دعوۃ القرآن

سورة فَاطِر

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

پہلی آیت میں لفظ "فاطر " (پیدا کرنے والا) آیا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام "فاطر" ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے وسطی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

اس سورہ میں اللہ کی خلاقیت کو اس کے واحد الہٰ ہونے کی بنیاد قرار دیتے ہوۓ رسالت اور آخرت کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ یہ اس کی شان خلاقیت کا مظہر ہیں۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۸ تمہیدی آیات ہیں جن میں اللہ کی خلاقیت اور ربوبیت کو واضح کرتے ہوۓ لوگوں کو توحید، رسال اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان آیات میں گویا پوری سورہ کا خلاصہ آگیا ہے۔

 

آیت ۹ تا ۱۸ میں توحید اور آخرت کا تفصیلی بیان ہے اور شرک کی تردیدی ہے۔ آیت ۱۹ تا ۲۶ میں رسالت کا بیان ہے اور رسول پر ایمان نہ لانے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔

 

آیت ۲۷ تا ۳۸ میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کی نشانیوں کے ذریعہ اس کی جو معرفت حاصل ہوتی ہے اور کتاب الہٰی کے ذریعہ جو علم حاصل ہوتا ہے وہ ہدایت کی راہ کھول دیتا ہے جس سے ابدی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اس علم و معرفت سے بے نیازی کا نتیجہ کفر ہے اور اس کا انجام ابدی ہلاکت۔

آیت ۳۹ تا ۴۵ میں شرک کرنے والوں کو تنبیہ ہے۔

ترجمہ

۱۔۔۔۔۔۔حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ۱ * اور فرشتوں کو پیغام رسانی بنانے والا ہے ۲ * جن کو دو دو اور تین تین اور چار چار پَر ہیں ۳ * وہ تخلیق میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے ۴ * یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔اللہ لوگوں کے لیے جس رحمت ( دروازہ) کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک لے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے ولا نہیں ۵ * وہ غالب ہے حکمت والا۔

 

۳۔۔۔۔۔۔لوگو! تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۶ * پھر تم کو کہاں پھیرا جا رہا ہے ؟ ۷ *

 

۴۔۔۔۔۔۔اگر یہ لوگ (اے نبی!) تم کو جھٹلاتے ہیں تو تم سے پہلے بھی کتنے ہی رسول جھٹلائے جا چکے ہیں اور سارے امور بالآخر اللہ ہی کے حضور پیش ہوں گے۔ ۸ *

 

۵۔۔۔۔۔۔لوگو! اللہ کا وعدہ سچا ہے ۹ * لہذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے ۱۰ * اور نہ وہ بڑا فریب کار ۱۱ * تم کو اللہ کے بارے میں فریب میں رکھے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے لہذا اس کو دشمن ہی سمجھو۱۲ *وہ اپنے گروہ کو (اپنی طرف) اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں شامل ہو جائیں۔ ۱۳ *

 

۷۔۔۔۔۔۔جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

 

۸۔۔۔۔۔۔کیا وہ جس کا برا عمل اس کے لیے خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا خیال کرتا ہو (ہدایت پاسکتا ہے ! ) ۱۴ * حقیقت یہ ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو (اے نبی!) تمہاری جان ان کے غم میں نہ گھلے ۱۵ * جو کھ یہ کر رہے ہیں اس کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے۔

 

۹۔۔۔۔۔۔وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم اسکومردہ خطہ کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ زمین کو جو مردہ  ہو چکی تھی زندہ کر دیتے ہیں (قیامت کے دن) مردوں کا جی اٹھنا اسی طرح ہو گا۔ ۱۶ *

 

۱۰۔۔۔۔۔۔جو عزت چاہتا ہو اسے جان لینا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۱۷ * اس کی طرف پاکیزہ کلمہ چڑھتا ہے اور عملِ صالح کو وہ رفعت بخشتا ہے ۱۸ * اور جو لوگ بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کی چالیں تباہ ہو کر رہیں گی۔ ۱۹ *

 

۱۱۔۔۔۔۔۔اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۲۰ * پھر نطفہ ۲۱ * سے ، پھر تمہارے جوڑے بنا دیئے اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے ا ور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ کوئی عمر۲۲ * والا لمبی عمر نہیں پاتا اور نہ اس ی عمر میں کمی ہوتی ہے مگر یہ سب ایک کتاب میں درج ہے۔ یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ ۲۳ *

 

۱۲۔۔۔۔۔۔اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں۔ ایک شیریں ،پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہے اور دوسرا کھاری کڑوا۔ اور تم دونوں سے تازہ گوشت (نکال کر) کھاتے ہو۲۴ * اور زینت کی چیزیں نکالتے ہو جن کو تم پہنتے ہو ۲۵ * اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس کو چیری ہوئی چلی جاتی ہیں تاکہ تم ا س کا فضل تلاش کرو ۲۶ * اور تم اس کے شکر گزار بنو۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔وہ دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور رات کودن میں ۲۷ * اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقررہ تک کے لیے رواں ہے ۲۸ * وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے ۲۹ * اس کو چھوڑ کر تم جن کو پکارتے ہو وہ ایک قطمیر ۳۰ * جتنا بھی اختیار نہیں رکھتے۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو اس کے جواب میں تمہارے لیے کھ کر نہیں سکتے اور قیامت کے دن تمہارے رک کا انکار کریں گے ۳۱ * اور اس باخبر کی طرح تمھیں (اصل حقیقت) کوئی نہیں بتلاسکتا ۳۲ *

 

۱۵۔۔۔۔۔۔لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو۔ اللہ تو بے نیاز (بے محتاج) اور خوبیوں والا ہے حمد کا مستحق۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔وہ چاہے تو تمہیں ختم کر دے اور ایک نئی مخلوق لا کھڑی کر دے ۳۳ *

 

۱۷۔۔۔۔۔۔ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔کوئی بوجھ اٹھانے والاکسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۳۴ * اور اگر کوئی بوجھ سے لدا ہوا شخص اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے کسی کو پکارے گا تو کوئی بھی اس کے بوجھ کا کوئی حصہ اپنے سر نہ لے گا خواہ وہ اس کا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ (اے نبیؐ!) تم ان ہی لوگوں کو خبر دار کرسکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ۳۵ * اور جو پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے کرتا ہے ۳۶ * اور پہنچنا سب کو اللہ ہی کے حضور ہے۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔اندھا اور بینا دونوں یکساں نہیں ہیں۔ ۳۷ *

 

۲۰۔۔۔۔۔۔نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہے۔ ۳۸ *

 

۲۱۔۔۔۔۔۔نہ چھاؤں ور دھوپ یکساں ہے۔ ۳۹ *

 

۲۲۔۔۔۔۔۔اور نہ زندہ اور مردے یکساں ہیں ۴۰ * اللہ جن کو چاہتا ہے سنواتا ہے ۴۱ * اور تم ان کو سنا نہیں سکتے جو قبروں کے اندر ہیں ۴۲ *

 

