال اور فریب قرار دیا۔ اس موقع پر عزیز نے عمومیت کے ساتھ یہ بات جو فرمائی کہ تم عورتوں کی چالیں بڑ ی خطرناک ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب کسی مرد کو اپنے دام محبت میں گرفتار کرنا چاہتی ہیں تو بڑ ے خطرناک کھیل کھیلتی ہیں۔ وہ ایک غلط کام کر کے الزام دوسرے کے سر تھوپ دیتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے دامن کے داغ دکھائی نہیں دیتے اور نہ ان میں اتنی جرأت ہوتی ہے کہ اپنے قصور کا اعتراف کریں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر عورت ایسی ہی ہوتی ہے بلکہ مراد صرف وہ عورتیں ہیں جن کی ذہنیت غلط ہوتی ہے کیوں کہ ایسی حرکتیں ان ہی سے صادر ہوتی ہیں۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ عزیز نے اپنی بیوی کو قصور وار تو ٹھہرایا لیکن اس میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کے خلاف کوئی کاروائی کرتا۔ پھر اسے اپنی بیوی کی بدنامی کا بھی اندیشہ تھا اس لیے اس نے یوسف سے کہا کہ وہ درگذر سے کام لے۔

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب شہر میں اس واقعہ کا چرچا ہونے لگا تو بعض عورتوں نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہاں یہ خاتون مصر جو ایک اعلیٰ منصب رکھنے والے کی بیوی ہے اور کہاں ایک کنعانی غلام جس پر وہ فریفتہ ہو گئی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اس غلام کو آخر کیا چار چاند لگے ہیں جو اسے اپنی ہوس کا نشانہ بننے کے لیے مجبور کر رہی ہے کیا وہ اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ذرائع اختیار نہیں کر سکتی جب کہ وہ جاہ و مال سب کچھ رکھتی ہے۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عزیز کی بیوی نے جب یہ سنا کہ عورتیں اس کے خلاف باتیں بنا رہی ہیں تو اس نے اس کے جواب میں یہ چال چلی کہ ان کو اپنے گھر مدعو کیا۔

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ یہ دعوت پُر تکلف تھی اور بڑ ے اہتمام سے کی گئی تھی۔ اس وقت مصر ایک متمدن ملک تھا اس لیے رواج کے مطابق تکیہ دار مجلس آراستہ کی گئی اور ضیافت کے لیے جو چیزیں پیش کی گئیں ان کے ساتھ چھریاں بھی رکھ دی گئیں تاکہ وہ پھل اپنے ہاتھ سے کاٹ کر کھائیں۔ (عربوں میں آج بھی یہ رواج ہے کہ وہ مہمانوں کے سامنے پورے پورے پھل رکھ دیتے ہیں اور ساتھ میں چھری بھی تاکہ مہمان حسب منشاء اپنے ہاتھ سے پھل کاٹ کر کھائیں)۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ یوسف غلام کی حیثیت میں تھے اس لیے خواتین کی اس مجلس میں انہیں نکل آنے کا جو حکم دیا گیا اس کی تعمیل کے بغیر تو چارہ کار نہیں تھا مگر اس موقع پر بھی انہوں نے تقویٰ کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس مجلس میں شریک ہونے والی خواتین ظاہر ہے امیروں اور رئیسوں کے گھر کی خواتین رہی ہوں گی اور اس پُر تکلف مجلس کے لیے خوب سج دھج کر آئی ہوں گی مگر یوسف ان کے سامنے اس شریفانہ انداز سے آئے کہ ان کی طرف نگاہ غلط اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ پھر ان کا حسن ظاہر ان کے حسن باطن کا اور ان کا خوبصورت چہرہ ان کے خوبصورت کردار کا آئینہ دار تھا گویا جمال یوسفی نے جلال یوسفی کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔ اس لیے جب ان خواتین نے انہیں دیکھا تو ایک عظیم شخصیت کی جھلک ان کے چہرے پر دکھائی دی اور وہ ایسی متاثر ہوئیں کہ پکار اٹھیں یہ آدمی نہیں بلکہ بزرگ صفت فرشتہ ے۔ یہ بات ان کے ضمیر کی آواز تھی اس لیے بے ساختہ ان کی زبان سے نکل گئی اور وہ یوسف کا پُر جمال اور پر وقار چہرہ دیکھ کر ایسی دنگ رہ گئیں کہ بجائے پھل کاٹنے کے اپنے ہاتھ زخمی کر بیٹھیں۔ یہ در اصل ان کی بری اغراض کی قدرتی سزا تھی جو ان کو فوراً مل گئی۔

 

یہ مجلس کسی اچھے ارادہ سے منعقد نہیں کی گئی بلکہ اس کے پیچھے ایک سازش تھی جو یوسف کے خلاف کی گئی تھی۔ یہ بات آیتوں کے بین السطور سے بھی واضح ہے اور آگے جیسا کہ آیت ۳۳ میں بیان ہوا ہے یوسف نے واضح طور سے اس واقعہ کو کید (سازش) سے تعبیر کیا ہے۔ یہ سازش عزیز کی بیوی نے کی تھی اور اس میں یہ خواتین بھی شریک تھیں۔ عزیز کی بیوی کا مقصد اس مجلس کو آراست کرنے سے یہ تھا کہ ان خواتین کو جو مجھ ملامت کر رہی ہیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہو جائے کہ میں کسی ایسے ویسے غلام پر فریفتہ نہیں ہوئی ہوں بلکہ ایک ایسے نوجوان سے محبت کی پینگیں بڑھا رہی ہوں جو یکتائے زمانہ ہے اس لیے میں نے کوئی حماقت نہیں کی۔ ساتھ ہی وہ چاہتی تھی کہ جو گناہ وہ کرنا چاہتی ہے اس میں ان خواتین کو بھی شریک کر لے تا کہ پھر وہ اسے ملامت نہ کر سکیں نیز سب خواتین مل کر یوسف کو اپنی رعنائیوں سے ایسا لبھانے کی کوشش کریں کہ وہ دل ہار جائے۔

 

اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت مصر کا ماحول کیا تھا۔ محلوں میں رہنے والی بیگمات اپنی ہوس کو بجھانے کے لیے غلاموں کو استعمال کرتی تھیں کیوں کہ اس وقت گھر گھر غلام ہوا کرتے تھے اور عیاشی کا یہ نہایت آسان اور محفوظ ذریعہ تھا اس بنا پر عزیز کی بیوی کا اور خواتین مجلس کا یوسف کو رجھانے کی کوشش کرنا کوئی انوکھی بات نہیں تھی لیکن یوسف در حقیقت کسی انسان کے نہیں بلکہ خدا کے غلام تھے اس لیے انہوں نے ان سب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ یعنی اب تمہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ اور غلاموں کی طرح غلام نہیں ہے بلکہ یہ جہاں آسمان حسن درخشندہ ستارہ ہے وہاں وہ ایک امتیازی شخصیت کا بھی حامل ہے اس لیے میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرتے کی کوشش کر کے کوئی غلطی نہیں کی۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح عزیز کی بیوی نے خواتین کی بھری مجلس میں وہ بات اُگل دی جس کو وہ اب تک چھپائے ہوئی تھی۔ یہ اپنے قصور کا اعتراف نہیں تھا بلکہ شہ زوری اور بے حیائی تھی اور جن خواتین کے سامنے اس کا اظہار کیا ان کے لچھن بھی ویسے ہی تھے ؏

 

این گناہست کہ در شہر شما نیز کنند

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ ان نازو ادا والی خواتین کے ذریعہ بھی یوسف کو رجھانے میں ناکام رہی تو طاقت کا دباؤ ڈالنا شروع کیا اور جیل بھیجنے کی دھمکی دی۔

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قید کی تکلیف گوارا ہے مگر بے حیائی کا ارتکاب کرنا اور معصیت میں مبتلا ہونا مجھے گوارا نہیں۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ عربی میں جاہل کا لفظ عاقل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے (لسان العرب، ج ۱۲ ص ۱۳۰) اور یہاں اسی معنیٰ میں استعمال ہوا ہے یعنی جو خواہشات اور جذبات سے مغلوب ہو جائے اور عقل سے کام نہ لے۔

 

یوسف کو اپنی پاکیزگی کا غرہ نہیں تھا بلکہ ہو اس کو اللہ کا فضل سمجھتے تھے اس لیے اس نازک موقع پر اللہ سے مدد کے طالب ہوئے۔

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ چونکہ یہ دعا دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی اور پاکیزہ جذبات لیے ہوئے تھی اس لیے بادلوں چیرتی ہوئی آسمان پر پہنچ گئی اور بارگاہ الٰہی میں قبولیت اختیار کر گئی۔ چنانچہ ان خواتین نے یوسف کو پھانسنے کے لیے جو جال بچھایا تھا اس سے وہ محفوظ رہے۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کی بے گناہی کی ساری علامتیں دیکھ لینے کے باوجود ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ یوسف کو ایک مدت تک کے لیے جیل بھیج دیا جائے تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ جرم یوسف ہی سے سرزد ہوا تھا اور عزیز مصر کی جو بدنامی ہو رہی ہے اس سے وہ بچ جائے۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ بائبل کے بیان کے مطابق ایک شاہ مصر کا ساقی سردار تھا اور دوسرا نان بائی سردار اس ان دونوں کو شاہ مصر نے کسی جرم میں جیل بھیج دیا تھا۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ دونوں نے اپنے خواب بیان کیے۔ ایک نے (جو ساقی تھا) کہا میں نے اپنے کو شراب نچوڑ تے ہوئے دیکھا یعنی شراب کی غرض سے انگور کو نچوڑ تے ہوئے دیکھا۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ دوسرا شخص جس نے یہ خواب دیکھا تھا نان بائیوں کا سردار تھا۔ (بائبل کی کتاب پیدائش باب ۴۰ میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے مگر اس صحت کے ساتھ نہیں جس صحت کے ساتھ قرآن نے بیان کیا ہے)۔

 

۶۳۔ ۔ ۔ ان کے اس بیان سے واضح ہوا کہ یوسف کا کردار جیل میں بھی بلند رہا اور وہ نیک شخص کی حیثیت سے وہاں مشہور ہوئے۔ بائبل میں ہے۔

"لیکن خداوند یوسف کے ساتھ تھا۔ اس نے اس پر رحم کیا اور قید خانہ کے داروغہ کی نظر میں اسے مقبول بنایا۔ اور قید خانہ کے داروغہ نے سب ایسوں کو جو قید میں تھے یوسف کے ہاتھ میں سونپا اور جو کچھ وہ کرتے اس کے حکم سے کرتے تھے اور قید خانہ کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اس کے ہاتھ میں تھے بے فکر تھا اس لیے کہ خداوندا اس کے ساتھ تھا اور جو کچھ وہ کرتا خداوند اس میں اقبال مندی بخشتا تھا۔ " (پیدائش ۳۹:۲۱تا۲۳)۔

 

خواب کی تعبیر بتانے کا اہل وہی شخص ہو سکتا ہے جو نیک ہو۔ اس کا احساس ایک فطری بات ہے اس لیے خواب دیکھنے والوں نے تعبیر کے لیے یوسف کی طرف رجوع کیا۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ یوسف چونکہ اس موقع پر ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ان کے اطمینان کے لیے یہ بات کہی تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ بات طویل ہو گی اور اس دوران اگر کھانے کا وقت ہو گیا تو انہیں اٹھ جانا پڑ ے گا اور ان کے اصل سوال کا جواب رہ جائے گا۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خواب کی تعبیر کا علم اللہ کا بخشا ہوا ہے۔ یوسف نے اس کو اپنا کمال نہیں بتایا بلکہ اللہ کے فضل سے تعبیر کیا۔

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے مصر کی حکمراں قوم کے مذہب کی طرف جو نہ اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتی تھی اور نہ آخرت کی جزا و سزا کی قائل تھی۔ ان کا مذہب شرک اور دنیا پرستی کا مذہب تھا۔

 

یوسف اگر چہ غلام کی حیثیت میں تھے اور مصر کا ماحول ان کے لیے بالکل نیا تھا مگر انہوں نے ماحول کا کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ علی وجہ البصیرت اللہ کے سچے دین (اسلام) پر قائم رہے۔

 

