دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الفَتْح

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

پہلی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کھلی فتح کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام " الفتح" ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

ذی قعدہ ۰۶ھ (۰۶۲۸ء) میں صلح حدیبیہ کے بعد واپسی کے سفر میں حدیبیہ اور مدینہ کے درمیان نازل ہوئی۔

 

مرکزی مضمون

 

رسول اور پیروانِ رسول کو خوشخبری کہ اسلام کے لیے فتوحات کا آغاز ہو گیا ہے۔ اور ان حالات پر تبصرہ جو صلحِ حدیبیہ کے موقع پر پیش آئے تھے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱  تا ۷  میں فتح کی خوشخبری دیتے ہوئے رسول اور اس کے پیرووں کے لیے ان انعامات کا ذکر کیا گیا ہے جن کو یہ فتح اپنے جِلو میں لائی ہے۔ اور منافقوں اور مشرکوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ یہ فتح ان کے لیے عذاب کا موجب ہو گی۔

 

آیت ۸  تا ۱۰  میں رسالت کے مقام کو واضح کیا گیا ہے اور رسول کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ کے ہاتھ پر بیعت سے تعبیر کیا گیا ہے اور رسول کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ کے ہاتھ پر بیعت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

آیت ۱۱  تا ۱۷  میں منافقین کو فہمائش اور تنبیہ ہے جو رسول کی دعوت پر آپ کے ساتھ نہیں نکلے کیونکہ انہیں اپنے مال اور اپنے گھر والوں کی فکر تھی اور رسول کے اس اقدام کو کہ مکہ جا کر عمرہ کریں خطرناک خیال کرتے رہے۔ البتہ جو لوگ واقعی معذور تھے ان کو بے قصور قرار دیا گیا ہے۔

 

آیت ۱۸  تا ۲۶  میں مخلص مومنوں کو جنہوں نے اس موقع پر جہاد کے لیے بیعت کی اور رسول کے حکم پر جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہو گئے رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی ہے۔ اور وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں بہ کثرت مالِ غنیمت حاصل کریں گے۔ اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہو گی اس لیے کافر ان کے مقابلہ میں ٹک نہیں سکیں گے۔

 

آیت ۲۷  تا ۲۹  میں اہلِ ایمان کو یہ مژدہ سنایا گیا ہے کہ رسول نے مسجد حرام میں داخل ہونے کا جو خواب دیکھا تھا وہ سچا تھا اور وہ پورا ہو کر رہے گا۔ رسول کے لیے غلبہ مقدر ہے اور اس کو ایسے مخلص ساتھی مہیا ہو گئے ہیں جن کی تصویر تورات اور انجیل میں دیکھی جا سکتی ہے۔

 

صلحِ حد یبیہ کیوں اور کیسے ؟

 

ہجرت کے بعد مسلمانوں پر قریشِ مکہ نے مسجدِ حرام کی زیارت کی راہ روک دی تھی۔ وہ نہ عمرہ ک سکتے تھے اور نہ حج جبکہ خانۂ کعبہ جو مسجد حرام میں واقع ہے کی تعمیر حضرت ابراہیم نے اللہ کے حکم سے کی تھی اور اس لیے کی تھی تاکہ وہ لوگوں کے لیے مرکزی عبادت گاہ قرار پائے اور وہ طواف، عمرہ اور حج ک سکیں۔ اس پر قریش کی اجارہ داری اور وہ بھی بت پرستی کی شکل میں ایک ایسی بات تھی جس سے اس کی تعمیر کا مقصد ہی فوت ہو رہا تھا نیز یہ مسلمانوں پر بہت بڑا ظلم تھا کہ وہ اپنے اصل مرکز سے بے تعلق ہو کر رہ جائیں۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ حق تھا کہ وہ مسجدِ حرام کی زیارت کریں۔

 

مسلمانوں اور کفارِ مکہ کے درمیان جنگِ بدر، جنگِ احد اور جنگِ خندق لڑی جاچکی تھی اور کفارِ مکہ بر سرِ پیکار ہی تھے کہ ۶ ۰ھ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رُؤیا (خواب) دیکھی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مسجدِ حرام میں داخل ہو گئے ہیں۔ چونکہ نبی کی رُؤیا سچی اور منجانب اللہ ہوتی ہے اس لیے آپ نے اللہ کی طرف سے یہ اشارہ پاتے ہی عمرہ (زیارت بیت اللہ) کا ارادہ کیا اور اس کا عام اعلان کر دیا تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں اور کافروں کو ان پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ آپ کی دعوت پر مدینہ کے چودہ سو مسلمان اس مہم میں شرکت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ذی قعدہ کی پہلی تاریخ کو یہ قافلہ مکہ کی سمت روانہ ہوا۔ مدینہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ذوا لحلیفہ میں عمرہ کا احرام باندھا۔ قربانی کے لیے اونٹ ساتھ لیے تھے جن کی گردنوں میں علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے تھے تاکہ کوئی شخص بھی ان کو دیکھ کر پہچان لے کہ یہ قربانی (ہدی) کے اونٹ ہیں اور اس بنا پر کوئی تعرض نہ کرے۔ جنگ کا چونکہ کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے جنگی سامان بھی ساتھ نہ لیا تھا۔ عام رواج کے مطابق صرف تلواریں ساتھ تھیں۔ اور و ہ بھی میانوں کے اندر۔ جب آپ کُراع الغُمیم پہنچے جہاں سے مکہ کا فاصلہ تقریباً سو کلو میٹر ہے تو معلوم ہوا کہ کفارِ مکہ کی طرف سے خالد بن ولید کی قیادت میں تین سو گھوڑے سواروں کا ایک دستہ آپ کے مقابلہ کے لیے پہنچ گیا ہے۔ چونکہ آپ جنگ کے ارادہ سے نہیں نکلے تھے اس لیے آپ نے اس قریب کے راستہ کو چھوڑ کر دور کا راستہ مکہ جانے کے لیے اختیار کیا اور حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے جہاں سے حرم کی حدود شروع ہو جاتی ہیں اور مکہ کا فاصلہ صرف ۲۲ کلو میٹر رہ جاتا ہے۔ اب اس مقام کو شُمَیسیہ کہتے ہیں۔

 

آپ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام دے کر مکہ بھیجا کہ وہ قریش سے کہیں کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ مقصد صرف عمرہ ہے نیز انہیں قبولِ اسلام کی دعوت بھی دیں۔ حضرت عثمان جب مکہ پہنچے تو ان کے قبیلہ والے عزت سے پیش آئے اور قریش نے بھی ان کو طواف کرنے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے طواف کرنے سے انکار کر دیا۔ قریش کسی طرح اس بات کے لیے آمادہ نہیں ہوئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں۔ اس بحث میں حضرت عثمان کی واپسی میں کچھ تاخیر ہو گئی۔ ادھر مسلمانوں کو تشویش ہوئی اور بظاہر یہ صورت پیدا ہو گئی کہ اب بزور ہی مکہ میں داخل ہونا پڑے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صحابہ کو جہاد کی بیعت کرنے کی دعوت دی چنانچہ صحابہ کرام نے آپ کے ہاتھ پر بلا تامل بیعت کی جو اس بات کا عہد تھا کہ اگر مشرکینِ مکہ عمرہ کی ادائیگی سے روکتے ہیں تو وہ بغیر جنگی سامان کے بھی محض اپنی تلواروں سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

 

یہ ایک تاریخی بیعت تھی جو بیعتِ رضوان کے نام سے مشہور ہوئی۔ جب قریش کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ مرعوب ہوئے اور انہوں نے سہیل بن عَمرو کی قیادت میں ایک وفد صلح کی بات چیت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجا۔ بات چیت کے بعد جو معاہدہ صلح طے پایا اس کی اہم دفعات یہ تھیں :۔

 

۱ ۔ امسال مسلمان مدینہ لوٹ جائیں اور آئندہ سال مکہ آ کر عمرہ کریں۔ اس موقع پر قریش ان سے کوئی تعرض نہیں کریں گے۔

 

۲ ۔ مسلمان اپنے ساتھ صرف تلواریں لا سکیں گے اور وہ میان میں ہو گی۔

 

۳ ۔ وہ مکہ میں صرف تین دن قیام کریں گے۔

 

۴ ۔ مسلمان اور قریش کے درمیان اب جنگ کی حالت باقی نہیں رہے گی اور یہ معاہدہ دس سال کے لیے ہے۔

 

