دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ لهب / المَسَد

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

 آیت ۳ میں  لہب کا لفظ آیا ہے جس کے معنی شعلہ کے ہیں۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام اَللَّھَبْ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے آخری دور میں  نازل ہوئی ہو گی کیونکہ اس میں  ابو لہب کا نام لے کر اس کا انجام بد بیان کیا گیا ہے اور انبیاء علیہم السلام کسی کا انجام بد اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی بیان کرتے ہیں۔ اس لیے یہ سورہ سورہ کافرون کے بعد ہی نازل ہوئی ہو گی جس میں  کافروں  سے اعلان برأت کیا گیا ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

 نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بد ترین دشمن کے انجام بد سے لوگوں  کو آگاہ کرنا ہے تاکہ قیامت تک پیدا ہونے والے دشمنان رسول اور مخالفین اسلام اس سورہ کے آئینہ میں  اپنا عکس دیکھ لیں۔

 

نظم کلام

 

 آیت ۱ تا ۳ میں  دشمن رسول ابو لہب کا درد ناک انجام بیان کیا گیا ہے اور  آیت ۴ اور ۵ میں  اس کی بیوی کے عبرتناک انجام کا منظر پیش کیا گیا ہے جو اس دشمنی میں  اپنے شوہر کی ہمنوا اور شریک کار تھی۔

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹوٹ  گۓ ابو لہب۱*  کے دونوں  ہاتھ ۲*  اور وہ تباہ ہو گیا۳*۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کچھ کام نہ آئی۴*  

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ عنقریب شعلہ زن آگ میں  داخل ہو گا ۵*  

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھاۓ ہوۓ ہو گی ۶*  

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی گردن میں  مضبوط رہی ہو گی ۷*۔

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو لہب کنیت ہے۔ اصل نام عبدالعزّیٰ تھا جس کے معنی ہیں  عُزّیٰ دیوی کا بندہ۔ چونکہ یہ مشرکانہ نام تھا اس لیے قرآن نے اس کا ذکر اس کے مکروہ نام سے کرنے کے بجاۓ اس کی کنیت سے کیا۔ ابولہب قریش کے خاندان  بنی ہاشم۔ کا رکن رکین، عبدالمطلب کا بیٹا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا چچا تھا۔

 

جن وجوہ سے اس کی زندگی میں  اس کی قسمت کا فیصلہ چکایا گیا ور اس کے انجام سے باخبر کرنے کے لیے ایک مکمل سورہ نازل کی گئی وہ مختصراً درج ذیل ہے۔

 

اولاً : ابولہب خانہ کعبہ کا متولی تھا اور خدا کے گھر کو بت کدہ بناۓ رکھنے پر اصرار نیز بت پرستی میں  اس کا انہماک اس کا ب سے بڑا اور سنگین جرم تھا۔

 

ثانیاً : جو جاہ و منصب اس کو حاصل تھا اس نے اس کے اندر غرور و تکبر پیدا کر دیا تھا اور اسرکشی و بغاوت کا رویہ اختیار کر کے وہ فرعون کے مقام پرجا بیٹھا تھا۔

 

ثالثاً : دعوت اسلامی کی مخالفت کا آغاز اسی نے کیا تھا اس لی امامت کفر اس کا مقدر بن گئی۔

 

رابعاً : وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا کٹر دشمن تھا اور اس دشمنی میں اس نے تمام اخلاقی حدود کو پھاند ڈالا تھا یہاں  تک کہ رشتہ رحم کو کاٹتے میں  بھی وہ سب سے آگے نکل گیا۔ اس کی واضح مثال اس کا و طرز عمل ہے جو اس نے آپ کے معاشرتی ور معاشی بائیکاٹ کے سلسلہ میں  اختیار کیا۔ قریش کے بائیکاٹ کرنے پر جب آپ نے شعب ابی طالب میں  پناہ لی تو ابو لہب نے کفار قریش کا ساتھ دیا اور اسے اپنے بھتیجے پر اس وقت بھی رحم نہیں  آیا جب کہ وہ فاقہ کے دن گزار رہا تھا۔ (ابن ہشام ج ۱ ص ۳۷۲ )

 

خامساً : وہ زندگی بھر اسلام کی راہ کا کانٹا بنا رہا اور توحید کی مخالفت میں سب ے زیادہ سرگرم رہا چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عم قبائل عرب کے سامنے اپنی دعوت پیش کی تو ابولہب اس سے لوگوں  کو متنفر کرتا رہا۔ ربیعہ بن عباد کا بیان ہے کہ میں  نے  ذوالمجاز کے بازار میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ کہہ رہے ہیں  لوگو! ’’لا الہ الا اللہ (اللہ کے سو کئی معبود نہیں ) کہ فلاح پاؤ گے ‘‘۔ اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جاتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے اس کی بات نہ مانو۔ میں  نے لوگوں  سے پوچھا یہ کون ہے ؟  انہوں  نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (ابن کثیر ج ۱ ص ۵۱۴ بحوالہ احمد)