۶۷۔ ۔ ۔ یوسف کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جس دین کو میں نے اختیار کیا ہے وہ کوئی"قومی ورثہ" نہیں بلکہ انبیائی ورثہ ہے۔ یہ ان تاریخ ساز بزرگوں کا دین ہے جو اپنی صداقت ، پاکیزگی اور تقویٰ کے لیے مشہور ہوئیں۔ ساتھ ہی یوسف نے اپنا تعارف بھی پیش کیا کہ وہ اسی سلسلۃُالذَّ ھَب (سونے کی زنجیر) کی کڑی ہیں۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ان انبیاء کے ذریعہ دین توحید کی طرف رہنمائی کی جو دین فطرت ہے اس کا یہ احسان نہ صرف خاندان نبوت پر ہے بلکہ تمام انسانوں پر ہے کیوں کہ یہ شخص بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے روشنی کا مینار تھیں۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکر کا مفہوم یہاں بالکل واضح ہے یعنی توحید اور انبیاء علیہم السلام کے دین کو اللہ کا فضل سمجھ کر قبول کرنا۔

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوگوں نے اس کائنات کو مختلف خداؤں میں جو بانٹ رکھا ہے اور ہر وقت کے لیے ایک الگ خدا فرض کر کے ان کی پرستش کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف حقیقت کے واقعہ کے خلاف ہے بلکہ انسان کے لیے پریشان کن بھی کہ وہ کس کس خدا کا وفادار بن کر رہے اور کس کس کو خوش کرتا رہے۔ برخلاف اس کے لیے اللہ کو واحد خدا ماننے کی صورت میں تمام ذہنی پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں اور قلب کو سکون نصیب ہوتا ہے کیونکہ ایک خدا کو مان لینا حقیقت واقعہ کو تسلیم کر لینا ہے۔ ۔ ایسا خدا جس کے سامنے کائنات کی ہر چیز بے بس ہے جو سب پر غالب ہے اور تنہا سب پر کنٹرول کر رہا ہے۔

 

متعدد خداؤں کو تسلیم کرنے کی صورت میں انسان کی وفاداریاں بٹ اتی ہیں جبکہ ایک خدا کا عقیدہ اس کی وفاداریوں کو اپنے خالق کے لیے مختص کر دیتا ہے۔ ایک غلام بہت سے آقاؤں کی غلامی کو ہر گز پسند نہیں کر سکتا بلکہ ایک آقا کی غلامی ہی کو بہتر خیال کرتا ہے مگر اتنی معقول بات بھی مشرکوں کی سمجھ میں نہیں آتی اور وہ متعدد اور متفرق خداؤں کے قائل ہو جاتے ہیں اگر مصر میں چند "خداؤں " کی پرستش ہوتی تھی تو بھارت میں ان گنت خدا بنا لیے گئے ہیں بالفاظ دیگر بھارت کا مشرکانہ مذہب قدیم مصر کے مشرکانہ مذہب سے بہت آگے ہے !

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ ۱۱۲ میں گزر چکی۔

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حکم خواہ تکو ینی (طبعی Physical) ہو یا تشریعی (شرعی قانون Shari at Law) نیز تمام معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ ہی کو ہے۔ جہاں تک طبعی دنیا کا تعلق ہے اس میں اللہ ہی کا حکم اور اسی کے فیصلے نافذ ہوتے ہیں۔ اس میں کسی کا بھی ذرہ برابر عمل دخل نہیں ہے۔ رہا دین و شریعت کا معاملہ تو اس معاملہ میں بھی اللہ ہی کو حکم دینے ، قانون بنانے اور فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ وہی حقیقی معنیٰ میں شارع (Law giver) ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو زندگی کے جملہ معاملات میں حاکم تسلیم کر لیا جائے۔ وَ مَا ا خْتَلَفْتُمْ فِیْہٖ مِنْ شَیْ ءٍ فَحُکْمْہٗ اِلَی اللہ (جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ (سورہ شوریٰ ۱۰)۔

 

۷۳۔ ۔ ۔ اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور حکم دینے کا اختیار اسی کو ہے۔ ۔ کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مگر لوگ حکم دیتے ہیں۔ ۔ اور انہیں حکم دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ۔ کہ بتوں کو پوجو اور غیر اللہ کی عبادت کرو۔ اللہ کا حکم سراسر حق ہے اور لوگوں کا حکم سراسر باطل۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ یعنی صحیح اور سچا دین صرف دین توحید ہے اس کے سوا جتنے مذہب بھی ہیں نہ صحیح ہیں اور نہ سچے۔

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات یوسف علیہ السلام نے اس وقت فرمائی تھی جب کہ دنیا پر تاریکی کے بادل چھائے ہوئے تھے مگر آج کی دنیا پر بھی جب کہ تعلیم کی روشنی عام ہوئی ہے یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے کیونکہ دنیا کی بیشتر آبادی دین توحید سے نا آشنا ہے۔

 

یوسف کی یہ دعوت جو انہوں نے اپنے قید خانہ میں نبوت عطاء ہوئی تھی اور انہوں نے تبلیغ کا آغاز قید خانہ ہی میں کر دیا تھا۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ان کے خواب کی تعبیر یوسف نے اس قطعیت کے ساتھ اس لیے بتائی کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے اس کا علم بخشا تھا نیز وہ نبوت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے۔ تعبیر یہ تھی کہ ساقی سردار رہائی پا کر حسب سابق بادشاہ کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا اور نان بائی سردار کو پھانسی دی جائے گی اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ یہ تعبیر بالکل سچی ثابت ہوئی۔

 

۷۷۔ ۔ ۔ ذکر سے مراد یوسف کا وہ تعارف ہے جو اس رہا ہو جانے والے شخص کو قید خانہ میں حاصل ہوا تھا اس تعارف میں جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے تین باتیں شامل تھیں۔ ایک یوسف کا نیک کردار ہونا ، دوسرے ان کی طرف سے پیش کی جانے والی دعوت توحید اور تیسرے خواب کی تعبیر کا وہ علم جو اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے ان کو بخشا تھا اور جس کے مطابق ان کی بتائی ہوئی تعبیر صحیح نکلی۔ اس سے یوسف کا منشا یہ تھا کہ ایک نبی کا تعارف بادشاہ سے ایک ایسے شخص کے ذریعہ ہو جائے جس کو اس کی صحبت میں رہنے اور اس کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کا موقع ملا تھا تاکہ بلا وجہ کی قید کا سلسلہ ختم ہو جائے اور فرائض نبوت (دعوت و تبلیغ) کے لیے راہ کھل جائے۔ یہ نہایت مقدس مقصد تھا اس لیے اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ انہوں نے نہ اپنی مظلومی کی داستان سنانے کے لیے کہا تھا اور نہ اس بنا پر کسی بے چینی کا اظہار کیا تھا لیکن اگر بالفرض انہوں نے اپنی مظلومی کا ذکر بادشاہ سے کرتے کے لیے کہا تھا تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے ؟ کیا مظلوم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انصاف کا مطالبہ کرے ؟ کسی کافر حکومت سے بھی انصاف کا مطالبہ نہ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے اور یوسف کو بادشاہ نے جیل نہیں بھجوایا تھا بلکہ عزیز نے بھجوایا تھا اور غالباً بادشاہ اس سے لاعلم ہی رہا ہو گا اس لیے یوسف کا یہ کہنا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کرنا سفارش کرانے کے معنی میں نہیں تھا بلکہ حقیقت حال سے واقف کرانے کے مفہوم میں تھا۔ اور اس کے پیش نظر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ یوسف نے کوئی ایسی بات کہو تھی جو ان کے مقام سے فرو تر تھی۔

 

بنا بریں جن مفسرین نے بعض روایتوں کا سہارا لے کر یوسف کی اس بات کو ان کی خطا پر محمول کیا ہے وہ خود خطا پر ہیں اور وہ روایتیں قابل اعتبار نہیں ہیں۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شیطان نے اس کو ایسا غافل کر دیا کہ اتنی اہم بات کا ذکر بادشاہ سے نہ کر سکا نتیجہ یہ کہ یوسف کی رہائی کی صورت نکل نہ سکی اور مزید چند سال انہیں جیل میں رہنا پڑا۔

 

معلوم ہوا کہ کسی اہم بات کو بھلا دینے میں شیطان کو خاص دخل ہے اور شیطان یہ کام وسوسہ اندازی کے ذریعہ کرتا ہے۔

 

اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ یوسف نے بادشاہ سے ذکر کرنے کی جو بات کہی تھی وہ ایک اچھی بات تھی اسی لیے شیطان نے اس کو پسند نہیں کیا اور رہا ہونے والے شخص کو بھلاوے میں ڈال دیا اگر یوسف کی یہ بات ایک لغزش ہوتی تو اس شخص کا بھول جانا اچھا ہی تھا۔ ایسی صورت میں اس بھلاوے کو شیطان کی طرف منسوب نہ کیا جاتا۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتانے کے لیے بصیرت کی ضرورت تھی وہ اہل دربار میں سے کسی کو حاصل نہیں تھی اس لیے جب یہ خواب ان کی سمجھ میں نہیں آیا تو انہوں نے کہا یہ خواب پریشان ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔

 

واضح رہے کہ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں :

 

ایک وہ جن میں لا شعور (Sub Conscious) کام کر رہا ہوتا ہے اور دبی ہوئی خواہشات کسی روپ میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ یا پھر معدے کی خرابی کی وجہ سے آدمی ڈراؤنے خواب دیکھ لیے۔ ایسے خواب خوابِ پریشاں کہلاتے ہیں اور ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔

 

دوسرے وہ خواب جو شیطانی سوسوں کا نتیجہ ہوتے ہیں ایسے خوابوں کی بھی کوئی تعبیر نہیں ہوتی مگر وہ فتنہ کا باعث ہوتے ہیں۔ شیطان خواب میں غلط باتیں باور کرا کے صالح عقیدہ کو متزلزل کرنے ، شرک اور قبر پرستی کی طرف مائل کرنے ، آپس میں بد گمانی پیدا کرنے اور میاں بیوی میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ہوشیار رہنا چاہیے اور ایسے خوابوں کا کوئی اثر نہیں کرنا چاہیے۔

 

تیسرے خواب وہ ہیں جو "رویائے صادقہ " کہلاتے ہیں یعنی بالکل سچے خواب۔ سچے خواب کی علامت یہ ہے کہ آدمی اپنے دل میں اس کا اثر محسوس کرتا ہے۔ یہ خواب کبھی تو اس طرح پورے ہوتے ہیں کہ ان کی تعبیر کی ضرورت پیش نہیں آ تی۔ آدمی خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے واقعات کی صورت میں وہی کچھ اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ مگر اکثر سچے خواب اشاروں اور کنایوں کے انداز میں ہوتے ہیں۔ ایسے خواب اپنے گہرے معنی رکھتے ہیں اس لیے ان کی تعبیر وہی شخص بتا سکتا ہے جو اس علم میں بصیرت رکھتا ہو۔ قرآن کے علاوہ احادیث صحیحہ میں رویائے صادقہ کے جو واقعات پیش کیے گیے ہیں اور انکی جو تعبیر بیان ہوئی ہے وہ بڑ ی بصیرت افروز ہے۔ (مزید تشریح کے لیے آگے دیکھیے نوٹ ۸۵)۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ساقی جو یوسف کے بارے میں بادشاہ سے ذکر کرنا بھول گیا تھا اس موقع پر جب کہ بادشاہ کے خواب پر بحث ہو رہی تھی یوسف کی یاد اس کے ذہن میں تازہ ہو گئی۔

 

بائبل میں بھی بادشاہ کا خواب بیان ہوا ہے اور یہ صراحت ہے کہ بادشاہ نے مصر کے تمام جادو گروں اور دانشوروں کو بلا کر ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی مگر وہ تعبیر بتا نہ سکے۔ اس وقت سردار نے بادشاہ سے کہا "میری خطائیں آج مجھے یاد آئیں۔ ۔ وہاں (یعنی قید خانہ میں) ایک عبری جوان جلو داروں کے سردار کا نوکر ہمارے ساتھ تھا۔ ہم نے اس اپنے خواب بتائے اور اس نے ان کی تعبیر کی۔ ۔ اور جو تعبیر اس نے بتائی تھی ویسا ہی ہوا۔ " (پیدائش ۴۱ : ۹ تا ۱۳)۔

