دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ آل عِمرَان

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

تعارف

نام

 

اس سورۃ کی آیت ۳۳ میں آل عمران کا ذکر ہوا ہے۔ عمران حضرت مریمؑ کے والد کا نام تھا اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے نواسے تھے ، اسی مناسبت سے علامت کے طور پر اس سورہ کا نام "آل عمران" رکھا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ سورۃ مدنی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگِ احد ۰۳ھ کے بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

اس سورہ کا مرکزی مضمون بھی ہدایت ہی ہے اور اس بنا پر یہ سورۃ سابق سورۃ کے ساتھ نہ صرف گہرا ربط رکھتی ہے بلکہ یہ اس کا تتمّہ ہے۔ نورِ ہدایت ہونے کے لحاظ سے سورۂ بقرہ کی حیثیت اگر آفتاب سی ہے تو اس کی حیثیت ماہتاب کی۔ چناں چہ حدیث شریف میں ان کو زہراوین (دو روشن ترین سورتوں) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورۂ بقرہ میں اگر یہود سے خطاب کیا گیا تھا تو سورۂ آل عمران میں نصاریٰ سے خطاب کیا گیا ہے۔ سابق سورۃ میں المغضوب علیہم کی تشریح‌ کی گئی ہے تو اس سورۃ میں ضآلّین کی تشریح‌ کی گئی ہے۔ اس طرح‌ما قبل سورہ میں ہدایت کے جو پہلو مجملاً بیان کئے گئے تھے ، اس سورہ میں ‌کھول کھول کر ان کو بیان کر دیا گیا ہے اور صاف صاف یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ دین جو حقیقۃً اللہ کی ہدایت کا نام ہے ، صرف اسلام ہے۔

 

لہٰذا جو شخص بھی اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا، وہ اللہ کے ہاں ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسے لوگ آخرت میں بالکل تباہ ہوں گے۔ اس طرح یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ اللہ کی ہدایت کی راہ صرف اسلام ہے نہ کہ مختلف ادیان اور نجاتِ اخروی اسلام کو قبول کئے بغیر ممکن نہیں۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۹ تمہید کی حیثیت رکھتی ہیں جن میں توحید کو بنیادی حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ قرآن فرمانِ الٰہی ہے اور اس بِنا پر تمام ’مذہبی اختلافات کے سلسلے میں قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

آیت ۱۰ تا ۳۲ میں اہلِ کتاب اور غیر اہلِ کتاب سب کو متنبّہ کر دیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس قرآنی ہدایت کو جس کا نام اسلام ہے قبول نہیں کیا تو یہ اللہ سے کفر ہو گا جس کی سزا ہمیشگی کی جہنّم ہے اور جس ’دین داری، اور ’مذہب پرستی، کا لبادہ انہوں نے اوڑھ رکھا ہے اس کی حقیقت قیامت کے دن آشکارا ہو گی جب کہ وہ بالکل بے نقاب ہو چکے ہوں گے۔

 

آیت ۳۳ تا ۶۳ میں حضرت مریمؑ اور عیسیٰؑ سے متعلق واقعات اور حقائق پیش کئے گئے ہیں جو ان باطل عقائد کی تردید کرتے ہیں جن کو نصاریٰ نے دین میں داخل کر دیا تھا۔ اس ضمن میں حضرت زکریاؑ اور حضرت یحیٰؑ کا بھی ذکر ہوا ہے۔

 

آیت ۶۴ تا ۱۰۱ میں اہلِ کتاب اور بالخصوص عیسائیوں کی گمراہیوں اور ان کے اخلاق و دینی انحطاط پر گرفت کرتے ہوئے اہلِ ایمان کو ان سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

آیت ۱۰۲ تا ۱۲۰ میں اہلِ ایمان کو خطاب کر کے اسلام پر مضبوطی کے ساتھ جم جانے ، کتابِ الٰہی کو تھام لینے ، اس کو اپنی اجتماعیت کی بنیاد بنانے اور اپنے اندر سے ایک گروہ کو ابھارنے کی ہدایت کی گئی ہے جو دعوت و اصلاح کی خدمت کے لئے مختص ہوتا کہ وہ ملّتِ اسلامیہ کو ہر قسم کے انحراف اور نت نئے فتنوں سے بچا سکے۔ اور اللہ کا پیغام بندگانِ خدا تک پہنچائے۔ ساتھ ہی ساتھ ہی اہلِ کتاب کی فتنہ انگیزیوں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

 

آیت ۱۲۱ تا ۱۸۹ میں غزوۂ احد کے حالات و واقعات پر تبصرہ کیا گیا ہے اور ان کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو اس وقت نمایاں ہوئیں۔

 

آیت ۱۹۰ تا ۲۰۰ کی حیثیت خاتمۂ کلام کی ہے۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایمان کوئی اندھا عقیدہ نہیں بلکہ عقل و فطرت کی آواز ہے۔ اس آواز پر جب انسان لبّیک کہتا ہے تو اس کا تعلّق اپنے سے صحیح معنیٰ میں جُڑ جاتا ہے اور اس کے دل سے بے اختیار یہ دعا نکلتی ہے کہ اس کا انجام بخیر ہو۔ اس موقع پر اُس کا اُسے بہتر انجام کی خوشخبری سناتا ہے اور اطمینان دلاتا ہے کہ جو قربانیاں اُس نے راہِ حق میں دی ہیں ، اُن کا بھر پور اجر وہ اُسے عطا فرمائے گا۔ اخیر میں راہِ حق میں لڑنے وا لے اہلِ ایمان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور انہیں حق و باطل کے معرکے میں ثابت قدم رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نوٹ: نشان " *" سے تفسیری نوٹ کے نمبر شمار کی نشان دہی کی گئی ہے۔

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الف ، لامَ، میم ۱*۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ۲* (خدا) نہیں وہ زندہ ہستی ہے جو قائم ہے اور سب کو سنبھالے ہوئے ہے ۳*

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے تم پر کتاب بر حق نازل ۴* کی جو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور وہ تورات ۵* اور انجیل ۶* نازل کر چکا ہے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے نیز اس نے فرقان ۷* اتارا۔ یقین جانو جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کریں گے ان کو سخت سزا ملے گی۔ اللہ غالب ہے اور (گناہوں کی پاداش میں) سزا دینے والا ہے ۸*۔

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں نہ آسمان ۹* میں۔

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جو رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے صورت گری ۱۰* کرتا ہے۔ اس غالب اور حکمت وا لے کے سوا کوئی خدا نہیں۔

 

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس میں محکم ۱۱* آیات ہیں جو کتاب کی اصلِ بنیاد ۱۲* ہیں اور دوسری ایسی ہیں جو متشابہ ۱۳* ہیں۔ تو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں ۱۴* تاکہ فتنہ برپا کریں اور ان کی اصل حقیقت معلوم کریں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں سخت ہیں وہ کہتے ہیں ہم پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے ہی کی طرف سے ہیں۔ اور یاد دہانی تو عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے!جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کر اور ہم پر اپنی رحمت کا فیضان کر۔ واقعی تو بڑا فیاض ہے ۱۵*

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے پروردگار !تو ضرور سب لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔ بے شک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا ۱۶* نہ ان کے مال اللہ کے ہاں کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد ۱۷*۔ ایسے ہی لوگ آتشِ (جہنم) کا ایندھن بنیں گے۔

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی اسی ڈگر پر ہیں جس پر آل فرعون اور ان کے پیش تھے۔ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے کہہ دو کہ عنقریب تم مغلوب ہو گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

 

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن دو گروہوں میں مڈ بھیڑ ہوئی ان میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑا تھا اور دوسرا کافر تھا۔ یہ ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دو گنی تعداد میں دیکھے تھے اور اللہ اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے تقویت پہنچاتا ہے اس (واقعہ) میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے جو دیدۂ بینا رکھتے ہیں ۱۸*۔

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کے لئے مرغوباتِ نفس زن ،فرزند ،سونے چاندی کے ڈھیر،نفیس گھوڑے ،مویشی اور کھیتیاں بڑی خوشنما بنا دی گئی ہیں یہ سب دنیوی زندگی کا سامان ہے اور بہتر ٹھکانہ تو اللہ ہی کے پاس ہے ۱۹*۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو کیا میں تمہیں بتاؤں ان سے بہتر چیز کیا ہے ؟ جو لوگ تقویٰ ۲۰* اختیار کریں ان کے لئے ان کے پاس باغ ہیں جن کے تلے نہریں رواں ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی خوشنودی ۲۱* انہیں حاصل ہو گی۔ اللہ اپنے بندوں پر نظر رکھتا ہے ۲۲*۔

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے ہم ایمان لائے پس تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آتشِ (جہنم) کے عذاب سے بچا۔

 

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ صابر ہیں ،ست باز ہیں ، غایت درجہ فرمانبردار ہیں ، انفاق کرنے وا لے ہیں اور اوقاتِ سحر ۲۳* میں گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ۲۴*۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے اس بات کی شہادت دی کہ اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں اور فرشتے اور اہلِ علم بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عدل و انصاف کے ساتھ تدبیر و انتظام کرنے والی اس ہستی کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ غالب اور حکیم ہے ۲۵*۔

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے نزدیک اصل دین ۲۶* صرف اسلام ہے اور اہلِ کتاب نے جو اختلاف کیا وہ علم ۲۷* آ جانے کے بعد محض باہمی عناد کی وجہ سے کیا اور جو کوئی اللہ کے احکام کا انکار کرے گا تو (اسے معلوم ہونا چاہئیے کہ) اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے ۲۸*۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد بھی اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کرتے ہیں تو ان سے کہو میں نے اور میرے پیروؤں نے تو اپنے کو اللہ کے حوالے کر دیا اور اہلِ کتاب اور اُمّیوں ۲۹* سے پوچھو کہ کیا تم نے بھی اسلام قبول کیا؟ اگر انہوں نے بھی اسلام قبول کیا تو وہ راہ راست پا گئے اور اگر منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہونچا دینے کی ذمہ داری ہے اللہ اپنے بندوں کے حال پر نظر رکھتا ہے۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کی ہدایت کا انکار کرتے ہیں اور اس کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں ۳۰* اور ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کی دعوت دیتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ۳۱* گئے اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جنہیں کتابِ الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا ۳۲* ان کو جب اللہ کی کتاب ۳۳* کی طرف دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے ۳۴* تو ان میں کا ایک گروہ منہ پھیرتا ہے اور انحراف کرنا تو ان لوگوں کا شیوہ ہی ہے ۳۵*۔

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ کہتے ہیں دوزخ کی آگ ہمیں چھوئے گی نہیں اِلّا یہ کہ چند روز کے لئے سزامل جائے۔ ان کو ان کی من گھڑت باتوں نے ان کے دین کے بارے میں ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۳۶*۔

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس دن ان کا کیا حال ہو گا جبکہ ہم سب کو جمع کر لیں گے اور جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اسز ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائیگا کسی پر بھی ظلم نہ ہو گا۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اے اللہ !اقتدار کے مالک ۳۷* !تو جسے چاہے اقتدار عطا فرمائے اور جس سے چاہے چھین لے ، جس کو چاہے عزت دے ، جس کو چاہے ذلت دے ، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ۳۸*۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تورات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات ۳۹* میں ، زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے ۴۰*۔ اور تو جس کو چاہتا ہے بے حساب بخششوں سے نوازتا ہے۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہلِ ایمان مؤمنوں کے مقابلہ میں کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں ۴۱* جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں اِلّا یہ کہ تم کسی اندیشہ کے تحت ان سے بچنے کی کوئی صورت اختیار کر لو ۴۲* مگر اللہ تمہیں ا پنی ذات سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو !جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ اس کو جانتا ہی ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس دن ہر شخص اپنے اچھے اور برے اعمال کو اپنے سامنے موجود پائے گا اس وقت وہ یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس دن کے درمیان مدّت مدید حائل ہوتی اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کے حق میں نہایت شفیق ہے ۴۳*۔

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو ۴۴* اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو !اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اگر وہ نہیں مانتے تو جان لیں کہ اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ۴۵* نے آدم ، نوح ، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران ۴۶* کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر منتخب فرمایا تھا۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک دوسرے کی نسل سے تھے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ۴۷* ہے۔

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے) جبکہ عمران کی بیوی نے دعا کی اے میرے ! میں اس بچہ کو جو میرے پیٹ میں ہے تیرے لئے نذر کرتی ہوں کہ وہ تیری عبادت کے لئے وقف ہو گا ۴۸* اسے میری طرف سے قبول فرما، بیشک تو سننے اور جاننے والا ہے۔

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو کہنے لگی میرے!میرے یہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے اور جو کچھ اس نے جنا تھا وہ اللہ کو اچھی طرح معلوم تھا ۴۹* اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ۵۰*۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم (مردود) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو اس کے نے اسے حسنِ قبولیت سے نوازا، عمدہ طریقہ پر اس کو پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا کفیل بنایا ۵۱* ، جب کبھی زکریا اس کے پاس محراب ۵۲* (حجرۂ عبادت) میں جاتا تو ا س کے پاس پاتا۔ پوچھا اے مریم !یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے ؟ اس نے جواب دیا یہ اللہ کے پاس سے ہے ۵۳*۔ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب عطا فرماتا ہے۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس ۵۴* موقع پر زکریا نے اپنے کو پکارا۔ عرض کیا اے میرے پروردگار !مجھے خاص اپنے پاس سے اچھی اولاد عطا فرما، بیشک تو دعا سننے والا ہے۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرشتوں نے اسے پکارا جبکہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھا تھا۔ اللہ تجھے یحیٰ ۵۵* کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے ایک کلمہ ۵۶* کی تصدیق کرنے والا ۵۷* ہو گا ، سردار ۵۸* ہو گا۔ ضبطِ نفس سے غایت درجہ کام لینے والا ہو گا۔ اور نبی ہو گا صالحین کے زمرہ میں سے۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا اے میرے!میرے ہاں لڑکا کس طرح ہو گا جبکہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ۵۹* ہے ؟ فرمایا اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۶۰*۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرض کیا میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا بات نہ کر سکو گے اور اپنے کو بہ کثرت یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو ۶۱*۔

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم !اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا ، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے دنیا کی عورتوں کے مقابلہ میں منتخب فرمایا ۶۲*۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے مریم !اپنے کی مخلصانہ اطاعت کر (اس کے لئے سجدہ کیا کر) ، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہ ۶۳*۔

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی وحی ہم تم پر ۶۴* کرے ہیں ورنہ تم ان کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جبکہ وہ یہ بات طے کرنے کے لئے کہ مریم کا کفیل کون ہو، اپنے اپنے قلم پھینک کر قرعہ اندازی کر رہے ۶۵* تھے اور نہ تم اس وقت ان کے پاس موجود تھے جب وہ باہم جھگڑے تھے۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم !اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰؑ بن مریمؑ ہو گا ۶۶*۔ وہ دنیا و آخرت دونوں میں ذی وجاہت ۶۷* ہو گا اور اللہ کے مقربین میں سے ہو گا۔

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ لوگوں سے گہوارے میں بات کر ے گا ۶۸* اور بڑی عمر میں بھی ۶۹* اور صالحین میں سے ہو گا ۷۰*۔

 

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بولیں !اے میرے پروردگار! میرے کس طرح لڑکا ہو گا جبکہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگا یا ؟ فرمایا !اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو فرمایا ہے ہو جا، اور وہ ہو جاتا ہے۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ اس کو کتاب و حکمت ۷۱* کی تعلیم دے گا اور اسے تورات و انجیل سکھائے گا۔

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا ۷۲* اور جب وہ ان کے پاس آیا تو اس نے کہا کہ میں تمہارے کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندہ کی سی صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے۔ میں اللہ کے حکم سے پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو اس میں یقیناً تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو ۷۳*۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تورات کا جو حصہ میرے سامنے موجود ہے اس کی میں تصدیق کرنے والا بن کر ۷۴* آیا ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ بعض ان چیزوں کو تمہارے لئے حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں ۷۵* اور میں تمہارے پاس تمہارے کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیشک اللہ میرا بھی ہے اور تمہارا بھی لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ۷۶* ہے۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب عیسیٰ نے ان کی طرف سے کفر محسوس کیا تو کہا کون ہے اللہ کی راہ میں میرا مدد گار؟ حواریوں ۷۷* نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مدد گار ۷۸*۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہئیے کہ ہم مسلم ہیں ۷۹*۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے پروردگار جو ہدایت تو نے نازل کی ہے اس پر ہم ایمان لائے اور ہم نے رسول کی پیروی اختیار کی۔ ہمارے نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۸۰*۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے (بنی اسرائیل نے) مسیح کے خلاف سازشیں کیں تو اللہ نے بھی اس کا توڑ کیا اور اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے ۸۱*۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں تمہیں قبض (تمہارا وقت پورا) کرنے والا ہوں ۸۲* اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں ۸۳*ّ۔ نیز تمہاری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک تمہارے منکرین پر غالب رکھنے والا ۸۴* ہوں پھر تم سب کو میری طرف پلٹنا ہے اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن کے بارے میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا ان کو دنیا و آخرت میں سخت سزا دوں گا اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے انہیں وہ ان کا اجر پورا پورا دے گا اللہ ظالموں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ (ہماری آیات اور حکمت بھرا) ذکر ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ۸۵*۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے کہ اسے مٹی سے بنایا اور فرمایا ہو جا اور وہ ہو گیا ۸۶*۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی حق ہے تمہارے کی طرف سے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس علم کے آ جانے کے بعد جو کوئی اس معاملہ میں تم سے حجت کریں تو ان سے کہو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم بھی اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔ ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم بھی اپنی عورتوں کو بلاؤ ہم خو دبھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر ہم مل کر دعا کریں کہ اللہ کی لعنت ہو جھوٹوں پر ۸۷*۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک یہ سچے واقعات ہیں اور حقیقتاً اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی غلبہ والا اور صاحبِ حکمت ہے۔

 

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو اللہ مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۸۸*۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اے اہلِ کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ۸۹* ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا بنائے ۹۰* اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو گواہو ہم تو مسلم ہیں۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد نازل کی گئیں کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ۹۱*۔

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو جس چیز کا تمہیں علم تھا اس کے بارے میں تم بحث کر چکے اب تم ایسی باتوں کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

 

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ راست مسلم تھے اور وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھے۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابراہیم سے نسبت کے سب سے زیادہ حقدار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی اور اہلِ ایمان۔ اور اللہ تعالیٰ مومنوں کا رفیق ہے۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہلِ کتاب کا ایک گروہ اس بات کا متمنی ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جائے حالانکہ یہ لوگ اپنے ہی کو گمراہ کرے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں۔

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے اہلِ کتاب ؟ اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو جبکہ تم خود اس پر گواہ ہو۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے اہلِ کتاب کیوں حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کرتے ہو اور کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو ؟

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ ایمان والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو انکار کرو تاکہ وہ بھی پھر جائیں ۹۲*۔

 

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (نیز وہ کہتے ہیں) اپنے مذہب والوں کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ کہو اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے ۹۳*۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو چیز تمہیں دی گئی ہے ویسی چیز کسی اور کو مل جائے یا وہ تمہارے خلاف تمہارے کے حضور حجت پیش کر سکیں ۹۴*۔ ان سے کہو فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ۹۵* ہے اللہ بڑی وسعت والا جاننے والا ہے ۹۶*۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم ان کے پاس مال کا ایک ڈھیر امانت رکھ دو تو وہ تمہیں ادا کریں گے اور ان میں ایسے بھی ہیں کہ اگر تم ایک دینار بھی امانت رکھ دو تو وہ تمہیں ادا کرنے وا لے نہیں جب تک کہ تم ان کے سر پر کھڑے نہ ہو جاؤ۔ یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں امیوں ۹۷* کے معاملہ میں ہم پر کوئی گرفت نہیں  ۹۸* یہ لوگ دانستہ جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں جو لوگ اپنے عہد کو پورا کریں گے اور تقویٰ اختیار کریں گے تو اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔

 

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں ۹۹* ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا ۱۰۰* اور نہ انہیں پاک کرے گا ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی زبان کو اس طرح مروڑ کر کتاب پڑھتے ہیں کہ تم سمجھو یہ کتاب ہی کی عبارت ہے حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی ۱۰۱* اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا۔ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ اللہ اسے کتاب ، حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے میرے پرستار بن جاؤ ۱۰۲* بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ ربانی (اللہ وا لے) بنو جیسا کہ کتاب الٰہی کا تقاضہ ہے جس کی تم دوسروں کو تعلیم دیتے ہو اور خود بھی پڑھتے ہو۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تمہیں ہرگز یہ حکم نہیں دے گا کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو اپنا بناؤ۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلم ہو۔ ؟

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد کرو جب اللہ نے (تم سے) نبیوں کے متعلق عہد لیا تھا کہ میں نے تمہیں کتاب و حکمت سے نوازا ہے اس کے بعد کوئی رسول اس کتاب کی جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے تصدیق کرتا ہوا آئے گا تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی لازماً مدد کرو گے ۱۰۳*۔ پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے اس بھاری ذمہ داری کو قبول کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تم گواہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد جو لوگ (اس عہد سے) پھر جائیں وہی فاسق ہیں ۱۰۴*۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں ۱۰۵* حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوق چار و ناچار اسی کی فرمانبردار ہے ۱۰۶* اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۱۰۷*۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو۔ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس چیز پر جو نازل کی گئی ہم پر اور جو ابراہیم ، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اور اولادِ یعقوب پر نازل ہوئی تھی۔ اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں نیز ہمارا ایمان اس چیز پر بھی ہے جو موسیٰ ، عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے کی جانب سے دی گئی۔ ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اس کے فرمانبردار (مسلم) ہیں۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو اختیار کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نامراد ہو گا ۱۰۸*۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ان لوگوں کو کس طرح ہدایت دے گا جنہوں نے ایمان کے بعد کفر کیا ۱۰۹*ّ حالانکہ وہ اس بات کی گواہی دے چکے ہیں کہو رسول برحق ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آ چکی ہیں اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ۱۱۰*۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی۔

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی اور نہ ان کو مہلت ہی ملے گی۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنے طرزِ عمل کو درست کر لیا تو اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہو گی ۱۱۱*۔ ایسے لوگ پکے گمراہ ہیں۔

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً جن لوگوں کفر کیا اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے اگر ان میں سے کوئی (نجات حاصل کرنے کے لئے) زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا ۱۱۲* ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نیکی کے مقام کو ہرگز نہیں پاسکتے جب تک کہ ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جو تم کو عزیز ہیں ۱۱۳* اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے۔

 

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھانے کی یہ تمام چیزیں ۱۱۴* بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں بجز ان چیزوں کے جن کو اسرائیل نے نزول تورات سے پہلے اپنے اوپر حرام ٹھہرایا تھا ۱۱۵* کہو تورات لاؤ اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو ۱۱۶*۔

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کریں وہی ظالم ہیں۔

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اللہ نے سچ فرمایا ہے تو ابراہیم کے طریقہ کی پیروی کرو جو راست تھا اور شرک کرنے والوں میں ہرگز نہ تھا۔