۲۳۔۔۔۔۔۔تم تو بس خبردار کرنے والے ہو۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔ہم نے تم کو اے پیغمبر! * حق کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر اور کوئی امت ایسی نہیں جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ آیا ہو ۴۳ *

 

۲۵۔۔۔۔۔۔اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھیرسولوں کو * جھٹلا کے ہیں۔ ان کے پا ان کے رسول واضح دلائل ، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ ۴۴ *

 

۲۶۔۔۔۔۔۔پھر جن لوگوں نے کفر کیا ان کو میں نے پکڑ لیا تو دیکھ لو کیسی تھی میرا سزا۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے ۴۵ * ور اس کے ذریعے پھل پیدا کرتا ہے جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے خطے ہیں ۴۶ * اور گہرے سیاہ بھی۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔اسی طرح انسانوں ، جانوروں اور چوپایوں کے رنگ بھی مختلف ہیں ۴۷ * حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں ۴۸ * بلاشبہ اللہ غالب معاف کرنے والا ہے ۴۹ *

 

۲۹۔۔۔۔۔۔جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ۵۰ * اور نماز قائم کرتے ہیں ۵۱ * اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ۵۲ * وہ ایک ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جس میں ہر گز خسارہ نہ ہو گا۔ ۵۳ *

 

۳۰۔۔۔۔۔۔تاکہ وہ ان کو ان کا پورا پورا اجر دے اور اپنے فضل سے مزید عطا کرے۔ یقیناً وہ مغفرت فرمانے والا اور قدرداں ہے ۵۴ *

 

۳۱۔۔۔۔۔۔اوراے نبی! * ہم نے جو کتاب تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے ۵۵ * ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے آ چکی ہیں ۵۶ * یقیناً اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔ ۵۷ *

 

۳۲۔۔۔۔۔۔پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان کو جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا۔ تو کوئی ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے تو کوئی میانہ روہے اور کوئی اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے ۵۸ * یہ بہت بڑا فضل ہے ۵۹ *۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔ہمیشگی کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے ۶۰ * وہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان میں ان کا لباس ریشم ہو گا ۶۱ *

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کاجس نے ہم سے غم دور کر دیا ۶۲ * ہمارا رب بڑا بخشنے والا ہے قدر فرمانے والا ہے ۶۳ *

 

۳۵۔۔۔۔۔۔جس نے ہمیں اپنے فضل سے اس اقامت کے گھر میں ٹھہرایا۔ یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔ ۶۴ *

 

۳۶۔۔۔۔۔۔اور جنہوں نے کفر کیا ۶۵ * ان کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ نہ ان کو قضا آئے گی کہ مر جائیں ۶۶ * اور نہ ان سے اس کا عذاب ہلکا کر دیا جائے گا۔ اس طرح ہم بدلہ دیں گے ہر ناشکرے کو ۶۷ *

 

۳۷۔۔۔۔۔۔اور وہ اس میں چیخ یخ کر کہیں گے اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال۔ اب ہم اچھا عمل کریں گے۔ ان اعمال سے مختلف جو ہم کرتے رہے ۶۸* کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ کوئی یاد دہانی حاصل کرنا چاہتا تو یاد دہانی حاصل کرسکتا تھا۔ ۶۹ * اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی آیا تھا۔ ۷۰ * اب مزا چکھو۔ ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔

 

۳۸۔۔۔۔۔۔اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے ، وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔

 

۳۹۔۔۔۔۔۔اسی نے تم کو زمین میں خلیفہ ۷۱ * (با اختیار) بنایا ہے۔ تو جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ ۷۲ * اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک اس کے غضب ہی کو بھڑکانے والا ہو گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے خسارہ ہی میں اضافہ کرے گا۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔کہو کیا تم نے دیکھا اپنے ان شریکوں کو جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو! مجھے بتاؤ انہوں نے زمین میں سے کوئی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں میں ان کی کوئی حصہ داری ہے ؟ ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی کسی واضح حجت پر ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے محض فریب کے وعدے کر رہے ہیں۔ ۷۳ *

 

۴۱۔۔۔۔۔۔بلاشبہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔ ۷۵ * بلا شبہ وہ بڑا حلیم اور غفور ہے ۷۶ *۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔یہ لوگ اللہ کی پکی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آیا تو وہ ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے ۷۷ *۔ مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو ان کی دوری ہی میں اضافہ ہو گا۔

 

۴۳۔۔۔۔۔۔یہ زمین میں تکبر کرنے لگے اور بری چالیں چلنے لگے۔ حالانکہ بری چالیں ان ہی کو گرفت میں لیتی ہیں جو یہ چالیں چلتے ہیں ۷۸ *اب کیا یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جائے جو پچھلی قوموں کے ساتھ کیا گیا تھا ۷۹ * ایسا ہے تو تم اللہ کے قاعدے میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور نہ اللہ کے قاعدے کو ٹلتا ہوا دیکھو گے ۸۰ *

 

۴۴۔۔۔۔۔۔کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور تھے اور آسمان اور زمین میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اللہ کو عاجز کرنے والی ہو۔ وہ سب کھ جاننے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔اگر وہ لوگوں کو ان کے عمل کی پاداش میں پکڑتا تو زمین پر ایک جاندار کو بھی نہیں چھوڑتا۔ مگر وہ انہیں ایک وقتِ مقررہ تک کے لیے مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا وقت مقرر آ جائے گا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔ ۸۱ *

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔اللہ کا آسمانوں اور زمین کا خلاق ہوتا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور جب وہ خالق ہے تو حمد یعنی تعریف اور شکر کا مستحق بھی وہی ہے۔ لہٰذا اسی کے گن گاۓ جانے چاہیں اور اسی کا شکر گزار بن کر رہنا چاہیے۔ یہی توحید کی اصل ہے اور اس سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے۔

 

آیت کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ کائنات کے پیدا  کرنے پر اللہ کی ستائش ہی کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ حسین و جمیل کائنات اس بات کا مظہر ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا بڑی خوبیوں والا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ملحدین کہتے ہیں کہ کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے مگر ان کا یہ دعویٰ بلا دلیل اور بالکل غیر معقول ہے۔ اگر اس کا وجود بغیر خالق کے ہوتا تو اس میں نہ تغیر ہوتا اور نہ ارتقاء اور نہ کوئی مخلوق وجود میں آتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مادہ میں تغیرات بھی ہوتے ہیں اور یہ بھی باور کرتے ہیں کہ کائنات کا موجودہ ارتقاء مختلف مرحلوں سے گزرنے کے بعد ہوا ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ زمین پر انسان کا وجود بہت بعد میں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ انسان جو زمین پر سب سے اعلیٰ درجہ کی نوع ہے اور جو خشکی اور تری پر حکومت کرتا ہے یکایک کس طرح وجود میں آ گیا؟ کیا یہ کائنات اپنے اندر عقل و علم اور ارادہ و تدبیر کے اوصاف رکھتی ہے ؟ ان سوالوں کا جواب ہر گز اثبات میں نہیں دیا جاسکتا کیونکہ نہ یہ ہمارا مشاہدہ ہے اور نہ اس کی تائید میں کوئی دلیل ہے اس لیے خالق کے وجود سے انکار سب سے زیادہ روشن حقیقت کا انکار ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ پیغام رساں بنا کر انبیاء علیہم السلام کی طرف بھیجتا ہے جو ان پر وحی کرتے ہیں اس کے علاوہ ان سے پیغام رسانی کا کام کس طرح لیا جاتا ہے کس کس مخلوق کی طرف ان کا قاصد بنا کر بھیجا جاتا ہے اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔پَر قوت پرواز کی علامت ہیں۔ جن فرشتوں کے جتنے زیادہ پر ہیں ان کی گویا قوت پرواز اتنی ہی زیادہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جبرئیل کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پَر تھے۔ قرآن نے یہ بیان کر کے کہ فرشتوں کے کئی پَر ہوتے ہیں انسان کے علم میں ایک قابل قدر اضافہ کر دیا ہے ورنہ اس کے پاس اس کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