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ساقی بادشاہ کی اجازت سے قید خانہ گیا اور یوسف کو صدیق (پیکر صدق) کہ کر خطاب کیاجس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جیل میں یوسف کے ساتھ رہ کر ان کی سیرت سے کس درجہ متاثر ہوا تھا۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوگوں کو بادشاہ کے خواب کی تعبیر جاننے کا شدید انتظار ہے لہٰذا آپ مجھے اس کی تعبیر بتا دیجیے تا کہ میں جا کر انہیں اس سے باخبر کروں۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر اس طرح بتائی کہ اس کے ساتھ تدبیر کا پہلو بھی واضح ہوا یعنی یہ بات کی کہ اس موقع پر کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔

 

اناج کو بالوں میں رہنے دینے کی ہدایت اس لیے کی تاکہ وہ کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رہے۔ خواب کی تعبیر یہ تھی کہ سات موٹی گایوں سے مراد خوشحالی کے سات سال ہیں اور سات سبز بالوں سے مراد سات سال کی اچھی فصلیں ہیں۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ سات دبلی گایوں کی تعبیر یہ تھی کہ سات سال بد حالی کے آئیں گے اور سات خشک بالوں کا مطلب خشک سالی تھی جو سات سال تک رہے گی اور سات دبلی گایوں کے سات فربہ گایوں کے کھا لینے کا مطلب یہ تھا کہ خوش حالی کے دوران جو غلہ محفوظ کر کے رکھا جائے گا وہ خشک سالی کے دوران کھانے کے کام آئے گا۔ اور صرف اتنا ہی اناج بچ جائے گا جس کو بیج بونے کی غرض سے محفوظ رکھا جائے گا۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ یہ خواب کی تعبیر پر ایک خبر کا اضافہ تھا جس کی پیشن گوئی یوسف علیہ السلام نے کی۔ ظاہر ہے یہ بات وحی کے ذریعہ انہیں معلوم ہوئی ہو گی۔

 

رس نچوڑ نے میں انگور وغیرہ کا رس نچوڑ نا بھی شامل ہے اور زیتون وغیرہ سے تیل حاصل کرنا بھی۔ مطلب یہ کہ خشک سالی کا دور گزر جانے کے بعد جو سال آئے گا اس میں اچھی بارش ہو گی اور بارش اچھی ہو جانے کی وجہ سے خوب پیداوار ہو گی اور پھلوں کا رس لوگ افراط سے حاصل کر سکیں گے۔ خواب کی تعبیر جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا و فیصد صحیح ثابت ہوئی بادشاہ اگرچہ مسلمان نہیں تھا مگر اس کا خواب سچا تھا۔

 

سچا خواب در اصل در حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نشانی ہے جو کبھی کبھی کافروں کو بھی دکھایا جاتا ہے تاکہ ان پر حجت قائم ہو۔ یہ خواب مستقبل میں پیش آنے والے کسی واقعہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور جب وہ واقعہ اسی طرح ظہور میں آتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ دنیا میں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ محض اتفاقی حادثات نہیں ہوتے بلکہ ایک منصوبہ کے تحت رو نما ہوتے ہیں اور اس کائنات پر ایک مدبر ہستی کی فرمان روائی ہے جو اپنی ا سکیم اور منصوبہ (تقدیر) کو نافذ کرتا رہتا ہے۔ اگر دنیا کے حادثات و واقعات کسی منصوبہ کے بغیر ظہور میں آتے تو کسی واقعہ کی پیشگی خبر کسی کو نہیں ہو سکتی تھی جبکہ سچے خواب جو انسان کے تجربہ میں آتے رہتے ہیں کسی واقعہ کے ظہور میں آنے سے پہلے اس کی خبر دیتے ہیں جو واضح دلیل ہے اس بات کی کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے اور یہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کے بنائے پیشگی منصوبہ (تقدیر) (Pre-Planning) کے تحت ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص بھی سچا خواب دیکھ لیتا ہے خواہ وہ مومن ہو یا کافر وہ محض "خواب" نہیں دیکھتا بلکہ اللہ کی حجت کو دیکھ لیتا ہے۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ جب ساقی نے جا کر بادشاہ کو یوسف کی بتائی ہوئی تعبیر سے مطلع کیا تو اسے اطمینان ہوا اور حیرت ہوئی کہ اس قابلیت کا آدمی جیل میں پڑا ہوا ہے اس لیے اس نے یوسف کو بلا بھیجا۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ متن میں لفظ "رب " استعمال ہوا ہے جس کے معنی عربی میں آقا کے ہوتے ہیں اور اس زمانہ میں غلام اپنے آقا کے لیے یہ لفظ استعمال کرتا تھا یہاں اسی لغوی معنی میں بادشاہ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ ساقی جو قاصد بن کر آیا تھا بادشاہ کا غلام تھا۔ لیکن چونکہ رب حقیقی معنی میں اللہ ہی ہے اور آقا کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے سے اشتباہ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ بتاتی ہے اس لیے تکمیلی شریعت میں ا سکا استعمال اللہ کے لیے خاص کر دیا گیا ہے۔

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ یوسف کے اس بیان سے ظاہر ہوا کہ انہیں اپنی رہائی کے لیے کوئی بے چینی نہیں تھی بلکہ رہا ہونے سے پہلے انہوں نے اپنے معاملہ کی تحقیق ضروری سمجھی تا کہ جس الزام میں انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا، اس کی حقیقت واضح ہو جائے۔ اس سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ یوسف نے اُذکُرْنِیْ دِنْدَ رَبِّکَ (اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا) کہہ کر کوئی غلطی کی تھی۔ (ملاحظہ ہو نوٹ ۷۷)۔

 

یہ یوسف کی شرافت تھی کہ انہوں نے بیگم عزیز کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا بلکہ ان عورتوں کا ذکر کیا جو بیگم عزیز کی سازش کے تحت جمع ہوئی تھیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھی تھیں۔ اس معاملہ کی تحقیق سے بیگم عزیز مستثنیٰ نہیں ہو سکتی تھیں اس لیے اس کا نام لینا غیر ضروری تھا۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بادشاہ نے ان عورتوں کو اور بیگم عزیز کو تحقیق کے لیے بلا بھیجا اور اس نے ان سے جو سوال کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بادشاہ کو ذاتی طور پر اطمینان ہو گیا تھا کہ یوسف بے قصور ہے اور رجھانے کی کوشش عورتوں ہی نے کی تھی۔

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ہاتھ زخمی کرنے والی خواتین نے بھی یوسف کی بے گناہی کی شہادت دی اور بیگم عزیز نے بھی اعتراف کر لیا کہ قصور وار وہی تھی۔ یوسف بالکل بے گناہ اور سچا ہے۔

 

اس طرح چاند کے گہن سے نکل آنے پر سب نے اس کا بے داغ چہرہ دیکھ لیا اور لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ یہ تو نور ہی نور ہے جس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ بیگم عزیز کا بیان اوپر آیت ۵۱ میں "بلا شبہ وہ بالکل سچا ہے " پر ختم ہو گیا۔ یہ بیان یوسف کا ہے۔ جب قید خانہ میں انہیں یہ اطلاع ملی کہ تحقیق سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ بے قصور ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں نے اس مرحلے میں یہ تحقیق اس لیے ضروری سمجھی تاکہ واضح ہو جائے کہ میں نے عزیز کے گھر میں اس کے در پردہ کوئی خیانت نہیں کی تھی۔ یہاں خیانت سے مراد عزیز کی بیوی سے ناجائز تعلق قائم کر لینا ہے۔

 

یوسف نے مزید یہ اصولی بات بھی واضح کی کہ خیانت کار لوگ اپنی خیانت پر پردہ ڈالنے کے لیے کسی بے گناہ کے خلاف جو چالیں چلتے ہیں ان کی یہ چالیں وقتی طور سے خواہ کتنے ہی بڑ ے مغالطہ کا باعث بنیں لیکن آخری نتیجہ کے اعتبار سے ایسے لوگ کبھی با مراد نہیں ہوتے اور ان کے چلائے ہوئے تیر اصل نشانہ کو خطا کر جاتے ہیں جس کی مثال بیگم عزیز کا یہ واقعہ ہے کہ اس نے خیانت کر کے الزام یوسف کے سر ڈالنا چاہا، ان کے خلاف سازش کی اور ان کو بد نام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اس سے یوسف کا کچھ نہیں بگڑا۔ ان کا مقام بلند ہوا اور بیگم عزیز کے حصہ میں رسوائی آئی۔

 

واضح رہے کہ بیگم عزیز کا اپنے قصور کا اعتراف کرنا تو قرآن سے ثابت ہے لیکن اللہ کے حضور اس کا توبہ کرنا اور ایمان لانا ثابت نہیں اور یہ جو مشہور ہے کہ یوسف نے بعد میں بیگم عزیز (زلیخا) سے نکاح کر لیا تو یہ محض افسانہ ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں اور نہ یہ قرین قیاس ہے کہ ایک پیغمبر ایسی عورت کو اپنے نکاح میں لانا پسند کرے گا جو اخلاقی پستی میں مبتلا رہی ہو اور جس کے حصہ میں رسوائی آئی ہو۔ وہ عزیز کی بیوی تھی اور یہ بھی ثابت نہیں کہ اس وقت عزیز کا انتقال ہو گیا تھا یا اس نے اس کو چھوڑ دیا تھا پھر اس کا رشتہ یوسف سے جوڑ نے میں کیا تک ہے ؟ یہی نہیں بلکہ عزیز کی بیوی کا نام "زلیخا" تھا یہ بات بھی نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے اور نہ بائبل ہی میں اس کی صراحت ہے۔ افسوس کہ قرآن نے عبرت و موعظت کے لیے جو سرگزشت پیش کی تھی افسانہ طرازی نے اسے کچھ سے کچھ کر کے رکھ دیا۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا اب جبکہ میرا بے قصور ہونا ثابت ہو گیا ہے میں اس  کا کریڈٹ  (Credit) اپنے نفس کو نہیں دیتا بلکہ اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہوں کیونکہ انسان کا نفس تو اسے برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جن کو اللہ توفیق دیتا ہے وہ اپنے نفس کی خواہشات کو دباتے ہیں اور اس کے ہاتھ میں اپنی باگ ڈور دینے کے بجائے اسے زیر کر لیتے ہیں۔ نفس کو زیر کرنے کا یہ کام خدا کی مہربانی اور اس کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔

 

چونکہ انسان کی آزمائش خیر و شر میں مطلوب ہے اس لیے انسانی نفس کے اندر خواہشات رکھ دی گئی ہیں۔ یہ خواہشات برائی اور گناہ کی لذت کو حاصل کرنے کے لیے ہے اندر سے زور لگاتی ہیں لیکن جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس پر اللہ کی نظر عنایت ہوتی ہے اور وہ اس کی توفیق سے ان خواہشات کو دبانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

 

واضح رہے کہ بعض مفسرین نے اس بیان کو جو ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ "یہ اس لیے تاکہ وہ جان لے " سے شروع ہوتا ہے بیگم عزیز کا بیان قرار دیا ہے مگر اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نفس کلام دلیل ہے کہ یہ یوسف ہی کا بیان ہے۔ کلام کو روح ، معنی کا حسن اور پر وقار اسلوب بیان ایک نبی ہی کے شایان شان ہے۔ بیگم عزیز کی زبان سے یہ باتیں جچتی نہیں ہیں۔

 

۹۳۔ ۔ ۔ تحقیق کا نتیجہ سامنے آ جانے کے بعد بادشاہ نے دوبارہ یوسف کو بلا بھیجا اس اعلان کے ساتھ کہ وہ کسی کا غلام نہیں رہے گا بلکہ وہ میری مملکت کے کاموں کے لیے مخصوص ہو گا۔

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے یوسف کی گفتگو سے دانشمندی، حکمت، حقیقت پسندی اور دور اندیشی جیسی خوبیوں کا اظہار ہوا ہو گا اس لیے بادشاہ ان سے بہت متاثر ہوا اور ان کی قدردانی کرتے ہوئے ان پر اپنے پورے اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ یوسف بڑ ے سے بڑ ے منصب کے اہل ہیں اب وہ بتائیں کہ قحط کی صورت میں ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا ہو گا اس کے پیش نظر انہیں اپنے ناخن تدبیر سے کام لینے کے لیے کس طرح کے اختیارات کی ضرورت ہو گی۔