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلاشبہ پہلا گھر ۱۱۷* جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو "بکہ " ۱۱۸* میں ہے۔ دنیا والوں کے لئے باعثِ برکت ۱۱۹* اور موجب ہدایت ۱۲۰*۔

 

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں ۱۲۱* مقام ابراہیم ۱۲۲* ہے اور جو کوئی اس میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔ جو لوگ اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان پر اللہ کے لئے اس گھر کا حج فرض ہے اور جو کفر کرے تو اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے ۱۲۳*۔

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اے اہلِ کتاب تم اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ تم جو کچھ کرے ہو اللہ اسے دیکھا ہے۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اے اہل کتاب تم ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے کیوں کتے ہو ۱۲۴* ؟ تم اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہو ۱۲۵* جبکہ تم گواہ ہو ۱۲۶*۔ اللہ تمہاری حرکتوں سے بے خبر نہیں ہے۔

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو !اگر تم اہل کتاب کے کسی گروہ ۱۲۷* کی بات مان لو گے تو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے۔

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم کس طرح کفر کرو گے جبکہ تمہیں اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور اس کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے ۱۲۸* اور جس نے اللہ کو مضبوط پکڑ لیا ۱۲۹* اسے صراط مستقیم کی ہدایت مل گئی۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۱۳۰* اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۱۳۱*۔

 

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی رسی ۱۳۲* کو سب مل کر ۱۳۳* مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۱۳۴* اور اللہ کے اس فضل کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ۱۳۵* تو اس نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور اس کے فضل سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں (ہدایات) واضح فرماتا ہے تاکہ تم راہ یاب ہو ۱۳۶*۔

 

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم میں ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہئیے جو خیر کی طرف دعوت دے ، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے ۱۳۷* ایسے ہی لوگ فلاح پانے وا لے ہیں۔

 

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو تفرقہ میں پڑ گئے اور جنہوں نے واضح ہدایات پانے کے بعد اختلاف کیا ۱۳۷* الف۔ ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے۔

 

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن کتنے ہی چہرے روشن ہوں گے اور کتنے ہی سیاہ۔ تو جن کے چہرے سیاہ ہونگے ان سے کہا جائے گا کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ لو اب اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔

 

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہونگے وہ اللہ کی طرف رحمت میں ہونگے اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں اور اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کے لئے ہے اور سارے معاملات بالآخر اسی کے حضور پیش ہونگے۔

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم خیر امت ۱۳۸* (بہترین گروہ) ہو جسے انسانوں (کی اصلاح و رہنمائی) کے لئے برپا کیا گیا ہے۔ تم معروف کا حکم کرتے ہو،منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لاتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا ۱۳۹* ان میں کچھ لوگ تو مؤمن ہیں لیکن اکثر لوگ فاسق ہیں۔

 

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے بجز تھوڑی سی اذیت رسانی کے اور اگر وہ تم سے جنگ کریں گے تو پیٹھ دکھائیں گے ۱۴۰* پھر ان کو کہیں سے مدد نہیں مل سکے گی۔

 

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جہاں کہیں پائے گئے ان پر ذلت کی مار پڑی اِلّا یہ کہ اللہ کے عہد یا انسانوں کے عہد کے تحت ان کو (وقتی طور پر) پناہ مل گئی ہو ۱۴۱*۔ وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور ان پر پستی و محتاجی مسلط کر دی گئی ۱۴۲*۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرنے لگے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے اور یہ ہے نتیجہ ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حد سے تجاوز کرنے لگے تھے ۱۴۳*۔

 

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب یکساں نہیں ہیں۔ ان اہل کتاب میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو (عہد پر) قائم ہے۔ یہ لوگ رات کی گھڑیوں میں اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

 

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ اور یوم آخر پر ایما ن رکھتے ہیں معروف کا حکم دیتے ہیں منکر سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم ہیں۔ یہ لوگ صالحین میں سے ہیں ۱۴۴*۔

 

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔

 

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (لیکن) جن لوگوں نے کفر کیا ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام آنے والی نہیں ۱۴۵* وہ دوزخی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

 

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا کی اس زندگی میں وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چل جائے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور وہ اسے تباہ کر کے رکھ دے ۱۴۶*۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرے ہیں۔

 

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو !اپنے سوا کسی اور کو اپنا راز دار نہ بناؤ ۱۴۷*۔ وہ نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے وہ تمہارے لئے تکلیف کے خواہاں ہیں۔ ان کی دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہو چکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے اپنی ہدایات واضح کر دی ہیں اگر تم سوجھ بوجھ سے کام لو۔

 

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تم ہو کہ ان سے دوستی رکھتے ہو جبکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے ۱۴۸* اور تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔ وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں ۱۴۹* اور جب اکیلے میں ہوتے ہیں تو مارے غصہ کے اپنی انگلیاں کاٹنے لگتے ہیں۔ ان سے کہو اپنے غصہ میں جل مرو۔ اللہ ان باتوں کو بخوبی جانتا ہے جو سینوں کے اندر پوشیدہ ہیں۔

 

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تمہیں بھلائی پہنچتی ہے تو ان کو ناگوار ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں ۱۵۰* لیکن اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو ۱۵۱* تو ان کی چالبازیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی اور وہ جو حرکتیں کر رہے ہیں اللہ انہیں گھیرے ہوئے ہے۔

 

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ۱۵۲* (یاد کرو) جب تم اپنے گھر سے صبح سویرے نکلے تھے اور مؤمنین کو جنگ کے مورچوں پر متعین کر رہے تھے اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

 

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت تم میں سے دو گروہ ۱۵۳* کمزوری دکھانا چاہتے تھے حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا اور اللہ ہی پر اہلِ ایمان کو بھروسہ رکھنا چاہئیے۔

 

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ نے تمہاری مدد بد ر ۱۵۴* میں کی تھی جبکہ تم نہایت کمزور تھے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اس کے شکر گزار بنو۔

 

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت تم مؤمنوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ۱۵۵* ؟

 

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلاشبہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ تمہارے اوپر دفعتہً حملہ آور ہوئے تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان رکھنے والے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۱۵۶*

 

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے اسے تمہارے لئے بشارت بنایا اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں ورنہ نصرت تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے جو غالب بھی ہے اور حکیم بھی ۱۵۷*۔

 

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیز (تمہاری مد د) اس لئے کہ اللہ کافروں کے ایک حصہ کو کاٹ دے یا انہیں ایسا ذلیل کر دے کہ وہ نامراد ہو کر لوٹیں۔

 

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس معاملہ میں تمہیں کوئی اختیار نہیں ۱۵۸* وہ چاہے انہیں معاف کرے یا سزا دے کہ وہ ظالم ہیں۔

 

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے ۱۵۹*۔ اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

 

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو !یہ دوگنا چوگنا سود نہ کھاؤ ۱۶۰*۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو۔

 

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

 

۱۳۲ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

 

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کی وسعت کی طرح ہے ۱۶۱*۔ یہ متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

 

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو خوشحالی اور تنگی ہر حال میں انفاق کرتے ہیں ، غصہ کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کا معاملہ کرتے ہیں اللہ ایسے نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔

 

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب یا (کوئی گناہ کر کے) اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کو ن ہے جو گناہوں کو معاف کرے ۱۶۲* اور وہ جانتے بوجھتے اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۱۶۳*۔

 

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔ نیز ایسے باغات ہیں جن کے تلے نہریں رواں ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہین گے۔ کیا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کے لئے۔

 

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سے پہلے سنن الٰہی کے واقعات گزر چکے ہیں تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ۱۶۴*۔

 

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگوں کے لئے بیان ہے ۱۶۵* اور متقیوں کے لئے ہدایت و نصیحت۔

 

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پست ہمت نہ ہو اور غم نہ کرو۔ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مؤمن ہو ۱۶۶*۔

 

۱۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم کو زخم لگا ہے تو اسی طرح کا زخم ان لوگوں (دشمن) کو بھی لگ چکا ہے ۱۶۷* ان ایام ۱۶۸* کو ہم اسی طرح لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں اور (یہ دن تم پر اس لئے لایا گیا کہ) اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ سچّے اہل ایمان کو ن ہیں اور چاہتا تھا کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے ۱۶۹*۔ اللہ کو ظالم لوگ پسند نہیں ہیں

 

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور (یہ حادثہ اس لئے پیش آیا) تاکہ اللہ اہل ایمان کو خالص کر دے اور کافروں کی سرکوبی کرے۔

 

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ اللہ نے ابھی یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ جہاد کرنے وا لے ہیں ۱۷۰* اور (یہ ابتلا اس لئے بھی ضروری ہے) تاکہ وہ دیکھ لے کہ کو ن صبر کرنے وا لے ہیں۔

 

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم موت کے سامنے آنے سے پہلے اس کی تمنا کر رہے تھے ۱۷۱* لیکن جب تم نے اسے دیکھ لیا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔

 

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد تو بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں پھر کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دئیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ۱۷۲* ؟ جو کوئی الٹے پاؤں۔ پھر جائیگا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اور اللہ قدرشناس ۱۷۳* لوگوں کو جلد ہی جزاء سے نوازے گا۔

 

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر مر نہیں سکتا اس کا وقت مقرر ہے اور لکھا ہوا ہے ۱۷۴* جو کوئی دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اسی میں سے دیتے ہیں اور جو آخرت کے انعام کا طالب ہو تو ہم اسے اس میں سے دیں گے اور ہم شکر کرنے والوں کو ضرور جزا سے نوازیں گے۔

 

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتنے ہی انبیاء گزرے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ۱۷۵* اور جو مصیبتیں انہیں اللہ کی راہ میں پیش آئیں ان کی وجہ سے وہ پست ہمت نہیں ہوئے نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ وہ (دشمنوں کے آگے) جھکے اور اللہ کو ثابت قدم رہنے وا لے لوگ ہی پسند ہیں۔

 

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کی زبان سے تو بس یہی کلمات نکلے کہ اے ہمارے رب !ہمارے گناہوں کو بخش دے ، ہمارے کام میں جو زیادتیاں ہو گئی ہوں ان سے درگزر فرما، ۱۷۶* ہمارے قد م جما دے اور کافروں پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔

 

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نتیجہ یہ کہ اللہ نے ان کو دنیا کے انعام سے بھی نوازا اور آخرت کے بہترین انعام سے بھی۔ اور اللہ کو ایسے ہی نیک کردار لوگ پسند ہیں ۱۷۷*۔

 

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو!اگر تم کافروں کا کہنا مان لو گے تو وہ تمہیں الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہو جاؤ گے۔

 

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہارا مولیٰ (رفیق) تو اللہ ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور عنقریب ہم کافروں کے دل میں رعب ۱۷۸* بٹھا دیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جن کے لئے اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کیا ہی بری جائے قیام ہے ظالموں کے لئے۔

 

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے جو وعدہ تم سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا جبکہ تم اس کے اذن سے ان کو بے دریغ قتل ۱۷۹* کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور (مورچہ پر قائم رہنے کے) معاملہ میں باہم اختلاف کیا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھائی جس کے تم دلدادہ تھے۔ تم میں کچھ طالب دنیا تھے ۱۸۰* اور کچھ طالب آخرت۔ تب اس نے تمہارا رخ ان (دشمنوں) کی طرف پھیر دیا ۱۸۱* تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے۔ تاہم اس نے تمہیں معاف کر دیا اور اللہ مؤمنوں کے حق میں بڑا مہربان ہے ۱۸۲*۔

 

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب تم (مورچہ چھوڑ کر) چلے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی دیکھتے نہ تھے حالانکہ رسول تم کو پیچھے سے پکار رہا تھا ۱۸۳* تو اللہ نے تم کو غم پر غم پہنچایا ۱۸۴* تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے یا جو مصیبت تمہیں پیش آئے اس پر دل گرفتہ نہ ہو تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

 

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس غم کے بعد اس نے تم پر اطمینان نازل فرمایا ، یہ اونگھ کی حالت تھی جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہو رہی تھی ۱۸۵* مگر دوسرے گروہ کو اپنی جانوں ہی کی پڑی تھی یہ لوگ اللہ کے بارے میں خلاف حق جاہلیت کی سی بدگمانی کر رہے تھے۔ کہتے ہیں کیا اس معاملہ میں ہمیں بھی کوئی اختیار ہے ؟ کہو سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ (دراصل) ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر اس معاملہ میں ہمیں اختیار ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ کہو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے ۱۸۶*۔ یہ جو کچھ پیش آیا اس لئے پیش آیا تاکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اسے اللہ پرکھے اور جو (کدورت) تمہارے دلوں میں ہے اسے صاف کرے اللہ تمہارے باطن کا حال بخوبی جانتا ہے۔

 

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس دن دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے ۱۸۷* اس دن تم میں سے جن لوگوں نے پیٹھ پھیری ان سے شیطان نے ان کے بعض اعمال کے باعث لغزش کرا دی تھی ۱۸۸*۔ اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ بلا شبہ اللہ بڑا بخشنے والا برد بار ہے۔

 

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو!ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کفر کیا اور جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جبکہ وہ سفر پر گئے ہوں یا جنگ میں شریک ہوئے ہوں (اور انہیں موت آ جائے تو) کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس موجود ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے (انہیں یہ خوش فہمی) اس لئے ہے تاکہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں باعث حسرت بنا دے ۱۸۹* ورنہ اللہ ہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو سب اللہ کی نگاہ میں ہے۔

 

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے یا مر گئے تو اللہ کی مغفرت اور رحمت (جس سے کہ تم نوازے جاؤ گے) ان تمام چیزوں سے کہیں بہتر ہے جن کو یہ لوگ جمع کر رہے ہیں۔

 

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خواہ تم مرو یا مارے جاؤ بہرحال تمہیں جمع اللہ ہی کے حضور ہونا ہے۔

 

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اے پیغمبر) یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ہو ۱۹۰*۔ اگر تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے چھٹ جاتے۔ لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کے حق میں استغفار کرو نیز (جہاد جیسے مہمات) امور میں ان سے مشورہ کرتے رہو ۱۹۱* پھر جب عز م کر لو تو اللہ پر توکل کرو۔ یقیناً اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

 

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو کو ن ہے جو تم پر غالب آئے ؟ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کو ن ہے جو تمہاری مدد کرے گا اور اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئیے۔

 

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی نبی کا یہ کام نہیں ہو سکتا کہ وہ خیانت کرے ۱۹۲* اور جو کو ئی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کو لا حاضر کرے گا ۱۹۳* پھر ہر نفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو گی۔

 

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ایسا شخص جو اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو اللہ کے غضب کا مستحق ہو اور جس کا ٹھکانا جہنم ہے نہایت ہی برا ٹھکانا!؟

 

۱۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے نزدیک لوگوں کے درجے الگ الگ ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ کی نگاہ میں ہے ۱۹۴*۔

 

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واقعی اللہ نے اہل ایمان پر یہ بڑا احسان فرمایا کہ ان میں ان ہی میں سے ایک ایسا رسول برپا کیا جو انہیں اس کی آیتیں سناتا ہے ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے ۱۹۵* ورنہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

 

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا بات ہے کہ جب تم پر مصیبت آ پڑی جیسے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (دشمنوں) پر پڑ چکی ہے تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آ گئی ۱۹۶* ؟ (اے پیغمبر) کہو یہ تمہارے ہی ہاتھوں آئی ہے ۱۹۷* یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۱۹۸*۔

 

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور دونوں جماعتوں کے مقابلہ کے دن جو مصیبت تمہیں پہنچی وہ اللہ کے اذن ہی سے پہنچی اور یہ اس لئے ہوا تاکہ وہ مومنوں کو دیکھ لے۔

 

۱۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان لوگوں کو بھی دیکھ لے جو منافق ہیں ان (منافقوں) سے جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا (دشمن کو) دفع کرو تو وہ کہنے لگے اگر ہم کو معلوم ہوتا کہ جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ ہوتے ۱۹۹*۔ وہ اس دن ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے وہ اپنی زبان سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور جس بات کو یہ چھپاتے ہیں اس کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے۔

 

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ خود تو بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو مارے نہ جاتے ان سے کہو اگر تم سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال کر دکھاؤ۔ ۲۰۰*

 

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے انہیں مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں ۲۰۱*۔

 

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اس سے وہ خوش ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور ابھی ان سے ملے نہیں ہیں ان کے بارے میں خوشیاں منا رہے ہیں کہ ان کے لئے بھی نہ کسی طرح کا خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۲۰۲*۔

 

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی بشارت مل رہی ہے اور وہ مطمئن ہیں کہ اللہ مؤمنوں کے اجر کو ضائع نہیں کر ے گا ۲۰۳*۔

 

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ۲۰۴* ان میں سے جو نیک کردار اور متقی ہیں ان کے لئے بڑا اجر ہے۔

 

۱۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف ان لوگوں نے بڑی طاقت اکٹھا کی ہے لہٰذا ان سے ڈرو تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو گیا ۲۰۵* اور وہ بول اٹھے اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ۲۰۶*۔

 

۱۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ایسا ہوا کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس لوٹے۔ ان کو کسی طرح کا گزند نہیں پہنچا وہ اللہ کی رضا پر چلے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

 

۱۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے ساتھیوں سے ڈرا رہا تھا لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔

 

۱۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ کفر (کی راہ) میں سرگرمی دکھا رہے ہیں ان کی وجہ سے تم آزردہ خاطر نہ ہو جاؤ وہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے۔

 

۱۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلا شبہ جن لوگوں نے ایمان کے بعد کفر کا سودا کیا وہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

 

۱۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں نے کفر کیا وہ یہ خیال نہ کریں کہ یہ ڈھیل جو ہم انہیں دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں بہتر ہے یہ ڈھیل تو ہم انہیں اس لئے دے رہے ہیں تاکہ وہ خوب گناہ سمیٹ لیں ۲۰۷* پھر ان کے لئے سخت رسوا کن عذاب ہے۔

 

۱۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ اہل ایمان کو اس حال پر ہرگز نہ چھوڑے گا جس پر تم اس وقت ہو جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے ۲۰۸* اور اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ عیب (کی ان باتوں) پر تمہیں مطلع کر دے ۲۰۹* بلکہ اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کام کے لئے منتخب فرماتا ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسولوں پر ایما ن لاؤ اگر تم ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے۔

 

۱۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ایسا کرنا ان کے لئے اچھا ہے نہیں یہ ان کے لئے بہت برا ہے یہ مال جس میں یہ بخل کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے گلوں میں طوق بنا کر پہنا یا جائے گا ۲۱۰* اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی میراث ۲۱۱* اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

 

۱۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۲۱۲*۔ ہم ان کے اس قول کو لکھ رکھیں گے اور ان کا انبیا ء کو ناحق قتل کرنا بھی۔ اور ہم کہیں گے کہ چکھو اب عذاب آتش کا مزہ۔

 

۱۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں اپنے لئے مہیا کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ہر گز ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

 

۱۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہم کسی رسول کو نہ مانیں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آگ کھا لے ان سے کہو مجھ سے پہلے تمہارے پاس کتنے ہی رسول روشن نشانیاں لیکر آئے تھے اور وہ چیز بھی لیکر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو ۲۱۳*۔

 

۱۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (پھر اے پیغمبر ؐ !) اگر یہ تمہیں جھٹلا تے ہیں تو تم سے پہلے بھی کتنے ہی رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے وہ روشن نشانیاں ۲۱۴* ، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔

 

۱۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۲۱۵* اور تمہیں پورا پورا اجر تو قیامت ہی کے دن دیا جائے گا تو جو شخص آتشِ (دوزخ) سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ یقیناً کامیاب ہوا اور یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ سامان فریب ہے۔

 

۱۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم جان و مال کی آزمائش میں ضرور ڈالے جاؤ گے اور تمہیں ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی نیز مشرکین سے بہت کچھ اذیت دہ باتیں سننا پڑیں گی۔ لیکن تم نے صبر سے کام لیا اور تقویٰ پر قائم رہے تو یہ بڑے عزم و ہمت کی بات ہو گی۔

 

۱۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یاد کرو جب اللہ نے ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے عہد لیا تھا کہ تم اسے لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور چھپاؤ گے نہیں مگر انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا ۲۱۶* تو کیا ہی بری قیمت ہے جسے وہ حاصل کر رہے ہیں۔

 

۱۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر نازاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ان پر ان کی تعریف کی جائے ۲۱۷* انہیں تم عذاب سے محفوظ نہ سمجھو ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے۔

 

۱۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسمان اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کیلئے ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

 

۱۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلاشبہ ۲۱۸* آسمانوں اور زمین کی خلقت اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں دانشمندوں ۲۱۹* کے لئے بڑی ہی نشانیاں ۲۲۰* ہیں۔

 

۱۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن کا یہ حال ہے کہ کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں ۲۲۱* اور آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور و فکر کرتے ہیں ۲۲۲*۔ (وہ پکار اٹھتے ہیں اے ہمارے رب ! یہ سب کچھ تو نے بے مقصد پیدا نہیں کیا ہے تو پاک ہے (اس سے کہ عبث کام کرے) پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

 

۱۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے رب!جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے فی الواقع تو نے رسوا کر دیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہ ہو گا۔

 

۱۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے رب !ہم نے ایک پکارنے وا لے کو سنا جو ایمان کی طرف بلا رہا تھا۔ اس کی دعوت یہ تھی کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے پس اے ہمارے رب !ہمارے گناہ بخش دے ، ہماری برائیوں کو دور فرما اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ (دنیا سے) اٹھا۔

 

۱۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ہمارے رب !جن چیزوں کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کر بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

 

۱۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی ۲۲۳* کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے وا لے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۲۲۴* ، ضائع نہیں کروں گا۔ تم سب ایک دوسرے سے ہو ۲۲۵* تو جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میر ی راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے ان سے ان کی برائیوں کو دور کروں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ یہ اللہ کی طرف سے جزا ہو گی اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے۔

 

۱۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملکوں میں کافروں کی دوڑ دھوپ تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے ۲۲۶*۔

 

۱۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تھوڑے سے فائدہ کا سامان ہے ا س کے بعد انکا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی بری آرام گاہ ہے وہ۔

 

۱۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے تلے نہریں رواں ہونگی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے سامان ضیافت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے کہیں بہتر ہے ۲۲۷*۔

 

۱۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس چیز پر بھی ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور اس چیز پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی ۲۲۸* اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں اللہ کی آیتوں کو وہ حقیر قیمت پر بیچ نہیں دیتے ایسے ہی لوگوں کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے یقین جانو اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔

 

۲۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے ایمان والو ۲۲۹* ! صبر کرو، مقابلہ میں ثابت قدم رہو ، (جہاد کے لئے) تیار رہو ۲۳۰* ، اور اللہ سے ڈرتے رہو ۲۳۱* تاکہ تم کامیاب ہو۔

تفسیر

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حروف مقطعات ہیں جن کی تشریح سورۂ بقرہ کے آغاز میں گز ر چکی۔ وہاں ہم زبور کے حوا لے سے یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ حروف سورہ کے مخصوص مضامین یا مخصوص الفاظ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اس سورۃ کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حروف ان مضامین کے ساتھ خاص مناسبت رکھتے ہیں طوالت سے بچتے ہوئے ہم یہ عرض کریں گے کہ الف کا اشارہ "اللہ " کی طرف ہے جس کی صحیح معرفت اس سورۃ میں بخشی گئی ہے۔ نیز اس کا اشارہ "آیات اللہ " کی طرف بھی ہے جس کا ذکر اس سورہ میں بکثرت ہوا ہے اور خاص طور سے آیت ۷ میں آیات قرآنی کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں محکمات و متشابہات۔