 

۴۔۔۔۔۔۔یعنی ایسا نہیں کہ اس نے جو کچھ خلق کیا اس کے بعد اب اس کے پاس خلق کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے بلکہ وہ اپنی تخلیق میں اضافہ کرتا رہتا ہے اس کی مثال انسانی آبادی میں مسلسل اضافہ ہے اور اس کی اعلیٰ مثال وہ نئی دنیا ہو گی جس کا ظہور اس کے بعد ہو گا۔

 

۵۔۔۔۔۔۔اسی حقیقت کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعائیہ کلمات میں اس طرح ادا کیا ہے :

اَللّٰہمَّ لَا مَنِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذالْجَدِّ مِنْکَ الْھَدُّ (مسلم کتاب الصلاۃ)۔ " اے اللہ تو جو کچھ دے اس کی روکنے والا کوئی نہیں اور جس چیز کو روک لے اس کو دینے والا کوئی نہیں اور تیرے مقابل کسی دولت مند کو اس کی دولت فائدہ نہیں پہنچا سکتی"۔

 

۶۔۔۔۔۔۔یعنی جو راز‍ق ہے وہی معبود (عبادت کا مستحق ) بھی ہے۔ جو رازق نہیں ہیں وہ کس طرح معبود ہو سکتے ہیں ؟

 

۷۔۔۔۔۔۔یعنی اللہ سے پھیر کر تم کو کہاں لے جایا جا رہا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہیں بہکا کر حق سے پھیر رہا ہے۔ عقل سے کام لو اور شیطان کے بہکاوے میں نہ آؤ۔

 

۸۔۔۔۔۔۔لہٰذا تمہاری اس نزاع کا فیصلہ بھی قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں ہو گا اور اس وقت تمہیں پتہ چلے گا کہ تم نے اللہ کے رسول کو جھٹلا کر کتنا بڑا جرم کیا تھا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔مراد قیامت اور آخرت کا وعدہ ہے۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔دنیا کی ظاہر کشش ایسی ہے کہ وہ انسان کی توجہ آخرت سے ہٹا کر اسے دنیا کا پرستار بنا دیتی ہے۔ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے جس سے چوکنا رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ آج بھی جب کہ انسان کی "عقل" ے ترقی کے بڑے مدارج طے کیے ہیں وہ دنیا کی دلفریبیوں سے برار دھوکہ کھا رہا ہے۔ چنانچہ دنیا کی اکثریت دنیا کے سوا کسی اور دنیا کو خاطر میں لانے کے لیے تیار  نہیں ہے۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔" بڑے فریب کار" سے مراد شیطان ہے جو اپنے وسوسوں کے ذریعے انسان کو خدا کے بارے میں بہت بڑے دھوکہ میں ڈال دیتا ہے۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔شیطان جیسے دشمن کو دوست سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔ اس کو دشمن سمجھ کر اس کی چالوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ قرآن نے انسان کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ اس کے خیالات پر خارج سے اثر انداز ہونے والے شر پسند عناصر موجود ہیں جو اگرچہ اسے کھائی نہیں دیتے مگر اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ شیاطین ہیں جن کے شر سے بچنے کے لیے انسان کو ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔یعنی جو لوگ شیطان سے دوستی کر لیتے ہیں وہ اس کے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں اور شیطان اپنے گروہ کو جہنم کی راہ دکھاتا ہے۔ اس کا تو مقصد ہی انسانوں کو گمراہ کرنا ہے تاکہ وہ جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ آدمی جب برائی کو اچھائی سمجھ کر کرنے لگتا ہے تو اس کا باز آنا ممکن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ برائی کو برائی نہ سمجھ لے۔ اور اللہ کا قانون ضلالت یہ ہے کہ جس شخص کو اپنی برائیاں بھلی معلوم ہونے لگتی ہیں ہدایت کی راہ اس پر بند کر دی جاتی ہے اور اس کو چھاڑ دیا جاتا ہے کہ بھٹکتا رہے۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔یعنی جب انہیں اپنے برے عمل پر اصرار ہے اور وہ گمراہی سے نکلنا نہیں چاہتے تو تم ان کا غم کہاں تک کرو۔ بہتر ہے ان کو انکے حال پر چھوڑ دو۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ کہف نوٹ ۷۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔یعنی جس طرح بارش ہوتے ہی زمین سے  نباتات نکلنے لگتی ہیں اور اس کی سر سبزی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ مردہ زمین زندہ ہو گئی اسی طرح قیامت کے دن جب دوسرا صور پھونکا جاۓ گا تو مردے زندہ ہو کر زمین سے نکل پڑیں گے۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔یعنی عزتِ دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔ پاکیزہ کلمہ سے مراد کلمہ طیبہ " لا الہٰ الا اللہ"  ہے جو کلمہ توحید ہے۔ اس کے اللہ کی طرف چڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے تقرب کا ذریعہ اور عمل صالح کو رفعت بخشنے کا مطلب اس کو قبولیت کا اعزاز بخشنا ہے۔ یہاں خاص طور سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ عزت غیر اللہ کے پاس نہیں ہے اور نہ وہ ان کی پرستش کر کے حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ عزت اللہ کے پاس ہے اور وہ ایمان اور عمل صلح ہی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔یعنی جو لوگ حق کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور طرح طرح کیسازشیں کر رہے ہیں ان کو بالآخر ناکامی کا منہ دیکھنا ہو گا۔ جب نتائج کے ظہور کا وقت آۓ گا ان کے سارے منصوبے خاک میں  مل جائیں گے۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔یعنی نوع انسانی کی پیدائش کا آغاز مٹی سے کیا۔ آدم مٹی سے پیدا کیے گۓ تھے۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔پھر آدم کی نسل کا سلسلہ نطفہ یعنی پانی کی حقیر بوند سے چلایا۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔یعنی کسی کی عمر کو دراز کرنا یا کم کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور اس سلسلہ میں اس کے فیصلے ایک نوشتہ میں درج ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عمر کی کمی و بیشی میں غیر اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔یعنی بے شمار انسانوں کی عمریں مقرر کرنا اور ان کو ضبط تحریر میں لانا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔یعنی میٹھے پانی (دریا) سے بھی مچھلی حاصل کرتے ہو اور کھارے پانی (سمندر ) سے بھی۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔جیسے موتی اور مرجان اور بعض دریاؤں سے ہیرے اور سونا بھی برآمد ہوتا ہے۔ دریاؤں کی لائی ہوئی ریت میں سونے کے ذرات پاۓ جاتے ہیں انسائیکلو پیڈیا برناٹیکا میں یہ وضاحت ہے کہ :

 

“Alluvial deposits of native gold found in or along streams were "the principal sources of the metal fro the ancient civilization of the Middle East.”