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ خزائن الارض (زمین کے خزانے) سے مراد زمین سے حاصل ہونے والی دولت یعنی زرعی پیداوار ہے اور اس پر مختار بنا دینے سے مراد اس پر تصرف اور اس کام کی تنظیم وغیرہ کے سلسلہ میں مکمل اختیارات تفویض کرنا ہے۔ چونکہ مسئلہ براہ راست غلہ کی پیداوار اور اس کی تقسیم سے متعلق تھا اس لیے یوسف (علیہ السلام) نے اس معاملہ میں مکمل تفویض کرنے کا مطالبہ کیا اور بادشاہ کے اطمینان کے لیے اس بات کا اظہار کیا کہ اس کام کے لیے جو صلاحیتیں۔ حفاظت اور علم ۔ مطلوب ہیں وہ میرے اندر موجود ہیں۔

 

مطالبہ تو یوسف (علیہ السلام) موقع کی مناسبت سے اتنا ہی کیا تھا مگر آگے جا کر راہیں کھلتی چلی گئیں یہاں تک کہ مصر کا کلی اقتدار ان کے ہاتھ آگیا اور وہ تخت سلطنت کے مالک بن گئے چنانچہ آیت ۱۰۰ میں صراحت موجود ہے کہ جب ان کے والدین مصر پہنچ گئے تو ان کو انہوں نے تخت پر بٹھا دیا۔

 

یوسف (علیہ السلام) نے جو مطالبہ کیا تھا اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک غیر اسلامی نظام حکومت کو چلانے کے لیے تھا۔ یہ بات نہ تو منصب نبوت سے مطابقت رکھتی اور نہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود ہے کہ ایک نبی نے کسی غیر اسلامی یا کافرانہ حکومت کو چلانے میں کوئی حصہ لیا ہو۔ یوسف (علیہ السلام) نے جس چیز کا مطالبہ کیا تھا وہ یہ تھی کہ پیداوار کا پورا نظام ان کے کنٹرول میں ہو اور حکومت اس میں مداخلت کرنے کے بجائے ان کی معاون و مدد گار بنے۔ گویا انہوں نے اپنے لیے ایسا دائرہ کار تجویز کیا تھا جو بجائے خود مباح تھا۔ اور یہ خدمت لوگوں کو قحط کی تکلیف اور مصیبت سے بچانے کے لیے ضروری تھی نیز اس سے سوسائٹی کو خدا شناس بنانے میں بڑ ی مدد مل سکتی تھی۔ چنانچہ علامہ زمخشری لکھتے ہیں :

 

"یوسف نے یہ بات اس لیے کہی تاکہ اس کے ذریعہ وہ اللہ کے احکام کو جاری کر سکیں ، حق قائم کر سکیں ، انصاف کا دورہ ہو اور غلبہ حاصل کر سکیں۔ یہ من جملہ ان مقاصد کے ہے جن کے لیے انبیاء کی بعثت بندوں کی طرف ہوتی رہی ہے۔ اور یوسف کو یہ معلوم تھا کہ ان کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو ان کی جگہ اس ذمہ داری کو پورا کر سکتا ہو لہٰذا انہوں نے اقتدار کا مطالبہ محض رضائے الٰہی کی خاطر کیا تھا نہ کہ حب جاہ اور دنیا کی خاطر۔ " (تفسیر کشاف ج ۲ ص ۳۲۸)

 

اس لیے یہ کافرانہ حکومت کو چلانا نہیں تھا بلکہ وقت کی حکومت کو ایک جائز عوامی ضرورت کے حق میں ہموار کرنا تھا اور بتدریج اقتدار کو اسلام کی طرف منتقل کرانے اور معاشرہ کو اسلام سے قریب کرنے کی کوشش تھی۔ اس دور کے نظام حکومت کو موجودہ دور کے نظام حکومت پر قیاس کرنا صحیح نہیں جہاں اس قسم کے اختیارات کسی شخص کو تفویض کرنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور جس کو کوئی شعبہ ملکی قوانین کی جکڑ بندیوں سے آزاد نہیں ہوتا۔ تا ہم اگر کسی غیر اسلامی نظام میں مباحات کے دائرہ میں یعنی جہاں شرعی احکام و قوانین سے تصادم نہ ہوتا ہو اور اہل ایمان اسے دینی مصالح کا تقاضا سمجھتے ہوں تو اس سے فائدہ اٹھانے میں شرعاً کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ اس پر یہ اعتراض وارد کرنا کہ یہ نظام باطل کیا معونت ہے یا اس کے ساتھ مصالحت ہے ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں۔ ۔ ۔ انبیائی طریق کار میں ہر طرح حالات کے لیے رہنمائی موجود ہے اور یوسف کا طریقہ بھی ہمارے لیے اس لیے اسوہ ہی ہے۔ آیت سے ضمناً یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اقتدار کا منصب کسی ایس موقع پر جبکہ ایک مؤمن اپنے اندر اس کی اہلیت پاتا ہو اور حالات شدت سے اس بات کے متقاضی ہوں کہ وہ اس خدمت کے لی اپنے کو پیش کرے تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔ جس حدیث میں عہدہ طلب کرنے کی ممانعت ضحضحآئی ہے وہ جاہ طلبی کے معنی میں ہے اور جو صورت اوپر بیان ہوائی وہ اس سے مختلف ہے۔

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف کو اگر چہ مختلف مراحل سے گزرنا پڑا مگر اللہ تعالیٰ نے اقتدار کی راہ ان کے لیے اس طرح ہموار کی کہ ہر مرحلہ ان کے لیے ترقی کا زینہ ثابت ہوا۔ اور ؏

 

تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی                                                                             

 

ظاہر ی اسباب اس طرح بنے کہ بادشاہ نے وہ تمام اختیارات سپرد کر دئے جو ان کے پیش کردہ چودہ سالہ منصوبہ کو رو بہ عمل لانے کے لیے ضروری تھے اور اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں مصر کا حاکم بنا دیا چنانچہ آگے آیت ۸۷ میں یوسف کے لیے عزیز (با اختیار حاکم) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ بائبل میں ہے :

 

"اور فرعون (یعنی اس وقت کا بادشاہ) نے یوسف سے کہا چونکہ خدا نے مجھے یہ سب کچھ دیا ہے اس لیے تیری مانند دانشور اور عقلمند کوئی نہیں۔ سو تو میرے گھر کا مختار ہو گا۔ اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا۔ اور فرعون نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میں تجھے سارے ملک مصر کا حاکم بناتا ہوں۔ " (پیدائش ۴۱ : ۳۹ تا ۴۱)

 

۹۷۔ ۔ ۔ کہاں یہ بات کہ یوسف کو جیل کی تنگ کوٹھری میں دن گزارنا پڑ رہے تھے اور کہاں یہ صورت کی مصر کی سر زمین میں جہاں چاہے وہ اپنے لیے ٹھکانا بنا سکتے تھے۔ بائبل میں ہے :

 

"اور اس نے فرعون کے پاس سے رخصت ہو کر سارے ملک مصر کا دورہ کیا اور ارزانی کے سات برسوں میں افراط سے فصل ہوئی اور وہ لگا تار ساتوں برس ہر قسم کی خورش جو ملک مصر میں پیدا ہوئی تھی جمع کر کر کے شہروں میں اس کا ذخیرہ کرتا گیا۔ ہر شہر کے چاروں اطراف کی خورش اسی شہر میں رکھتا گیا۔ اور یوسف نے غلہ سمندر کی ریت کی مانند نہایت کثرت سے ذخیرہ کیا۔ " (پیدائش ۴۱ : ۴۶ تا ۴۹)

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ واقعہ ہے کہ نیک روی کے نتائج دنیا میں اچھے ہی نکلتے ہیں البتہ اس کے لیے وقت لگتا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ ایک بیج کے بونے اور اس کے بار آور ہونے کے درمیان وقت کا فاصلہ ہوتا ہے۔

 

یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اقتدار اور اقتدار میں بڑا فرق ہے۔ جو اقتدار ظالموں کو حاصل ہوتا ہے وہ محض آزمائش کے لیے ہوتا ہے اور باعث خیر نہیں ہوتا۔ لیکن جو اقتدار حاصل ہوا اس کی نوعیت یہی تھی اس لیے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تعبیر کیا ہے۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایمان لا کر تقویٰ کا رویہ اختیار کرنے والوں کو جو دنیا میں دیا جاتا ہے وہ اس انعام و ا کرام کے مقابلہ میں بہت ٹھوڑا ہے جس سے وہ آخرت میں نوازے جائیں گے دنیا کا اجر اگر شبنم ہے تو آخرت کا اجر باران رحمت۔

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ جب قحط کا زمانہ آیا تو مصر کے ساتھ قریبی ممالک فلسطین وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ اس وقت یوسف کے حسن انتظام کی بدولت مصر میں غلہ کا ذخیرہ تھا اس لیے ان کے بھائی کنعان سے غلہ خریدنے مصر آئے۔ اور چونکہ وہ غیر ملک سے آئے تھے اس لیے انہیں حاکم مصر (یوسف) کے پاس حاضر ہونا پڑا ہو گا۔ بائبل میں ہے :

 

"اور یوسف کے کہنے کے مطابق کال کے سات برس شروع ہوئے اور سب ملکوں میں تو کال تھا پر ملک مصر میں ہر جگہ خورش (خوراک) موجود تھی۔  ۔ اور یعقوب کو معلوم ہوا کہ مصر میں غلہ ہے تب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا۔ ۔  تم وہاں جاؤ اور وہاں سے ہمارے لیے اناج مول لے آؤ تاکہ ہم زندہ رہیں اور ہلاک نہ ہوں۔ سو یوسف کے دس بھائی غلہ مول لینے کو مصر میں آئے۔ ۔ اور یوسف ملک مصر کا حاکم تھا اور وہی ملک کے سب لوگوں کے ہاتھ غلہ بیچتا تھا۔ ۔  یوسف نے تو اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا پر انہوں نے اسے نہ پہچانا۔ " (پیدائش ۴۱ : ۵۳ ، ۵۴ اور ۴۲: ۱ تا ۸)

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ وہ یوسف کو اس لیے نہیں پہچان سکے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس بھائی کو انہوں نے کنویں میں پھینک دیا تھا وہ مصر کا حکمراں ہو سکتا ہے اور چونکہ یوسف کو ان سے جدا ہوئے ایک طویل مدت گزر چکی تھی اس لیے ان میں جو ظاہری تبدیلی ہوئی ہو گی اس کے پیش نظر بھی ان کے لیے پہچاننا مشکل تھا۔

 

یوسف خوبرو تھے لیکن حسن یوسف کی نوعیت اگر واقعی ایک معجزہ کی ہوتی تو ان کے بھائی ان کو دیکھتے ہی پہچان لیتے لیکن ان کا نہ پہچانا ظاہر کرتا ہے کہ حسن یوسف کا جو قصہ بیان کیا جاتا ہے وہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ مصر میں چونکہ راشننگ سسٹم تھا اس لیے یوسف نے ان سے پوچھا کہ تمہارے گھر میں کتنے افراد ہیں اور جب انہوں نے اپنے سوتیلے بھائی ب یمین کا ذکر کیا ہو گا تو یوسف نے کہا ہو گا کہ آئندہ آؤ تو اس کو اپنے ساتھ لاؤ تاکہ تمہارے بیان کی تصدیق ہو جائے۔ یہ قاعدہ کی بات تھی اور در اصل یوسف اپنے بھائی سے ملنا چاہتے تھے مگر ابھی راز فاش کرنا مناسب نہ تھا اس لیے انہوں نے قاعدہ کی بات بیان کی۔ ساتھ ہی اپنی مہمان نوازی وغیرہ کا بھی ذکر کیا تکہ انسیت بڑھے اور وہ رغبت مے ساتھ دوبارہ آئیں۔

 

۱۰۳۔ ۔ ۔ انہوں نے غلہ کی جو قیمت ادا کی تھی وہ یوسف کے حکم سے ان کے اسباب میں رکھ دی گئی۔ یوسف چاہتے تھے کہ وہ دوبارہ ان کے پاس آئیں اور مالی مشکلات ان کے لیے رکاوٹ نہ بنیں۔

 

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اس سے پہلے یوسف کے معاملہ میں تلخ تجربہ ہو چکا تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ کیا اسی طرح تم پر اعتماد کر کے تمہارے ساتھ بن یمین کو بھیجوں۔

 

بن یمین اگر چہ بڑا ہو گیا تھا مگر ان کا سوتیلا بھائی تھا جس کو وہ پسند نہ کرتے تھے اور اس وقت کے حالات میں ان کے ساتھ بیرون ملک بھیجنا پڑ ے اندیشہ کی بات تھی کہ معلوم نہیں یہ دس کا جتھا اس کے ساتھ کیا کر بیٹھے۔