 

اسی طرح لام کا اشارہ لااِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں) کی طرف ہے جن کو نہایت مہتمم بالشان طریقہ پر اس سورہ میں پیش کیا گیا ہے۔ (آیت۲ ،۶ ، ۱۸)

 

رہا میم تو وہ بھی اس سورہ کا ایک اہم عنصر ہے کیونکہ اس سورہ میں اللہ کی اس صفت کو کہ وہ مالک الملک ہے نہایت مؤثر پیرایہ میں پیش کیا گیا ہے۔ (آیت ۲۶) نیز اس میں ملائکہ کا ذکر متعدد مقامات پر ہوا ہے اور توحید کے سلسلہ میں ان کی گواہی بھی پیش کی گئی ہے (آیت ۱۸) علاوہ ازیں اس میں مومنین و متقین کو کامیابی کا مژدہ بھی سنایا گیا ہے۔

 

گویا ان حروف کی حیثیت نشاناتِ راہ کی ہے جو منزل کی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ خداؤں میں سب سے بڑا ہے یعنی مہا دیو یا Chief God ہے بلکہ فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں یعنی اس کے سوا کسی خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے لہٰذا اللہ کے سوا جن کو بھی خدا کے نام سے پکارا جاتا ہے وہ فرضی خد ا ہیں حقیقتہً ان میں سے کوئی بھی الوہیت (خدائی کی صفت) اپنے اندر نہیں رکھتا۔

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملاحظہ ہو ، سورہ بقرہ نوٹ ۴۰۹ ، ۴۱۰۔ یہاں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ قیّومیت اللہ ہی کی صفت ہے۔ اس لئے وہ بجا طور پر مستحقِ عبادت ہے لیکن جو لوگ مسیح یا کسی اور ہستی کی الوہیت کے قائل ہیں۔ وہ بتائیں کہ کیا یہ ہستیاں بھی اپنے اندر قیّومیت کی صفت رکھتی ہیں اگر نہیں ، اور واقعہ یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے تو پھر ان کو اِلٰہ قرار دینا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نَزَّلَ (نازل کیا) میں الفاظ کے ساتھ اتارنے کا مفہوم شامل ہے یعنی اس احتمال کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وحیِ الٰہی کو الفاظ کا جامہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے پہنا یا ہو گا نہیں بلکہ قرآن لفظاً اور عبارتاً (Text) کی شکل میں اللہ ہی کا نازل کردہ ہے اس کے الفاظ اور ان کی ترکیب میں کسی کا حتیٰ کہ پیغمبر کا بھی کوئی دخل نہیں ۔

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تورات کے عبرانی میں معنی قانون (Law) کے ہیں یہ اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ قرآن اسی کی تصدیق کرتا ہے لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ تورات موجو دہ بائبل (Old Testament) کا نام ہے۔ اور اس کے تمام مضامین کی قرآن تصدیق کر رہا ہے کیونکہ موجو دہ بائبل مذہبی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں اصل تورات کے اجزا ء ضرور موجود ہیں لیکن وہ تاریخی واقعات ، سیرت ، علماء کی تشریح و تعبیر اور فقہاء کی آراء کا ایسا مجموعہ ہے کہ نہ اس پورے مجموعے پر کتابِ الٰہی کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ اصل تورات کے اجزاء کو کوئی شخص اس مخلوطہ سے الگ کر سکتا ہے تا وقتیکہ وہ بصیرت سے کام نہ لے۔ موجو دہ بائبل خود یہ دعویٰ بھی نہیں کرتی کہ وہ من و عن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے نیز اس کے مضامین اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ یہ مجموعہ انسانوں ہی کا مرتّب کردہ ہے بلکہ اصلِ کلامِ الٰہی میں لوگوں نے جو تحریف کی اس کا اعتراف بھی بائبل کرتی ہے چنانچہ بائبل کی کتاب "یرمیاہ "میں ہے۔ " کیونکہ تم نے زندہ خدا ربّ الافواج ہمارے خدا کے کلام کو بگاڑ ڈالا ہے " (یرمیاہ ۲۳۔ ۳۶)

 

موجو دہ بائبل کے بارے میں اس کے ایک شارح کا یہ اعتراف ملاحظہ ہو کہ یہ مجموعہ بھی اسرائیل کی بابل سے واپسی کے بعد مرتّب کیا گیا ہے : چنانچہ Peak's Commentary on the Bible, میں The Authority of the Bible کے تحت اس کا شارح رقم طراز ہے۔

 

" It was after the return of Israel from the Babylonian exile that the collection of the Books of the Law into the present corpus was made" (Page2)

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انجیل اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی۔ قرآن اسی کی تصدیق کرتا ہے۔ جہاں تک موجودہ بائبل کے عہد نامہ جدید کا تعلق ہے اس میں اصل انجیل کے اجزاء ضرور پائے جاتے ہیں جو قرآن سے بالکل ہم آہنگ ہیں لیکن یہ مجموعہ بھی اپنی موجود ہ شکل میں کلامِ الٰہی کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس میں کلامِ الٰہی کے منتشر اجزاء کے ساتھ تاریخی واقعات، روایات اور تشریح وغیرہ گھل مل گئی ہے۔ لوقا کی انجیل میں تو آغاز ہی میں یہ صراحت موجود ہے کہ اس کے مرتّب نے واقعات کو خود ہی مرتّب کیا ہے۔

 

" چونکہ بہتوں نے اس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمیان واقع ہوئیں ان کو ترتیب وار بیان کریں جیسا کہ انہوں نے جو شروع ہی سے خود دیکھنے وا لے اور کلام کے خادم تھے ان کو ہم تک پہنچایا۔ اس لئے اے معزّز تھیفلس میں نے بھی مناسب جانا کہ سب باتوں کا سلسلہ شروع سے ٹھیک ٹھیک دریافت کر کے ان کو تیرے لئے ترتیب سے لکھوں تاکہ جن باتوں کی تو نے تعلیم پائی ہے ان کی پختگی تجھے معلوم ہو جائے "۔ (لوقا ۱: ۱۔ ۴ (اور اس بات کا اعتراف بائبل کا شارح اس طرح کرتا ہے :۔

 

The motive and method of the writing of a gospel are described in the prologue of the Gospel of Luke: without any claim to inspiration, the writer set out to get the best information that he could and to use the previous attempts which had been made. The narrative was not designed to be sacred scripture. It was a record of the events: where in the sacred scriptures were fulfilled " (Peake's Commentary on the Bible: Page4)

 

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقان قرآن کی صفت ہے جس کے معنی ہیں حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب۔ یہاں اس صفت کا ذکر کرنے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ تورات و انجیل میں جب اہل کتاب نے تحریف کر دی اور لوگوں کے لئے حق و باطل میں امتیاز کرنا مشکل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کو کسوٹی بنا کر اتارا تاکہ لوگوں پر راہِ ہدایت واضح ہو جائے۔

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن کی شکل میں اللہ کی طرف سے واضح ہدایت آ جانے کے بعد بھی جو لوگ مذہبی اختلافات کے چکّر میں پڑے رہیں گے اور اس ہدایت کو قبول نہیں کریں گے ان کو اللہ سخت سزا د ے گا۔

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ لوگوں نے اللہ کی کتابوں میں تحریف کرنے کی جو جسارت کی اور اللہ کے نام سے جو مختلف مذہب ایجاد کر لئے اسے دیکھ کر کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ سب باتیں اللہ سے مخفی ہیں۔ یا اس کے ہاں اندھیر نگری ہے۔ نہیں بلکہ وہ لوگوں کی ان حرکتوں کو اچھی طرح جانتا ہے لیکن چونکہ انسان کا یہاں امتحان لینا مقصود ہے اس لئے اس کی حکمت ا س بات کی متقاضی ہوئی کہ لوگوں کو مہلتِ عمل دی جائے اور فیصلہ قیامت کے دن کے لئے اٹھا رکھا جائے۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی رحم مادر میں جنین کی تخلیق اللہ ہی کرتا ہے نہ کہ کوئی دیوی دیوتا، مشرکانہ مذہب میں یہ تصوّر پایا جاتا ہے کہ ایک مخصوص دیوی (Tvashtri) جنین کی صورت گری کرتی ہے مذکورہ آیت اس قسم کے تصورات کو باطل قرار دیتی ہے نیز سیاقِ کلام کے لحاظ سے آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ حضرت مسیحؑ کی تخلیق حضرت مریمؑ کے رحم میں ہوئی تھی پھر وہ خدا کس طرح ہو سکتے ہیں؟

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محکم یعنی پختہ اور مستحکم۔ محکم سے مراد قرآن کی وہ آیتیں ہیں جو اپنے مفہوم اور مدّعا کے لحاظ سے بالکل صاف اور واضح ہیں مثلاً و ہ آیات جن میں اسلام کی دعوت، اس کی تعلیمات ، اس کے احکام و قوانین ، فرائض ، عبادات ،نصائح اور اس قسم کی دوسری باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محکمات کی حیثیت امّ الکتاب کی ہے یعنی وہ کتاب کی اصل بنیاد اور مرجع ہیں لہٰذا قرآن کی کسی آیت کا ایسا مطلب لینا صحیح نہ ہو گاجو محکمات کے خلاف ہو بلکہ جہاں بھی مفہوم کی تعین میں اشتباہ پیش آئے وہاں محکمات کی طرف رجوع کرنا چاہئیے۔

 

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متشابہ یعنی ملتی جلتی۔ متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں حقائق جو انسان کے مشاہدات و محسوسات کی دسترس سے باہر ہیں۔ مثلاً اللہ کا عرش پر مستوی ہونا ، عالم بالا کے حقائق ، اعمال کا تولا جانا ،جنت کی نعمتیں ،دوزخ کی سزائیں ، آخرت کے کوائف ، وغیرہ اس قسم کی باتوں کو ایسے الفاظ اور اسالیب میں بیان کیا گیا ہے جو اصل حقیقت کے مشابہت رکھنے والی محسوس چیزوں کے لئے انسانی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے مابعد الطبیعی حقائق کا علم انسان کو اس حد تک حاصل ہو جاتا ہے جس حد تک کہ اس کی ہدایت کے لئے ضروری ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اگر آدمی ان کی اصلِ حقیقت معلوم کرنے کے درپے ہو جائے تو اصلِ حقیقت تک اس کی رسائی ہونے سے رہی البتّہ وہ لفظی اور کلامی بحثوں میں الجھ کر رہ جائے گا جو کسی دانا کا کام نہیں ہے۔

 

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا                غوّاص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متشابہات کے پیچھے پڑنے کی ایک مثال حضرت عیسیٰؑ کی تخلیق کا معاملہ ہے چونکہ آپ کی پیدائش بغیر باپ کے غیر معمولی طریقہ پر ہوئی تھی اس لئے آپ کو کَلِمَۃً مِّنْہُ (کلمہ منجانب اللہ) سے تعبیر فرمایا یعنی وہ اللہ کے ایک فرمان کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی تخلیق اللہ کے کلمۂ کُن (اللہ کا حکم کہ ہو جا) سے ہوئی تھی لیکن نصاریٰ نے اس میں فلسفیانہ موشگافیاں کیں اور حضرت مسیحؑ کی الوہیت کے قائل ہو گئے اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کے لئے بھی فتنہ کا سامان کیا۔ افسوس ہے کہ قرآن کی اس واضح ہدایت کے باوجود مسلمانوں کے بعض گروہوں نے پچھلے ادوار میں صفاتِ الٰہی وغیرہ کے بارے میں غیر ضروری اور لاطائل بحثیں چھیڑ دیں جس کے نتیجہ میں "علم کلام" وجود میں آیا اور اسلام کے سیدھے سادے عقائد بھی معمّہ بن گئے۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دعا جو علم میں پختگی رکھنے والوں کی زبان سے ادا ہوئی ہے ان کے جذباتِ ایمانی کی ترجمانی کرتی ہے۔ وہ متشابہات کی تاویلات کے فتنوں سے بچنے کی فکر کرتے ہیں اور دین میں فتنہ پروری کرنے والوں سے ہوشیار رہتے ہیں اور اپنے ایمان کی سلامتی کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کو کتاب اللہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

 

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مال و اولاد کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ بسا اوقات ان کی محبّت قبول حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ جنگِ بدر کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو ۰۲ھ میں اہل ایمان اور مشرکینِ مکہ کے درمیان بدر کے مقام پر پیش آیا۔ یہ پہلی جنگ تھی جو حاملینِ قرآن نے نبیﷺ کی قیادت میں لڑی۔ اس جنگ میں کفار کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی اور اہلِ ایمان کل تین سو تیرہ ۳۱۳تھے لیکن جب جنگ بالفعل شروع ہو گئی تو کفار کو اہل ایمان اپنی بہ نسبت دوگنی تعداد میں دکھائی دینے لگے۔ جس سے وہ مرعوب ہو گئے۔ وجہ یہ تھی کہ اللہ کی تائید و نصرت اہلِ ایمان کے ساتھ تھی جس کے نتیجہ میں اہلِ ایمان قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود غالب آ گئے۔ اور کفار کو کثیر تعداد ہونے کے باوجود شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

 

یہاں اس واقعہ کا حوالہ دینے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اس میں اہلِ حق کے شان دار مستقبل کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ کیونکہ حق و باطل کی اس کشمکش میں اللہ کی تائید و نصرت حاملینِ قرآن کے حق میں ظاہر ہوئی ہے۔

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن چیزوں کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے وہ انسان کو طبعاً مرغوب ہیں اس لحاظ سے ان کی رغبت قابلِ اعتراض نہیں ہے لیکن ان چیزوں کا اس طرح آنکھوں میں کھب جانا کہ انسان کی ان کے ساتھ وابستگی حدِ اعتدال سے تجاوز کر جائے اور ان چیزوں کو وہ ذریعۂ امتحان سمجھنے کے بجائے مقصدِ حیات سمجھنے لگے تو یہ چیزیں انسان کو برے انجام کی طرف لے جاتی ہیں۔ آیت کا منشاء اسی بے اعتدالی سے انسان کو بچانا ہے۔ جس سیاق میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ دعوتِ قرآنی کو قبول کرنے میں لوگوں کے لئے جو چیز مانع ہو رہی ہے وہ ان کا مادی اسباب پر ریجھ جانا ہے کیونکہ قرآن کی دعوت اس بات کو یکسر غلط ٹھہراتی ہے کہ آدمی مادی اسباب پر فریفتہ ہو اور غیر ذمہ دارانہ اور عیش کوشانہ زندگی گزارے۔ اس کے نزدیک دنیوی مال و اسباب چند روزہ زندگی کا سامان ہے۔ جو آزمائش کے لئے انسان کو عطا ہوا ہے اسی لئے اس میں کشش رکھی گئی ہے۔ رہا مستقبل اور ابدی انعام تو وہ آخرت میں ملے گا بشرطیکہ انسان نے اپنے کو اس کا مستحق بنایا ہو۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تقویٰ ایک جامع اصطلاح ہے اور یہاں اس کا یہ پہلو بالکل نمایاں ہو رہا ہے کہ مرغوباتِ نفس کے سلسلہ میں صحیح اور مبنی بر اعتدال رویہ اختیار کرنا اور آخرت کی نعمتوں کو نصب العین بنانا عین تقویٰ ہے۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی خوشنودی تمام نعمتوں سے فائق تر ہے اللہ جب اپنے بندے سے خوش ہوا تو وہ کون سی سعادت ہے جو اسے ملنا باقی رہ گئی ؟

 

جنت میں انسان کو صرف ظاہری اور نعمتیں ہی نہیں ملیں گی بلکہ وہ خوشنودیِ رب کی روحانی دولت سے بھی مالامال ہو گا۔

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ اپنے بندوں کے حال پر نظر رکھے ہوئے ہے لہٰذا جو صحیح طرزِ عمل اختیار کرے گا اس کے لئے فکر کی کوئی بات نہیں ہے وہ اللہ کی خوشنودی سے ضرور نوازا جائے گا۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سحر کا وقت مناجاتِ الٰہی کے لئے نہایت سازگار اور قبولیت استغفار کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ اس وقت جب کہ دنیا سو رہی ہوتی ہے اور نفس آرام کا طالب ہوتا ہے اٹھ کر اللہ کے حضور استغفار کرنا ایک مجاہدانہ عمل ہے جو ریا کی آفتوں سے محفوظ ہوتا ہے۔

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ صفات انسان کی عظمت اور بلندی کی ضامن ہیں جن لوگوں کے کردار کی یہ خصوصیات ہوتی ہیں وہ دنیا کے مال و متاع اور اس کی آرائش و زیبائش پر ریجھتے نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کو اپنا نصب العین بناتے ہیں۔

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور اپنے قائم بالقسط ہونے پر اپنی ، اپنے فرشتوں کی اور اہلِ علم کی شہادت پیش کی ہے۔

 

اللہ تعالیٰ کی شہادت کا اظہار تو کائنات کی ایک ایک چیز سے ہو رہا ہے۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی وحدانیت پر دلالت نہ کرتی ہو اور جو توازن اس کائنات کے نظام کے اندر پایا جاتا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا خالق عدل و قسط کی صفت سے متّصف ہے۔

 

توحید انسان کے وجدان کی پکار ہے یہ بھی اللہ کی شہادت ہی ہے جو انسان کے باطن کے اندر ودیعت ہوئی ہے۔ اللہ کی شہادت کا اظہار وحی کے ذریعہ بھی ہوا ہے۔ قرآن اس کا بیّن ثبوت ہے۔

 

فرشتوں کی شہادت امر واقعہ کا اظہار ہے۔ فرشتے اللہ کے احکام کو کائنات میں نافذ کرتے ہیں اور پیغمبروں پر وحی لے کر آتے ہیں اس لئے ان کی شہادت اظہارِ حقیقت ہے۔ مشرکین ان کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہیں لیکن وہ خود ہر قسم کے شرک کی نفی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ واحد ہونے کی گواہی دیتے ہیں ان کا نزول جب کبھی انبیا پر ہوا ہے وہ اللہ کی طرف سے توحید ہی کا پیغام دیتے رہے ہیں۔

 

اہلِ علم کی شہادت سے مراد ان لوگوں کی شہادت ہے جو خدا اور کائنات کے بارے میں علم حقیقی سے بہرہ مند ہیں۔ یہ علم انبیاء کے ذریعہ انسانوں کو ملا ہے اور اہلِ علم کا یہ حقیقت شناس گروہ ہر زمانہ میں یہ شہادت دیتا رہا ہے۔

 

کہ ہے ذات واحد عبادت کے لائق               زبان اور دل کی شہادت کے لائق

 

اور یہ شہادت اس نے عظیم الشان قربانیاں دے کر قائم کی ہے۔ فحوائے کلام سے اہلِ علم کی عظمت کا پہلو بھی واضح ہو رہا ہے کیونکہ اہلِ علم کا ذکر فرشتوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ "اَلدِّینْ" استعمال ہوا ہے۔ جس سے مراد اصل اور اور حقیقی دین ہے یعنی وہ دین جو واقعی اللہ کا نازل کردہ ہے۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علم سے مراد علمِ حق ہے اور خاص طور سے دین کی بنیادی باتوں کا علم جس کے بعد کسی اختلاف کے لئے گنجائش باقی نہیں رہتی۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جو دین نازل فرمایا وہ اسلام ہے۔ یہی دین اللہ کا دین ہے اور تمام انبیاء پر وہ اسی دین کو نازل فرماتا رہا ہے۔ اس نے کبھی کسی ملک اور کسی زمانہ میں کسی بھی نبی یا رسول پر اسلام کے سوا کوئی اور دین نازل نہیں فرمایا لیکن پیغمبر کی امتوں نے اس اصلِ دین میں اختلاف کر کے الگ الگ مذہب ایجاد کر لئے۔ یہ یہودیت اور نصرانیت اسی قبیل سے ہیں۔ ان امتوں نے یہ اختلاف اس بناء پر نہیں کیا تھا کہ انہیں دینِ حق کا علم نہیں تھا بلکہ حق کے واضح ہو جانے کے باوجود انہوں نے محض نفسانیت ،باہمی عناد اور مبتدعانہ ذہنیت کی بناء پر ایسا کیا۔ لیکن اللہ چونکہ عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہے اس لئے اس نے اسلام کو از سرِ نو نازل فرما یا ہے تاکہ لوگوں پر راہِ حق واضح ہو اس کے بعد بھی اگر انہوں نے کفر کی روش اختیار کی اور اللہ کی ان صریح آیتوں کو نہیں مانا تو اللہ ان کا حساب بہت جلد چکائے گا۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُمّی کے لغوی معنی ایسے شخص کے ہیں جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو لیکن اصطلاحاً یہ لفظ بنی اسماعیل کے لئے بطور لقب استعمال ہوا ہے کیونکہ ان کے پاس نہ کتابِ الٰہی تھی اور نہ ان میں رسمی تعلیم کا رواج تھا بخلاف اس کے بنی اسرائیل حاملِ کتاب تھے اور ان میں رسمی تعلیم کا بھی رواج تھا

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قتلِ ناحق اور پھر وہ کسی نبی کا جرم کی سنگینی کو واضح کرنے کے لئے کا فی ہے۔ قتلِ انبیاء کا ذکر بائبل میں بھی ہے۔

 

"تو بھی وہ نافرمان ہو کر تجھ سے باغی ہوئے اور انہوں نے تیری شریعت کو پیٹھ پیچھے پھینکا اور تیرے نبیوں کو جو ان کے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ ان کو تیر ی طرف پھرا لائیں قتل کیا اور انہوں نے غصّہ دلانے کے بڑے بڑے کام کئے۔ " (نحمیاہ ۹: ۲۶)

 

"اے یروشلم ! اے یروشلم !تو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ان کو سنگسار کرتا" (متی ۲۳:۳۷)

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ دینداری کے پردے میں اللہ کی ہدایت کو ماننے سے انکار کریں ، قتلِ انبیاءؑ جیسے جرم کے مرتکب ہوں اور ان نیک لوگوں کے در پئے آزار ہو جائیں جو اصلاح کی کوشش کریں اور حق و عدل کی دعوت لے کر اٹھیں ان کی یہ دینداری اللہ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتی اور ان کی تمام کوششیں اور ان کے سارے مذہبی اعمال بالکل اکارت جانے وا لے ہیں آخرت میں اکارت جانا تو واضح ہی ہے۔ رہا دنیا میں اکارت جانا تو دنیا نے دیکھ لیا کہ قرآن اور اس کو لانے وا لے پیغمبرؑ کے مخالفین کا کیا حشر ہوا۔

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتاب کے ایک حصّہ سے مراد تورات ، انجیل وغیرہ آسمانی صحیفے ہیں۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی کتاب سے مراد قرآن ہے۔ تورات وغیرہ آسمانی صحیفوں اور قرآن میں نسبت جز اور کل کی ہے۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فیصلہ ان اختلافات کا جو اہلِ کتاب نے اللہ کے دین کے سلسلہ میں پیدا کئے۔

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حق سے اعراض کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ ان کے قومی مزاج کی خصوصیت ہے جس کا ثبوت ان کی تاریخ سے ملتا ہے۔