۵ ۔ قریش کا کوئی آدمی اگر مدینہ آ جائے تو اسے واپس کرنا ہو گا اور اگر کوئی مسلمان قریش کے پاس آئے تو اسے واپس کرنا ضروری نہ ہو گا۔

 

۶ ۔ حرم کے اطراف میں رہنے والے قبائل کو اس بات کی آزادی ہو گی کہ وہ دونوں میں سے جس فریق کے ساتھ چاہیں ہو جائیں۔ اس کے بعد اس قبیلہ کی بھی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو معاہدہ نے اس فریق پر عائد کی ہیں۔ اسی طرح اس کے بھی وہی حقوق ہو ں گے جو معاہدہ کی رو سے اس فریق کے قرار پاتے ہیں۔

 

۷ ۔ ان قبائل میں سے اگر کسی قبیلہ سے تعرض کیا گیا تو اسے متعلقہ فریق کے خلاف زیادتی سمجھا جائے گا اور اس سے معاہدہ کالعدم ہو جائے گا۔ (صلح الحدیبیہ۔ محمد احمد باشمیل۔ ص۲۵۲ تا ۲۵۴)

 

اس معاہدہ کا ظاہری پہلو ایسا تھا کہ گویا مسلمانوں نے دب کر صلح کر لی ہے لیکن د ر حقیقت اس سے مسلمانوں کی پوزیشن کافی مضبوط ہو گئی تھی۔ کیونکہ اس سے اول تو مسجد حرام کی زیارت کی راہ کھل رہی تھی اور دوسرے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کا خاتمہ ہورہاتھا جس سے وہ رکاوٹ دور ہو رہی تھی جو اسلام کی اشاعت کی راہ میں حائل تھی اور لوگوں کو اسلام کے بارے میں آزادانہ غور و فکر کا موقع مل رہا تھا۔

 

معاہدۂ صلح سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے حدیبیہ ہی میں قربانی (ھَدْی) کے اونٹ ذبح کئے اور عمرہ کا احرام اتارا۔ اس کے بعد مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ تشریف لے گئے اور پر امن فضا میں آپ نے عمرہ ادا کیا۔ اس طرح وہ رؤیاء (خواب) سچی ثابت ہوئی جو آپ نے دیکھی تھی۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱ ۔ (اے نبی!) ہم نے تم کو یقیناً کھلی فتح عطا کی۔ ۱*

 

۲ ۔ تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے قصوروں کو معاف کر دے ۲*  اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے ۳*  اور تم کو سیدھی راہ چلائے۔ ۴*

 

۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور زبردست نصرت سے اللہ تمہاری مدد فرمائے۔ ۵*

 

۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی ۶*  تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ انہیں مزید ایمان حاصل ہو۔ ۷*  آسمانوں اور زمین کے تمام لشکروں کا مالک اللہ ہی ہے۔ ۸*  اور اللہ صاحبِ علم اور صاحبِ حکمت ہے۔ ۹*

 

۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اس نے یہ فتح اس لیے عطا فرمائی) تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور تاکہ ان سے ان کی برائیاں دور کر دے۔ اللہ کے نزدیک یہی بڑی کامیابی ہے۔ ۱۰*

 

۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور منافق مردو ں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے ۱۱*  جو اللہ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں۔ برائی کی گردش ان ہی پر ہے۔ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی۔ ان کے لیے اس نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

 

۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ میں ہیں اور وہ غلبہ والا حکمت والا ہے۔

 

۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اے نبی!) ہم نے تم کو گواہی دینے والا،۱۲*  خوشخبری دینے والا ۱۳*  اور خبردار کرنے والا ۱۴*  بنا کر بھیجا ہے۔

 

۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اس کی حمایت کرو اور اس کی تعظیم کرو ۱۵*  اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام۔ ۱۶*

 

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اے بنی!) جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا ۱۷*  تو جو شخص عہد توڑے گا وہ اپنی عہد شکنی کا وبا اپنے ہی اوپر لے گا اور جو اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ۱۸* اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

 

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئے گئے تھے ۱۹*  وہ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہم کو اپنے مال اور بال بچوں نے مشغول کر رکھا تھا۔ لہٰذا آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ یہ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلو ں میں نہیں ہیں۔ ۲۰*  کہو کون ہے جو اللہ کے مقابل تمہارے لیے کچھ اختیار رکھتا ہو اگر وہ تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانا چاہے ؟ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

 

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور اہلِ ایمان اب کبھی اپنے گھر والوں میں پلٹ کر نہ آ سکیں گے۔ ۲۱*  اور یہ بات تمہارے دلوں کو خوشنما معلوم ہوئی ۲۲*  اور تم نے برے گمان کئے ۲۳*  اور تم ہلاک ہونے والے بنے۔

 

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لایا تو ایسے کافروں کے لیے ۲۴*  ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ۲۵*

 

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے۔ ۲۶*  وہ مغفرت فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۲۷*

 

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دئے گئے ہیں ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی ساتھ چلنے دو ۲۸*  یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے قول کو بدل دیں۔ (ان سے) کہو تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔ ۲۹*  یہ کہیں گے نہیں بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ لوگ کم ہی سمجھتے ہیں۔ ۳۰*

 

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان بدووں سے جو پیچھے چھوڑ دئے گئے ہیں کہہ دو کہ عنقریب تمہیں ایک سخت زور آور قوم سے مقابلہ کے لیے بلایا جائے گا۔ تم کو ان سے جنگ کرنا ہو گی یا وہ اسلام میں آ جائیں گے۔ ۳۱*  اگر تم نے منہ موڑا جیسا کہ تم پہلے منہ موڑ چکے ہو تو وہ تم کو درد ناک سزا دے گا۔ ۳۲*

 

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نابینا (کے جہاد کے لیے نہ نکلنے) پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے اور مریض پر کوئی حرج ہے۔ ۳۳*  اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ۳۴*  اور جو روگردانی کرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا۔

 

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ راضی ہوا مومنوں سے جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ۳۵*  اس نے جان لیا ان کے دلوں کا حال۔ ۳۶*  اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل کی۳۷*  اور ان کو ایک قریبی فتح عطا کی۔ ۳۸*

 

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور غنیمت کے بہت سے مال جن کو وہ حاصل کریں گے۔ ۳۹*  اللہ غالب ہے حکمت والا۔ ۴۰*

 

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے تم سے بہ کثرت اموالِ غنیمت کا وعدہ کیا ہے جن کو تم حاصل کرو گے ۴۱*  اور فوری طور پر تم کو یہ (نُصرت) عطا فرائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے۔ ۴۲*  اور اس لیے ایسا کیا تاکہ مومنوں کے لیے ایک نشانی ہو ۴۳*  اور تمہیں سیدھی راہ پر چلائے۔ ۴۴*

 

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسرے اموالِ غنیمت بھی جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے لیکن اللہ نے ان کو احاطہ کر رکھا ہے ۴۵*  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

 

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ کافر تم سے جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ مدد گار۔ ۴۶*

 

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی سنت (قاعدہ) ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے ۴۷*  اور اللہ کی سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

 

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئے بعد اس کے کہ ان پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا۔ ۴۸*  اور جو کچھ تم کر رہے تھے اسے اللہ دیکھ رہا تھا۔

 

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی جگہ (یعنی قربان گاہ) پہنچنے نہ پائیں۔ ۴۹*  اور اگر ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں (مکہ میں) موجود نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے اور جن کے بارے میں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم انہیں نادانستگی میں کچل دو گے اور ان کے تعلق سے تم پر الزام آئے گا (تو جنگ رو کی نہ جاتی۔ روکی اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے۔ ۵۰*  اگر وہ الگ ہو گئے ہوتے تو ہم ان (مکہ والوں) میں سے جنہوں نے کفر کیا درد ناک سزا دیتے۔ ۵۱*

 

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی۔۔ جاہلیت کی حمیت۔۵۲*  تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی ۵۳*  اور ان کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا اور وہ اس کے حق دار اور اہل تھے۔ ۵۴*  اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

 

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے اپنے رسول کو سچی رؤیا (خواب) دکھائی تھی جو حق پر مبنی تھی۔ انشاء اللہ تم ضرور مسجدِ حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے۔ اپنے سر منڈاتے اور کتراتے ہوئے۔ تمہیں کوئی ڈر نہ ہو گا۔ ۵۵*  تو اس نے جانی و ہ بات جو تم نے نہیں جانی۔ ۵۶*  لہٰذا اس نے اس سے پہلے تم کو ایک قریبی فتح عطا کی۔ ۵۷*

 