 

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسفؑ نے جو راشننگ سسٹم جاری کیا تھا اس کے مطابق بیرون ملک کے لوگوں کو فی کس ایک اونٹ کے بار کے بقدر غلہ دیا جاتا تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ بن یمین کو ساتھ لے جانے کی صورت میں ہم ایک اونٹ کا مزید غلہ حاصل کر سکیں گے۔

 

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کوئی ایسی صورت پیش آ جائے کہ اس کی حفاظت کرنا تمہارے بس میں نہ ہو۔

 

۱۰۷۔ ۔ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصر کے باہر ایک فصیل رہی ہو گی اور اس کے کئی دروازے ہوں گے یعقوب (علیہ السلام) نے یہ ہدایت انہیں اس لیے کی تاکہ ایک جتھے کی صورت میں مصر میں داخل ہونے پر ان کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے کہ معلوم نہیں جتھا کس غرض سے ملک میں داخل ہوا ہے۔ شبہ اس وقت کے حالات کے پیش نظر لوٹ مار کا بھی کیا جا سکتا تھا اور جاسوسی کا بھی۔

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے احتیاطی تدبیر تو بتا دی لیکن ساتھ ہی واضح کر دیا کہ کوئی تدبیر خواہ کتنی ہی صحیح ہو تقدیر اِلٰہی کے مقابل میں ہر گز کار گر نہیں ہو سکتی۔ اللہ کا فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور ساری تدبیریں دھری کے دھری رہ جاتی ہیں۔ اس لیے انسان کے بس میں جو بہتر سے بہتر تدبیر ہے وہ کرے مگر تدبیر کو سب کچھ نہ سمجھے بلکہ اللہ کی مشیت پر بھروسہ کرے کہ ہو گا وہی جو اللہ کو منظور ہے۔

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام نبی تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں براہ راست علم بخشا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کی تعریف فرمائی ہے کہ اگر چہ ان کی تدبیر تقدیر اِلٰہی کے مقابل کار گر نہ ہو سکی مگر تدبیر اپنی جگہ مناسب ہی تھی اور وہ اس علم کی بنا پر جو انہیں بخشا گیا تھا تدبیر اور تقدیر کا فرق جانتے تھے۔

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ انسانی تدابیر کے درمیان فیصلہ کن چیز قضائے اِلٰہی ہی ہے۔ لوگ اپنی تدبیروں ہی پر ہوتا ہے اور جب اس میں ناکامی ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ حقیقت سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہے۔

 

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یمین کو اپنے پاس بلا کر چپکے سے بتایا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں۔ اب تم اس سلوک پر افسوس نہ کرو جو یہ لوگ ہمارے ساتھ کرتے رہے ہیں۔

 

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ یہ شاہی جام تھا اس لیے ضرور قیمتی رہا ہو گا اور غالباً یوسف نے وحی اِلٰہی سے اشارہ پا کر یہ تدبیر اختیار کی ہو گی کہ اس کو اپنے بھائی بن یمین کے سامان میں خاموشی سے رکھ دیا۔ غالباً انہوں نے یہ بات بن یمین کے علم میں لائی ہو گی۔

 

۱۱۳۔ ۔ ۔ پکارنے والا سرکاری افسر تھا اور اس کے علم میں یہ بات نہیں تھی کہ یوسف نے خود یہ پیالہ بن یمین کے سامان میں رکھا ہے اس لیے جب قافلہ کے روانہ ہو جانے پر پیالہ نہیں ملا تو سرکاری افسر نے یہ خیال کیا کہ جس قافلہ نے ہاں قیام کیا تھا ان ہی میں سے کسی نے اسے چرا لیا ہے اس لیے وہ قافلہ کو تلاش کرتا ہوا گیا اور جب راستہ میں اس پا لیا تو اپنے گمان کی بنا پر ان لوگوں پر طوری کا الزام لگایا۔

 

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قافلہ والوں نے سرکاری ملازمین (پولس) سے جو افسر کے ساتھ آئے تھے پوچھا کہ تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے۔

 

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ سرکاری ملازمین (پولس) نے جب بتلایا کہ شاہی پیمانہ غائب ہو گیا ہے تو ان کے افسر نے اس بات کا اعلان کیا کہ جو شخص اس کو لا حاضر کرے گا اس کو ایک اونٹ غلہ انعام دیا جائے گا اور انعام دلوانے کا ذمہ دار میں ہوں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیمانہ بڑا قیمتی تھا۔

 

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ یعنی برادران یوسف نے کہا۔

 

۱۱۷۔ ۔ ۔ یعنی سرکاری ملازمین نے کہا۔

 

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس کے سامان میں چوری کی چیز نکل آئے اس کو دھر لیا جائے اور اس کی آزادی سلب کر لی جائے۔

 

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہمارے ہاں چور کی سزا یہی قانون ہے۔ اغلب ہے یہ قانون ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کا ہو گا۔

 

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ سرکاری افسران کو یوسف کے پاس لے آیا اور جب یوسف کی ہدایت کے مطابق ان کے سامان کی تلاشی لی گئی تو پیالہ بن یمین کی بوری میں نکل آیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تلاشی خود یوسف نے لی ہو۔

 

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ یوسف در اصل اپنے سگے بھائی بن یمین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے وجہ ظاہر ہے یہ رہی ہو گی کہ وہ اپنے اس کام میں جو ان کے سپرد ہوا تھا ا پنے بھائی اپنا معاون بنانا چاہتے ہوں گے تاکہ مصر کی سوسائٹی کو اسلام سے قریب کرنے میں مدد ملے۔ بن یمین ان کے بگڑ ے ہوئے بھائیوں میں سے نہیں تھے بلکہ نیک کردار تھے اور انہوں نے ایک نبی (ان کے والد یعقوب علیہ السلام) کے گھر میں تربیت پائی تھی اس لیے مصر میں ان کا قیام پیش نظر مقصد کے لیے کافی مفید ثابت ہو سکتا تھا۔ چنانچہ یوسف کی شدید خواہش تھی کہ وہ ان کے پاس رہ جائیں لیکن یوسف اپنی شخصیت کو ابھی مصلحۃً اپنے بھائیوں پر ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے اس لیے انہوں نے قافلہ کے ساتھ انہیں جانے دیا لیکن اللہ نے ایسی مخفی تدبیر کی کہ بن یمین یوسف کے پاس پہنچ گئے اور انہیں موقع ملائکہ راز کو افشاء کیے بغیر ان کو اپنے پاس رکھ لیں۔

 

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ متن میں الفاظ فِی دِیْنِالمَلِک (بادشاہ کے دین میں) استعمال ہوئے ہیں۔ دین کے اصل معنیٰ اطاعت کے ہیں اور یہاں یہ لفظ بادشاہ کے قانون کے معنی میں استعمال ہوا ہے چنانچہ ابن جریر طبری نے اس کے معنٰی   فِی حُکم مَلِکِ مِصرِ وقضائِہٖ وَطاعتِہٖ منھم (مصر کے بادشاہ کے حکم، اس کے فیصلہ اور اس کی اطاعت میں) کے ہیں۔ (جامع البیان ج ۱۳ ص ۱۷) جس وقت بن یمین کی گرفتاری کا معاملہ پیش آیا مصر میں بادشاہ کا قانون نافذ تھا اور ملکی قانون کی رو سے چوری کی سزا نظر بندی یا غلامی نہیں تھی بلکہ کوئی اور سزا تھی۔ ہو سکتا ہے مار پیٹ یا جرمانہ کی سزا رہی ہو۔ اگر اس سزا کو نافذ کیا جاتا تو اس سے وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا جو بن یمین کو روک لینے کی صورت میں حاصل ہوتا نیز اس صورت میں بن یمین کو بلا وجہ تکلیف بھی پہنچتی۔ ظاہر ہے کہ بات انصاف کے خلاف تھی البتہ نظر بندی یا غلامی کی سزا محض صورۃً سزا تھی حقیقۃً نہیں ، کیونکہ یوسف نے ان کو محض اپنے پاس روک لیا تھا اور خود بن یمین سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی سزا نہیں ہے بلکہ مجھے روک لینے کی ایک لطیف تدبیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی گرفتاری کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا اور نہ اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی ضرورت محسوس کی۔ الغرض بادشاہ کا جو قانون مصر میں رائج تھا اس کی رو سے یوسف بن یمین کو سزا تو دے سکتے تھے لیکن اپنے پاس روک کر رکھ نہیں سکتے تھے۔ البتہ اللہ کی مشیت ایسی صورت پیدا کر سکتی تھی کہ وہ ان کو روک لیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت پیدا کر دی اور یوسف کے لیے بن یمین کو روک لینا آسان ہو گیا۔ چونکہ بن یمین کا تعلق ملک کنعان سے تھا اس لیے عجب نہیں کہ بین الاقوامی قاعدہ یہ رہا ہو کہ مجرم جس ملک کا باشندہ ہو اس پر اسی ملک کے قانون کو نافذ کیا جائے۔ اس طرح بن یمین پر شریعت ابراہیم کا قانون نافذ ہو گیا جو ہر لحاظ سے مناسب تھا۔

 

اس آیت کے تعلق سے کچھ سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ، مگر طوالت کے خوف سے ہم تفصیل میں نہ جاتے ہوئے چند ضروری وضاحتوں پر اکتفا کرتے ہیں :

 

 (۱) آیت کے الفاظ :"مَا کانَ لِ "قرآن میں "اس کے شایان شان نہیں "یا "اس کا یہ کام نہیں " کے معنی میں بھی استعمال ہوئے ہیں اور قدرت نہ رکھنے یا کر نہ سکنے کے معنی میں بھی۔ پہلے معنی کی مثال مَا کانَ لِلہِ اَنْ یَّتَّخِذَمِنْ وَّ لَدٍ (مریم ۳۵) "اللہ کے شایان شان نہیں (یا اللہ کا یہ کام نہیں) کہ کسی کو بیٹا بنائے" اور دوسرے معنی کی مثال :وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْ نِ اللہ (آل عمران ۱۴۵) "کوئی نفس اللہ کے اذن کے بغیر مر نہیں سکتا" ہے۔ زیر تفسیر آیت میں چونکہ اِلّا نحوی اصطلاح میں استثناء منقطع ہے یعنی "مگر" یا  "البتہ" کے معنی میں ہے اس لیے نحوی لحاظ سے یہاں قدرت نہ رکھنے یا اختیار نہ رکھنے کے معنی موزوں ہو رہے ہیں یعنی یوسف بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو رکھ نہیں سکتے تھے بالفاظ دیگر ان کو اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی کو رکھ نہیں سکتے تھے بالفاظ دیگر انکو اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی کو روک رکھیں۔

 

 (۲) ابراہیم علیہ السلام کو جو شریعت دی گئی تھی وہ محمل احکام پر مشتمل تھی۔ تفصیلی احکام بعد میں موسیٰ علیہ السلام پر تورات کی شکل میں نازل ہوئے اس لیے یوسف علیہ السلام کے مصر میں حکومت کے باگ ڈور سنبھالنے پر ایسی صورتیں بہت کم پیش آئی ہوں گی کہ شریعت کے قانون کو نبھانا ان کے لی مشکل ہوا ہو گا۔ ظاہر ہے اس وقت مباحات کا دائرہ زیادہ وسیع تھا اور جہان شرعی قانون خاموش ہو گا وہاں یوسف کے لی موقع ہو گا کہ عدل و انصاف کے معروف تصورات کے مطابق احکام و قوانین جاری کریں اور جس حد تک ملک کے رائج قوانین عدل و انصاف پر مبنی ہوں گے ان کے نفاذ میں کوئی شرعی مانع بھی نہیں رہا ہو گا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کا معاشرہ اسلام سے نا آشنا تھا لیکن جس نے یوسف کو مملکت کا سربراہ تسلیم کر لیا تھا ملک کی اجتماعی زندگی میں بہ تدریج ہی تبدیلی لائی جا سکتی تھی۔

 

علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

 