 

“The alluvial deposits mined by placer that have been deposited by rapidly moving streams and other rivers at places where they widen or for some other reason lose speed.”

 

(The New Ency. Britannica Vol. 8 P. 237)

 

اور ہیرے کے بارے میں انسائکلو پیڈیا آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں یہ صراحت موجود ہے کہ یہ دریا کی جمی ہوئی تہوں میں پاۓ جاتے ہیں۔  

 

“but a significant amount (of diamonds) comes from individual operations from stream-bed deposits in Sierra Leone, Ghana, and the Union or South Africa.”

 

(Mc Graw-Hill Ency. Of Science & Technology-New York Vol. 4 P.164)

 

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ نحل نوٹ ۲۴۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔یعنی تجارتی سفر کر کے معاش حاصل کرو جو اللہ کا فضل ہے۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران نوٹ ۳۹۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ رعد نوٹ ۸۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔یعنی اس کی حکومت انسان سمیت پوری کائنات پر چھائی ہوئی ہے اور اسی کے احکام نافذ ہوتے ہیں۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔قطمیر اس جھلی کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ادنیٰ اختیار بھی نہیں رکھتے۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔قیامت کے دن اپنے پرستاروں کے شرک کا انکار اس سے بیزاری ظاہر کرنے والے وہ فرشتے اور بزرگ انسان ہوں گے جن کو حاجت روائی ، مشکل کشائی اور فریاد رسی کے لیے پکارا جاتا تھا۔ ان ہی کے بارے میں یہاں فرمایا گیا ہے کہ اول تو یہ پکارنے والے کی پکار سنتے نہیں ہیں اور اگر سن بھی لیں تو نہ حاجت روائی کرسکتے ہیں اور نہ فریاد رسی۔

 

فرشتے جن کاموں پر مامور کیے گۓ ہیں ان کا دائرہ عمل سی حد تک ہے۔ اس سے آگے ان کے بس میں نہیں ہے کہ جو شخص جہاں سے بھی ان کو پکارے وہ اس کی پکار  کو سن لیں اور اس کی مدد کو پہنچیں۔ اور اگر بالفرض سن لیں تو وہ اس کی حاجتیں ہر گز پوری نہیں کر سکتے رہیں بزرگ انسانوں کی روحیں تو ان کے بارے میں بھی یہ خیال کہ وہ ہر پکارنے والے کی پکار سنتے ہیں بالکل بے بنیاد اور سراسر باطل ہے۔ وہ عالم برزخ میں رہ کر نہ کسی کی فریاد سنتے ہیں اور نہ اس کی مدد اور حاجت روائی کو پہنچتے ہیں۔

 

کوئی وجہ نہیں کہ آیت کے مفہوم کو بت پرستوں کی تردید کی حد تک محدود سمجھ لیا جاۓ بلکہ اس کے وسیع تر مفہوم میں ہر قسم کی بزرگ پرستی اور قبر پرستی بھی شامل ہے لہٰذا جو مسلمان یا علی المدد! اور یا غوث (عبد القادر جیلانی) المدد ! کے نعرے لگاتے ہیں وہ صریح شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان بزرگوں کا ان کی مدد کو پہنچنا تو درکنار وہ ان کی پکار سرے سے سنتے ہیں نہیں۔ اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب یہ بزرگ اپنی زندگی میں ہر پکارنے والے کی پکار سنتے نہیں تھے اور نہ ان کی فریاد کو پہنچنا ان کے بس میں تھا تو قبر میں پہنچنے کے بعد یکایک ان میں یہ قوت کہاں سے پیدا ہو گئی ؟

 

۳۲۔۔۔۔۔۔یعنی ان باتوں کی خبر جو عالم بالا اور غیب سے تعلق رکھنے والی ہیں ایک خبیر ہسیت ہی دے سکتی ہے اور وہ خبیر ہستی اللہ ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں جو تمہیں وہاں کی صحیح خبریں دے۔ لہٰذا اللہ اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعہ غیب کی جو خبریں دے رہا ہے ان پر یقین کرو اور ان لوگوں ک۹ی  باتوں  کو چھوڑ دو جو محض قیاس سے غیب کی باتیں کرتے ہیں۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔یعنی یہ نہ سمجھو کہ تمہارا وجود زمین پر برقرار رکھنے میں اللہ کی کوئی غرض ہے۔ وہ بے نیاز ہے اور کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے وہ لائق ستائش ہی ہے۔ وہ چاہے تو پوری انسانیت کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے اور اس کی جگہ نئی مخلوق لا سکتا ہے۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔یعنی قیامت کے دن گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا۔

 

تشریح کے لیے دیکھیے سورہ بنی اسرائیل نوٹ ۱۸ اور سورہ عنکبوت نوٹ ۱۸۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔یعنی تمہارے خبر دار کرنے کا فائدہ وہی لوگ اٹھا سکیں گے جو اللہ سے بے خوف نہیں ہیں بلکہ اپنے  اندر اس کا خوف رکھتے اور نماز کو جو اللہ کی خشیت (خوف) کا مظہر ہے قائم کرتے ہیں۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔یعنی عقیدہ و عمل کی پاکیزگی (تزکیہ) اختیار کرنے کا فائدہ اسی کو پہنچتا ہے جو اس وصف اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ اور قرآن کا پنے مخاطب سے یہی مطالبہ ہے کہ وہ اسب سے پہلے اپنے عقیدہ عمل کو پاکیزہ بنانے کی فکر کرے۔

 

آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ اللہ کا ڈر اور نماز کا اہتمام آدمی کو تزکیہ (پاکیزگی) کی راہ پر ڈال دیتا ہے اور پھر اس کے لیے ایک صاف ستھری زندگی بسر کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

 

۳۷۔۔۔۔۔۔یعنی جب اندھا اور آنکھوں والا یکساں نہیں ہے تو بے بصیرت اور بصیر ت مند دولوں کس طرح یکساں ہو سکتے ہیں ؟ اور جب دونوں اپنے عمل کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے تو دونوں کوانجامکیسے یکساں ہوسکتا ہے ؟

 

۳۸۔۔۔۔۔۔یعنی جب تاریکیاں ور روشنی برابر نہیں ہوسکتے تو جہالت کی تاریکیاں اور علم کی روشنی دونوں کس طرح برابرہوسکتے ہیں۔

 

