دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ العَنکبوت

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم  کے نام سے

 

نام

 

 آیت ۴۱ میں غیر اللہ کو کار ساز بنانے والوں کو عنکبوت یعنی مکڑی سے تشبیہ دی گئی ہے جس کا گھر سب سے زیادہ بودا ہوتا ہے۔   اسی مناسبت سے اس سورہ کا نام "العنکبوت" ہے۔   

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضامین پر غور  کرنے سے اندازہ ہوتا ہے ہ یہ ہجرت حبشہ  کے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی ہو گی۔  

 

مرکزی مضمون

 

جو لوگ ایمان لا  کر دین اسلام  میں داخل ہو جاتے ہیں ان کو جن صبر آزما حالات سے گزرنا پڑتا ہے اس  کے پیش نظر ان کی حوصلہ افزائی کا سامان اور صبر و استقامت کی تلقین۔  

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۱۳ میں ان لوگوں کی رہنمائی کی گئی ہے جو ایمان لانے  کے بنا پر ستاۓ جاتے ہیں اور جنہیں طرح طرح کی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔   آیت ۱۴ تا ۴۰ میں متعدد انبیاء علیہم السلام کی سیر توں کا یہ پہلو پیش کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح ان سختیوں کا مقابلہ  کرتے رہے جو ان کی قوموں نے ان   کے ساتھ روا رکھیں اور آزمائشوں میں کس طرح حق پر جمے رہے۔   

 

آیت ۴۱ تا ۴۴ میں  مشرکین  کے لیے دعوت فکر ہے۔   

 

آیت ۴۸ تا ۶۰ میں منکرین  کے شبہات کا ازالہ بھی کیا گیا ہے اور اہل ایمان کو حالات کی مناسبت سے ہدایت بھی دی گئی ہیں۔   

 

آیت ۶۱ تا ۶۸ میں مسلمات (تسلیم شدہ حقیقتوں ) کو پیش  کر  کے توحید کی طرف ذہنوں کو موڑ دیا تیا ہے۔   

 

آیت ۶۹ اختتامی آیت ہے جس میں اللہ کی راہ میں جد و جہد  کرنے والوں کو اطمینان دلا یا گیا ہے کہ ان کو اللہ کی طرف سے توفیق اور اس کی رفاقت حاصل ہو گی۔   

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم  کے نام سے

 

۱ ۔۔۔۔۔۔۔  الف ، لام۔   میم ۱*  

 

۲ ۔۔۔۔۔۔۔  کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہہ دینے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لاۓ اور ان کو آزمایا نہ جاۓ گا ؟ ۲*

 

۳ ۔۔۔۔۔۔۔  حالانکہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کی ہم آزمائش  کر چکے ہیں ۳*۔   تو اللہ ان لوگوں کو ضرور جان  کر رہے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو جھوٹے ہیں۔   ۴*  

 

۴ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا ان لوگوں نے جو برائیوں کا ارتکاب  کر رہے ہیں یہ خیال  کر رکھا ہے کہ وہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ بہت بڑا فیصلہ ہے جو وہ  کر رہے ہیں ۵*  

 

۵ ۔۔۔۔۔۔۔  جو کوئی اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو (اسے جان لینا چاہیے کہ(  اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت ضرور آنے والا ہے ۶*۔   اور وہ سب کچھ  سننے اور جاننے والا ہے ۷*۔  

 

۶ ۔۔۔۔۔۔۔  اور جو ( اللہ کی راہ میں(  جدو جہد  کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ  کے لیے جدوجہد  کرتا ہے۔   اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے ۸*

 

۷ ۔۔۔۔۔۔۔   جو لوگ ایمان لاۓ اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کی برائیاں ہم ان سے دور  کر دیں گے اور ان کو ان  کے اعمال کی بہترین جزا دیں گے۔  ۹*

 

۸ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم نے انسان کو تاکید کی ہے کہ اپنے والدین  کے ساتھ نیک سلوک  کرے۔   لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو مریے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرا جس  کے شریک ہونے کا تجھے کوئی علم نہیں ہے ۱۰*   تو ان کی اطاعت نہ  کرو۱۱*  میری ہی طرف تک سب کو پلٹنا ہے پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا  کرتے رہے ہو۔  

 

۹ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جو لوگ ایمان لاۓ اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل  کریں گے ۱۲*

 

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔   لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لاۓ لیکن جب اللہ کی راہ میں ستاۓ جاتے ہیں تو لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو اللہ  کے عذاب کی طرح سمجھنے لگتے ہیں ۱۳*۔  اور اگر تم سارے رب کی طرف سے مدد آ گئی تو یہی لوگ کہیں گے کہ ہم تو آپ لوگوں  کے ساتھ تھے ۱۴*۔   کیا اللہ لوگوں  کے دلوں  کے حال سے بخوبی واقف نہیں ہے ؟۱۵*۔

 

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اللہ ضرور جان  کر رہے گا کہ کون لوگ ایمان والے ہیں اور کون منافق ہیں ۱۶*۔  

 

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اور کافر ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقہ پر چلو ہم تمہارے گناہ اپنے اوپر لے لیں گے ۱۷*  حالانکہ وہ ان  کے گنا ہوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں۔   وہ بالکل جھوٹے ہیں ۱۸*۔  

 

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور (ایسا ضرور ہو گا کہ(  وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ  کے ساتھ کچھ دوسرے بوجھ بھی ۱۹*  اور جو جھوٹ وہ گھڑتے رہے اس  کے بارے میں قیامت  کے دن ان سے ضرور باز پرس ہو گی ۲۰*۔   

 

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۲۱*  اور وہ ان  کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا ۲۲*۔  پھر ان کو طوفان۲۳*  نے گرفت میں لے لیا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے ۲۴*  

 

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔   مگر ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو نجات دی ۲۵*  اور اسے دنیا والوں  کے لیے ایک بڑی نشانی بنایا۲۶*  

 

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ابراہیم کو بھیجا ۲۷*  جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت  کرو اور اس سے ڈرو۲۸*۔  یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۲۹*

 

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔   تم اللہ کو چھوڑ  کر بتوں کی پرستش  کرتے ہو ۳۰*۔   اور تم جھوٹ گھڑتے ہو ۳۱*  تم اللہ  کے سوا جن کی پرستش  کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔   بس اللہ ہی سے رزق طلب  کرو۳۲ *  اور اسی کی عبادت  کرو اور اس  کے شکر گزار بنو۔  تم اسی کی طرف لوٹاۓ جاؤ گے ۳۳ *  

 

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اگر جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے کتنی ہی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر واضح طور سے پہنچا دینے  کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔  ۳۴*

 

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا۳۵*  انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ کس طرح پیدائش کی ابتداء  کرتا ہے پھر اس کا اعادہ  کرے گا۔   بے شک یہ اللہ  کے لیے نہایت آسان ہے ۳۶*  

 

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔  ان سے کہو زمین میں چل پھر  کر دیکھ لو کہ اللہ نے کس طرح پیدائش کی ابتداء کی پھر اللہ دوبارہ اٹھا کھڑا  کرے گا۔  بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۳۷*۔  

 

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔   جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرماۓ۳۸*  اور اسی کی طرف تم لوٹاۓ جاؤ گے ۳۹*۔  

 

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔   تم نہ زمین میں اس  کے قابو سے باہر نکل سکتے ہو اور نہ آسمان میں ۴۰*  اور تمہارے لیے اللہ  کے سوا نہ کوئی کار ساز ہے اور  نہ مدد گار۴۱*۔  

 

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جن لگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہی ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہو گۓ ۴۲*  اور  وہی ہیں جن  کے لیے درد ناک عذاب ہے۔   

 

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اس کی قوم کا جواب اس  کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا اسکو قتل  کرو یا جلا ڈالو۴۳*۔  مگر اللہ  نے اس کو آگ سے بچا لیا ۴۴*۔  یقیناً اس میں نشانیاں ہی ان لوگوں  کے جو ایمان لائیں ۴۵*۔  

 

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔   اس نے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ  کر بتوں کو آپس کی محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔   پھر قیامت  کے دن تم ایک دوسرے سے بے تعلقی کا اظہار  کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھجو گے۔   تمہارا ٹھکانہ آتش (جہنم)  ہو گا۔  اور تمہارا کوئی مدد گار نہ ہو گا ۴۶*۔  

 

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔   تو لوط نے اس کی تصدیق کی ۴۷*۔   اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت  کرتا ہوں ۴۸*۔  وہ غالب ہے حکمت والا۴۹*۔  

 

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے ۵۰*۔   اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۵۱*۔  اور ہم نے اس کا صلہ اس کو دنیا میں بھی دیا۵۲*  اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا ۵۳*۔  

 

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے لوط کو بھیجا ۵۴*۔  جب اس نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ بے حیائی کا وہ کام  کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ۵۵*۔  

 

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا تم مردوں  سے شہوت پوری  کرتے ہو اور رہزنی  کرتے ہو ۵۶ *  اور اپنی مجلسوں میں برے کام  کرتے ہو۔  ۵۷* تو اس قوم  کے پاس اس  کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا لے آؤ اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۵۸*

 

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔   اس نے دعا کی اے میرے رب !ان مفسد لوگوں  کے مقابلہ میں میری مدد فرما ۵۹*

 

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جب ہمارے فرستادے ابراہیم  کے پاس خوش خبری لے  کر پہنچے تو انہوں نے کہا ہم اس بستی  کے لوگوں کو ہلاک  کرنے والے ہیں۔   اس  کے رہنے والے بڑے غلط کار لوگ ہیں ۶۰*۔

 

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اس نے کہا وہاں تو لوط بھی ہے۔   انہوں نے کہا وہاں جو  بھی ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں۔   ہم اس کو اور اس  کے گھر والوں کو بچا لیں گے ، بجز اس کی بیوی  کے۔   وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے ۶۱*۔

 

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔   پھر جب ہمارے فرستادے لوط  کے پاس پہنچے تو وہ سخت تشویش میں پڑ گیا اور دل تنگ ہوا۶۲ *۔  انہوں نے کہ نہ ڈرو اور نہ غم  کرو۔  ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز تمہاری بیوی  کے۔   وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔   

 

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم اس بستی  کے لوگوں پر ان کی نافر مانیوں کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل  کرنے والے ہیں ۶۳*۔  