"اور اس باب سے (یعنی ولایت کے کسی شخص خاص کے حق میں واجب ہونے کے تعلق سے) یوسف صدیق کا شاہ مصر کے لیے ملک کے خزانوں پر حکمراں ہونا ہے۔ جبکہ بادشاہ اور اس کی قوم کافر تھی جیسا کہ آیت : وَلَقَدْ جَا ءَ کُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ با لبَیِّنَاتِ فَمَا زِ لْتُمْ فِیْ شکٍّ مِمَّا جَاءَ کُمْ بِہٖ (اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس روشن دلائل کے ساتھ آئے تھے مگر جو ہدایت لے کر وہ آئے تھے اس کے بارے میں تم شک ہی میں مبتلا رہے۔ ۔ ۔ ۔ (سورہ مومن ۳۴) نیز آیت : أَرْبَا بٌ مُتَفَرِّ قُوْنَ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ (کیا متفرق رب بہتر ہیں یا ایک اللہ۔ ۔ ۔ الخ سورہ یوسف ۳۹) سے واضح ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کفر کے ساتھ مال وصول کرنے اور اس کو بادشاہ کے خواص ، اس کے اہل و عیال ، فوج اور رعیت پر خرچ کرنے کے سلسلہ میں ان کے مخصوص طور طریقے لازماً رہے ہوں گے اور یہ طور طریقے انبیاء کے طریقہ اور ان کے عدل و انصاف سے مطابقت نہیں رکھتے ہوں گے۔ لیکن یوسف کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ جو چاہتا یعنی جو بات بھی اس کی نگاہ میں اللہ کے دین سے تعلق رکھنے والی ہوتی کر گزرتا کیوں کہ قوم نے اس کی دعوت قبول نہیں کی تھی۔ تاہم یوسف نے جس قدر ممکن تھا عدل و احسان کو رو بہ عمل لایا اور اقتدار کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اور یہ سب باتیں ارشاد اِلٰہی فَاتَّقُوا اللہ مَا اسْتَطَعْتُمْ (اللہ سے ڈرو جتنا تمہارے بس میں ہو۔ سورہ تغابن ۱۶) میں شامل ہیں۔ لہٰذا جب دو واجب باتوں میں ٹکراؤ ہو جائے اور دونوں کو جمع کرنا ممکن نہ ہو تو جو بات زیادہ مؤکد ہو اس کو مقدم رکھا جائے۔ ایسی صورت میں دوسری بات واجب نہیں رہے گی اور نہ اس کا ترک کرنے والا زیادہ مؤکد بات کو زیر عمل لانے کی وجہ سے فی الحقیقت کسی واجب کو ترک کرنے والا قرار پائے گا۔ " (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج ۲۰ ص ۵۶)

 

 (۳) یوسف مصر کے حاکم تھے اس لیے اگر وہ چاہتے تو اپنے والد سے ربط پیدا کر سکتے تھے لیکن چونکہ وہ نبی بھی تھے اس لیے وحی اِلٰہی کے مطابق ہی کوئی قدم اٹھا سکتے تھے اور خدائی منصوبہ یہ تھا کہ ابھی بات پردہ راز میں رہے اور یوسف اپنی اصل شخصیت کو اس وقت اپنے بھائیوں پر ظاہر کریں جب ان کے دل گرفتار بلا ہونے کے نتیجہ میں پسیج گئے ہوں تاکہ وہ اصلاح قبول کر لیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ جو لوگ نصیحت سننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے وہ اسی صورت میں سبق حاصل کرتے ہیں جب کہ انہیں ٹھوکریں لگتی ہیں اور جو لوگ غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں انہیں حالات کے تھپیڑ ے ہی جگا دیتے ہیں۔ اگر یوسف کے بھائی ہوش مند ہوتے تو وہ اپنے والد کے زیر تربیت رہ کر بہترین انسان بن سکتے تھے مگر جب انہوں نے باپ کی رہنمائی کے باوجود غلط طرز عمل اختیار کیا تو اب ان کی اصلاح کے لیے ضروری تھا کہ وہ ٹھوکریں کھائیں تاکہ ان میں پنے غلط طرز عمل کا احساس پیدا ہو۔ خدا کی یہی مصلحت تھی جس نے ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ ان کی نظر کے زاویئے بدل گیے اور جب ان کی نظر کے زاویئے بدل گئے تو جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا ان کی دنیا ہی بدل گئی۔

 

 (۴) یوسف نے اپنے بھائیوں کے سلسلہ میں جو تدبیر یا حکمت عملی اختیار کی اس کا تعلق اصلاح احوال سے ہے۔ انہوں نے جو کچھ کیا اس میں نہ جھوٹ کی آمیزش تھی اور نہ ظلم و زیادتی کی بات تھی بلکہ نیت کی پاکیزگی کے ساتھ اور ایک اہم مقصد کی خاطر بعض ایسی تدبیریں اختیار کی گئیں جو صورۃً کچھ دیر کے لیے ایک غلط تاثر پیدا کرنے والی تھیں لیکن نتائج کے اعتبار سے وہ درست تھیں۔ اس لیے یوسف کی اس حکمت عملی کو "شرعی حیلوں " کا عنوان دینا اور ناجائز کاموں کو جائز کرنے کے لیے "کتاب الحیل" کھول کر بیٹھ جانا اپنے کو مغالطہ میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔ شریعت کی راہ راست بازی کی راہ ہے جس میں اس بات کی تو گنجائش ہے کہ ضرورۃً حکمت عملی اختیار کی جائے لیکن حیلے بہانے کر کے حرام کو حلال کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔

 

۱۲۳۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جب یوسف نے اللہ کے بخشے ہوئے علم کی بنا پر حسن تدبیر اور حکمت عملی کا طریقہ اختیار کیا اور حکومت و سیاست کے معاملہ میں عدل و انصاف کو بنیاد بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات بلد کر دیے۔

 

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک بر محل تنبیہ ہے ہر صاحب علم کے لیے کہ اس کو اپنے علم کا غرہ نہ ہو بلکہ یہ اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کے اوپر ایک بالا تر ہستی ایسی ہے جس کے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ کوئی شخص کتنا ہی بڑا علامہ کیوں نہ ہو اس کا علم اللہ کے علم کے آگے ہیچ ہے۔

 

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ جب بن یمین کی بوری سے پیالہ برآمد ہوا اور برادران یوسف سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو فوراً بن یمین کے سگے بھائی یوسف پر یہ الزام لگا دیا کہ اس سے پہلے وہ بھی یہ حرکت کر چکا ہے تو تعجب کی بات نہیں یہ یوسف ہی کا بھائی ہے۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ جس شخص کے سامنے اتنا بڑا جھوٹ بول رہے ہیں وہ خود یوسف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یوسف کے بارے میں اب تک کیسے غلط جذبات اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے۔

 

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ جو شخص ایک بے گناہ پر جھوٹا الزام لگاتا ہے وہ اپنے آپ کو گراتا ہے اور اپنے برے ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

 

۱۲۷۔ ۔ ۔ انہوں نے یوسف کو عزیز کہ کر خطاب کیا۔ عزیز کے معنیٰ صاحب اقتدار کے ہیں۔ یہ خطاب حاکم مصر کے لیے مخصوص تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس وقت برادران یوسف کا یہ واقعہ پیش آیا ہے یوسف مصر پر حکومت کر رہے تھے البتہ ابھی انہیں ملک (بادشاہ) کی پوزیشن حاصل نہیں ہوئی تھی۔

 

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یعقوب علیہ السلام بوڑھے ہو گئے ہیں اور ان کو بن یمین کے روک لینے سے بڑا صدمہ ہو گا۔

 

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے بہت محتاط الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "جس نے چوری کی ہے "بلکہ یہ کہا "جس کے پاس ہماری چیز نکل آئی"۔ یعنی واضح طور سے انہوں نے چوری کا الزام نہیں لگایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ فی الواقع بن یمین نے چوری نہیں کی ہے۔

 

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ برادران یوسف میں سب سے بڑا روبین تھا (پیدائش  ) اس کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب بھائی اللہ پر ایمان رکھتے تھے البتہ ان میں اخلاقی اور عملی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں۔

 

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنے والد سے یہ نہیں کہا کہ ہمارے بھائی نے چوری کی بلکہ کہا آپ کے بیٹے نے چوری کی ان کا یہ انداز طنزیہ تھا۔

 

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس واقعہ کا چرچا عام ہوا ہے لہٰذا آپ مصر والوں سے یا اس قافلہ والوں سے جو ہمارے ساتھ کنعان آیا تحقیق کر سکتے ہیں۔

 

۱۳۳۔ ۔ ۔ یعنی یہ بات کہ بن یمین نے چوری کی تم باور کر سکتے ہو مگر میں باور نہیں کر سکتا کیونکہ میں اس کے کردار سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اور واقعہ بھی یہی تھا کہ بن یمین نے نہ چوری کی تھی اور نہ یوسف نے ان پر چاری کا الزام لگایا تھا بلکہ صورت حال کچھ ایسی پیش آئی تھی کہ ان لوگوں نے گمان کر لیا کہ اس نے چوری کی ہے۔

 

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام اس خواب کی بنا پر جو یوسف نے دیکھا تھا متوقع تھے کہ یوسف زندہ ہوں گے اور ایک دن ان کا خواب پورا ہو کر رہے گا۔

 

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو جو ذکر کیا تو اس سے مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ یوسف اور بن یمین کے واقعات محض واقعات نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا عظیم منصوبہ کار فرما ہے اور وہ علم و حکمت پر مبنی ہے۔

 

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کو یوسف کی جدائی کا کتنا زبردست صدمہ پہنچا تھا ان کے سینہ میں بھی انسان ہی کا دل تھا پھر کیوں نہ درد سے پھر آتا۔ مگر جس صبر کے ساتھ وہ اس کو برداشت کر رہے تھے اس میں ان لوگوں کے لیے نمونہ ہے جنہیں دنیا میں اس قسم کے صدمے پہنچتے ہیں۔

 

۱۳۷۔ ۔ ۔ اللہ کا شکوہ کرنے اور اللہ سے شکوہ آدمی مخلوق کے سامنے کرتا ہے۔ یہ اللہ سے بد گمانی بھی ہے اور بے صبری کا اظہار بھی۔ لیکن اللہ سے شکوہ تو اسی کے حضور کیا جاتا ہے جو ایک غم زدہ دل کی فریاد بھی ہے اور اس سے امید کا اظہار بھی۔

 

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام نبی تھے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ بتا دیا تھا کہیوسف مر نہیں گئے بلکہ زندہ ہیں اور ایک دن ان سے ملاقات ہونا ہے۔ اس چیز نے ان کے اندر یوسف سے ملنے کا ایک ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ اگر کسی کا چہیتا بیٹا مر جاتا ہے تو اسے دکھ ضرور ہوتا ہے لیکن یہ دکھ وقتی ہوتا ہے بخلاف اس کے اگر اس کا چہیتا بیٹا گم ہوتا ہے تو اس کو جو دکھ ہوتا ہے وہ نہ صرف ناقابل برداشت ہوتا ہے بلکہ اس خیال سے کہ معلوم نہیں بیٹا کس حال میں کہاں ہو گا وہ سخت پریشانی اور بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یعقوب علیہ السلام کے دکھ کی نوعیت یہی تھی۔

 

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ برادران یوسف نے جب اپنے بھائیوں کی اس پریشانی کو دیکھا کہ وہ قحط سالی کی تکلیف اور افلاس کی وجہ سے صدقہ مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں تو ان سے رہا نہ گیا اور موقع کو مناسب پا کر اپنا اصل نام انہیں بتا دیا جو اب تک صیغہ نام کے صیغہ راز میں ہونے کی وجہ یہ تھی کہ یوسف کو حاکم مصر ہونے کی وجہ سے عزیز کا لقب دیا گیا تھا نیز جیسا کہ بائبل کا بیان ہے بادشاہ نے ان کا دوسرا نام رکھا تھا (پیدائش ۴۱:۴۵) اس لیے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد وہ مصر میں نئے نام سے مشہور ہوئے ہوں گے۔

 

یوسف کو جب کنویں میں پھینک دیا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات کی پیشگی اطلاع دی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب تم ان کو اس معاملہ کی یاد دلاؤ گے جو آج وہ تمہارے ساتھ کر رہے ہیں جبکہ انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہو گا۔ (آیت ۱۵) اللہ تعالیٰ کی یہ بات پوری ہو کر رہی چنانچہ یوسف نے اس موقع پر اپنے بھائیوں کو وہ واقعہ یاد دلایا جب کہ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ وہ جس سے ہم کلام ہیں وہ یوسف ہے۔

 

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تقویٰ اور نیکی کی روش اختیار کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اپنے فضل سے نوازتا ہے۔

 