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ تمام ادیان پر اس کو غالب کر دے۔ ۵۸*  اور (اس پر) اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے۔

 

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد اللہ کے رسول ہیں ۵۹*  اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ ۶۰*  تم انہیں رکوع اور سجدے کی حالت میں پاؤ گے۔ ۶۱*  (اور دیکھو گے کہ) وہ اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں سرگرم ہیں۔ ۶۲*  ان کی علامت ان کے چہروں پر  سجدوں کا نشان ہے۔ ۶۳*  ان کی یہ صفت تورات میں بیان ہوئی ہے۔ ۶۴*  اور انجیل میں ان کی مثال اس طرح بیان ہوئی ہے جیسے کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس کو تقویت دی پھر وہ موٹی ہوئی پھر اپنے تنہ پر کھڑی ہو گئی۔ ۶۵*  وہ کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان سے جلیں۔ ۶۶*  اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ۶۷*

تفسیر

 ۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد فتحِ مکہ ہے جس کی تمہید صلح حدیبیہ تھی۔ اس معاہدہ کے دو سال کے اندر (رمضان ۰۸ھ) مکہ فتح ہوا اور قرآن کی یہ پیشین گوئی کہ " ہم نے تمہیں کھلی فتح عطا کی ہے " سچی ثابت ہوئی۔ صلحِ حدیبیہ کا ظاہری پہلو مسلمانوں کے لیے ناگواری کا باعث تھا کیونکہ انہیں اس سال عمرہ کئے بغیر مدینہ لوٹنا پڑ رہا تھا لیکن اللہ کے رسول کی دور رس نگاہیں اس کے خوشگوار اثرات و نتائج کو دیکھ رہی تھیں اور واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی فتوحات کا سلسلہ صلح حدیبیہ کے بعد ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ علامہ ابنِ قیوم اس کی حکمتوں کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔

 

یہ تمہید تھی عظیم ترین فتح کی جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے رسول اور اپنے لشکر کو عزت بخشی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے۔ تو یہ صلح اس فتح کا باب اور اس کی کلید تھی نیز اس کا پیشگی اعلان تھا۔ ۔  یہ صلح فتحِ عظیم تھی کیونکہ اس سے لوگوں کو امن میسر آیا اور مسلمانوں کو کافروں سے ملنے جلنے ، ان کے سامنے دعوت پیش کرنے ، انکو قرآن سنانے اور بے خوف ہو کر ان سے اسلام پر علانیہ مذاکرہ کرنے کا موقع ملا۔ جو لوگ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے وہ ظاہر ہو گئے اور مدتِ صلح کے دوران اللہ نے جن کو توفیق دی وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اسی لیے اللہ نے اسے فتحِ مبین قرار دیا۔ ۔ ۔ بظاہر یہ صلح مسلمانوں کے لیے حق تلفی کا باعث تھی لیکن اس کے باطن میں عزت ، فتح اور نصرت تھی۔ " (زاد المعاد ج ۲ ص ۱۳۰)

 

واضح رہے کہ موجودہ زمانہ میں بعض حضرات اپنے غلط نظریات کے لیے صلح حدیبیہ کا سہارا لیتے ہیں جس سے جہاد کی اسپرٹ مجروح ہو جاتی ہے۔ وہ اسلام کی ایسی تعبیر کرتے ہیں کہ گویا وہ دشمنانِ اسلام کے لیے لوچ ہے اور مسلمانوں کو ان کے لیے نرم چارہ بن جانا چاہیے حالانکہ اسلام میں جنگ بھی ہے اور صلح بھی۔

 

صلحِ حدیبیہ تو ایک خاص موقع پر کی گئی تھی جس کی پیشکش کفارِ مکہ نے کی تھی نہ کہ مسلمانوں نے۔ مسلمانوں کو تو سورۂ محمد میں پہلے ہی یہ ہدایت دی جاچکی تھی کہ وہ صلح کے لیے پہل نہ کریں :۔

 

فَلاَ تَہِنُوا وَتَدْعُوا اِلٰی السَّلْمِ۔ (محمد:۳۵) " ہمت نہ ہارو اور صلح کے لیے نہ بلاؤ۔ "

 

پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ صلحِ حدیبیہ سے پہلے جنگِ بدر (۰۲ھ) اور جنگِ احد (۳ ۰ھ) لڑی گئی تھی اور خندق (۰۵ھ) کا معرکہ بھی پیش آ چکا تھا۔ اسی طرح صلحِ حدیبیہ کے ختم ہونے پر بزور مکہ فتح کیا گیا اور حنین میں جنگ کا بازار گرم ہوا۔ اور تبوک میں تو رومن ایمپائر کو چیلنج کیا گیا۔ تو کیا ان سب واقعات کو نظر انداز کر کے صلحِ حدیبیہ کو بے موقع پیش کرنا اور اس بنیاد پر ایک خاص فکر تشکیل دینا صریح بے اعتدالی اور یک رخا پن نہیں ہے ؟

 

۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ فتحِ مکہ کے بعد رسول کے مشن کی تکمیل ہو جاتی ہے اور اس کا مقصدِ بعثت پورا ہو جاتا ہے کیونکہ آخری نبی کے ذریعہ مرکز توحید کو مشرکوں سے پاک کر کے امتِ مسلمہ کے حوالہ کرنا اور اسلام کو اس طرح سر بلند کرنا کہ تمام ادیان پر اس کا غلبہ ہو وہ آخری غایت Goal تھی جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ اس آخری غایت کے حاصل ہو جانے کے بعد دنیا سے آپ کی رخصت کا وقت قریب آ جاتا ہے اس لیے آپ کو یہ بشارت سنائی گئی کہ فتحِ مکہ اپنے جِلو میں پروانۂ مغفرت لائی ہے۔ آپ سے جو قصور بھی سر زد  ہوئے ہیں یا آئندہ ہوں گے ان سب کے لیے آپ کے رب کی طرف سے معافی کا پیشگی اعلان ہے۔ یہ بشارت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سعی و جہد کو شرفِ مقبولیت بخشنے والی اور فرائض رسالت کی ادائیگی پر آپ کی قدر افزائی کا موجب تھی۔ اس خوشخبری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عبادت میں انہماک کا عالم یہ تھا کہ آپ کے پاؤں قیامِ لیل سے متورم ہو جاتے۔ جب صحابہ نے آپ سے پوچھا کیا آپ کے اگلے پچھلے قصور معاف نہیں کر دئے گئے ہیں تو آپ نے فرمایا:۔ اَفَلا اَکُونْ عَبْداً شَکُوراً (بخاری کتاب التفسیر) " کیا میں شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں ؟"

 

رہا یہ سوال کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قصر سر زد ہوئے تھے یا نہیں تو اس کی وضاحت سورۂ مومن کے نوٹ ۷۹ میں کی جاچکی ہے۔ اس کو پیش نظر رکھا جائے۔

 

انبیاء علیہم السلام کے بارے میں یہ بات مسلم ہے کہ وہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور غیر مشروط اتباع اسی کی کی جا سکتی ہے جو معصوم ہو۔ اس سے عصمتِ انبیاء کا حق ہونا خود بخود واضح ہو جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے کبھی کوئی قصور سر زد نہیں ہوا۔ قصور کا سرزد ہونا بشریت کا تقاضا ہے۔ نا دانستہ کسی قصور کے سر زد ہونے اور دانستہ کسی گناہ کا ارتکاب کرنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ پھر وحیِ الٰہی ان کے قصوروں پر انہیں متنبہ کر دیتی ہے اور وہ فوراً رجوع کر لیتے ہیں اس لیے لوگوں کے سامنے کسی غلط مثال کے پیش ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ قرآن نے خود بعض انبیاء علیہم السلام کے بعض قصوروں کا ذکر اس طور پر کیا ہے کہ انہیں ان پر متنبہ کیا گیا اور وہ فوراً اللہ کی طرف احساس عبدیت کے ساتھ رجوع ہو گئے۔ انبیاء علیہم السلام اپنے قصوروں کی معافی کے لیے دعا بھی کرتے رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی:۔ وَالَّذِیْ اَطْمَعُ اَن ییغْفِرَلِیْ خَطِیئَتِیْ یوْمَ الدِّینِ۔ (شعراء:۸۲ ) " اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن وہ میری خطائیں معاف کر دے گا۔ "

 

اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم روزانہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کیا کرتے تھے۔ (بخاری کتاب الدعوات)

 

۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔نعمت پوری کرنے سے مراد خیر سے مالا مال کرنا، عزت و سر فرازی عطا کرنا اور مرتبہ کو بلند کرنا ہے۔