۳۹۔۔۔۔۔۔یعنی جب چھاؤں اور دھوپ یکساں نہیں ہو سکتے تو نیکی کی ٹھنڈک اور گناہ کی تپ دونوں کیسے برابر ہوسکتے ہیں۔ اثرات کے اعتبار سے لازماً دونوں میں فرق ہے۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔یعنی جب زندہ اشخاص اور مردہ اشخاص یکساں نہیں ہیں تو وحی الٰہی سے حیات تازہ پانے والا اور اس کے فیض سے محروم ہو کر اپنے ضمیر کو مردہ کانے والا یکسں کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ اور جب یکساں نہیں ہیں تو انجام بھی دونوں کا مختلف ہونا چاہیے۔ اور یہ صورت واقعہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسانوں کا رب ایک دن عدالت برپا کرے اور جزا و سزا کا معاملہ ظہور میں آۓ۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔یعنی حق بات وہی لوگ سنتے اور قبول کرتے ہیں جن کو اللہ اس کی توفیق دیتا ہے اور وہایسے لوگوں کو س کی توفیق نہیں دیتا جن کے دل مردہ ہوکے ہیں۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔یعنی اے پیغمبر ! جس طرح تم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبر میں دجن ہو چکے اسی طرح تم ان لوگوں کو بھی نہیں سنا سکتے جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مردہ دل انسانوں پر تمہاری نصیحت اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ نصیحت پذیری کے لیے دل کا زندہ اور شعور کا بیدار ہونا ضروری ہے۔

 

یہاں مردوں کے نہ سننے کی بات اگرچہ مثال کے پیرایہ میں بیان ہوئی ہے لیکن مثال حقیقت واقعہ ہی کی ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مردوں کو جو قبر میں مدون ہیں سنانا کسی شخص کے بس کی بات نہیں ہے یہاں تک کہ پیغمبر بھی انہیں نہیں سنا سکتا اور جب قبر والوں  کو سنایا ہی  نہیں جا سکتا تو جو لوگ ان سے فریاد کرتے ہیں وہ ایک لغو حرکت کرتے ہیں یہ آیت مزید قبر پرستی کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورہ نمل نوٹ ۱۱۸۔

 

۴۳۔۔۔۔۔۔یعنی اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کا ایسا سامان کیا کہکسی قوم کو بھی تاریکی میں بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑا اس نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا جس نے اس قوم کو قیامت کے دن اور اللہ کی نافرمانی کے انجام سے خبر دار کیا۔ قرآن نے متعدد قوموں کا ذکر جن کی طرف جو رسول بھیجے گۓ تھے ان کے ناموں کی صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ لیکن جن قوموں کا ذکر نہیں کیا ہے ان کے بارے میں ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی یقینی ذریعہ نہیں ہے کہ ان کی طرف کون رسول بھیجے گۓ تھے اس لیے ہم یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان قوموں کی فلاں اور فلاں شخصیتیں رسول تھیں۔ قرآن نے فارس کی مجوس قوم کا ذکر کیا ہے لیکن اس کی طرف کس کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اس کی صراحت نہیں کہ اس لیے ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم زر تشت کو نبی یا رسول قرار دیں۔ اسی طرح ہندو قوم کے بارے میں ہم یقینی طور سے نہیں یہہسکتے کہ ان کی فلاں اور فلاں شخصیتیں نبی یا رسول تھیں۔ کسی کو نبی یا رسول علم و یقین کی بنیاد پر ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ قیس اور گمان کی بنا پر کیونکہ یہ مسئلہ عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے اور عقیدہ کی بنیاد واضح  حجت پر ہوتی ہے۔ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت اس لیے بھی باقی نہیں رہی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم دنیا کی تمام قوموں کی طرف رسول اور نذیر بنا کر بھیجے گۓ ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) ہدایات و رہنمائی کے لیے موجود ہے نیز آپ کی امت (امت مسلمہ) کو برپا کیا گیا ہے تاکہ وہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں پیغام حق پہنچاۓ اور لوگوں کو دین حق کی دعوت دے۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔یعنی ایسے دلائل لے کر آۓ تھے جو ان کی رسالت کا واضح ثبوت تھے۔ ان رسولوں میں ایسے بھی تھے جن کو صحیفے دیے گۓ تھے مثلاً حضرت ابراہیم۔ اور ایسے بھی تھے جن کو کتابیں دی گئی تھیں مثلاً حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی۔ صحیفہ ور کتاب میں فرق یہ ہے کہ صحیفہ مختصر ہوتا ہے اور کتاب تفصیلی۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔آسمان سے پانی برسانے کا مطلب آسمان کی جانب سے یعنی اوپر سے پانی برسانا ہے۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔یعنی پہاڑوں میں سفید پتھر کے بھی خطے ہوتے ہیں جیسے سنگ مر مر۔ اور سرخ رنگ کے بھی۔ چنانچہ راجستھان میں سرخ رنگ کے پہاڑ ہیں اور دہلی کی جامع مسجد اور لال قلعہ کی تعمیر سرخ پتھر ہی سے ہوئی ہے۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔یعنی رنگوں کا یہ اختلاف اللہ کے کمال قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نے جو چیز بھی بنائی اس کے مختلف نمونے پیش کر دیے تاکہ ان کو دیکھ کر ذہن خدا کی طرف منتقل ہو۔ اگر یہ کائنات بے خدا ہوتی تو یہاں یہ رنگا رنگی نہیں ہوسکتی تھی اور اگر اس کی قدرت محدود ہوتی تو اس کی تخلیق میں یہ گوناگونی نہیں ہو سکتی تھی۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔علم رکھنے والوں سے مراد اللہ کی معرفت رکھنے والے ہیں یعنی جو لوگ خدا شناس ہوتے ہیں وہ اللہ کی عظمت کے تصور ہی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ہر طرف پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں کو جب وہ آنکھیں کھول کر دیکھتے ہیں تو ان کو اس کی صفات کے جلوے دکھائی دیتے ہیں اور اللہ کی صفات کا صحیح علم خشیت پیدا کرتا ہے۔ یہ حقیقی علم ہے اور جو شخص اس علم میں جتنی ترقی کرتا ہے اتنا ہی زیادہ وہ اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی خشیت ہی ہے جو انسان کے اندر ایمان اور عمل صالح کی روح پھونک دیتی ہے۔ بخلاف اس کے جو شخص اللہ کی معرفت سے بے بہرہ ہے وہ جاہل مطلق ہے خواہ وہ دنیوی علوم و فنون کا ماہر ہی کیوں نہ ہو۔

 

۴۹۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ کے جو بندے خشیت اختیار کریں گے ان کے قصوروں کو وہ زبردست ہونے کے باوجود معاف کر دے گا۔

 

۵۰۔۔۔۔۔۔تلاوت کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ عنکبوت نوٹ ۸۳۔

 

۵۱۔۔۔۔۔۔نماز قائم کرنے کا مطلب نماز کا محض خارجی طور سے اہتمام کرنا نہیں بلکہ اس کو پابندی کے ساتھ اور ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ہے۔ یہ سورہ مکی ہے اور مکیہ میں اقامت صلوٰۃ کے داخلی پہلوؤں ہی پر اصل زور تھا کیونکہ خارجی اہتمام کے زیادہ مواقع نہیں تھے۔ البتہ جب مدینہ میں یہ مواقع حاصل ہوۓ تو مسجدیں بھی تعمیر کی گئیں اور اذان اور جماعت کا بھی اہتمام کیا گیا۔