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہودیوں کے من گھڑت باتوں کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کتابِ الٰہی کو حاکمانہ حیثیت دینے کے لئے اس وجہ سے تیار نہیں ہیں کہ وہ آخرت کی سزا کی طرف سے بے فکر ہو گئے ہیں اور مکافاتِ عمل کا صحیح تصوّر ان کے ذہن میں نہیں ہے۔ اگرچہ کہ پچھلی کتابوں میں بھی مکافاتِ عمل کا وہی تصور پیش کیا گیا تھا جو قرآن پیش کرتا ہے یعنی انسان کی جیسی کمائی ہو گی ویسا اسے بدلہ ملے گا لیکن دین میں حاشیہ آرائی کر کے انہوں نے اپنے کو اس بات پر مطمئن کر لیا کہ چونکہ وہ ایک خاص مذہبی قومیت Religious communityسے تعلق رکھتے ہیں اس لئے آخرت میں ان کا بیڑہ پار ہے اس اطمینان نے ان کو بری طرح بے عملی میں مبتلا کر دیا ہے۔

 

اس آئینہ میں موجودہ دور کے مسلمان بھی اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں ان کی بھی ایک بڑی تعداد اس دھوکہ میں مبتلا ہے کہ نجات اخروی کے لئے پیدائشی مسلمان ہونا کافی ہے۔ نجات کے اس غلط تصور نے انہیں حقیقی ایمان اور عملِ صالح سے بے نیاز کر دیا ہے اور بدعات و بد اعمالیوں میں ایسے غرق ہو گئے ہیں کہ ان امور میں قرآن کو فیصلہ کن حیثیت دینے کے لئے عملاً تیار نہیں ہیں۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے اقتدار کی حیثیت جس کو یہاں دعائیہ پیرایہ میں پیش کیا گیا ہے۔ ہر قسم کے اختیار ات اور ہر قسم کے حکومتی اقتدار کا مالک تنہا اللہ ہے۔ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ دنیا میں جس کو بھی حکومت ملتی ہے اسی کے عطا کرنے سے ملتی ہے اور جس کے اقتدار کا خاتمہ ہوتا ہے اسی کے چھین لینے سے ہوتا ہے وہ اپنی حکمت کے تحت اشخاص اور گروہوں کو اقتدار عطا کرتا اور اس سے محروم کرتا رہتا ہے لہٰذا جس کے پاس اقتدار کے خزانے ہیں اور جن کے ہاتھ میں عزت اور سرفرازی ہے اسی کو مقتدر اعلیٰ ماننا چاہئیے اور اسی سے لو لگانا چاہئیے۔

 

اللہ کے مالک الملک ہونے سے لازم آتا ہے کہ انسان ہر قسم کے دنیوی اقتدار کو خواہ وہ بادشاہت کی شکل میں ہو یا جمہوریت کی شکل یا کسی اور شکل میں اللہ کی بخشی ہوئی امانت سمجھے اور اس کو اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق استعمال کرے۔ اقتدار کا یہ قرآنی تصور بادشاہ پرستی King worship کی بھی نفی کرتا ہے اور بادشاہ کے خدائی حق۔ (Divine Right) کی بھی۔ نیز جمہوریت کے اس دعوے کی بھی کہ اس کی حاکمیّت مطلق ہے اور خدا سے اسے سروکار نہیں۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ بھلائی صرف اللہ کے ہا تھ میں ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاتھ میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ اور وہ خیر و برکت کا سرچشمہ ہے۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی رات اور دن کا تسلسل اور ان کے اوقات میں کمی بیشی اللہ تعالیٰ ہی کی کارفرمائی ہے اور اس میں کسی کا ذرّہ برابر دخل نہیں۔ اس سے رات اور دن کے الگ الگ خدا ہونے۔ Night Deity or Day Deityکے مشرکانہ عقیدہ کی نفی ہوتی ہے۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مثلاً انسان کو بے جان مادّہ (مٹی) سے پیدا کیا اور پھر یہی انسان مر کر مٹی (بے جان مادہ) ہو جاتا ہے اسی طرح وہ بے جان مادّوں سے جاندار مخلوق پیدا کرتا ہے اور جاندار اجسام سے بے جان مادوں کو خارج کرتا ہے۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایمان کا تعلق تمام تعلقات پر مقدم ہے لہٰذا اہلِ ایمان کا یہ کام نہیں کہ خدا کے دشمنوں کو اپنا دوست بنائیں بلکہ وہ اپنا دوست ان ہی لوگوں کو بنا سکتے ہیں جو اللہ کو اپنا دوست رکھتے ہوں۔ واضح رہے کہ اس ہدایت کا منشا ء عام انسانی تعلقات کی نفی کرنا نہیں ہے اور نہ قرآن غیر عربی کافروں کے انسانی حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ عدل و قسط کا معاملہ کرنے سے روکتا ہے۔ یہ باتیں قرآن میں دوسرے مقامات پر واضح کر دی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر درجِ ذیل آیات ملاحظہ ہوں۔

 

وَقُوْلُوْ ا لِلنَّاسِ حُسْناً (بقرہ ۸۳) "لوگوں سے بھلی بات کہو"

 

وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَنَ لَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی (مائدہ۔ ۸) "کسی گروہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو کہ یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے "

 

وَصَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفاً (لقمان۔ ۱۵) " (والدین اگر مشرک بھی ہوں تو) دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کر"

 

وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ (نساء۔ ۳۶) "اور رشتہ دار ہمسایہ ، اجنبی ہمسایہ ، ہم نشین دوست اور مسافر کے ساتھ نیک سلوک کرو"

 

لَایَنْھَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوا اِلَیْھِمْ (الممتحنہ۔ ۸) " اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا"

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر کہیں اہل ایمان کافروں کے نرغہ میں پھنس جائیں اور وہ اپنے تحفظ کی کوئی صورت اختیار کریں جس سے بظاہر کفار کے ساتھ دوستی کا اظہار ہوتا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن تاکید کی گئی ہے کہ اس حال میں بھی اللہ سے ڈرنا چاہئیے اور اپنی ذات کو بچانے کی خاطر کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئیے جو دین و ملّت کو نقصان پہنچانے والا ہو یا ظلم و زیادتی پر مبنی ہو۔ مثلاً راز کی باتوں سے دشمن کو آگا ہ کرنا ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا ،ناحق قتل و قتال کرنا وغیرہ۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شفقت میں ضرر سے بچانے کا پہلو غالب ہے۔ اللہ شفیق ہے اس لئے اس نے اپنے بندوں کو آگ کے عذاب کی طرف لے جانے والی باتوں سے آگا ہ کر دیا ہے تاکہ وہ اس بدترین عذاب سے بچیں۔

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کی محبت کا زبانی دعویٰ نجات کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کی محبت کا ثبوت اپنے عمل سے دینا چاہئیے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ اس کے رسول حضرت محمدﷺ کی پیروی اختیار کی جائے۔ اس آیت کے ذریعہ تمام اہلِ مذاہب اور تمام انسانوں کو آخری نبی کی پیروی اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور صاف صاف اعلان کر دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر اللہ سے محبت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔

 

اس آیت میں ان مسلمانوں کے لئے بھی سبق ہے جو اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور عملاً رسولؐ کی پیروی سے گریز کرتے ہیں۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے جو مضمون شروع ہوتا ہے وہ آیت ۶۳ تک چلتا ہے۔ اس کا مرکزی نقطہ حضرت عیسیٰؑ کی شخصیت کو اپنے اصلی خدوخال کے ساتھ پیش کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ نصاریٰ نے ان کے بارے میں الوہیت کا جو عقیدہ اختیار کر رکھا ہے وہ سراسر غلط اور یکسر باطل ہے۔

 

اس سلسلہ میں تمہید کے طور پر حضرت آدم ، حضرت نوح ، آل ابراہیم اور آل عمران کا ذکر ہوا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ فرمایا تھا۔ یہ سب انسان تھے ان میں سے کوئی بھی نہ خدا تھا اور نہ اس کا بیٹا۔ حضرت عیسیٰؑ بھی ان برگزیدہ بندوں کی طرف اللہ کے برگزیدہ بندے تھے پھر ان کو خدائی کا درجہ دینے کے کیا معنیٰ؟

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عمران بن ماتان حضرت مریم کے والد کانا م تھا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا ہیں۔ یہ حضرت داؤدؑ کی نسل سے تھے۔ اس سے یہاں یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام نہایت معروف اور شریف خاندان کے افراد ہیں۔ یہ دونوں انسا ن ہی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی سے نوازا تھا لہٰذا جس طرح ان کی پاکیزگی پر شبہ کرنا صحیح نہیں ہے اسی طرح ان کو خدائی کا درجہ دینا بھی صحیح نہیں۔

 

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تم کوئی ناروا بات ان برگزیدہ شخصیتوں کی طرف منسوب کرتے ہو تو اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ ان باتوں کو سن رہا ہے اور تمہاری کذب بیانی کو بھی جانتا ہے۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عمران کی بیوی (حنّہ) جب حاملہ ہوئیں تو عمران کا انتقال ہو گیا۔ حنّہ نے یہ منّت مانی کہ جو بچہ پیدا ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے لئے نذر ہو گا یعنی ا س کی عبادت کے لئے وقف ہو گا اور اس کی صورت بنی اسرائیل کے یہاں یہ تھی کہ وہ ہیکل سے متصل (حجرہ) محراب میں معتکف ہو جائے۔

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ حضرت مریم کی والدہ کے بیان کو قطع کرتے ہوئے یہ بات اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ لڑکی کس شان کی پیدا ہو ئی ہے اور عمران کے گھر کیسی بڑی ہستی نے جنم لیا ہے۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حنّہ کو لڑکے کی پیدائش کی توقع تھی لیکن جب لڑکی پیدا ہوئی تو انہیں تردّد ہوا کہ جس مقصد کے لئے انہوں نے نذر مانی ہے اس کے لئے لڑکی کس طرح موزوں ہو سکے گی ؟ البتہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما لے تو اس کا بڑا احسان ہو گا۔

 

حضرت حنّہ نے "اور لڑکا لڑکی کی طرح تو نہیں ہوتا" کہا یہ نہیں کہا کہ "اور لڑکی لڑکے کی طرح نہیں ہوتی " جبکہ پیدا لڑکی ہوئی تھی۔ اس لئے اس اسلوب میں ناشکری کا پہلو نکل سکتا تھا جو آدابِ دُعا کے خلاف ہے۔ لہٰذا انہوں نے اللہ کی عطا کردہ نعمت کی پوری قدر کرتے ہوئے صرف اپنے تردّد کا اظہار کیا۔

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت مریم یتیم تھیں اور انہیں معبد میں معتکف بھی ہونا تھا اس لئے ان کی کفالت کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو جو پیغمبر ہیں اور حضرت مریمؑ کے خالو ہوتے ہیں ان کا کفیل بنایا۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محراب سے مراد وہ حجرہ ہے جس میں حضرت مریمؑ معتکف تھیں بیت المقدس میں اس طرح کے حجرے عبادت گزاروں کے لئے بنے ہوئے تھے۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت مریم اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ (منتخب ، خاص) بندی تھیں۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے رزق کا غیر معمولی انتظام کیا تھا اور رزق کا غیر معمولی انتظام کرنا اللہ کی قدرت سے ہرگز بعید نہیں۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت زکریا، حضرت مریم کے کفیل تھے اس لئے ان کی دیکھ بھال کے لئے ان کے پاس جایا کرتے تھے وہ حضرت مریم علیہ السلام کی کم سنی میں عبادت گزاری اور صالحیت سے بہت متاثر تھے اور اللہ تعالیٰ انہیں غیر معمولی طریقہ سے جو رزق عطا کر رہا تھا اسے دیکھ کر ان کے دل میں صالح اولاد کی تمنا پیدا ہو گئی۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بائبل میں یحیٰ کا نام یوحنا آیا ہے۔ ان کی ولادت حضرت عیسیٰ سے چھ ماہ قبل ہوئی تھی۔

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ (اللہ کا ایک کلمہ) ۔ (A word from Allah) سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ ان کی ولادت چونکہ بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کُن (ہو جا) سے ہوئی تھی اس لئے ان کو "اللہ کا کلمہ " کے لقب سے نوازا گیا۔ ایک کلمہ سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار کلمات میں سے حضرت عیسیٰ بھی ایک کلمہ ہیں۔ اور جس طرح بے شمار مخلوقات اللہ کے کلمہ کُن سے وجود میں آئی ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ کا بھی ظہور ہوا اس سے عیسائیوں کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں الوہیت کے عقیدہ کی تردید ہوتی ہے۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام کا حضرت عیسیٰؑ کے تصدیق کرنے کا ذکر انجیل میں بھی موجود ہے۔

 

"یوحنا نے اس کی بابت گواہی دی اور پکار کر کہا کہ یہ وہی ہے جس کا میں نے ذکر کیا کہ میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے مقدم ٹھہرا۔ (یوحنا باب ۶ : آیت ۱۵) "

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حضرت یحیٰ علیہ السّلام میں سرداری اور قیادت کی شان ہو گی وہ راہب نہیں ہوں گے بلکہ رہنما اور قائد ہوں گے۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوال انکار کی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ یہ استفہام تھا کہ اس کی شکل کیا ہو گی۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہارے بوڑھے اور تمہاری بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود بچہ پیدا ہو گا کیونکہ اصل چیز اللہ کی مشیّت ہے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کر لے تو ظاہری اسباب ہرگز مانع نہیں ہو سکتے کیونکہ عالمِ اسباب پر اسی کی حکمرانی ہے۔

 

حضرت یحیٰؑ کی ولادت کا یہ واقعہ یہاں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے واقعہ کی تمہید کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی تھی تو حضرت یحیٰؑ کی پیدائش بھی باپ کے بوڑھے اور ماں کے بانجھ ہونے کے باوجود ہوئی۔ اگر اس غیر معمولی واقعہ نے حضرت یحیٰؑ کو خدائی کا درجہ نہیں دیا تو حضرت عیسیٰؑ کی غیر معمولی ولادت کی بناء پر انہیں کیوں خدائی کا درجہ دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ کے اظہار کے لئے عالمِ اسباب میں تصرّف کرتا رہتا ہے اور غیر معمولی اور خارقِ عادت واقعات ظہور میں لاتا رہتا ہے۔ اس سے توحید کا تصور ابھر تا ہے لیکن بھٹکے ہوئے لوگ اس کو بھی ذریعۂ شرک بنا لیتے ہیں۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تین شبانہ روز بات نہیں کر سکو گے۔ البتہ اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح کر سکو گے۔ زبان کا لوگوں سے بات کرنے کے لئے نہ کھلنا اور اللہ کے ذکر و تسبیح کے لئے کھل جانا توحید کی واضح نشانی اور کسی غیر معمولی واقعہ کے ظہور میں آنے کی علامت تھی۔

 

اسے گونگے پن سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ گونگے پن میں زبان نہیں کھلتی جبکہ حضرت زکریا کی زبان تسبیح و تہلیل کے لئے کھل رہی تھی۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم نشانی کے ظہور کے لئے منتخب فرمایا تھا اور اس انتخاب میں انہیں دنیا کی تمام عورتوں پر ترجیح دی تھی۔ یہ بہت بڑا شرف ہے جو حضرت مریم کو حاصل ہوا۔

 

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے نماز با جماعت کی طرف۔ حضرت مریم چونکہ ہیکل کی معتکف تھیں اس لئے انہیں جماعت کی نمازوں کی سعادت حاصل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب نبیﷺ سے ہے۔ اوپر جو واقعات بیان کئے گئے ان کے بارے میں فرمایا یہ غیب کی خبریں ہیں۔ اس لئے کہ جس وقت یہ واقعات پیش آئے ہیں نبیﷺ اس موقع پر موجود نہیں تھے اور نہ یہ واقعات اس تفصیل کے ساتھ تورات و انجیل ہی میں موجود ہیں۔ ایسی صورت میں ان واقعات کو اس صحت و صداقت کے ساتھ پیش کرنا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ تم خدا کے پیغمبر ہو۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حقوق مساوی ہونے کی صورت میں نزاع کے تصفیہ کے لئے قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کرنا جائز ہے۔ اس وقت قرعہ اندازی کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے اپنے قلم دریا میں پھینک دئیے جاتے اور جس کا قلم دریا کے بہاؤ کے خلاف واپس آ جاتا اس کے نام قرعہ نکل آتا۔

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسیح حضرت عیسیٰ کا لقب ہے اور عیسیٰ بن مریم کے نام کی صراحت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے ان کو ان کی والدہ حضرت مریم کی طرف منسوب کیا گیا ورنہ معروف قاعدہ یہی ہے کہ اولاد کو باپ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ قرآن میں جن انبیا ء علیہم السلام کا بھی ذکر ہوا ہے ان کے نام کے ساتھ ان کی ولدیت بیان نہیں کی گئی ہے لیکن حضرت عیسیٰؑ کے نام کے ساتھ بالعموم اب مریم کی تصریح کر دی گئی ہے اس سے جہاں حضرت عیسیٰؑ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کا اثبات ہوتا ہے وہاں اس سے ان کے خدا کا بیٹا ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ نام کی ترکیب واضح کرتی ہے وہ حضرت مریم کے بیٹے تھے نہ کہ خدا کے ۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگرچہ کہ حضرت مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوں گے لیکن ان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آسکے گا وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ذی وجاہت اور معزز ہوں گے۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت عیسیٰ کا گہوارہ میں بات کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نشانی کا ظہور تھا تاکہ حضرت مریمؑ کی پاکدامنی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے معزّز ہونے اور غیر معمولی اوصاف کا حامل ہونے کا اظہار ہو۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادھیڑ عمر میں بات کرنے کا ذکر اس مناسبت سے کیا گیا ہے کہ حضرت مریم کے لئے خوشخبری ہو کہ بچّہ بڑی عمر کو پہنچنے والا ہے۔

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ ان تمام کمالات کے باوجود خدا نہیں ہو گا بلکہ خدا کے نیک بندوں میں سے ہو گا۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتاب سے خاص طور پر شریعت اور حکمت سے روحِ دین مراد ہے۔ شریعت تورات کی خصوصیت یہ اور حکمت انجیل کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام، حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی شریعت کے پیرو تھے وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے البتہ انہوں نے دین کی روح کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا جبکہ بنی اسرائیل نے اسے محض رسوم کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا تھا۔

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل کے لئے رسول بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی دعوت غیر اسرائیلیوں کے لئے نہیں تھی کیونکہ پیغمبروں کی دعوت نسل و قوم اور وطن وغیرہ کی بنیاد پر انسان اور انسان کے درمیان تفریق نہیں کرتی البتہ اس وقت کے مخصوص حالات کے لحاظ سے ان کا میدانِ کار محدود تھا اور خاص طور سے بنی اسرائیل کے بڑھتے ہوئے بگاڑ کے پیشِ نظر ان پر حجت تمام کرنا مقصود تھا۔ اس لئے ان کی دعوت کے اصلِ مخاطب بنی اسرائیل قرار پائے۔

 

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ معجزات تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو عطا کئے تھے تاکہ ان کے پیغمبر ہونے کی نشانی قرار پائیں۔ معجزہ ایک غیر معمولی اور خارقِ عادت چیز ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے ہاتھوں ظہور میں لاتا ہے تاکہ ایک غیر معمولی واقعہ کے ظہور سے لوگ چونک جائیں اور اسے پیغمبر کے مامور من اللہ ہونے کی علامت سمجھ لیں معجزہ پیغمبر اپنی طرف سے نہیں دکھاتا بلکہ خدا کے اذن اور اس کی قدرت سے دکھا تا ہے اور اس کو خدا ہی کی طرف منسوب کرتا ہے۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نیا دین لے کر نہیں آئے تھے بلکہ اسلام ہی کو لے کر آئے تھے انہوں نے تورات کو منسوخ نہیں کیا بلکہ اس کی تصدیق کی اور اس کو قائم کیا انجیل میں آپ کا بیان ہے کہ :۔

 

" یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں " (متی ۵: ۱۷)

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد ان چیزوں کو حلال قرار دینا ہے جن کو فقہائے یہود نے دین میں غلو اور شدت اختیار کر کے حرام قرار دیا تھا اور جو بنی اسرائیل کے گلے کا طوق بن گئے تھے تورات کی اصلِ شریعت پر یہود کے فقیہوں نے یہ جو حاشیہ آرائی کی تھی حضرت مسیح نے اس پر بے دریغ قینچی چلائی اور اس سلسلہ میں جب ان پر علمائے یہود نے بے دینی کا الزام لگایا تو انہوں نے اس کی مطلق پرواہ نہیں کی بلکہ ان کی جھوٹی دینداری کو بے نقاب کیا۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موجودہ انجیلوں میں حضرت عیسیٰؑ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ وہ خدا کو "میرا باپ اور تمہارا باپ" کہتے رہے ہیں لیکن قرآن اس کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ انہوں نے اللہ کو "میرا رب اور تمہارا رب" کہا تھا اور صاف لفظوں میں صرف اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا اور خدا تک پہنچنے کی سیدھی راہ بندگیِ رب ہی کو قرار دیا تھا اس سے واضح ہے کہ موجودہ انجیلوں میں خدا کے لئے باپ اور مسیحؑ کے بیٹے کے جو الفاظ ملتے ہیں وہ اصلِ انجیل کے الفاظ کا غلط ترجمہ اور صریح تحریف ہے جو حضرت مسیحؑ کی الوہیت کے عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے کی گئی ہے ان تحریفات کے باوجود موجودہ انجیلوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا اور سب کا خدا مانتے تھے مثلاً یوحنا کی انجیل میں ہے :۔

 

"اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اوپر جاتا ہوں " (یوحنا ۲۰: ۱۷)

 

" تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر " (متی ۴: ۱۰)

 

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حواریین سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھی اور مددگار ہیں موجودہ انجیل میں ان کے لئے شاگرد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ کیونکہ وہ شب و روز عیسیٰ علیہ السلام کی تربیت میں رہتے تھے۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی مدد سے مراد اللہ کے دین اور اس کے رسول کی تائید و حمایت ہے۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں نے اپنے آپ کو "مسلم " کہا "نصرانی یا عیسائی " نہیں کہا کیونکہ ان کا دین بھی اسلام ہی تھا نہ کہ نصرانیت۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گواہی اس بات کی کہ ہم نے حضرت عیسیٰؑ کو پیغمبر تسلیم کر لیا اور اسلام ہی کو دین کی حیثیت سے اختیار کر لیا۔

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس زمانے میں ملک پر رومیوں کی حکومت تھی۔ علمائے یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام عائد کر کے کہ یہ شخص قیصر کو خراج دینے سے روکتا ہے اور اسرائیل کا بادشاہ بننا چاہتا ہے حکومتِ وقت کو ان کے خلاف بھڑنے کی کوشش کی اور آپ کو گرفتار کرانے کے اسباب کئے اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جو خفیہ تدبیریں کیں ان کا ذکر آگے کی آیت میں آ رہا ہے۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ "مُتَوَفِّیْکَ" استعمال ہوا ہے جو " توَفٰی"سے فاعل کا صیغہ ہے۔ توفیٰ کے اصل معنی پورا پورا لینے اور قبض کرنے کے ہیں موت کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے لازمی معنی موت کے نہیں ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اس لفظ کو جس طرح استعمال کیا گیا ہے اس سے اس کی تائید ہوتی ہے مثلاً وَھُوَالَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ (الانعام :۶۰) "وہی ہے جو تم کو رات میں اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم دن میں کماتے ہو" اس حالت میں نیند کی حالت پر تُوَفّٰی کا اطلاق کیا گیا ہے۔