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ حالات نے انہیں خاصا جھنجھوڑ دیا تھا لیکن جب انہوں نے اللہ کی قدرت کا یہ کرشمہ دیکھا تھا وہ آج پورے مصر پر حکومت کر رہا ہے تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اسی وقت اپنے قصور کا اعتراف کر لیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ حالات کی سختی انسان کی تربیت کا سامان کرتی ہے اور قدرت کے کرشمے اس کو چونکانے کا باعث بنتے ہیں۔

 

۱۴۳۔ ۔ ۔ اخلاق و شرافت کی کتنی اونچی مثال ہے جو یوسف نے قائم کی کہ ایسے وقت جب کہ وہ اپنے بھائیوں سے انتقام لینے پر پوری طرح قادر تھے انہوں نے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ ان کو معاف کر دیا اور ان کے ساتھ احسان کا سلوک کیا۔ کردار کی یہی عظمت ہے جو دلوں کو موہ لیتی ہے اور دشمنوں کو بھی دوست بنا دیتی ہے۔

 

اس سورہ کے نزول کے وقت مکہ میں قریش کے دو گروہوں کے درمیان جو نزاع پیدا ہو گئی تھیا اس کے پیش نظر یوسف اور اس کے بھائیوں کی یہ سر گزشت ایک بر وقت رہنمائی تھی اور فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے یہی الفاظ دہرائے تھے کہ لَا تَثرِیْبَ عَلیْکُمُ الْیَوْمَ (آن کے دن تم پر کوئی سرزنش نہیں)۔

 

ا۴۴۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح آگے نوٹ ۱۴۸ میں آ رہی ہے۔

 

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ یوسف نے اپنے والد یعقوب کے پورے خاندان کو مصر بلایا۔ ایک نبی کی کسی مقام کو منتقلی اللہ کی ہدایت کے مطابق ہی ہوتی ہے اس لیے یوسف نے وحی الٰہی سے اشارہ پا کر ہی یہ بات کہی ہو گی۔

 

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ یوسف مصر میں ایک مدت سے موجود تھے لیکن یعقوب علیہ السلام کو ان کی مہک نہیں آئی مگر اب جبکہ قافلہ مصر سے چلا ہے تو انہوں نے یوسف کی مہک محسوس کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے الہام تھا جو یعقوب علیہ السلام کے قلب پر ہوا۔

 

قرینہ دلیل ہے کہ یہاں یوسف کی مہک سے مراد یوسف کا سراغ لگنے کی خوش خبری ہے یہ خوش خبری یعقوب علیہ السلام کو الہام کے ذریعہ اسی وقت مل گئی جب کہ قافلہ پیراہن یوسف لے کر مصر سے کنعان کے لیے روانہ ہوا لیکن یہ خوش خبری خفی تھی۔ جلی طور پر خوش خبری انہیں اس وقت ملی ب قافلہ ان کی خدمت میں پہنچ گیا۔

 

۱۴۷۔ ۔ ۔ یہ بات ان کے گھر کے لوگوں نے کہی ہو گی اور اس بنا پر کہی ہو گی کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یعقوب علیہ السلام یوسف کی یاد میں کھوئے ہوئے سے رہتے ہیں اس لیے انہوں نے سمجھا کہ اب جو شمیم یوسف کے محسوس کرنے کا ذکر کر رہے ہیں وہ محض خیالی بات ہے۔ معلوم ہوتا ہے وہ نہ پیغمبر کی عظمت کو صحیح طور سے سمجھ سک تھے اور نہ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ شمیم یوسف کا تعلق الہام سے ہے۔

 

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ یہ غیر معمولی واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا اور اس قسم کے کرشمے اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کے ہاتھوں ظہور میں لاتا رہا ہے اور ان کے ذریعہ ان کی تائید اور مدد کرتا رہا ہے۔ محض اس بنا پر کہ عام طور سے ہمارے تجربہ میں اس قسم کی باتیں نہیں آتیں ان کا انکار کرنا صحیح نہیں جب کہ اس کی خبر ہمیں ایک ایسے ذریعہ سے مل رہی ہے جس کی صداقت شبہہ سے بالا تر ہے۔

 

قرآن کے اوراق میں تاریخ کے کتنے ہی غیر معمولی واقعات ثبت ہوئے ہیں تا کہ انسان اپنے محدود علم اور تجربہ ہی کو سب کچھ سمجھ نہ بیٹھے بلکہ اس کی نظر اس حقیقت پر ہو کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے جو اسے چلا رہا ہے اور وہ اپنی قدرت کے کرشمے جس طرح چاہتا ہے دکھاتا ہے۔

 

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعقوب علیہ السلام کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ انہیں یوسف کے بارے میں بذریعہ وحی یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ بقید حیات ہیں اس لیے اپنے لخت جگر سے ملنے کا شوق ان کے دل میں کروٹیں لے رہا تھا۔ مگر چونکہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ یعقوب کے صبر کا بھی امتحان لینا چاہتا تھا اس لیے یوسف کا پورا حال ان پر منکشف نہیں کیا تھا۔

 

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح بیٹوں نے اپنے خطا کار ہونے کا اعتراف اپنے باپ کے سامنے بھی کر لیا اور ان سے در خواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعا کریں۔

 

یہ ہے انسان کا حل کہ وہ بنتا بھی ہے اور بگڑ تا بھی ہے اور بگڑ کر سنورتا بھی ہے اس لیے اس کی اصلاح کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں معلوم نہیں کہ کس وقت اس کا ضمیر جاگ اٹھے۔

 

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ دعا کو مؤخر کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کے طرز عمل کو دیکھنا چاہتے ہوں گے کہ واقعی انہوں نے اصلاح قبول کی ہے یا نہیں اور دوسرے معاملہ چونکہ یوسف سے متعلق تھا اس لیے وہ اس گھڑ ی کو قبولیت دعا کے لیے زیادہ موزوں خیال کر رہے ہوں گے جب کہ یوسف کے پاس سب جمع ہو جائیں گے۔

 

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ یوسف اپنے والدین کے استقبال کے لیے مصر کی سرحد پر تشریف لے گیے اور وہاں اپنے خاندان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے والدین کو احترام کے ساتھ خاص طور سے اپنے پاس بٹھایا اور ان سے کہا کہ اب مصر میں داخل ہو جائیے اللہ نے چاہا تو آپ کو ہر طرح کا امن و چین نصیب ہو گا۔

 

۱۵۳۔ ۔ ۔ یعنی جب مصر کے دارالسلطنت میں سب پہنچ گیے اور دربار یوسفی آراستہ ہوا تو یوسف نے رسمی باتوں کا خیال نہ کرتے ہوئے اپنے والدین کے احترام کو غایت درجہ ملحوظ رکھا اور ان کو تخت پر بٹھایا۔

 

یوسف کے ہاتھ میں اس وقت مکمل اقتدار آگیا تھا اور وہ تخت کے مالک بن گیے تھے اسی لیے وہ اس قابل ہو سکے کہ اپنے والدین کو تخت پر جگہ دیں۔ اس موقع پر دربار یوسفی میں ایک نئی شان پیدا ہو گئی تھی۔ پرانی یادیں تازہ ہو رہی تھیں اور یوسف کے درگذر اور ان کے بلند کردار نے ان کے بھائیوں کے بے حد متاثر کر دیا تھا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ شخص بادشاہ ہو کر بھی اس درجہ متواضع ہے کہ اپنے والدین کو تخت شاہی پر بٹھاتا ہے تو بے اختیار اس کے آگے جھک گئے۔ یہ اندرونی جذبہ تھا جو نے انہیں جھکا دیا۔ یوسف نے انہیں جھکنے کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ یہ کوئی تعظیمی سجدہ تھا بلکہ ایک رقت آمیز ماحول کے زیر اثر وہ بے اختیار جھک پڑ ے تھے اور یوسف نے اس کو محض اس لیے برداشت کیا کہ انہوں نے جو خواب اپنی نو عمری میں دیکھا تھا اس کی ی تعبیر تھی۔ اس طرح اللہ کا منصوبہ نافذ ہو کر رہا اور وہ سب یوسف کے زیر اقتدار آ گئے۔

 

اب بحث کے چند گوشے رہ جاتے ہیں :

 

متن میں خَرُّوْ لَہٗ سُجَّداً کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس کا ایک ترجمہ تو "وہ اس کے آگے سجدہ میں گر گئے " ہوتا ہے اور دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے "وہ اس کے آگے جھک گیے " موقع کلام کے لحاظ سے یہ دوسرا ترجمہ ہی صحیح ہے۔ سجدہ کا لفظ جیسا کہ ہم نوٹ ۷ میں واضح کر آئے ہیں محض جھکنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور یوسف کے بھائیوں کا جھکنا اس خواب کی تعبیر تھی جس میں یوسف نے ستاروں کو اپنے آگے جھکتے ہوئے دیکھا تھا اس لیے یہاں اصطلاحی سجدہ کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ کیا ستاروں کا سر ہوتا ہے جو وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھیں ؟ ستاروں کے "سجدہ " کرنے کا مفہوم یہی ہو سکتا ہے کہ وہ بلندی سے اتر کر یوسف ک آگے جب ان کے بھائی جھک گئے تو خواب پورا ہو گیا۔ خرُّوْا کے لفظی معنی ہیں "وہ گر گئے " یہ لفظ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ برادران یوسف بے اختیار جھک گیے تھے یعنی فضا ایسی بن گئی تھی کہ اندرونی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ یوسف کے آگے جھک گیے بالفاظ دیگر خارجی طور سے کسی نے ان کو جھکنے کے لیے مجبور نہیں کیا تھا۔ یہ ان کا اپنا بے اختیاری میں عمل تھا اور قرآن کے اس کو بیان کرنے سے مقصود در اصل یہ واضح کرنا ہے ۔  برادران یوسف کو بالآخر یوسف کے آگے جھکنا پڑا اور ان کے زیر اقتدار انہیں آنا پڑا۔

 

اس کے سجدۂ عبادت ہوتے کا تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ کوئی نبی اپنے لیے سجدہ عبادت کو گوارا کر ہی نہیں سکتا۔ رہا اس کا سجدہ تعظیمی ہونا تو یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ نہ یوسف نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ انہوں نے اپنے لیے ایسے کوئی آداب رائج کیے تھے کہ لوگ ان کے حضور سجدہ تعظیمی بجا لائیں۔ قرآن میں اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ صرف اتنی بات ہے کہ برادران یوسف بے اختیار یوسف کے آگے جھک گیے تھے۔

 

آیت کا صحیح مفہوم واضح ہو جانے کے بعد ان لوگوں کے خیال کی آپ سے آپ تردید ہو جاتی ہے جنہوں نے سجدہ تعظیمی کو جائز قرار دینے کے لیے اس آیت کا سہارا لیا ہے۔ اور پھر پیروں ، بزرگوں ، درگاہوں اور بادشاہوں کے لیے سجدۂ تعظیم کو روا رکھنے کے کے قائل ہو گیے مغل بادشاہوں نے بھی

 

  اپنے لیے سجدۂ تعظیمی کی رسم جاری کی تھی لیکن شیخ احمد سر ہندی نے اس خلاف شرع رسم   کے خلاف زبردست جہاد کیا۔

 

یوسف نے اپنے والدین کو پہلے ہی تخت پر بٹھایا تھا اس لیے وہ ان کے آگے جھکنے میں شامل نہیں تھے۔ رہا یہ سوال کہ ان کے آگے جھکے بغیر خواب کی تعبیر کس طرح پوری ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ یوسف نے اپنا جو خواب بیان کیا تھا (آیت ۵) وہ دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک حصہ یہ تھا کہ "میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے " اور دوسرا حصہ تھا کہ "میں نے دیکھا کہ وہ میرے آگے جھک گئے ہیں۔ " اس دوسرے حصے میں انہوں نے بحیثیت مجموعی یہاں بھی جھکنے کی بات صحیح ثابت ہوئی اگر چہ کہ ان کے والدین جھکنے میں شامل نہیں تھے۔ خواب کا اصل مطلب یہ تھا کہ سب یوسف کے زیر اقتدار ہوں گے اور یہ بات اس طرح پوری ہوئی کہ ان کے والدین اور بھائی سب اپنے وطن کو چھوڑ کر یوسف کے پاس آ گئے اور ان کے زیر اقتدار رہنا سب نے قبول کر لیا۔

 