 

لغت میں بھی اقامت صلوٰۃ کے معنی مداومت اور محافظت بیان کیے گۓ ہیں۔ لسان العرب میں ہے :

 

و اَقامَ الشئَ ادَامَہٗ مِن قولِہ تعالیٰ وَ یُقیمُونَ الصلوٰۃ (ج۔ ۱۲ ص ۴۹۰ّ)  " کسی چیز کو قائم کرنے کے معنی اس پر مداومت اختیار کرنے کے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد "نماز قائم کرتے ہیں " اسی مفہوم میں ہے ""

 

اور مفردات راغب میں ہے :

 

یُقیمُون الصَّلوٰۃ ای یُدیْمُونَ فِعْلِھَا و یَحفِظونَ عَلَیھَا۔ (ص۔ ۴۲۸ ) "نماز قائم کرتے ہیں ینی ہمیشہ یہ عمل کرتے ہیں ور اور نماز کی حفاظت کرتے ہیں "

 

واضح ہوا کہ اقامت صلوٰۃ میں بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ آدمی اس کو ہمیشہ اور صحیح  طریقہ پر ادا کرتا رہے۔

 

۵۲۔۔۔۔۔۔اللہ کی رہ میں پوشیدہ خرچ کرنا بہتر ہے لیکن جہاں ضرورت ہو علانیہ بھی خرچ کر سکتا ہے۔

 

۵۳۔۔۔۔۔۔یعنی وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اخروی نفع کی امید رکھتے ہیں۔

 

۵۴۔۔۔۔۔۔اللہ قدر داں ہے لہٰذا خلوص کے ساتھ جو انفاق کیا جاۓ گا اور اس کے لیے جو قربانیاں دی جائیں گی ان کی اللہ تعالیٰ قدر فرماۓ گا۔

 

۵۵۔۔۔۔۔۔یعنی یہ کتاب بالکل حق ہے۔ اس میں باطل کی کہیں سے بھی آمیزش نہیں ہوئی ہے اس لیے اس کی پیروی حق کی پیروی ہے۔

 

۵۶۔۔۔۔۔۔مراد تورات اور انجیل ہیں۔ قرآن ان کی تصدیق اس  معنی میں کرتا ہے کہ یہ کتابیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی تھیں اور اس معنی میں بھی کہ ان کی تعلیم بھی وہی تھی جو قرآن کی تعلیم ہے نیز اس معنی میں بھی کہ ان کتابوں میں جو پیشین گوئیاں نبی امی کے بارے میں موجود ہیں ان کا مصداق محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) ہیں۔ بالفاظ دیگر آپ کی رسالت سے تورات و انجیل کی پیشین گوئیاں سچ ثابت ہوتی ہیں اور یہ ان کتابوں کی سچائی کا ثبوت ہے۔

 

واضح رہے کہ قرآن اصل تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے۔ یہود اور نصاریٰ نے ان میں جو تحریف کی ہے اور جو اضافے کیے ہیں ان کی نہیں۔

 

۵۷۔۔۔۔۔۔لہٰذا اب وہ دیکھے گا کہ اس کے بندے اس کتاب حق کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

 

۵۸۔۔۔۔۔۔یعنی اس کتاب کو پیغمبر پر نازل کر کے اس کا وارث اس کی امت کو بنایا۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اور اس کا وارث بنانے کا مطلب اس کا حامل بنانا ہے۔ اور " اپنے بندوں میں ے جن کو منتخب کیا" سے مراد امت مسلمہ ہے جس کا انتخاب دین حق کی شہادت (گواہی دینے ) کے لیے ہوا ہے :

 

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطاًلِّتکُونو اشُھَدَاءَ عَلَی النَّاسِ۔ (بقرہ۔ ۱۴۳)۔ " اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو"۔

 

اور دوسری جگہ فرمایا:

 

ھُوَا جْتَبَا کُمْ (حج۔ ۷۸) " اس نے تمہیں چن لیا ہے۔ "

 

یہ انتخاب اور چننا نہ حیثیت گروہ کے ہے اور اس گروہ کو اس لیے منتخب کیا گیا ہے تاکہ کتاب اس کو عطا کی جاۓ اور وہاس کی حامل بنے۔ یہ گروہ اس شرف سے تو نوازا گیا ہے لیکن اس کے افراد کا حال مختلف ہے۔ اس میں ایسے بھی ہیں جو غلط روی اختیار کر کے اپنے ہی نفس پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ اس کتاب کی قدر کی اور نہ اپنے اس شرف کا لحاظ کیا جو انہیں امت مسلمہ میں شامل ہونے کی حیثیت سے حاصل ہوا تھا۔ قرآن ایسے لوگوں کو ظالم کہتا ہے اس لیے وہ در حقیقت اس شرف کے مستحق نہیں ہیں جو امت مسلمہ کو بخشا گیا ہے۔ اور امت مسلمہ میں دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو مقتصد یعنی اعتدال پسند اور میانہ رو ہیں  مراد ایمان کے ساتھ بیک عمل کرنے والے لوگ ہیں۔ سورہ مائدہ آیت ۶۶ میں اُمَّۃٌ مُقْتصِدَۃٌ  " میانہ رو گروہ" ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو فاسق نہیں ہیں۔ اور امت مسلمہ میں تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں یعنی نیک کاموں میں آگے اور دین کی جد و جہد میں سرگرم رہنے والے ہیں۔ یہ عم صالحین سے اونچا مقام رکھنے والے اور اول درجہ کے لوگ ہیں۔

 

۵۹۔۔۔۔۔۔یعنی کتاب الٰہی کا صحیح معنی میں حامل بننا بہت بڑی سعادت کی بات ہے اور جن لوگوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہوا۔

 

۶۰۔۔۔۔۔۔یعنی جنت کے جاودانی باغ۔ یہ جزا جیسا کہ کلام کے رُخ (Tenor of the speech) سے نیز قرآن کیدوسری تصریحات سے واضح ہے اخیر کے دو گروہوں یعنی صالحین اور سابقین کی بیان ہوئی ہے۔ رہا پہلا گروہ یعنی اپنے نفس پر ظلم کرنے والے تو وہ اپنے عقیدہ و عمل کے مطابق سزا کے مستحق ہیں جس کی صراحت قرآن نے دوسرے مقامات پر کی ہے مثلاً کسی مومن کو عمداً  قتل کرنے کی سزا جہنم ہے جیسا کہ سورہ نساء آیت ۹۲ میں بیان ہوا ہے۔ اسی طرح اللہ اور اس ے رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو بھی جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔

 

وَمَنْ یَعْصِ اللہَ وَرَسُولَہ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْ خِلْہٗ نَاراً خالداً فِیْھَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُھِینٌ (نساء۔ ۱۴) " اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے مقرر کیے ہوۓ حدود سے تجاوز کرے گا۔ اسے وہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے "۔

 