 

حَتّٰی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا ط (الانعام :۶۱) "یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ جاتی ہے تو ہمارے فرشتے اسے قبض کر لیتے ہیں " اس آیت میں فرشتوں کی طرف توفی کی نسبت کی گئی ہے نہ کہ موت کی۔ اس لئے کہ موت دینا اللہ کا کام ہے اور فرشتوں کا کام قبضے میں لے لینا ہے

 

فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ (النساء :۱۵) "انہیں گھروں میں روکے رکھو یہاں تک کہ موت ان کو آلے"

 

اس آیت میں توفّٰی کا فاعل موت کو بنایا گیا ہے ظاہر ہے فعل اور فاعل دونوں یکساں نہیں ہو سکتے اس لئے محلِ کلام دلیل ہے کہ یہاں توفٰی کا لفظ موت کے معنی میں نہیں بلکہ جسم سمیت قبض کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور آیت کے سیاق و سباق ، متعلقہ آیات اور احادیث اور تمام قرائن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا اور دشمنوں کی سازشوں سے انہیں محفوظ رکھا۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کافروں کے گندے ماحول سے نکال کر ملاء اعلیٰ کے روحانی ماحول میں داخل کروں گا۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نصاریٰ من حیث القوم ہمیشہ یہود پر غالب رہے۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ کوئی قصّہ گوئی نہیں ہے اور نہ نصاریٰ کی طرح رنگ آمیزی کی گئی ہے بلکہ یہ حقیقت واقعہ ہے جسے آیات کی شکل میں نازل کیا گیا ہے۔ یہ باتیں سر تا سر نصیحت اور حکمت سے لبریز ہیں۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت آدم کی پیدائش ماں اور باپ دونوں کے بغیر ہوئی تھی لیکن اس کے با وصف وہ خدا نہیں ہیں اور نہ ان کی الوہیت کا کوئی قائل ہے پھر حضرت عیسیٰؑ محض باپ کے بغیر پیدا ہو جانے کی بنا پر خدا کیوں کر ہو سکتے ہیں ؟

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اتمام حجت کے بعد اللہ کی طرف سے نصاریٰ کو چیلنج تھا کہ اگر وہ اس وضاحت کے بعد بھی حضرت مسیح کے بارے میں اپنے موقف کو صحیح اور نبیﷺ کے موقف کو غلط سمجھتے ہیں تو مباہلہ (دعائے لعنت) کے چیلنج کو قبول کریں لیکن انہوں نے اس کی جرأت نہیں کی۔

 

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نجران (یمن) کے نصاریٰ کا وفد نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ اس موقع پر آپؐ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی لیکن وہ اسے قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے اور اس کے بغیر ہی صلح کر کے واپس لوٹ گئے جس سے واضح ہو گیا کہ ان کو اپنے موقف کے بارے میں وثوق نہیں تھا برعکس اس کے نبیﷺ اپنے بال بچوں کو لیکر مباہلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے جس سے ثابت ہوا کہ آپ کو اپنے موقف کی صحت و صداقت پر پورا یقین تھا۔

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موقع کلام دلیل ہے کہ جو لوگ اللہ کو واحد الٰہ ماننے سے انکار کریں اور شرک پر جمے رہیں و ہ مفسد ہیں ، کیونکہ شرک نظام عدل و قسط کے لئے تباہی کا موجب ہے۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی توحید اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان اصلاً مشترک ہے۔ لیکن اہلِ کتاب نے احکامِ الٰہی کی غلط تاویل کر کے شرک اور بدعات کو اپنے دین میں شامل کر لیا ، جس کے نتیجہ میں ایک خدا کے ساتھ تین خداؤں کے تصور کے لئے بھی گنجائش پیدا ہو گئی لیکن ان کی تحریفات کے باوجود موجودہ تورات و انجیل میں بنیادی طور سے توحید کی تعلیم موجو دہے مثلاً تورات میں ہے :۔

 

"میرے آگے تو اور معبودوں کو نہ ماننا تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمانوں میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنا، اور نہ ان کی عبادت کرنا کیوں کہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں" (استثناء ۵: ۷ تا ۹)

 

اور انجیل میں ہے :۔

 

"تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر " (لوقا ۴:۸)

 

"یسوع نے جواب دیا کہ اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن ’خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ ان سے بڑا اور کوئی حکم نہیں " (مرقش ۱۲: ۲۹۔ ۳۰)

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے سوا کسی کو رب بنانے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کو رب کے نام سے پکار ے بلکہ دلیل شرعی کسی کے ٹھہرائے ہوئے حلال کو حلال اور اس کے ٹھہرائے ہوئے حرام کو حرام قرار دینا بھی اس کو رب بنا لینا ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا اختیار ، صرف اللہ کو ہے اور اس کے اس اختیار میں کسی کو شریک ٹھہرانا کھلا ہوا شرک ہے جس کو مٹانے اور انسانوں کو اس غلامی سے آزاد کرانے کے لئے اسلام آیا ہے۔ اہلِ مذاہب کی یہ گمراہی رہی ہے کہ وہ اپنے علماء و فقہاء، احبار و رہبان ،صوفیوں اور درویشوں اور پنڈتوں اور جوگیوں کو شریعت الٰہی میں مداخلت اور و حلت و حرمت کا حق دیتے رہے ہیں۔ اسلام اس طرزِ عمل کو شرک اور رب بنا لینے کے مترادف قرار دیتا ہے۔ چنانچہ بعض اہلِ کتاب کے اس اعتراض پر کہ ہم اپنے احبار و رہبان کو رب تو نہیں مانتے نبیﷺ نے فرمایا کہ کیا جس چیز کو وُہ حرام ٹھہراتے ہیں اس کو تم حرام اور جس چیز کو وہ حلال ٹھہراتے ہیں اس کو حلال نہیں ٹھہراتے ؟ انہوں نے اقرار کیا کہ ایسا تو ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا یہی ان کو رب بنا لینا ہے (ابن کثیر ج ۲ ، ص ۳۴۸بحوالہ ترمذی) اس سے واضح ہوا کہ تحریم و تحلیل کا حق کسی کے لئے تسلیم کرنا اس کو رب بنا لینا ہے خواہ آدمی معروف معنی میں اس کی پرستش کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت ابراہیم بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل دونوں کے جد امجد ہیں۔ یہود ،نصاریٰ اور مشرکین مکہ سب ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے تھے اور اپنے مذہب کو ان ہی کی طرف منسوب کرتے تھے ان کا دعویٰ یہ تھا کہ اصل دینِ ابراہیمی ہمارا دین ہے اور قرآن جس دین کی دعوت دیتا ہے وہ ایک نیا دین ہے ان کے اس دعوے اور الزام کی تردید کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے کہ یہودیت اور نصرانیت تو حضرت ابراہیم کے صدیوں بعد کی چیز ہے پھر حضرت ابراہیم یہودی یا نصرانی کس طرح ہو سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے یہ سراسر جہالت کی بات ہے اسی طرح اہل مکہ کا مشرکانہ مذہب بھی حضرت ابراہیم کے بعد کے دور کا اختراعی مذہب ہے حضرت ابراہیم ہر گز مشرک نہ تھے بلکہ وہ خالص توحید کے علمبردار اور مسلم تھے۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہود کے گروہ کی ایک سازش تھی کہ اسلام میں داخل ہوں اور پھر اس سے برگشتہ ہو کر اس کے خلاف پروپگنڈہ کریں تاکہ لوگوں کا اسلام پر سے اعتماد اٹھ جائے۔

 

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ جملہ معترضہ ہے جو یہود کی بات کی تردید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہود مذہب پرستی کی بات کہتے ہیں لیکن یہ ہدایت کی راہ نہیں ہے۔ ہدایت کی راہ یہ ہے کہ جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت واقعۃً موجود ہو آدمی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت قرآن کی شکل میں حضرت محمدﷺ پر نازل ہو گئی ے اس کو محض اس بنا پر قبول نہ کرنا کہ اس پر ہمارے اپنے مذہب کی چھاپ لگی ہوئی نہیں ہے یا ہمارے مذہبی فرقہ کے لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا ہے انسان کو روشنی سے محروم کر دینا ہے اس کے بعد اس کے حصہ میں "مذہب پرستی " ہی آ جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت نہیں آتی۔

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہود کا قول ہے وہ آپس میں کہتے تھے کہ اس نبی کی بات نہ مانو ورنہ ا س کی نبوت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا اور اس صورت میں بنی اسرائیل کی یہ امتیازی حیثیت کہ انبیاء اسی کے اندر آتے رہے ہیں ختم ہو جائے گی اور اگر نبوت کو تسلیم کئے بغیر نبی کی ان باتوں کی تائید کی جو آپؐ کی نبوت پر دلالت کرتی ہیں تو قیامت کے دن مسلمانوں کو تمہارے خلاف حجت پیش کرنے کا موقع مل جائے گا۔ (ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۹۷)

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی نبوت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ نہ تنگ نظر ہے اور نہ اس کا علم محدود ہے کہ نبوت عطا کرنے کے سلسلے میں غلط فیصلہ کر بیٹھے۔

 

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امیوں سے مراد بنی اسمٰعیل ہیں۔

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود کا یہ قول ان کی ذہنیت کی غمازی کرتا ہے۔ انہوں نے خیانت اور سودخوری وغیرہ کی ممانعت کو اپنی قوم کے ساتھ خاص کر رکھا تھا رہیں دوسری قومیں تو ان کے نزدیک ان کے ساتھ بد معاملگی بالکل جائز تھی ان کے مفتیوں نے یہ من گھڑت فتوے تورات میں شامل کر لئے تھے جس کے نتیجہ میں ان کے اندر ایسی قومی عصبیت پیدا ہو گئی تھی کہ وہ اخلاق و معاملات کے دائرہ میں بھی اپنے اور غیر کے درمیان تفریق کرنے لگے تھے اور ان من گھڑت فتووں کی بناء پر غیر اقوام کا مال ہڑپ کر جانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے چنانچہ بائبل میں ہے :

 

" تو پردیسی کو سود پر قرض دے تو دے پر اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا" (استثناء ۲۳:۲۰)

 

قرآن اس ذہنیت پر سخت گرفت کرتا ہے اور بد معاملگی کو کسی کے ساتھ بھی جائز قرار نہیں دیتا خواہ وہ مسلم ہویا غیر مسلم ، مومن ہو یا کافر ، اپنی قوم کا فرد ہو یا غیر قوم کا۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ناپید نہیں جو غیر مسلموں کے سلسلے میں غلط فتووں کا سہار ا لے کر سود جیسی چیز کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن قرآن کی یہ آیت اس قسم کے فتووں کو باطل قرار دینے کے لئے کافی ہے۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کے عہد سے مراد اللہ کی بندگی اور اطاعت کا عہد ہے اور قسموں سے خصوصیت کے ساتھ وہ قسمیں مراد ہیں جو لوگوں سے عہد و پیمان کر تے وقت کھائی جاتی ہیں اور تھوڑی قیمت پر بیچنے سے مراد آخرت کے لازوال فائدہ کے مقابلہ میں دنیا کے حقیر مفادات کو ترجیح دینا ہے۔

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کی طرف نظر عنایت نہیں کرے گا۔

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ یہود کی اس حرکت کی طرف کہ وہ کتمان حق کے لئے کتاب الٰہی کے بعض الفاظ کو اس طرح ادا کرتے ہیں کہ اس کا مطلب کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔

اس کی مثال قرآن کو ماننے والوں میں بھی موجود ہے چنانچہ بعض اہل بدعت جو نبیﷺ کی بشریت کے منکر ہیں آیتقُلْ اِنَّمَااَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔ (کہو میں تمہاری ہی طرح بشر ہوں) کو قُلْ اِنَّ مَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔ (کہو بیشک میں نہیں ہوں تم جیسا بشر) پڑھتے ہیں یعنی انما کو الگ الگ ان ما پڑھتے ہیں جس کا مطلب بالکل الٹ جاتا ہے۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے ان تمام مشرکانہ عقائد کی تردید ہوتی ہے جن کو اہل مذاہب نے اپنی مذہبی کتابوں میں داخل کر کے پیغمبروں کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کسی پیغمبر کی یہ تعلیم ہوہی نہیں سکتی کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کا حکم دے یا فرشتوں اور پیغمبروں کو خدائی کا مقام دے ایسی اگر کوئی تعلیم کسی مذہبی کتاب میں ملتی ہے تو وہ ہرگز کسی پیغمبر کی تعلیم نہیں ہے بلکہ یہ من گھڑت باتیں ہیں جو خدا اور پیغمبروں کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں۔ یہ معیارِ حق ہے جس پر پیغمبروں کی طرف منسوب تعلیمات کو پرکھنا چاہئیے۔

 

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیاقِ کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد بنی اسرائیل سے حضرت محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں لیا گیا تھا۔

 

چنانچہ تورات و انجیل میں آپ کی رسالت کے سلسلہ میں واضح پیشن گو ئیاں موجود تھیں ، جن کی طرف قرآن نے جابجا ارشادات کئے ہیں اور موجودہ بائبل میں بھی باوجود ترجمہ کی خامیوں اور کھلی تحریفات کے ان پیشن گوئیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔

 

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس پختہ عہد کے بعد بھی جو حضرت محمدﷺ کی رسالت کے متعلق لیا گیا تھا جو لوگ اس سے انحراف کر جائیں ان کی یہ جسارت ان کے نافرمان ہونے کا کھلا ثبوت ہے اگر چہ کہ انہوں نے اطاعت و زہد کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو اور اگر چہ کہ دنیا کی نظر میں وہ "مذہبی لوگ " شمار کئے جاتے ہوں۔

 

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں اسلام کو اللہ کے دین سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا میں جو بہ کثرت مذاہب پائے جاتے ہیں نیز جو اس سے پہلے پائے جاتے تھے اگر چہ کہ وہ سب خدا ہی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں لیکن حقیقتاً اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اللہ کا دین کہلانے کا بجا طور پر مستحق ہے۔

 

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اسلام کے واحد دین حق ہونے کی دلیل ہے جب انسان سمیت ساری مخلوق چار و ناچار اللہ کے آگ ے سر افگندہ ہے یہاں تک کہ کافر بھی تکوینی طور پر اللہ کے قانون کے آگے جھکنے پر مجبور ہے ، چنانچہ کٹر سے کٹر کافر بھی پاؤں ہی سے چلتا ، آنکھوں ہی سے دیکھتا اور ناک ہی سے سانس لیتا ہے کہ یہ سب اللہ کے بنائے ہوئے قوانین ہیں جن سے انحراف کسی شخص کے لئے ممکن نہیں تو اپنی اختیاری زندگی میں اس کے لئے یہ کس طرح روا ہوا کہ وہ اپنے کو اللہ کے حوا لے نہ کرے اور اس کی اطاعت سے آزاد ہو کر اپنے لئے کوئی سا ’مذہب ، یا زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ اختیار کر لے ؟

 

اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلام کسی ایک نسل یا ایک گروہ کا دین نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ پورے عالم اور ساری کائنات کا دین ہے اور جو شخص اسلام کو دین کی حیثیت سے اختیار کرتا ہے وہ دینِ کائنات کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرتا ہے یا کسی الحاد و بے دینی کا طریقہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے کو دین کائنات سے ہرگز ہم آہنگ نہیں کرتا بلکہ بنیادی حقیقت ہی سے انحراف کرتا ہے۔

 

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب سب کو لوٹنا اللہ ہی کے حضور ہے تو جو لوگ ایسے مذہب کو اختیار کرتے ہیں جو اس کا منظور شدہ دین نہیں ہے یا خدا سے بے تعلقی ہی کو اپنا طریقہ زندگی بنا لیتے ہیں وہ اپنے اس سرکشانہ اور باغیانہ رویہ کی کیا توجیہ خدا کے حضور پیش کرسکیں گے ؟

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا صریح اعلان ہے کہ خدا کے ہاں صرف سرکاری سکہ چلے گا اور وہ ہے اسلام۔ اس کے علاوہ جو سکے بھی ہوں گے وہ سب رد اور باطل ٹھہریں گے خواہ وہ کسی مذہب کے نام کا سکہ ہو یا سرے سے اس پر کوئی مذہبی چھاپ لگی ہوئی ہی نہ ہو۔ بالفاظ دیگر خدا سے تعلق کا غیر منظور شدہ طریقہ اختیار کیا گیا ہویا خدا سے بے تعلق ہو کر زندگی گزارنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہو۔ ان میں سے کوئی طریقہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہ ہو گا بلکہ آخرت کی عدالت میں ایسے لوگوں پر جعلی سکہ چلانے کے جرم میں مقدمہ چلایا جائیگا۔ اور انہیں اپنی جعلسازی کی سخت سزا بھگتنا پڑے گی۔

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ اہل کتاب کی طرف ہے جن کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا۔

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب تک آدمی ظالمانہ روش ترک کرنے کے لئے آمادہ نہ ہو جائے ہدایت کی راہ اس پر کھلتی نہیں ہے۔

 

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو زندگی بھر کفر کرتے رہے اور جب موت کی گھڑی آ نمودار ہوئی تو توبہ کرنے لگے ایسے لوگوں کی توبہ میں کوئی خلوص نہیں۔ اس لئے وہ ہرگز قبول نہیں کی جائیگی توبہ وہی قبول کی جاتی ہے جو مخلصانہ ہو اور جس کے پیچھے اصلاح کا جذبہ ہو۔

 

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مقصود کافروں کی بے بسی کو واضح کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت سے جب کافروں کے ابدی عذاب کا فیصلہ ہو جائے گا تو پھر ان کے لئے نجات کی کوئی صورت بھی ممکن نہیں ہو گی۔ اگر بالفرض کسی کا فر کے پاس زمین بھر سونا ہو تو وہ نجات حاصل کرنے کے لئے اسے فدیہ میں دینے کے لئے بخوشی آمادہ ہو جائیگا لیکن نہ تو اس روز کسی کے پاس دینے کے لئے کچھ ہو گا اور نہ کسی سے کوئی ہدیہ قبول کیا جائیگا۔

 

دنیا میں جو لوگ نجات اخروی سے بے پرواہ ہو کر صرف دنیا حاصل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں انہیں اپنی اس حماقت کا صحیح اندازہ قیامت ہی کے دن ہو سکے گا۔

 

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی نیک کام کو کرنا اور بات ہے اور نیکی کے مقام کو پا لینا اور جہاں رسمی دین داری ہو گی وہاں بظاہر کچھ نہ کچھ خیر اور نیکی کے کام ہوں گے لیکن اپنے پسندیدہ مال میں سے اللہ کے لئے خرچ کرنے اور اس کی راہ میں قربانیاں دینے کا جذبہ مفقود ہو گا اس کے برعکس جہاں حقیقی دین داری ہو گی وہاں آدمی اپنا محبوب مال اللہ کے لئے خرچ کرنے اور اس کی راہ میں قربانیاں دینے کے لئے بہ خوشی آمادہ ہو جائے گا۔ یہ ایک کسوٹی ہے جس پر اللہ کی محبت اور اس کی وفاداری کے دعوے کو پرکھا جا سکتا ہے۔ یہودی انفاق کے معاملہ میں بڑے بخیل واقع ہوئے تھے اس لئے اس کسوٹی نے ان کی دینداری کی حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیا۔

 

اپنی بہترین چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بہترین مثال وہ ہے جو حضرت ابو طلحہؓ نے پیش فرمائی۔ مدینہ میں بیر حاء ان کا پسندیدہ باغ تھا۔ اس باغ میں نبیﷺ تشریف لے جایا کرتے تھے اور اس کا پانی بڑی رغبت سے پیتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ یہ باغ اللہ کے لئے صدقہ ہے۔ اس کو آپﷺ جس طرح مناسب سمجھیں مصرف میں لائیں۔ آپﷺ نے فرمایا یہ مال بہت خوب ہے اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اسے تمہارے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا آپﷺ ایسا ہی کیجئے۔ چنانچہ نبیﷺ نے اس باغ کو ان کے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۱ ص۳۸۱)

 

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد وہ جانور ہیں جن کا کھانا شریعت میں حلال ہے۔

 

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسرائیل حضرت یعقوبؑ کا لقب ہے وہ پیغمبر تھے اور پیغمبر کسی چیز کو اللہ کے اذن کے بغیر حرام نہیں ٹھہراتا ، اس لئے اس شبہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ انہوں نے جو چیزیں اپنے اوپر حرام ٹھہرائی تھیں وہ محض اپنی مرضی کا نتیجہ تھیں۔

 

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود کا اصل اعتراض یہ تھا کہ قرآن بعض ان چیزوں کو حلال قرار دے رہا ہے جو ملت ابراہیمی میں حرام تھیں خاص طور سے ان کا اشارہ اونٹ کی طرف تھا جس کو قرآن نے حلال قرار دیا ہے لیکن یہود اس کی حرمت کے قائل تھے چنانچہ تورات میں ہے :

 

"مگر جو جگالی کرتے ہیں یا جن کے پاؤں الگ ہیں ان میں تم ان جانوروں کو نہ کھانا یعنی اونٹ کو کیونکہ وہ جگالی کرتا ہے پر اس کے پاؤں الگ نہیں سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے " (احبار ۱۱:۴)

 

اس کا جواب قرآن نے یہ دیا کہ جن چیزوں کو قرآن حلال قرار دے رہا ہے وہ ملت ابراہیمی میں بھی حلال تھیں جن میں اونٹ بھی شامل ہے اور یہ بات نزول تورات سے پہلے کی ہے اس لئے بعد میں جو چیزیں خواہ وہ حضرت یعقوب کے ذریعہ حرام ٹھہرا دی گئی ہوں یا تورات کے ذریعہ ان کی نوعیت بالکل دوسری ہے یعنی وہ بعض خاص وجوہ سے خاص بنی اسرائیل ہی کے لئے حرام ٹھہرا دی گئی تھیں لہٰذا ان کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ اصل ملت ابراہیمی میں حرام تھیں صحیح نہیں ہے۔ یہود کے اس غلط دعوے کی تردید خود تورات سے ہوتی ہے اس لئے کہ تورات میں یہ صراحت کہیں نہیں ہے کہ یہ چیزیں اول روز سے حرام چلی آ رہی تھیں جہاں تک موجودہ محرف تورات کا تعلق ہے اس میں بھی ایسی باتیں موجود ہیں جو اس دعوے کو باطل قرار دیتی ہیں مثلاً نوح علیہ السلام کے قصہ میں ہے :

 

"ہر چلتا پھرتا جاندار تمہارے کھانے کو ہو گا ہری سبزی کی طرح میں نے سب کا سب تم کو دے دیا مگر تم گوشت کے ساتھ خون جو اس کی جان ہے نہ کھانا " (پیدائش ۹:۳۔ ۴)

 

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے گھر سے مراد اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا جانے والا پہلا گھر یا پہلی عبادت گاہ ہے اس آیت میں صراحت کی گئی ہے کہ وہ خانۂ کعبہ ہے جو مکہ میں واقع ہے اور دوسرے مقام پر قرآن نے اس کی تعمیر کے تعلق سے واضح کیا ہے کہ اس کے معمار حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل ہیں اس سے درج ذیل باتوں پر روشنی پڑتی ہے :

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے اللہ کی عبادت کے لئے کسی مستقل عبادت گاہ کا وجود نہیں تھا۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن روایتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خانۂ کعبہ کو سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر جدید کی ، ان کی تردید قرآن کے مذکورہ بیان سے ہو جاتی ہے اگر واقعہ وہ ہوتا جو ان روایتوں میں بیا ن کیا گیا ہے تو قرآن اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ معمار اول کا ذکر نہ کرنا اور صرف اس کی تجدید کرنے وا لے کا ذکر کرنا قرآن سے مناسبت رکھنے والی بات نہیں ہے۔ مزید برآں یہ روایتیں حدیث صحیح کا درجہ نہیں رکھتیں ابن کثیر نے بیہقی کی ایک روایت جس میں حضرت آدم علیہ السلام کے کعبہ کو تعمیر کرنے کا ذکر ہے نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ ابن لہیعہ کے مفردات (روایات) میں سے ہے جو ضعیف ہے اور غالباً عبد اللہ بن عمرو پر موقوف ہے (یعنی نبیﷺ کا ارشاد نہیں ہے) (ابن کثیر ج ۱ ص ۳۸۳)

 

اور تاریخ ابن کثیر میں ہے :

 

ولم یجیٔ خبر صحیح عن معصوم۔ نبیﷺ سے کوئی صحیح حدیث اس سلسلہ میں وارد نہیں ہوئی ہے (الجامع اللطیف ص۶۹بحوالہ تاریخ ابن کثیر)

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیت المقدس کی تعمیر خانۂ کعبہ کی تعمیر کے بعد ہوئی ہے چنانچہ بائبل میں صراحت ہے کہ اس کی تعمیر حضرت سلیمانؑ کے ہاتھوں ہوئی :

 

"اور بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکل آنے کے بعد چارسو اسیویں سال کی سلطنت کے چوتھے برس زیو کے مہینہ میں جو دوسرا مہینہ ہے ایسا ہوا کہ اس نے خداوند کا گھر بنانا شروع کیا " (۱۔ سلاطین ۶:۱)

 

اس لئے یہود کا یہ دعویٰ تاریخی طور پر غلط ہے کہ بیت المقدس کو اولیت حاصل ہے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ توحید کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ انسان۔ اس کے تاریخی شواہد میں سے خانۂ کعبہ ہے جس کی بناء اس شخصیت نے رکھی تھی جس کو دنیا کی تین ملتیں یعنی یہود ، نصاریٰ اور مسلمان (موجودہ دنیا کی اکثریت) اپنا امام تسلیم کرتی ہیں۔

 

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بکہ مکہ کا قدیم نام ہے جس کے معنی شہر کے ہیں۔ زبور میں اس کا ذکر آیا ہے لیکن یہود نے تحریف کر کے ’وادی بکہ ، کو ’وادی بُکا ، بنا دیا جس کے معنی ہیں رونے کی وادی !