یوسف جس وقت مصر کے حاکم مقرر ہوئے تھے اس وقت وہ تخت کے مال نہیں بن گئے تھے بلکہ رسمی طور پر بادشاہ ہی تخت کا مالک راہ مگر بعد میں یوسف کی پوزیشن مضبوط ہوتی چلی گئی اور ان کے بھائی جس وقت غلہ لینے کے لیے آئے تو وہ عزیز مصر (مصر کی با اقتدار شخصیت) تھے اور اب جبکہ انہوں نے اپنے والدین کو تخت سلطنت کے مالک بن گئے تھے۔ قرآن کے بیان سے یہی تصویر سامنے آتی ہے اس لیے بائبل کے الجھے ہوئے بیان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

 

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ اس موقع پر یوسف کا یہ بیان ان کی سیرت کا بہترین نمونہ ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ مصر کے فرمانروا تھے ان کے اس بیان میں فخر و غرور کا ادنیٰ شائبہ بھی پایا نہیں جا تا بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے اعتراف نعمت ، شکر اور تواضع کا اظہار ہو رہا ہے۔

 

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ اس موقع پر یوسف نے دعا بھی فرمائی۔ اس دعا میں انہوں نے پہلے اللہ کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے اس کی حمد و ستائش کی۔ پھر اپنے حسن خاتمہ اور آخرت میں صالحین کے زمرہ میں شمولیت کے لیے اللہ وے درخواست کی۔ یہ بات دعا کے آداب میں سے ہے کہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا کی جائے پھر اپنی درخواست اس کے حضور پیش کی جائے۔

 

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ یہ واقعہ نزول قرآن سے تقریباً دو ہزار چار سو سال پہلے کا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کا کوئی علم نہ تھا اور نہ آپ کی قوم اس سے واقف تھی۔ رہے اہل کتاب تو بائبل کی کتاب پیدائش میں یہ قصہ ضرور بیان ہوا ہے لیکن اول تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے استفادہ کر کے بیان کرنے کا موقع حاصل نہ تھا کیونکہ آپ امی تھے اور اہل کتاب علماء سے بھی آپ کا کوئی ربط ضبط نہیں تھا۔ مزید یہ کہ یہ سرگزشت جس صحت کے ساتھ قرآن نے سنائی اس صحت کے ساتھ بائبل میں بیان نہیں ہوئی ہے۔ قرآن کا بیان معقول بھی ہے اور یقین بھی پیدا کرتا ہے جبکہ بائبل کے بیان کی یہ خصوصیت نہیں ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ اس واقعہ کی تمام کڑیاں بائبل میں بیان نہیں ہوئی ہیں جبکہ قرآن نے اس کو ایک مربوط واقعہ کے طور پر پیش کر دیا ہے اور ان اہم پہلوؤں کو روشنی میں لایا ہے جو پردہ غیب میں چلے گئے تھے۔ مثال کے طور پر یوسف کے خواب کی وہ تعبیر جو یعقوب علیہ السلام نے بتلائی تھی۔ برادران یوسف کا ایک سازش کے مطابق یوسف کو لے جاتا اور اپنے باپ کو جھوٹا یقین دلانا کہ وہ اس کی حفاظت کریں گے یوسف کے کنویں میں پھینک دیئے جانے پر ان کے اطمینان قلب کے لیے ان کی طرف وحی کا بھیجا جانا ، یوسف کو "تاویل احادیث" کا علم عطاء ہونا ، یوسف کے پیرہن کے پیچھے سے پھٹ جانے اور قرینہ کی گواہی کا وہ واقعہ جس سے ان کے بے گناہ ہونے کا ثبوت فراہم ہوا ، عزیز مصر کا یہ اعتراف کہ اس کی بیگم ہی خطا کار ہے ، بیگم عزیز کا ایک سازش کے تحت خواتین مصر کی دعوت کرنا ، خواتین مصر کا ایک بھری مجلس میں بول اٹھنا کہ یوسف انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے ، بیگم عزیز کی طرف سے یوسف کو جیل بھیج دینے کی دھمکی ، یوسف کی ثابت قدمی کے لیے دعا ، قید خانہ میں یوسف کی تبلیغ، بادشاہ کی اجازت سے قید خانہ جانا اور یوسف سے خواب کی تعبیر پوچھنا ، بادشاہ کے طلب کرنے پر یوسف کا رہا ہونے سے ا نکار اور خواتین مصر کی سازش کی تحقیق کا مطالبہ، بادشاہ کا تحقیق کرنا اور یوسف کا بے گناہ ثابت ہونا ، بن یمین کے روک لیے جانے پر یعقوب کو صدمہ ، یعقوب کا اپنے بیٹوں کو یہ ہدایت دینا کہ وہ یوسف کا کھوج لگائیں ، یوسف کا اپنے بھائیوں کو معاف کرنا، قافلہ کے پیراہن یوسف کو لے کر مصر سے روانہ ہونے پر یعقوب کا یوسف کی مہک محسوس کرنا، پیراہن یوسف کے یعقوب کے چہرے پر ڈال دینے سے ان کی بینائی کا لوٹ آنا ، برادران یوسف کا معافی طلب کرتا ، یوسف کا اپنے والدین کو تخت پر بٹھانا اور ان کا پورا پورا احترام کرنا ، برادران یوسف کا یوسف کے آگے جھک جانا ، یوسف کا اللہ کے حضور حمد و ثنا کرا۔ اور اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے حسن خاتمہ کے لیے دعا کرنا۔ یہ اور اس قسم کی دوسرے اہم باتوں کے ذکر سے بائبل کے صفحات خالی ہیں۔ پھر ایک امی نے یہ سرگزشت کس طرح بے کم و کاست بیان کر دی اور تاریخ کے گم شدہ اوراق کو کس طرح منظر عام پر لایا ؟ اس کا صحیح جواب اس کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ وحی الٰہی نے یہ سرگزشت بیان کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی طرف سے بائبل سے نقل کر کے بیان نہیں کی ہے اور آج بھی جو شخص تحقیق کی غرض سے قرآن اور بائبل کا تقابلی مطالعہ کرے گا وہ اس حقیقت کو محسوس کیے بغیر نہیں رہے گا۔ "

 

۱۵۷۔ ۔ ۔ یعنی اکثر لوگوں کا حال یہ ے کہ وہ دلیل سے بات سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے غلط خیالات پر جمے رہنا چاہتے ہیں ورنہ قرآن پر ایمان لانے کے لیے یہ ایک دلیل ہی کافی ہے جو اس کے وحی الٰہی ہونے کے ثبوت میں اوپر بیان ہوئی۔

 

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ نبی صلی اللہ ولیہ و سلم کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کی خدمت بے غرض ہو کر اور کسی قسم کا معاوضہ طلب کے بغیر انجام دے رہے تھے اس لیے یہ شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ آپ اپنے مفاد کی خاطر یہ کام انجام دے رہے ہیں۔

 

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ توحید کا جو سبق لوگوں کو سکھایا گیا تھا اور جس کو لوگ بھول چکے ہیں قرآن اسی سبق کی یاد دہانی ہے اور یہ یاد دہانی کسی ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام اقوام اور تمام انسانوں کے لیے ہے۔

 

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ یہ اصل وجہ ہے اس حق کو نہ پانے کی جس کی طرف قرآن دعوت دے رہا ہے۔ توحید کی نشانیاں دنیا میں قدم قدم پر موجود ہیں مگر لوگوں نے اس کائنات کی ایسی غلط توجیہ کر لی ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں ایسے غلط نظریات قائم کر لیے ہیں اور ان پر ایسے جم گئے ہیں کہ ان نشانیوں کو نظر اٹھا کر دیکھنے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہیں۔

 

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خدا کو ماننا وہی معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو کیونکہ شرک خدا کی صفات کی نفی ہے اور بندہ ، خدا سے صحیح تعلق اسی وقت قائم ہو جاتا ہے جب کہ وہ خدا کو اسی طرح مانتا ہو جیسی کہ اس کی صفات ہیں۔

 

آج بھی دنیا کی اکثریت خدا پر اعتقاد رکھتی ہے مگر نہ ہدایت کے سلسلہ میں اس کی طرف رجوع کرتے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور نہ اس کی اطاعت و بندگی سے انہیں کوئی سروکار ہے نیز وہ ایک خدا پر ہر گز مطمئن نہیں ہیں بلکہ اپنے اطمینان کے لیے بہت سے خدا تراش لیے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کا خدا پر اعتقاد بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت فریب نفس میں مبتلا ہے۔

 

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ ہے میرا طریقہ اور میرا دین۔

 

۱۶۳۔ ۔ ۔ یعنی میری دعوت نہ بے دلیل ہے اور نہ غیر معقول اور نہ ہی کسی ایسے مذہب کو قبول کرنے کی دعوت ہے جس کے ساتھ علم اور فطرت کی روشنی نہیں ہے بلکہ میری دعوت سراسر معقول ، مدلل ، فطرت کی آواز اور علم کی پوری روشنی لیے ہوئے ہے۔

 

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہو کہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آپ کے پیرو بھی دعوتی کام میں سرگرم تھے۔ گویا امت مسلمہ کو اول روز ہی سے دعوتی کام کے لیے تیار کیا گیا۔

 

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ جتنے رسول بھی دنیا میں آئے وہ سب انسانوں میں سے تھے اور مرد تھے نیز وہ شہروں کے رہنے والے تھے۔ کیونکہ رسالت کا منصب نہایت پر وقار منصب ہے جس کے لیے مرد ہی موزوں ہو سکتے ہیں اور رسالت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ وقت کے فرعونوں کو خطاب کرنے کے مواقع کا حاصل ہونا بھی ضروری ہے اور یہ باتیں شہروں ہی میں میسر آ سکتی ہیں اس لیے پیغمبر بڑ ے بڑ ے شہروں ہی میں مبعوث کیے گیے۔

 

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام نوٹ ۲۰۔

 

۱۶۷۔ ۔ ۔ آخرت کے گھر سے مراد جنت ہے۔

 

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہماری مدد رسولوں کے پاس ٹھیک اس وقت پہنچ گئی جب کہ وہ اپنی قوموں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے اور لوگوں کو جو ڈھیل مل گئی تھی اس کی بنا پر انہوں نے خیال کیا کہ عذاب کی جو وعیدیں سنائی گئی تھیں وہ جھوٹی تھیں۔ ایمان نہ لانے کی بنا پر کوئی عذاب آنے والا نہیں۔

 

یہاں اس بات کو بیان کرنے سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دینا ہے کہ کاروں کو جو ڈھیل دی جا رہی ہے وہ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہ ڈھیل اس وقت تک ہے جب تک کہ رسول ان کے ایمان لانے کی طرف سے بالکل مایوس نہیں ہو جاتا۔ اگر بات مایوسی کی حد تک پہنچ گئی تو وہ عذاب کی لپیٹ میں آ جائیں گے اور اہل ایمان کے حق میں اللہ کی مدد نازل ہو گی اور انہیں ان کافروں سے بھی نجات مل جائے گی اور عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے۔

 

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن میں پیغمبروں اور ان کی قوموں کی جو سرگزشتیں بیان کی گئی ہیں ان کا اصل مقصد یہی ہے کہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں اور محض ماضی کے قصے سمجھ کر نہ پڑھیں۔

 

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے تورات کی طرف کہ اس میں جو رہنمائی دی گئی تھی قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔ تورات کی موجودہ کتاب پیدائش میں یوسف کا جو قصہ بیان ہوا ہے وہ اگر چہ قرآن کے بیان سے مختلف ہے لیکن جہاں تک اصل واقعہ کا تعلق ہے دونوں میں مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مطابقت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ قصہ اپنی طرف سے گھڑ کر پیش نہیں کیا ہے بلکہ جس ہستی نے تورات نازل کی تھی اس نے قرآن نازل کیا ہے اور تورات کے اوراق سے جو حقیقتیں مٹ گئی تھیں قرآن میں ان کو ثبت کر دیا گیا۔

 

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل کے اصل معنی کھول کر بیان کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ قرآن میں تمام ضروری باتیں کھول کر بیان کی گئی ہیں تاکہ اللہ کا راستہ کون سا ہے ، وہ کن باتوں کو پسند اور کن باتوں کو ناپسند کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں ان کو معلوم کرتے میں کسی کو کوئی دقت پیش نہ آئے۔

 

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن ہدایت کی جو راہ کھو لتا ہے اس پر چل کر اہل ایمان اللہ کی رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں۔

***