پھر اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں فاس بھی ہو سکتے ہیں اور منافق بھی اس لیے قرآن یہاں جنت کی جو خوش خبری دے رہا ہے اس کو ان لوگوں متعلق قرار دینا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا مگر متعدد مفسرین نے س خوش خبری میں ان لوگوں ( اپنے نفس پر ظلم ڈھانے والوں ) کو شامل کر کے آیت کی غلط توجیہ کی ہے۔ جنت کی جو جزاء یہاں بیان ہوئی ہے تقریباً ان ہی الفاظ میں سورہ حج میں بیان ہوئی ہے اور اس صراحت کے ساتھ کہ یہ ان لوگوں کی جزاء ہے جو ایمان لا اور نیک اعمال کیے۔

 

اِنَّ اللہَ یُدْ خِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا وَعَمِلُو الصّٰلِحٰتِ جِنّٰتً تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَالْاَنھٰرُ یُحَلّونَ فِیْھَا مِنْ اَسَا وِرَمِنْ ذھَبٍ وَّ لُؤ لُؤً وَّلِبَاسُھُمْ فِیْھَا حَرِیْرٌ (حج۔ ۲۳ ) " اور جو لوگ ایمان لاۓ اور جنہوں نے بیک عمل کیے اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی کے زیور پہناۓ جائیں گے  اور ان کا لناس وہاں ریشم کا ہو گا۔"

 

اور جن حدیثوں کو اس بات کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے کہ آیت میں جنت کی جو خوش خبری سانئیگئی ہے وہ اس امت کے ظالم گروہ کے لیے بھی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں مثلاً ترمذی کی ابو سعید خدری والی حدیث کہ اس کی اسناد میں دو راوی مجہول ہیں یعنی ان کے نام ہی سرے سے مذکور نہیں۔ ثقیف کے ایک شخص سے سنا اور کنانہ کے ایک شخص سے مروی ہے کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (ترمذی ابواب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الملائکۃ)۔

 

ظاہر ہے جب راوی ہی معلوم نہیں ہے تو روایت کس طرح صحیح قرار دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح احمد بن حنبل نے ابو الدرداء سے جو حدیث روایت کی ہے اس کے ایک راوی اسحاق بن عیسیٰ ہیں اور دوسرے راوی علیٰ بن عبد اللہ لازدی ہیں اور ان دونوں کے بارے میں حافظ ابن حجر نے صراحت کی ہے کہ وہ سچے ہیں مگر حدیث بیان کرنے میں غلطیاں کر جاتے ہیں (تقریب التہذیب ، ص ۳۷ ، ۲۷۳ )۔

 

واضح رہے کہ اس وقت امت میں فاسقوں اور بے عمل لوگوں کی کثرت ہ اور منافقین کی بھی کمی نہیں۔ ان سب کو محض امت مسلمہ میں شامل ہونے ی بنا پر جبت کا مستحق قرار دینا ان کو اس حال میں  چھوڑ دینا ہے کہ وہ گناہوں میں ڈوبے رہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اللہ ان میں سے کن لوگوں ی مغفرت فرماۓ گا اور کب فرماۓ گا اس لیے ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کہنا چاہیے جس سے غلط کار لوگ مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورہ حج نوٹ ۳۵۔

 

۶۲۔۔۔۔۔۔غم سے مراد ہر قسم کا غم ہے۔ جنت کی زندگی غم سے بالکل پاک اور مکمل خوشی کی زندگی ہو گی۔ انسان کی فطرت ایسی ہی زندگی کا تقاضا کرتی ہے اور انسان اسی کی تمنا کرتا ہے مگر اس کے پورا ہونے کا محل یہ دنیا نہیں بلکہ جنت ہے اگر وہ اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کے سارے غم غلط ہو کر رہ جائیں۔

 

۶۳۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ہم سے جو قصور سرزد ہوۓ تھے ان کو ہمارے رب نے معاف کر دیا اور ہمارے اچھے اعمال کی قدر فرمائی۔

 

۶۴۔۔۔۔۔۔یعنی ہمارے رب نے ہمیں اس منزل پر اتارا ہے جو ہمیشگی کا گھر ہے اور وہاں ہماری اقامت بھی ہمیشہ کے لیے ہے۔ پھر اس گھر (جنت) کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں نہ محنت و مشقت کرنا پڑتی ہے اور نہ کسی قسم کی تکان لاحق ہوتی ہے۔

 

آدمی جب محنت کرتا ہے تو اس اسے تکان لاحق ہوتی ہے لیکن جنت کا ماحول دنیا کے ماحول سے بہت اعلیٰ و ارفع ہو گا وہاں کسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے محنت و مشقت کی ضرورت نہیں ہو گی اس لیے تکان بھی محسوس نہ ہو گی۔

 

۶۵۔۔۔۔۔۔مرد خاص طور سے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کو کتاب الٰہی ماننے سے انکار کیا۔

 

۶۶۔۔۔۔۔۔یعنی موت آ کر ان کی تکلیف کا خاتمہ کر دینے والی نہیں بلکہ وہ ہمیشہ تکلیف کی حالت میں رہیں گے۔

 

۶۷۔۔۔۔۔۔اتنی سخت سزا اللہ کے قانون عدل کے مطابق ہو گی کہ جہاں شکر کرنے والوں کا بدلہ ہمیشگی کی جنت ہے وہاں ناشکر کر نے والوں کا بدلہ ہمیشگی کی جہنم۔

 

جو شخص اپنی آنکھیں پھوڑ دیتا ہے اس کو دوبارہ آنکھیں نہیں  ملتیں۔ اسی طرح جو شخص اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرا دیتا ہے اس کا ابدی نعمتوں سے محروم رہنا مقدر ہے۔

 

۶۸۔۔۔۔۔۔یہ جہنم کا کیسا درد ناک منظر ہے جس میں کافروں کو چیختے چلاتے ہوۓ اور اپنی غلط کاریوں کا اعتراف کرتے ہوۓ دکھایا گیا ہے اور اس لیے دکھایا گیا ہے تاکہ جو لوگ قرآن کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے خطرناک اور درد ناک انجام کی ایک جھلک دیکھ لیں۔ عجب نہیں کہ یہ جھلک ان کو اپنی اصلاح پر آمادہ کر دے۔

 

۶۹۔۔۔۔۔۔مراد وہ عمر ہے جسمیں انسان حق و باطل میں تمیز کرنے اور واقعات سے سبق حاصل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ قرآن نے دوسری جگہ جوانی کی عمر کو سوجھ بوجھ کی عمر قرار دیا ہے (حَتیّٰ یَبْلُعُ اَشُدَّہٗ۔ بنی اسرائیل ۳۴) جو شخص بھی سوجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ گیا اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں اپنا موقف متعین کرنے کے سلسلے میں ہوش سے کام لے اور یاد دہانی کی جو باتیں اس کے سامنے آئیں ان سے وہ سبق لے۔

 