 

۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی فتح سے ہم کنارے ہونے کے بعد بھی اللہ آپ کو راہِ راست پر چلائے گا۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ فتح یابی کے بعد ایک قائد غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور غلط روی اختیار کرتا ہے مگر آپ کا معاملہ ایسا نہیں۔ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کی توفیق اور رہنمائی میں سارے مراحل طے کر رہے ہیں اس لیے فتح یابی کے بعد بھی آپ راہِ ہدایت ہی پر چلتے رہیں گے۔ اور واقعات نے اس کی تصدیق کی چنانچہ فتح مکہ کے بعد آپ نے جس طرح زندگی گزاری اور اقتدار پاکر جس احساس ذمہ داری کے ساتھ اس کو استعمال کیا وہ آپ کا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ مکہ میں آپ فاتحانہ داخل ہوئے تھے مگر سر عبودیت جھکا ہوا تھا اور اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی بلکہ فرمایا:۔

 

لاتَثْرِیبَ عَلَییکُمْ الْیومَ " آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ "

 

۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی الہ کی طرف سے ایسی نصرت کہ جو بھی تم سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو کر رہ جائے گا۔ انجیل میں بھی اس کی پیشین گوئی موجود ہے :۔

 

" اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائیگی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دیدی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا پیس ڈالے۔ " (متی ۲۱:۴۳،۴۴) اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے :۔

 

نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ" میری رعب سے مدد کی گئی ہے۔ " (مسلم کتاب المساجد)

 

۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی حدیبیہ کے موقع پر جب کہ مسلمان احرام کی حالت میں تھے اور جنگ کی نوبت آ گئی تھی مسلمان سخت اضطراب میں مبتلا ہو سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد سکنیت نازل فرما کر کی اس لیے وہ مطمئن تھے اور جان ہاتھوں میں لے کر مکہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کوئی کمزوری نہیں دکھائی یہاں تک کہ انہیں صلح کا معاہدہ قبول کرنے میں بھی تامل ہوا جس سے ان کے حوصلہ اور ان کی جانفروشی کے جذبے کا اندازہ ہوتا ہے۔

 

۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔

 

جہاں تک عقیدہ کا تعلق ہے ہر صحیح العقیدہ مسلمان کا عقیدہ یکساں رہتا ہے لیکن ایمانی کیفیت میں حسنِ عمل اور ان قربانیوں کی بنا پر جو وہ دین کے لیے دیتا ہے اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ قرآن کی متعدد آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ (دیکھئے سورۂ انفال آیت ۲ ،نوٹ ۳  اور سورۂ توبہ آیت ۱۲۴، نوٹ ۲۲۶)۔

 

۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے وہ جس کو فتح کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

 

۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے اس کا ہر فیصلہ علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔

 

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ فتح اپنے پہلو بہ پہلو اہلِ ایمان کے لیے اخروی کامیابی کا مژدہ بھی لائی ہے کہ ان کی محنت ٹھکانے لگی، ان کی سعی مشکور ہوئی اور ان کو جنت کا پروانہ مل گیا۔

 

مومن عورتوں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا کیونکہ اس مہم کو سر کرنے میں وہ مردوں کی مددگار ہوئیں اور ان کے حوصلوں کو بڑھاتی رہیں۔

 

حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو تو اس سورہ میں اپنے اگلے پچھلے گناہ بخش دے ئے جانے کی بشارت سنائی گئی ہے مگر ہمارے لیے کیا ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی تمہارے لیے جنت ہے۔ (ترمذی۔ ابواب التفسیر)

 

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی فتح مکہ جہاں اہل ایمان کے لیے عنایت کا باعث ہو گی وہاں منافقین اور مشرکین کے لیے عذاب کا موجب ہو گی۔ چنانچہ مکہ کے بعد ان کی سر کوبی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔

 

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے دیکھئے سورہ احزاب نوٹ ۹۹۔

 

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے دیکھئے سورہ احزاب نوٹ ۱۰۰۔

 

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے دیکھئے سورہ احزاب نوٹ ۱۰۱۔

 

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی رسول کا مقام نہایت بلند مقام ہے لہٰذا  تمہیں چاہیے کہ اس پر ایمان لانے کے بعد اس کے حامی و ناصر بن کر کھڑے ہو جاؤ اور اس کی تعظیم و توقیر کرو۔

 

واضح رہے کہ تُعَزِّرُوْہٗ (اس کی حمایت کرو) اور تُوَقِّرُوْہٗ (اس کی تعظیم کرو) کے الفاظ رسول ہی کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں لہٰذا ضمیر (ہٗ) کا تعلق رسول ہی سے ہے۔ سورۂ اعراف آیت ۱۵۷ میں بھی عَزرُوہٗ (اس کی حمایت کی) کا لفظ رسول ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔

 

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔سَبِّحُوْہٗ (اس کی تسبیح کرو) میں ضمیر "ہٗ" اللہ ہی کے بارے میں ہو سکتی ہے کیونکہ تسبیح صرف اللہ ہی کی جا سکتی ہے اس لیے ترجمہ " اللہ کی تسبیح کرو" کیا گیا ہے۔

 

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے بیعتِ رضوان کی طرف جو حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب سے لی تھی کہ وہ بھاگیں گے نہیں اگرچہ انہیں موت کے منہ میں جانا پڑے۔ (مزید تفصیل آگے آیت ۱۸ کے ذیل میں آ رہی ہے)

 

یہ بیعت (عہد) جو رسول کے ہاتھ پر کی گئی تھی در حقیقت اللہ سے بیعت تھی کیونکہ رسول اللہ کا بھیجا ہوا ہوتا ہے اور وہ جو حکم دیتا ہے اللہ کے حکم سے دیتا ہے۔ لہٰذا اس سے عہد کرنا اللہ سے عہد کرنا ہے۔ اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ " ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ "

 

واضح رہے کہ قرآن میں صرف رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا ذکر ہوا ہے اور اس کی اہمیت اس سے واضح ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنا اللہ کے ہاتھ پر بیت کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ بیعت بیعت رسول کے ساتھ خاص ہے۔ اس کے علاوہ ایک بیعت وہ ہے جس کا ذکر حدیث میں آتا ہے اور وہ ہے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا۔ یہ بیعت خلیفہ کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس زمانہ میں حکومت کے سربراہ کے انتخاب کا وہ طریقہ رائج نہیں تھا اور نہ ان حالات میں وہ رائج ہو سکتا تھا جو موجودہ دور کی جمہوری حکومتوں میں رائج ہے اس لیے اربابِ حل و عقد کے مشورہ سے خلیفہ کا انتخاب ہوتا تھا اور لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت یعنی معروف میں اطاعت کا عہد کرتے تھے جس سےظاہر ہوتا تھا کہ انہوں نے اس شخص کو خلیفہ تسلیم کر لیا ہے۔ چنانچہ بنی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد خلفائے راشدین کے ہاتھ پر جو بیعت کی گئی اس کی نوعیت یہی تھی۔ خلیفہ کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کرنا تاکہ اسلام کا اجتماعی نظام قائم ہو اور اس نظام کے تحت احکام و قوانین کی بشرطیکہ وہ شریعت سے متصادم نہ ہوں پابندی کی جائے۔

 

رہی وہ بیعت جو پیر اپنے مرید بنانے کے لیے لیتا ہے تو یہ صریح بدعت ہے۔ شریعت نے نہ اس کا حکم دیا ہے اور نہ صحابہ کرام میں اس کا طریقہ رائج تھا۔ علاوہ ازیں اس میں طرح طرح کی قباحتیں ہیں مثلاً پیروں کی عقیدت میں غلو، بزرگ پرستی، اس قسم کی بیعت کو نجاتِ اخروی کے لیے کافی سمجھنا، پیروں کا اپنے بارے میں غلط زعم میں مبتلا ہونا اور اپنے مریدوں کی غلط رہنمائی کرنا، ان پر شریعت کی جگہ طریقت مسلط کر دینا اور سنت کو چھوڑ کر انہیں بدعتوں میں الجھائے رکھنا وغیرہ۔ اس لیے اس قسم کی بیعت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

 

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔عربی کے عام قاعدہ کی رو سے عَلَیہِ اللّٰہَ ہونا چاہیے تھا یعنی علیہ کی "ہ" کو زیر ہوتا لیکن آیت میں " ہ" پر پیش یعنی عَلَیہُ اللّٰہَ پڑھا جاتا ہے۔ اس قسم کا تصرف (تبدیلی) عربی کلام میں روانی پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہاں بھی عَلَیہ" کو پیش (۔) کے ساتھ پڑھنے سے کلام میں روانی پیدا ہو گئی ہے۔ اور کلامِ  الٰہی کی روانی تو دریا کی روانی سے بھی بڑھ کر ہے۔