 

"وہ وادی بُکا سے گزر کر اسے چشموں کی جگہ بنا لیتے ہیں بلکہ پہلی بارش اسے کبوتروں سے معمور کر دیتی ہے۔ وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں " (زبور ۸۴: ۶۔ ۷)

 

البتہ انگریزی بائبل میں اس کا ترجمہ Valley of Baca ملتا ہے۔ اس قسم کی تحریفات کے ذریعہ انہوں نے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے تاکہ بیت اللہ اور آخری نبی کو لوگ پہچان نہ سکیں۔ قرآن نے مکہ کے اس قدیم نام کا ذکر کر کے اصل حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔

 

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی روحانی فیوض کا سرچشمہ۔

 

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس سے توحید کی راہ روشن ہوتی ہے اور انسان کی خدا پرستی کی طرف رہنمائی ہوتی ہے۔

 

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نشانیاں توحید کی۔ نشانیاں اس گھر کے مقبولیت کی۔ نشانیاں اسلام کے دینِ حق ہونے کی اور نشانیاں اس بات کی کہ اس گھر کے زیر سایہ عظیم شخصیتوں نے پرورش پائی اور اس نے مجاہدانہ زندگی کی روح ان کے اندرا س طرح پھونکی کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہ کرسکی۔

 

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مقام ابراہیم کے معنی ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ۔ مراد وہ جگہ ہے جہاں ابراہیم علیہ السلام عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ یہ جگہ مسجد حرام ہے نہ کہ بیت المقدس۔ یہود نے اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے تورات میں جا بجا تحریفات کی تاہم موجودہ بائبل میں ایسے ارشادات موجو دہیں جن سے اس کی تائید ہوتی ہے چنانچہ بائبل کی کتاب پیدائش میں ہے :

 

اور وہاں سے کوچ کر کے اس پہاڑ کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہے اور اپنا ڈیرا ایسے لگایا کہ بیت ایل مغرب میں اور عین مشرق میں پڑا اور وہاں اس نے خداوند کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور خداوند سے دعا کی اور ابرام سفر کرتا جنوب کی طرف بڑھ گیا " (پیدائش ۱۲: ۸۔ ۹)

 

اس میں بیت ایل سے مراد بیت اللہ ہے کیونکہ ایل کو عبرانی میں خدا کہتے ہیں اس لئے بیت ایل کے لفظی معنی ہوئے خانۂ خدا۔ خانۂ کعبہ کے مشرق میں صفا اور مروہ کی پہاڑیاں ہیں کوہ صفا پر ابراہیمؑ کا مسکن تھا اور مروہ پر حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی کا واقعہ پیش آیا۔ جنوب کی طرف حضرت ابراہیم کے بڑھنے کا جو ذکر ہے تو اس سے مراد عرفات کا سفر ہے کیونکہ عرفات بیت اللہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔

 

مقام ابراہیم کا یہ مفہوم اپنے اصل اور وسیع معنی کے لحاظ سے ہے۔ ویسے مقام ابراہیم اس پتھر کو بھی کہتے ہیں جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیمؑ نے خانۂ کعبہ تعمیر کیا تھا اس پتھر پر غیر معمولی طور پر حضرت ابراہیمؑ کے قدم کا نشان ثبت ہو گیا تھا اور آج بھی یہ پتھر قدم مبارک کے نشان کے ساتھ موجو دہے جو خانۂ کعبہ کے پاس مطاف میں رکھا ہوا ہے۔ گویا تاریخ نے ابراہیم علیہ السلام کے نشانِ قدم کو بھی محفوظ رکھا ہے تاکہ آپ کے معمار بیت اللہ ہونے کے بارے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہ رہے۔

 

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان واضح نشانیوں کے بعد بھی جو لوگ توحید کو قبول کرنے اور بیت اللہ کو مرکز توحید کی حیثیت سے تسلیم کرنے اور بیت اللہ کو مرکز توحید کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہوں وہ کافر ہیں اور اللہ کو اپنی نشانیاں واضح کر دینے کے بعد اس بات کی پرواہ نہیں کہ کون کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون ایمان کی۔

 

حج اسلام کا ایک فریضہ ہے اور اس کا پانچواں رکن ہے۔ استطاعت کے باوجود حج نہ کرے اللہ کو اس کی پروا ہ نہیں کہ یہودی ہو کر مرتا ہے یا نصرانی ہو کر۔

 

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان شبہات کی طرف جو اہل کتاب ملت ابراہیم ، بیت اللہ اور آخری پیغمبر کے تعلق سے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

 

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی راہ میں کجی پیدا کرنے کا مطلب اس کے اصل دین میں تحریف کرنا اور اس میں بدعتیں وغیرہ پیدا کرنا ہے۔

 

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہیں دین حق کا گواہ بنا کر کھڑا کیا گیا تھا مگر تم نے شہادت حق کی جگہ شہادت زور اور کتمان حق کو اپنا شیوہ بنا لیا۔

 

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ خاص طور سے اہل کتاب کے اس گروہ کی طرف ہے جس کے اعتراضات اور مخالفتوں کا اوپر ذکر ہوا۔

 

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایسی حالت میں جبکہ تمہیں اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور اس کا رسول بھی تمہارے درمیان موجود ہے اگر تم نے کفر کی راہ اختیار کی تو یہ نہایت سنگین اور انتہائی بد بختی کی بات ہو گی۔

 

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کو مضبوط پکڑنے کا مطلب اس کے ساتھ گہرا تعلق اور وابستگی پیدا کرنا ہے۔

 

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے معیار مطلوب کہ آدمی اللہ سے اس طرح ڈرے جس طرح کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے رہی تقویٰ کی فقہی اور قانونی حد تو اس کے بارے میں دوسری جگہ فرمایا ہے فَاتَّقُو اللّٰہَ مَاسْتَطَعْتُمْ (اللہ سے ڈرو جس حد تک کہ تمہارے بس میں ہے) (التغابن :۱۶)

 

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی زندگی بھر اسلام پر قائم رہو اور جب اس دنیا سے رخصت ہو تو مسلمان کی حیثیت سے رخصت ہو۔

 

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حبل (رسی) سے مراد اللہ کی کتاب (قرآن) ہے جو بندوں کو خد اسے جوڑتی ہے اور جس کی حیثیت عہد اور میثاق کی ہے اس لئے اس کو تھامنا خدا کو تھام لینے کے ہم معنی ہے حدیث میں آتا ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا :کتاب اللہ ھو حبل اللہ الممدود من السماء الی الارض (اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے) (ابن کثیر ج ۱، ص ۳۸۹، بحوالہ طبری)

 

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مسلمان صرف فرداً فرداً ہی نہیں بلکہ اجتماعی حیثیت میں بھی قرآن کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیں اور امت کے اندر اسی کتاب کو مرکزی حیثیت حاصل ہو اور وہ اس کے ساتھ گہری وابستگی اختیار کریں۔

 

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تفرقے اس صورت میں برپا ہوتے ہیں جبکہ کتاب الٰہی کے ساتھ تعلق کمزور پڑ جاتا ہے اور عملاً اس کو نقطۂ ارتکاز ، مرجع اور معیار قرار نہیں دیا جاتا گو اظہارِ عقیدت کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے۔ کتابِ الٰہی کو توجہات کا مرکز قرار دینے کے بجائے شخصیتوں کے اقوال اور ان کی کتابوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور پھر عقیدت مندی کے جو حلقے وجود میں آتے ہیں وہ اپنے اپنے "امام" اپنے اپنے "صوفی" اپنے اپنے "بزرگ" اپنے اپنے "قائد " اور اپنے اپنے "علامہ " کی رسی کو اتنا مضبوط پکڑ لیتے ہیں کہ اللہ کی رسی " قرآن " کے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا ذرا احساس نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ کہ شدید اختلافات اور فرقہ بندیاں امت کے اندر ابھرنے لگتی ہیں اور ملت کا شیرازہ منتشر ہو جاتا ہے۔

 

افسوس کہ ا س تنبیہ کے باوجود مسلمانوں میں فرقہ بندیاں ہوئیں۔ یہ فرقہ بندیاں اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہیں جبکہ مسلمان بلا لحاظ فرقہ و مسلک کتاب اللہ کو وہی حیثیت دیں جس کی وہ مستحق ہے اور اس کے ساتھ گہری وابستگی اختیار کریں۔

 

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے عربوں کی باہم دشمنی کی طرف جس کے نتیجہ میں ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسر پیکار ہوتا تھا۔

 

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس دین کی قدر کرو جس نے تمہارے اندر اخوت اور کمال درجہ کی یکجہتی پیدا کر دی۔ معلوم ہوا کہ اسلام ہی وہ بنیاد ہے جس کو صحیح طور سے اپنانے کی صورت میں انسانی معاشرہ کے اندر حقیقی معنی میں برادرانہ تعلقات ، کامل یکجہتی اور جذباتی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

 

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہر مسلمان کا لازمی وصف ہے جیسا کہ قرآن کی تصریحات سے واضح ہے لیکن دعوتِ دین کا کام تیاری بھی چاہتا ہے اور صلاحیت بھی۔ نیز اس کے لئے وقت نکالنے اور جدوجہد کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس خدمت کے لئے ایک گروہ کا مختص ہونا ضروری ہے تاکہ یہ فریضہ بہ حسن و خوبی انجام پا سکے۔ امت مسلمہ کی یہ عظیم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندر سے اہل علم اور با صلاحیت افراد پر مشتمل داعیانِ حق کا ایک گروہ ابھارے اور اس کام کے لئے اس کو ضروری وسائل فراہم کرے۔ اگر امت اس معاملہ میں تساہل برتے گی تو وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے میں کوتاہ کا ر ثابت ہو گی کیونکہ اس امت کو امت وسط اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ اسے شہادت علی الناس کا فریضہ انجام دینا ہے۔

 

آیت میں "خیر " سے مراد دین اسلام ہے جو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں اور "معروف" سے مراد جانی پہچانی بھلائیاں ہیں مثلاً خدا خوفی ، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، صلۂ رحمی ، ہمسایوں کے ساتھ اچھا برتاؤ، محتاجوں کی مدد ، سچائی و امانت داری ، عدل و انصاف ، مظلوموں کی مدد وغیرہ اور منکر سے مراد وہ برائیاں ہیں جن کا برائی ہونا بالکل واضح ہے مثلاً خدا کا انکار، قتل ناحق، ظلم ، جھوٹ ، بد عہدی، فریب ، بد دیانتی ، یتیموں کا مال ہڑپ کرنا، بخل ، زنا، بے حیائی ، عریانیت وغیرہ۔ یہ وہ معروف اور منکر ہیں جن پر فطرت انسانی معروف اور منکر کا حکم لگاتی ہے۔ اس لئے انسان ان کے بھلائی یا برائی ہونے کو جانتا ہے اور اس لحاظ سے ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار اور خدا کے حضور جواب دہ ہے۔ اسلام نے بھلائیوں اور برائیوں کی جو تفصیل پیش کی ہے اس میں سر فہرست یہی معروف اور منکر ہیں جن کی نشاندہی فطرت انسانی کرتی ہے۔

 

معروف پر لوگوں کو مطلع کرنے اور منکر سے انہیں باز رکھنے کے لئے تذکیر و تلقین کی ضرورت ہے اور بعض حالات میں قوت کے استعمال کی بھی۔ اس لئے ایک ایسے گروہ کو ابھارنے کی ہدایت کی گئی ہے جو مخصوص طور سے یہ خدمت انجام دے اور جہاں مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہو وہاں اقتدار کا استعمال لازماً بھلائیوں کی پرورش کا سامان کرنے اور برائیوں کو مٹانے کے لئے ہونا چاہئیے۔

 

۱۳۷ الف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "جو تفرقہ میں پڑ گئے اور جنہوں نے واضح ہدایات پانے کے بعد اختلاف کیا "سے اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے جنہیں تورات و انجیل کے ذریعہ دین کا واضح تصور دیا گیا تھا اور جن پر توحید کا مفہوم اچھی طرح آشکارا کیا گیا تھا۔ نیز دین کی تعلیمات کھول کر بیان کی گئی تھیں لیکن انہوں نے کلامی مباحث اور فقہی موشگافیوں میں الجھ کر ہزار ہا مسائل پیدا کر لئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فرقوں میں بٹ گئے اور اختلاف و انتشار کا شکار ہو گئے۔

 

یہاں یہود و نصاریٰ کے طرز عمل کا حوالہ دینے سے مقصود مسلمانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ قرآن کے ذریعہ جو حق ان پر واضح ہوا ہے اور جو روشن تعلیمات انہیں ملی ہیں اس کی وہ قدر کریں اور گمراہ امتوں کے نقش قدم پر نہ چلیں۔

 

افسوس کہ اس تنبیہ کے باوجود مسلمانوں نے قرآن کی پیش کردہ تعلیمات میں یہاں تک کہ عقائد میں بھی نت نئے مسائل پیدا کر دئیے جس سے دین کا تصور بگڑ گیا اور وہ اختلاف و انتشار کا شکار ہو گئے۔ اور پھر اختلاف کی شدت نے فرقوں کو جنم دیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہر فرقہ کا تصور دین ہی الگ ہے۔ اس صورتحال کا حقیقی اور موثر علاج یہ ہے کہ قرآن کی ہدایت کے مطابق ایک ایسا گروہ اٹھ کھڑا ہو جو ہر قسم کی فرقہ وارانہ ، گروہی اور مسلکی تعصبات سے بالا تر ہو کر براہ راست اور بے لاگ طور پر اس دین کی طرف دعوت دے جسے قرآن نے "خیر " سے تعبیر فرمایا ہے۔

 

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیر امت اس بنا پر کہ یہی امت دین حق پر قائم ہے اہل کتاب نے انحراف کی راہیں اختیار کر کے اصل دین کو گم کر دیا۔ اب انسانیت کی اصلاح اور رہنمائی و ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو برپا کیا ہے۔ اس امت کا وصف یہ ہے کہ وہ ایمان سے متصف ہو کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اسی بنا پر اس امت کو خیر امت کا لقب عطا کیا گیا ہے نہ کہ نسل و نسب کی بنا پر جیسا کہ اہل کتاب اپنے بارے میں خیال کرتے رہے ہیں۔

 

خیر امت کے منصب کے ہر طرح سزاوار صحابۂ کرام تھے اور ان کے بعد وہ لوگ جن کے اندر یہ وصف پایا گیا ، رہے و ہ مسلمان جن کو ایمان سے کوئی دلچسپی نہیں اور جن کی ساری دوڑ دھوپ منکر کو قائم کرنے اور معروف کو مٹانے کے لئے ہو تی ہے تو وہ اپنے منصب کو غلط استعمال کرتے ہیں ایسے لوگ حقیقتاً خیر امت کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۱۶۶)

 

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ یہود و نصاریٰ اگر قرآن اور اس کے لانے وا لے پیغمبر پر ایمان لاتے اور خیر امت میں شامل ہو جاتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ لیکن ان میں ایمان لانے وا لے بہت تھوڑے ہیں اور اکثریت نا فرمانوں اور فاسقوں کی ہے۔

 

۱۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس وقت کے اہل کتاب کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ نہایت پست ہمت ہیں۔ اس لئے صرف اذیت دینے ہی کی باتیں کرسکتے ہیں۔ ورنہ سچے اہل ایمان کے مقابلہ میں وہ ٹک نہیں سکتے۔ بعد کے واقعات نے قرآن کے اس بیان کی تصدیق کر دی۔ چنانچہ اہل کتاب کو زبردست شکست کا سامنا کر نا پڑا۔

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ اپنے بل بوتے پر قائم نہیں ہیں بلکہ کہیں اسلامی ریاست نے معاہدے کے تحت ان کو امان دیدی ہے اور کہیں دیگر قوموں نے ان کو سہارا دے دیا ہے یہ سہارے عارضی ہیں۔ ان کی اپنی سطوت و عزت کچھ نہیں ہے۔

 

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا پرستی کے غلبہ کے نتیجہ میں آخرت کو ترجیح دینے اور دین کے لئے ایثار و قربانی کا حوصلہ ان کے اندر باقی نہیں رہا تھا اور وہ اخلاقی زوال اور عملی انحطاط کی انتہا ء کو پہنچ گئے تھے۔

 

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے ان جرائم کی شہادت بائبل میں بھی موجود ہے۔

 

"اے یروشلم !اے یروشلم !تو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پا س بھیجے گئے ان کو سنگسار کرتا " (متی ۲۳: ۳۷)

 

"تو بھی وہ نافرمان ہو کر تجھ سے باغی ہوئے اور انہوں نے تیری شریعت کو پیٹھ پیچھے پھینکا اور تیرے نبیوں کو جو ان کے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ ان کو تیری طرف پھرا لائیں قتل کیا اور انہوں نے غصہ دلانے کے بڑے بڑے کام کئے اس لئے تو نے ان کو ان کے دشمنوں کے ہاتھ میں کر دیا " (نحمیاہ ۹: ۲۶۔ ۲۷)

 

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جو اللہ سے کئے ہوئے عہد پر قائم تھا۔ یہ لوگ صالح مومن تھے اور جوں جوں ان پر قرآن اور پیغمبر کی حقانیت واضح ہوتی گئی وہ ایما ن لا کر مسلمانوں کے زمرہ میں شامل ہوتے گئے۔ قرآن نے یہاں ایسے ہی اہل کتاب کی تعریف کی ہے۔

 

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کو کفر پر آمادہ کرنے والی چیزیں یہی مال اور اولاد کی محبت ہے لیکن یہ چیزیں انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گی۔

 

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس مثال میں ہوا سے مراد خیر و خیرات ہے اور پا لے سے مراد صحیح ایمان کا فقدان اور کفر ہے اور کھیتی سے مراد کشت زار حیات ہے۔ جس طرح ہوا میں جو کھیتی کے لئے ایک مفید چیز ہے اگر پالا ہو تو وہ کھیتی کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ برفباری کھیتی کو تباہ کر دیتی ہے اسی طرح خیر خیرات ایک مفید چیز ہونے کے باوجود جب جذبۂ ایمانی سے خالی ہوتی ہے اور کفر کا زہر اس میں موجود ہوتا ہے تو وہ اجر آخرت تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔

 

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملت اسلامیہ کے باہر کے کسی فرد کو اپنا راز دار اور معتمد نہ بنائیں اور اس کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنی اسلام اور مسلم دشمنی کی بنا پر تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ یہ ہدایت جنگ کے موقع پر دی گئی تھی جبکہ اندیشہ تھا کہ مسلمان یہود سے اپنے پرانے دوستانہ تعلقات کی بنا پر ان کے سامنے جنگی رازوں وغیرہ کا ذکر نہ کر بیٹھیں اس لئے کہ یہود مسلمانوں کے دشمنوں کی پشت پناہی کر رہے تھے اور اسلام کے خلاف ان کے اندر بغض پیدا ہو گیا تھا۔

 

اس سے جو اصولی ہدایت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں غلبۂ اسلام کی جدوجہد جہاد کے مرحلہ میں داخل ہو گئی ہو یا جہاں مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہو وہاں انہیں جنگی رازوں اور سیاسی حکمت عملی وغیرہ کے سلسلہ میں کا فی محتاط رہنا چاہئیے اور ان لوگوں کو اپنا ہمراز اور معتمد ، بنانے سے احتراز کرنا چاہئیے جنہوں نے ایمان لانے اور ملت اسلامیہ میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔

 

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تم ان کے خیر خواہ ہو لیکن وہ تمہارے بد خواہ ہیں اور بری طرح اسلام اور مسلم دشمنی میں مبتلا ہیں۔

 

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہود اس بات کے مدعی تھے کہ ہم اللہ اور آخرت کو ، مانتے ہیں اس لئے ہم اہل ایمان ہیں درانحالیکہ وہ قرآن کو اللہ کی کتاب ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ قرآن کہتا ہے جب تک کوئی شخص بشمول قرآن اللہ کی تمام کتابوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا وہ ہرگز مؤمن نہیں ہے اور اس کا ایمان ہر گز معتبر نہیں۔

 

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تصویر ہے ان لوگوں کی جو اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اسلام پھلے پھولے اور ملت اسلامیہ کو غلبہ و اقتدار نصیب ہو۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ہمیشہ عصبیت میں مبتلا رہتے ہیں اور مسلمانوں کی ہر کامیابی ان کے لئے سوہان روح بن جاتی ہے۔

 

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں تقویٰ سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اوپر جو ہدایات دی گئیں ان پر عمل کیا جائے۔

 