 

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے اس کی ایک واضح نشانی چھوڑی ہے ۶۴ *  ان لوگوں  کے لیے جو عقل سے کام لیں۔   

 

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اور ہم نے مدین کی طرف ان  کے بھائی شعیب کو بھیجا ۶۵*۔  اس نے کہا اے میری قوم  کے لوگو! اللہ کی عبادت  کرو ۶۶*  اور روز آخرت  کے امیدوار رہو۶۷* اور زمین میں فساد بر پا  کرتے نہ پھرو۶۸*۔  

 

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔   مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا تو ان کو لرزا دینے والی آفت نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں اوندھے پڑے رہ گۓ ۶۹*۔  

 

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اور عاد۷۰*  اور ثمود۷۱*  کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور تم پر ان کی بستیوں  کے آثار واضح ہیں ۷۲ *  شیطان نے ان  کے اعمال ان  کے لیے کوش نما بنا دیے اور ان کو راہ راست سے روک دیا حالانکہ وہ بڑے ہوشیار لوگ تھے ۷۳*۔  

 

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔   اور قارون۷۴*  اور فرعون اور ہامان۷۵* کو بھی ہم نے ہلاک  کر دیا۔   موسیٰ ان  کے پاس کھلی نشانیاں لے  کر آیا تھا مگر انہوں نے زمین میں تکبر کیا حالانکہ وہ زمین میں ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے۔   

 

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔   تو (دیکھو)  ہر ایک کو ہم نے اس  کے گناہ کی وجہ سے پکڑا۔ کسی پر ہم نے سنگ باری  کرنے والی آندھی بھیجی اور کسی کو ہولناک آواز نے آ لیا اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق  کر دیا ۷۶*۔  اللہ ان پر ظلم  کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم  کرتے رہے ۷۷*۔  

 

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔   جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ  کر دوسرے کارساز بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنا لیا اور تمام گھروں میں سب سے بودا گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے۔   کاش وہ اس (حقیقت) کو جانتے ! ۷۸*۔   

 

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔   بے شک اللہ ان چیزوں کو جانتا ہے جن کو یہ اس کو چھوڑ  کر پکارتے ہیں اور وہ غالب ہے حکمت والا۔  ۷۹*

 

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور یہ مثالیں ہم لوگوں ( کی فہمائش)  کے لیے بیان  کرتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں ۸۰*۔  

 

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق  کے ساتھ پیدا کیا ہے  ۸۱ *۔  یقیناً ا س میں بہت بڑی نشانی ہے ۸۲*۔  ایمان لانے والوں  کے لیے۔   

 

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔   تلاوت  کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے ۸۳*  اور نماز قائم  کرو۔  بے شک نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے ۸۴*۔  اور اللہ کا ذ کر بہت بڑی چیز ہے۔   ۸۵*  اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ  کرتے ہو۔  

 

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اہل کتاب سے بحث نہ  کر مگر بہتر طریقہ سے بجز ان  کے جو ان میں سے ظالم ہیں اور  کہو ہم ایمان لاۓ ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی تھی۔   ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور اہم اسی  کے مسلم (فرمانبردار) ہیں ۸۶*۔  

 

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔   ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے ۸۷*۔   تو جن کو ہم نے (پہلے) کتاب عطا کی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ۸۸*۔   اور ان لوگوں میں سے بھی بعض اور پر ایمان لا رہے ہیں ۸۹*۔   اور ہماری آیتوں کا انکار تو وہی لوگ  کرتے ہیں جو کافر ہیں ۹۰*۔

 

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔   (اے نبی!) تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے دہنے ہاتھ سے لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست شک  کرتے ۹۱*۔  

 

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔   در حقیقت یہ کھلی آیات ہیں جن لوگوں  کے سینوں (دلوں)  میں جن کو علم عطا ہوا ہے ۹۲*۔   اور ہماری آیتوں کا انکار تو ظالم ہی  کرتے ہیں۔   

 

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ لوگ کہتے ہیں اس پر اس  کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں ! ۹۳*۔   کہو نشانیاں تو اللہ ہی  کے پاس ہیں اور میں تو بس کھلا خبر دار  کرنے والا ہوں۔  

 

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا ان لوگوں  کے لیے یہ نشان کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ  کر سنائی جاتی ہے۔   بلا شبہ اس  کے اندر رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں  کے لیے جو ایمان لائیں ۹۴*۔   

 

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔   (اے پیغمبر !) کہو اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی  کے لیے کافی ہے ۹۵*۔   وہ جانتا ہے جو کچھ آٓسمانوں اور زمین میں ہے۔   جو لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ سے کفر  کرتے ہیں وہی تباہ ہونے والے ہیں ۹۶*۔  

 

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ لوگ تم سے جلد عذاب کا مطالبہ  کر رہے ہیں۔   اگر ایک  وقت مقرر نہ کیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آ چکا ہوتا۹۷*۔  اور یقیناً وہ ان پر اچانک آ جاۓ گا اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی ۹۸*۔  

 

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ تم سے جلد عذاب کا مطالبہ  کر رہے ہیں حالانکہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوۓ ہے ۹۹*۔  

 

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔   وہ دن کہ عذاب ان کو اوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور ان  کے پاؤں  کے نیچے سے بھی اور وہ فرماۓ گا کہ چکھو مزا اپنے  کر تو توں کا جو تم  کرتے رہے۔   

 

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اے میرے بندو جو ایمان لاۓ ہو میری زمین وسیع ہے تو میری ہی عبادت  کرو ۱۰۰*۔  

 

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔   ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے ۱۰۱*  پھر تم ہماری ہی طرف لوٹاۓ جاؤ گے۔   

 

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔   جو لوگ ایمان لاۓ اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم جنت کی بلند منزلوں میں جگہ دین گے ۱۰۲*  جن  کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔   کیا ہی خوب اجر ہے عمل  کرنے والوں  کے لیے !

 

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔   جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا۱۰۳*

 

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔   اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھاۓ نہیں پھرتے۔   اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی ۱۰۴*۔  وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے ۱۰۵*۔  

 

۶۱ ۔۔۔۔۔۔۔   اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور کس نے سورج اور چاند کومسخر  کر رکھا ہے تو وہ کہیں گے اللہ نے۔   پھر وہکس طرح (حق سے)  پھیرے جاتے ہیں ؟۱۰۶*  

 

۶۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس  کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ  کرتا ہے اور جس  کے لیے چاہتا ہے تنگ  کر دیتا ہے۔   بلا شبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۱۰۷*۔  

 

۶۳ ۔۔۔۔۔۔۔   اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی بر سایا اور اس سے زمین کو جب کہ وہ  کردہ ہو چکی تھی زندہ کیا تو وہ کہیں گے  اللہ نے۔   کہو حمد ہے اللہ  کے لیے ۱۰۸*  مگر اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ۱۰۹*۔  

 

۶۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر لہو و لعب۔  اور آخرت کا گھر ہی اصل زندگی (کی جگہ) ہے کاش یہ لوگ جان لیتے ! ۱۱۰*

 

۶۵ ۔۔۔۔۔۔۔   جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں دین (عاجزی و بندگی) کو اس  کے لیے خالص  کرتے ہوۓ ۱۱۱*  پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک  کرنے لگتے ہیں۔   

 

۶۶ ۔۔۔۔۔۔۔   تاکہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی اس کی وہ نا شکری  کریں اور (دنیا کی زندگی ہے)  مزے اڑائیں۔   تو عنقریب انہیں معلوم ہو جاۓ گا۔  

 

۶۷ ۔۔۔۔۔۔۔   کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک امن والا حرم بنایا ہے اور حال یہ ہے کہ لوگ ان  کے گرد و پیش سے اچک لیے جاتے ہیں ۱۱۲*۔  پھر کیا وہ باطل کو مانتے ہیں ا ور اللہ کی نعمت کی نا شکری  کرتے ہیں

 

۶۸ ۔۔۔۔۔۔۔  اور اس سے بڑھ  کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلاۓ جب کہ وہ اس  کے پاس آ چکا ہو ۱۱۳*۔  کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہو گا؟

 

۶۹ ۔۔۔۔۔۔۔   اور جو لوگ ہماری راہ میں جدو جہد  کریں گے ہم ۱۱۴*  ضرور ان پر اپنی راہیں کھول دیں گے ۱۱۵*  اور یقیناً اللہ نیکو کاروں  کے ساتھ ہے ۱۱۶*۔  

تفسیر

۱ ۔۔۔۔۔۔۔  حروف مقطعات کی تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۱۔  اور سورہ یونس نوٹ ۱۔  

 

امام رازی  کے اس موقع پر حروف مقطعات  کے بارے میں ایک اہم نکتہ بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ یہ حروف مخاطب کو متنبہ  کرتے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو جاۓ۔  ایک حکیم اپنا مدعا پیش  کرنے سے پہلے مخاطب کو اپنی طرف متوجہ  کر لیتا ہے۔   یہ حروف بھی با معنی کلام سے پہلے آۓ ہیں تاکہ ان  کے ذریعہ مخاطب کو پلے متنبہ کیا جاۓ۔  چنانچہ ان حروف کو جب الگ الگ پڑھا جاتا ہے تو ان کی آواز چونکا دینے والی ہوتی ہے اور اس سے کلام میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔   (دیکھیے تفسیر کبیر، ج ۲۵ ص    )

 

اس سورہ میں "الف" کا اشارہ ایمان کی طرف ہے جس کا ذ کر اس سورہ میں بار بار ہوا ہے مثلاً آیت ۲،۷،۹، ۱۱ ،۱۲، ۲۴،۴۴، ۴۵ وغیرہ میں۔  

 

"ل" کا اشارہ لِقاءَ اللہ (اللہ کی ملاقات) کی طرف ہے جس کا ذ کر آیت ۵ اور ۲۳ میں ہوا ہے۔   

 

اور "م" کا اشارہ منافقین کی طرف ہے جن کا ذ کر آیت ۱۱ میں ہوا ہے علاوہ ازیں اس سورہ میں جا بجا منافقت پر گرفت  کر تے ہوۓ سچے مؤمنین کی خصوصیات کو پیش کیا گیا ہے۔   

 