 

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔مدینہ کے اطراف میں رہنے والے بدو ہیں جو عمرہ کی اس مہم میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے۔ ان پیچھے رہ جانے والوں کا ذکر المُخلَّفون (پیچھے چھوڑ دئے گئے تھے) کے لفظ سے کیا گیا ہے جس میں یہ اشارہ مضمر ہے کہ ان لوگوں نے جب پیچھے رہنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں پیچھے چھوڑ دیا اور انہیں نکلنے کی توفیق نہیں بخشی۔

 

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان بدوؤں کو کوئی واقعی عذر نہیں تھا اور نہ ان کو رسول کی دعوت پر اس مہم میں شریک نہ ہو جانے پر احساسِ ندامت ہے۔ ان کی دعائے مغفرت کی درخواست بھی محض منافقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ہے ورنہ سچے دل سے وہ مغفرت کے طالب نہیں ہیں۔

 

اس منافقت کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے اور وہ ہے دل سے ایمان نہ رکھتے ہوئے اپنے کو مسلمان ظاہر کرنا۔

 

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ منافقین سمجھ رہے تھے کہ جب مسلمان عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں گے تو قریش اور دوسرے قبیلے کے لوگ لازماً ان کے خلاف جنگ کریں گے اور مسلمان چونکہ جنگ کی تیاری کے ساتھ نہیں جا رہے ہیں اس لیے اپنا بچاؤ نہیں ک سکیں گے۔ اب رسول کے ساتھ مسلمانوں کی پوری جمعیت کا خاتمہ یقینی ہے۔ منافقین کا یہی گمان تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اس مہم میں رسول کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر اب وہ اس بات کو چھپا کر اپنی مشغولیت کا عذر پیش کر رہے ہیں۔

 

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جب وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کی جمیعت رسول کی قیادت میں ایک نہایت خطرناک مہم سر کرنے جا رہی ہے تو وہ چین سے کس طرح اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ ان کی یہ بزدلانہ حرکت انہیں اس لیے بھلی معلوم ہوئی کہ ان کی ذہنیت غلط تھی۔

 

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی تم نے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں برے گمان کئے۔ مثلاً یہ کہ اللہ کا وعدہ پورا ہونے والا نہیں اور نہ رسول کا خواب سچا ثابت ہونے والا ہے۔

 

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے رسول پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کو تو مانتا ہے لیکن اس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) پر ایمان نہیں لاتا وہ بھی کافر ہے۔ یہ آیت بھی اس کی صراحت کرتی ہے اور دوسری آیتیں بھی اس پر دلیل ہیں۔

 

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جہنم۔

 

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اللہ کے غیر محدود اختیارات کا ذکر ہے کہ وہ ان کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ ساتھ ہی وہ عدل کرنے والا اور حکمت والا ہے اس لیے وہ اپنے اختیارات کو عدل و حکمت کے ساتھ استعمال کرتا ہے اس لیے ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خواہ مخواہ کسی کو سزا دے۔

 

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ترغیب ہے بندوں کو اگر ان سے گناہ سر زد ہوئے ہیں تو وہ مایوس نہ ہوں بلکہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی مغفرت اور رحمت کے طلب گار بنیں۔

 

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے مستقبل قریب میں پیش آنے والی فتوحات کی طرف جو آسانی سے حاصل ہو سکیں گی اور جن میں کثیر مقدار میں مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا۔ چنانچہ صلحِ حدیبیہ کے کچھ ہی دنوں بعد محرم ۷ھ میں خیبر فتح ہوا جو مدینہ کے شمال مشرقی جانب تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں بدو آباد تھے اور یہ علاقہ مستحکم قلعوں ، زرعی زمینوں اور نخلستانوں کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ اس فتح میں کثیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور زرعی زمینوں اور نخلستانوں کی پیداوار سے مسلمانوں کے وسائل میں کافی اضافہ ہوا۔

 

یہ اموالِ غنیمت اللہ تعالیٰ نے بیعتِ رضوان کرنے والوں کے لیے خاص کر دئے تھے اس لیے اس نے اس غزوہ میں ان لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی جو عمرہ کے سفر میں اس کے پر خطر ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے تھے۔

 

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی غزوۂ خیبر کے پیش آنے سے پہلے جب کہ سورۂ فتح نازل ہوئی اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ حکم دے چکا تھا کہ ان پیچھے رہ جانے والوں کو مستقبل قریب میں پیش آنے والے اس غزوہ میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے جس میں اموالِ غنیمت کا حصول متوقع ہے۔ کیونکہ جب انہوں نے ایک پر خطر مہم میں رسول کا ساتھ نہیں دیا تو ان اموالِ غنیمت سے محرومی ان کے لیے مقدر ہو گئی۔

 

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عقل دی ہے خواہ وہ شہری ہو یا دیہاتی اور خواہ وہ عوام میں سے ہو یا خواص میں سے۔ اور یہ عقل اس لیے دی ہے تاکہ وہ سمجھداری کا ثبوت دے لیکن جب آدمی عقل سے کام نہیں لیتا تو نا سمجھی کی باتیں کرنے لگتا ہے۔

 

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے قبیلۂ ہوازن کی طرف جس کے ساتھ شوال ۸ھ  میں معرکہ آرائی ہوئی اور یہ غزوۂ مکہ ہی کے سلسلہ کی کڑی تھی۔ آپ کے ساتھ باہر ہزار کا لشکر تھا پھر بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بالآخر ہوازن کے قدم اکھڑ گئے اور لشکرِ اسلام کو کامیابی ہوئی اور بہ کثرت مالِ غنیمت ہاتھ لگا۔ اس کے بعد ہوازن کے لوگ بھی اسلام میں داخل ہوئے۔ اس طرح مکہ پر اسلام کا اقتدار مضبوط ہوا۔

 

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس تنبیہ کا اثر یہ ہوا کہ مدینہ کے اطراف کے مزینہ اور جہینہ جیسے بدو قبیلے جو حدیبیہ کے موقع پر پیچھے رہ گئے تھے فتح مکہ کی مہم میں شریک ہوئے اور حُنین میں ہوازن سے معرکہ آرائی کی جو نہایت زور آور قوم تھی۔

 

اس جہاد سے منہ موڑنے والوں کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے جس سے اس گناہ کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔ یہ گناہ اس لیے سنگین تھا کہ اولاً یہ اللہ اور اس کے رسول کے صریح حکم (جہاد کے حکم) کی کھلی نا فرمانی تھی۔ ثانیاً ایک ایسے نازک موقع پر جب کہ اسلام کو شدید خطرات کا سامنا ہو اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اجتماعی قوت درکار تھی گوشۂ عافیت میں بیٹھے رہنا کسی مسلمان کا کام نہ تھا۔ ثالثاً اللہ کا رسول اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر جہاد کے لیے نکل پڑے اور اس کے پیرو چین سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں یہ صریح منافقت ہے۔ اس لیے یہ جہاد جس میں رہنمائی اور قیادت کے لیے خود اللہ کا رسول موجود تھا ایمان کی کسوٹی قرار پایا۔ اس سے منہ موڑنے والے وہی لوگ ہو سکتے تھے جو اپنے ایمان میں مخلص نہ تھے۔

 

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایسے لوگ جو کسی واقعی عذر کی بنا پر جہاد میں شریک نہ ہو سکے ان پر کوئی گرفت نہیں۔ نابینا، لنگڑا اور مریض ہونا واقعی مجبوری ہے جس کا شریعت نے لحاظ کیا ہے۔

 

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی واقعی عذر کی بنا پر جہاد میں شریک نہ ہونے والوں پر کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخلصانہ اطاعت کرتے رہیں۔ ان کی اطاعت شعاری ہی انہیں جنت کا مستحق بنا سکتی ہے۔

 