 

سادساً : بخل اور زر پرستی میں  وہ اپنے زمانہ کا قارون تھا۔

 

سابعاً : اس کو اپنے خداؤں  پر بڑا ناز تھا چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بائیکاٹ میں  قریش کا ساتھ دیتے ہوۓ ہند بن عتبہ سے کہا تھا ’’ جس شخص نے لات و عزیٰ کو چھوڑ دیا ہے اس کو چھوڑ کر کیا میں  نے ان خداؤں  کی مدد نہیں  کی؟ ہند نے کہا ’‘ ہاں  اور اللہ تجھے جزاۓ خیر دے ‘‘۔ (ابن ہاشم ج ۱ ص ۳۸۲ )

 

ابو لہب کے انجام کی یہ خبر در حقیقت اس بات کا اظہار ہے کہ اگر پیغمبر کا چچا بھی کفر کرے تو وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہیں  سکتا۔ اس کا قانون عدل بے لاگ اور خاندان و نسب کے اثرات سے بالا تر ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد اس کے جسمانی ہاتھوں  کا تباہ ہو جانا بھی ہے جن کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت میں  وہ اٹھایا کرتا تھا اور اس کے زور کا ٹوٹ جانا اور اس کی شوکت کا ختم ہو جانا بھی۔ اس نے اللہ کے کلمہ کو پست کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا مگر وہ اپنے مقصد میں  بری طرح ناکام رہا۔ جنگ بدر میں  اس کا زور ٹوٹ گیا۔ اس کے حامی و ناصر بری طرح مارے گۓ اور اس کی شان و شوکت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس طرح وہ پیشن گوئی پوری ہوئی جو اس آیت میں  کی گئی تھی۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ جب آیت : وَاَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَ قْرَبِیْنَ (شعراء ۲۱۴)  (اپنے قریب ترین رشتہ داروں  کو ڈراؤ ‘۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صف پر چڑھ کر پکارا: یا صباحاہ (صبح کے خطرہ سے ہوشیار! ) لوگوں  نے کہا یہ کون پکار رہا ہے ؟ پھر وہ آپ کے پاس جمع ہو گۓ۔ آپ نے فرمایا اگر میں  تمہیں  یہ بتاؤں  کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے آ رہا ہے تو کیا تم میری بات سچ مانو گے ؟ لوگوں  نے کہا ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں  دیکھا۔ آپ نے فرمایا تو دیکھو میں  تمہیں  آنے والے عذب عظیم سے خبر دار کرتا ہوں۔ یہ سن کر ابولہب نے کہا : تباً لَکَ مَا جَمَعْتَنَا اِلَّا لِھٰذا  (تباہ ہو جاۓ تو۔ کیا تو نے ہمیں  اسی لیے جمع کیا تھا ؟) اس پر : تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ (ٹوٹ گۓ ابو لہب کے دونوں  ہات اور وہ تباہ ہوا ) نازل ہوئی (بخاری کتابُ التفسیر)۔

 

اس کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ سورہ لہب اسی وقت نازل ہوئی کیونکہ جیسا کہ اس سے پہلے واضح کیا جا چکا ہے ، کسی کے حق میں  عذاب کا فیصلہ اسی وقت سنایا جاتا ہے جب کہ اسے آخری حد تک مہلت دی جا چکی ہو اور اس کے بعد وہ اپنے کفر و سرکشی پر اڑا رہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابولہب کی یہی وہ حرکتیں  تھیں  جن کی وجہ سے بالآخر وہ معتوب قرار پایا اور یہ سورہ اس کی حرکتوں  کا ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگ بدر میں  اس کے حامیوں  کی شکست کا اسے زبردست صدمہ ہوا اور اس کے بعد وہ خود بھی تباہ ہوا چنانچہ اس کی موت تباہی کی صورت میں  ہوئی اور آخرت کا درد ناک عذاب بھی اس کے لیے مقدر ہوا۔ جنگ بدر میں  وہ شریک نہیں  ہوا ور اس جنگ کو ختم ہوۓ ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ چیچک کے مرض میں  مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کی موت واقعہ ہو گئی اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی لاش تین دن تک اس کے گھر میں  پڑی سڑتی رہی مگر کوئی اس کو ٹھکانے لگانے والا نہ تھا کیونکہ قریش چیچک کے مرض کو چھوت کا مرض خیال کرتے تھے۔ بالآخر اس کے لڑکوں  نے اس کی لاش ایک دیوار کی آڑ میں  اس طرح دفن کر دی کہ دور  ہی سے اس کی قبر پر پتھر پھینکتے رہے۔ (البدیہ والنہایہ ج ۳ ص ۳۰۹)۔