۲ ۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے ان صبر آزما حالات کی طرف جن سے قرآن اور اس  کے پیغمبر پر ایمان لانے والے دوچار تھے۔   کفار مکہ ان کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر بار اور اپنے وطن کو ترک  کرنے پر مجبور ہو گۓ تھے چنانچہ مسلمانوں کا ایک گروہ مکہ سے ہجرت  کر  کے حبشہ پہنچ گیا تھا۔   اس صورت حال  کے پیش نظر بعض لوگوں  کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا تھا کہ ایمان لانے  کے بعد حالات کی یہ نا ساز گاری کیسی ؟ اسی سوال کا جواب ان تمہیدی آیات میں دیا گیا ہے۔   

 

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسلام قبول  کرنے  کے بعد ان  کے دعواۓ ایمان کو پرکھنے  کے لیے انہیں آزمائشوں سے نہیں گزارا جاۓ گا تو یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔   (مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ بقرہ نوٹ ۳۱۰ )۔  

 

۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ کی سنت (قاعدہ ) یہی رہی ہے کہ جس زمانہ میں بھی لوگ کسی نبی پر ایمان لاۓ ہیں ان  کے ایمان کو پرکھنے  کے لیے وہ ان کو آزمائشوں سے گزارتا رہا ہے۔   لہٰذا اگر آج پیغمبر قرآن  کے پیروؤں کو صبر آزما حالات سے سابقہ پڑ رہا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟

 

۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ ان کو آزمائش کی بھٹی میں ڈال  کر دیکھے گا کہ سونا کھرا ہے یا کھوٹا۔  ان کا ایمان محض زبانی اقرار تھا یا صدق دل سے انہوں نے قبول کیا تھا۔   

 

کفار  کے ہاتھوں جو تکلیف اہل ایمان کو پہنچتی ہے اس پر اگر وہ صبر و استقامت اختیار  کرتے ہیں تو ان کا اپنے ایمان میں سچا ہونا ثابت ہو جاتا ہے اور اس راہ میں جو قربانیاں انہوں نے دیں ان کی وجہ سے ان کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو جاتا ہے اور ان  کے  کردار میں پختگی پیدا ہو جاتی ہے۔   مگر وہ لوگ جو شعوری طور پر ایمان نہیں لا چکے ہوتے جب کفار  کے ہاتھوں ستاۓ جاتے ہیں تو یا تو کھلم کھلا اسلام سے پھر جاتے ہیں یا اسلام سے براۓ نام تعلق باقی رکھتے ہیں۔   وہ اللہ سے بد گمان ہوتے ہیں اور اس  کے دین کی خاطر قربانی دینے کا کوئی جذبہ ان  کے اندر نہیں ابھرتا۔   وہ اسلام  کے لیے کوئی سرگرمی نہ دکھا  کر کفار سے اپنے  مفادات کا تحفظ  کرا لیتے ہیں۔   ایسے لوگ در حقیقت نفاق (منافقت) میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ  کے نزدیک وہ اپنے دعواۓ ایمان میں چھوٹے ہوتے ہیں۔   

 

آج بھی جو لوگ اپنے آبائی مذہب کو ترک  کر  کے اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں ان کو ان ہی  کے والدین یا خاندان والوں یا ان  کے فرقہ  کے لوگوں  کے ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔   اور اگر کوئی لڑکی اسلام قبول  کر لیتی ہے تو پھر اس کی خیر نہیں ہے۔   مگر ان حالات کا مقابلہ  کرنے  کے لیے وہ لوگ تیار ہو جاتے ہیں جو سوچ سمجھ  کر اسلام قبول  کر لیتے ہیں اور جن  کے دلوں میں ایمان اتر چکا ہوتا ہے۔   

 

۵ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ ان لوگوں کو تبنیہ ہے جو اسلام قبول  کرنے والے پر ظلم  کرتے ہیں۔   وہ اس خام خیالی میں نہ رہیں کہ ایسی حرکتیں  کر  کے وہ اہل ایمان کی راہ روک سکیں گے جب کہ اللہ نے ان کو غالب  کرنے کا فیصلہ  کر لیا ہو۔  انہیں سمجھ لینا چاہۓ کہ وہ اللہ  کے فیصلہ کو نافذ ہونے سے ہر گز نہیں روک سکتے۔   نہ اس کی گرفت سے خود بچ سکتے ہیں۔   

 

۶ ۔۔۔۔۔۔۔   اہل ایمان کو جو اللہ سے ملاقات  کے امید وار ہیں یہ اطمینان دلایا جا رہا  ہے کہ اس کا مقرر کیا ہوا ملاقات کا وقت لازماً آۓ گا یعنی قیامت کا دن جب سب کی پیشی اللہ  کے حضور ہو گی اور اہل ایمان اللہ سے مل کو خوش ہوں گے کہ وہ اپنی مراد کو پہنچ گۓ۔  

 

اللہ سے ملاقات کی یہ خواہش جب دل میں  کروٹیں لینے لگتی ہے تو وہ کافروں  کے ظلم و ستم  کے مقابلہ میں زبردست قوت مدافعت پیدا  کرتی اور ایسا شخص پہاڑ کی طرح اپنی جگہ جما رہتا ہے۔   

 

۷ ۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ مظلوم اہل ایمان کی فریاد سنتا ہے اور جانتا ہے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم اور جب وہ یہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تو وہ دن کیسے نہیں لاۓ گا جس میں مظلوم اہل ایمان کی داد رسی ہو اور ظالم کافروں کو ان  کے برے انجام کو پہنچایا جاۓ۔   

 

۸ ۔۔۔۔۔۔۔  متن میں لفظ یُجاھُد استعمال ہوا ہے جو مجاہدہ سے ہے اور جس  کے معنی ایسی جدوجہد  کے ہیں جس میں آدمی مقصد  کے حصول  کے لیے پوری طاقت لگاۓ اور کشمکش میں پڑ  کر مشقت برداشت  کرے۔   بعض حالات میں اسلام پر قائم رہنے ، اس  کے دین حق ہونے کی شہادت دینے اور اس  کے عملی تقاضوں کو پورا  کرنے میں ماحول  کے ساتھ بڑی کشمکش  کرنا پڑتی ہے  اور ہر قسم کی قربانیاں دینا پڑتی ہیں خاص طور سے ان لوگوں کو جو نۓ نۓ اسلام میں داخل ہوۓ ہیں۔   یہاں اسی جان توڑ محنت کو جو اللہ کی راہ میں کی جاۓ مجاہدہ (جہاد) سے تعبیر کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس مجاہدہ اور ان قربانیوں کا فائدہ اس شخص کو ہی پہنچے گا جو دین  کے لیے مجاہدہ  کرتا اور قربانیاں دیتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے کو اللہ کی رحمت اور انعام کا مستحق بناتا ہے۔   اللہ کو اس سے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔   وہ بے نیاز ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں۔   

 

۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ایمان لا  کر صالحیت کی زندگی گزارنے والوں  کے دامن پر برائیوں  کے جو داغ دھبے پڑے ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ مٹا دے گا۔  اور ان  کے بیک اعمال کی قدر  کرتے ہوۓ انہیں بہترین جزا دے گا۔  

 

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی کسی کو اللہ کا شریک ٹھیرانا ایک خلاف واقعہ بات ہے اور جو بات خلاف واقعہ ہو اس پر اعتقاد رکھنا کیا معنی ؟

 

" جس کا تجھے علم نہیں " کا مطلب یہ ہے کہ جس  کے بارے میں (اے انسان) تو نہیں جانتا کہ واقعی یہ چیزیں خدا ہیں بلکہ لوگوں نے محض اٹکل پچو سے ان کو خدا بنا لیا ہے۔   

 

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔   والدین  کے ساتھ حسن سولک کی ہدایت تعلیمات ربانی کا ہمیشہ سے جزء رہا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ والدین کی اطاعت اللہ کی اطاعت پر مقدم ہے۔   تمام اطاعتیں اللہ کی اطاعت  کے تحت ہیں اور خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت ہر گز جائز نہیں۔   اگر والدین اللہ  کے ساتھ شرک یا کفر  کرنے یا اس  کے دین کو قبول نہ  کرنے کا حکم دیتے ہیں تو یہ اللہ کی کھلی معصیت ہے اور معصیت  کے کاموں میں والدین کی اطاعت کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا لہٰذا اس معاملہ میں ان کا کوئی دباؤ قبول نہیں  کرنا چاہیے۔   

 

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کا واقعہ ہے کہ ان  کے ایمان لانے  کے بعد ان کی والدہ نے ان پر بہت دباؤ ڈالا کہ وہ اسلام کو ترک  کر دیں یہاں تک کہ اس نے قسم کھا لی کہ وہ نہ ان سے بات  کرے گی اور نہ کھاۓ گی اور نہ پیے گی جب تک کہ وہ اس دین کو چھوڑ نہ دیں۔   اسی سلسلہ میں ایک آیت نازل ہوئی۔  حضرت سعدؓ اسلام پر قائم رہے اور ان کی ماں کو بالآخر قسم توڑنا پڑی۔   (دیکھیے صحیح مسلم کتاب الفضائل)

 

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی صالحین  کے زمرہ میں داخل  کریں گے جو آخرت میں کامیاب ہونے والا گروہ ہے۔   

 

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ایمان  کے یہ مدعی اس تکلیف سے گھبرا اُٹھے ہیں جو دین  کے تعلق سے کافروں کی طرف سے انہیں پہنچتی ہے۔   اس صورت میں وہ ایمان  کے تقاضوں کو نظر انداز  کر دیتے ہیں اور رسول اور اہل ایمان کا ساتھ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔   اس طرح وہ دین کی راہ میں دنیوی خطرات کو مول نہ لے  کر اللہ کی طرف سے دی جانے والی سزا کو گوارا  کرنے  کے لیے تیار ہو جاتے ہیں حالانکہ لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفیں اس عذاب  کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں جو آخرت میں بھگتنا ہو گا۔   

 