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بیعت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ میں صحابہ کرام سے اس وقت لی جب حضرت عثمان جن کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا تھا کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں بلکہ عمرہ کے لیے آئے ہیں واپس نہیں آئے تو تشویش ناک صورت پیدا ہوئی کہ عمرہ ادا کر نے کے لیے اب کفارِ مکہ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا اور اس حال میں کرنا ہو گا کہ مسلمان احرام کی حالت میں ہیں اور ان کے پاس جنگی سامان بھی نہیں ہے۔ مدافعت کے لیے صرف تلواریں ہیں جو سفر میں ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ اس نازک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک درخت کے نیچے صحابہ کرام سے عہد لیا کہ وہ بھاگیں گے نہیں اور پیش نظر مقصد کے لیے اپنی جانیں لڑا دیں گے۔ صحابہ کرام نے جن کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی پورے جوش و خروش اور خوش دلی کے ساتھ یہ بیعت کی تھی۔ اس بیعت سے قریش مرعوب ہوئے اور انہوں نے صلح کی پیش کش کی اور اس سے پہلے حضرت عثمان بھی بسلامت واپس آ گئے۔ اللہ کو یہ بیعت جو ایک نازک موقع پر رسول کی معیت میں جان کی بازی لگانے کے لیے کی گئی تھی بہت پسند آئی اور بیعت کرنے والوں کو اس آیت کے ذریعہ خوشخبری دی کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ اس وجہ سے اس بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔

 

حضرت عثمان کی اس وقت تک مکہ سے واپسی نہیں ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی طرف سے خود بیعت کر لی اس طرح حضرت عثمان کو بھی اس بیعت میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ حضرت عثمان کی طرف سے آپ کا بیعت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے اس خبر پر یقین نہیں کیا تھا کہ حضرت عثمان مکہ میں قتل کر دئے گئے اور نہ اس افواہ کی بنا پر آپ نے صحابہ کرام سے بیعت لی تھی بلکہ کفارِ مکہ سے مزاحمت کے اندیشہ کی وجہ سے بیعت لی تھی۔

 

یہ آیت ان تمام صحابہ کو جو اس بیعت میں شریک تھے اللہ کی خوشنودی کی سند عطا کرتی ہے اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک فرقہ ایسا ہے جو چند افراد کو مستثنیٰ کر کے صحابہ کے پورے گروہ کو غلط کار ٹھہراتا ہے اور ان کو لعن طعن کرتا ہے۔ ان فرقہ کے لوگوں کی جسارت دیکھئے کہ اللہ نے جن لوگوں کے بارے میں اپنی خوشنودی کا اعلان کیا ہے ان سے وہ بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ کاش کہ یہ لوگ فرقہ بندی سے بالاتر ہو کر قرآن کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرتے !

 

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان کے دل کا خلوص اور ان کی وفا شعاری ظاہر ہو گئی۔

 

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی قلبی اطمینان اور سکون انہیں حاصل ہوا اور یہ چیز ان کی حوصلے بلند رہے اور ہر طرح کی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔

 

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد فتح خیبر ہے جو صلح حدیبیہ کے کچھ ہی دنوں بعد کا یعنی محرم ۷ ھ کا واقعہ ہے۔ یہ فتح اللہ کی طرف سے ایک انعام تھا جو بیعتِ رضوان کرنے والوں پر ہوا۔ " قریبی فتح " کی پیشین گوئی ایک یقینی امر تھا اس لیے اسے ماضی کے صیغے میں بیان کیا گیا۔

 

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ خیبر وغیرہ میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کی طرف ہے۔ اس پیشین گوئی کے مطابق خیبر میں جو اموالِ غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوئے ان میں سونے اور چاندی کا خزانہ، ایک ہزار نیزے ، چار سو تلواریں ، پانچ سو کمانیں اور سامانِ جنگ میں منجیق اور دبابے جیسی نت نئی چیزیں نیز کھیتیاں اور نخلستان شامل ہیں جن میں چالیس ہزار کھجور کے درخت تھے۔ ان کھیتوں اور نخلستان کو یہود کے ہاتھ میں اس شرط پر رہنے دیا گیا کہ وہ پیداوار کا نصف حصہ مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ اس طرح مدینہ کے مسلمانوں کے لیے یہ آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔ (غزوۂ خیبر۔ محمد احمد باشمیل۔ ص ۲۷۱۔ ۲۷۰) اور خیبر فتح ہوتے ہی فَدَک اور وادی القریٰ بھی فتح ہو گیا جو خیبر کے قریب زرخیز علاقہ تھا۔ اس علاقہ کے یہود سے بھی یہ معاملہ طے پایا کہ وہ پیداوار کا نصف مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ (کتاب مذکور ص ۲۹۷)

 

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ غالب ہے اس لیے اس کا یہ منصوبہ پورا ہو کر رہے گا اور ہو حکیم ہے اس لیے اس کا یہ فیصلہ بھی حکمت پر مبنی ہے۔

 

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی خیبر کے علاوہ دوسرے بہت سے اموالِ غنیمت بھی تمہیں حاصل ہوں گے۔ چنانچہ مستقبل قریب میں حُنین میں کثیر مقدار میں مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔

 

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی بیعتِ رضوان کا فوری ثمرہ تم کو یہ ملا کہ اللہ کی نصرت تمہیں حاصل ہوئی اور تمہارا رعب کفارِ مکہ پر ایسا چھا گیا کہ وہ تم پر ہاتھ اٹھا نہ سکے اور صلح پر آمادہ ہو گئے۔

 

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایک ایسے موقع پر جب کہ مسلمان احرام کی حالت میں ہونے کی وجہ سے جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اور دشمن کے علاقہ میں داخل ہو چکے تھے کفارِ مکہ کا مسلمانوں کے خلاف کاروائی نہ کرنا اور صلح پر آمادہ ہونا مسلمانوں کے حق میں اللہ کی نصرت کی واضح نشانی تھی۔

 

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اللہ قدم قدم پر تمہاری رہنمائی فرمائے۔

 

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے ان بڑی بڑی فتوحات کی طرف جو مستقبل میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی تھیں۔ خاص طور سے فارس اور روم کی فتوحات جن میں زبردست خزانے اور بہ کثرت اموالِ غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا۔

 

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اگر مکہ میں داخل ہونے کے لیے جنگ کی نوبت آ جاتی تو اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوتی اور کفارِ مکہ کو لازماً شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ اس لیے کہ اگرچہ مسلمانوں کے ساتھ سامانِ جنگ نہیں تھا لیکن جب وہ اللہ کی راہ میں جاں فروشی کے لیے تیار ہو گئے تو اللہ کی نصرت بھی ان کے حق میں یقینی ہو گئی۔ اور اللہ کی نصرت کے مقابلہ میں کافروں کو شکست ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ جنگِ بدر وغیرہ میں ہوا۔

 

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی سنت یعنی اس کا طریقہ اور قاعدہ یہ ہے کہ جب رسول کو بنفسِ نفیس میدانِ جنگ میں اترنا پڑتا ہے تو یہ جنگ حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر اللہ کی نصرت ہمیشہ اس کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ سورۂ روم میں ارشاد ہوا ہے :۔

 

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً اِلٰی قَومِہِمْ فَجَآءُ وْہُمْ بِالْبَینَاتِ فَانْتَقُمْنَا مِنَ الَّذِینَ اَجْرَمُوْوَکَانَ حَقّاً عَلَینَا نصْر ُالْمُؤمِنِینَ۔ (روم:۴۷ )  " ہم نے تم سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے تھے اور وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لیکر آئے تھے۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو سزا دی جنہوں نے جرم کیا اور ہم پر لازم تھی مومنوں کی نصرت۔ "

 

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی حدیبیہ میں بیعتِ رضوان کے بعد تمہاری پوزیشن کافی مضبوط ہو گئی تھی اور کفارِ مکہ کے حوصلے پست ہو گئے تھے تاہم جنگ دونوں کے لیے کچھ نا گزیر سی ہو گئی تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مصلحت متقاضی تھی کہ جنگ نہ ہو اس لیے اس نے فریقین کو مزاحمت سے روک دیا اور مصالحت پر آمادہ کیا۔

 

مزاحمت سے روکنے کی ایک صورت یہ بھی پیش آئی کہ کافروں کا ایک گروہ جس کی تعداد اسّی تھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کے ارادہ سے تنعیم کی پہاڑی سے صبح کی نماز کے وقت اتر آیا۔ صحابہ کرام نے ان کو پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ چونکہ اس موقع پر جنگ کو ٹالنا چاہتے تھے اس لیے ان کو رہا کر دیا۔ (دیکھئے ترمذی تفسیر سورۃ الفتح)

 

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کفار کی ہٹ دھرمی تھی کہ قربانی کے جانوروں کو بھی جن کا وہ بڑا احترام کرتے تھے قربان گاہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

 