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے غزوۂ احد کے حالات و واقعات پر تبصرہ شروع ہوتا ہے " احد" مدینہ سے تین چار میل کے فاصلہ پر شمال کی جانب ایک پہاڑی ہے جس کے دامن میں یہ جنگ شوال ۰۳ھ (۰۶۲۵ء) میں لڑی گئی کفار مکہ جارح کی حیثیت سے مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے اور انہوں نے احد کے پاس پڑاؤ ڈال دیا تھا۔ نبیﷺ نے مسلمانوں سے مشورہ کیا کہ مقابلہ مدینہ سے باہر نکل کر کیا جائے یا مدینہ ہی میں ر ہ کر۔ اکثر لوگوں کا مشورہ یہ تھا کہ باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے البتہ منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی کا مشورہ تھا کہ مدینہ ہی میں ر ہ کر مقابلہ کیا جائے۔ نبیﷺ نے مشورے کے بعد باہر نکل کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ فرمایا اور ایک ہزار ، مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ کے لئے روانہ ہو گئے لیکن راستہ میں عبد اللہ بن ابی یہ کہتے ہوئے اپنے تین سو ساتھیوں کو لیکر الگ ہو گیا کہ ہماری رائے نہیں مانی گئی۔ نبیﷺ کے ساتھ اب صرف سات سو مسلمان رہ گئے تھے اور وہ بھی بے سر و سامانی کی حالت میں۔ لیکن آپﷺ ان ہی کو لیکر آگے بڑھے اور احد پہنچ کر کفار کا مقابلہ کیا جو تعداد میں تین ہزار تھے اور سامان جنگ سے ہر طرح لیس تھے۔

 

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قبیلہ خزرج کے بنوسلمہ اور قبیلۂاوس کے بنو حارثہ ہیں۔

 

جنگ احد میں کفار کی تعداد تین ہزار تھی اور مسلمانوں کی تعداد صرف ایک ہزار۔ ان میں سے بھی تین سو کی تعداد کو لیکر منافقین کا سردار عبد اللہ بن ابی الگ ہو گیا۔ اس واقعہ کا کچھ اثر مسلمانوں کے دو گروہوں کے حوصلہ پر پڑا،جس کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ قرآن نے اس پر گرفت کی اور فرمایا کہ راہ خدا میں اہل ایمان کا کارساز اللہ ہوتا ہے اس لئے اس کی مدد پر پورا پورا بھروسہ رکھنا چاہئیے۔

 

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بدر کی جنگ رمضان ۰۲ھ (مطابق مارچ ۰۶۲۴ء) میں ہوئی تھی جس میں مسلمان غالب رہے تھے۔

 

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات نبیﷺ نے اس وقت فرمائی تھی جبکہ عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لیکر واپس ہو گیا۔ اس موقع پر مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے آپﷺ نے فرمایا کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ ان تین سو آدمیوں کی جگہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد فرمائے ؟

 

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کی تائید میں فرمائی کہ تین ہزار نہیں بلکہ پانچ ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کی جائیگی بشرطیکہ تم ثابت قدم رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو ا اور مسلمانوں نے کفار کو شکست دی لیکن شکست دے چکنے کے بعد مسلمانوں کے ایک دستہ نے رسول کی ہدایت کی خلاف ورزی کی اور مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو زک پہنچی۔

 

نشان رکھنے وا لے فرشتوں سے مراد یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا نشان لگائے ہوئے ہوں گے اور خاص اہتمام کے ساتھ اس مقصد کے لئے نازل کئے جائیں گے۔

 

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی فرشتوں کے ذریعہ مدد کا یہ وعدہ بشارت کے طور پر تھا۔ اگر یہ بشارت نہ بھی دی جاتی تب بھی تمہیں یہی سمجھنا چاہئیے کہ فتح و نصرت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ غالب ہے جسے چاہے غلبہ عطا فرمائے اور حکیم ہے اس لئے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

 

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب نبیﷺ سے ہے اور اختیار سے مراد کسی کے بارے میں عذاب الٰہی کے مستحق ہونے کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آج تمہارے اور اسلام کے دشمن بنے ہوئے ہیں ضروری نہیں کہ آئندہ بھی دشمن ہی رہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور وہ اسلام کی طرف پلٹ آئیں اور اللہ انہیں معاف کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے ظلم کی بنا پر توبہ کی توفیق سے محروم رہیں اور سزا کے مستحق قرار پائیں۔

 

اس آیت میں توبہ کا جو اشارہ تھا وہ کچھ دنوں کے بعد حقیقت بن گیا چنانچہ یہی دشمنانِ اسلام جو نبیﷺ کے خلاف احد میں صف آراء ہوئے تھے مثلاً ابو سفیان ، خالد بن ولید ، صفوان بن امیہ وغیرہ وہ کچھ عرصہ بعد ایمان لا کر نبیﷺ کے حامی و ناصر بن گئے۔

 

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۴۷۸۔

 

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوگنے چوگنے سود کی ممانعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف سود در سود حرام ہے بلکہ سود ہر طرح کا حرام ہے خواہ وہ مفر دہو یا مرکب اور اس کی شرح معمولی ہو یا بھاری جیسا کہ سورہ بقرہ آیت ۲۷۵ سے واضح ہے۔

 

یہاں دوگنے چوگنے کی صفت محض سود کی قباحت کو واضح کرنے کے لئے ہے تاکہ اس سے پوری طرح نفرت پیدا ہو کیونکہ آدمی ایک مرتبہ جب سود خوری کو جائز کر لیتا ہے تو پھر اسے اس کی بدترین شکل اختیار کرنے میں بھی تامل نہیں ہوتا۔ سود کی حرمت کے لئے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۴۵۶ تا ۴۶۴۔

 

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا پرستی میں مبتلا ہو کر تم اپنے لئے مادی فوائد کی ایک آب جو حاصل کرنا چاہتے ہو جو چند روزہ دنیا کے لئے ہے لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں بحر بے کراں عطا کرنا چاہتا ہے یعنی ایسی وسیع جنت جس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہے اور جو ابدی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن زمین اور آسمان کے درمیان کی فضا جنت کی فضا ہو گی اور جنتی لوگ اس فضا کی سیر بہ آسانی کر سکیں گے۔ زمین و آسمان کی وسعت کی تمثیل سے جنت کی وسعت کا یہ دھندلا سا تصور سامنے آتا ہے اصل حقیقت اللہ ہی کو معلوم ہے۔

 

۱۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے عیسائیوں کے اس عقیدہ کی تردید ہوتی ہے کہ گنا ہ کو بخشنے کا اختیار حضرت عیسیٰؑ کو اور ان کے چرچ کے پادریوں کو ہے۔ بائبل میں حضرت عیسیٰؑ کی طرف یہ بات غلط منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا : "جن کے گناہ تم بخشو ان کے گناہ بخشے گئے ہیں جن کے گناہ تم قائم رکھو ان کے قائم رکھے گئے ہیں " (یوحنا ۲۰:۲۳)

 

۱۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر وقتی جذبات سے مغلوب ہو کر کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں تو خدا کی یاد انہیں توبہ و استغفار پر آمادہ کر تی ہے اور وہ گناہ پر جمے نہیں رہتے۔

 

۱۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سنن سے مراد اللہ کے وہ قاعدے ہیں جن کے تحت وہ قوموں کو سزا دیتا رہتا ہے۔ اس سنت کے مظاہر تباہ شدہ قوموں کے آثار کی شکل میں سرزمین عرب میں موجود تھے مثلاً قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ کے آثار۔ ان علاقوں کا سفر کر کے آدمی ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کر سکتا ہے۔ جو سفر تلاشِ حقیقت اور تاریخی واقعات سے عبرت حاصل کرنے کی غرض سے کیا جائے وہ یقیناً مفید ہو گا اور یہاں ترغیب ایسے ہی سفر کو دی گئی ہے رہا وہ سفر جو تاریخی آثار کی محض سیر کرنے اور کھنڈرات کو دیکھ کر اپنی جغرافیائی اور فنی معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے ہو اس سے عظیم مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

 

۱۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ حقیقت افروز بیان ہے۔

 

۱۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر وقتی طور سے تمہیں شکست سے دوچار ہو نا پڑا ہے اور وہ بھی تمہاری اپنی غلطیوں کے نتیجہ میں تو اس کا ایسا اثر قبول کرنا صحیح نہ ہو گا کہ مستقبل کی طرف سے مایوس ہو کر بیٹھ رہو بلکہ تمہارے حوصلے بلند ہونے چاہئیں اور تمہیں یقین رکھنا چاہئیے کہ کفر واسلام کی کشمکش میں بالآخر پلڑا تمہاری ہی بھاری رہے گا اور سربلند تم ہی رہو گے بشرطیکہ تم نے اپنے کو سچا اور پکا مؤمن ثابت کر دکھایا کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اہل ایمان اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا کریں اور رسول کی رفاقت میں راہ خدا میں تن من دھن کی بازی لگائیں اور اس کے بعد بھی اللہ کی نصرت سے محروم رہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کا یہ وعدہ حرف بہ حرف پورا ہوا۔

 

واضح رہے کہ غالب اور سربلند رہنے کا یہ وعدہ افراد سے نہیں بلکہ گروہ مؤمنین سے ہے اور یہ اس صورت میں ہے جبکہ کفر اور اسلام کی جنگ برپا ہو یعنی خالصۃً اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے جہاد کیا جائے اور صبر و تقویٰ کا دامن چھوڑ نہ دیا جائے۔

 

۱۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے جنگ بدر کی طرف جس میں کافروں کو چوٹ کھانا پڑی تھی۔

 

۱۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایام سے مراد وہ تاریخی دن ہیں جن میں قوموں کی فتح و شکست کے واقعات پیش آئے۔ یہ واقعات اللہ تعالیٰ کے قانون ابتلا کے تحت پیش آئے ہیں۔

 

۱۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شہید وہ ہے جو اللہ کی راہ میں مارا جائے اسے شہید کا لقب اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کی گواہی جان دے کر پیش کرتا ہے۔ شہادت نہایت بلند درجہ ہے اور غزوۂ احد میں جو مسلمان مارے گئے ا س کی حکمت یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس اعلیٰ مقام پر فائز کرنا چاہتا تھا۔

 

۱۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ خیال غلط ہے کہ حق کی راہ آزمائشوں کی راہ نہیں ہے اور آدمی ایمان لانے کا دعویٰ کر کے سیدھے جنت میں داخل ہوسکتا ہے اور اسے کسی ایسے مرحلے سے گزرنا نہیں ہو گا جس میں اس کے دعوۂ ایمانی کی جانچ ہو اور قربانیوں کا اس سے مطالبہ ہو۔

 

۱۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان نوجوانوں کی طرف جنہیں جنگ بدر میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا وہ "شہادت " کی تمنا کا اظہار کر رہے تھے اور اسی شوق شہادت میں انہوں نے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا مشورہ دیا تھا۔

 

۱۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الٹے پاؤں پھر جانے کا مطلب کفر اور جاہلیت کی طرف پلٹنا ہے۔

 

یہاں جو بات ذہن نشین کرانی مقصود ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں اللہ کے بہت سے رسول گزر چکے ہیں اسی طرح حضرت محمدﷺ بھی اللہ کے ایک رسول ہیں۔ اس لئے جس طرح دوسرے رسولوں کو موت سے دوچار ہونا پڑا اسی طرح حضرت محمدﷺ کو بھی ایک دن وفات پانا ہے۔ ان کے رسول ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ وفات نہیں پائیں گے یا قتل نہیں ہوسکتے۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اور اس میں رسولوں کے ساتھ بھی آزمائشیں لگی ہوئی ہیں۔

 

موقع کلام کے لحاظ سے یہاں اس تاثر کا ازالہ مقصود ہے جو بعض مسلمانوں نے جنگ احد کے موقع پر حضرت محمدﷺ کے شہید ہو جانے کی افواہ کے نتیجہ میں قبول کیا تھا۔ واضح رہے کہ جنگ احد کے موقع پر کافروں نے یہ افواہ اڑائی تھی کہ پیغمبر قتل کر دئیے گئے جس سے مسلمانوں کی صفوں میں وقتی طور پر انتشار پیدا ہو گیا تھا اگرچہ کہ اولوالعزم صحابہؓ نے یہ حوصلہ افزا جواب دیا تھا کہ جس مقصد کیلئے آپﷺ نے جان دی اس کے لئے ہم کیوں نہ جان دیدیں یا یہ کہ جب آپﷺ ہی نہ رہے تو ہمارے رہنے سے کیا فائدہ۔

 

۱۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جنہوں نے دینِ اسلام کی نعمت پا لینے کے بعد اس کی قدر کی خواہ اس کا رسول ان کے درمیان موجود ہو یا وفات پاچکا ہو ان کو اللہ جزاء سے نوازے گا

 

۱۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ نے ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے جو ایک نوشتہ میں درج ہے موت نہ اس سے پہلے آتی ہے نہ اس کے بعد۔ لہٰذا موت کے اندیشہ سے جہاد جیسے دینی فریضہ سے فرار کی راہ اختیار کرنا صحیح نہیں۔

 

۱۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان جنگوں کی طرف جو حضرت سموئیلؑ ، حضرت داؤدؑ ، حضرت سلیمانؑ اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی قیادت میں لڑی گئیں۔ اس سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ جنگ احد میں مسلمانوں کو جن شدائد کا سامنا کرنا پڑا اس سے وہ بد دل نہ ہوں۔ راہِ خدا میں جنگ اور مصائب کا پیش آ جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گذشتہ انبیاء اور ان کے رفقاء کو بھی یہ مراحل پیش آتے رہے ہیں اور ان سے گزر کر ہی وہ بلند مقام کو پہنچ سکے ہیں۔

 

۱۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان مصیبتوں کے پیش آنے پر انہوں نے خدا اور اس کے رسول کے خلاف باتیں نہیں کیں بلکہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے رہے اور اللہ سے اپنے قصوروں کے لئے معافی کے خواستگار ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو دنیا میں بھی سرفرازی نصیب ہوئی اور آخرت میں بھی وہ بہترین انعامات سے نوازے گئے۔

 

۱۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ "محسنین" استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ لوگ جو احسان یعنی حسن عمل کا رویہ اختیار کریں مراد نیک کردار اور خوب کار لوگ ہیں جو اپنے فرائض Duties کو نہ صرف ادا کرتے ہیں بلکہ بحسن و خوبی ادا کرتے ہیں اوپر جن لوگوں کی صفت راہِ خدا میں جاں فروشی بیا ن کی گئی ہے ان کو محسنین کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ احسان کے مفہوم میں دین کے لئے سرفروشانہ جدوجہد کرنا اور اللہ کی خاطر قربانیاں دینا بدرجۂ اولیٰ شامل ہے۔

 

۱۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایما ن ،عزم اور حوصلہ کی بنیا دہے اس لئے مؤمنوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور یہ بلند حوصلگی مشرکین اور کفار کے دلوں میں رعب پیدا کرتی ہے۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے نصرت بالرعب مسیرۃ شھر (میری ایسے رعب کے ذریعہ مدد کی گئی ہے کہ اگر دشمن ایک ماہ کی مسافت کے بقدر دوری پر ہو تو اس پر بھی رعب طاری ہو گا۔) ۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۱، ص۴۱۱،بحوالہ صحیحین)

 

اور واقعات نے اس کی تصدیق کی چنانچہ مسلمانوں کی دھاک قیصر و کسریٰ ہی پر نہیں بیٹھی بلکہ اس کے اثرات ہندوستان اور اسپین تک وسیع ہوئے۔

 

۱۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وعدہ نصرت غزوۂ احد کے موقع پر بھی پورا ہوا چنانچہ مسلمان تعداد میں کم ہونے اور بے سر و سامانی کی حالت میں ہونے کے باوجود مشرکین پر بھاری رہے جس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ مشرکین میں سے جو لوگ یکے بعد دیگرے پرچم سنبھال رہے تھے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور بالآخر پرچم زمین پر گر گیا جو اس زمانہ میں شکست کی علامت تھی۔ لیکن اس کے بعد مسلمانوں سے کچھ کمزوریوں کا صدور ہوا جس کے نتیجہ میں انہیں بڑی زک پہنچی۔

 

۱۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تھیں وہ کمزوریاں اور غلطیاں جو غزوۂ احد کے موقع پر عین حالتِ جنگ میں مسلمانوں سے سرزد ہوئیں۔ اول تو مسلمان ابتدائی فتحمندی کو دیکھنے کے بعد ڈھیلے پڑ گئے کہ گویا فتح تو ہمارے لئے مقدر ہی ہے۔

 

دوسرے یہ کہ اللہ کے رسول نے ایک دستہ پشت کی طرف درّے پر حفاظت کے لئے متعین کیا تھا اور انہیں تاکید کی تھی کہ وہ اسے کسی حال میں نہ چھوڑیں لیکن فتح کو اپنے سامنے دیکھ کر ان کے درمیان یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ ایسی صورت میں اسے چھوڑ کر مال غنیمت حاصل کرنے میں کیا حرج ہے اگر چہ کہ دستہ کے سردار عبد اللہ بن جبیر نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن سوائے چند افراد کے سب نے نافرمانی کی۔ تیسرے یہ کہ وہ حکم رسول کی خلاف ورزی کر کے قبل از وقت مالِ غنیمت سمیٹنے میں لگ گئے اور صرف تھوڑے آدمی اپنی جگہ قائم رہے اس چیز سے دشمن نے فائدہ اٹھایا اور پشت سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے حوصلے پست ہوئے۔ چوتھے یہ کہ مسلمانوں کے بعض لوگوں نے مال غنیمت سمیٹنے میں جلدی کر کے آخرت کے بجائے دنیا پر اپنی نگاہیں جما دیں۔

 

۱۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کمزوریوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ تم میں دشمن سے مقابلہ کا حوصلہ نہیں رہا۔

 

۱۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے اللہ کا وعدۂ نصرت غیر مشروط نہیں ہے کہ وہ جو رویہ بھی چاہیں اختیار کریں لیکن خدا کی نصرت ہر حال میں ان کے ہم رکاب ہی ہے بلکہ یہ مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ مسلمان ادائے فرض میں ڈھیلے نہ پڑیں ،اطاعت امر میں اختلاف نہ کریں ، خدا اور رسول کی نافرمانی نہ کریں ، آخرت کو چھوڑ کر دنیا کے طالب نہ بنیں۔ اگر اس طرح کی کوئی چیز ان کے اندر پائی جاتی ہے تو بھی اللہ تعالیٰ یہ نہیں کرتا کہ ان پر غضب نازل کر دے بلکہ ان کو ایسی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے جن سے ان کی یہ کمزوریاں دور ہوں اور وہ خدا کی تائید و نصرت کے حقدار بن سکیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عفو و درگزر اور اس کے فضل و عنایت ہی کی ایک شکل ہوتی۔ چنانچہ آیت کے آخر میں اس عفو و فضل کی طرف بھی اشارہ فرمایا " (تدبر قرآن ج ۱، ص۷۹۵)۔

 

۱۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسلمانوں کی صفوں میں جب انتشار پیدا ہوا تو نبیﷺ نے چند جانباز صحابہ کے ساتھ جن میں حضرت علیؓ ، حضرت ابو بکرؓ اور حضرت طلحہؓ جیسے جان نثار شامل تھے اپنی جگہ جمے رہے اور مسلمانوں کو آواز دے رہے تھے کہ میری طرف آؤ میں اللہ کا رسول ہوں اس کے بعد خود اللہ کا رسول زخمی ہوا۔

 

۱۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غم اس بات کا کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو سخت زک پہنچی چنانچہ ستر (۷۰) مسلمان شہید ہوئے جن میں حضرت حمزہؓ اور عبد اللہ بن جحشؓ جیسی ممتاز شخصیتیں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی اس پر مزید غم جو پہاڑ کی طرح مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا وہ اس غلط خبر کا تھا کہ نبیﷺ شہید ہو گئے۔

 

۱۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنگ میں ایک موقع ایسا آیا کہ خوف کی شدت کو زائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ کی حالت طاری کر دی۔ یہ حالت اس وقت طاری ہوئی جبکہ لڑائی کچھ دیر کے لئے رک گئی تھی اور مسلمان نبیﷺ کے گرد جمع ہو کر اپنی قوت مجتمع کر رہے تھے۔

 

۱۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تم میں ایک گروہ خدا کے بارے میں بد گمانیوں میں مبتلا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر مدینہ میں رہ کر جنگ لڑی جاتی تو ہم قتل نہ ہوتے اس کی تردید میں فرمایا تمہارا یہ خیال غلط ہے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو نوشتۂ الٰہی غالب آتا اور تمہاری موت وہیں ہوتی جہاں کے لئے مقدر تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی موت کا وقت اور اس کے مرنے کی جگہ لکھ رکھی ہے۔ اور اس کی تصدیق آئے دن کے حادثات سے ہوتی ہے کہ آدمی کا گمان جس جگہ کے لئے نہیں ہوتا وہاں وہ کسی نہ کسی بہانے پہنچ کر رہتا ہے اور اس کی موت واقع ہوتی ہے۔

 

۱۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد جنگ احد ہے (ملاحظہ ہو نوٹ ۱۵۲)

 

۱۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منافقین کی شرارت سے کچھ کمزور قسم کے مسلمان بھی متاثر ہوئے تھے لیکن بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔ یہاں اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے بعض پچھلے گناہوں کی وجہ سے شیطان نے انہیں ٹھوکر کھلائی کیونکہ شیطان کا حربہ ان لوگوں پر کارگر ثابت ہوتا ہے جو گناہ کے لئے اپنے نفس کو ڈھیل دے دیتے ہیں۔

 

۱۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لو گ اپنی تدبیروں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں وہ قضائے الٰہی کے تحت پیش آ جانے وا لے واقعات کی غلط توجیہ کرتے ہیں اور یہ توجیہ ان کے لئے واضح حسرت بن کر رہ جاتی ہے اور وہ کف افسوس ملتے رہے جاتے ہیں کہ اگر ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا۔

 

۱۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اپنے ساتھیوں کی اصلاح کے معاملہ میں جو نرم روش تم اختیار کئے ہو وہ آئندہ بھی برقرار رہے ایسا نہ ہو کہ جن کمزوریوں کا صدور اس وقت (جنگ احد کے موقع پر) ان سے ہوا ہے اس کے پیش نظر تمہارا رویہ ان کے ساتھ سخت ہو جائے بلکہ یہ نرم خوئی ہی انہیں تمہارا گرویدہ بنائے گی اور وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو سکیں گے۔ واضح ہوا کہ نرم خوئی بہت بڑی اخلاقی خوبی ہے اور ایک داعی اور مصلح میں اس صفت کا ہونا ضروری ہے ورنہ وہ لوگوں کو اپنے سے قریب نہیں کر سکتا اور یہی صفت انسان کو ہر دل عزیز بنا دیتی ہے۔

 

۱۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں معاملات میں اہل ایمان سے مشورہ کرتے رہنے کی ہدایت نبیﷺ کو دیدی گئی ہے اور سیاق کلام سے واضح ہے کہ معاملات سے مراد جہاد جیسے مہمات امور ہیں جن کے سلسلہ میں خدا کی طرف سے کوئی واضح حکم نازل نہ ہوا ہو یا حکم تو نازل ہوا ہو لیکن مسئلہ اس کی تطبیق اور اس کو بروئے کار لانے کے سلسلہ میں تدبر کا ہو ورنہ حکم خداوندی کی موجودگی میں مشورہ کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ مشورہ کے اس حکم پر غور کرنے سے درج ذیل باتوں پر روشنی پڑتی ہے :۔