آج کتنے ہی لوگ اسلام کو صحیح سمجھنے  کے باوجود محض اس لیے اس کو قبول  کرنے سے گریز  کرتے ہیں کہ اس صورت میں انہیں اپنے گھر والوں یا اپنے فرقہ  کے لوگوں کی طرف سے تکلیفوں کا سامنا  کرنا پڑے گا۔  رہا  اسلام نہ قبول  کرنے کی صورت میں آخرت کا عذاب تو یہ مرحلہ جب پیش آۓ گا تب دیکھا  جاۓ گا۔  اس طرح وہ اللہ  کے عذاب کو انسان  کے ذریعہ پہنچنے والی تکلیف  کے برابر سمجھنے لگتے ہیں اور اس بناء پر اللہ  کے عذاب کو گوارا کونے  کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن دنیا والوں  کے ہاتھوں پہنچنے  والی تکلیف کو گوارا  کرنے  کے لیے تیار نہیں ہوتے۔   

 

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔   اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جب اسلام اللہ کی نصرت سے ایک طاقتور دین بن جاۓ گا تو یہی لوگ جو ابھی اہل ایمان سے محض رسمی تعلق پر اکتفاء کیے ہوۓ ہیں بڑے فخریہ انداز میں کہنے لگیں گے کہ ہم تو تمہارے ساتھ رہے ہیں یعنی مسلمانوں میں شامل رہے ہیں اس طرح وہ مفت کا  کریڈٹ حاصل  کرنے کی کوشش  کریں گے اور اس بات کو بھول جائیں گے کہ آڑے وقت میں انہوں نے اسلام کا ساتھ ہر گز نہیں دیا تھا۔  

 

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔  یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ لوگ سچے دل سے  ایمان نہیں لاۓ تھے۔  اگر وہ سچے دل سے ایمان لاۓ ہوتے تو اسلام کی آگے بڑھ  کر حمایت  کرتے ، آزمائشوں میں اپنا رویہ درست رکھتے اور اللہ کی خاطر قربانیاں دیتے۔   

 

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔   " اللہ جان  کر رہے گا"۔  یعنی اللہ ضرور دیکھے گا کہ کون اپنے کو مومن مخلص ثابت  کر دکھاتا ہے اور کون اپنے منافق ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔   آزمائشی حالات مومن اور منافق  کے فرق کو نمایاں  کر دیتے ہیں۔   واضح رہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ  کے ہاں وہی معتبر ہے جو صحیح عقدہ اور دل کی تصدیق  کے ساتھ ہو۔  یہ ایمان دل میں ایک خاص کیفیت اور ایک خاص نور پیدا  کر دیتا ہے جس سے مومن کی پوری زندگی جگمگا اٹھتی ہے۔   اس  کے بر خلاف منافق عقیدہ کا اظہار تو  کرتا ہے لیکن اس کا دل اس کی تصدیق نہیں  کرتا اس لیے اس  کے دل میں  سرے سے موجود ہیں نہیں ہوتا۔  یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان  کے تقاضوں کو پورا  کرنے  کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اور نہ اس کی زندگی میں ایمان  کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔   

 

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں جو وہ عوام سے اور خاص طور سے ا پنے ماتحت  لوگوں سے کہتے ہیں  کہ تم ہمارے مذہب پر چلتے رہو اور اس کو چھوڑ  کر اسلام قبول نہ  کرو۔   وہ کہتے ہیں اول تو قیامت آنے والی نہیں اورت اگر ٓ ہی گئی اور اس د ن یہ معلوم ہو گیا کہ اسلام ہی دین حق تھا تو تم نے ہمارے مذہب کو اختیار  کر  کے جن گنا ہوں کا ارتکاب کیا ہو گا  ان کی ذمہ داری ہم قبول  کر لیں گے۔   اور تمہارے گناہ اپنے سر لے لیں گے۔   

 

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی قیامت  کے دن وہ ان لوگوں کا گناہ جن کو وہ آج اپنے مذہب پر چلنے کا مشورہ دے رہے ہیں اپنے سر لینے  کے لیے ہر گز آمادہ نہ ہوں گے وہ جھوٹ بول  کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔   

 

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی وہ اپنے  گنا ہوں کا بوجھ تو اٹھائیں گے ہی ساتھ ہی دوسروں کو گمراہ  کرنے  کے گناہ کا بوجھ بھی انہیں اٹھانا ہو گا۔   

 

حدیث میں آتا ہے :

 

مَنْدَعَا اِلَی الضَّلا لَۃ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلَ اَثامٍ مَنْ تَبِعَہٗ لا یَنْقُصُ ذٰلکَ مِنْ اٰثا مِھِمْ شَیْئاً۔   (مسلم کتاب العلم) " جو شخص گمراہی کی طرف بلاۓ گا تو اس پر بھی گناہ کا بار ہو گا جس طرح اس پر چلنے والے گنہگار ہوۓ ہیں اور اس سے ان  کے گنا ہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی"۔   

 

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی مذہب  کے نام سے جو جھوٹ وہ گھڑتے رہے اور خدا کی طرف جو غلط باتیں وہ منسوب  کرتے رہے ان   کے بارے میں قیامت  کے دن انہیں خدا  کے حجور جوابدہی  کرنا ہو گی۔   

 

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔   یہاں حضرت نوح اور دیگر رسولوں  کے واقعات مختصراً پیش کیے گۓ ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو کیسے کٹھن حالات اور کیسی سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے۔   حضرت نوح  کے بارے میں تفصیلات  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۹۵۔   

 

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔   قرآن واقعات کی جزئی تفصیلات میں نہیں جاتا اس لیے اس نے کسی پیغمبر کی بھی عمر بیان نہیں کی لیکن چونکہ یہ واضح  کرتا مقصود ہے کہ نوح (علیہ السلام ) نے ایک غیر معمولی مدت دعوتی جد و جہد میں گزاری جو آزمائشی حالات میں صبر کی اعلیٰ مثال ہے اس لیے اس بات کی صراحت  کر دی کہ وہ اپنی قوم  کے درمیان نو سو پچاس سال تک رہے اور اس مدت کو پچاس کم ایک ہزار سال  کے اسلوب میں بیان  کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہزار کا عدد مدت کی طوالت کو بیان  کرنے  کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔   حضرت نوح نے نو سو پچاس سال تو اپنی قوم  کے درمیان گزارے اور قوم کی تباہی  کے بعد وہ کتنے عرصہ تک زندہ رہے اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی اس لیے ہم کہہ سکتے کہ حضرت نوح کی کل عمر کتنی تھی لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ان کی عمر نو سو پچاس سال بیان  ہوئی ہے۔   قدیم ترین زمانہ میں انسانوں کی عمریں موجودہ طبعی عمر  کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہوا  کرتی تھیں۔   چنانچہ بائیبل میں حضرت نوح  کے والد کی عمر سات سو ستہتر سال اور دادا کی عمر نو سو انہتر سال بیان ہوئی ہے۔   (دیکیے کتاب پیدائش باب ۵ ) اس وقت کا طبعی ماحول موجودہ ماحول سے بہت مختلف تھا اور تکلفات سے یکسر خالی نیز اس وقت انسانی آبادی بہت ہی مختصر تھی اس لیے قدرتی عوامل (Natural factors)  درازئ عمر  کے لیے بالکل ساز گار تھے۔   

 

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔   طوفان  سے مراد پانی  کا طوفان یعنی سیلاب ہے جس میں قوم نوح غرق  کر دی گئی۔

 

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی انہوں نے شرک اور کفر  کر  کے اپنے ہی اوپر ظلم کیا تھا اور اس ظلم پر وہ اخیر وقت تک قائم رہے۔   

 

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۰۳۔   

 

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی سفینۂ نوح کو دنیا والوں  کے لیے اس واقعہ کی یاد گار بنایا۔   جب تک یہ کشتی لوگوں  کے مشاہدہ میں آتی رہی اس واقعہ کو یاد دلاتی رہی اور لوگوں  کے لیے نشان عبرت بنی رہی۔  اس  کے بعد کشتی  کے واقعہ کو تاریخ  کے اوراق نے نیز قرآن نے اپنے اندر اس طرح محفوظ  کر لیا کہ رہتی دنیا تک لوگوں کو یہ سبق ملتا رہے گا کہ اللہ  کے عذاب سے نجات پانے والے وہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا  کر اس  کے رسول کی  پیروی  کرتے ہیں۔   

 

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ابراہیم کو رسول بنا  کر بھیجا۔   

 

تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۲۷۔   

 

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اللہ سے ڈرو یعنی اس کی نا فرمانی سے ڈرو اور اللہ کی سب سے بڑی نافرمانی شرک اور بت پرستی ہے۔   

 

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اگر تم جہالت کو چھوڑ دو اور یہ جاننے کی کوشش  کرو کہ تمہاری اپنی بھلائی کس چیز میں ہے تو یہ بات بآسانی تمہاری سمجھ میں آ سکتی ہے کہ خداۓ واحد کی عبادت  کرنا اور اس سے ڈرتے ہوۓ زندگی گزارنا ہی صحیح ، نتیجہ مخش اور فوز و فلاح کا باعث ہے۔   

 

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی جن کو تم پوجا  کرتے ہو وہ خدا نہیں بلکہ محض بت ہیں۔   پتھر  کے یہ مجسمے خدائی کی کوئی صفت بھی اپنے اندر نہیں رکھتے ان کی حقیقت مٹی پتھر سے زیادہ کچھ نہیں۔   پھر ان کو خدا سمجھ  کر پوجنے کا کیا مطلب؟

 

بت پرستی کا نامعقول ہونا بالکل واضح ہے اور اس کی جائز ہونے کی سرے سے کوئی دلیل موجود ہی نہیں ہے مگر تعجب ہے کہ ماضی ہی میں نہیں موجودہ دور میں بھی جو علم اور عقل کا دور کہلاتا ہے بہت سے لوگ بت پرستی میں مبتلا ہیں اور جب بت پرستی کی تائید میں کوئی دلیل نہیں ملتی تو عجیب                      عجیب باتیں کہنے لگتے ہیں " آؤٹ لائنز آف ہندو ازم"  کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں :

 

 "The Idol is the most concrete of God's form"

 

"بت خدا کی سب سے زیادہ ٹھوس شکل ہے "۔  

 

“and the belief is that God descends into the idol and makes it divinely alive so that how may be easily accessible to his devotees.” (Out lines of Hinduism by T.M.P. Mahadevan p.193 – 194)

 

اور (اس  کے پیچھے ) عقیدہ یہ ہے کہ خدا اتر  کر بت  کے اندر داخل ہوتا ہے اور اسے خدائی زندگی بخشتا ہے تاکہ اس  کے پرستار نہ آسانی اس تک رسائی حاصل  کر سکیں "۔

 

جب بت پرستی کی تائید میں کوئی دلیل نہیں ملتی تو اس  کے حامی ایسی ہی بے ہودہ باتیں  کرنے لگتے ہیں۔   کاش یہ لوگ عقل  کے ناخن لیتے !