 ۷۰۔۔۔۔۔۔یعنی مزید براں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس رسول آیا تھا جس نے تم پر حجّت قائم کر دی تھی۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خلیفہ کے معنی با اختیار کے ہیں۔ اس کی تشریح سورہ نور نوٹ ۹۵ میں گزر چکی۔ واضح رہے کہ قرآن میں انسان کو خلیفۃ اللہ (اللہ کا خلیفہ) کہیں نہیں کہا گیا بلکہ یہ کہا گیا کہ اس کو اللہ نے خلیفہ بنایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک با اختیار مخلوق ہے اور یہ اختیارات اللہ کے پیدا کردہ اور اس کی طرف سے امانت ہیں۔ خدائی اختیارات کا کوئی جزء بھی اس کو حاصل نہیں ہے اور نہ وہ خدا کا قائم مقام ہے۔ خدا کا خلیفہ یا نائب کہنے سے غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے اس لیے خلیفہ کا ترجمہ با اختیار زیادہ موزوں ہے اور یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے۔

 

۷۲۔۔۔۔۔۔یعنی جو اس حقیقت کو ماننے سے نکار کرے گا کہ اللہ نے اس کو خلیفہ بنایا ہے اور اس کے بر خلاف اپنے کو خود مختار قرار دے گا تو اس کی حیثیت اللہ کے باغی اور بہت بڑے مجرم کی ہو گی اور اس کا سارا وبال اسی پر پڑے گا۔

 

۷۳۔۔۔۔۔۔یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن کو تم نے خدا بنا رکھا ہے اس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل تمہارے پاس ہے ؟ اگر ہے تو بتاؤ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیا حصہ ہے ؟ اگر آسمان و زمین کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے تو پھر وہ خدا کیسے ہوۓ ؟ اگر متعدد خداؤں کے حق میں کوئی عقلی دلیل موجود نہیں ہے تو کیا کوئی آسمانی کتاب تمہارے پاس موجود ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہو ؟ اگر ایسا نہیں ہے اور واقعہ یہی ہے کہ متعدد خداؤں کے وجود کی نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ اس کی تائید میں تم کوئی آسمانی کتاب پیش کر سکتے ہو تو پھر تمہارا یہ عقیدہ بے بنیاد نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور اس بے بنیاد اور جھوٹے عقیدہ سے وابستہ رہنے کے لیے تم ایک دوسرے کو جو امیدیں دلاتے ہو کہ یہ عقیدہ اور یہ مذہب ہی تمہیں مالا مال کرنے والا ہے وہ اس کے سوا کیا ہیں کہ ایک دوسرے کو سبز باغ دکھانا اور دھوکہ میں رکھنا۔

 

مشرکین عرب کے پاس تو کوئی مذہبی کتاب تھی ہی نہیں جس کے آسمانی ہونے کا دعویٰ کرتے مگر مشرکین ہند کے پاس قدیم مذہبی کتاب دید موجود ہے جس میں متعدد دیوتاؤں کا تصور پایا جاتا ہے لیکن وید نہ خود آسمانی کتاب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور نہ اس کے وحی الہٰی ہونے کی کوئی شہادت موجود ہے یہاں تک کہ یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا مصنف یا پیش کرنے والا کون تھا۔

 

وید کے بارے میں سی کنہن راجا لکھتے ہیں :

 

“In Most of the religions, the person who had the revelation had that revelation imparted by a God, Even within the scheme of the rituals of the Vedas, there is no such original Teacher of the religion and there are no dogmas for belief.”

 

(The Quintessence of the Rigveda P.6)

 

اس لیے وید میں پاۓ جانے والے متعدد خداؤں اور دیوتاؤں کے تصور کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

 

۷۴۔۔۔۔۔۔یعنی ان کو جس طرح قائم کر دیا گیا ہے قائم رہیں۔ زمین کہیں لڑھک نہ جاۓ اور آسمان کہیں گر نہ پڑے۔

 

۷۵۔۔۔۔۔۔یعنی اگر اللہ آسمانوں اور زمین کی گرفت ڈھیلی کر دے یا ان کو زائل کر دے تو ان کو اپنی جگہ قائم رکھنے والا کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین اللہ کے قائم کرنے سے قائم ہیں اور اگر وہ ان و قائم رکھنا نہ چاہے تو کوئی نہیں جو ان کو قائم رکھ سکے۔

 

۷۶۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ کافروں کی باتیں ایسی ہیں کہ اللہ کا غضب ٹوٹ پڑے اور آسمان و زمین کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاۓ لیکن اللہ برد بار ہے اس لیے اس کا غضب ٹوٹ نہیں پڑتا اور وہ معاف کرنے والا ہے اس لیے کافروں کو بھی مہلت دیتا ہے کہ وہ اس سے معافی کے خواستگار بن کر اصلاح کر لیں۔

 

۷۷۔۔۔۔۔۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد سے پہلے مشرکین مکہ یہود و نصاریٰ کو دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس اللہ کا کوئی رسول آیا تو ہم ان امتوں کے مقابلہ میں اپنے کو زیادہ ہدایت یافتہ ثابت کر دکھائیں گے۔

 

۷۸۔۔۔۔۔۔یعنی اللہ کے رسول اور دین کے خلاف جو سازشیں بھی کی جائیں گی ان کے حال میں بالآخر سازش کرنے والے ہی پھنسیں گے۔ اور دنیا نے دیکھ لیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف سازش کرنے والوں کی تدبیریں کس طرح الٹی پڑیں۔ یہ تو دنیا میں ان کا انجام ہوا اور آخرت میں تو ہولناک انجام سے انہیں دوچار ہونا ہے۔

 

۷۹۔۔۔۔۔۔یعنی رسولوں کو جھٹلانے کا جا انجام گزری ہوئی قوموں کا ہوا وہی انجام ان کا ہو جاۓ؟

 

۸۰۔۔۔۔۔۔یعنی اللہ کا دستور کہ اس کے رسول کو جھٹلانے والوں کو وہ دنیا میں تباہ کر دیتا ہے ایک اٹل دستور ہے۔ اس میں کسی قوم کے ساتھ رعایت نہیں برتی جاتی۔ ہر جھٹلانے والی قوم کا یہی حشر ہوا ہے لہٰذا قرآن کے پیغمبر کو جھٹلانے والی قوم کا بھی لازماً یہی حشر ہو گا۔ اللہ کی اس سنت(دستور) میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ اس کے مطابق ظاہر ہونے والے عذاب کو ٹالا جا سکتا ہے۔

 

مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ بنی اسرائیل نوٹ ۱۰۷۔

 

۸۱۔۔۔۔۔۔یہ منکرین کے اس شبہ کا جواب ہے کہ اگر ہم گمراہ ہیں تو اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا اگر اللہ لوگوں کو ان کے قصوروں پر فوراً پکڑتا تو پوری نوع انسانی کا خاتمہ ہو چکا ہوتا کیونکہ کوئی انسان ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قصور سرزد نہ ہوتا ہو لیکن اللہ لوگوں کو اصلاح کا موقع دیتا ہے یہاں تک کہ وہ گمراہ قوموں کو بھی ایک وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے رویہ کو دست کر لیں۔ جب یہ مہلت ختم ہو گی اور فیصلہ کا وقت آۓ گا تو اللہ دیکھ لے گا کہ اس کے بندوں نے کیا کیا ہے اور ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔ اس میں گمراہ اور غلط کار لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ ان کو کبھی پکڑنے والا نہیں ہے۔

 

***