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شورائیت اسلامی اجتماعیت کا ایک اہم ترین اصول اور اسلام کے سیاسی نظام کی بنیاد ی خصوصیت ہے۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشورہ کی ہدایت مہمات امور کے لئے ہے یعنی وہ امور و مسائل جن کا اثر امت کی اجتماعی زندگی پر پڑتا ہو اس میں سیا ست، جنگ ، امن اور اسلامی ریاست سے متعلق تمام امور نیز مصالح امت اور دعوت اسلامی کی جدوجہد سے تعلق رکھنے وا لے جملہ اہم امور و مسائل داخل ہیں۔

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشورہ کرنے کی ہدایت جب نبیﷺ کو دی گئی تو امت پر اس کی پابندی بدرجۂ اولیٰ عائد ہوتی ہے کیونکہ امت نبی سے زیادہ اس کی ضرورت مند ہے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مہمات امور کے بارے میں فیصلہ مشورہ کے بعد کرنا چاہئیے اور یہ فیصلہ (عزم) مشورہ کا نتیجہ ہو بالفاظ دیگر جمہوری رائے فیصلہ کن ہو گی۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا اور صاحب امر نے اپنی رائے ہی کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار کیا تو شوریٰ کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی اور مشورہ بے وقت اور بے اثر ہو کر رہ جائے گا نیز اس سے آمرانہ رجحانات پرورش پائیں گے جس کا نتیجہ حقیقی جمہوریت کے خاتمہ اور آمریت واستبداد کے لئے راہ ہموار ہونے ہی کی شکل میں نکل سکتا ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اکثریت دلیل صحت نہیں وہ جمہور کے علی الرغم صاحب امر کو فیصلہ کا اختیار دیتے ہیں بالفاظ دیگر وہ صاحب امر کو دلیل صحت تسلیم کرتے ہیں جبکہ یہ مفروضہ ہی سرے سے غلط ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک دلیل صحت کا تعلق ہے نہ جمہور دلیل ہیں اور نہ صاحب امر۔ البتہ مصالح کے پیش نظر اسلام نے جمہور کی رائے کو وزن دیکر اسے فیصلہ کن حیثیت دی ہے جو ایک معقول اور منصفانہ بات ہے اور موجودہ زمانہ میں جبکہ خود رائی اور خواہش پرستی کا زور ہے صاحب امر کو جمہور کی رائے سے آزاد کرنا اور اسے غیر معمولی اختیارات دے دینا شدید خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

 

۱۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ کر قبل از وقت غنیمت لوٹنے میں جو حصہ لیا اس کی وجہ ان کا یہ گمان تھا کہ اگر ہم غنیمت لوٹنے میں شریک نہیں ہوں گے تو ہمیں اس میں حصہ نہیں ملے گا جبکہ فوج کی قیادت اللہ کے نبی کر رہے تھے ایسی صورت میں اس بدگمانی کی کوئی وجہ نہ تھی۔ کیونکہ کوئی نبی امانت و دیانت کے خلاف کوئی کام ہر گز نہیں کرتا۔ واضح رہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ نبی کریمﷺ پر کسی نے خیانت کا الزام لگایا تھا تاہم قرآن نے واضح کیا کہ ایک نبی کسی حال میں خیانت کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری ہوئی تاکہ مال غنیمت وغیرہ کی تقسیم کے سلسلہ میں نبی کے بارے میں کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونے پائے۔

 

۱۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیانت کے سلسلہ میں حدیث میں نہایت سخت وعید سنائی گئی ہے اور نبیﷺ نے عمال کو سرکاری خزانہ کے سلسلہ میں اس قدر محتاط رہنے کی ہدایت فرمائی تھی کہ ایک سوئی کا چھپانا بھی ان کے لئے روانہ تھا۔ فرمایا :

 

یا ایھا الناس من عمل لنا منکم عملاً فکتمنا منہ مخیطا فما فوقہ فھو غل یاتی بہ یوم القیامۃ

 

"لوگو! تم میں سے جو کوئی ہمارے کسی کام پر مامور ہو اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے کمتر چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لا حاضر کرے گا " (ابن کثیر ج۱، ص ۴۲۲، بحوالہ احمد)

 

۱۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ عمل کے اعتبار سے یکساں نہیں ہیں تو نتیجہ کے اعتبار سے کس طرح یکساں ہو سکتے ہیں ؟

 

۱۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ضروری ہے کہ بھلے اور برے کا فرق کیا جائے۔ (ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۱۴۹إ)

 

۱۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر اس جنگ میں تمہیں نقصان پہنچا ہے تو اس سے پہلے جنگ بدر میں تمہارے ہاتھوں دشمن کو اس سے دوگنا نقصان پہنچ چکا ہے چنانچہ بد ر میں کفار کے ۷۰آدمی شہید ہوئے تاہم اس جنگ میں بھی مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کے کئی آدمی قتل ہوئے لیکن بعد میں مسلمانوں کو ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے زک پہنچی۔

 

۱۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہاری اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کے نتیجہ میں۔

 

۱۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہیں غالب کرنے پر بھی قادر ہے اور پسپا کرنے پر بھی۔

 

۱۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ منافقین کی طرف ہے جنہوں نے موت کے ڈر سے جہاد میں شریک ہونے سے گریز کیا اور بہانہ یہ بناتے رہے کہ ہم سمجھتے تھے کہ جنگ ہو گی ہی نہیں اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ جنگ ہو گی تو ہم ضرور شریک ہوتے لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کے بارے میں جو جنگ میں مارے گئے کہتے رہے کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل چیز موت کا ڈر ہے جس کی بنا پر یہ جنگ کے لئے نہیں نکلے۔

 

واضح رہے کہ ان غزوات میں نبیﷺ بنفس نفیس شریک ہوئے تھے اور جب نبی خود محاذ پر جنگ لڑ رہا ہو تو اس کو چھو ڑ کر کسی مسلمان کا گھر میں بیٹھ رہنا غیرت ایمانی کے سراسر خلاف تھا اس لئے ایسے مسلمانوں پر جو درحقیقت منافق تھے قرآن میں سخت گرفت کی گئی ہے۔

 

۲۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر موت سے بچانا تمہارے اختیار میں ہے تو اپنے آپ کو موت سے بچاؤ۔

 

۲۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی راہ میں شہادت ابدی زندگی کی ضمانت ہے بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو نے وا لے مر گئے لیکن درحقیقت موت کا عمل محض جسم کے ساتھ ہوتا ہے روح کے ساتھ نہیں۔ شہید ہونے وا لے کی روح کو عالم بالا میں ایک خاص طرح کی زندگی نصیب ہوتی ہے اور یہ زندگی اس قدر پر مسرت اور پر کیف ہو تی ہے کہ اس کا تصور بھی اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا۔ (ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۱۸۵)

 

صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا "شہدا " کی روحیں سبز پرندوں کے خول میں ہوتی ہیں اور ان کا مستقر عرش سے لٹکتے ہوئے قندیلوں کے پاس ہوتا ہے وہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں اس کے بعد ان قندیلوں کے پاس واپس آ جاتی ہیں ان کا رب ان سے پوچھتا ہے تمہیں کس چیز کی خواہش ہے ؟ وہ کہتی ہیں ہمیں کس چیز کی خواہش ہوسکتی ہے جبکہ ہم جنت کی جس طرح چاہیں سیر کرسکتی ہیں اللہ تعالیٰ ان سے تین مرتبہ یہ سوال کرتا ہے وہ جب دیکھتی ہیں کہ ان سے بار بار سوال کیا جا رہا ہے تو کہتی ہیں : اے ہمارے رب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے جسم میں لوٹا دی جائیں تاکہ ہم دوبارہ تیری راہ میں قتل کر دئیے جائیں اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ان کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔

 

۲۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شہداء کی روحیں عالمِ برزخ میں اعزازو اکرام سے نوازے جانے پر بہت خوش ہو جاتی ہیں اور مزید خوشی انہیں اس بات کی ہوتی ہے کہ جن صالح متعلقین کو انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ گو ابھی ان سے ملے نہیں ہیں لیکن عنقریب ان سے ملیں گے اور ان کے لئے نہ کسی قسم کا اندیشہ ہے اور نہ رنج و ملال۔

 

۲۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ عدالت برپا کرے گا۔

 

۲۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو غزوۂ احد کے فوراً بعد پیش آیا احد میں مسلمانوں کو زک پہنچانے کے لئے کفار مکہ اسی روز واپس روانہ ہو گئے لیکن روحاء کے مقام پر پہنچنے کے بعد جو مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے ان کو احساس ہوا کہ اس قدر جلد واپس ہو کر انہوں نے غلطی کی۔ اس موقع پر انہیں مدینہ پر حملہ آور ہو نا چاہئیے تھا اور مسلمانوں کی بیخ کنی کرنا چاہئیے تھا چنانچہ پھر انہوں نے جنگ کی ٹھان لی ادھر جب نبیﷺ کو ان کے ارادوں کی اطلاع ہوئی تو آپﷺ نے اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر ان کے تعاقب میں حمراء الاسد تک پہنچے جو مدینہ سے ۸میل کے فاصلے پر ہے اور یہ واقعہ احد کا دوسرے دن یعنی ۱۶!شوال ۰۳ھ کا ہے جبکہ اس کی اطلاع کفار کو ہوئی تو انہوں نے یہ محسوس کر کے کہ مسلمانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں ارادہ بدل دیا اور مکہ واپس ہو گئے ادھر مسلمان اپنی دھاک بٹھا کر کامیاب لوٹے اس آیت میں رسول کے ان ہی مخلص اور وفادار ساتھیوں کا ذکر ہے جنہوں نے احد میں زخم کھانے کے بعد جرأت کا ثبوت دیا اور ایک نئی مہم پر روانہ ہو گئے۔

 

۲۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوگوں کے طرف سے خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش ان کے عز م و ایمان میں اضافہ کا مو جب ہوئی گویا ان باتوں نے ان کے عزم و ہمت کے لئے مہمیز کا کام دیا۔

 

۲۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ پر توکل کی کیفیت اہل ایمان کے اندر عز م اور حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ یہ کلمات ،حسبنا اللہ ونعم الوکیل ،ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے اس وقت نکلے تھے جبکہ انہیں آگ میں جھونک دیا گیا تھا۔

 

۲۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں شیطان کے ساتھیوں سے مراد کفار کا لشکر ہے۔

 

اللہ تعالیٰ دراصل کافروں کو ڈھیل اس لئے دیتا ہے تاکہ انہیں غور و فکر اور اصلاح کا پورا موقع ملے اور وہ کسی نہ کسی وقت اپنی غلطی محسوس کر کے ایمان کی طرف پلٹ سکیں۔ لیکن جب وہ اس ڈھیل سے غلط فائدہ اٹھا کر اپنے کفر میں اور پختہ ہو جاتے ہیں تو وہ گناہ پر گناہ ہی کئے جاتے ہیں اور انجام بد سے دوچار ہو جاتے ہیں اس طرح نتیجہ کے اعتبار سے یہ ڈھیل ان کے لئے موجب ہلاکت بن جاتی ہے گویا اللہ تعالیٰ نے انہیں جو ڈھیل دی تھی وہ اسی لئے دی تھی کہ وہ اپنی تباہی کا سامان کریں۔

 

۲۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ مسلمانوں کی جماعت کو آزمائشوں سے گزارے گا تاہ سچے اہل ایما ن کا کردار بھی واضح ہو جائے اور منافقین کا بھی۔

 

۲۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوگوں کے دلوں کا حال اللہ تعالیٰ غیب کے ذریعہ تمہیں نہیں بتائے گا کہ فلاں مؤمن ہے اور فلاں منافق بلکہ ایسے حالات پیدا کرے گا کہ ہر ایک کا حال کھل جائے۔

 

۲۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے بخشے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور اس کے عائد کردہ مالی حقوق کو ادا کرنے سے دریغ کرتے ہیں قیامت کے دن ان کا یہ مال ان کی گردنوں کا بوجھل طوق بنے گا۔ طوق سے اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اللہ کے حق سے بے نیا ز ہو کر سونے کے جو ہار زیب و زینت کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں وہ اس رو ز گلے کا طوق بن جائیں گے۔

 

۲۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو مال انسان کو ملا ہے وہ بطور امانت کے ہے بالآخر ساری چیزیں اللہ ہی کی طرف پلٹ جانے والی ہیں اس لئے جس شخص کو مال ملا ہے وہ یہ خیال نہ کرے کہ وہ واقعی مال کا مالک بن گیا ہے بلکہ اس پر اس کا قبضہ اور تصرف عارضی ہے لہٰذا اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر نے میں تامل نہیں کرنا چاہئیے اللہ تعالیٰ کے وارث ہونے کا تصور زر پرستی اور مادہ پرستی کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔

 

۲۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جب قرآن میں انفاق کی ترغیب میں فرمایا گیا کہ ’کو ن ہے جو اللہ کو قرض دے تو یہود اور بعض منافقین جو یہود میں سے تھے یہ کہہ کر مذاق اڑانے لگے کہ اللہ میاں بھی فقیر ہو گئے ہیں جو ہم سے قرض مانگ رہے ہیں۔

 

۲۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض رسولوں سے یہ معجزہ صادر ہوا ہے کہ قربانی کی قبولیت کی علامت کے طور پر ، آسمان سے آگ اتری اور اس نے پیش کردہ قربانی کو کھا لیا مثلاً ایلیا نبی کے متعلق ہے :

 

" تب خداوند کی آگ نازل ہوئی اور اس نے اس سوختی قربانی کو لکڑیوں اور پتھروں سمیت بھسم کر دیا " (۱۔ سلاطین ۱۸:۳۸)

 

" اور جب سلیمانؑ دعا کر چکا تو آسمان پر سے آگ اتری اور سوختی قربانیوں اور ذبیحوں کو بھسم کر دیا " (۲!تواریخ ۷: ۱)

 

نیز ملاحظہ ہو قضاۃ ۶ ، ج ۱۹ تا ۲۱ ، احبار ۹:

 

۲۴لیکن کہیں بھی اس کو رسالت کی شرط نہیں قرار دیا گیا تھا کہ جب تک کوئی پیغمبر یہ معجزہ نہ دکھائے اس کی نبوت کو قبول نہ کرنا۔ یہ شرط یہود نے اپنی طرف سے محض شرارتاً پیش کی تھی اس لئے ان کی اس ذہنیت کے پیش نظر یہ جو اب دینے پر اکتفا کیا گیا کہ حضرت محمدﷺ سے پہلے بعض ایسے پیغمبر بھی آ چکے ہیں جنہوں نے سوختی قربانی کا معجزہ پیش کیا تھا پھر بھی تم نے انہیں قتل کیا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو بائبل میں ہے۔ ’ اس نے (ایلیا نے) کہا مجھے خداوند لشکروں کے خدا کے لئے بڑی غیرت آئی کیونکہ بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور میرے مذبحوں کو ڈھایا اور تیرے نبیوں کو تلوا ر سے قتل کیا ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں۔ ، (۱۔ سلاطین ۱۹: ۱۴)

 

لہٰذا اگر مطلوبہ معجزہ نبیﷺ کے ہاتھوں دکھا بھی دیا جائے تو یہ لو گ جو شرارت پر اتر آئے ہیں ایمان نہ لانے کے لئے کوئی اور بہانہ تلاش کریں گے۔

 

۲۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روشن نشانیوں (بینات) میں معجزے بھی شامل ہیں۔

 

۲۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ہر شخص مشاہد ہ کرتا ہے انسان اپنی ساری سائنسی ترقیوں کے با وجود موت پر قابو نہ پاسکا اور انسانی جسم کی ساخت کو دیکھتے ہوئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ آئندہ انسان اس پر قابو پا سکے گا لہٰذا جب موت اٹل حقیقت ہے تو یہ سوال کہ موت کے اس پار کیا ہے انسان کی اولین توجہ کا مستحق ہو جاتا ہے اتنے اہم مسئلہ پر سنجیدگی سے غور نہ کرنا یا کوئی اندھا اور غیر حقیقت پسندانہ عقیدہ اپنے ذہن میں بٹھا لینا وہ بنیادی غلطی ہے جس کے نتیجہ میں انسان کی ساری زندگی غلط ہو کر رہ جاتی ہے دوسری عظیم حقیقت جس پر قرآن پر دہ اٹھاتا ہے کہ موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ موت وہ پل ہے جس کو پار کر کے آدمی عمل کی دنیا سے نتائج کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔

 

۲۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۶۴۔

 

۲۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ حقیقت میں دیندار نہیں ہوتے وہ جب دینداری کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں تو لوگوں سے اپنی دینداری اور پارسائی کی تعریف سننا چاہتے ہیں اور اس بات کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی تعریف کے قصیدے پڑھتے رہیں۔

 

۲۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے آخری سورہ تک کی آیات خاتمۂ کلام کے طور پر ہیں حدیث میں آتا ہے کہ نبیﷺ نصف شب گزر جانے کے بعد بیدار ہوتے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیات تلاوت فرماتے گویا ذکر و فکر کے لئے رات کا آخری حصہ بہترین وقت ہے کیونکہ اس وقت انسان کو یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔

 

۲۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کے نزدیک دانشمند وہ ہیں جو کائنات کا مطالعہ اس طور سے کرتے ہیں کہ اس کے پیدا کرنے وا لے کی معرفت انہیں حاصل ہو اور اس کی مقصدیت ان پر واضح ہو نہ کہ وہ لوگ جو اس بنیادی سوال کے سلسلہ میں ایک تعصبانہ جواب اپنے ذہن میں رکھ کر فلکیات و طبیعیات وغیرہ کا مطالعہ محض اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کی غرض سے کرتے ہیں ایسے لوگ آسمان کی سیر کر کے بھی خالی ہاتھ واپس آتے ہیں انہیں نہ کہیں خدا ملتا ہے اور نہ ان پر آخرت منکشف ہوتی ہے۔ ۔  

 

        ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا            اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

 

ظاہر ہے جس کی منزل مقصود "معلومات " کا حصول ہو اس کی رسائی ’حقیقت ، تک کیوں ہونے لگے ’حقیقت ، تک رسائی تو اسی کی ہو سکتی ہے جس کا سفر "تلاش حقیقت" کے لئے ہو۔

 

۲۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی آسمان و زمین کی خلقت اور رات اور دن کا یہ نظام اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ یہ کائنات بے خدا نہیں ہے اور نہ اس کے بنانے اور چلانے وا لے متعدد خدا ہیں بلکہ یہ ایک خدائے برتر کی تخلیق ، ایک صاحب حکمت کا تیار کردہ منصوبہ ، ایک عادل ہستی کا عادلانہ نظام اور رحمن و رحیم کی رحمت و رأفت کا مظہر ہے لہذا انسان اور اس کائنات کا وجود ہر گز بے مقصد نہیں ہو سکتا۔ اللہ پاک ہے اس سے کہ کوئی بے مقصد اور فضول کام کرے۔

 

۲۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کو یاد کرنے کے لئے کسی خاص وقت کی قید نہیں ہے بلکہ وہ ہر وقت اور ہر حال میں مطلوب ہے خواہ آدمی کھڑا ہو یا بیٹھا ، مشغول ہو یا آرام کر رہا ہو۔ جس طرح سانس انسان کی زندگی کے لئے ضروری ہے اسی طرح اللہ کی یاد روحانی زندگی کے لئے ضروری ہے اور عقلمندوں کا وصف یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی یاد سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے۔

 

۲۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اہل دانش کی دوسری خصوصیت ہے کہ ان کا ذکر فکر سے خالی نہیں ہوتا اور اسلام میں یہ دونوں باتیں ہی مطلوب ہیں یعنی ذکر الٰہی کے ساتھ فکر آخرت بھی ہونی چاہئیے۔

 

۲۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دعا جذبہ ایمانی کے ساتھ تھی اس لئے قبولیت اختیار کر گئی۔

 

۲۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس وقت یہ سورہ نازل ہوئی ہے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں سخت مصائب برداشت کرنا پڑ رہے تھے اس میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل تھیں اس لئے ان کا خاص طور سے ذکر کر کے ان کی ڈھا رس بندھائی گئی۔

 

۲۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مرد اور عورت دونوں ایک ہی جنس سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک عورت اور مرد کے لئے فیصلے کے معیار الگ الگ نہیں ہیں لہٰذا کسی کا عورت ہونا اس کے اجر میں ہر گز کمی کا موجب نہ ہو گا۔

 

۲۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کافروں کی مادی ترقی ، دنیوی خوشحالی اور ان کی بین الاقوامی سرگرمیوں کو دیکھ کر تم اس مغالطہ میں نہ پڑو کہ یہ صحیح اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں نہیں بلکہ یہ چند روزہ زندگی کی بہار ہے اس کے بعد یہ سیدھے جہنم میں پہنچنے وا لے ہیں۔

 

۲۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موقع کی مناسبت سے اس آیت میں کمزور اور مظلوم مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ اگر وہ تقویٰ کی روش پر قائم رہے تو آخرت میں نہایت شاندار طریقہ پر ان کی ضیافت کا سامان کیا جائے گا اللہ تعالیٰ نے اپنے وفادار بندوں کے لئے بہترین چیزیں تیار کر رکھی ہیں۔

 

۲۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ اہل کتاب ہیں جو واقعی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے تھے چنانچہ وہ سابقہ کتب پر ایما ن رکھنے کے ساتھ قرآن پر بھی ایمان لے آئے بالفاظ دیگر یہ اہل کتاب حقیقت میں مسلمان تھے اس لئے نزول قرآن کے بعد ان کو قرآن اور اس کے لانے وا لے پیغمبر پر ایمان لانے میں تامل نہیں ہوا۔

 

۲۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تتمّۂ کلام ہے اور اس میں حالات کی رعایت سے وہ ہدایات دی گئی ہیں جو مخالف اسلام طاقتوں سے نبرد آزما ہو نے کے لئے ضروری تھیں۔

 

۲۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر طرح تیار رہو۔ لفظ "رابطو"میں جہاد کے لئے مادی تیار ی کرنا ، قوت فراہم کرنا ، حفاظت کا سامان کرنا، پاسبانی کرنا اور لڑنے مرنے کے لئے کمر بستہ رہنا سب شامل ہے۔ حدیث میں "رباط" (جہاد کے لئے تیار رہنے اور پاسبانی کرنے) کو بہترین خدمت قرار دیا گیا ہے :"رباط یوم فی سبیل اللّٰہ خیرمن الدنیا وما علیھا" اللہ کی راہ میں ایک دن کی پاسبانی (رباط) دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ، (ابن کثیر بحوالہ بخاری ج ۱،ص ۴۴۵)

 

۲۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورہ بقرہ کے آغاز میں فرمایا تھا "یہ ہدایت ہے متقیوں کے لئے " اور یہاں آل عمران کا خاتمہ پر فرمایا کہ" اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کامیاب ہو "۔ اس سے واضح ہوا کہ ان دو سورتوں کے اندر جو احکام و قوانین بیان کئے گئے ہیں اور جو ہدایات دی گئی ہیں ان کی نگرانی اور ان کی تعمیل تقویٰ ہے اور متقی وہ ہیں جنہوں نے یہ وصف اپنے اندر پیدا کیا ہو۔

٭٭٭٭٭