 

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی خدا بھی تمہارے من گھڑت ہیں اور مذہب بھی تمہارا من گھڑت۔  اس طرح جھوٹ ہی جھوٹ ہے جس کو تم نے خدا اور مذہب کا نام دے رکھا ہے۔   

 

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی رزق دینا نہ ان بتوں  کے اختیار میں ہے جن کو تم ان داتا سمجھ  کر پوجتے ہو اور نہ کسی اور  کے اختیار میں بلکہ صرف اللہ  کے اختیار میں ہے لہٰذا اسی سے رزق مانگو۔   

 

فَابْتَغُو ا عِنْد اللہِ الرِّزْقَ (رزق اللہ ہی  کے پاس طلب  کرو) کی صریح ہدایت  کے باوجود مسلمانوں کا ایم بڑا گروہ "اولیاء" سے رزق مانگتا ہے جو صریح شرک ہے۔   وہ جب "خواجہ" کو پکار  کر جھولی بھرنے  کے لیے کہتے ہیں تو انہیں شرک سے ملوث ہونے کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔  یہ اس لیے کہ " جاہل علما ء" نے ان کو یہی پٹی پڑھا دی ہے۔   اگر وہ قرآن کا کھلے ذہن سے مطالعہ  کرتے تو ان پر حق واضح ہوتا اور وہ گمراہی سے  بچ جاتے۔   

 

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی مرتے  کے بعد نہ تم بتوں کی طرف لوٹاۓ جاؤ گے اور نہ کسی اور کی طرف بلکہ اللہ ہی کی طرف لوٹاۓ جاؤ گے اور وہی تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا لہٰذا تمہارا حقیقی معبود وہی ہے جس کی طرف تمہیں پلٹنا ہے۔   

 

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی رسول کا کام اللہ کا پیغام صاف صاف پہنچا دینا ہے ماننا نہ ماننا تمہارا کا۔  

 

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم کا بیان اوپر کی آیت پر ختم ہوا۔  یہاں سے آیت ۲۳ تک کا مضمون اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضافہ ہے جیسا کہ کلام  کے اسلوب سے واضح ہے تاکہ موقع کی مناسبت سے قرآن  کے مخاطبین کو غور و فکر کی دعوت دی جاۓ۔  

 

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔   منکرین آخرت دوسری زندگی کو ناممکن خیال  کرتے تھے۔   ان  کے اس شبہ کو دور  کرنے  کے لیے انہیں پیدائش  کے آغاز پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ جس ہستی  کے لیے انسان جیسی مخلوق کو دم سے وجود میں لانا ممکن ہوا۔  اس  کے لیے اس کی اپنی ہی پیدا کی ہوئی چیز کو دوہرا نہ کیا مشکل ہے ؟

 

 (مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ حج نوٹ ۷ اور سورہ مومنون نوٹ ۱۸)۔  

 

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔   انسان جب اپنے ماحول سے باہر نکلتی ہے تو تخلیق  کے عجیب عجیب نمونے اس  کے مشاہدے میں آتے ہیں اور اسے دعوت فکر دیتے ہیں۔   مثال  کے طور پر سمندری سفر میں نت نئی مچھلیاں نظر آئیں گی، خشکی  کے سفر میں رنگ برنگ پرندے جنگل میں عجیب و غریب حیوانات غرض یہ کہ باہر کی دنیا ایک چڑیا گھر معلوم ہو گی جہاں زندگی  کے ہزاروں روپ دکھائی دیں گے۔   اگر مشاہدہ  کرنے والے کا ضمیر جاگ رہا ہو تو وہ پکار اٹھے گا کہ یہ ایک ایسی ہستی کی تخلیق ہے جو عظیم قدرت کی مالک ، زبردست صناع ، تخلیق حیات پر پوری طرح قادر ، علیم و حکیم اور صاحب جمال و صاحب کمال ہے۔   خالق کی یہ پہچان اس  کے اندر یہ یقین پیدا  کرے گی کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا  کرنے پر بھی قادر ہے اور قرآن دوسری مرتبہ اٹھا کھڑا  کرنے کی جو بات کہتا ہے وہ بالکل حق ہے۔   یہاں قرآن نے اسی اعلیٰ مقصد (Noble Cause)  کے پیش نظر زمین میں سفر  کرنے کی دعوت دی ہے۔   

 

معلوم ہوا کہ علم و تحقیق کی غرض سے جو اللہ کی راہ میں ہو سفر  کرنا خیر و برکت کا باعث ہے۔   

 

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔   اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ زمین میں سفر  کرنے سے قوموں  کے عروج و زوال کی تاریخ بھی تمہارے سامنے آۓ گی اور تمہیں معلوم ہو جاۓ گا کہ کتنی قومیں ہیں جو اللہ  کے عذاب کا نشانہ بنیں اور کتنی ہیں جو عذاب سے بچا لی گئیں اور اللہ کی رحمت میں پروان چڑھیں۔  

 

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی بالآخر تمہیں پہنچنا اللہ ہی  کے حضور ہے۔   

 

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔   جس طرح انسان اللہ  کے طبیعی قوانین (Physical  Laws) میں بندھا ہو ا ہے۔   وہ ہر جگہ اللہ کی گرفت میں ہے خواہ وہ زمین  کے کسی گوشہ میں چلا جاۓ یا کتنی ہی بلندی پر پہنچ جاۓ۔  آج کا انسان تو ہوائی جہاز میں بیٹھ  کر آسمان کی سیر  کرتا ہے  مگر اس کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو کسی حادثہ سے دو چار  کرنا چاہتا ہے تو اپنے کو بچانا اس  کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔   

 

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی تمہارے لیے حقیقی کار ساز اور مدد گار اللہ  کے سوا کوئی نہیں لہٰذا کسی اور کو کار ساز یا مدد گر سمجھ  کر اس  کے ساتھ وہ معاملہ نہ  کرو جو صرف اللہ  کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔   اور یاد رکھو اگر اللہ تم کو اپنے عذاب کی گرفت  میں لینا چاہے تو کوئی نہیں ہے جو تمہیں اس سے بچا س کے یا تمہاری مدد  کر س کے۔   

 

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اس آیت میں منکرین  کے تعلق سے ایک اہم حقیقت بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اگر اللہ سے اجر اور اس کی رحمت میں حصہ پانے کی امید رکھتے تو نہ اس کی آیات کو رد  کرتے اور نہ اس کی آخرت ہو گی اور نہ ہمارے لیے اللہ کی رحمت سے ہم کنار ہونے اور اس سے اجر پانے کا کوئی موقع ہو گا۔  زندگی تو بس دنیا کی زندگی ہے اس  کے بعد فنا ہو جانا ہے۔   اللہ کی رحمت میں حصہ دار بننے  کے لیے ہم باقی ہی کہاں رہیں گے۔   اور جب انہوں نے اللہ کی رحمت  کے بارے میں مایوسی کا موقف اختیار  کر لیا تو کوئی سجہ نہیں کہ وہ آخرت میں اللہ کی رحمت میں حصہ پا سکیں۔   اسی لیے وہ رحمت سے دور پھین دیے جائیں گے اور انہیں درد ناک سزا بھگتنا ہو گی۔  

 

جو لوگ کافروں  کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ  جہنم کی ابدی سزا کو جو کافروں کو دی جاۓ گی عجیب عجیب تاویلیں  کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ کی رحمت میں سے وہ بھی حصہ پائیں مگر وہ اس حقیقت کو نظر انداز  کرتے ہیں کہ کافر خود اللہ کی رحمت سے مایوس ہیں اگر وہ اس کی رحمت  کے امید وار ہوتے تو آخرت پر ضرور ایمان لاتے۔   

 

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی ابراہیم (علیہ السلام ) نے اپنی قوم  کے سامنے جو باتیں رکھیں ان کا جواب انہوں نے دیا تو یہ دیا کہ اس شخص کو ختم  کر دو تاکہ یہ "ناخوشگوار باتیں " ہمیں  سننا نہ پڑیں۔   

 

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔   آخر کار ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام ) کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں معجزانہ طور پر جلنے سے بچا لیا جیسا کہ سورہ انبیاء آیت ۶۹ میں صراحت  کے ساتھ  بیان ہوا ہے۔   

 

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم  کے اس واقعہ میں توحید  کے بر حق ہونے ، ابراہیم (علیہ السلام )  کے رسول ہونے ، منکرین  کے ہاتھوں ان  کے ستاۓ جانے اور اللہ کی نصرت  کے معجزانہ طور پر ظاہر ہونے کی نشانیاں موجود ہیں۔   

 

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم کا یہ بیان  جیسا کہ قرآن  کے اسلوب کلام سے ظاہر ہوتا ہے ان  کے آگ سے بہ سلامت باہر نکل آنے  کے بعد کا ہے اور اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ بت تمہارے نزدیک قومی اتحاد اور باہمی الفت کا ذریعہ ہیں اور تم یہ محسوس  کرتے ہو کہ ان بتوں کو چھوڑنا قومی انتشار کا باعث ہو گا۔  اپنے اس زعم میں تم نے بت پرستی  کے ان نتائج کو بالکل نظر انداز  کر دیا ہے جو آخرت میں پیش آنے والے ہیں۔   قیامت  کے دن جب شرک کا باطل ہونا اور ایک سنگین جرم ہونا تم پر کھل جاۓ گا تو تمہارے یہ قومی اتحاد اور تمہاری یہ قومی محبت کہاں باقی رہے گی۔  اس وقت تم گمراہی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنا چا ہو گے اور آپس میں ایک دوسرے  کو لعنت ملامت  کرو گے۔   آخر کار تم سب بے یار و مدد گار جہنم میں ڈال دیے جاؤ گے۔   تو ایسا قومی اتحاد اور ایسے سماجی تعلقات کس کام  کے جو تمہیں آتشِ جہنم کا مزا چکھائیں۔   

 

آج بھی کتنے ہی بت پرست بت پرستی کو نا معقول سمجھنے  کے باوجود محض اس لیے چھوڑنے اور بت پرستانہ مذہب سے باہر نکل آنے  کے لیے آمادہ نہیں ہوتے کہ اس کا اثر ان  کے سماجی تعلقات پر پڑے گا اور ان کا رشتہ اپنی قوم سے کٹ جاۓ گا۔   کیسے عقل مند ہیں یہ لوگ کہ اس دنیوی خطرہ کو مول لینے  کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن آخرت  کے مستقل عذاب کو بھگتنے  کے لیے تیار  ہو جاتے ہیں !