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں وہ عظیم مصلحت بیان کی گئی ہے جس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے جنگ نہ ہونے دی اور صلح حدیبیہ کا معاملہ طے پایا۔ وہ یہ کہ مکہ میں مسلمان مرد اور عورتیں موجود تھیں جن کو صحابہ کرام نہیں جانتے تھے اس لیے ان کے جنگ کی زد میں آنے اور پامالی ہونے کا اندیشہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی بدولت ان پر رحم فرمایا اور جنگ کی نوبت آنے نہ دی۔ اگر وہ مسلمانوں کے ہاتھوں پا مال ہوتے تو یہ بات خود مسلمانوں کو ناگوار ہوتی اور دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ جو جنگ رسول کی قیادت میں لڑی گئی اس میں بھی مسلمانوں نے اپنے ہی بھائیوں کا گلا کاٹ دیا۔

 

اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر کافروں کی آبادی پر حملہ کرنا پڑے تو وہاں جو مسلمان موجود ہوں ان کو بچانے کی حتی الامکان کوشش کرنا چاہیے لیکن اگر جنگ نا گزیر ہو اور اس آبادی کے مسلمانوں کو بچایا نہ جا سکتا ہو تو ان کی وجہ سے جنگ کو ٹالا نہیں جا سکتا ور نہ کافروں کو مسلمانوں پر مسلط ہونے کا موقع ملے گا۔ حدیبیہ میں اللہ کی تدبیر سے جنگ ٹل گئی ورنہ بیعتِ رضوان اسی لیے کی گئی تھی کہ اگر جنگ کی نوبت آتی ہے تو مسلمان پیٹھ نہیں پھیریں گے۔

 

صلح حدیبیہ کی یہ مصلحت اللہ تعالیٰ نے بعد میں ظاہر فرمائی اور صحابہ کرام نے رسول کے حکم کی تعمیل تو اس مصلحت کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی کی تھی اگرچہ وہ اس صلح کو ناگوار خیال کر رہے تھے اور اس کی تلخیوں ہی کو دور کرنے کے لیے ان پر مصلحت واضح کر دی گئی اور ان کو کئی بشارتیں سنائی گئیں۔ واضح ہوا کہ حکم کی تعمیل مصلحت جاننے پر موقوف نہیں ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کا حکم اطاعت کے لیے کافی ہے خواہ اس کی مصلحت ظاہر ہو یا نہ ہو۔ صحابہ کرام کا یہی طریقہ تھا جس کی بنا پر ان کو توفیق پر توفیق عطا ہوتی رہی اور اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوئی۔ موجودہ دور کا مسلمان پہلے مصلحت جاننا چاہتا ہے اس کے بعد تعمیل کے لیے آمادہ ہوتا ہے اور نہیں بھی ہوتا۔ یہ بڑی غلط ذہنیت ہے جو اطاعت شعاری کے خلاف ہے۔

 

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جو مسلمان مکہ میں موجود تھے وہ اگر کافروں کی آبادی سے الگ ہو گئے ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ ہوتی کہ مسلمان مکہ میں بزور داخل ہوں اور پھر ان کے ہاتھوں کافروں کی سرکوبی کی جاتی۔

 

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔کفار مکہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ساتھیوں کو لے کر محض عمرہ ادا کرنے کے لیے آئے ہیں جو خالص دینی عمل تھا اور جس کا احترام وہ خود بھی کیا کرتے تھے لیکن جاہلیت کے جذبات کا ان پر ایسا غلبہ ہوا کہ ان کی رگِ حمیت بھڑک اٹھی اور انہوں نے اس بات میں عار محسوس کی کہ مسلمانوں کی یہ جمعیت ان کے شہر میں داخل ہو اس لیے انہوں نے محض اپنی ناک اونچی رکھنے کی خاطر مسلمانوں کو روکنا چاہا اور جب صلح کے لیے مجبور ہوئے تو اس شرط پر ان کا اصرار رہا کہ مسلمان اس سال نہیں بلکہ آئندہ سال آ کر عمرہ ادا کریں۔ پھر انہوں نے صلح نامہ کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرنے پر بھی اعتراض کیا کہ رحمٰن کون ہے ہم نہیں جانتے بِسْمک اَللّٰہُمَّ (تیرے نام سے اے اللہ) لکھو۔ یہی ان کی حمیت جاہلیہ تھی جس کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے۔

 

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی سکون و اطمینان کی ایسی کیفیت کہ وہ نا سازگار حالات سے متاثر نہیں ہوئے۔

 

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔کلمۃ التقویٰ (تقویٰ کی بات) کا پابند رکھا، کا مطلب یہ ہے کہ ان نازک لمحات میں ان کو یہ توفیق عطا ہوئی کہ وہ کوئی بات بھی تقویٰ کے خلاف نہ کریں۔ انہوں نے جس طرح بیعتِ رضوان کی اور صلحِ حدیبیہ کو ناگوار خیال کرنے کے باوجود رسول کے حکم کی اطاعت کی وہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

 

اور مزید یہ کہ جب انہیں عمرہ ادا کئے بغیر حدیبیہ سے لوٹنا پڑا تو انہوں نے نہ رسول کے خواب کو غلط ٹھہرایا اور نہ اس پر کوئی اعتراض کیا۔ اگر کوئی سوال کیا تو محض وضاحت کے لیے۔ اس طرح ان کی زبان سے تقویٰ ہی کی باتیں نکلیں۔ اور یہ توفیق انہیں اس لیے عطا ہوئی کہ وہ اپنے مخلصانہ ایمان کی بنا پر اس کے مستحق تھے اور اللہ کی راہ میں قربانیاں دے کر انہوں نے اپنے کو تقویٰ کا اہل ثابت کر دیا تھا۔

 

ترمذی کی حدیث میں ہے کہ کلمۃ التقویٰ سے مراد لا الٰہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) ہے۔ لیکن ترمذی نے خود صراحت کی ہے کہ یہ حدیث غریب ہے (اس لیے صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتی) تاہم یہ بات اس لحاظ سے صحیح ہے کہ تقویٰ کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ ہے اس لیے کلمۂ تقویٰ اصلاً لا الٰہ الا اللہ ہی ہے۔

 

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور عمرہ ادا کیا ہے۔ اس خواب کو ہی اشارۂ الٰہی سمجھ کر آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے نکل پڑے تھے لیکن حُدیبیہ سے جب عمرہ کئے بغیر لوٹنا پڑا تو صحابہ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ نبی کا خواب تو سچا ہوتا ہے پھر عمرہ کئے بغیر ہم کس طرح لوٹ رہے ہیں ؟ اسی کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ یہ رؤیا (خواب) اللہ کی طرف سے تھی جو بالکل سچی اور حق پر مبنی تھی اس لیے یہ لازماً پوری ہو کر رہے گی۔ تم لوگ ضرور مسجدِ حرام میں داخل ہو گے اور امن کے ساتھ داخل ہو گے۔ کسی قسم کا خوف و خطر نہیں ہو گا۔ تم احرام کی حالت میں ہو گے اور اطمینان سے مناسک ادا کرو گے۔

 

حدیث میں آتا ہے کہ یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا میں نے یہ کب کہا تھا کہ امسال تم مکہ میں داخل ہو گے۔ تم مکہ میں داخل ضرور ہو گے اور طواف بھی کرو گے۔ (بخاری کتاب الشروط) یہ خواب دوسرے سال پورا ہوا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ذی قعدہ ۷ ھ میں صحابہ کے ساتھ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا جسے " عمرۃُ القضا" کہتے ہیں۔ اس موقع پر کفارِ مکہ نے تین دن کے لیے شہر خالی کر دیا تھا اس لیے مسلمانوں نے امن و اطمینان کے ساتھ عمرہ کے تمام مناسک ادا کئے۔ اس طرح خواب بھی سچا ہوا اور قرآن کی صداقت بھی ظاہر ہوئی۔

 

عمرہ کا احرام جب اتارا جاتا ہے تو سر کے بال منڈھائے یا ترشوائے جاتے ہیں اور آیت میں اس کے ذکر سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ تم مسجدِ حرام میں احرام کی حالت میں داخل ہو گے اور بہ اطمینان عمرہ کے تمام مناسک ادا کر کے احرام اتارو گے۔

 

عمرہ اور حج کا احرام اتارتے وقت سر کے بال منڈانا بھی جائز ہے اور کتروانا بھی لیکن منڈوانا افضل ہے۔

 