 

آج ابولہب کا نام لینے والا کوئی نہ رہا البتہ اس پر لعنت بھیجنے کے لیے ایک پوری امت موجود ہے جو اپنی نمازوں  میں  سورہ لہب پڑھ کر اس دشمن رسول پر لعنت بھیجتی رہتی ہے۔ اس طرح قرآن کی یہ پیشین گوئی کہ رسول کو غلبہ حاصل ہو گا اور دشمن رسول تباہ ہو گا حرف بہ حرف پوری ہوئی قرآن کی صداقت کا یہ ایسا ثبوت ہے جو تا قیامت باقی رہے گا۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نہ اس کی وہ دولت خدا کی پکڑ سے اسے بچا سکی جس پر اسے ناز تھا اور نہ وہ اعمال ہی اس کے کچھ کام آ سکے جو جھوٹی مذہب پرستی کی بنیاد پر اس نے انجام دۓ تھے۔

 

قرآن میں  اعمال کے لیے کَسَب (کمائی) کا لفظ بہ کثرت استعمال ہوا ہے۔ یہاں  بھی یہ اسی مفہوم میں  ہے۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس کا اخروی انجام ہے جو قیامت کے دن اس کے سامنے آۓ گا۔

 

ابو لہب اور نَاراً ذاتَ لَہَبْ (بھڑکتی آگ) میں  بڑی مناسبت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے دل میں  بغض و حسد کی جو آگ تھی وہ قیامت کے دن بھڑک اٹھے گی۔ جزاء در حقیقت انسان کے عمل ہی کا نتیجہ ہے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ابولہب کی بیوی کا نام اُم جمیل تھا۔ یہ ابو سفیان کی بہن تھی اور چونکہ اسلام دشمنی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بغض و عداوت میں  وہ اپنے شوہر کی معاون اور مخالفانہ سرگرمیوں  میں  اس کی شریک تھی اس لیے اس کا انجام بھی بیان فرمایا۔

 

وہ جہنم میں  اپنے شوہر کے لیے ایندھن ڈھونے کا کام کرے گی کیونکہ اس نے عداوت کی آگ بھڑکائی تھی۔ حَمَّالَۃَالحَطَبِ (ایندھن اٹھانے والی ) کا مطلب سعید بن جبیر نے گناہوں  کا بوجھ اٹھانے والی بیان کیا ہے (فتح القدیر للشو کانی ج ۵ ص ۵۱۲)۔ قیامت کے دن مجرمین کا جو حال ہو گا وہ قرآن میں  اس طرح بیان کیا گیا ہے :

 

وَھُمْ یَحْمِلُوْ نَ اَوْزَا رَھُمْ عَلٰی طُھُوْرِ ھِمْ۔ (الانعام۔ ۳۱ ) ’’ وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں  پر لادے ہوۓ ہوں  گے ‘‘

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہنم میں  اس کی گردن میں  مضبوط رسی پڑہ ہوئی ہو گی۔ گویا اس کا حال اس لونڈی کا سا ہو گا جو سر پر لکڑیاں  (ایندھن) اٹھاۓ ہوۓ ہو اور جس کی گردن میں  بٹی ہوئی رسی پڑی ہو۔ قیامت کے دن اسے ذلت کا جو عذاب  چھکنا ہو گا اس کی یہ تصویر ہے۔

 

سعید بن مسیب کہتے ہیں  کہ اس کی گردن میں  جواہرات کا قیمتی ہار تھا اور وہ کہا کرتی تھیکہ لات و عزیّ (بتوں  کے نام) کی قسم میں  اسے محمد کی عداوت میں  خرچ کروں  گی اس لیے قیامت کے دن اس کے جسم میں  یہ ہار عذاب کا موجب ہو گا۔ (فتح القدیر للشو کانی ج ۵ ص ۵۱۳ ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس ہار پر سے ناز ہے اور جس کو وہ مخالف رسول سرگرمیوں  میں  خرچ کرنا چاہتی ہے۔ وہ قیامت کے دن واقعی ’’ اس کے گلے کا ہار ‘‘ ثابت ہو گا اور اس کا یہ سامان آرائش اس کی رسوائی کا باعث ہو گا۔

 

ابو لہب کی بیوی کے اس انجام میں  عورتوں  کے لیے بھی عبرت ہے اور مردوں  کے لیے بھی عورتوں  کے لیے یہ عبرت کہ ایک عورت کفر و سرکشی کا رویہ اختیار کر کے کتنے برے انجام کو پہنچ ناتی ہے اور مردوں  کے لیے یہ عبرت کہ عورتیں  کس طرح گناہ کے کاموں  میں  مردوں  کی معاون بن کر ان کو تباہی کی طرف دھکیلتی رہتی ہیں۔