 

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی پوری قوم کیں ابراہیم (علیہ السلام ) کی بات ماننے والا صرف ایک شخص نکل آیا اور وہ تھے لوط جنہوں نے ان کی با توں کی تصدیق کی اور ان کی رسالت پر ایمان لے آۓ۔  

 

حضرت لوط بائیبل کی صراحت  کے مطابق حضرت ابراہیم  کے  بھتیجے تھے۔   وہ ہجرت  کے بعد نبوت سے سرفراز کیے گۓ جو شخص نبی ہوتا ہے وہ اول روز سے اپنی فطرت سلیمہ پر قائم رہتا ہے۔   اس لیے حضرت ابراہیم کی دعوت توحید ان  کے لیے کوئی انوکھی چیز نہیں تھی۔  لہٰذا  انہوں نے آگے بڑھ  کر حضرت ابراہیم کی با توں کی تصدیق کی اور ان کی رسالت پر ایمان لے آۓ۔  

 

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی میں اپنے رب کی خاطر اسی  کے حکم سے اور اسی کی رہنمائی میں ہجرت  کرتا ہوں۔   وہ جہاں لے جاۓ گا میں جاؤں گا کہ حقیقتاً میرا رب ہی میری منزل مقصود ہے۔   

 

قوم پر پوری طرح حجت پوری  کرنے  کے بعد حضرت ابراہیم نے اللہ  کے حکم سے اپنا وطن چھوڑا تاکہ دین کا کام ایک ملک میں نہیں تو دوسرے ملک میں انجام دیا جا سکے۔   وہ اُر (عراق)  کے رہنے والے تھے۔   پھر ان کا قیام حران میں رہا اور وہاں سے وہ ملک شام (کنعان) ہجرت  کر گۓ۔  اس ہجرت میں ان  کے ساتھ حضرت لوط بھی تھے اور بائیبل کی صراحت  کے مطابق ان کی بیوی سارہ بھی تھیں تین افراد پر مشتمل اہل ایمان کا یہ مختصر قافلہ تھا مگر اس نے دنیا کی تاریخ بدل دی۔  

 

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔   ہجرت  کے  موقع پر حضرت ابراہیم نے اللہ کی ان دو صفتوں کا ذ کر اس مناسبت سے کیا کہ اللہ کا فیصلہ نافذ ہو  کر رہتا ہے لہٰذا اس ہجرت کی پشت پر اس کا جو منصوبہ ہو گا وہ پورا ہو  کر رہے گا اور وہ حکیم ہے اس لیے اس کا کوئی منصوبہ حکمت سے خالی نہیں ہو سکتا۔  ہجرت  کے بعد حضرت ابراہیم  کے ہاتھوں جو عظیم الشان کام انجام پاۓ اس سے اللہ کا حکیمانہ منصوبہ پوری طرح ظاہر ہو گیا۔  

 

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔   اسحاق ابراہیم  کے بیٹے اور یعقوب ان  کے پوتے ہیں۔   دونوں کو اللہ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔   

 

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔   نبوت اور کتاب کا سلسلہ حضرت ابراہیم ہی کی نسل میں چلا اور امامت اسی خاندان میں رہی۔  اس حقیقت  کے پیش نظر حضرت ابراہیم  کے بعد  کے دور کی کسی شخصیت  کے بارے میں جو ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے نہ ہو نبی ہونے کا گمان نہیں کیا جا سکتا مثال  کے طور پر مہاتما بدھ  کے نبی ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا جب کہ وہ نسل ابراہیمی سے نہیں تھے۔   اسی طرح حضرت ابراہیم  کے دور  کے بعد کی کوئی کتاب جو کسی ایسے مذہبی رہنما کی طرف منسوب ہو جو ابراہیم کی نسل سے نہ تھا آسمانی کتاب نہیں ہو سکتی۔   ہندوستان کی متعدد مذہبی کتابوں کا جو مقدس سمجھی جاتی ہیں یہی حال ہے۔   

 

آیت کا جو مطلب ہم نے بیان کیا ہے اس کی تائید علامہ ابن کثیر کی اس توضیح سے ہوتی ہے :

 

فَلَمْیُوْ جَدْنَبِیٌّ بَعْدَا اِبْراھیم علیہ السلامُ اِلا وَھُوَ مِنْ سُلا لَتِہٖ۔   (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۱۱ ) " ابراہیم علیہ السلام  کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جو ان کی نسل سے نہ ہو"۔  

 

اور علامہ شوکانی فرماتے ہیں :

 

فَلِمْیَبْعَثِ اللہُ نَبِیًّا بَعْدَاِبْراھیْمَ اِلَّا مِنْسُلْبِہٖ (فتح القدیر ، ج ۴ ، ص ، ۱۹۹) "اللہ نے ابراہیم  کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہ اسی کی صلب سے تھا۔  

 

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم کو آزمائشوں سے گزارنے  کے بعد ان کی نیکیوں کا جو صلہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انہیں عطا فرمایا اس میں ان  کے لیے سچی عزت و سرفرازی ، امامت، منصب نبوت پر فائز فرزند،نسل میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ ، زبانوں پر ان کا ذ کر خیر اور اہل ایمان  کے دل سے نکلنے والی سالم و رحمت کی دعائیں جیسی سعادتیں شامل ہیں جن  کے مقابلہ میں دنیا کی دولت ہیچ ہے۔   

 

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی آخرت میں صالحین  کے زمرہ میں شامل ہو گا جن کو انعام و ا  کرام سے نوازا جانے والا ہے۔  

 

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔   ہجرت  کے بعد حضرت لوط کو سدوم اور عمورہ کی بستیوں کی طرف بھیجا گیا جو بحر مردار Dead Sea  کے کنارا پر واقع تھیں۔   مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سور اعراف نوٹ ۱۲۷۔  

 

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔   اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ ۱۲۹ میں گز ر چکی۔  

 

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔   معلوم ہوتا ہے  کہ لوگ راستوں پر لوٹ مار اور اغوا وغیرہ کا کام بھی  کرتے تھے اس لیے حضرت لوط نے انہیں غنڈہ گردی  کرنے سے منع فرمایا۔  

 

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی وہ ایسے بے حیا ہو گۓ تھے کہ برائی اور بد فعلی کا ارتکاب کھلے طور پر اپنی مجلوں میں بھی  کرنے لگے تھے۔   

 

موجودہ دور میں برائیوں  کے اجتماعی ارتکاب  کے لیے نائٹ کلب جیسی چیزیں وجود میں آ گئی ہیں جو سوسائٹی میں بگاڑ کا بہت بڑا ذریعہ ہیں

 

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔   ایک طرف حضرت لوط تھے جو پوری ہمدردی  کے ساتھ اپنی قوم کی اصلاح  کے لیے کوشاں تھی اور دوسری طرف ان کی قوم تھی جو پوری ڈھٹائی  کے ساتھ اللہ  کے عذاب کو دعوت دے رہی تھی۔  

 

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔   جب حضرت لوط کو اپنی قوم کی طرف سے مایوسی ہوئی تو انہوں نے یہ دعا کی۔  

 

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔   حضرت ابراہیم اس وقت حبرون (فلسطین) میں تھے اور اس سے چند میل  کے فاصلہ پر سدوم واقع تھا جہاں قوم لوط آباد تھی۔   فرشتے حضرت ابراہیم  کے پاس اسحاق اور یعقوب کی ولادت کی خوش خبری لے  کر پہنچے تھے اس موقع پر انہوں نے حضرت ابراہیم کو یہ خبر بھی دی کہ ہم قوم لوط کو ہلاک  کرنے  کے لیے بھیجے گۓ ہیں یعنی ایک طرف انہوں نے اللہ کی رحمت کی خوش سنائی جو حضرت ابراہیم  کے حق میں تھی اور دوسری طرف ایک بد کار قوم پر اس  کے قہر  کے نازل ہونے کی خبر بھی۔  

 

۶۱ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۳۲۔   

 

۶۲ ۔۔۔۔۔۔۔   اس کی تشریح سورہ ہود نوٹ ۱۰۸ میں گزر چکی۔  

 

۶۳ ۔۔۔۔۔۔۔   چنانچہ قوم لوط پر پتھروں کی بارش ہوئی اور اس عذاب کو نازل  کرنے  کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو مامور کیا تھا۔  مزید تشریح  کے لیے دیکھیے سورۂ ھود نوٹ ۱۱۹۔   

 

۶۴ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اس تباہ شدہ بستی  کے کچھ آثار عبرت  کے لیے چھوڑ دیے ہیں۔   یہ آثار زمانہ دراز تک قائم رہے بعد میں یہ حصہ سمندر میں دب گیا جو بحر مردار Dead Sea کہلاتا ہے اور اسی کا دوسرا نام بحر لوط ہے جو اس بات کی یاد دہانی  کراتا ہے کہ ظالموں کو کس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔   بحر مردار کا پانی اتنا زیادہ کھارا saline ہے کہ اس میں مچھلی وغیرہ کوئی چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔  

 

 (دیکھیے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، ج ۵ ص،۵۲۵)۔   

 

۶۵ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سور اعراف نوٹ ۱۳۴۔   

 

۶۶ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی صرف اللہ کی پرستش اور بندگی  کرو۔  

 

۶۷ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ کی عبادت  کرتے ہوۓ امید رکھو کہ جزا کا ایک دن آنے والا ہے جب تم اللہ سے ملاقات  کرو گے اور وہ تمہیں اس بات پر کہ تم نے اسی کی عبادت کی تھی اور اسی  کے بندے بن  کر رہے تھے بھر پور صلہ دے گا۔  

 