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی تم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بغیر جنگ کئے تم امن کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گے لیکن اللہ کو یہ معلوم تھا اس لیے اس نے تم کو پیشگی اس کی خبر دی۔ اسی طرح وہ مصلحت بھی جس کا ذکر اس سے پہلے ہوا تم نہیں جانتے تھے مگر اللہ جانتا تھا اس لیے اس نے جنگ کی نوبت آنے نہیں دی اور عمرہ آئندہ سال کے لیے مقدر کر دیا۔

 

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد صلح حدیبیہ ہے جو عمرہ کی ادائیگی سے پہلے ایک نوری فتح بن گئی کیونکہ اس نا جنگ معاہدہ نے پورے عرب میں اشاعتِ اسلام کی راہ کھول دی نیز یہ فتح مکہ کا دیباچہ بن گئی۔

 

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی تشریح سورۂ توبہ نوٹ ۶۵  میں گزر چکی جو اس موقع پر بھی پیش نظر رہے۔ وہاں ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ لِیظْہِرَہٗ (تاکہ اس کو غالب کر دے) کا فاعل اللہ ہے نہ کہ رسول۔ اس کی تائید میں چند مفسرین کے اقوال یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔ ابن جریر طبری فرماتے ہیں :۔

 

" اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرماتا ہے کہ اے محمد تمہارا رب اپنے کو گواہ کر کے فرماتا ہے کہ وہ اس دین کو جس کے ساتھ تمہیں مبعوث کیا ہے غالب کرے گا۔ "پھر اس کی تائید میں حضرت حسن کا قول نقل کیا ہے۔ (تفسیر طبری ج ۲۹ ص ۶۹ )

 

علامہ زمخشری لکھتے ہیں :۔

 

" اللہ تعالیٰ انہیں شہروں پر فتح عطا کرے گا اور ممالک پر ایسا تسلط بخشے گا کہ فتح مکہ کو وہ کمتر خیال کرنے لگیں گے۔ " (الکشاف ج ۳ ص ۵۵۰)

 

علامہ شوکانی لکھتے ہیں :۔

 

" یعنی اللہ کا گواہ ہونا کافی یہ اس اِظہار (غلبہ) پر جس کا اس نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے۔ " (فتح القدیر ج ۵ص ۵۵  )

 

علامہ آلوسی فرماتے ہیں :۔

 

" اور یہ قول کسی شخصِ واحد کا نہیں ہے __اور غالباً اپنے محل کے لحاظ سے زیادہ واضح ہے __کہ دین کو ادیان پر غالب کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ وہ (یعنی اللہ) مسلمانوں کو تمام اہل ادیان پر اقتدار عطا کرے گا۔ (روح المعانی ج ۲۶ ص ۱۲۲ )

 

اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خود" اظہار دین " اللہ کی طرف منسوب فرمایا ہے چنانچہ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ آپ نے فرمایا:۔

 

فَوَاللّٰہِ لاَ اَزالُ اُجَاہِدُ عَلٰی الذّیْ بَعَثِنی اللّٰہُ بِہِ حَتّٰی یظْہِرَہٗ اللّٰہُ۔ (سیرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۵۷ )

 

" اللہ کی قسم جس (دین) کو دے کر مجھے اللہ نے بھیجا ہے اس کے لیے میں جہاد کروں گا یہاں تک کہ اللہ اس کو غالب کر دے۔ "

 

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی کوئی مانے یا نہ مانے اللہ کی شہادت یہ ہے کہ محمد اس کے رسول ہیں۔

 

محمدؐ رسول اللہ اسلام کے کلمہ کا دوسرا جز ہے۔ پورا کلمہ اس طرح ہے :۔

 

لاَ اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمِّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ" اللہ کے سوا کوئی الٰہ (خدا، معبود) نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ "

 

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ایمان اور کفر دو متضاد چیزیں ہیں اس لیے دونوں کے درمیان مستقل طور پر کشمکش برپا رہتی ہے اور یہ کشمکش جنگ کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے اس لیے اہلِ ایمان کافروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہو سکتے۔ وہ ان کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان بن جاتے ہیں اور جب معرکہ آرائی ہوتی ہے تو پوری قوت ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور ان کی سر کوبی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

 

واضح رہے کہ کافروں پر سخت ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عام حالات میں ان سے درشت لہجہ سے بات کی جائے یا دنیوی امور میں ان کے ساتھ بھلائی نہ کی جائے یا ان کے ساتھ بد اخلاقی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان سے بحیثیت انسان کے اچھا سلوک کیا جائے خواہ وہ کسی عقیدہ و مذہب کا پیرو ہو۔

 

اور مسلمانوں کا آپس میں رحم دل ہونا تو ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے حق میں سخت گیر نہیں بلکہ نرم خو مہربان اور شفیق ہوتے ہیں۔ حدیث میں ان کے باہمی تعلق کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

 

مَثَلُ الْمُوْمِنِینَ فِی تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَتَعمَا طُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَلٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَداعٰی لَہٗ سائِرالْجَسَد بِالَسَّہْرِ وَالْحُمّٰی۔ (مسلم کتاب البر) " مومن آپس کی محبت و رحم دلی اور ایک دوسرے پر مہربان ہونے میں ایسے ہیں جیسے ایک جسم کہ اگر اس کے عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ "

 

۶۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تعبیر ہے پابندیٔ وقت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی۔ دن میں پانچ وقت کی نماز کا اہتمام دیکھنے والے پر یہ اثر چھوڑتا ہے کہ یہ رکوع اور سجدے ہی میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کا نماز سے یہ لگاؤ ایک امتیازی وصف کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

۶۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان کی ساری دوڑ دھوپ اللہ کے فضل کی تلاش میں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ وہ قدم قدم پر اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں کہ وہ ان پر مہربان ہو اور اپنی بخششوں سے انہیں نوازے۔ اور ان کی آخری غایت یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہو۔

 

۶۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد وہ نشان ہے جو کثرتِ سجود سے پیشانی پر پڑتا ہے نیز خشوع کا وہ اثر بھی جو چہرہ پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ان کے چہرے ان کے باطن کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ سچے خدا پرست لوگ ہیں۔

 

۶۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کی یہ پہچان تورات میں بھی بیان ہوئی ہے جیسا کہ قرآن صراحت کرتا ہے لیکن موجودہ تورات سے یہ مضمون غائب ہے۔ اور یہ مضمون ہی نہیں نبی امی سے متعلق دوسری کتنی ہی پیشین گوئیاں جس کے تورات میں موجود ہونے کی قرآن صراحت کرتا ہے موجودہ تورات ان کے ذکر سے خالی ہے بجز دو تین پیشین گوئیوں کے جن کے ترجمہ میں بھی تحریف کر دی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تورات کے جو نسخے نزولِ قرآن کے وقت مدینہ کے یہود کے پاس موجود تھے اور جن کے پیش نظر قرآن نے تورات کے جا بجا حوالے دئے ہیں وہ نسخے اب باقی نہیں رہے۔ جو نسخے اب دستیاب ہیں ان میں بڑا خلا محسوس ہوتا ہے آخرت اور نماز کے ذکر کے اعتبار سے بھی اور نبی امی سے متعلق پیشین گوئیوں کے اعتبار سے بھی۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کتنی ہی باتیں تورات سے حذف کر دی گئیں ، کتنی ہی باتوں میں تحریف کر دی گئی اور کتنے ہی الفاظ کا غلط ترجمہ کر دیا گیا تاکہ اصل حقیقت پر پردہ پڑا رہے۔

 

۶۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔انجیل کے موجودہ نسخوں میں یہ مضمون اس شکل میں موجود ہے :۔

 

آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔ " (متی ۱۳:۳۱، ۳۲)

 

آیت میں بنی صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کی تعداد میں روز افزوں اضافہ، ان کی جمیعت کے استحکام اور اسلام کے تدریجی ارتقاء اور غلبہ کی تصویر پیش کی گئی ہے۔

 

۶۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جنہوں نے اس کھیتی (اسلام) کی کاشت کی اور اس کی آبیاری کرتے رہے وہ یہ دیکھ کر کہ کھیتی بہار پر آ گئی ہے خوشی سے جھوم اٹھے لیکن کافروں کو اسلام کا پھلنا پھولنا ناگوار ہوا اور مسلمانوں کو خوش ہوتا ہوا دیکھ کر ان پر برہم ہوئے اور ان پر جلنے لگے۔

 

۶۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی مسلمانوں کے گروہ میں جو لوگ اپنے ایمان میں مخلص اور کردار کے لحاظ سے نیک ہیں ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور انہیں بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ رہے نام نہاد مسلمان تو ان کے لیے یہ خوشخبری نہیں ہے۔

 

٭٭٭٭٭