۶۸ ۔۔۔۔۔۔۔   انسانی سوسائٹی میں بگاڑ وہی لوگ پیدا  کرتے ہیں جن کو نہ اللہ کی عبادت سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ وہ آخرت میں اللہ سے اجر  کے امیدوار ہوتے ہیں وہ صرف دنیوی فائدوں  کے خواہشمند ہوتے ہیں۔   پھر جس طریقہ سے بھی انہیں حاصل ہوں۔   

 

۶۹ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ اعراف نوٹ ۱۴۷۔   

 

۷۰ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ فجر نوٹ ۸۔   

 

۷۱ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ فجر نوٹ ۱۳۔   

 

۷۲ قوم عاد  کے آثار نزول قرآن  کے زمانہ میں باقی تھے مگر اب نہ رہے لیکن قوم ثمود  کے آثار اب بھی مدینہ  کے شمال میں العُلا  کے علاقہ میں باقی ہے۔   

 

۷۳ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی وہ اپنے دنیوی معاملات میں بڑے ہوشیار اور عقل مند لوگ تھے لیکن جہاں خدا اور اس  کے دین کا معاملہ آ جاتا ان کی عقلیں ماری جاتیں یہی حال موجودہ زمانہ  کے لوگوں کا ہے۔   انہوں نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو کام میں لا  کر زبردست مادی ترقی کی ہے مگر خدا اور آخرت  کے بارے میں بالکل کورے ہیں۔   

 

۷۴ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ قصص نوٹ ۱۴۳۔   

 

۷۶ ۔۔۔۔۔۔۔   تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ قصص نوٹ ۱۱۔  

 

۷۶ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی مختلف قوموں پر مختلف قسم  کے عذاب آۓ۔   ان سرکش قوموں کی ہلاکتوں  کے واقعات قرآن میں متعدد مقامات پر تفصیل سے بیان ہوۓ ہیں۔   

 

۷۷ ۔۔۔۔۔۔۔   جو شخص اپنے کو آگ میں ڈالے گا جل  کر رہے گا کیونکہ قانون قدرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہی ہے لہٰذا اپنی تباہی کا ذمہ دار وہ خود ہے نہ کہ خدا۔  اسی طرح جو قومیں اللہ سے بغاوت  کرتی ہیں وہ اللہ  کے قانون عدل کو چیلنج  کرتی ہیں لہٰذا اگر ان پر عذاب کا کوڑا برستا ہے تو اس  کے ذمہ دار وہ خود ہیں کہ انہوں نے ہی اپنے کو تباہی  کے حوالے  کر دیا۔  اللہ پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔  وہ تو کمال عدل  کے ساتھ دنیا پر حکومت  کر رہا ہے۔   

 

۷۸ ۔۔۔۔۔۔۔   یہ غیر اللہ  کے پرستاروں کی مثال ہے کہ ان کا تکیہ جن معبودوں پر ہوتا ہے وہ اپنا کوئی بل بوتا نہیں رکھتے۔   نہ وہ ان کی حاجت روائی  کر سکتے ہیں اور نہ ان کی تکلیف کو دور  کر سکتے ہیں اور نہ اللہ  کے حضور سفارشی بن  کر کسی کو کچھ دلا سکتے ہیں لہٰذا ان  کے یہ سہارے تار عنکبوت (مکڑی  کے جالے ) سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔   جس طرح مکڑی جالا تان  کر اپنا گھر بناتی ہے مگر وہ اتنا بودا ہوتا ہے کہ ہوا کا ایک جھونکا ہی اسے  اڑا دینے  کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔   اسی طرح جو لوگ اللہ  کے سوا کسی اور کو اپنا کار ساز (کام بنانے والا) بنا لیتے ہیں وہ محض وہم کی بنا پر امیدوں اور تمناؤں کا ایک گھر بنا لیتے ہیں لیکن جب نتائج  کے رو نما ہونے کا وقت آۓ گا تو اس کا کہیں وجود نہیں ہو گا اس وقت انہیں احساس ہو گا کہ ؏

 

اے بسا آرزو کہ خاک  شدہ

 

مکڑی کی مثال بائیبل میں بھی ہوئی ہے :

 

" بے خدا آدمی کی امید ٹوٹ جاۓ گی اس کا اعتماد ناتا رہے گا اور اس کا بھروسہ مکڑی کا جالا ہے۔   وہ اپنے گھر پر ٹیک لگاۓ گا لیکن وہ کھڑا نہ رہے گا۔ ۔  " (ایوب ۸ :۱۳۔   ۱۵ )

 

۷۹ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ  کے سوا جن کو بھی یہ حاجت روائی  کے لیے پکارتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے۔   مطلب یہ ہے کہ شرک  کرنے والے ان  کے بارے میں خدائی اختیارات  کے یا ان  کے خدا  کے حضور سفارشی ہونے  کے کیسے ہی دعوے  کریں اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ سارے دعوے غلط ہیں اور کوئی بھی اس لائق نہیں کہ اس کو حاجت روائی  کے لیے پکارا جا س کے۔  

 

واضح رہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ جو شرک اور بدعات میں مبتلا ہے اس قسم کی آیتوں کو جن میں غیر اللہ کو پکارنے کی مذمت کی گئی ہے دیوی دیوتاؤں  کے پکارنے کی حد تک محدود سمجھتا ہے۔   رہا اولیاء وغیرہ کو پکارنا تو یہ ان کی نزدیک شرک نہیں ہے۔   وہ کہتے ہیں ان کو پکارنا ایسا ہی ہے جیسے حکام یا پولیس کو مدد  کے لیے بلانا لیکن یہ دلیل ایسی ہی ہے جیسے ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔   اگر کوئی شخص اس بات  کے جواب میں کہ اللہ  کے سوا کسی  کے آگے سر نہ جھکاؤ۔  یہ کہے کہ سر تو حجام  کے آگے بھی جھکایا جاتا ہے تو یہ محض کٹ حجتی ہو گی کیونکہ ہر بات کا یک محل ہوتا ہے اگر اس کو اپنے محل سے ہٹا دیا جاۓ تو اس کا مفہوم ہی بدل جاۓ گا۔  سب جانتے ہیں کہ حکام یا پولس کو مدد  کے لیے بلانے اور کسی ولی کو جو دور کہیں مدفون ہے مدد  کے لیے پکارنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔   پہلی چیز عالم اسباب سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری چیز عالم غیب سے۔   پہلی چیز  کے بارے میں خدائی اختیار کا کوئی تصور نہیں ہوتا جب کہ دوسری چیز  کے بارے میں یہ تصور ہوتا ہے۔   اسی بنا پرتو ان کی طرف وہ صفات منسوب کی جاتی ہیں جو اللہ  کے لیے خاص ہوتی ہیں مثلاً غوث یعنی فریاد رس، مشکل کشا یعنی مشکلات کو دور  کرنے والا وغیرہ۔   در حقیقت کسی  کے ساتھ وہ معاملہ  کرنا جو اللہ ہی  کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اس کو خدا  کے برابر قرار دینا ہے۔   اللہ کی طرح اولیاء کو حاضر و ناظر سمجھ  کر مدد  کے لیے پکارنا شرک نہیں تو اور کیا ہے ؟

 

۸۰ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی جو جہالت کی تاریکی میں نہیں رہتے بلکہ علم کی روشنی میں چلتے ہیں اور قرآن کی یہ باتیں ایسے ہی لوگوں کی سمجھ میں آتی ہیں۔   

 

۸۱ ۔۔۔۔۔۔۔  تشریح  کے لیے دیکھیے سورہ انعام نوٹ ۱۲۴۔   

 

۸۲ ۔۔۔۔۔۔۔   یعنی توحید  کے حق ہونے کی نشانی جس سے شرک کی تردید ہوتی ہے۔   

 

۸۳ ۔۔۔۔۔۔۔   حق و باطل کی اس کشمکش میں جس کا ذ کر اوپر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ  کے توسط سے آپ  کے پیروؤں کو تلاوت قرآن اور اقامت صلوٰۃ کی  ہدایت اس بات کی طرف اشارہ  کرتی ہے کہ اگر یہ منکرین اپنی زندگیاں تلف  کر رہے ہیں تو  کرنے دو۔   تمہیں اپنے اندر وہ وصف پیدا  کرنا چاہیے جو تمہاری زندگیوں کو سنوارنے والا اور تمہیں فلاح آخرت سے ہم کنار  کرنے والا ہو۔  اور وہ وصف ہے اللہ سے گہرا تعلق۔  اور اللہ سے گہرا تعلق کتاب الہٰی کی تلاوت اور نماز  کے اہتمام سے پیدا ہوتا ہے۔   

 

قرآن   کریم کی تلاوت کا پورا پورا فائدہ تو اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب کہ اس طرح تلاوت کی جاۓ جس طرح تلاوت  کرنے کا حق ہے۔   (یَتْلَو نَہٗ حَقَّ تِلاوَتِہٖ) یعنی سب سے پہلے آدمی کا اس پر ایمان ہو پھر اسے سمجھنے کی کوشش  کرے ، اس میں غور و فکر  کرے ، اس سے نصیحت پذیر ہو اور اس کی رہنمائی کو قبول  کرتے ہوۓ اپنی عملی زندگی کو اس  کے مطابق بناۓ۔  لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر عربی داں مسلمان ہر وقت ترجمہ  کے ساتھ ہی قرآن پڑھیں۔   ایسا  کرنا ممکن نہیں ہے  کیونکہ نماز میں صرف تلاوت ہی کی جاتی ہے ترجمہ پڑھنے کا وہاں سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔  اصل بات یہ ہے کہ قرآن  کریم کی تلاوت اللہ کا کلام ہونے کی حیثیت سے بجاۓ خود عبادت ہے اور تقرب کا بہت بڑا ذریعہ کیونکہ جب کوئی شخص اس کتاب پر ایمان رکھتے ہوۓ خلوص دل سے اس کی تلاوت  کرتا ہے تو وہ اللہ کو یاد  کرتا ہے اور کلام الہٰی کی تاثیر سے اس پر خشوع طاری ہو جاتا ہے اور یہ بہت بڑی روحانی دولت ہے۔   اسی لیے اس  کے ایک ایک حرف پر اجر ملتا ہے لہٰذا قرآن  کریم کی تلاوت کی اہمیت کو گھٹایا نہیں جا سکتا۔  اس کا جس قدر اہتمام کیا جۓ موجب اجر ہو گا۔  اس کی ترغیب قرآن میں بھی دی گئی ہے اور حدیث میں بھی۔   رہے وہ لوگ جو قرآن کی تلاوت تو خوب  کرتے ہیں لیکن کبھی اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں  کرتے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کو لوگ پڑھتے ہیں مگر یہ جاننے کی کوشش نہیں  کرتے کہ وہ اس میں کیا پڑھتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سورہ فاتحہ اور رکوع و سجود کی تسبیح  کے معنی بھی معلوم نہیں ہوتے اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ نماز میں وہ کس چیز کا اقرار  کرتے ہیں اور کس چیز کا انکار۔   جس طرح ایسی نماز ادا تو ہو جاتی ہے لیکن اپنے ثمرات، اپنی برکتوں اور اپنے اجر  کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہے اسی طرح تلاوت قرآن سے عبادت کا فائدہ تو ضرور حاصل ہو جاتا ہے لیکن اس  کے معنی و مفہوم کی طرف ے بے پرواہی  کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ اس عبادت  کے اجر میں  کمی واقع ہو جاتی ہے۔   بلکہ ایسا شخص قرآن سے فیضیاب نہیں ہو پاتا اور اپنی تربیت تزکیہ اور رہنمائی  کے لیے جو تعلق قرآن سے قائم  کرنا چاہیے وہ تعلق قائم نہیں  کر پاتا اور یہ بہت بڑی محرومی ہے۔ کیا ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے یہ نہ پوچھے گا کہ  جب اللہ کی کتاب تمہارے پاس موجود تھی تو تم نے اسے سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کیا یہ کتاب صرف تلاوت کے لئے اتاری گئی تھی کہ تم اس سے روشنی حاصل کرو؟

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ نماز کا بالکل محسوس اثر ہے کہ اس سے خیالات میں پاکیزگی اور عمل میں پرہیز گاری آ جاتی ہے۔ تاہم کتنے لوگ ایسے ہیں جو نمازی بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا بھی۔ مگر یہ ان کا اپنا قصور ہے کیوں کہ نماز وہی اثر انداز ہوتی ہے جو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی ہو اور  اللہ تعالیٰ نے ان ہی اہلِ ایمان کو فلاحِ آخرت کی ضمانت دی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورۂ مومنون، آیت نمبر ۲ اور نوٹ نمبر ۲)۔

 

اگر نماز خشوع سے خالی ہو تو گناہوں سے بچنے کا جذبہ پروان نہیں چڑھتا۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   اس سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ یہ عظیم عبادت ہے اور نماز اللہ کے ذکر کی بہترین شکل ہے۔ ذکر میں اللہ کو یاد کرنا اور زبان سے  اُس کا نام جپنا اور اس کے گُن گانا، سب شامل ہے۔ جو شخص اللہ کو یاد کرتا ہے ، وہ اپنے رب سے تعلّق استوار رکھتا ہے اور اس کے اس کے غیر معمولی اثرات اس کے قلب و ذہن اور اس کی عملی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ پھر اللہ کے ذکر میں جو حلاوت اور جو سرور و کیف ہے، اس کا اندازہ ان لوگوں کو ہرگز نہیں ہو سکتا جن کو اس سے رغبت نہیں ہوتی۔

 

علامہ ابنِ تیمیہ نے ذکرِ الٰہی کو بڑے اچھے انداز سے واضح کیا ہے، فرماتے ہیں:

 

’’نماز بے حیائی اور منکر جیسی ناپسندیدہ چیزوں کو دفع کرتی ہے اور اللہ کی یاد کو جو ایک  محبوب چیز ہے، مستحضر (تازہ) کرتی ہے۔ اور اس محبوب چیز کا حاصل ہو جانا پسندیدہ چیزوں کو دفع کرنے کے مقابلے میں بڑی چیز ہے کیوں کہ ذکرِ الٰہی  اللہ کی عبادت ہے اور اللہ کے لئے قلب کی عبادت مقصود بالذات ہے، جب کہ برائی کا اس سے دور رہنا  طبعاً دوسری چیز کے لئے مقصود ہے،‘‘ )مجموعہ فتاویٰ ابنِ تیمیہ، ج ۱ ۱۰، ص ۱۸۸۔ مزید تشریح کے لئے  دیکھئے سورۂ ظٰہٰ،  نوٹ ۱۶)

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سورہ اس وقت نازل ہوئی جب کہ مسلمانوں کا ایک گروہ مشرکین کے ظلم و ستم کی وجہ سے ہجرت کر کے حبشہ پہنچ گیا تھا جہاں نصاریٰ کی حکومت تھی۔ اس طرح مسلمانوں کو نصاریٰ کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرنے کا  موقع مل گیا تھا۔ اسی مناسبت سے  یہاں یہ ہدایت دی گئی کہ ان سے بہتر طریقے پر بحث کریں اور اس کی وضاحت  آگے فرما دی کہ بحث کا آغاز نقطۂ اتفاق سے  کیا جاۓ اور وہ یہ کہ جو کتابیں نازل ہوئی تھیں ان پر ہمارا بھی ایمان ہے  اور یہ کہ ہمارا تمہارا خدا  ایک ہے ۔ پھر جو کتاب آج اس نے نازل کی ہے اس پر ہم کیوں نہ ایمان لائیں؟ اور اگر دین کی حقیقت تسلیم و رضا ہے تو ہم اس کے رسول  پر جو سب جو اس نے ہم سب کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے، ایمان لا کر اس کے حضور سرِ تسلیم خم کیوں نہ کریں۔

 

دعوت کے سلسلے میں بحث کا بہترین طریقہ اور عمدہ اسلوب اختیار کرنے کی ہدایت ایک اصولی ہدایت ہے۔ مناظرہ بازی اور فلسفیانہ بحثوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، البتہ سنجیدہ بحث ا استدلال کی قوّت اور اپیل کرنے کا انداز دلوں کو فتح کر لیتا ہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھئے سورۂ نحل، نوٹ ۱۸۶۔

 

رہے ظالم یعنی وہ لوگ جو سوجھ بوجھ سے کام لینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اہنی غلط روی پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو دعوت کا کتنا ہی بہترین طریقہ اختیار کیا جاۓ، وہ کوئی اثر قبول کرنے والے نہیں ہیں۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس طرح ہم اس سے پہلے کتاب نازل کرتے رہے ہیں، اسی طرح اے پیغمبر ! یہ کتاب ہم نے  تم پر نازل کی ہے۔

 

۸۸ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  قرآن  ’کتاب عطا کی گئی تھی‘ اور ’کتاب دی گئی تھی‘ کو ایک خاص فرق کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ ’کتاب عطا کی گئی تھی‘ سے مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو کتابِ الٰہی کے قدر داں بنے اور ’کتاب دی گئی تھی‘ سے عام اہلِ کتاب مراد ہیں۔

 

یہاں جن اہلِ کتاب کے ایمان لانے کا ذکر ہوا ہے وہ ان میں کہ مخلص لوگ تھے جو کتابِ الٰہی پر پہلے ہی سے ایمان رکھتے تھے اور جب قرآن اُن کے سامنے یا تو وہ اپس پر بھی ایمان لاۓ۔

 

خاص طور سے اشارہ حبش کے ان نصاریٰ کی طرف ہے جو قرآن اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے تھے اور ان میں وہاں کا بادشاہ نجاشی پیش پیش تھا۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مشرکین مکہ میں سے ایسے بھی لوگ نکل رہے ہیں  جو ایمان لاتے ہیں۔

 

۹۰ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں کافر سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے لئے کسی بھی طرح تیار نہیں ہیں یعنی کٹر کافر۔

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  حضرت محمدﷺ کے رسول ہونے کی اس سے زیادہ واضح دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے  تھے بلکہ امّی تھے۔ اہلِ کتاب کے پاس جو تورات اور انجیل تھی، اس کو نہ آپ نے پڑھا تھا اور نہ ماس میں سے کسی کبھی کوئی چیز اپنے ہاتھ سے نقل کی ۔ اور یہ بات مشرکینِ مکہ اور اہلِ کتاب سب کو معلوم تھی، اس لئے کسی نے بھی آپ نے امی ہونے کی تردید نہیں کی۔ ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن جیسی کتاب جو علوم و معارف کا خزانہ ہے اور انبیائی تاریخ  کے واقعات کو بھی کمال صحت کے ساتھ پیش کر رہی  ہے، جو دلوں کے لئے نسخۂ شفا بھی ہے اور اخلاقِ حسنہ سے انسان کو سنوارتی بھی ہے اور جس کی ایک ایک بات جچی تلی  اور ایک ایک لفظ لعل و گہر ہے، اور جس میں خدا کی صحیح معرفت بھی بخشی گئی ہے اور انسان کی رہنمائی کا سامان بھی کیا گیا ہے۔اس شان کی کتاب کا پیش کرنا ایک امّی کے لئے کیوں کر ممکن ہوا؟ اس سوال کا جواب اس کے  سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ قرآن آپؐ کی تصنیف نہیں  بلکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اور یہ آپؐ کی رسالت کا بین ثبوت ہے۔

 

نبوت کے بعد آپؐ نے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا تھا اور نہ کسی صحیح حدیث کو اس بات کی تائید میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ آپؐ بعد میں امی نہیں رہے تھے۔ آپ کا امی ہونا معیوب نہیں بلکہ قابلِ فخر ہے، کیوں کہ امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی حکیمانہ کتاب کو پیش کرنا کھلا معجزہ ہے جو قیامت تک کے لئے ہے۔

 

مزید تشریح کے لئے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۲۲۴۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ قرآن کے کتابَ الٰہی ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔ قرآن کی دعوت فطرت کی پکار ہے اور ایک سلیم الفطرت شخص  اس کی آیتوں کو سن کر محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک ممتاز کلام ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو بول رہا ہے۔ پھر اگر اسے ان کتابوں کا بھی علم ہو جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں تو وہ یہ بھی محسوس کرے گا کہ دونوں کا سر چشمہ ایک ہی ہے۔ گویا اہلِ علم قرآن کی آیتوں کو اپنے دل کی بات سمجھتے ہیں؂

 

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

 

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

 

بالفاظ دیگر قرآن کی آیتیں اہلِ علم کے لوحِ قلب پر لکھی ہوئی ہیں اور یہ اس کے کلامِ الٰہی ہونے کی واضح شہادت ہے۔

 

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مراد حسّی معجزے ہیں۔

  

***